مکتبہ اسلامیہ، لاہور

174 کل کتب
دکھائیں

  • 141 سیرت الصحابیات مع اسوہ صحابیات (جمعہ 14 اپریل 2017ء)

    مشاہدات:1977

    اسلام کی قدیم تاریخ ہمارے سامنے مسلمان عورت کابہترین اور اصلی نمونہ پیش کرتی ہے اور آج جب کہ زمانہ بدل رہا ہے مغربی تہذیب و تمدن او رطرزِ معاشرت ہمارے گھروں میں سرایت کررہا ہے دور حاضر میں مغربی تہذیب وثقافت سے متاثر مسلمان خواتین او رلڑکیاں اسلام کی ممتاز اور برگزید خواتین کوچھوڑ کر راہِ راست سے ہٹی ہوئی خواتین کواپنے لیے آئیڈل سمجھ رہی ہیں اسلام کے ہردور میں اگرچہ عورتوں نےمختلف حیثیتوں سے امتیاز حاصل کیا ہے لیکن ازواجِ مطہرات طیباتؓ اور اکابر صحابیاتؓ ان تمام حیثیات کی جامع ہیں اور ہمار ی عورتوں کے لیے انہی کے دینی ،اخلاقی معاشرتی اور علمی کارنامے اسوۂ حسنہ بن سکتے ہیں اور موجودہ دور کےتمام معاشرتی او رتمدنی خطرات سے ان کو محفوظ رکھ سکتےہیں۔ زیرتبصرہ کتاب ’’سیر الصحابیات مع اسوۂ صحابیات ‘‘ صحابیات کے حوالے سے تین مختلف کتابوں کا مجموعہ ہے ۔ اسوۂ صحابیات مولانا سعید انصاری ، سیر الصحابیات مولانا عبدالسلام ندوی اور مسلمان عورتوں کی بہادری علامہ سید سلیمان ندوی کی مشترکہ تصنیف ہے انہوں نے اس کتاب میںدور حاضر کی خواتین اور لڑکیوں کے لیے ازواج مطہرا ت طیباتؓ ، اکابر صحابیات ؓاو ر نامور مسلمان بہادرخواتین کے مستند اور مؤثر واقعات کا ایک مجموعہ مرتب کردیا ہے تاکہ دور حاضرین کی خواتین اورلڑکیاں صحابیا ت ؓ کی اخلاقی،معاشرتی اوربہادری کے واقعات کو اپنے لیے نموہ بنا سکیں۔(م۔ا )

  • برصغیر بالخصوص پنجاب میں دین اسلام کی نشرو اشاعت، دعوت وتبلیغ، سماجی ورفاہی خدمات لکھوی خاندان کا طرۂامتیاز رہا ہے۔ بے شمار لوگ ان کے بزرگوں کی تبلیغی مساعی کے نتیجے میں توحید وسنت کی روشنی سے فیض یاب ہوئے۔عوامی خدمت کے اسی جذبے کے تحت یہ نصف صدی سے زائد عرصے سے سیاست میں بھی ہیں۔اگرچہ اس خاندان سے علمی وروحانی وابستگان کا دائرہ پورے ملک میں پھیلا ہو ا ہے، تاہم ضلع قصور کاحلقہ این اے 140 ان کی انتخابی سیاست کا مرکز ہے، جہاں سے مولانا معین الدین لکھویؒ تین بار قومی اسمبلی کے رکن رہے ۔ ۔1951ءمیں پنجاب میں ہونے والے پہلے انتخاب میں مولانا معین الدین کے بڑے بھائی  اور معروف اسلامی سکالر  پروفیسر ڈاکٹر حماد لکھوی ﷾ کے والد گرامی مولانا محی الدین لکھوی ﷫ تحصیل چونیاں سے ایم این اے منتخب ہوئے ۔ لکھوی خاندان  بالخصوص مولانا معین الدین لکھوی اور مولانا محی الدین لکھوی کے  متعلق کئی رسائل وجرائد میں  متعدد مضامین شائع ہوئے ہیں جو مختلف جگہ پر منتشر ہیں  مؤرخ اہل حدیث مولانا اسحاق بھی ﷫ نے اس کتاب’’ تذکرہ مولانا محی الدین لکھوی ﷫ ‘‘ میں  تفصیل سے مولانا محی الدین لکھوی ﷫  کی حیات ، خدمات کے ضمن میں لکھوی خاندان  کا تفصیلی تعارف کو یکجا کردیا ہے ۔ اس  کتاب  میں شامل  پروفیسر ڈاکٹر حماد لکھوی ﷾ کے تفصیلی مقدمہ سے اس کتاب کی اہمیت دوچند ہوگئی  ہے ۔یہ کتاب مولانا محی الدین لکھوی اور لکھوی خاندان کے تعارف  وخدمات کے سلسلے میں ایک  دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے ۔ (م۔ا) اہل حدیث  علماء 

  • 143 دروس المساجد جلد۔1 (جمعہ 24 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:4208

    امت مسلمہ صرف ’کلمہ گو‘ جماعت نہیں بلکہ داعی الی الخیر بھی ہے۔ یہ اس کے دینی فرائض میں داخل ہے کہ بنی نوع انسان کی دنیا کی سرافرازی اور آخرت کی سرخروئی کے لیے جو بھی بھلے کام نظر آئیں، بنی آدم کو اس کا درس اور اس کی مخالف سمت چلنے سے ان کو روکے ۔اس فریضہ سے کوئی مسلمان بھی مستثنیٰ نہیں۔ مسلم معاشرے کے ہرفرد کا فرض ہے کہ کلمہ حق کہے ،نیکی اور بھلائی کی حمایت کرے اور معاشرے یا مملکت میں جہاں بھی غلط اور ناروا کام ہوتے نظر آئیں ان کو روکنے میں اپنی ممکن حد تک پوری کوشش صرف کردے۔ ایمان باللہ کے بعد دینی ذمہ داریوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیناسب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ امر بالمعروف کامطلب ہے نیکی کا حکم دینا اور نہی عن المنکر کا مطلب ہے برائی سے روکنا یہ بات تو ہر آدمی جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکی اور نیک لوگوں کو پسند فرماتےہیں۔ برائی اور برے لوگوں کو ناپسند فرماتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ یہ بھی چاہتے ہیں کہ دنیا میں ہر جگہ نیک لوگ زیاد ہ ہوں او ر نیکی کا   غلبہ رہے۔ برے لوگ کم ہوں اور برائی مغلوب رہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو محض خود نیک بن کر رہنے اور برائی سے بچنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا حکم بھی دیا ہے۔ اسی عظیم مقصد کی خاطر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام ﷩ کو مبعوث فرمایا اور انبیاء کرام کاسلسلہ ختم ہونے کے بعد امت محمدیہ کے حکمرانوں ،علماء وفضلاء کو خصوصا اورامت کے دیگر افراد کوعموماً اس کا مکلف ٹھہرایا ہے۔ قرآن وحدیث میں اس فریضہ کواس ق...

  • 144 قرآن اور صحابہ رضی اللہ عنہم (جمعہ 31 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:1375

    صحابہ نام ہے ان نفوس قدسیہ کا جنہوں نے محبوب و مصدوق رسولﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا اور اس خیر القرون کی تجلیات ِایمانی کو اپنے ایمان وعمل میں پوری طرح سمونے کی کوشش کی۔ صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی سے مراد رسول اکرمﷺ کا وہ ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا، آپﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا۔ صحابی کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص ہے لہذاب یہ لفظ کوئی دوسراا شخص اپنے ساتھیوں کےلیے استعمال نہیں کرسکتا۔ اسی طرح سیدات صحابیات وہ عظیم خواتین ہیں جنہوں نے نبی کریمﷺ کودیکھا اور ان پر ایمان لائیں اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوئیں۔ انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام﷢ کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام﷢ کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت، جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام وصحابیات سے محبت اور نبی کریمﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم   کرنا ایمان کاحصہ ہے۔ بصورت دیگرایما ن ناقص ہے۔ صحابہ کرام ﷢ کے ایمان ووفا کا انداز اللہ کو اس قدر پسند آیا کہ اسے   بعد میں آنے والے ہر ایمان لانے والے کے لیے کسوٹی قرار دے دیا۔یو ں تو حیطہ اسلام میں آنے کے بعد صحابہ کرام ﷢ کی زندگی کاہر گوشہ تاب ناک ہے لیکن بعض پہلو اس قدر درخشاں ،منفرد اور ایمان افروز ہیں کہ ان کو پڑہنے اور سننے والا دنیا کا کوئی بھی شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ صحابہ کرام﷢ وصحابیات رضی اللہ عنہن...

  • 145 خاندان نبوت کا تعارف (ہفتہ 17 جون 2017ء)

    مشاہدات:1888

    اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصطلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے ۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں ۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اوراس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے ۔ رہبر انسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیے’’اسوۂ حسنہ‘‘ ہیں ۔ حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے ۔ ۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب&...

  • 146 الجمال والکمال تفسیر سورہ یوسف (بدھ 28 جون 2017ء)

    مشاہدات:2847

    سورۃ یوسف قرآن مجید کی 12 ویں سورت جس میں حضرت یوسف کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺکی مکی زندگی کے آخری دور میں یہ سورت نازل ہوئی۔سورہ یوسف قرآن مجید کی وہ واحد سورہ ہے جو اپنے اسلوب بیاں، ترتیب بیاں اور حسن بیاں میں باقی سے منفرد اور نمایاں ہے۔ پوری سورہ مبارکہ کا مضمون سیدنا یوسف کی سیرت کے نہایت اجلے پہلو، عفت و عصمت اور پاکیزہ سیرت و کردار پر مشتمل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ الجمال والکمال تفسیر سورہ یوسف‘‘ برصغیر پاک وہند کے معروف سیرت نگار قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری ﷫ کی تصنیف ہے ۔قاضی صاحب نے جون 1921 ء کو سفر حج کیا اور اگست تک مکہ مکرمہ میں ہی قیام پذیز رہے ۔قاضی صاحب نے وہی سورۂ یوسف کی تفسیر لکھنے کا آغاز کیا 22 اگست 1921ء کو تقریبا دو مہینے میں اس سورہ کی تفسیرمکمل کرلی تھی۔خاتمۂ تفسیر کے دس بارہ صفحے انہوں نے واپسی کے وقت جہازمیں لکھے اور آخر کے بارہ چودہ صفحات ان مشاہیر کے مختصر حالات پر مشتمل ہیں جن کا ذکر تفسیر میں کیاگیا ہے ۔قاضی صاحب نے اس تفسیر میں مصر کی پوری تاریخ، وہاں کے دریاؤں ، نہروں ، تصنیف کے زمانے تک کےاخباروں ،پہاڑوں ، اہرام مصر ، اہم شخصیتوں کا ذکر کیا ہے¬۔ اور وہاں کی مختلف حکومتوں اور حکمرانوں کا تذکرہ بالترتیب کیا ہے ۔تفسیر کی زبان اور انداز بیان نہایت عمدہ ہے ۔ اس تفسیر کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اگر قاضی صاحب پورے قرآن مجید کی تفسیر لکھتے توایک جید سیر ت نگار ہونے کے ساتھ بہت بڑے مفسربھی ہوتے ۔قاضی صاحب نے دوسرے حج بیت اللہ سے بذریعہ بحری جہاز واپس آتے ہوئے 30 مئی 1930ء کو جہاز میں...

  • عقیدہ عذاب قبر قرآن مجید،احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے۔جس طرح دنیا میں آنے کے لئے ماں کا پیٹ پہلی منزل ہے،اور اس کی کیفیات دنیا کی زندگی سے مختلف ہیں،بعینہ اس دنیا سے اخروی زندگی کی طرف منتقل ہونے کے اعتبار سے قبر کا مقام اور درجہ ہے،اوراس کی کیفیات کو ہم دنیا کی زندگی پر قیاس نہیں کر سکتے ہیں۔عذاب قبر سے مراد وہ عذاب اور سزا ہے جو موت سے لے کر حساب وکتاب کے لیے دوبارہ اٹھائے جانے یعنی قیامت سےپہلے تک اللہ تعالیٰ کےنافرمانوں کودی جاتی ہے ۔ نبی کریم ﷺ نماز کے تشہد میں اوراپنی دیگر دعاؤں میں عذاب قبر اورقبر وحشر کے فتنوں سے بکثرت اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے ۔اس لیے اہل وسنت والجماعت کے عقیدے کے مطابق عذاب قبر بر حق ہے اور اس پر کتاب وسنت کی بہت سی براہین واضح دلالت کرتی ہیں ۔جبکہ بعض کوتاہ بین ایسے بھی ہیں جنہوں نےاس کا انکار کیا جیسا کہ عصر حاضر میں منکرین حدیث ہیں جواس کا کلی انکار کرتے ہیں اوراسی طرح برزخیوں کا ٹولہ ہے جو کہتے ہیں کہ اس قبر میں میت کو عذاب نہیں ہوتا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’عذاب قبر میں مبتلا اور اس سےمحفوظ رہنے والے لوگ ‘‘ مولانا محمد عظیم حاصپلوری ﷾ (مصنف مترجم کتب کثیرہ) کی کاوش ہے انہوں اس کتاب کو الشیخ ولید بن عیسیٰ السعدون کی عربی کتاب’’ السورۃ المنجية والمنانعة من عذاب القبر‘‘ سے استفادہ کر کے اس کا سلیس ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس میں بیان کی گئی مختصر چیزوں کو تفصیل سے بیان کیا ہے ۔نیز اس کے علاوہ ان تمام اعمال کو بھی شامل کردیا ہے جن کے سبب عذاب قبر ہوتا ہے اور جن کے سبب...

  • 148 نماز میں خشوع۔ اہمیت، افادیت اور طریقہ کار (اتوار 06 اگست 2017ء)

    مشاہدات:1248

    شہادتین کے بعد دین حنیف کا سب سے اہم رکن نماز ہے اور نماز کو درست کرنا ٹھیک طریقہ سے ادا کرنا اور ا س میں خشوع وخضوع کا خیال رکھنا یہ ہمارے لیے شریعت کا حکم ہے۔ فلاح وفوز پانے والوں کی جو صفات اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر کی ہیں ان میں سب سے پہلی صفت یہ ہے کہ وہ نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔ اور قرآن کریم میں ہی خشوع ان خوش نصیبوں کا ایک وصف بیان ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کی بخشش اور مغفرت کے مستحق اور اجر عظیم پانے والے ہیں‘ خشوع وخضوع کا مطلب ہے کہ نماز کے ہر رکن کو پورے اطمینان اور سکون سے اداکرنا اور جو نماز خشوع وخضوع کے بغیر ادا کی جائے گی وہ نماز طریقہ نبوی کے خلاف ہو گی۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص اسی موضوع پر ہے جس میں نماز میں خشوع وخضوع کی اہمیت‘افادیت اور طریقہ کار‘ خشوع کے معانی‘ شرائط‘ اہمیت‘ افادیت اور خشوع کے حصول کے اسباب کو جامع انداز میں پیش کیا گیا ہے۔اور خاشعین نماز کے حوالے سے بہت سے نصیحت آموز واقعات کو بھی بیان کیا گیا ہے۔حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے‘ حوالے میں پہلے مصدر کا نام اور جلد اور صفحہ نمبر بھی درج کیا جاتا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ نماز میں خشوع‘ اہمیت‘ افادیت‘ اور طریقہ کار ‘‘ ابو عبد اللہ آصف محمود کی تالیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب ک...

  • 149 جہنم اور جہنمیوں کے احوال (ہفتہ 19 اگست 2017ء)

    مشاہدات:2054

    جہنم بہت ہی بری قیام گاہ،بہت ہی برا مقام اور بہت ہی برا ٹھکانہ ہےجسے اللہ تعالیٰ نے کافروں، منافقوں، مشرکوں اور فاسقوں و فاجروں کے لئے تیار کر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جنت اور جہنم دونوں کا بار بار تذکرہ فرمایا ہے۔اور جہنم کا تذکرہ نسبتا زیادہ کیا ہے۔اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ انسانوں کی اکثریت ترغیب سے زیادہ ترہیب کو قبول کرتی ہے۔جہنم وہ ہولناک اور المناک عقوبت خانہ ہے جس کی ہولناکی کا اندازہ لگانا دنیوی زندگی میں محال ہے۔انسان كو اپنی اس عارضی اور دنیاوی زندگی میں جہنم سے آزادی کا سامان کرنا چاہیے اور جہنم کی طرف لے جانے والے راستوں سے اجنتاب کرنا چاہیے۔ زیر تبصرہ کتا ب ’’جہنم اور جہنمیوں کے احوال‘‘ فضیلۃ الشیخ ابو سالم النذیر کی ایک عربی کتاب کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے جہنم کی ماہیت اور اس کے مختلف نام ،جہنم کے طبقات، عذاب کی شدت اور خفت کےاعتبار سے جہنمیوں کی قسمیں، جہنم کے عذاب کی مختلف قسمیں، جہنمیوں کے ماکولات اور مشروبات کو قرآنی آیات اور احادیث نبویہ کے روشنی میں پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر حافظ شہباز حسن صاحب نے اردو دان طبقہ کےلیے اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔(م۔ا)

  • 150 دروس القرآن جلد اول (ہفتہ 29 جولائی 2017ء)

    مشاہدات:3118

    قرآن مجید اللہ رب العزت کی سچی اور لاریب کتاب ہے جو بے مثل اور بے نظیر ہونے کے ساتھ ساتھ سراپا ہدایت اور حکمت ودانائی سے بھری پڑی ہے اس کی تلاوت باعث ثواب بھی ہے اور قاری کو ایسی لذت بھی دیتی ہے جس سے وہ کبھی بھی اُکتاہٹ محسوس نہیں کرتا۔ یہ اللہ کی طرف سے انسانیت کے لیے اتارا ہوا دستور حیات ہے جو اس کو ٹھکرا کر خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لے وہ ظالم وفاسق اور دنیا وآخرت میں ذلیل ورسوا ہوکر تڑپے گا اور جو شخص قرآنی احکامات کے مطابق عمل کرے وہ جنت کے راستے پر گامزن ہو کر اپنی منزل تک یقیناً پہنچ جائے گا۔ قرآن مجید کو آسان سے آسان انداز میں عوام الناس تک پہنچانے اور انہیں وعظ ونصیحت اور تبلیغ کے لیے کئی ایک طریقے اپنائے گئے اور اس پر بہت سے کتب بھی تالیف کی گئیں مگر زیرِ تبصرہ کتاب  علم وفن کا ایک گہرا سمندر ہے جو بھی اس میں غوطہ زن ہوتا ہے وہ ہیرے‘ جواہرات سے اپنی جھولی بھر کر ہی سطح آب پر نمودار ہوتا ہے۔ اس کی دو جلدیں ہیں پہلی جلد میں سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ کی چیدہ چیدہ آیات کی تفہیم وتفسیر ہے اور دوسری جلد میں سورۂ آل عمران اور سورۂ نساء کی منتخب آیات پر دروس مشتمل ہیں جس میں قرآنی آیات کے شان نزول اور  اور ان کی تفسیر ہے۔ تفسیر میں تفسیر بالقرآن اور تفسیر بالحدیث اور صحیح یا حسن درجہ کی احادیث کو بیان کیاگیا ہے۔ بنی اسرائیلی روایت کا ذکر کرنے کے بعد اس کی وضاحت بھی کی جاتی ہے کہ یہ اسرائیلی روایت ہے۔ اس کتاب میں حوالہ جات کا بھی اہتمام کیا گیا ہے‘ حوالے میں سورۂ کا نام اور آیت کا نمبر ذکر کیا جاتا ہے اور حدیث کے حوالے میں مص...


  • ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 2015
    • اس ہفتے کے قارئین: 12887
    • اس ماہ کے قارئین: 46908
    • کل قارئین : 47942151

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں