ام عبد منیب

106 کل کتب
دکھائیں

  • 51 بچاؤ اپنے آپ کو اور گھر والوں کو جہنم کی آگ سے (جمعرات 20 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:2752

    اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے اچھائی اور برائی ،خیر وشر،نفع   ونقصان میں امتیاز کرنے اور اس میں صحیح فیصلہ کرنے کا اختیار دیا ہے ۔اچھے کام کرنے اور راہِ ہدایت کو اختیار کرنے کی صورت میں اس کے بدلے میں جنت کی نوید سنائی ہے ۔ شیطان اور گمراہی کا راستہ اختیار کرنے کی صورت میں اس کے لیے   جہنم کی وعید سنائی ہے۔اللہ تعالیٰ نے راہ ہدایت اختیار کرنے کےلیے اپنے انبیاء کرام کو   مبعوث فرمایا تاکہ انسانوں کو شیطان کے راستے سے ہٹا کر رحمٰن کے راستے پر چلائیں۔تاکہ لوگ اپنے آپ کو جہنم سے بچا کر جنت کا حق دار بنالیں۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ(سورۃ التحریم :6)’’اے ایمان والوں اپنے آپ کوجہنم کی آگ سے بچاؤ جس کاایدھن لوگ اورپھتر ہیں ‘‘اس لیے   گھر کے ذمہ دار کی یہ ذمہ داری ہےکہ وہ اپنے گھر والوں کو ایسے اعمال کرنے کا کہےکہ جن کے کرنے سے جہنم کی آگ سے بچا جاسکے۔ زیرنظر کتاب ’’ بچاؤ اپنے آپ کو اور گھر والوں کوجہنم کی آگ سے ‘‘ میں محترمہ ام عب منیب صاحبہ نے یہ واضح کیاہے کہ اہل میں کون لوگ شامل ہیں ۔اور اللہ تعالیٰ نے اہل کو بچانے کا حکم کیوں دیا؟انبیاء کرام نے اپنے اہل وعیال کو جہنم سے بچانے کا فریضہ کس طر ح ادا کیا اور ہمیں یہ فریضہ کس طرح ادا کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ محترمہ کی اس کاوش کو   اہل ایمان کےلیے جہنم سے آزادی...

  • 52 اسلام اور رفاہی کام (جمعہ 21 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:3152

    کسی شخص کی ذاتی ضرورت کےوقت اس کاکام کردینا یا معاشرے کی اجتماعی ضرورتوں اور سہولتوں کو فراہم کرنے کی کوشش کرنا چاہے وہ کوشش مال کے ذریعے ہو۔ چاہے خدمت او رمحنت کےذریعے چاہے معاشرے کو اس کی ضرورتوں اوراس سہولتوں کےشعور کو عام کرنے کےلیے معلوماتی تحریریں فراہم کی جائیں، ان سب کا نام رفاہی کام ہے جسے خدمت خلق بھی کہا جاتاہے ۔اورانسان اپنی فطری ،طبعی، جسمانی اور روحانی ساخت کے لحاظ سے سماجی اور معاشرتی مخلوق ہے ۔یہ اپنی پرورش،نشو ونما،تعلیم وتربیت،خوراک ولباس اور دیگر معاشرتی ومعاشی ضروریات پور ی کرنے کے لیے دوسرے انسانوں کا لازماً محتاج ہوتا ہے ۔یہ محتاجی قدم قدم پر اسے محسوس ہوتی او رپیش آتی ہے۔ اسلام ایک دین فطرت ہے اس لیے اس نے اس کی تمام ضروریات اور حاجات کی تکمیل کاپورا بندوبست کیا ہے۔ یہ بندو بست اس کےتمام احکام واوامر میں نمایا ں ہے ۔ اسلام نے روزِ اول سے انبیاء کرام کے اہم فرائض میں اللہ کی مخلوق پر شفقت ورحمت او ران کی خدمت کی ذمہ داری عائد کی ۔اس ذمہ داری کو انہوں نے نہایت عمدہ طریقہ سے سرانجام دیا ۔اور نبی کریم ﷺ نے بھی مدینہ منورہ میں رفاہی، اصلاحی اور عوامی بہبود کی ریاست کی قائم کی۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’اسلام اور رفاہی کام ‘‘ محرمہ ام عبد منیب صاحبہ کی کاوش ہے جس میں انہوں نے   رفاہی کام کی تعریف اور سابقہ شریعتوں میں رفاہی کاموں کا تصور بیان کرنےکے بعد شریعت محمدیہ میں رفاہی کا م کے تصور کو احادیث کی روشنی میں پیش کیاہے اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) م۔ا)

  • 53 لاٹری (ہفتہ 22 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:1790

    سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا:لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ آدمی اس بات کی پروا نہیں کرے گا کہ جو مال اس کے ہاتھ آیا ہے وہ حلا ل ہے یا حرام(بخاری:2059) دور حاضر میں مال حرام کمانے کی بہت سی ناجائز شکلیں عام ہو چکی ہیں اور لوگ ان کے حرام یا حلال ہونے کے متعلق جانے بغیر انہیں جائز سمجھ کر اختیار کرتے جا رہے ہیں۔جن میں انعامی سکیمیں ،لاٹری،انشورنس،اور مکان گروی رکھنے کی مروجہ صورت وغیرہ ہیں۔۔ زیر تبصرہ کتاب " لاٹری"معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے لاٹری کی حرمت،لاٹری کی مختلف شکلیں ،لاٹری کی ابتداء ،مسلم ممالک میں لاٹری کی آمد ،پاکستان میں لاٹری اور لاٹری سے متعلق متعدد دیگر موضوعات پر گفتگو فرمائی ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 54 ٹی وی گھر میں کیوں؟ (جمعہ 31 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:1930

    دور ِ حاضر میں میڈیا کے جتنے ذرائع موجود ہیں ٹی وی ان سب سے زیادہ آسان ذریعہ ہے ۔ یہ صرف متعلقہ مواد ہی پیش نہیں کرتا بلکہ آواز کے ساتھ ساتھ تصویر دے کر چہرےکا لب ولہجہ اورمطلوبہ منظر کشی بھی بصارت کے ذریعے عوام کےذہنوں میں منتقل کرتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی قوتِ تاثیر دیگر تمام ذرائع سے کئی گنا زیادہ ہے اس میڈیا کے اتنا مؤثر ہونے کے باوجود دنیا بھر کے ممالک میں تفریح کے نام سے فکری وعملی تخریب پر ابھارنے والا مواد پیش کیا جارہا ہے ،سوائے چند ایک معلوماتی یاتعلیمی پروگرامز کے ۔ٹی وی میڈیا کےپھیلائے ہوئے دینی ،اخلاقی او رمعاشرتی نقصانات زبانِ زدِعام ہیں ،وہ چاہے مغرب کے دانش ورہوں یا مشرق کے علمائےاسلام،یورپی عوام ہوں یا ایشیائی باشندے۔ٹی وی بہت سے کبیرہ گناہوں کامجموعہ ہے محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے زیر تبصرہ کتاب’’ٹی وی گھر میں کیوں؟‘‘ میں ٹی وی کے نقصانات او راس کی وجہ سے انسان جن گاہوں کا شکار ہوتاجاتا ہے ان کومحترمہ نے بڑے احسن انداز میں قرآن واحادیث کی روشنی میں بیان کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کےلیےنفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا )

  • 55 ماہ محرم اور مروجہ بدعات (جمعہ 31 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:3817

    اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے بعض مہینوں کوبعض پر فضیلت عطا کی ہے ۔چنانچہ ماہِ محرم کو بھی اللہ تعالیٰ نے بعض ایسی خصوصیات عطا کیں جو اس کے فضائل کی حامل بھی ہیں اور اسے دوسرے مہینوں کےمقابلے میں ممتاز بھی کرتی ہیں۔اور ماہِ محرم کو اسلامی تقویم کے تمام مہینوں میں سے اولیت اور آغاز کا  مقام حاصل ہے۔اس ماہِ مبارک میں روزے رکھنا  بڑی فضیلت کا باعث ہے ۔نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے  کہ :’’رمضان کے بعد سب مہینوں سے افضل روزے اللہ  کے مہینے محرم کے روزے ہیں‘‘ (صحیح مسلم )محرم کے کسی بھی دن یا رات میں کوئی خاص عبادت ،خاص نماز، خاص وظیفہ خاص دعا پڑہنے کی کوئی دلیل قرآن وسنت سے نہیں ملتی سوائے نو،دس کے روزے کے۔زیر نظر کتابچہ ’’ماہ محرم کے فضائل اور مروجہ بدعات‘‘ محترمہ  ام عبد منیب صاحبہ  کی  اصلاح معاشرہ کے سلسلے میں ایک اہم کاوش ہے جس  میں ا نہوں نے   اختصار کے ساتھ  قرآن وحدیث کی روشنی میں ماہ ِمحرم کی حرمت وفضیلت بیان  کرنے کےبعد اس مہینے میں معاشرے  میں پائی جانے والی مروجہ بدعات وخرافات کی حیثیت کوواضح کیا ہے کہ یہ محض من گھڑت  روایات پر مبنی ہیں جن کاحقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور اس ماہ  میں  کی جانے شیعی بدعات کی قرونِ اولیٰ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کوعوام الناس کی اصلاح   کا ذریعہ بنائے  اور ہمیں ہر گمراہی سےبچائے اور اپنے رسول ﷺ اوران کے صحابہ کرام﷢ کی سچی محبت اور دوستی عطا فرمائے (آمین) (م۔ا) رسوم و رواج اور بدعات بسنت ، اپریل فول ، ویلنٹائن ڈے وغیرہ  رؤیت ہلال اور اسلامی مہینے 

  • 56 حفظ حیا اور محرم رشتہ دار (جمعہ 07 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:2175

    حیا ایک ایسی صفت ہے جو کسی  شخص میں جتنی  زیادہ ہوگی  اس کو  وہ اتنا ہی فحش ومنکر سے درو رکھے گی ۔ارشاد نبوی  ہے :’’جب تم میں حیا نہ رہے تو جوجی چاہے کر‘‘ کچھ کیفیاتِ قلبی ایسی ہیں جو اسلام میں پسندیدہ ہیں ان میں جتنا زیادہ مبالغہ کیا جائے اتنا ہی زیادہ ایمان اور اسلام میں نکھار آتاہے  حیاان میں  سے ایک اہم صفت ہے نبی اکرمﷺ کے حیا کےبارے  میں ایک صحابی کہتے ہیں :’’رسول اللہ ﷺ پردہ نشین کنواری لڑکی  سے بھی زیادہ باحیا تھے ‘‘اور قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ  نے حضرت موسیٰ  رضی اللہ عنہ   واقعہ کےضمن میں شیخ کبیر کی لڑکی کے حیا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاء ’’ان دولڑکیوں میں سے ایک شرماتی ہوئی ان کے پاس آئی‘‘اس سے معلوم ہوا کہ  حیا خواتین کی سیرت کا  لازمی حصہ ہے ۔اس لیے اگر  مرد اور عورت میں  حیا کی کثرت ہے تویہ اس کےلیےخیر وبرکت کا باعث ہے   ۔لیکن آج دور ِحاضر میں  حیا کا جذبہ دم توڑ تا جارہا ہے ،معاشرہ کھلم کھلا بے حیائی کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ محرم رشتوں کے درمیان شرم وحیا اور لحاظ کی جو  مضبوط دیوار تھی وہ اب عام گھرانوں میں نہ ہونے کے برابر ہے ۔با پ بھائی خود اپنی بیٹی اور بہنوں کو ہر قسم کی زیب وزینت خود کرواتے اور دیکھ کر انہیں داد دیتے ہیں  جو کہ اسلامی تعلیمات کے خلاف  ہے۔زیر نظر کتاب ’’ حفظِ حیا اور محرم رش...

  • 57 گدا گری (منگل 11 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:2345

    اللہ تعالی نے انسان کو خوب صورت اور احسن سیرت وعادات پر پید اکیا ہے۔اس کی فطرت میں حیا،خود داری ،غیرت ،تحفظ ذات،تحفظ مال، اور تحفظ ناموس کا جذبہ رکھ دیا ہے۔لیکن جب انسان شرف وامتیاز کی ان خوبیوں کا گلا اپنے ہاتھوں گھونٹ دیتا ہے تو وہ ذلت وحقارت کی ایسی پستی میں گر جاتا ہے کہ دنیا کی ہر چیز اس سے گھن کھا تی ہے اور اس کے نام پر نفرین بھیجتی ہے۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں ایسی تمام بد عادات کا تذکرہ تفصیل کے ساتھ موجود ہے،انہی قبیح عادات میں سے ایک گدا گری بھی ہے۔ اسلام گدا گری کی مذمت کرتا ہے اور محنت کر کے کمائی کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔محنت میں عظمت ہےجو شخص اپنے ہاتھ سے کما کر اپنی ضروریات پوری کرتا ہے ،وہ دراصل ایک خود دار ،غیرت مند انسان ہے اور اسی کو صالح اعمال کی توفیق حاصل ہوتی ہے۔انبیاء کرام اپنے ہاتھ کی محنت سے کماتے تھے۔۔۔ زیر تبصرہ کتاب  " گدا گری"معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ رحمھا اللہ  کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں  نے گدا گری  کی مذمت ،اس کے انسانی معاشرے پر برے اثرات،غیرت وخودی کی موت اور دیگر نقصانات وغیرہ پر گفتگو فرمائی ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل...

  • 58 سجدہ سہو (جمعرات 13 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:2149

    سہو بھول جانے کو کہتے ہیں، جب کبھی نماز میں بھولے سے ایسی کمی یا زیادتی ہو جائے جس سے نماز فاسد تو نہیں ہوتی لیکن ایسا نقصان آ جاتا ہے جس کی تلافی نماز میں ہی ہو سکتی ہے اس نقصان کی تلافی کے لئے شریعت  نے    یہ طریقہ بتایا کہ  کہ آخری قعدے کے تشہد کے بعد  سلام  پھیرنے سے  قبل  یا بعد میں  دوسجدے کیے جائیں ۔ سجدۂ سہو رب کریم کی  مسلمانوں پر مہربانی،نرمی اور آسانی کامظہر ہے۔اگر نماز میں کسی  کمی و بیشی  یا بھول چوک  کی   وجہ سے  پوری  نماز ہی  باطل قرار دے  دی جاتی توپھر از سر نو نماز پڑھنا پڑتی۔زیر تبصرہ کتابچہ  ’’سجدہ سہو‘‘  محترمہ  ام عبد منیب صاحبہ نے ترتیب دیا ہے  جس  میں انہو  ں جن  امور کی وجہ سےسجدہ سہو کیا  جاسکتاہے ان کو بیان کرنے کےساتھ ساتھ سجدہ سہو کےطریقوں کو احادیث نبویﷺ اور علمائے  اسلام کےفتاوی کی روشنی میں بڑے   آسان انداز میں  بیا ن کیا اللہ  تعالیٰ اسے عوام الناس کےلیے  نفع بخش بنائے او رمرتبہ کی  اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) م۔ا)

     

  • 59 سالگرہ (جمعہ 14 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:2031

    سالگرہ کااصل  نام  برتھ ڈئے ہے ۔جس کامطلب ہے پیدائش کا دن ۔ یہ  ایک  رسم ہے جو تقریب  کے شکل میں  ادا کی جاتی  ہے ،سالگرہ کام کا مطلب ہے  زندگی  کے گزشتہ سالوں میں ایک  اور گرہ لگ گئی  یعنی موصوف ایک سال زندگی کا مزید گزار چکے ہیں۔  برتھ ڈے کو عربی میں  یوم المیلاد،ہندی میں  جنم دن  اور اردو میں سالگرہ کہتے ہیں ۔كتاب و سنت كے شرعى دلائل سے معلوم ہوتا ہے كہ سالگرہ منانا بدعت ہے، خواہ وہ نبی کریمﷺ کی ہو یا کسی عام آدمی کی ہو،جو چیز نبی کریمﷺ کے لئے منانا جائز نہیں ہے وہ کسی دوسرے کے لئے کیسے جائز ہو سکتی ہے۔ یہ دين ميں نيا كام ايجاد كر ليا گيا ہے شريعت اسلاميہ ميں اس كى كوئى دليل نہيں، اور نہ ہى اس طرح كى دعوت قبول كرنى جائز ہے، كيونكہ اس ميں شريک ہونا اور دعوت قبول كرنا بدعت كى تائيد اور اسے ابھارنے كا باعث ہوگا۔زیر نظر کتابچہ’’سالگرہ‘‘ محترمہ  ام عبد منیب صاحبہ کی  اصلاح معاشرہ  کے سلسلہ میں ایک  اہم کاوش ہے جس میں  انہو ں نے  سالگرہ  منانے کا آغاز اوراس تقریب میں کی جانے والی خرافات  کو بیان کرتے ہوئے اس کاشرعی  جائزہ بھی  پیش کیا ہے  ۔اللہ تعالیٰ  اس کتابچہ کو  عوام الناس کے لیے   نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

     

  • 60 اشیائے ضرورت کا اسلامی معیار (پیر 17 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:2168

    اسلام کی بنیادی تعلیمات کا مقصد انسان کی دنیوی اور اخروی زندگی کوسکو  ن اور مسرتِ دوام سے  ہمکنار کرنا ہے ۔اسلامی  تعلیمات کے مطابق اشیائے ضرورت صرف اس حد تک  اختیار کرنی چاہییں کہ جہاں پہنچ کر انسان خروی زندگی کی فلاح کے مقصد سے غفلت کاشکار نہ ہو۔جس موڑ پر آکر اشیائے ضرورت انسان کو اپنے پنجے میں جکڑ کر فرائض سے غافل کردیں ان  سے رُک جانا بہتر ہے ۔اشیائے ضرورت کی اہمیت  اگر ہے  تو  اتنی ہی کہ جتنی ہمیں ہمارے  نبی اکر م ﷺ کی حیات طیبہ سے  ملتی ہے  جس کے  نقوش صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم اجمعین  کے گھروں اوررہن سہن میں ملتے ہیں۔انہی  کی مختصر جھلک  محترمہ ام  عبد منیب صاحبہ نے  کتابچہ  ہذا میں پیش کی ہے۔اس کتاب کے تمام مندرجات کاتعلق حلال وحرام یا جائز وناجائز کے  نقطۂ نظر سے  نہیں بلکہ اسے   دنیاوی ساز وسامان کے بے لگام رجحان کوصحیح رخ دینے  کےلیے  لکھا گیا ہے۔لہذا اسے اسی خیال سے  پڑھا اور سمجھا جائے۔حقیقت یہی  ہے کہ  موت کے بعد ہر انسان نے  اپنےہر لمحے اور ہر چیز کاحساب اللہ رب العزت کے  حضور پیش کرناہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زندگیاں  اسلامی تعلیمات کے مطابق بسر کی  توفیق   عطا فرمائے  اور اس کتابچہ کو عوام الناس کےلیے  نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)
     

     


  • 0 کل کتب
    دکھائیں

    اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔

    0 کل کتب
    دکھائیں

    اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

    ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 1302
    • اس ہفتے کے قارئین: 3361
    • اس ماہ کے قارئین: 45223
    • کل قارئین : 46580691

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں