ایفا پبلیکیشنز نئی دہلی

62 کل کتب
دکھائیں

  • 51 خاندانی نظام اور خواتین کے حقوق (منگل 20 جون 2017ء)

    مشاہدات:1320

    خاندانی اصول و قوانین کی پابندی، میاں بیوی، والدین اور اولاد کا ایک دوسرے کا احترام،  باہمی مشورہ کے ذریعہ تمام امور کی انجام دہی، خاندان میں بیوی کے لئے ایک اہم  اورمستقل شخصیت کا قائل ہونا، خواتین کی ضروریات اور جذبات کا احترام، دورِ جاہلیت کے ظالمانہ آداب و رسوم کے مقابلہ میں عورت کی حمایت ،مذکورہ بالا امور عورت کے بارے میں اسلام کے ناقابل ِ تردید اصول ہیں۔ نبی کریمﷺ خواتین کے حقوق کی رعایت  کی ہمیشہ تاکید فرمایا کرتے تھے اور جہاں کہیں ضرورت پڑتی آپ اس معاملہ میں بلا واسطہ مداخلت فرمایا کرتے تھے۔ سورۂ مجادلہ کی پہلی آیت اس خاتون کی آہ وفریاد کو بیان کر رہی ہے جسے اس کے شوہر نے دورانِ جاہلیت  کی رسم کے مطابق "طلاقِ ظہار" دے دی تھی، یعنی اس نے اپنی بیوی سے کہا تو میرے لئے میری ماں کے مانند ہے۔ یہ عورت اپنی شکایت لے کر نبی کریمﷺکی خدمت میں پہنچی اور یوں گویا ہوئی: میں نے اس مرد کی خدمت میں اپنی جوانی کو گنوایا ہے، اس کے بچّوں کو پال پوس کر بڑا کیا ہے، پوری زندگی اس کی یارو یاور رہی ہوں، اس شخص نے ادھیڑ اور محتاجی کی عمر میں میرا ساتھ چھوڑ دیا ہے اور مجھے اپنے اوپر حرام کردیا ہے۔ نبی کریمﷺ وحی کا انتظار فرمانے لگے یہاں تک کہ سورۂ مجادلہ کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔ زیر تبصرہ کتاب "خاندانی نظام اور خواتین کے حقوق" ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے۔ موضوع کی اہمیت کے پیش نظر اکیڈمی نے اس پر دو مستقل سیمینارز منعقد کئے ہیں، جن میں پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو اس کتاب میں...

  • 52 شیطان کے مکر و فریب (بدھ 21 جون 2017ء)

    مشاہدات:1154

    شیطان انسان کا کھلا اور واضح دشمن ہے، جس نے نہ صرف انسان کو جنت سے نکالا بلکہ اب اسے دوبارہ جنت میں جانے سے روکنے کے لئے بھی ہر وقت لگا رہتا ہے۔ یہ ایسا حاسد اور برتری پسند ہے کہ جو اپنے بےجا تکبر کی وجہ سے درگاہ الہی سے نکالا گيا اور اس نے قسم کھائی کہ وہ ہمیشہ انسان کو گمراہی کی طرف لے کر جائے گا۔ بلاشبہ ہم میں سے ہر ایک نے شیطان کے وسوسوں اور فریب کا واضح طور پر تجربہ کیا ہے اور بعض اوقات اس کے جال میں بھی پھنسے ہیں۔ شیطان کا مقابلہ کرنے کے لیے خدا سے انس، آگاہی اور  تقوی ایسے اہم ترین عوامل ہیں کہ جو ہمیں نہ صرف اندرونی شیطان کے فریب بلکہ بیرونی شیطان کے نقصان سے بھی بچا سکتے ہیں۔ خداوند متعال نے بہت سی آيات میں شیطان کے نفوذ کی راہوں کے بارے میں انسان کو خبردار کیا ہے۔ سورہ فاطر کی آيات پانچ اور چھ میں ارشاد ہوتا ہے: اے لوگو اللہ کا وعدہ سچا ہے لہذا زندگانی دنیا تم کو دھوکے میں نہ ڈال دے اور دھوکہ دینے والا تمہیں دھوکہ نہ دے دے۔ بےشک شیطان تمہارا دشمن ہےتو اسے دشمن سمجھو وہ اپنے گروہ کو صرف اس بات کی طرف دعوت دیتا ہے کہ سب جہنمیوں میں شامل ہو جائیں۔ زیر تبصرہ کتاب "شیطان کے مکر و فریب" محترم ڈاکٹر صلاح الدین سلطان صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے شیطان کے مکر وفریبوں کو بیان کرتے ہوئے اس سے بچنے کے طریقے بتلائے۔اللہ ہم سب کو شیطان کے مکر وفریب سے محفوظ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 53 علم معاشیات اور اسلامی معاشیات (جمعرات 22 جون 2017ء)

    مشاہدات:3549

    دور جدید کا انسان جن سیاسی ،معاشرتی اور معاشی مسائل سے دوچار ہے اس پر زمانے کا ہر نقش فریادی ہے۔آج انسان اس رہنمائی کا شدید حاجت مند ہے کہ اسے بتلایا جائے۔ اسلام زندگی کے ان مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کا وہ نقطہ اعتدال کیا ہے؟جس کی بناء پر وہ سیاسی ،معاشی اور معاشرتی دائرے میں استحکام اور سکون واطمینان سے انسان کو بہرہ ور کرتا ہے ۔اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام اپنی مصنوعی اور غیر فطری بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ایک مغرب کا سرمایہ داری نظام ہے ،جس پر آج کل انحطاط واضطراب کا رعشہ طاری ہے۔دوسرا مشرق کا اشتراکی نظام ہے، جو تمام کی مشترکہ ملکیت کا علمبردار ہے۔ایک مادہ پرستی میں جنون کی حد تک تمام انسانی اور اخلاقی قدروں کو پھلانگ چکا ہے تو دوسرا معاشرہ پرستی اور اجتماعی ملکیت کا دلدادہ ہے۔لیکن رحم دلی،انسان دوستی اور انسانی ہمدردی کی روح ان دونوں میں ہی مفقود ہے۔دونوں کا ہدف دنیوی مفاد اور مادی ترقی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اس کے برعکس اسلام ایک متوسط اور منصفانہ معاشی نظریہ پیش کرتا ہے،وہ سب سے پہلے دلوں میں خدا پرستی،انسان دوستی اور رحم دلی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "علم معاشیات اور اسلامی معاشیات" محترم ڈاکٹر اوصاف احمد صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اسلامی معاشیات کی خوبیوں کو بیان کیا ہے۔ یہ اپنے موضوع ایک انتہائی مفید اور شاندار کتاب ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 54 اسلام کا نظریہ اعتدال اور اس کے اہم عناصر (پیر 10 جولائی 2017ء)

    مشاہدات:2399

    اسلام جہاں غلو اور مبالغے سے منع کرتا ہے وہیں ہر معاملے میں راہ اعتدال اپنانے کی  ترغیب دیتا ہے۔اسلام کی شان اور عظمت ہی تو ہے کہ اس نے اپنے ماننے والوں کوہر طرح کی مصیبت اور پریشانی سے نجات دیکر دنیا والوں کے سامنے یہ باور کرایا ہے کہ وہی صرف ایک واحددین ہے جوتمام ادیان میں رفعت وبلندی کا مرکز وماویٰ ہے جہاں اس نے عبادت وریاضت کی طر ف ہماری توجہ مرکوزکی ہے وہیں ہمارے معاشرے کی اصلاح کی خاطر ہم کو کچھ احکام سے نوازا ہے تاکہ ان احکام کو اپنا کر اللہ کا قرب حاصل کر سکیں ۔دین اسلام کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے اعتدال،توسط اور میانہ روی کی تلقین کی ہے اور ہمیں امتِ وسط اور میانہ روی اختیار کرنے والی امت بنایا اوراس کو خوب موکد کیا۔اعتدال کواپنانے والوں کو کبھی بھی رسوائی اور پچھتاوے کا منہ نہیں دیکھنا پڑتاہے اسکے برعکس وہ لوگ جو اعتدال اور توسط کی راہ کوچھوڑ کر دوسری راہ کو اپنی حیات کا جزء لاینفک سمجھ بیٹھتے ہیں ایسے لوگ یا تو افراط کاشکار ہو جاتے ہیں یا پھر تفریط کی کھائی میں جا گرتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلام کا نظریہ اعتدال اور اس کے اہم عناصر "عالم عرب کے معروف عالم دین محترم ڈاکٹر یوسف القرضاوی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اسلام نے نظریہ اعتدال اور اس کے اہم عناصر کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • اسلام جہاں غلو اور مبالغے سے منع کرتا ہے وہیں ہر معاملے میں راہ اعتدال اپنانے کی  ترغیب دیتا ہے۔اسلام کی شان اور عظمت ہی تو ہے کہ اس نے اپنے ماننے والوں کوہر طرح کی مصیبت اور پریشانی سے نجات دیکر دنیا والوں کے سامنے یہ باور کرایا ہے کہ وہی صرف ایک واحددین ہے جوتمام ادیان میں رفعت وبلندی کا مرکز وماویٰ ہے جہاں اس نے عبادت وریاضت کی طر ف ہماری توجہ مرکوزکی ہے وہیں ہمارے معاشرے کی اصلاح کی خاطر ہم کو کچھ احکام سے نوازا ہے تاکہ ان احکام کو اپنا کر اللہ کا قرب حاصل کر سکیں ۔دین اسلام کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے اعتدال،توسط اور میانہ روی کی تلقین کی ہے اور ہمیں امتِ وسط اور میانہ روی اختیار کرنے والی امت بنایا اوراس کو خوب موکد کیا۔اعتدال کواپنانے والوں کو کبھی بھی رسوائی اور پچھتاوے کا منہ نہیں دیکھنا پڑتاہے اسکے برعکس وہ لوگ جو اعتدال اور توسط کی راہ کوچھوڑ کر دوسری راہ کو اپنی حیات کا جزء لاینفک سمجھ بیٹھتے ہیں ایسے لوگ یا تو افراط کاشکار ہو جاتے ہیں یا پھر تفریط کی کھائی میں جا گرتے ہیں۔ شریعت اسلامیہ جہاں عبادات ومعاملات میں اعتدال کا حکم دیتی ہے وہیں وطنیت کے  تصور میں راہ اعتدال کی جانب راہنمائی کرتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" قومی تصورات کی تشکیل میں شریعت اسلامی کا منہج اعتدال " کویت کے معروف عالم دین ڈاکٹر عجیل جاسم نشمی صاحب کی تصنیف ہے ، جس کا اردو ترجمہ محترم الیاس نعمانی صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف اور مترجم دونوں کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(...

  • 56 تفسیر نصوص کے اصول و مناہج (جمعہ 14 جولائی 2017ء)

    مشاہدات:1489

    قرآن حکیم ایک ایسی کتاب ہے جو انسانی اجتماعیت کے لئے قیامت تک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔نبی کریم ﷺ نے قرآنی تعلیمات پر نہ صرف ایک جماعت قائم کی بلکہ ایک زندہ وتابندہ سو سائٹی بھی قائم کر کے دکھائی، جس نے انسانی ترقی کا ایک ایسا منصفانہ نظام زندگی فراہم کیا جس سے آج کا  انسان بے نیاز نہیں رہ سکتا ہے۔قرآن مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِہدایت ہے، او ر اسے یہ اعزاز حاصل ہےکہ دنیا بھرمیں سب سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے ۔ اسے پڑھنے  اور پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِصحابہ سے لے کر دورِ حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم وتشریح اور ترجمہ وتفسیرکرنے کی خدمات سر انجام دی ہیں ۔ اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض تربیت، قرآن مجید کی زبان اور زمانۂ نزول کے حالات سے واقفیت کی بنا پر، قرآن مجید کی تشریح، انتہائی فطری اصولوں پر کرتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب"تفسیر نصوص کے اصول ومناہج " شام کے معروف عالم دین محترم ڈاکٹر شیخ محمد ادیب صالح کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے، جس میں انہوں نے نصوص کی تشریح وتفسیر کے اصول ومناہج کو بیان فرمایا ہے۔ اردو ترجمہ محترم مولانا محمد ارشد معروفی، استاذ دار العلوم دیو بند نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 57 تحقیق مناط کی تطبیق میں کوتاہی کے نتائج (جمعرات 13 جولائی 2017ء)

    مشاہدات:1041

    جب کوئی معاشرہ مذہب کو اپنے قانون کا ماخذ بنا لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں علم فقہ وجود پذیر ہوتا ہے۔ علم فقہ، دین کے بنیادی ماخذوں سے حاصل شدہ قوانین کے ذخیرے کا نام ہے۔ چونکہ دین اسلام میں قانون کا ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے اس وجہ سے تمام قوانین انہی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے تو اس کے نتیجے میں متعدد سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید کو کیسے سمجھا جائے؟قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کہاں سے اخذ کی جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے جو فن وجود پذیر ہوتا ہے، اسے اصول فقہ کہا جاتا ہے۔اور تمام قدیم مسالک نے قرآن وسنت سے احکام شرعیہ مستنبط کرنے کے لئے  اپنے اپنے اصول وضع کئے  ہیں۔بعض اصول تو تمام مکاتب فکر میں متفق علیہ ہیں جبکہ بعض میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔منجملہ اصول فقہ میں سے ایک مناط(علت) کی تحقیق اور تطبیق بھی ہے۔اگر مناط کی تطبیق میں کوتاہی واقع ہو جائے تو نتائج کہیں کے کہیں کا پہنچتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " حقیقۃ الفقہ" محترم ڈاکٹر ہانی احمد عبد الشکور کی عربی تصنیف ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم شعبہ حسنین ندوی صاحب نے کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ  وہ مولف اور مترجم  کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین  (راسخ)

  • 58 خواتین کی ملازمت اور اسلامی تعلیمات (ہفتہ 10 فروری 2018ء)

    مشاہدات:1513

    شریعت کی تعلیمات کے مطابق مردوعورت کو اس طرح زندگی گزارنی چاہئے کہ گھر کے باہر کی دوڑ دھوپ مرد کے ذمہ رہے، اسی لئے بیوی اور بچوں کے تمام جائز اخراجات مرد کے اوپر فرض کئے گئے ہیں، شریعت اسلامیہ نے صنف نازک پر کوئی خرچہ لازم نہیں قرار دیا، شادی سے قبل اس کے تمام اخراجات باپ کے ذمہ اور شادی کے بعد رہائش، کپڑے، کھانے اور ضروریات وغیرہ کے تمام مصارف شوہر کے ذمہ رکھے ہیں۔ عورتوں سے کہا گیا کہ وہ گھر کی ملکہ ہیں۔ (صحیح بخاری ) لہٰذا ان کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز گھر کو بنانا چاہئے جیسا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَقَرْنَ فِی بُيوْتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهلية الْاُوْلٰی (سورۃ الاحزاب ۳۳)۔ مرد وعورت کی ذمہ داری کی یہ تقسیم نہ صرف اسلام کا مزاج ہے بلکہ یہ ایک فطری اور متوازن نظام ہے جو مردو عورت دونوں کے لئے سکون وراحت کا باعث ہے۔ لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ عورت کا ملازمت یا کاروبار کرنا حرام ہے، بلکہ قرآن وحدیث چند شرائط کے ساتھ اس کی اجازت بھی دیتا ہے۔ جو کام مردوں کے لئے جائز ہیں، اگر قرآن وحدیث میں عورتوں کو ان سے منع نہیں کیا گیا ہے تو عورتوں کے لئے شرعی حدود وقیود کے ساتھ انہیں انجام دینا جائز ہے۔ بعض اوقات خواتین کی ملازمت کرنا معاشرہ کی اجتماعی ضرورت بھی ہوتی ہے مثلاً امراض نساء وولادت کی ڈاکٹر، معلمات جو لڑکیوں کے لئے بہترین تعلیم کا نظم کرسکیں۔ غرضیکہ عورت شرعی حدود وقیود کے ساتھ ملازمت یا کاروبار کرسکتی ہے۔ ان شرعی حدود کے لئے چار امور اہم ہیں: ۱) پردہ کے احکام کی رعایت ہو۔ ۲) اجنبی مردوں کے اختلاط سے دور رہا جائے۔ ۳) گھر سے...

  • 59 طویل مدتی قرض اور موجودہ کرنسی (اتوار 12 اگست 2018ء)

    مشاہدات:1027

    معاشی نظام کے بقا واستحکام میں  زر یعنی کرنسی کو بڑا دخل ہے  ایک  زمانہ میں کرنسی سونے اور چاندی کو بنایا جاتا تھا جس کی   خود ایک قیمت اور اہمیت تھی اور آدمی کےبس کی بات نہیں تھی  کہ  جتنے سکے  چاہے ڈھال لے  کیونکہ ان  سکوں کی ڈھلائی کےلیے  قیمتی دھالت مطلوب ہوتی تھی ۔کرنسی یا سکّہ یا زر سے مراد ایسی چیز ہوتی ہے جس کے بدلے دوسری چیزیں خریدی یا بیچی جا سکیں۔ اور اگر یہ چیز کاغذ کی بنی ہو تو یہ کاغذی کرنسی، کاغذی سکّہ یا زر کاغذ کہلاتی ہے۔ ماضی میں کرنسی مختلف دھاتوں کی بنی ہوتی تھی اور اب بھی چھوٹی مالیت کے سِکّے دھاتوں سے ہی بنائے جاتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ کاغذی کرنسی موجودہ دنیا کا سب سے بڑا دھوکہ ہے۔کہا جاتاہے کہ اہلِ چین نے 650ء سے 800ء کے درمیان کاغذ کے ڈرافٹ بنانے شروع کیے تھے ، انہی ڈرافٹ نے آگے چل کرکرنسی

  • 60 شریعت کے دائرہ میں انشورنس ( تکافل ) کی صورت (منگل 02 اکتوبر 2018ء)

    مشاہدات:1652

    اسلام نے بڑے صاف اور واضح انداز  میں حلال  اور حرام  کے مشکل ترین مسائل کو کھول  کھول  کر بیان کردیا  ہے اس کےلیے  کچھ قواعد و ضوابط  بھی مقرر فرمائے ہیں جو راہنما اصول کی حیثیت  رکھتے  ہیں ایک مومن مسلما ن کے لیے  ضروری ہے کہ تاحیات پیش  آمدہ حوائج  وضروریات کو اسی اصول  پر پر کھے  تاکہ اس کا معیارِ  زندگی اللہ  اور اس کے رسول کریم  ﷺ کی منشا کے مطابق  بن کر دائمی  بشارتوں  سے بہر ہ ور ہو سکے۔سیدنا ابو ہریرہ﷜سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی  آئے گا کہ آدمی اس بات کی پروا نہیں کرے گا کہ جو مال اس کے ہاتھ آیا ہے وہ حلا ل ہے یا حرام(صحیح بخاری:2059) دور حاضر میں حرام مال کمانے کی بہت سی ناجائز شکلیں عام ہو چکی ہیں اور لوگ ان کے حرام یا حلال ہونے کے متعلق جانے بغیر انہیں جائز سمجھ کر اختیار کرتے جا رہے ہیں۔جن میں انعامی سکیمیں ،لاٹری،انشورنس،اور مکان گروی رکھنے کی مروجہ صورت وغیرہ ہیں۔علمائے اسلام اس بات کے لیے کوشاں ہیں کہ بینک اور انشورنش کمپنی جیسے اداروں کا اسلامی متبادل پیش کیا جائے تاکہ  مسلمان حرام سے بچ سکیں اور حلال طریقہ پر اپنی ضرورت پوری کرسکیں۔ انشورنش کے لیے  ایسے اسلامی متبادل کو علماء نے ’’ تکافل‘‘ سے تعبیر کیا ہے کیونکہ انشورنش  یعنی تیقن دینا مخلوق کے ہاتھ  میں  نہیں  ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’شریعت کے دائرہ میں  ا...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1800
  • اس ہفتے کے قارئین: 12672
  • اس ماہ کے قارئین: 46693
  • کل قارئین : 47938001

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں