مکتبہ اسلامیہ، لاہور

174 کل کتب
دکھائیں

  • اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دین میں تفقہ سب سے افضل عمل ہے۔جو اللہ کی ذات، اس کے اسماء وصفات، اس کے افعال، اس کے دین وشریعت اور اس کے انبیاء ورسل کی معرفت کانا م ہے،اور اس کے مطابق اپناایمان ،عقیدہ اور قول وعمل درست کرنے کا نام ہے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا :اللہ تعالی جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اس کو دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "فقہ السنہ" معروف عالم دین محمد عاصم صاحب کی کاوش ہے،جسے انہوں نے  معروف فقہی ترتیب پر مرتب کرتے ہوئے قرآنی آیات ،واحادیث نبویہ سے مزین کر دیا ہے ۔اور فروعی مسائل میں صرف ایک ہی قول راجح وصحیح کوبیان کر دیا ہے تاکہ پڑھنے والوں کے لئے سمجھنا آسان ہو اور مبتدی قاری اپنا مطلوب پا لے۔انہوں نے اس کتاب کو مختصر اور مفید بنانے کی از حد کوشش کی ہے ،تاکہ اس سے عابد اپنی عبادت کے لئے ،واعظ اپنی وعظ کے لئے ،مفتی اپنے فتوی کے لئے ،معلم اپنی تدریس کے لئے قاضی اپنے فیصلے کے لئے ،تاجر اپنی تجارت کے لئے اور داعی اپنی دعوت کے لئے فائدہ اٹھا سکے۔اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

    فقہ 
  • 152 خواتین جنت (ہفتہ 29 جولائی 2017ء)

    مشاہدات:1218

    اسلام کی قدیم تایخ ہمارے سامنے مسلمان عورت کابہترین اور اصلی نمونہ پیش کرتی ہے اور آج جب کہ زمانہ بدل رہا ہے مغربی تہذیب و تمدن او رطرزِ معاشرت ہمارے گھروں میں سرایت کررہا ہے دور حاضر میں مغربی تہذیب وثقافت سے متاثر مسلمان خواتین او رلڑکیاں اسلام کی ممتاز اور برگزید خواتین کوچھوڑ کر راہِ راست سے ہٹی ہوئی خواتین کواپنے لیے آئیڈل سمجھ رہی ہیں اسلام کے ہردور میں اگرچہ عورتوں نےمختلف حیثیتوں سے امتیاز حاصل کیا ہے لیکن ازواجِ مطہرات طیباتؓ اور اکابر صحابیاتؓ ان تمام حیثیات کی جامع ہیں اور ہمار ی عورتوں کے لیے انہی کے دینی ،اخلاقی معاشرتی اور علمی کارنامے اسوۂ حسنہ بن سکتے ہیں اور موجودہ دور کےتمام معاشرتی او رتمدنی خطرات سے ان کو محفوظ رکھ سکتےہیں۔زیر تبصرہ کتاب’’خواتین جنت ‘‘ مولانا عبد السلام بستوی ﷫ کی تصنیف ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نے سعادت مند ماؤں اور بہنوں کے سچے حالات کو عصر حاضر کی خواتین کی اصلاح کےلیے تحریر کیے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سب عورتوں کی اصلاح کر کے انہیں صحیح معنوں میں خواتین جنت بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • 153 کتاب الجنائز ( پروفیسر اعظم چیمہ ) (پیر 07 اگست 2017ء)

    مشاہدات:854

    ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ہر عمل میں احکامات الٰہی کو مد نظر رکھے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں تقلیدی رجحانات کی وجہ سے بعض ایسی چیزیں در آئی ہیں جن کا قرآن وسنت سے ثبوت نہیں ملتا۔اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق رکھے ہیں جن کو ادا کرنا اخلاقی اور شرعی فرض بنتا ہے اور انہیں حقوق العباد کا درجہ حاصل ہے۔ان پانچ حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان بھائی فوت ہو جائے تو اس کی نمازہ جنازہ ادا کی جائے اور یہ نمازہ جنازہ حقیقت میں اس جانے والے کے لیے دعا ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی اگلی منزل کو آسان فرمائےاس لیے کثرت سے دعائیں کرنی چاہیں۔لیکن بدقسمتی یہ ہے عوام الناس میں اکثر لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو جنازے کے مسائل تو دور کی بات جنازہ میں پڑھی جانے والی دعائیں بھی یاد نہیں ہوتیں جس وجہ سے وہ اپنے جانے والے عزیز کے لیے دعا بھی نہیں کر سکتے۔جبکہ اس کے مقابلے میں بعد میں مختلف بدعات کو اختیار کر کے مرنے والے کے ساتھ حسن سلوک کا رویہ ظاہر کرنا چاہتے ہوتے ہیں جو کہ درست نہیں اورشریعت کےخلاف ہے۔ زیر تبصرہ کتا ب’’کتاب الجنائز ‘‘ محترم جناب پروفیسرابو حمزہ محمد اعظم چیمہ صاحب کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب مسائل جنازہ سے متعلق ایک جامع کتاب ہے اور اپنے موضوع میں انسائیکلوپیڈیاکی حیثیت رکھتی ہے ۔ جس میں موت سے سوگ تک کے جمیع احکام ومسائل ایک لڑی میں اس طرح پرو دیے گئے ہیں کہ عام سوجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی اس سے بھر پور استفادہ کرسکتا ہے ۔نیز فاضل مصنف نے بھر پور محنت اور باریک بینی سے ان مسائل کا بھی جائزہ لیا حو...

  • 154 میزان الخطیب (بدھ 09 اگست 2017ء)

    مشاہدات:3287

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اوراپنے عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت صرف فن ہی نہیں ہے بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے فصیح اللسان خطیب ہونا لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور سحر بیان خطباء اس فن کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ خطابت اپنے اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ خود سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے متصف تھے ۔اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ دین کےلیے ایسی نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے اللہ تعالی کی عطا کردہ صلاحیتوں اور اس کے ودیعت کردہ ملکۂ خطابت سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے پر زور انداز میں دعوت حق کوپیش کیا اور لوگوں ک...

  • 155 معراج الخطیب (بدھ 09 اگست 2017ء)

    مشاہدات:2851

    ادب  ہر کام کے حسن کا نام ہے  اور سایۂ ادب میں  جو الفاظ نکلیں وہ جادو سے زیادہ اثر رکھتے ہیں  کیونکہ ادب ایک روشنی  ہے  جس سے  زندگی کی تاریکیاں ختم ہوتی ہیں ۔ ادب ایک آلۂ اصلاح ہے جس سے زندگی کی نوک پلک سنور تی  ہے ۔ ادب ایک دوا ہے  جس سے مزاج کے ٹیڑھے پن کا مکمل خاتمہ ہوتا ہے، ادب ایک جوہر ہے جس شخصیت میں پختگی آتی ہے اور ادب ایک ایسا آب حیات ہے کہ جو جی بھر کر پی لے  وہ زندگی کاسفر کامیابی سے کرتے ہوئےپیاس محسوس نہیں کرتا ، بلکہ تروتازہ چہرہ لےکر اپنے  خالق ومالک کے حضور پیش ہوجاتا  ہے۔لیکن آج لوگ دنیا کے اقتدار کی توبہت فکر کرتے ہیں مگر ذاتِ الٰہ کی فکر سے غافل ہیں ۔اپنے  آداب کےلیے  ہزاروں  جتن ہوتے ہیں  مگر شہنشاہ کائنات کے آداب کوبروئے کار لانے کےلیے حددرجہ غفلت کی جاتی  ہے اورتاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ جب  خودی کوخالق کےآداب پرمقدم کردیا جائے تو تباہی  وبربادی  کےسیلاب سے  بچنا  مشکل ہی نہیں  بسا اوقات ناممکن ہوجاتاہے بعینہ یہی کیفیت آج امت مسلمہ کی ہے ۔کسی کے دربار میں  بغیر آداب کے رونا فضول ہے تو پھر شہنشاہ کائنات کے سامنے آداب کاخیال رکھنا کس  قدر ضروری ہے ۔انسانیت کا دوسرا نام ادب ہے ۔ اور ادب کا دوسرا نام انسانیت ہے ۔ یعنی جو بادب  ہے وہ انسان ہے اور جو بے ادب ہ ےوہ انسانی شکل  میں بدترین حیوان ہے  ۔اور ہمارا سارا دین ادب ہے۔ ادب الٰہ کا معنی یہ ہےکہ اپنے خالق ومالک  کی خوشنودی ورضا جوئی کے...

  • صحابہ نام ہے ان نفوس قدسیہ کا جنہوں نے محبوب ومصدوق رسول ﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا اور اس خیر القرون کی تجلیات ِایمانی کو اپنے ایمان وعمل میں پوری طرح سمونے کی کوشش کی ۔ صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی سے مراد رسول اکرم ﷺکا وہ ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص ہے لہذاب یہ لفظ کوئی دوسراا شخص اپنے ساتھیوں کےلیے استعمال نہیں کرسکتا۔ اسی طرح سیدات صحابیات وہ عظیم خواتین ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کودیکھا اور ان پر ایمان لائیں اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوئیں۔انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام وصحابیات سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔ صحابہ کرام کے ایمان ووفا کا انداز اللہ کو اس قدر پسند آیا کہ اسے بعد میں آنے والے ہر ایمان لانے والے کے لیے کسوٹی قرار دے دیا۔یو ں تو حیطہ اسلام میں آنے کے بعد صحابہ کرام کی زندگی کاہر گوشہ تاب ناک ہے لیکن بعض پہلو اس قدر درخشاں ،منفرد اور ایمان افروز ہیں کہ ان کو پڑہنے اور سننے والا دنیا کا کوئی بھی شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ صحابہ کرام وصحابیات رضی اللہ عنہن کےایمان افروز تذکرے سوانح حی...

  • 157 وقت کی قدر کیجیے (بدھ 06 ستمبر 2017ء)

    مشاہدات:3236

    وقت اس کائنات میں انسان کی عزیز ترین اور نہایت بیش قیمت متاع ہے۔ جن لوگوں نے وقت کی قدروقیمت کا ادراک کر کے اپنی زندگی میں اس کابہتر استعمال کیا و ہی لوگ کائنات کے سینے پر اپنا نقش چھوڑنے میں کامیاب ٹھہرے۔ ’’وقت‘‘انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے۔جس کی قدر ناشناسی اور ناشکری غفلت کی وجہ سےآج امت میں عام ہے،اورجس کی طرف امت کو توجہ دلانا خصوصا موجودہ دورمیں ایک بہت ضروری امرہے۔ورنہ تاریخ ایسے لوگوں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے جووقت کی ناقدری کرتے رہے اور پھر وقت نے ان کو عبرت کا تازیانہ بنادیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ وقت کی قدر کیجیے‘‘علامہ یوسف القرضاوی کی عربی زبان میں ’’الوقت فی حیاۃ المسلم‘‘ تالیف ہے۔جس کا اردو ترجمہ مولانا عبد الحلیم فللاحی نے کیا ہے۔ اس کتاب میں وقت اہمیت، خصوصیات، وقت کے بارے میں مسلمان کی ذمہ داری اور ضیاع وقت کے اسباب کو قرآن و سنت کی روشنی میں اجاگر کیا گیا ہے۔فاضل مصنف نے وقت کی قدر وقیمت کوخاص طور اسلامی نقطہ نظر سے اجاگر کرکے ایک سچے اور راست باز مومن کو تضیع اوقات کے نقصان سے آگاہ کیا ہے۔ اس کتاب میں ایک عام انسان کے لیے بھی اور امت مسلمہ کےعلمبرداروں کےلیے بھی رہنمائی کابیش قیمت لوازمہ مہیا کیاگیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔(رفیق الرحمن) 

  • نماز ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن ہے جس کے تارک کے بارے میں رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: (بین الرجل وبین الشرک والکفر ترک الصلاۃ) ‘‘شرک و کفر اور آدمی کے درمیان نماز کے چھوڑنے کا فرق ہے(صحیح مسلم:82) اور علمائے اسلام نے بھی اس رکن کے تارک کو ملت اسلامیہ سے خارج سمجھا ہے۔اس گئے گزرے دو رمیں جبکہ بدعات و خرافات او رباطل عقائد رواج پاچکے ہیں او ران نظریات کی زد سے نماز جیسی عبادت بھی نہ بچ  سکی۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا (صلوا کما رأیتمونی اصلی) (صحیح بخاری:631) ’’نماز اس طرح پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے دیکھتے ہو۔‘‘اب ہر مکتبہ فکر اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ ا س کی بیان کردہ نماز رسول اللہ ﷺ کی نماز کے مشابہ ہے اور ہر گروہ  کی نماز کا ذریعہ اخبار اقوال و افعال رسول ہے اور رسول اللہ ﷺ کے اقوال و افعال کو ثابت کرنے کے لیے ہم تک پہنچنے والی مختلف خبریں  ہی  اس اختلاف کی وجہ ہیں۔ لہٰذا ان اخبار  کی استنادی حالت جانچنے کے لیے علم اسماء الرجال پر عبور حاصل کرنا او رمحدثین کے اصولوں پر ہر خبر کو پرکھ کر اس پر عمل کرنا اختلافات کے خاتمے کے لئے از بس ضروری ہے۔ لیکن آج ہمیں جو نماز کے مختلف  ایڈیشن نظر آتے ہیں  افسوس کہ لوگ محدثین کے اخبار کو لینے کے معیارات کو استعمال نہیں کرتے اور اپنے اپنے مسلک کے نماز کے ایڈیشن کو ثابت کرنے کے لیے  معیار تحقیق سے گری پڑی روایات کو بھی اپنی دلیل بنا کر پیش کرتے چلے جاتے ہیں۔  زیر نظر کتاب محترم حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ کی مرتبہ ہے۔  حافظ صاحب عہد ح...

  • 159 شرح حدیث جبریل ( تصحیح شدہ جدید ایڈیشن ) (جمعرات 12 اکتوبر 2017ء)

    مشاہدات:1505

    یہ کتاب دراصل الشیخ عبدالمحسن العباد کی تالیف ہے۔ جسے اردو ترجمہ کے قالب میں محقق العصر الشیخ الحافظ زبیر علی زئی نے ڈھالا ہے۔ یہ دراصل حدیث جبریل، کہ جس میں اسلام، ایمان اور احسان کا بیان ہے اور جس کے آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے یہ جبریل تھے جو تمہارے پاس تمہارا دین سکھانے آئے تھے، کی مستقل شرح ہے۔ علماء کی ایک جماعت سے اس حدیث کی بڑی شان منقول ہے۔ یہ حدیث ظاہری و باطنی عبادات کی تمام شروط کی شرح پر مشتمل ہے۔ نیز اس حدیث میں علوم، آداب اور لطائف کی اقسام جمع ہیں۔ بعض علماء تو اس حدیث کو ام السنۃ کی طرح کہتے ہیں یعنی سنت کی ماں۔ کیونکہ اس نے علم سنت کے بنیادی جملے اکٹھے کر لئے ہیں۔(ف۔ر)

  • 160 معلم اخلاق صلی اللہ علیہ وسلم (بدھ 01 نومبر 2017ء)

    مشاہدات:1266

    رحمت عالم ﷺ کی حیات طیبہ کے شب و روز کے معمولات کا ذکر خیر آپ ﷺ سے محبت کی علامت ہے۔محمد ﷺ کی ذات اقدس اور آپ کا پیغام اللہ جل جلالہ کی انسانیت بلکہ جن و انس پر رحمت عظمیٰ ہے جیسا کہ سیرتِ رسول عربی ﷺ پر منثور اور منظوم نذرانہ عقیدت پیش کرنے کا لا متناہی سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا، بلکہ فرمان الٰہی کے مطابق ہر آنے والے دور میں آپ کا ذکر خیر بڑھتا جائے گا۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب محفوظ و مامون ہے، اسی طرح آپ کی سیرت اور زندگی کے جملہ افعال و اعمال بھی محفوظ ہیں۔ اس لحاظ سے ہادیان عالم میں محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت اپنی جامعیت، اکملیت، تاریخیت اور محفوظیت میں منفرد اور امتیازی شان کی حامل ہے کوئی بھی سلیم الفطرت انسان جب آپ کی سیرت کے جملہ پہلوؤں پر نظر ڈالتا ہے تو آپ کی عظمت کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی حیثیت وہی ہے جو جسم میں روح کی ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’ معلم اخلاق ﷺ‘‘ فضیلۃ الشیخ حافظ ثناء اللہ ضیاء صاحب کی ہے ۔ جس میں سنت کی اہمیت، مقام مصطفیٰ اور حسن معاشرت کو ایک منفرد ترتیب میں سمونے کی کوشش کی گئی ہے اور آپﷺ کی پیدایش سے لے کر وفات تک کے تمام واقعات، غزوات ، خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کی جانثاری کو بیان کیا گیا ہے ۔ مزیداس کتاب میں اسوۂ حسنۃ اور حقوق العباد کو بیان کیا گیا ہے۔ ہر ایک مسلمان کے لیے اس کتاب کا مطالعہ کرنا بہت ضروی ہے جس کی بنیاد پر ہم سب دنیا اور آخرت میں اللہ کی رحمتوں کے مستحق بن سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ صاحب مصنف کی اس مبارک قلمی کاوش ک...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1320
  • اس ہفتے کے قارئین: 12912
  • اس ماہ کے قارئین: 41161
  • کل قارئین : 46542702

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں