ام عبد منیب

106 کل کتب
دکھائیں

  • 81 بیویوں کے درمیان عدل (جمعرات 11 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:2079

    اسلام دین فطرت  ہے ،اس  میں انسان کی روح اور جسم دونوں کے تقاضےپورے کرنے کے لیے  اللہ تعالیٰ نےکافی وشافی احکامات دئیے ہیں۔ تعدّدِ ازواج کاقانون اس کی جیتی جاگتی  مثال ہے۔ عدل کی شرط کے ساتھ مرد کویہ اجازت دی گئی ہ کہ  وہ  بیک وقت چار بیویاں اپنے عقد میں رکھ سکتا ہے ۔اللہ تعالیٰ  نے مردکو  دو تین چار عورتوں سے نکاح کی اجازت دے کر  اسے کوئی اضافی سہولت ،عیش وعشرت کا موقع یا کوئی اعزاز وانعام  عطا نہیں کیا  جیسا کہ غیر مسلموں یا اسلام کےاحکامات سے  نابلد مسلمانوں کی اکثریت کاخیال ہے ۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جو مرد ایک سے زائد شادیاں کرتا ہے  وہ  خود کو ذمے داریوں کے شکنجے میں دو بیویوں کی صورت دوگنا ،تین بیویوں کی صورت میں تین گناہ اور چار بیویوں کی صورت میں  چار گنا جکڑ لیتاہے ۔اگر وہ اپنی  بیویوں میں  عدل وانصاف اور مساوات کا خیال نہیں رکھتا  تو وہ گناہگار  ٹھرتاہے ۔ جو شخص اپنی بیویوں  کے حقوق ادا کرنے  میں غفلت برتتا ہے  یا  جان بوجھ کر  ان کے حقوق غصب کرتاہے ۔احادیث میں اس کے لیے  اللہ تعالیٰ  کی طرف سے شدید پکڑ کی وعید سنائی گئی ہے ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جس شخص کی دوبیویاں ہوں اوران کے درمیان عدل نہ کرے  توقیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک  حصہ گرا ہوا (فالج زدہ) ہوگا۔‘‘(سنن ابی داؤد) زیر  نظر کتاب ’’  بیویوں کےدرمیان عدل ‘‘ محترمہ&nb...

  • 82 بیویوں کے باہمی تعلقات (اتوار 04 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:2049

    اللہ تعالیٰ ٰ ہی کی حکمت بالغہ ہے۔اس نے اپنی حکمت کے تحت سابقہ شریعتوں میں بھی اور  ہمارے نبی کریمﷺ حضرت محمد ﷺ کی شریعت میں بھی مردوں کو یہ اجازت دی ہے کہ وہ ایک سے زیادہ عورتوں سے شادی کرسکتے ہیں۔تعدد ازواج نبی ﷺ ہی کا خاصہ نہ تھا۔حضرت یعقوب   کی دو بیویاں تھیں۔حضرت سلیمان بن دائود   کی ننانوے بیویاں تھیں۔ایک بار اس اُمید سے کہ آپ ایک رات میں ان سب کے پاس گئے کہ ان میں سے ہر ایک ایک بچے کو جنم دے گی۔جو بڑے ہوکر اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے۔اللہ تعالیٰ نے  امت محمدیہ کے   مردوں کے   لیے ایک وقت میں چار بیویوں کورکھنے کی اجازت دی ہے ۔جس  کےبہت فوائد اور اس میں  کئی حکمتیں مضمر ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ بیویوں کے باہمی تعلقات‘‘ محترم ام عبدمنیب  صاحبہ کی  کاوش  ہے  جس میں انہوں نے  تعدد  ازدواج  کے پس منظر اور اس کے فوائد،خدشات،سوکنوں کےباہمی تعلقات کو  آسان فہم  انداز میں  بیان کرنے کے بعد  ان کی  آپس میں  اصلاح  کے   حوالے  قرآن  وحدیث کی  روشنی  میں چند مفید   نسخے  پیش کیے ہیں ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)

  • 83 ستر و حجاب اور خواتین ( ام عبد منیب ) (ہفتہ 13 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:1843

    عورت کے لیے  پردے کاشرعی حکم اسلامی شریعت کا طرہ امتیاز اور قابل فخر  دینی روایت ہے ۔اسلام نے عورت کو پردےکا حکم دے کر عزت وتکریم کے اعلیٰ ترین مقام پر لاکھڑا کیا ۔پردہ کاشرعی حکم معاشرہ کو متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ مردکی تمام تر جنسی کمزوریوں کا کافی وشافی علاج ہے ۔اس لیے دخترانِ اسلام کو پردہ کے  سلسلے میں  معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کی بجائے فخریہ انداز میں اس حکم  کو عام کرنا چاہیے تاکہ پوری دنیا کی خواتین اس  کی برکات سے مستفید ہو سکیں۔اللہ تعالیٰ کے حکم  کی رو سے عورت پر پردہ  فرض ِعین ہے  جس کا تذکرہ  قرآن   کریم میں ا یک سے زیادہ جگہ پر آیا ہے  اور  کتبِ احادیث میں اس کی  صراحت موجو د ہے  ۔کئی  اہل علم نے  عربی  واردو زبان  میں  پردہ کے  موضوع متعدد کتب  تصنیف کی ہیں۔زیر کتابچہ’’ ستر وحجاب  اور خواتین‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی کاوش ہے  جسے انہوں  جید علماء کرام کے  فتاوی  جات سے   ستروحجاب  کے متعلق  فتا ویٰ  کا  انتخاب کرکے ان کا آسان فہم ترجمہ پیش کیا ہے  ۔اللہ محترمہ کی اس کاوش  کو  قبول فرمائے اور  خواتینِ اسلام کو اس سے  استفادہ   کرنے کی توفیق عطا فرمائے  (آمین)(م۔ا)

  • 84 پردے کی اوٹ سے (بدھ 17 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:1613

    اسلامی  معاشرے میں  نامحرم مردوں اور عورتوں کا ایک دوسرے سے حجاب میں رہنا ایک جانا پہچانا طریقہ ہے  جس کا مقصد  مرد وعورت کےدرمیان ناجائز خواہشات کےہر داعیے کو روکنا ہے۔ان میں سب سے پہلے خطرناک چیز نظر ہے جونامحرم مرد عورت پر پڑتے ہی  اپنے  صاحب  کےدل میں ایک طوفان بپا کردیتی ہے ۔ ناجائز  تعلقات کاآخری فعل زنا ہے  جسے اللہ تعالیٰ نے کلیۃً حرام قرار  دیا اورلاتقربوا الزنا  فرماکر اسی فعل بد سے  بچانے کےلیے  محرم  پر نظر اٹھانے سے لے کر اس آخری فعل تک  جو جو مرحلے  آتے ہیں ۔جو چیزیں اسباب بنتی ہیں ۔ان سب کوحرام  قرار دیا گیا۔اس لیے  نامحرم مرد اورعورت کے درمیان حجاب اسلامی معاشرے کا معروف طریقہ ہے اور حجاب کےاحکام نازل ہونے کے ساتھ ہی اس  پر صحابیات اور صحابہ نے فوری عمل کرنا شروع کردیا تھا۔لیکن دور ِ حاضر میں اکثریت اس بات پر اڑی ہوئی ہے کہ  اجنبی مرد اورعورت کے درمیان کسی درمیان کسی دیوار کپڑے یا کسی اور چیزکی آڑ ہونا یا عورت  کا اپنے چہرے کوڈھانپ کر اجنبی مرد کے  سامنے آنا اسلامی طریقہ نہیں بلکہ ایجا ملا ہے۔ پردے کی شرعی  حیثیت ،اہمیت وفرضیت کے سلسلے کئی  اہل علم نے اردو وعربی زبان  میں   مستقل کتب تصنیف  کی ہیں۔زیر نظر کتابچہ ’’پردے کی اوٹ  سے ‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے  جسے  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ نے  اپنے   آسان فہم انداز میں   مرتب...

  • 85 رسم مہندی اور مایوں (اتوار 28 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:2463

    اسلام  ایک مکمل  ضابطۂ حیات  ہے   پور ی انسانیت کے لیے  اسلامی تعلیمات کے  مطابق  زندگی  بسر کرنے کی  مکمل راہنمائی فراہم کرتاہے  انسانی  زندگی میں  پیش   آنے  والے تمام معاملات ، عقائد وعبادات ، اخلاق وعادات  کے   لیے  نبی ﷺ کی  ذات مبارکہ  اسوۂ حسنہ کی صورت میں موجود ہے  ۔مسلمانانِ عالم کو اپنےمعاملات کو  نبی کریم ﷺ کے بتائے  ہوئے طریقے  کے مطابق سرانجام  دینے چاہیے ۔لیکن موجود دور میں  مسلمان رسم ورواج اور خرافات میں   گھیرے  ہوئے  ہیں  بالخصوص   برصغیر پاک وہند میں  شادی  بیاہ کے  موقع پر  بہت سے رسمیں اداکی جاتی ہیں جن کاشریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں    اور ان  رسومات میں بہت   زیادہ   فضول خرچی اور اسراف  سے  کا م لیا  جاتا ہے   جوکہ صریحا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔شادی بیاہ کے  موقعہ پر  اداکی جانے والی رسومات میں سے   مائیوں اور مہندی دو جڑواں رسمیں ہیں ۔جنہیں  بیاہ کے موقع پر ہندو لوگ کرتے ہیں ۔ یہ دونوں رسمیں ہمارے  معاشرے میں عام ہیں حالانکہ ہم مسلمان ہیں اور ہند کافر ہیں ۔ مسلمان اور کافر کی رسمیں ایک جیسی کبھی نہیں ہو سکتیں ۔ لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ موجودہ مسلمان صرف مائیوں اور مہند ی ہی نہیں   اور بھی بہت سے ہندوانانہ رسومات ادا کرتے ہ...

  • 86 سنگھار خانے (جمعہ 19 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:1775

    بیوٹی پالر سے مراد ایسے  مقامات ہیں جہاں عورتیں ،مرد اور بچے اپنے جسم کے فطری حسن اور فطری رنگ و روپ کی بجائے اضافی زیب وزینت اور من پسند رنگ وروپ حاصل کرنے کے لئے رجوع کرتے ہیں۔ایسے بیوٹی پالرز کا خیال سب سے پہلے رومی قوم میں پیدا ہوا جو لوگ روح کی بجائے جسم کے عیش، آرام ،اس کی لذتوں اور آرائش کو ترجیح دیتے تھے۔وہ اپنی نفسانی خواہش کو پورا کرنے کے لئے زر خرید لونڈیوں کی جسمانی نگہداشت کرتے ،انہیں طرح طرح کے فیش کروا کر سجاتے بناتے اور پھر ان کے اپنی  نفسانی خواہشات پوری کرتے تھے۔موجودہ زمانے کے بیوٹی پالر بھی انہی قباحتوں اور برائیوں کو اپنے اندار لئے ہوئے ہیں،اور ان کی آڑ میں ہونے والے بے حیائی کے واقعات دیکھ اور سن کر انسانی روح کانپ اٹھتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب  "سنگھار خانے "معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے جسمانی زیب وزینت کے لئے شرعی تقاضوں کا لحاظ رکھنے ،اور برائی وبے حیائی کے ان اڈوں سے دور رہنے کی ترغیب دی ہے ۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث ل...

  • 87 نکاح میں ولی کی حیثیت (ہفتہ 20 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:2208

    اسلام نے ولی سربراہ خاندان کویہ حق  عطا کیا ہے  کہ اگر سربراہِ خاندان اپنے  علم ،تجربہ اور خیر خواہی کے تحت یہ محسوس کرتا ہے کہ فلاں فرد کےفلاں  کام سے خاندانی وقار مجروح ہوگا ۔یااس فرد کودینی ودنیوی نقصان پہنچے گا تو وہ  اسے اس کام سے بالجبر بھی  باز رکھ سکتاہے۔ البتہ جوحقوق اسلام نے فرد کوذاتی حیثیت سے عطا کیے ہیں سربراہ کاجان بوجھ کر انہیں پورا نہ کرنا یا افراد پر ان کے حصول کے حوالے  سےپابندی عائد کرنا درست نہیں اور اسلام میں  اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ولایت ِنکاح کا  مسئلہ یعنی جوان لڑکی  کے نکاح کے لیے ولی کی اجازت او ررضامندی ضروری ہے قرآن وحدیث کی نصوص سے واضح ہے  کہ کسی نوجوان لڑکی  کو یہ اجازت حاصل نہیں ہے کہ  وہ والدین کی اجازت  اور رضامندی کے بغیر گھر سے راہ ِفرار  اختیار کرکے  کسی عدالت میں یا کسی  اور جگہ  جاکر  از خود کسی  سے نکاح رچالے ۔ایسا نکاح باطل ہوگا نکاح کی  صحت کے لیے  ولی کی اجازت ،رضامندی اور موجودگی ضروری ہے  ۔ لیکن  موجودہ دور میں مسلمانوں کے  اسلام سے  عملی  انحراف نے جہاں شریعت  کے  بہت سے مسائل کوغیر اہم بنادیا ہے ،اس مسئلے  سے بھی  اغماض واعراض اختیار کیا جاتاہے  -علاوہ  ازیں ایک فقہی  مکتب فکر  کے  غیر واضح موقف کو بھی  اپنی بے راہ روی  کے جواز کےلیے  بنیاد  بنایا جاتاہے ۔زیر نظر کتابچہ ’’نکاح میں ولی کی حیثیت...

  • 88 بچے کی صحت اور احتیاطی تدابیر (جمعہ 26 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:2332

    بچے اللہ کا عطیہ ۔ نرم ونازک ،پیارے ،معصوم ،دلکش ،ہنستے ،مسکراتے، خوشبوؤں اور محبتوں کی رونق ،کون سے  والدین ہیں جو یہ نہیں چاہتے وہ سدا بہار رہیں مسکراتے رہیں نظر بد سے دور رہیں   لکین اکثر اوقات والدین کی اپنی غفلت لاپرواہی یا بے سمجھی  بچوں کے  معذور یا بیمار بننے کا سبب بن جاتی ہے ۔فرمان نبوی  ہے :’’ تم میں سے ہر ایک شخص ذمہ دار ہے  اور اپنی رعیت کا جواب دہ  ہے ، امیر اپنی رعیت کا جواب دہ ہے  ۔ آدمی اپنے گھر والوں پر نگران  ہے  ، عورت اپنے خاوند کےگھر اور اس کی اولاد پر نگران ہے  ۔غرض تم  سے ہر شخص کسی نہ کسی پر ذمہ دار  بنایا گیا ہے  اور وہ اپنی رعیت کا جواب دہ ہے ‘‘۔بچوں کی  نگرانی  کاایک تقاضہ یہ بھی ہے ہ بچے  کو جسمانی  ،ذہنی اوراخلاقی بیماریوں سے دور رکھنے کی کوشش کی جائے ۔انسان کوجتنے تحفظات در کار ہیں  ان میں  سر فہرست صحت کا تحفظ  ہے ماں کو  چاہیے  کہ بچے کی صحت بر قرار رکھنے والے اصول اور تدابیر سے آگاہی حاصل  کرے ۔لیکن بچے کی جسمانی نگہداشت سے زیادہ ضروری چیز اس  کی اخلاقی نگہداشت اور تربیت ہے ۔ اگر جسمانی  لحاظ سے کوئی بے احتیاطی ہو جائے تو صرف جسم کو نقصان پہنچتا ہے لیکن اخلاقی لحاظ سے کوئی عیب پیدا ہوجائے تویہ دنیا میں اس بچے کی بدنامی اور والدین کی رسوائی کاباعث ہوتا ہے جب کہ آخرت میں یہ کھلم کھلا جہنم کی آگ میں جھونک دیتا ہے۔ماں پاب کا یہ فریضہ ہے کہ  بچے کی اخلاقی ترب...

  • 89 بیمار کی نماز (ہفتہ 27 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:1922

    بیماری عذر کی حالت کا نام ہے ۔ جس میں انسان اپنے  کام معمول کےمطابق نہیں کرسکتا ۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے  بندوں پر یہ کمال شفقت ہے کہ  اس نے  انسان کواس کی  استطاعت سے بڑھ کر کسی بھی  حکم کا پابند نہیں بنایا۔عبادات ادا کرنے کےلیے  اس نے عذر کی حالت میں تخفیف کردی ۔ نماز روزانہ  پانچ دفعہ  کا معمول  ہے ۔ اس لیے بیماری کی حالت میں سب سے  زیادہ اسی کے  مسائل معلوم کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے  ۔زیر نظر کتابچہ ’’ بیمار کی نماز‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی کاوش ہے  ۔جس میں انہوں  نے  بیمار شخص کے لیے  طہارت   حاصل کرنے کے مسائل بیان کرنے کے بعد مختلف بیماریوں  میں  انسان کو  کس طرح  نماز  ادا کرنی چاہیے  ا ن کو  آسان فہم انداز میں بحوالہ  مختصرا بیان کیا ہے  ۔ اللہ  تعالیٰ محترمہ کی تمام مساعی جمیلہ  کو قبول فرمائے۔ (آمین) (م۔ا)
     

     

  • 90 دم کرنا اور کرانا (اتوار 28 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:2363

    دم کرنے کو عربی زبان میں "رقیہ "کہتے ہیں،جس سے مراد ہے کچھ مخصوص الفاظ پڑھ کر کسی چیز پر اس عقیدے کے تحت پھونک مارنا کہ اس چیز کو استعمال کرنے سے شفا حاصل ہو گی یا مختلف عوراض وحوادثات اور مصائب سے نجات مل جائے گی۔اہل جاہلیت یہ سمجھتے ہیں کہ دم میں تاثیر یا تو ان الفاظ کی وجہ سے ہے جو پڑھ کر دم کیا گیا ہے یا ان الفاظ کی تاثیر ان مخفی یا ظاہری قوتوں کی وجہ سے ہے جن کا نام دم کئے جانے والے الفاظ میں شامل ہے۔اسلام نے جتنے بھی دم سکھائے ہیں اور قرآن وسنت سے جن دم کرنے والی سورتوں،آیتوں اور دعاؤں کا ذکر آیا ہے ان سب میں یہ عقیدہ بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کہ رب اکبر ہی ہر طرح کی شفا عطا کرنے والا ہے۔وہی ہر طرح کی مصیبت سے نجات دینے والا ہے،وہی مطلوبہ چیز کو دینے پر قادر ہے،وہی جادو ،آسیب ،نظر وغیرہ کے اثرات متانے والا ہے۔نیز دم کرنے میں شریعت نے یہ عقیدہ بھی دیا ہے کہ جو الفاظ پڑھ کر دم کیا جا رہا ہے یہ خود موثر نہیں بلکہ انہیں موثر بنانے والی اللہ تعالی کی ذات ہے،جس طرح دوا اثر نہیں کرتی جب تک اللہ نہ چاہے،کھانا فائدہ نہیں دیتا جب تک اللہ نہ چاہے،اسی طرح دم میں تاثیر اللہ کے حکم سے پیدا ہوتی ہے۔۔ زیر تبصرہ کتاب  " دم کرنا اور کرانا "معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے دم کے انہی مسائل کو بیان کیاہے۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ ﷫ کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہ...


0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔

0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 830
  • اس ہفتے کے قارئین: 10240
  • اس ماہ کے قارئین: 38489
  • کل قارئین : 46519875

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں