انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز، اسلام آباد

17 کل کتب
دکھائیں

  • 11 اسلامی بنکاری نظریاتی بنیادیں اور عملی تجربات (جمعہ 01 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:2411

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے، جس میں تجارت سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے حوالے سے مکمل راہنمائی موجود ہے۔اسلام تجارت کے ان طور طریقوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ،جس میں بائع اور مشتری دونوں میں سے کسی کو بھی دھوکہ نہ ہو ،اور ایسے طریقوں سے منع کرتا ہے جن میں کسی کے دھوکہ ،فریب یا فراڈ ہونے کا اندیشہ ہو۔یہی وجہ ہے اسلام نے تجارت کے جن جن طریقوں سے منع کیا ہے ،ان میں خسارہ ،دھوکہ اور فراڈ کا خدشہ پایا جاتا ہے۔اسلام کے یہ عظیم الشان تجارتی اصول درحقیقت ہمارے ہی فائدے کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔اسلام کے انہی درخشندہ اصولوں کو فروغ دینے کے لئےفیڈرل شریعت کورٹ نے 14 نومبر 1991ء کو ایک تاریخی فیصلہ دیا کہ سود اپنی تمام شکلوں کے ساتھ حرام ہے اور ملک کی معیشت کو اس لعنت سے جلد از جلد پاک کیا جائے۔لیکن حکومت وقت نے عدالت عالیہ میں جا کر اس فیصلے کے خلاف حکم التواء حاصل کر لیا اور یہ فیصلہ آج تک عملی طور پر نافذ نہ ہو سکا۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلامی بنکاری، نظریاتی بنیادیں اور عملی تجربات "پروفیسر ڈاکٹر اوصاف احمد صاحب ریسرچ سکالر اسلامی ترقیاتی بینک کے اسلامی بینکاری کے عملی تجربات پر مشتمل ہے، جو پہلے انگریزی میں بھی شائع ہو چکی ہے۔یہ ایک انتہائی قیمتی دستاویز ہے جس میں اردو دان طبقے کے سامنے پہلی بار اسلامی بینکاری کے 25 سالہ تجربات کا نچوڑ پیش کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 12 پاکستان کا جوہری پروگرام قومی سلامتی کے تناظر میں (جمعرات 04 فروری 2016ء)

    مشاہدات:1146

    قوموں کے عروج و زوال کی داستان اس حقیقت پر شاہد ہے کہ قومی دفاع اور ملکی سلامتی سے غفلت برتنے والی اقوام با لآخر اپنی آزادی اور استقلال کو کھو دیتی ہیں اور اغیار کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ لی جاتی ہیں۔ پاکستان کا مسئلہ یہ رہا ہے کہ برصغیر کے جذبہ ایمانی سے سرشار مسلمانوں کی ایک بھرپور تحریک اور لازوال شہادتوں اور قربانیوں کے نتیجہ میں ہم جس عظیم ملک کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، پچھلے تقریباً پچاس(50) سالوں کے دوران اس کی بقاء اور سلامتی کے تقاضوں کو کما حقہ سمجھنے، ان کے حصول کے لیے مناسب پالیسیوں کی تشکیل اور پھر ہم ان پر خلوص نیت سے عمل پیرا ہونے میں مسلسل ناکام چلے آ رہے ہیں۔ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں پاکستان کی سلامتی کو گوناگوں خطرات کاسامنا ہے۔ ایک طرف ہم بھارت کے جارحانہ عزائم کا نشانہ ہیں جس نے کبھی پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور دوسری طرف کرّاہ ارض پر اپنی بالادستی کے قیام کی خواہشمند مغربی اقوام کے خطرناک ارادے ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کو"خطرہ" اور"دہشت گرد" بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اور یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ان"دہشت گردوں" کی ہتھیاروں تک رسائی مستقبل میں انسانیت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"پاکستان کا جوہری پروگرام قومی سلامتی کے تناظر میں" محمد الیاس خان کی نہایت فکر انگیز تصنیف ہے۔ جس میں ہندو مسلم نظریاتی تصادم، صہونی عزائم، پاکستان اور بھارت کے جوہری پروگرام اور دیگر اہم موضوعات کو موصوف زیر بحث لائے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں کو شرف قبولیت سے ن...

  • 13 اسلامی تحریک درپیش چیلنج (پیر 02 مئی 2016ء)

    مشاہدات:1843

    دنیا بھر کے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے لئے نیو ورلڈ آرڈر جنم لینے سے پہلے ہی ختم ہو چکا ہے۔بیسویں صدی نے بہت سے رہنماؤں کو ایک نئے عالمی نظام کے بارے میں باتیں کرتے ہوئے دیکھا۔پہلی جنگ عظیم کے بعد امریکی صدر وڈروولسن نے مستقبل کے عالمی نطام کے موضوع پر مباحثے مین جان ڈالنے کی کوشش کی۔انہوں نے ایک ایسی دنیا کا خواب دیکھا  جس میں کچھ اصولوں اور تسلیم شدہ آفاقی قدروں کی حکمرانی کا تصور تھا۔یہ خواب مجلس  اقوام کی ناقص ساخت اور اس کے فوری خاتمے کے ساتھ بکھر گیا۔دنیا نہ ایک نئی جنگ سے بچ سکی اور نہ جمہوریت ہی محفوظ رہی بلکہ دنیا دائیں اور بائیں بازو کی کلیت پسندی کے نرغے میں آگئی۔دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک بار پھر نئی امیدیں پروان چڑھنے لگیں۔اقوام متحدہ کی بنیادرکھی گئی اور ایک نئے عہد کے بارے میں باتیں ہونے لگیں۔مگر بہت جلد ہی یہ امیدیں بھی خاک میں مل گئیں اور نسل انسانی تباہ کن سرد جنگ کے دور میں داخل ہو گئی۔مغرب کو اسلام سے کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن مغرب اسلام کو سب سے بڑے خطرے کے طور پر پیش کرتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلامی تحریک درپیش چیلنج"محترم پروفیسر خورشید احمد صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسی منظر نامے کو پیش کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 14 طاقت اور مفادات کا عالمی کھیل (جمعرات 01 فروری 2018ء)

    مشاہدات:929

    جس قوم نے علم و حکمت کے دریا بہا دیئے آج ایک ایک قطرے کے لئے دوسرے اقوام کی محتاج ہے۔ وہی قوم جو دنیا کی عظیم طاقت بن کر ابھری تھی آج ظالم اور سفاک طاقتوں کے سامنے بے بس نظر آرہی ہے۔ جب ہم دنیا کے موجودہ معاشی، سیاسی، سماجی، ثقافتی اور تہذیبی منظرنامہ پر نظر ڈالتے اور پھر پیچھے مڑ کر اپنے ماضی کی تاریخ میں جھانکتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اُسلوبِ حیات میں غیر معمولی تبدیلیاں آچکی ہیں۔ ایسے تغیرات مسلسل رونما ہورہے ہیں جن کا قبل ازیں تصور بھی نہیں کیاجاسکتا تھا۔ ابلاغِ عامہ اور ترسیل معلومات کے ایسے ایسے ذرائع اور وسائل ایجاد ہو رہے ہیں جن سے ہماری گذشتہ نسلوں کو سابقہ پیش نہیں آیا۔امت مسلمہ آج سے ایک سو سال قبل جس نو آبادیاتی نظام میں جکڑی،بے بسی اور بے چارگی کی تصویر بنی ہوئی تھی۔آج 57 آزاد ممالک کی شکل میں قوت ،عددی اکثریت اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ذلت ،عاجزی اور درماندگی میں اسی مقام پر کھڑی ہے جہاں سوسال پہلے کھڑی تھی۔عالم کفر کی اس منہ زور یلغار کے سامنے بند باندھنے کی کوئی حکمت ِ عملی اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک ہم خود اسی تکنیکی مہارت سے آراستہ ہو کر اپنی تہذیب و ثقافت کے توانا پہلوؤں کو دنیا کے سامنے نہیں لاتے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ طاقت اور مفادات کا عالمی کھیل‘‘ الزبتھ لیاگن کی تالیف ہے جس کا اردو ترجمہ محب الحق صاحبزادہ نے کیا ہے۔ جس میں بہت سے مغربی مفکرین، پالیسی سازوں، حکومتی اہلکاروں، خفیہ ایجنسیوں کے ذمہ داران کی تحریر و تقریر اور سرکاری اجلاسوں کے

  • مغربی دنیا اب تک مختلف ذرائع سے سیاسی، سماجی ، فوجی اور اقتصادی سطح پر مسلمانوں پر حاوی رہی ہے۔ لیکن ایک طرف مسلمانوں میں بیداری پیدا ہونے کے بعد انھیں یہ خوف لاحق ہوگیا ہے کہ اگر عالم اسلام کو کچھ لائق اور ژرف نگاہ قائد میسر آگئے اور انھوں نے اپنی بکھری قوتوں کا استعمال کر نا سیکھ لیا تو وہ دن دور نہیں جب کہ مغرب کی قیادت کا طلسم چکناچور ہوکر بکھر جائے گا اور عالم اسلام قیادت و جہاں بانی کی نئی بلندیاں طے کرتا ہوا نظر آئے گا۔دوسری طرف اہل مغرب کو خود اپنے ملکوں میں پیر تلے زمین کھسکتی نظر آرہی ہے، مسلمان پورے اسلامی تشخص اور تہذیبی شناخت کے ساتھ ہر میدان میں پورے یورپ و امریکہ میں اپنا وجود تسلیم کرا رہے ہیں۔ جب کہ اسلام نے انسانیت کو عزت دی، مقامِ ممتاز پر فائز کیا، علم، اخلاق، کردار، حیا، تہذیب، شرم و مروت اور امن و عافیت کے جوہر سے آشنا کیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ امریکہ مسلم دنیا کی بے اطمینانی 11 ستمبر سے پہلے اور بعد‘‘پروفیسر خورشید احمد کی تصنیف ہے۔ جس میں 11 ستمبر سے پہلے نیو ورلڈ آرڈر، دعوے اور چیلنج،چیلنج اور اسلام، پاکستان ، امریکہ تعلقات اور امریکہ کے عالمی کردار سے بے زاری کے اسباب پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اور 11 ستمبر کے بعد نئی صلیبی جنگوں کا آغاز، افغانستان پر امریکی حملے، افغانستان سے متعلق پاکستان کے کردار کا جائزہ، نیا استعمار اہداف وحکمت عملی اور جوابی لائحہ عمل کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مصنف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور امت مسلمہ کو عزت ومقام عطا فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)

  • 16 خواتین معاشی اختیار اور تعلیم (اتوار 13 مئی 2018ء)

    مشاہدات:972

    مرد وعورت کے درمیان باہمی تعلق اور تقسیم کار کے حوالے سے مباحث کو ہمیشہ اہمیت حاصل رہی ہے۔ یہ امر واقعہ ہے کہ انسانی تعلقات کسی ضابطہ اور اخلاقی اصول کے پابند نہ ہوں تو اس کے نتائج ہمیشہ بڑے سنگین اور دیرپا ہوتے ہیں۔ عصر حاضر بھی اسی چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔ آج معاشرہ مادی اور سماجی ناہمواری کے جس شدید بحران سے گزر رہا ہے‘ اس کے کیا اسباب ہیں اور اس صورتحال کو کس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے؟ اس موضوع پر بحث کے کئی رُخ ہیں۔ ان میں سے ایک رخ معاشرے کی تشکیل میں خواتین کا کردار ہے۔ بالخصوص مسلم معاشروں یہ بحث بڑی وسعت اختیار کر چکی ہے کہ مسئلے کا واحد حل یہی ہے کہ خواتین‘ تعلیم اور معاش کے میدان مین فعال کردار ادا کریں۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں اسی موضوع کو بیان کیا گیا ہے اور اس کتاب میں ان تمام مضامین کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو کہ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد کے منعقد کروائے گئے سیمنار کا حصہ تھے کہ جن میں تعلیم اور معاش کے میدان مین خواتین کی سر گرمی سے پیدا ہونے والی بحث کو دیکھ کر بہتر حکمت عملی تشکیل دینے کی راہ بجھائی گئی ہے، اس موضوع کے حوالے سے کئی اہم مضامین کو کتاب کی زینت بنایا گیا ہے اور آخر میں اشاریہ بھی دیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ خواتین معاشی اختیار اورتعلیم ‘‘ خالد رحمن وسلیم منصور خالد  کی تصنیف کردہ ہے۔آپ دونوں تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی...

  • 17 سوویت یونین کا زوال نظریہ عمل و رد عمل (جمعرات 05 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:1054

    روسی سوشلسٹ ریاستوں کا مجموعہ عام طور پر سوویت اتحاد کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ آئینی اعتبار سے اشتراکی ریاست تھی جو یوریشیا میں 1922ء سے 1991ء تک قائم رہی۔ اس کو بالعموم روس (Russia) بھی کہا جاتا تھا جو غلط ہے۔ روس یعنی رشیا اس اتحاد کی سب سے زیادہ طاقتور ریاست کا نام ہے۔ 1945ء سے لے کر 1991ء تک اس کو امریکہ کے ساتھ دنیا کی ایک عظیم طاقت (Super Power) مانا جاتا تھا۔سوویت اتحاد کو 1917ء کے انقلاب کے دوران بننے والے ریاستی علاقے میں قائم کیا گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی جغرافیائی سرحدیں تبدیل ہوتی رہیں، لیکن آخری بڑی ٹوٹ پھوٹ کے بعد، جو بالٹک ریاستوں، مشرقی پولینڈ، مشرقی یورپ کا کچھ حصہ اور کچھ دوسری ریاستوں کے اضافے اور فن لینڈ اور پولینڈ کی علیحدگی کے بعد 1945ء سے لے کر تحلیل تک شاہی دور والے روس جیسی ہی رہیں۔سوویت حکومت اور سیاسی تنظیموں کی نگرانی اور دیکھ بھال کا کام ملک کی واحد سیاسی جماعت، سوویت اتحاد کی کمیونسٹ پارٹی کے پاس رہا۔1956ء تک سوویت سوشلسٹ ریاستوں کی تعداد چار سے بڑھ کر پندرہ ہوگئی ۔1991ء میں سوویت اتحاد تحلیل ہوگیا اور اس کے بعد تمام ریاستیں آزاد ہوگئیں۔ ان میں سے گیارہ ریاستوں نے مل کر ایک ڈھیلی ڈھالی سا وفاق (Confederation) بنالیا ہے جسے "آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ" کہا جاتا ہے۔ زیرنظر کتاب ’’سویت یونین کا زوال ‘‘ جناب عطاء الرحمٰن صاحب کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب صاحب کتاب نے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز ،اسلام آباد کی جانب 1991ء میں سوویت یونین کا مطالعاتی دورہ کرنے کےبعد مرتب کی ہے ۔موصوف نےاپنے اس دو...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 754
  • اس ہفتے کے قارئین: 13195
  • اس ماہ کے قارئین: 40889
  • کل قارئین : 46006212

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں