اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 21 #3781

    مصنف : خرم علی بلہوری

    مشاہدات : 1375

    نصیحۃ المسلمین

    (اتوار 29 نومبر 2015ء) ناشر : المکتبہ السلفیہ شیش محل روڈ، لاہور

    اخروی نجات ہر مسلمان کا مقصد زندگی ہے جو صرف اور صرف توحید خالص پرعمل پیرا ہونے سے پورا ہوسکتا ہے۔ جبکہ مشرکانہ عقائد واعمال انسان کو تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے مشرکوں کے لیے وعید سنائی ہے ’’ اللہ تعالیٰ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا او اس کے سوا جسے چاہے معاف کردے گا۔‘‘ (النساء:48) لہذا عقیدۂ توحید کو اختیار کرنا اور شرک کی الائشوں سے بچنا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے ۔اس کے بغیر آخرت کی نجات ممکن ہی نہیں ۔ حضرت نوح نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی عوام الناس کوتوحید اور شرک کی حقیقت سےآشنا کرنے کےلیے دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ نصیحۃ المسلمین‘‘ سیدشاہ اسماعیل شہید کے قافلہ جہاد کے اہل علم وعمل اور صاحب ِ حال وقال سپاہی مولانا خرم علی بلہوری (متوفی1373ھ) کا تصنیف شدہ رسالہ ہے۔توحید کےمسئلہ پر یہ نہایت ہی مفید رسالہ ہے جسے موصوف نے 1228ء میں تحریر فرمایا اور صدہا مرتبہ شائع ہو کر اللہ کےبندوں کوہدایت کی راہ دکھانے میں کامیاب ثابت ہوا۔اس رسالہ کی زبان نہایت سادہ ،عام فہم اورطرزِ استدلال دلکش ہے۔ کٹ حجت لوگوں کےحیلوں بہانوں کےنہایت لطیف مگر مسکت جواب بھی تحریر فرمائے جس سےاس کی افادیت اور بھی بڑھ گئی ۔زیرتبصرہ ایڈیشن میں مولانا عطاء اللہ حنیف ﷫ نے اپنی طرف سےسے مناسب عنوان بھی قائم کیے ہیں جس سے اس رسالہ سے استفاد ہ کرنا آسان ہوگیا ہے۔ اور اسی طرح اس ایڈیشن میں افادۂ عام کے لیے ایک مسدس بھی درج کردی گئی ہے جو مؤلف مرحوم کی نظم متعلقہ توحید پر بطور تضمین کہی گئی ۔قرآن حکیم اور اردو سکھانے کےبعد بعد یہ رسالہ ہر شخص کوپڑھنا چاہیے اور ہر معمولی پڑھے لکھے تک بھی اس رسالہ کو پہنچانا چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو عقیدۂ توحید پر قائم دائم اور شرک سے محفوظ رکھے ۔ (آمین) (م۔ا)

  • 22 #3887

    مصنف : شاہ اسماعیل شہید

    مشاہدات : 4235

    تقویۃ الایمان ( تحقیق شدہ )

    (پیر 04 جنوری 2016ء) ناشر : المکتبہ السلفیہ شیش محل روڈ، لاہور

    جس طرح  امام ابن تیمیہ ﷫ کی تجدید دین کی خدمات کا انکار ناممکن ہے اسی طرح ہندوستان میں اسلا می روح اور سلفی عقیدے کی ترویج و اشاعت میں جو خدمات شاہ ولی اللہ ﷫ کے خاندان نے سر انجام دی ہیں ان کوبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا- تقویۃ الایمان شاہ اسماعیل شہید ﷫ کی ایک جاندار اور لا جواب تصنیف ہے۔ ’’تقویۃ الایمان‘‘ کا موضوع توحید ہے جو دین کی بنیاد ہے اس موضوع پر بے شمار کتابیں اور رسالے لکھے جاچکے ہیں ۔تقویۃ الایمان  بھی انہی کتب  میں سے ایک اہم کتاب ہے ۔یہ کتاب پہلی مرتبہ 1826ء میں شائع ہوئی جب  شاہ اسماعیل شہید سید احمدبریلوی ﷫ اور ان کی جماعت مجاہدین کےہمراہ وطن مالوف سے ہجرت کر کے جاچکے تھے ۔اور ہند وستان کی آزادی  وتطہیر کے لیے جہاد بالسیف کا آغاز  ہورہا تھا۔کتاب تقویۃ الایمان      اب تک لاکھوں کی تعداد میں  چھپ کر کروڑوں  آدمیوں  کے  لیے  ہدایت کا ذریعہ بن چکے ہے ۔شاہ اسماعیل شہید﷫ کا اندازِ بحث اور طرزِ استدلال سب سے نرالا ہے  اور سراسر مصلحانہ  ہے  علمائے حق کی طرح انہوں نے  صرف کتاب وسنت کومدار بنایا ہے ۔ آیات وآحادیث پیش کر کے  وہ نہایت سادہ اور سلیس میں ان کی تشریح  فرمادیتے ہیں  اور توحید کے مخالف جتنی  بھی غیر شرعی  رسمیں  معاشرے میں مروج تھیں ان کی اصل حقیقیت دل نشیں انداز میں  آشکارا کردیتے ہیں ۔انہوں نے  عقیدہ  وعمل کی ان تمام خوفناک غلطیوں کوجو اسلام کی تعلیم توحید کے  خلاف تھیں مختلف عنوانات کے تحت جمع کردیا۔مثلاً شرک فی  العلم ، شرک فی التصرف، شرک فی العبادات، شرک فی العادت۔ یوں  تقویۃالایمان توحید کے موضوع پر ایک جامع اور یگانہ کتاب بن گئی ۔اردو زبان میں  یہ کتاب  معمولی  پڑھے لکھے آدمی سے لےکر متبحر عالم دین تک سب کے لیےیکساں مفید ہے ۔زیر  تبصرہ   تقویۃ الایمان کا نسخہ  المکتبہ  السلفیۃ،لاہور سے طبع شد ہے  جس  میں  مولانا غلام رسول مہر ﷫ کا مبسوط مقدمہ  شامل اشاعت ہے  نیزاس  اس نخسے کی امتیازی  خوبی  یہ ہےکہ اس پر شارح نسائی مولانا عطا اللہ حنیف ﷫ کی  تحقیق موجود ہے ۔(م۔ا)

  • 23 #3920

    مصنف : ولایت علی صادق پوری

    مشاہدات : 1465

    رسالہ عمل بالحدیث

    (جمعرات 07 جنوری 2016ء) ناشر : المکتبہ السلفیہ شیش محل روڈ، لاہور

    فتنہ انکار حدیث تاریخ اسلام میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں خوارج اور معتزلہ نے پیدا کیا۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم حائل تھی۔ لہذا نہوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کا مسئلہ یہ تھا کہ یونانی فلسفے نے اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے جو شکوک و شبہات عقل انسانی میں پیدا کر دیے تھے، وہ انہیں سمجھنے سے پہلے ہی حل کر دینا چاہتے تھے لہذا انہوں نے فلسفہ کے نام سے منقول ہر بات کو عقل کا لازمی تقاضا سمجھا اور اسلامی عقائد اور اصول و احکام کی ایسی تعبیر کرنا شروع کر دی جو ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو۔ اس راہ میں پھر حدیث و سنت حائل ہوئی تو انہوں نے بھی خوارج کی طرح حدیث کو مشکوک ٹھہرایا اور سنت کو حجت ماننے سے انکار کر دیا۔ یہ فتنہ درمیان میں کئی صدیوں تک اپنی شمشان بھومی میں پڑا رہا یہاں تک کہ تیرہویں صدی ہجری میں وہ دوبارہ زندہ ہوا۔ پہلے یہ مصر و عراق میں پیدا ہوا اور اس نے دوسرا جنم برصغیر پاک و ہند میں لیا۔ برصغیر میں اس کی ابتدا کرنے والے سرسید احمد خان اور مولوی چراغ علی تھے۔ ان کے بعد مولوی عبد اللہ چکڑالوی اس کے علمبردار بنے۔ ان کے بعد مولوی احمد دین امرتسری نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور پھر اسلم جیرجپوری اسے آگے لے کر بڑھے۔ اور آخر کار اس فتنہ انکار حدیث و سنت کی ریاست و چودہراہٹ غلام احمد پرویز صاحب کے حصے میں آئی اور انہوں نے اس فتنے کو ضلالت کی انتہا تک پہنچا دیا۔ اس فکر کے حاملین اسلام کو موم کا ایک ایسا گولہ بنانا چاہتے ہیں جسے بدلتی دنیا کے ہر نئے فلسفے کے مطابق روزانہ ایک نئی صورت دی جا سکے۔زیر تبصرہ کتاب"رسالہ عمل بالحدیث" محترم مولانا ولایت علی صادق پوری صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے حدیث پر عمل کرنے کی اہمیت وضرورت پر روشنی ڈالی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ  مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

  • 24 #3953

    مصنف : نواب صدیق الحسن خاں

    مشاہدات : 1987

    فصل الخطاب فی فضل الکتاب

    (پیر 18 جنوری 2016ء) ناشر : المکتبہ السلفیہ شیش محل روڈ، لاہور

    قرآن مجید واحد ایسی کتاب کے جو پوری انسانیت کےلیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے اللہ تعالی نے اس کتاب ِہدایت میں انسان کو پیش آنے والےتما م مسائل کو تفصیل سے بیان کردیا ہے جیسے کہ ارشادگرامی ہے کہ و نزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء قرآن مجید سیکڑوں موضوعا ت پرمشتمل ہے۔مسلمانوں کی دینی زندگی کا انحصار اس مقدس کتاب سے وابستگی پر ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے پڑ ھا اور سمجھا نہ جائے۔قرآن واحادیث میں قرآن اور حاملین قرآن کے بہت فضائل بیان کے گئے ہیں ۔نبی کریم ﷺ نے اپنی زبانِ رسالت سے ارشاد فرمایا: «خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ القُرْآنَ وَعَلَّمَهُ» صحیح بخاری:5027) اور ایک حدیث مبارکہ میں قوموں کی ترقی اور تنزلی کو بھی قرآن مجید پر عمل کرنے کےساتھ مشروط کیا ہے ۔ارشاد نبو ی ہے : «إِنَّ اللهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ»صحیح مسلم :817)تاریخ گواہ کہ جب تک مسلمانوں نے قرآن وحدیث کو مقدم رکھااور اس پر عمل پیرا رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو غالب رکھا اور جب قرآن سے دوری کا راستہ اختیار کیا تو مسلمان تنزلی کاشکار ہوگئے۔شاعر مشرق علامہ اقبال نے بھی اسی کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا :  وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر اور تم خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر زیر تبصرہ کتاب’’( فصل الخطاب فی فضل الکتاب‘‘ علامہ نواب صدیق حسن خاں﷫ کی تصنیف ہے ۔ یہ رسالہ موصوف نے 1305ھ میں تحریر کیا او رمؤلف کی زندگی میں متعد بارطبع ہوا۔علامہ موصوف نے اس رسالہ میں احادیث صحیحہ واقوال صحابہ وائمہ دین کی روشنی میں قرآن مجید فرقان حمید کے فضائل بیان کیے اور آیات کتاب اللہ اور اس کی سورتوں پر مفصل گفتگو کی ہے۔ مولانا عطاء اللہ حنیف ﷫ اس رسالہ میں مذکور آیات واحادیث وآثار کی تخریج ، اعراب اور ان کےاردو ترجمے کرکے اسے شائع کرنا چاہتےتھے تاکہ اس کی افادیت زیادہ ہوجاجائے ۔لیکن اپنی بیماری کی وجہ سے موصوف یہ کام نہ کرسکے البتہ فصل الخطاب فی فضل االکتاب کا مطبع فاروقی دہلی طبع 1896ء کےنسخے کو قدرے ممکن تنقیح وحواشی کے ساتھ اسے 1984ء میں شائع کیا علامہ نواب صدیق حسن ﷫ کا یہ رسالہ اب حافظ عبد اللہ سلیم﷾ ، حافظ شاہد محمود﷾ کی تسہیل وتخریج کے ساتھ مجموعہ علوم القرآن میں دار ابی الطیب گوجرانوالہ سے شائع ہوچکا ہے۔اس مجموعہ میں نواب صدیق حسن ﷫ کی قرآن کےمتعلق مزید تین کتب (تذکیر الکل بتفسیر الفاتحۃ واربع قل،افادۃ الشیوخ بمقدار الناسخ والمنسوخ،اکسیر فی اصول التفسیر) بھی شامل ہیں یہ مجموعہ علوم قرآن بھی ویب سائٹ پر موجود ہے ۔( م ۔ا)

  • 25 #3956

    مصنف : سید احمد حسن محدث دہلوی

    مشاہدات : 3157

    تفسیر احسن التفاسیر اردو جلد اول

    (منگل 19 جنوری 2016ء) ناشر : المکتبہ السلفیہ شیش محل روڈ، لاہور

    قرآن مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِہدایت ہے، او ر اسے یہ اعزاز حاصل ہےکہ دنیا بھرمیں سب سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے ۔ اسے پڑھنے  اور پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِصحابہ سے لے کر دورِ حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم وتشریح اور ترجمہ وتفسیرکرنے کی خدمات سر انجام دی ہیں ۔ اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض تربیت، قرآن مجید کی زبان اور زمانۂ نزول کے حالات سے واقفیت کی بنا پر، قرآن مجید کی تشریح، انتہائی فطری اصولوں پر کرتے تھے۔ چونکہ اس زمانے میں کوئی باقاعدہ تفسیر نہیں لکھی گئی، لہٰذا ان کے کام کا بڑا حصہ ہمارے سامنے نہیں آ سکا اور جو کچھ موجود ہے، وہ بھی آثار او رتفسیری اقوال کی صورت میں، حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں بکھرا ہوا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"تفسیر احسن التفاسیر اردو"  محترم  مولانا سید احمد حسن محدث دہلوی ﷫کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے احادیث صحیحہ حسنہ اور اقوال صحابہ ودیگر سلف سے قرآن مجید کی تفسیر کی ہے اور صحت روایت کا حد درجہ خیال رکھتے ہوئے معتبرہ ومسلمہ تفاسیر مثلا تفسیر ابن جریر، ابن کثیر،معالم، خازن، درمنثور، اور فتح البیان کے اہم مطالب کا بہترین انتخاب کیا ہے،نیز آیات کریمہ کے شان نزول صحیح بہ التزام صحت سند لائے ہیں۔یہ تفسیر پانچ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے ، جسے بلال گروپ آف انڈسٹریز نے چھاپ کر  فی سبیل اللہ فری تقسیم کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور تقسیم کنندگان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔۔آمین(راسخ)

  • 26 #4083

    مصنف : ابن قیم الجوزیہ

    مشاہدات : 3245

    افادات امام ابن تیمیہ  اردو

    (جمعہ 05 فروری 2016ء) ناشر : المکتبہ السلفیہ شیش محل روڈ، لاہور

    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ساتویں صدی ہجری  کی وہ عظیم شخصیت تھے،جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت کی تردید وتوضیح میں بسر کردی ۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔مختلف گوشوں میں آپ کی تجدیدی واصلاحی خدمات آب زر سے لکھے جانے  کے لائق ہیں ۔امام ابن تیمیہ صرف صاحب قلم عالم ہی نہ تھے ،صاحب سیف مجاہدبھی تھے ،آپ نے میدان جہاد میں بھی جرأت وشجاعت کے جو ہر دکھائے۔آپ کی طرح آپ کے تلامذہ بھی اپنے عہد کے عظیم عالم تھے ۔آپ کے معروف ترین شاگرد امام ابن قیم ﷫ ہیں۔آپ 691ھ میں پیدا ہوئے آپ نے علوم دینیہ کی تعلیم شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫سے حاصل کی، فن تفسیر کے ماہر، حدیث اور فقہ و معانی حدیث پر گہری نظر رکھتے تھے اصول دین کے رمز آشنا، فن فقہ اور اصول عربیہ میں آپ خاص مہارت کے حامل تھے اپنے بعض عقائد کی بنا پر قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ زیر تبصرہ کتاب"افادات امام ابن تیمیہ﷫"انہی دوعظیم الشان شخصیتوں استاد اور شاگرد کی تحریروں کے تراجم پر مشتمل ہے۔اس میں امام ابن تیمیہ﷫ کے آٹھ رسائل اور امام ابن قیم﷫ کی ادبی کتاب روضۃ المحبین کے آخری باب کا ترجمہ شامل ہے۔اردو ترجمہ محترم حافظ محمد زکریا صاحب﷫ نے کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ  مولف اور مترجم دونوں کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

  • 27 #4091

    مصنف : امام ابن تیمیہ

    مشاہدات : 2970

    راہ حق کے تقاضے تلخیص اقتضاء الصراط المستقیم

    (اتوار 07 فروری 2016ء) ناشر : المکتبہ السلفیہ شیش محل روڈ، لاہور

    شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ﷫ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا ۔ اورباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعدر رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت اور مذاہب باطلہ کی تردید وتوضیح میں بسر کردی ۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔فکر وعقیدہ کی گمراہیوں میں سے شرک اور بدعت دو بڑی گمراہیاں ہیں۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتب میں ان دونوں گمراہیوں پر مفصل کلام موجود ہے۔آپ کی کتابوں میں سے  ’’اقتضاء الصراط المستقیم فی مخالفۃ اصحاب لجحیم‘‘ایک ممتاز مقام رکھتی ہے ۔اس کتاب کا موضوع بدعات ہیں ۔ شیخ الاسلام نے اپنی اس کتاب میں اپنے زمانے میں پائی جانے والی متعدد بدعات کی نشاندہی کی ہے اور ان کا رد کیا ہے۔اور غیر مسلموں سےمشابہت او ران کےخاص دن، رسوم اور رواج اپنانے یا ان میں شرکت کرنے پر بحث فرمائی ہے۔اصل کتاب عربی زبان میں  بڑی ضخیم کتاب ہے عام لوگوں کے لیے اس سے  استفادہ کرنا مشکل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’راہ حق کےتقاضے ‘‘اسی کتاب کی تلخیص  کا اردو ترجمہ ہے ۔تلخیص کا کام  جامعۃ الامام محمد بن سعود کے پروفیسر جناب ڈاکٹر عبدالرحمٰن عبد الجبار فریوائی نے کیا اور اس تلخیص کو اردو قالب میں ڈھالنےکی  ذمہ داری انڈیا کے ممتاز سلفی عالم دین ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری نے  انجام دی۔ المکتبۃ السلفیۃ ،لاہورکےمدیرجناب احمد شاکر ﷾ نے تقریباً بیس سال قبل اسے  حسن طباعت سےآراستہ کیا ۔اللہ تعالیٰ بدعات و خرافات میں گھرے  لوگوں کےلیے اس کتاب کو نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

  • 28 #4159

    مصنف : قاضی محمد عبد اللہ خانپوری

    مشاہدات : 1447

    تذکرہ علمائے خانپور

    (پیر 29 فروری 2016ء) ناشر : المکتبہ السلفیہ شیش محل روڈ، لاہور

    برصغیر پاک و ہند میں علمائے اہل حدیث نے اسلام کی سربلندی ، اشاعت ، توحید و سنت نبوی ﷺ ، تفسیر قرآن کےلیے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے او رعلمائے اہلحدیث نے مسلک صحیحہ کی اشاعت و ترویج میں جو فارمولا پیش کیا اس سے کسی بھی پڑھے لکھے انسان نے انکار نہیں کیا ۔علمائے اہلحدیث نے اشاعت توحید و سنت نبویﷺ اور اس کے ساتھ ہی ساتھ شرک و بدعت کی تردید میں جو کام کیاہے اور جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔پنجاب میں تدریسی خدمت کے سلسلہ میں مولانا حافظ عبدالمنان صاحب محدث و زیر آبادی (م1334ھ) کی خدمات بھی سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔مولانا حافط عبدالمنان صاحب حضرت شیخ الکل کے ارشاد تلامذہ میں سے تھے اور فن حدیث میں اپنے تمام معاصر پر فائز تھے۔ آپ نے اپنی زندگی میں 80 مرتبہ صحاح ستہ پڑھائی۔ آپ کے تلامذہ میں ملک کے ممتاز علمائے کرام کا نام آتاہے اورجن کی اپنی خدمات بھی اپنے اپنے وقت میں ممتاز حیثیت کی حامل ہیں۔ مولانا سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں:’’علمائے اہلحدیث کی تدریسی و تصنیفی خدمات قدر کے قابل ہے۔ پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں (م1307ھ) کے قلم او رمولانا سید محمد نذیر حسین دہلوی (م1320ھ) کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا۔ بھوپال ایک زمانہ تک علمائے اہلحدیث کا مرکز رہا۔ قنوج، سہوان اوراعظم گڑھ کے بہت سے نامور اہل علم اس ادارہ میں کام کررہے تھے۔ شیخ حسین عرب یمنی (م327ھ) ان سب کے سرخیل تھے اوردہلی میں مولانا سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی کے ہاں سند درس بچھی تھی اور جوق در جوق طالبین حدیث مشرق و مغرب سے ان کی درس گاہ کا رخ کررہے تھے۔ ان کی درس گاہ سے جو نامور اُٹھے ان میں ایک مولانا محمد ابراہیم صاحب آروی (م1320ھ) تھے۔ جنہوں نے سب سے پہلے عربی تعلیم اور عربی مدارس میں اصلاح کا خیال کیا اور مدرسہ احمدیہ کی بنیادڈالی ۔اس درس گاہ کے دوسرے نامور مولانا شمس الحق صاحب ڈیانوی عظیم ابادی (م1329ھ) صاحب عون المعبود فی شرح ابی داؤد ہیں جنہوں نے کتب حدیث کی جمع اور اشاعت کو اپنی دولت اور زندگی کامقصد قرار دیا اوراس میں وہ کامیاب ہوئے۔تصنیفی لحاظ سے بھی علمائے اہلحدیث کاشمار برصغیر پاک و ہند میں اعلیٰ اقدار کا حامل ہے۔ علمائے اہلحدیث نے عربی ، فارسی اور اردو میں ہر فن یعنی تفسیر، حدیث، فقہ،اصول فقہ، ادب تاریخ او رسوانح پر بے شمار کتابیں لکھی ہیں۔ الغرض برصغیر پاک وہندمیں علمائےاہل حدیث نےاشاعت اسلام ، کتاب وسنت کی ترقی وترویج، ادیان باطلہ اور باطل افکار ونظریات کی تردید اور مسلک حق کی تائید اور شرک وبدعات ومحدثات کےاستیصال اور قرآن مجید کی تفسیر اور علوم االقرآن پر جو گراں قدر نمایاں خدمات سرانجام دیں وہ تاریخ اہل حدیث کاایک زریں باب ہے ۔مختلف قلمکاران اور مؤرخین نے علمائے اہل حدیث کےالگ الگ تذکرے تحریر کیے ہیں اور بعض نے کسی خاص علاقہ کے علماء کا تذکرہ وسوانح حیات لکھے ہیں۔ جیسے تذکرہ علماء مبارکپور ، تذکرہ علماء خانپور وغیرہ ۔ علما ئے عظام کے حالات وتراجم کو جمع کرنے میں مؤرخ اہل حدیث جناب مولانامحمد اسحاق بھٹی ﷫ کی خدمات سب سے زیادہ نمایاں ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’تذکرہ علمائے خانپور؍فتح الغفور فی تذکرۃ علمائے خانفور‘‘اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔اس کتاب کو مولانا قاضی محمد عبد اللہ خانپوری ﷫ نے مولانا ابو یحییٰ امام خاں نوشہروی﷫ اور شارح نسائی مولانا عطاء اللہ حنیف ﷫ کی ترغیب پر مرتب کیا۔موصوف نے یہ کتاب ’’فتح الغفور فی ذکر علمائے خانفور‘‘ کے نام سے مرتب کی تھی جو ان کی زندگی میں شائع نہ ہوسکی ۔بعدازاں مولانا حکیم قاضی عبد الاحد خانپوری کے تلمیذ رشید مولانا حکیم محمد یحییٰ شفاخانپوری صاحب نے تکملۃ تذکرۂ علمائے خانپور کے نام سے اس میں مزید اضافہ کیااو راس میں مؤلف فتح الغفور قاضی محمد عبد اللہ کے حالات بھی تحریر فرمادیئے۔ مولانا محمد عطااللہ حنیف بھوجیانی ﷫ نے 1985ءمیں اسے حسن طباعت سے آراستہ کیا۔(م۔ا)

  • 29 #4534

    مصنف : ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری

    مشاہدات : 2195

    تاریخ مرزا

    (منگل 14 جون 2016ء) ناشر : المکتبہ السلفیہ شیش محل روڈ، لاہور

    تعلیمات اسلامیہ کے مطابق نبوت ورسالت کا سلسلہ سیدنا آدم سے شروع ہوا اور سید الانبیاء خاتم المرسلین حضرت محمد ﷺ پر ختم ہوا ۔ اس کے بعد جوبھی نبوت کادعویٰ کرے گا وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے نبوت کسبی نہیں وہبی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے جس کو چاہا نبوت ورسالت سے نوازاکوئی شخص چاہے وہ کتنا ہی عبادت گزارمتقی اور پرہیزگار کیوں نہ ہو وہ نبی نہیں بن سکتا ۔اور اسلامی تعلیمات کی رو سے سلسلہ نبوت اوروحی ختم ہوچکاہے جوکوئی دعویٰ کرے گا کہ اس پر وحی کانزول ہوتاہے وہ دجال ،کذاب ،مفتری ہوگا۔ امت محمدیہ اسےہر گز مسلمان نہیں سمجھے گی یہ امت محمدیہ کا اپنا خود ساختہ فیصلہ نہیں ہے بلکہ شفیع امت حضرت محمد ﷺ کی  زبانِ صادقہ کا فیصلہ ہے۔قایادنی اور لاہوری مرزائیوں کو اسی لئے غیرمسلم قرار دیا گیا ہے کہ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبی تھے ان کو اللہ سےہمکلام ہونے اور الہامات پانے کاشرف حاصل تھا۔ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کرنے کے آغاز سے ہی اس کی تردید وتنقید میں ہر مکتبۂ فکر کے علماء نے بھر پور کردار ادا کیا ۔ بالخصوص علمائے اہل حدیث او ردیو بندی مکتبۂ فکر کے علماء کی قادیانیت کی تردیدمیں خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ قادیانی فرقے کے خلاف سب سے پہلا فتوئ تکفیر مولانامحمد حسین بٹالوی ﷫نے تحریرکیاجس پر برصغیر کے تقریباًدوصد تمام مسالک کے علماء نے دستخط ثبت کیے ۔اس فرقے کے خلاف مناظروں کاسب سے کامیاب مقابلہ شیخ الاسلام مولانا نثاء اللہ امرتسری﷫ نے کیا جنہیں بالاتفاق فاتح قادیان کا خطاب دیا گیا ۔تقسیم ملک کے بعدپاکستان میں اس گمراہ فرقے کواقلیت قرار دلوانے کےلیے سب سے پہلے متکلم ِاسلام مولانا محمد حنیف ندوی ﷫ کا قلم حرکت میں آیا۔اوراس فرقے کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کےلیے ایک علمی معرکہ مولانا عبد الرحیم اشرف ﷫ کے قلم سے لڑا گیا۔ یہ سب اکابرین مسلک اہل حدیث سے تعلق رکھنے والےتھے۔مختلف انداز میں قادیانیت کی تردید میں علماء کی کاوشیں جاری وساری ہیں۔اکثر علماء نے مرزا غلام احمد قادیانی ملعون کے عقائد کا محاسبہ کر کے قادیانیوں کو لاجواب کیا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ تاریخ مرزا‘‘ فاتح قادیان شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری﷫ کی تصنیف ہے اس مختصر کتاب مں انہوں نے مناظرانہ انداز کی بجائے تاریخ اند از میں صحیح حوالہ جات کی روشنی میں مرزا غلام احمد قادیانی کے حالات صحیحہ مصدقہ ازولادت تاوفات درج کیے ہیں ۔یہ کتاب پہلی بار 1919ء میں اور شائع ہوئی موجودہ طبع اس کا چوتھا ایڈیشن ہے جسے 1973ء میں المکتبۃ السلفیہ کے بانی شیخ الحدیث مولانا عطاء اللہ حنیف ﷫ نے بعض حوالہ جات کی ممکن چھان بین کر کے شائع کیا تھا۔(م۔ا)

  • 30 #4723

    مصنف : امام ابن تیمیہ

    مشاہدات : 2432

    الفرقان بین اولیاء الرحمن و اولیاء الشیطن

    (بدھ 27 جولائی 2016ء) ناشر : المکتبہ السلفیہ شیش محل روڈ، لاہور

    نبی کریمﷺ اورآپ کی امت کے بہت زیادہ فضائل و خصائص ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو دوستوں اور دشمنوں کے درمیان فرق بتانے کا ذمہ دار ٹھیرایا۔ اس لیے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ حضورﷺ پر اور جو کچھ وہ لائے ہیں اس پر ایمان نہ لائے اور ظاہر و باطن ان کی اتباع نہ کرے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی محبت اور ولایت کا دعویٰ کرے اور حضور نبی کریمﷺ کی پیروی نہ کرے وہ اولیاء اللہ میں سے نہیں ہے۔ بلکہ جو ان سے مخالف ہو تو وہ اولیاء الشیطان میں سے ہےنہ کہ اولیاء الرحمٰن میں سے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نےاپنی کتاب  میں اوراپنے رسول ﷺ کی سنت  میں بیان فرما دیا ہےکہ لوگوں میں سے  اللہ  تعالیٰ کے دوست بھی ہیں اور شیطان کے بھی اور اولیاء رحمٰن اور اولیاء شیطان کے  درمیان  جو فرق ہے  وہ بھی ظاہر کردیا ہے ۔اس موضوع پر شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ نے ’’الفرقان بین اولیاء الرحمٰن واولیاء الشیطان‘‘ کے نام سے شاندار کتاب تالیف کی۔ جس میں اللہ کے دوستوں اور شیطان کے دوستوں کے مابین حقیقی فرق کو واضح کیا گیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے لوگوں کو اولیاء اللہ کا درجہ دے دیا جاتا ہے جو دین کی مبادیات تک سے واقف نہیں ہوتے اور تو اور ایسے لوگ بھی ولی کے خطاب سے سرفراز ہوتے ہیں جنھیں زندگی میں کبھی نہانا بھی نصیب نہیں ہوا۔ ایسے میں شیخ الاسلام کی یہ کتاب ان جیسے خانہ زاد اولیاء کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے۔ جس میں اولیاء اللہ کی پہچان کے ساتھ ساتھ بہت سارے اولیاء اللہ کا تعارف بھی کرایا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب   شیخ الاسلام ابن تیمیہ﷫ کے اسی رسالہ کا ترجمہ ہے ۔ترجمہ کی سعادت  مولانا غلام ربانی ﷫ نے حاصل کی ہے ۔ یہ ترجمہ  اگرچہ پہلے بھی کتاب وسنت سائٹ پر موجود تھا  لیکن  اس میں احادیث کی تخریج  نہیں کی گئی تھی  زیر نظر ایڈیشن میں  محترم  جنا ب ابن عبد العزیز صاحب  نے احادیث کی مکمل تخریج کی  ہے جس سے اس رسالہ کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ او ر مکتبہ سلفیہ ،لاہور نے  اسے خوبصورت انداز میں حسن طباعت سےآراستہ کیا ہے  اس لیے اسے بھی سائٹ پر پبلش کردیا ہے ۔(م۔ا)

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1742
  • اس ہفتے کے قارئین 14392
  • اس ماہ کے قارئین 37932
  • کل قارئین49236906

موضوعاتی فہرست