مکتبہ رحمانیہ لاہور

33 کل کتب
دکھائیں

  • 21 تاریخ حدیث و محدثین ( جدید ایڈیشن ) (جمعہ 10 فروری 2017ء)

    مشاہدات:3661

    حدیث شریعتِ اسلامیہ کا دوسرا اور آخری الہامی ذخیرہ وماخذ ہے جسے قرآن کریم کی طرح بذریعہ وحی زبان رسالت نے پیش کیا ہے ۔ یہ اس ہستی کا عطا کردہ خزانہ ہے جس کا ہر قول وعمل ،لغرش وخطاء سے پاک اور محفوظ ہے اسی لیے اس منصب عالی کے نتائج بھی ہر خطا سےمحفوظ ہیں ۔جب کہ دوسرے مناصب کی شخصیت کو یہ مقام حاصل نہیں۔یہ وہ دین ہے جس کے بغیر قرآن وفہمی ناممکن اور فقہی استدلال فضول نظرآتے ہیں۔اس میں کسی کی پیونکاری کی ضرورت نہیں۔ یہ اس شخصیت کے کلمات ہیں جنہیں مان کر ابو بکروعمر ،عثمان وعلی یا ایک عام شخص صحابی رسول بنا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں کا رتبہ پایا ۔ جس نے اسے نہ مانا وہ ابو لہب اور ابو جہل ٹھہرا۔ یہ وہ منزل من اللہ وحی ہے حسے نظر انداز کر کے کوئی شخص اپنے ایمان کو نہیں بچا سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر رسول کی بعثت کا مقصد صرف اس کی اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جو انسان آپ کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالی کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت صحابہ کرام ،تابعین عظام اور ائمہ دین رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور قرآن وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز وحی الٰہی ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد صحابہ ہی میں احادیث نبویہ س...

  • 22 حدیث کی مشہور کتابیں اردو ترجمہ ’المستطرفہ‘ (ہفتہ 18 فروری 2017ء)

    مشاہدات:6121

    ابو عبداللہ محمد بن جعفر بن ادریس معروف الکتانی1857ء کو فاس شہر میں پیدا ہوئے۔ تما م علوم وفنون کی تعلیم اپنے خاندان میں ہی حاصل کی ۔ 18 سال کی عمر میں تحصیل علم کے بعد مشائخ اور بڑے علماء کے امتحان اور جانچ پرکھ کےبعد خانقاہ کتانیہ میں تدریس شروع کی اور بیس سال کی عمر میں فاس کی سب سے بڑی مسجد جامع قرویین میں تدریس کی ابتداء کی جہاں اپنے والد صاحب کی نگرانی میں تقریباً سب ہی علوم وفنون کی متعددکتابیں پڑھائیں۔تدریس کے ساتھ ساتھ تصنیف وتالیف کا کام بھی کیا ۔فقہ) حدیث ،تاریخ، تصوف، تفسیر، سیرت اور انساب وغیرہ جیسے موضوعات پر ساٹھ سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔ان کی اہم کتب میں سے زیر تبصرہ اہم کتاب ’’رسالہ المستطرفہ ‘‘ ہے۔ یہ کتاب علم حدیث اور کتب حدیث کے تعارف کے متعلق ہے۔ اس کتاب کا علوم حدیث اور تعارف محدثین کے حوالے سے کتابوں میں وہی مقام ہے جو عام علوم کی نسبت ابن ندیم کی مشہور کتاب الفہرست لابن الندیم کا ہے۔ یہ کتاب حدیث اور علوم حدیث کے 1400 کتابوں کے تذکرے اور چھ صد کے قریب مشہور محدثین کے تراجم اور تعارف پرمشتمل ہے۔ اس میں ہر کتاب صاحب کتاب کا مختصر جامع تعارف ،نقد اور تبصرہ علامہ کتانی نے بڑی جامعیت کےساتھ پیش کیاہے۔ کتاب ہذا اسی کتاب کاترجمہ ہے۔ترجمہ کی سعادت مولانا مفتی شعیب احمد نے حاصل کی ہے۔ مکتبہ رحمانیہ نے اسے حسن ِطباعت سےآراستہ کیا ہے۔ (م۔ا)

  • 23 حیات شیخ عبد الحق محدث دہلوی (ہفتہ 25 فروری 2017ء)

    مشاہدات:3032

    حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ کے آباء واجداد اصل میں بخاراکے رہنے والے تھے ۔جو دہلی میں آکر سکونت پذیر ہوئے۔ آپؒ شہر دہلی میں 958ھ مطابق 1551ء پیداہوئے۔ آپ کا پورا نام شیخ ابو المجد عبدالحق بن سیف الدین دہلوی بخاری ہے، مغلیہ دور میں متحدہ ہندوستان کے مایہ ناز عالم دین اور محدث تھے۔ ہندوستان میں علم حدیث کی ترویج و اشاعت میں آپ کا کردار ناقابل فراموش ہے۔آپ کی تعلیم وتربیت آپ کے والد نے بڑی محبت اور محنت سے کی ۔حضرت شخ ﷫ نے صر ف تین ماہ میں پورا قرآن پاک مکمل قواعدکے ساتھ اپنے والد ماجد سے پڑھ لیا۔ اورایک ماہ میں کتابت کی قدرت اور انشاء کا سلیقہ حاصل ہو گیا اٹھارہ سال کی عمر میں آپ نے تمام علوم عقلیہ اور نقلیہ اپنے والد ماجد سے حاصل کر لیے۔ اس دوران آپ نے جید علماء کرام سے بھی اکتساب علم کیا۔ 996ھ / 1588ء میں حجاز کا رخ کیا اور کئی سال تک حرمین شریفین کے اولیاء کبار اور علماء زمانہ سے استفادہ کیا۔ بالخصوص شیخ عبد الوہاب متقی خلیفہ شیخ علی متقی کی صحبت میں علم حدیث کی تکمیل کی۔ آپ نے ایک درجن سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔1642ء میں دہلی میں وفات پائی۔ زیر تبصرہ کتاب’’حیات شیخ عبد الحق محدث دہلوی ‘‘ خلیق احمد نظامی کی تصنیف ہے جو کہ پانچ حصوں ، مقدمہ او رآخر میں تعلیقات پر مشتمل ہے ۔فاضل مصنف نے مقدمہ میں شیخ عبد الحق محدث دہلوی سے قبل ہندوستان میں علوم اسلامی کی نشوو نما کا جائزہ لیا ہے۔ اور اسلامی ہند کے مختلف زمانوں میں علوم دینی کی حالت پر بحث کی ہے اس مقدمہ کے مطالعہ سے ہندوستان کی علمی اور دینی تاریخ میں شیخ عبدالحق کا ص...

  • 24 موضوع روایات (جمعرات 25 مئی 2017ء)

    مشاہدات:2235

    بلاشبہ اسلام کے جملہ عقائد واعمال کی بنیاد کتاب وسنت پر ہے اور حدیث در حقیقت کتاب اللہ کی شارح اور مفسر ہے اور اسی کی عملی تطبیق کا دوسرا نام سنت ہے ۔نبی کریمﷺکو جوامع الکلم دیئے اور آپ کوبلاغت کے اعلیٰ وصف سے نوازہ گیا ۔ جب آپﷺ اپنے بلیغانہ انداز میں کتاب اللہ کے اجمال کی تفسیر فرماتے تو کسی سائل کو اس کے سوال کا فی البدیہہ جواب دیتے۔ تو سامعین اس میں ایک خاص قسم کی لذت محسوس کرتے اوراسلوبِ بیان اس قدر ساحرانہ ہوتا کہ وقت کے شعراء اور بلغاء بھی باوجود قدرت کے اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتے ۔احادیثِ مبارکہ گوآپﷺ کی زندگی میں مدون نہیں ہوئیں تھی تاہم جو لفظ بھی نبیﷺ کی زبانِ مبارکہ سے نکلتا وہ ہزار ہا انسانوں کے قلوب واذہان میں محفوظ ہو جاتا اور نہ صرف محفوظ ہوتا بلکہ صحابہ کرام ا س کے حفظ وابلاغ اور اس پر عمل کے لیے فریفتہ نظر آتے ۔یہی وجہ تھی کہ آنحصرت ﷺ کے سفر وحضر،حرب وسلم، اکل وشرب اور سرور وحزن کے تمام واقعات ہزارہا انسانوں کے پاس آپ کی زندگی میں ہی محفوظ ہوچکے تھے کہ تاریخ انسانی میں اس کی نظیر نہیں ملتی اور نہ ہی آئندہ ایسا ہونا ممکن ہے ۔خیر القرون کے گزر نے تک ایک طرف تو حدیث کی باقاعدہ تدوین نہ ہوسکی اور دوسری طرف حضرت عثمان کی شہادت کے ساتھ ہی دور ِ فتنہ شروع ہوگیا جس کی طرف احادیث میں اشارات پائے جاتے ہیں۔ پھر یہ فتن کسی ایک جہت سے رونما نہیں ہوئے بلکہ سیاسی اور مذہبی فتنے اس کثرت سے ابھرے کہ ان پر کنٹرول ناممکن ہوگیا۔ان فتنوں میں ایک فتنہ وضع حدیث کا تھا۔اس فتنہ کے سد باب کے لیے گو پہلی صدی ہجری کےاختتام پر ہی بعض علمائے تابعین نے کوششیں...

  • 25 تاریخ پاکستان اور حکمرانوں کا کردار (جمعہ 23 جون 2017ء)

    مشاہدات:2574

    تحریک پاکستان اصل میں مسلمانوں کے قومی تشخص اور مذہبی ثقافت کے تحفظ کی وہ تاریخی جدو جہد تھی جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ اور بحیثیت قوم ان کی شناخت کو منوانا تھا ۔ جس کے لیے علیحدہ مملکت کا قیام از حد ضروری تھا ۔یوں تو تحریک پاکستان کا باقاعدہ آغاز 23 مارچ 1940ء کے جلسے کو قرار دیا جا سکتا ہے مگر اس کی اصل شروعات تاریخ کے اس موڑ سے ہوتی ہیں جب مسلمانان ہند نے ہندو نواز تنظیم کانگریس سے اپنی راہیں جدا کر لی تھیں ۔1930 ءمیں علامہ اقبال نے الہ آباد میں مسلم لیگ کے اکیسیوں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے باضابطہ طور پر بر صغیر کے شمال مغبر میں جداگانہ مسلم ریاست کا تصور پیش کر دیا ۔ چودھری رحمت علی نے اسی تصور کو 1933 میں پاکستان کا نام دیا ۔ سندھ مسلم لیگ نے 1938 میں اپنے سالانہ اجلاس میں بر صغیر کی تقسیم کے حق میں قرار داد پاس کر لی ۔ علاوہ ازیں قائد اعظم بھی 1930 میں علیحدہ مسلم مملکت کے قیام کی جدو جہد کا فیصلہ کر چکے تھے ۔1940 تک قائد اعظم نے رفتہ رفتہ قوم کو ذہنی طور پر تیار کر لیا ۔23مارچ 1940 کے لاہور میں منٹو پارک میں مسلمانان ہند کا ایک عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا جس میں تمام ہندوستان کے مختلف علاقوں سے مسلمانوں نے قافلے کی صورت سفر کرکے شرکت کی اور ایک قرار داد منظور کی جس کے مطابق مسلمانان ہند انگریزوں سے آزادی کے ساتھ ساتھ ہندوؤں سے بھی علیحدہ ریاست چاہتے تھے ۔ لیکن افسوس  کہ آج جب ایک عام پاکستانی اپنے روز مرہ کے معاملات کے سلسلے میں حکومت کے مختلف اداروں سے رابطہ کرتا ہے تو قدم قدم پر سر پیٹ کر رہ جاتا ہے۔اسے یقین ہو ج...

  • 26 التبیان فی علوم القرآن (جمعرات 29 جون 2017ء)

    مشاہدات:4853

    علوم القرآن سے مراد وہ تمام علوم وفنون ہیں جو قرآن فہمی میں مدد دیتے ہیں او رجن کے ذریعے قرآن کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے ۔ ان علوم میں وحی کی کیفیت ،نزولِ قرآن کی ابتدا اور تکمیل ، جمع قرآن،تاریخ تدوین قرآن، شانِ نزول ،مکی ومدنی سورتوں کی پہچان ،ناسخ ومنسوخ ، علم قراءات ،محکم ومتشابہ آیات وغیرہ ،آعجاز القرآن ، علم تفسیر ،اور اصول تفسیر سب شامل ہیں ۔علومِ القرآن کے مباحث کی ابتداء عہد نبوی اور دورِ صحابہ کرام سے ہو چکی تھی تاہم دوسرے اسلامی علوم کی طرح اس موضوع پربھی مدون کتب لکھنے کا رواج بہت بعد میں ہوا۔ قرآن کریم کو سمجھنے اور سمجھانے کے بنیادی اصول اور ضابطے یہی ہیں کہ قرآن کریم کو قرآنی اور نبوی علوم کی روشنی میں ہی سمجھا جائے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ التبیان فی علوم القرآن ‘‘ کلیۃ الشریعہ والدراسات الاسلامیہ ، مکہ مکرمہ کے استاد محترم جناب محمد علی الصابونی کی تصنیف ہے ¬ جسے انہوں نے مدارس اسلامیہ کے لیے اپنی تدریسی یاداشتوں کو کتابی صورت میں مرتب کیا ہے تاکہ طالبان علوم نبوت اس سے استفادہ کرسکیں ۔ اصل کتاب چونکہ عربی زبان میں تھی تو جناب اخترفتح پوری صاحب نے اسے اردودان طبقہ کے لیے سلیس اردوزبان میں منتقل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف کتاب اور مترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے طلباء وطالبات کے لیے نفع بخش بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • 27 مصنف ابن ابی شیبہ مترجم جلد۔ 01 (منگل 04 جولائی 2017ء)

    مشاہدات:7061

    خدمت ِ حدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے، تاکہ اس کا شمار کل قیامت کے دن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔ اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ محدثین کرام نے احادیث کی جمع وتدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا، بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی، اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔ زیر تبصرہ کتاب "مصنف ابن ابی شیبہ﷫" امام ابو بکر عبد اللہ بن محمد بن ابو شیبہ العبسی الکوفی﷫ کی مایہ ناز تصنیف کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے، جس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ کو جمع فرمایا ہے۔ یہ ترجمہ گیارہ جلدوں پر مشتمل مکتبہ رحمانیہ کا مطبوعہ ہے۔ اردو ترجمہ محترم مولانا محمد اویس سرور صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین (راسخ)

  • 28 سچائی کی جستجو (ہفتہ 21 اکتوبر 2017ء)

    مشاہدات:1969

    انسان کو اللہ تعالیٰ نے تخلیق کیا ہے اور تخلیق کرنے کے بعد اس کے ذمہ کچھ اہم ذمہ داریاں بھی ہیں اور مخلوق ہونے کے ناطے وہ ان ذمہ داریوں سے روگردانی نہیں کر سکتا۔وہ اپنی موجودگی کی اور کوئی توجیہ نہیں کرسکتا۔چونکہ وہ تخلیق کیا گیا ہے اس لیےاسے بے قابو اور غیر ذمہ دار حیثیت میں چھوڑا نہیں جا سکتا۔ انسان ان ذمہ داریوں سے آگاہی صرف اور صرف اللہ رب العزت کی کتاب سے ہی تلاش کر سکتا ہے اور تلاش کرنے کے بعد ان پر عمل کر سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب میں بھی قاری کو ان معاملات اور ذمہ داریوں کی قدر وقیمت معلوم کرنے پر آمادہ کیا گیا ہے جن اس نے غیر اہم تصور کرتے ہوئے ایک طرف کر دیا ہے لیکن اصل میں وہ اس کی زندگی کے سب سے اہم مسائل ہیں۔اور اس کتاب  میں قاری کو نصیحت کی گئی ہے کہ وہ غیر متعصب ہو کر اپنی ذمہ داریوں کو جانے اور انہیں ادار کرے۔اس کتاب میں انسان کو اس بات کا شعور دلانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ہم کون ہیں؟یہاں کیوں آئے ہیں؟ہماری تخلیق کا مقصد کیا ہے؟ہماری موجودہ زندگی کا کیا مقصد ہے؟وغیرہ۔ اور ہر بات کو ایک احسن مثال کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔اس کتاب کو تین مختلف حصوں میں منقسم کیا گیا ہے۔زیر تبصرہ کتاب’’سچائی کی جستجو‘‘ ڈاکٹر ہارون یحیٰی کی عظیم کاوش ہے اور اس کا ترجمہ ڈاکٹر فردوس روحی صاحب نے کیا ہے۔دعا ہے کہ  اللہ تعالیٰ مصنفین کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنائے  اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )

  • تعلیم و تربیت انسان کی سب سے پہلی،اصل اور بنیادی ضرورت ہے۔ہماری تاریخ میں اس کی عملی تابندہ مثالیں موجود ہیں۔ ایک طرف جہاں مسجد نبوی میں چبوترے پر اہل صفہ علم حاصل کر رہے ہیں، تو دوسری طرف جنگی قیدیوں کے لیے آزادی کے بدلے ان پڑھ صحابہ کو تعلیم یافتہ بنانے کی شرط رکھی جاتی ہے اور کبھی مسجد نبوی کا ہال دینی، سماجی اور معاشرتی مسائل کی افہام و تفہیم کا منظر پیش کرتا ہے۔ آج کل فن تعلیم کو جو اہمیت حاصل ہے وہ روز روشن کی طرح سب پر عیاں ہے۔ہر طرف ٹریننگ اسکول اور کالج کھلے ہیں،مدرس تیار کئے جاتے ہیں،فن تعلیم پر نئی نئی کتابیں لکھی جاتی ہیں اور نئے نئے نظرئیے آزمائے جاتے ہیں۔ایک وہ وقت بھی تھا جب اس روئے زمین پر مسلمان ایک ترقی یافتہ اور سپر پاور کے طور پر موجود تھے،مسلمانوں کے اس ترقی وعروج کے زمانے میں بھی اس فن پر کتابیں لکھی گئیں اور علماء اہل تدریس نے اپنے اپنے خیالات کتابوں اور رسالوں میں تحریر کئےاور کتاب وسنت ،بزرگوں کے واقعات اور تجربات کی روشنی میں جو تعلیمی نتائج انہوں نے سمجھے تھے انہیں اصول وقواعد کی حیثیت سے ترتیب دے دیا تھا۔ضرورت اس امر کی تھی کہ مسلمان علماء نے جو کتابیں لکھی ہیں یا اپنی تصنیفات میں تعلیم سے متعلق جو نظرئیے بتائے ہیں یا متفرق خیالات ظاہر کئے ہیں ان سب کو ترتیب سے یکجا کر دیا جائے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ پاک وہند میں مسلمانوں کا نظام تعلیم و تربیت‘‘ حضرت مولانا سید مناظر احسن گیلانی کی تصنیف ہے۔ جس میں ہندوستان میں قطب الدین ایبک کے وقت سے لے کر آج تک مسلمانوں کے نظام تعلیم وتربیت کو بیان کیا گیا ہے۔ بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ م...

  • 30 کتاب الخراج مترجم (اتوار 02 ستمبر 2018ء)

    مشاہدات:1556

    امام ابو یوسف  امام ابوحنیفہکے شاگرد مایہ نا ز شاگرد اور فقہ حنفی کے  معروف امام ہیں  آپ امام ابوحنیفہ کے بعد خلیفہ ہادی، مہدیاور ہارون الرشیدکے عہد میں قضا کے محکمے پر فائز رہے اور تاریخ اسلام میں پہلےوہ شخص ہیں جن کو قاضی القضاۃ(چیف جسٹس)کے خطاب سے نوازا گیا‘ لیکن بادشاہ کی ہاں میں ہاں ملاکر نہیں رہے، بلکہ ہرمعاملہ میں شریعت کا اتباع کرتے، یہاں تک کہ بادشاہ کا مزاج درست کردیا۔آپ کی مشہور تصنیف کتاب الخراجفقہ حنفیکی مستند کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی ان کی ایک درجن کے قریب کتب ہیں۔آپ 731ء کو کوفہ میں پیدا ہوئے  اور  798ء کو 67 سال کی عمر میں بغداد...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 847
  • اس ہفتے کے قارئین: 3077
  • اس ماہ کے قارئین: 17048
  • کل قارئین : 48324499

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں