دار الاندلس،لاہور

دار الاندلس،لاہور
121 کل کتب
دکھائیں

  • 71 حرمین شریفین کا تحفظ اور یمن کا امن (اتوار 30 اگست 2015ء)

    مشاہدات:1581

    دنیا کے تمام شہروں میں مکہ مکرم اور مدینہ منورہ سب سے افضل ہیں اور فضیلت کی وجہ مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کا ہونا جبکہ مدینہ منورہ میں روضہ رسول ﷺ کا ہونا ہے۔ان دونوں کی حرمت قرآن و حدیث میں بیان کی گئی ہے۔سعودی حکومت کی حرمین  شریفین کے  تحفظ اور دنیا بھر میں  دین اسلام کی نشر واشاعت    ، تبلیغ   کے لیے خدمات  لائق تحسین  ہیں ۔سعودی عرب کا دفاع اور حرمین شریفین کا  تحفظ  عالم اسلام کے مسلمانوں کابھی  دینی  فریضہ ہے ۔ کیونکہ سعودی عرب میں  حرمین شریفین امتِ مسلمہ کےروحانی مرکز ہیں ۔حالیہ ایام میں  سعودی اور یمن  کے مسئلہ ماشاء اللہ  عالم اسلام کے مسلمانوں نے  سعودی  کے  دفاع  اور  حرمین کے تحفظ کے لیے  مثالی کردار ادا کیا  ۔ زیر تبصرہ   ’’ حرمین شریفین کا تحفظ  اور یمن کا امن‘‘ پاکستان کی  دینی جماعتوں  کے قائدین  کے خطابات   اور اخبار  ورسائل  کے ممتاز کالم  نگاروں  کے منتخب مضامین  اور کالموں کا مجموعہ ہے  جسے   جماعۃ الدعوہ   پاکستان کےمرکزی رہنما  قاری محمد یعقوب شیخ ﷾ نے   کتابی  صورت میں مرتب کیا ہے  اور دار الاندلس  نے خوبصورت انداز میں  طبع کیا ہے ۔ سعودی عرب اور  یمن  کے  معاملہ میں پاکستانی مسلمانوں کی  کاوشوں  پر مشتمل  بہترین کتاب ہے ۔اللہ تعالی ٰ  مرتب  اور ناشرین...

  • 72 خطبات قادسیہ فتنہ تکفیر (اتوار 30 اگست 2015ء)

    مشاہدات:2731

    اسلام امن وسلامتی کا دین  ہے   جس میں انسانوں کے جان ومال کی حفاظت اوراس کی عزت وآبرو کی ضمانت دی گئی ہے رسول اللہﷺ نےباہمی انسانی ہمدردی اور خیر خواہی  پرمبنی دین حق کی طرف  لوگوں کو دعوت دی اور اس کے ساتھ  ساتھ  لوگوں کےدرمیان اتحاد واتفاق پیدا کیا۔ امت  کو اختلاف اور تفرقہ بازی سے بچنے کی تلقین کی اور ایسے تمام فتنوں سے آگاہ کیا  جو امت کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے والے ہیں  اور ان فتنوں سے بچنے  کے طریقے بھی بیان فرمائے۔ آپ ﷺ کےبیان کردہ فتنوں میں سب سے  بڑا اورخطر ناک فتنہ’’ فتنۂ تکفیر اور خوارج‘‘ ہے  یعنی ایک مسلمان کادوسرے  مسلمان کو کافر قرار دینے کا فتنہ ، مسلمان حکمرانوں  کےخلاف تلوار اٹھانے  اور مسلح بغاوت  کافتنہ۔مسلمانوں کو کافر قرار دے کر ان کو قتل کرنے ان کا مال  لوٹنے اوران کی عزتوں کو پامال کرنے کافتنہ۔ ان فتنوں نے تاریخ اسلام میں مسلمانوں کوسب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ عصر حاضر میں بھی اس فتنے نے دین ِاسلام کی حقیقی تصویر کو داغ دار او رحق پر مبنی سچی دعوت کو بدنام کیا ہے۔علمائے حق نے اس موضوع پر راہنمائی بھی کی ہے  لیکن اس سلسلے میں زیاد ہ تر مواد  عربی زبان ہے  ۔ زیر تبصرہ کتاب  ’’ خطبات قادسیہ  فتنہ تکفیر‘‘  جماعۃ الدعوۃ  پاکستان کے امیر   محترم جناب حافظ سعید صاحب ﷾  کے اس موضوع پر  مسلسل بارہ خطبات کامجموعہ ہے ۔یہ خطبات آپ نے مرکز القادسیہ  ،ل...

  • 73 دعوت دین اور اس کے تقاضے (جمعرات 03 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:2838

    دعوت دین کا کام کرنےوالوں کوایک بات ہمیشہ ملحوظ خاطر ر ہے کہ دعوت دین کے فرائض میں سے اہم فریضہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کے اندر نیکی اور بدی کے پہچاننے کی قابلیت اور نیکی کو اختیار کرنے اور بدی سے بچنے کی خواہش ودیعت کردی ہے ۔تمام انبیاء کرام نے دعوت کے ذریعے پیغام الٰہی کو لوگوں تک پہنچایا اوران کو شیطان سے بچنے اور رحمنٰ کے راستے پر چلنے کی دعوت دی ۔دعوتِ دین اور احکام شرعیہ کی تعلیم دینا شیوۂ پیغمبری ہے ۔تمام انبیاء و رسل کی بنیادی ذمہ داری تبلیغ دین اور دعوت وابلاغ ہی رہی ہے۔ دعوت الیٰ اللہ میں انبیاء ﷩ کو قائدانہ حیثیت حاصل ہے ۔ ان کی جدوجہد کو زیر بحث لائے بغیر دعوت کا کوئی تذکرہ مکمل نہیں ہوتا۔امت مسلمہ کو دیگر امم سے فوقیت بھی اسی فریضہ دعوت کی وجہ سے ہے۔ اور دعوتِ دین ایک اہم دینی فریضہ ہے ،جو اہل اسلام کی اصلاح ، استحکام دین اور دوام شریعت کا مؤثر ذریعہ ہے۔لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اسے شریعت کا جتنا علم ہو ،شرعی احکام سے جتنی واقفیت ہو اوردین کے جس قدر احکام سے آگاہی ہو وہ دوسر وں تک پہنچائے۔علماو فضلا اور واعظین و مبلغین پر مزید ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ فریضہ دعوت کو دینی وشرعی ذمہ داری سمجھیں اور دعوت دین کے کام کو مزید عمدہ طریقے سے سرانجام دیں۔دین کا پیغامِ حق ہر فرد تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ دعوت کے کام کو متحرک کیا جائے، دعوت الی اللہ بنیادی طور پر ایک عملی پروگرام ہے جو تعلیم وتعلم ،تربیت واصلاح کی عملی کشمکش پر مشتمل ہے ۔علماء اور صلحاءِ امت نے دعوت کےمفاہیم ، طریق کار، داعی کے خصائل، دعوت کی مشکلات اور تاریخ دع...

  • 74 لبیک حرمین شریفین (بدھ 09 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:1478

    حرمین شریفین (مکہ ومدینہ ) تمام مسلمانوں کےدینی وروحانی مرکزہیں اور حرم مکی مسلمانوں کا قبلہ امت کی وحدت کی علامت اوراتحاد واتفاق کا مظہر ہے۔ پوری دنیا کےمسلمان نمازوں کی ادائیگی کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرتے ہیں اوراس کے علاوہ دیگر اسلامی شعائر وعبادات حج او رعمرہ بھی یہاں ادا ہوتے ہیں ۔ دنیا کے تمام شہروں میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سب سے افضل ہیں اور فضیلت کی وجہ مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کا ہونا جبکہ مدینہ منورہ میں روضہ رسول ﷺ کا ہونا ہے۔ان دونوں کی حرمت قرآن و حدیث میں بیان کی گئی ہے۔سعودی حکومت کی حرمین شریفین کے تحفظ اور دنیا بھر میں دین اسلام کی نشر واشاعت ، تبلیغ کے لیے خدمات لائق تحسین ہیں ۔ لہذا سعودی عرب کا دفاع اور حرمین شریفین کا تحفظ عالمِ اسلام کے مسلمانوں کابھی دینی فریضہ ہے ۔ کیونکہ سعودی عرب میں حرمین شریفین امتِ مسلمہ کےروحانی مرکز ہیں ۔حالیہ ایام میں سعودی اور یمن کے مسئلہ ماشاء اللہ عالم اسلام کے مسلمانوں نے سعودی عرب کے دفاع اور حرمین کے تحفظ کے لیے مثالی کردار ادا کیا۔پاکستان میں بھی حرمین شریفین کےتحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تحریک شروع کی گئی اس تحریک میں بالعموم تمام دینی اور سیاسی جماعتوں نےبھر پور حصہ لیا اور جماعۃ الدعو ۃ پاکستان نےبالخصوص تحریک تحفظ حرمین شریفین میں ہراول دستے کے طور پر نمایاں کردادر ادا کیا ہے اوراس خالص دینی مسئلہ کو فرقہ وارانہ اورمتنازعہ بنانے کی سازش کوناکام بنایا ہے اور پاکستان کےتمام مسلمانوں کوایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے حرمین شریفین اور سعودی عرب کے دفاع کا عہد وپیمان کیا اور پورے ملک میں سیمینا...

  • 75 سیرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ (پیر 14 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:4517

    انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔جماعت ِ صحابہ میں سےخاص طور پر وہ ہستیاں جنہوں نے آپ ﷺ کے بعد اس امت کی زمامِ اقتدار ، امارت ، قیادت اور سیادت کی ذمہ داری سنبھالی ، امور دنیا اور نظامِ حکومت چلانے کے لیے ان کےاجتہادات اور فیصلوں کو شریعت ِ اسلامی میں ایک قانونی دستاویز کی حیثیت حاصل ہے۔ ان بابرکت شخصیات میں سے خلیفۂ اول سیدنا ابو بکر صدیق سب سے اعلیٰ مرتبے اور بلند منصب پر فائز تھے اور ایثار قربانی اور صبر واستقامت کا مثالی نمونہ تھے ۔ سیدنا ابوبکر صدیق قبیلہ قریش کی ایک مشہور شاخ تیم بن مرہ بن کعب کے فرد تھے۔ساتویں پشت میں مرہ پر ان کا نسب رسول اللہﷺ سے مل جاتا ہے ہے ۔ایک سچے مسلمان کا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ انبیاء ورسل کے بعد اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اور ارفع شخصیت سیدنا ابو بکر صدیق ہیں ۔ سیدنا ابو بکر صدیق ہی وہ خو ش نصیب ہیں جو رسول اللہﷺ کےبچپن کے دوست اور ساتھی تھے ۔آپ پر سب سے پہلے ایمان لانے کی سعادت حاصل کی اور زندگی کی آخری سانس تک آپ ﷺ کی خدمت واطاعت کرتے رہے اور اسلامی احکام کے سامنے سرجھکاتے رہے ۔ رسول اللہ سے عقیدت ومحبت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت کے لیے تن من دھن سب کچھ...

  • 76 سیرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ (منگل 15 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:2678

    خلافت وامارت کا نظام دنیا میں مسلمانوں کی ملی وحدت اور مرکزیت کی علامت ہے ۔ عہدِ نبوت میں رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ مبارک کودنیائے اسلام میں مرکزی حثیت حاصل ہے تھی اور اس مبارک عہد میں امت کی قیادت وسیادت کامنصب آپ ہی کے پاس تھا۔ آپ ﷺ کے بعد لوگوں کی راہنمائی اور اسلامی مرکزیت کوبراقراررکھنے کے لیے خلفائے راشدین آپ ﷺ کے جانشین بنے۔ خلفائے راشدین کا دورِ حکومت تاریخ اسلام کاایک تابناک اورروشن باب ہے ا ن کےعہد زریں میں عظیم الشان فتوحات کی بدولت اسلامی سلطنت کی حدود اطراف عالم تک پہنچ گئیں ۔انہوں نے اس دور کی بڑی بڑی سلطنتوں کوشکست دے کر پرچم ِ اسلام کو مفتوحہ علاقوں میں بلند کیا اور باطل نظاموں کو ختم کر کے ایک مضبوط ، مستحکم اور عظیم الشان اسلامی کی بنیاد رکھی ۔عہد نبوت کےبعد خلفائے راشدین کا دورِ خلافت عدل وانصاف پر مبنی ایک مثالی دورِ حکومت ہے جو قیامت تک قائم ہونے والی اسلامی حکومتوں کےلیے رول ماڈل ہے۔خلفائے راشدین کے مبارک دور کا آغاز سیدنا ابو بکر صدیق کے دورِ خلافت سے ہوتا ہے ، ان کے بعد سیدنا عمر فاروق اور سیدنا عثمان کا دور آتا ہے ۔ سیدنا عثمان کے بعد سیدنا علی المرتضیٰ چوتھے خلیفہ راشدبنے ۔ان کے زمامِ خلافت سنبھالتے ہی فتنۂ تکفیر اور فتنۂ خوارج جیسے بڑے برے فتنوں نے سر اٹھا یا اور مسلمانوں کے باہمی جھگڑوں اور اختلافات میں بڑی شدت آگئی او رنوبت صحابہ کرام کے درمیان جنگ تک پہنچ گئی اور واقعۂجمل اور جنگِ صفین جیسے خون ریز واقعات رونما ہوئے ۔سیدناعلی آنحضرت ﷺ کے چچا ابو طالب کے بیٹے تھے اور بچپن سے ہی حضورﷺ کے زیر سایہ تربیت پائی تھی بعثت کے بعد جب...

  • 77 سیرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ (بدھ 16 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:4082

    سیدنا فاروق اعظم  کی مبارک زندگی اسلامی تاریخ   کاوہ روشن باب ہے جس  نےہر تاریخ کو پیچھے چھوڑ  دیا ہے ۔ آپ  نے حکومت کے انتظام   وانصرام  بے مثال عدل  وانصاف ،عمال حکومت کی سخت نگرانی ،رعایا کے حقوق کی پاسداری ،اخلاص نیت وعمل ،جہاد فی سبیل اللہ  ،زہد وعبادت ،تقویٰ او رخوف وخشیت الٰہی  او ردعوت کے میدانوں میں ایسے ایسے کارہائےنمایاں انجام دیے  کہ انسانی تاریخ ان کی مثال پیش کرنے  سے  قاصر ہے۔ انسانی  رویوں کی گہری پہچان ،رعایا کے ہر فرد کے احوال سے بر وقت آگاہی او رحق  وانصاف کی راہ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہ کر نےکے اوصاف میں کوئی حکمران فاروق اعظم    کا  ثانی نہیں۔ آپ اپنے بے  پناہ رعب وجلال اور دبدبہ کے باوصف نہایت درجہ  سادگی فروتنی  اورتواضع کا پیکر تھے ۔ آپ کا قول ہے کہ ہماری عزت اسلام کے باعث ہے  دنیا کی چکا چوند کے باعث نہیں۔ سید ناعمر فاروق کے بعد آنے والے حکمرانوں میں سے  جس  نے بھی کامیاب حکمران بننے کی خواہش کی ،اسے فاروق اعظمؓ کے قائم کردہ ان زریں اصول کو مشعل راہ  بنانا پڑا جنہوں نے اس عہد کے مسلمانوں کی تقدیر بدل کر رکھ دی تھی۔ سید نا عمر  فاروق    کے اسلام لانے اور  بعد کے  حالات احوال اور ان کی   عدل انصاف  پر مبنی حکمرانی  سے اگاہی کے لیے  مختلف اہل  علم  اور مؤرخین نے    کتب تصنیف کی ہیں۔اردو زبان میں شبلی نعمانی ، ڈاکٹر صلابی ، محمد حسین ہیکل ،م...

  • 78 سیرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ (جمعرات 17 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:4618

    خلیفۂ سوم سیدنا عثمان غنی کا تعلق قریش کے معزز قبیلے سے تھا۔ سلسلہ نسب عبد المناف پر رسول اللہ ﷺ سے جا ملتا ہے ۔ سیدنا عثمان ذوالنورین کی نانی نبی ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ آپ کا نام عثمان اور لقب ” ذوالنورین “ ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں میں آپ ” السابقون الاولون “ کی فہرست میں شامل تھے، آپ نے خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی دعوت پر اسلام قبول کیا تھا۔ ۔ حضور ﷺ پر ایمان لانے اور کلمہ حق پڑھنے کے جرم میں سیدنا عثمان غنی کو ان کے چچا حکم بن ابی العاص نے لوہے کی زنجیروں سے باندھ کر دھوپ میں ڈال دیا، کئی روز تک علیحدہ مکان میں بند رکھا گیا، چچا نے آپ سے کہا کہ جب تک تم نئے مذہب (اسلام ) کو نہیں چھوڑو گے آزاد نہیں کروں گا۔ یہ سن کر آپ نے جواب میں فرمایا کہ چچا ! اللہ کی قسم میں مذہب اسلام کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا اور اس ایمان کی دولت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گا۔ سیدناعثمان غنی اعلیٰ سیرت و کردار کے ساتھ ثروت و سخاوت میں بھی مشہور تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ہرنبی کا ساتھی و رفیق ہوتاہے میرا ساتھی ”عثمان “ ہوگا۔ سیدنا عثمان کے دائرہ اسلام میں آنے کے بعد نبی اکرم نے کچھ عرصہ بعد اپنی بیٹی سیدہ رقیہ رضى الله عنها کا نکاح آپ سے کردیا۔ جب کفار مکہ کی اذیتوں سے تنگ آکر مسلمانوں نے نبی کریم ﷺ کی اجازت اور حکم الٰہی کے مطابق ہجرت حبشہ کی تو سیدنا عثمان بھی مع اپنی اہلیہ حضرت رقیہ رضى الله عنها حبشہ ہجرت فرماگئے، جب حضرت رقیہ رضى الله عنها کا انتقال ہوا تو نبی ﷺ نے دوسری بیٹی حضرت ام کلثوم رضى الله عنها کوآپ کی زوجیت میں دے دی...

  • 79 القرآن الکریم اردو ترجمہ (عبد السلام بن محمد) (اتوار 04 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:5244

    قرآن ِ مجید انسانوں کی راہنمائی کےلیے رب العالمین کی طرف سے نازل کی گئی آخری کتاب ہے ۔اور قرآن کریم ہی وہ واحد کتاب ہے جو تاقیامت انسانیت کے لیے رشد وہدایت کا سرچشمہ اور نوعِ انسانی کےلیے ایک کامل او رجامع ضابظۂ حیات ہے ۔ اسی پر عمل پیرا ہو کر دنیا میں سربلند ی او ر آخرت میں نجات کا حصول ممکن ہے لہذا ضروری ہے کہ  اس کے معانی ومفاہیم کوسمجھا جائے ،اس کی تفہیم کے لیے درس وتدریس کا اہتمام کیا جائے او راس کی تعلیم کے مراکز قائم کئے جائیں۔ قرٖآن فہمی کے لیے ترجمہ قرآن اساس کی حیثیت رکھتا ہے ۔آج دنیاکی کم وبیش 103 زبانوں میں قرآن کریم کے مکمل تراجم شائع ہوچکے ہیں۔جن میں سے ایک اہم زبان اردو بھی ہے ۔اردو زبان میں اولین ترجمہ کرنے والے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ کے دو فرزند شاہ رفیع الدین ﷫اور شاہ عبد القادر﷫ ہیں ۔ اب تو اردو زبان میں سیکڑوں تراجم دستیاب ہیں اور یہ سلسلہ تاحال جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ ترجمہ قرآن جماعۃ الدعوۃ پاکستان کے جامعہ الدعوۃ الاسلامیہ،مرید کے ،شیخورہ کے شیخ الحدیث والتفسیر محترم جناب الشیخ حافظ عبد السلام بھٹوی ﷾ کا ہے یہ ترجمہ قرآن مجید کے اردو تراجم میں ایک نہایت عمدہ اور قابل تعریف اضافہ ہے۔ جس میں انہوں نے قرآن مجید کے دل نشیں اسلوب کا لحاظ رکھتے ہوئے لفظ بہ لفظ ترجمہ کرنے اوراسے اردو محاورہ کےمطابق بنانے کی بھر پور کوشش کی ہے اور ترجمہ کرتے وقت عربی الفاظ کے قریب تر اور موزوں ترین الفاظ کا انتخاب کیا ہے۔ اور ترجمہ میں فصاحت وبلاغت کے اصولوں اورعربی زبان کے قواعد کا بھی لحاظ رکھا ہے۔ اس لیے یہ ترجمہ لفظی ہونے کےساتھ ساتھ حسن...

  • 80 تفسیر القرآن الکریم (عبد السلام بن محمد) جلد۔1 (پیر 05 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:7185

    قرآنِ مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِہدایت ہے او ر اسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ دنیا بھرمیں سب سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ اسے پڑھنے پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے   معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِصحابہ سے لے کر دورِ حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم وتشریح اور ترجمہ وتفسیرکرنے کی خدمات سر انجام دیں اور ائمہ محدثین نے کتبِ احادیث میں باقاعدہ ابواب التفسیر کے نام سےباب قائم کیے۔اور مختلف ائمہ نے عربی زبان میں مستقل بیسیوں تفاسیر لکھیں ہیں۔ جن میں سے کئی تفسیروں کے اردو زبان میں تراجم بھی ہوچکے ہیں ۔اور ماضی قریب میں برصغیرِ پاک وہند کے   تمام مکتب فکر کےعلماء نے قرآن مجید کی اردو تفاسیر لکھنے میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ان میں علماء اہل حدیث کی بھی تفسیری خدمات نمایاں ہیں۔ زیر تبصرہ  ’’تفسیر القرآن الکریم ‘‘جماعۃ الدعوۃ پاکستان کے جامعہ الدعوۃ الاسلامیہ،مرید کے ،شیخورہ کے شیخ الحدیث والتفسیر محترم جناب الشیخ حافظ عبد السلام بھٹوی ﷾ کی چار جلدوں پرمشتمل تفسیر ہے۔ اس تفسیر میں انہوں نے احادیث صحیحہ، آثار ِصحابہ اورمنہج سلف کی روشنی میں تفسیر بالماثور کاعمدہ نمونہ پیش کیاہےاور عام مفسرین کے برعکس انبیائے کرام اور سابقہ امتوں کےحالات وواقعات کی تفصیل بیان کرنے میں اسرائیلیات اور غیر مستند روایات سے مکمل اجتناب کیاہے۔ اوران کےحالات وواقعات کے بیان میں ثقاہت اورحقائق کو ملحوظِ خاطر رکھا ہے۔اس کےعلاوہ...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1322
  • اس ہفتے کے قارئین: 3403
  • اس ماہ کے قارئین: 27931
  • کل قارئین : 47062223

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں