اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

امام ابن تیمیہ

  • نام : امام ابن تیمیہ

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #18

    مصنف : امام ابن تیمیہ

    مشاہدات : 19392

    عقیدہ واسطیہ

    (عقیدہ واسطیہ) ناشر : الکتاب انٹرنیشنل، نئی دہلی

    ابن تيميه وه مصنف هیں جنہوں نے دین اسلام کی خدمت کرتے ہوئے ہر اہم موضوع پر گفتگو کی ہے اس لیے عقیدے کے معاملے میں بھی ابن تیمیہ نے جس انداز سے وضاحت کی ہے یہ انہی کا خاصہ ہے –اللہ تعالی کی صفات میں تحریف کے منکرین گروہ پیدا ہوئے جو کہ فلسفہ سے متاثر تھے تو ابن تیمیہ نے ان کے فلسفے کا رد اور ان کے باطل عقائد کا رد قرآن وسنت سے کیا اور ان کے عقائد کی خرابی کو بڑی وضاحت سے بیان کرنے کے بعد مدلل رد کیا ہے-ابن تیمیہ نے اس کتاب میں اہل سنت کے عقیدے کو بیان کرتے ہوئے عقیدے کی مختلف بحثوں موضوع سخن بنایا ہے جس میں اللہ تعالی پر ایمان کے ساتھ ساتھ اس کی مختلف صفات کا ثبوت اور اللہ تعالی کا عرش پر مستوی ہونے کا ثبوت اور مومنین کے لیے جنت میں اللہ تعالی کے دیدار پر تفصیلی بحث کی ہے- اسی طرح اولیاء کی کرامات کو واضح کیا ہے کہ کون سی چیز کرامت ہوتی ہے اور کون سی چیز کرامت سے خارج ہے بلکہ شیطانی دھوکہ ہے
     

  • 2 #19

    مصنف : امام ابن تیمیہ

    مشاہدات : 24639

    اصحاب صفہ اور تصوف کی حقیقت

    (اصحاب صفہ اور تصوف کی حقیقت) ناشر : المکتبہ السلفیہ شیش محل روڈ، لاہور

    اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے جو پوری دنیا پر چھا جانا چاہتا ہے اور زندگی کی ہر فیلڈ میں جگہ چاہتا ہے-دنیا میں پائے جانے والے دوسرے ادیان کو ان کے ماننے والوں نے ان کو مخصوص جگہوں اور عبادت گاہوں تک محصور کر کے رکھ دیا جس کی وجہ سے وہ ادیان اپنے ماننے والوں کے لیے کوئی راہنمائی نہ دے سکے اسی طرح کچھ لوگوں نے دین اسلام کو بھی پرائیویٹ کرنے کے لیے اس کو تنگ کر کے مخصوص عبادت گاہوں اور خانقاہوں تک محصور کرنے کی کوشش کی اور اسی کام کو دین کی خدمت اور اصل روح قرار دے کر لوگوں کو صرف خوشخبریاں سنائیں اور انہی چیزوں کو اصل اسلام بنا دیا-اسلام کو جس نام سے سکیڑنے کی کوشش کی گئی وہ تصوف ہے اور تصوف کے ماننے والوں نے اس کو مختلف طریقوں سے ثابت کرنے کی کوشش کی اور ثبوت کے طور پر مختلف واقعات کو توڑ مروڑ کر اور من گھڑت احادیث اور واقعات کا سہارا لیا جس کی وجہ لوگ اسلام کی اصل روح سے واقف ہونے کی بجائے اور دوسری چیزوں میں مصروف ہو گئے-ابن تیمیہ نے دین سے مفرور ان لوگوں کی خوب خبر لی اور ان کے من گھڑت دلائل کی حقیقت کو واضح کیا-صحابہ کی طرف نسبت جوڑنے والے صوفیاء کی اس نسبت کی وضاحت کرتے ہوئے صوفیاء میں پائے جاانے والے مختلف سلوک اور من گھڑت روایات سے سہارا لے کر حال اور ناچ گانے کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اس کو ابن تیمیہ نے قرآن وسنت کے دلائل سے واضح کیا ہے اور صحابہ میں تصوف تھا یا نہیں اس کی وضاحت فرمائی ہے- قطب ابدال کی اصطلاحات کی وضاحت، ولیوں کی شان میں من گھڑت روایات اور واقعات کی وضاحت،ولیوں کے غائب ہونے کی وضاحت، اور مشہور مزارات کی نشاندہی کی گئی ہے
     

  • 3 #107

    مصنف : امام ابن تیمیہ

    مشاہدات : 20690

    گانا بجانا سننا اور قوالی اسلام کی نظرمیں

    (گانا بجانا سننا اور قوالی اسلام کی نظرمیں) ناشر : المکتبہ السلفیہ شیش محل روڈ، لاہور

    موسیقی اور گانے بجانے کی اسلام میں شدید مذمت کی گئی ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح الفاظ میں اس حوالے سے وعید کا تذکرہ کیاہے  لیکن ہمارے ہاں نام نہاد ملا اور صوفیاء حضرات قوالی اور  سماع و وجد کے نام پر موسیقی کو رواج دینے پر تلے ہوئے ہیں اور اس ضمن میں  وہ کتاب وسنت کی براہین کے ساتھ لہوولعب کرنے سے بھی باز نہیں آتے-زیر نظر کتاب میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ  نے قوالی اور گانے بجانے کی اسلام میں کیا حیثیت ہے کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے – کتاب کو اردو زبان کا جامہ مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی نے پہنایا ہے- مصنف نے محققانہ انداز میں قوالی اور گانے بجانے کے جواز پر پیش کی جانے والی احادیث کی حیثیت واضح کرتے ہوئے حرمت موسیقی پر آئمہ کرام کے اقوال اور احادیث رسول پیش کی ہیں-
     

  • 4 #460

    مصنف : امام ابن تیمیہ

    مشاہدات : 15787

    قبروں کی زیارت اور صاحب قبر سے فریاد

    (قبروں کی زیارت اور صاحب قبر سے فریاد) ناشر : دعوت وتوعیۃ الجالیات ربوہ۔ریاض

    آخرت کی یاد سے دنیوی زندگی کی بے ثباتی اور ناپائیداری کا احساس ہوتا ہے اور آخرت کی حقیقی زندگی کے لئے حسنِ عمل کا جذبہ اور رغبت پیدا ہوتی ہے۔ یادِ آخرت کا اہم ذریعہ زیارتِ قبور ہے۔ شہرِ خاموشاں میں جاکر ہی بدرجۂ اتم یہ احساس ہوتا ہے کہ موت کتنی بڑی حقیقت ہے جس کا مزہ ہر شخص چکھے گا۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔ جلیل القدر انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوئے اور باری باری موت کا مزہ چکھتے رہے۔ اسی طرح بزعمِ خویش خدائی کا دعویٰ کرنے والے بھی آئے، دارا و سکندر جیسے بادشاہ بھی گزرے لیکن موت کی آہنی گرفت سے کوئی بھی بچ نہ سکا۔ اگر اتنے نامور لوگوں کو بھی موت نے نہ چھوڑا تو ہم اور تم اس کے تصرف سے کیسے چھوٹ سکتے ہیں۔موت کی یاد تازہ کرنے کے لئے قبروں کی زیارت کرنا تو درست ہے لیکن قبر والوں سے جا کرمدد مانگنا ،قبروں پر چڑھاوے چڑھانا اور وہاں نذر ونیاز تقسیم کرنا وغیرہ ایسے اعمال جو شرک کے درجے کو پہنچ جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ قبروں کی زیارت اور صاحب قبر سے فریاد ‘‘ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی تالیف کا ثمر صادق احمد حسین نے اردو ترجمہ کیا ہے۔یہ کتاب درحقیقت رد قبر پرستی کے موضوع پر لکھے گئے ان کے متعدد مضامین کا مجموعہ ہے۔ اور ان دلائل کا مختصراً جائزہ لیا گیا ہے جو قبرپرستی جیسے شرکِ صریح کے جواز میں بالعموم بریلوی علماء یا ان کے ہمنوا اہل قلم کی طرف سے پیش کیے جاتے ہیں ۔ اور اس کے متعلق شیطان اور اس کے نمائندوں کی طرف سے پھیلائے گئے شکوک وشبہات اور تاویلات فاسدہ کی حقیقت قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کر کے ان کا خوب بطلان کرتے ہوئے احقاق حق کا فریضہ سرانجام دیا ہے ۔ اللہ تعالی مولف کی فروغ دین کی ان تمام خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)
     

  • 5 #503

    مصنف : امام ابن تیمیہ

    مشاہدات : 19415

    الصارم المسلول علی شاتم الرسول -اپ ڈیٹ

    (الصارم المسلول علی شاتم الرسول -اپ ڈیٹ) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    جاہلیت جدیدہ کے علم برداروں نے آزادی اظہار کے نام  پر انبیائے کرام علیہم السلام کو بالعموم او رحضور حتمی المرتبت حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص و اہانت کو اپنا منتہائے نگاہ ٹھہرا لیا ہے،جس کے مظاہر حالیہ چند برسوں میں مختلف یورپی ممالک میں دیکھنے کو ملے۔ان حالات میں یہ لازم تھا کہ جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقدیس و تعظیم کے تصور کو اجاگر کیا جاتا اور توہین رسالت کی شناعت و قباحت اور اس کی سزا وعقوبت کو کتاب وسنت کی روشنی میں واضح کیا جاتا۔اسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کرامت کہیے  یا عنداللہ ان کی مقبولیت کہ ناموس رسالت کے دفاع و تحفظ پر جو کچھ شیخ الاسلام رحمہ اللہ کے قلم سے نکلا ہے سات صدیوں  سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی وہ اس قدر جاندار،زندہ اور مدلل ہے کہ اس مسئلہ میں آج بھی سند اور اولین مرجع کی حیثیت رکھتا ہے۔زیر نظر کتاب حضرت شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے خاص اسی مسئلہ پر تحریر کی ہے اور اپنے خاص انداز تحریر میں اس قضیہ کے ہر پہلو پر سیر حاصل بحث کی ہے ۔اس کتاب کے حسن قبول کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ وہ لوگ جو شیخ الاسلام کے سخت ناقد اور مخالف ہیں وہ بھی اس کا اردو ترجمہ کر کے شائع کر رہے ہیں،جیسا کہ اس سے قبل اس ترجمے کو اسی ویب سائٹ پر پیش کیا جا چکا ہے۔اب معروف سلفی عالم اور مصنف و مترجم جناب پروفیسر غلام احمد حریری مرحوم کا ترجمہ  پیش کیا جارہا ہے۔جو اگرچہ کافی عرصہ سے موجود ہے تاہم اس کی نئی طباعت حال ہی میں منظر عام پر آئی ہے۔امید ہے کہ اس کتاب کے مطالعہ سے عقیدہ ناموس رسالت میں پختگی آنے کی اور جناب رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و الفت کے رشتے مزید مستحکم ہوں گے۔ان شاء اللہ تعالیٰ
     

  • 6 #505

    مصنف : امام ابن تیمیہ

    مشاہدات : 13291

    فکر و عقیدہ کی گمراہیاں اور صراطِ مستقیم کے تقاضے

    (فکر و عقیدہ کی گمراہیاں اور صراطِ مستقیم کے تقاضے) ناشر : دار السلام، لاہور

    فکر وعقیدہ کی گمراہیوں میں سے شرک اور بدعت دو بڑی گمراہیاں ہیں۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتب میں ان دونوں گمراہیوں پر مفصل کلام موجود ہے۔ شیخ الاسلام رحمہ اللہ کی اس کتاب کا موضوع بدعات ہیں ۔ شیخ الاسلام نے اپنی اس کتاب میں اپنے زمانے میں پائی جانے والی متعدد بدعات کی نشاندہی کی ہے اور ان کا رد کیا ہے۔اس کتاب کو بالاستیعاب پڑھنے والوں پر ایک تاثر قائم ہوئے بغیر نہیں رہے گا کہ شیخ الاسلام کا شرک اور بدعت کا منہج تردید مختلف ہے۔ شرکیہ و کفریہ افکار کے حاملین اشخاص اور گروہوں کا رد کرتے ہوئے شیخ الاسلام کا لب ولہجہ اور اسلوب، افکار ونظریات اور ان کے حاملین دونوں کے حوالہ سے انتہائی سخت ہوتاہے جبکہ اہل بدعت اور مبتدعین کی تردید میں موقف میں تو لچک نہیں ہے اور بدعات کی خوب تردید موجود ہے جبکہ اہل بدعت پر نقد کرتے ہوئے بہرحال رویہ اتنا سخت نہیں ہے اور کبھی کبھار بعض بدعات میں ان کے لیے اجتہاد ی خطا کے نام پر ثواب کی امید بھی رکھتے ہیں، بشرطیکہ وہ اپنی بدعات میں مخلص ہوں اور یہ بدعات عبادات وغیرہ کی قبیل سے ہوں لیکن اس کے باوجود ان کی بدعات پر شدید نکیر کے قائل ہیں۔شیخ الاسلام کا کہنا یہ ہے کہ بدعات میں خیر وشر دونوں پہلو ہوتے ہیں ۔ خیر کا پہلو تو وہ عبادات اور اعمال صالحہ ہیں جو اہل بدعت کرتے ہیں مثلاً بعض متعین راتوں کو عبادات کے لیے مخصوص کرنا یا متعین دنوں میں روزہ رکھنا اور شر کا پہلو ان کی فکر میں ہوتا ہے کہ وہ اس عمل کو دین سمجھ کر کررہے ہوتے ہیں اور بدعات کے رواج سے سنن اٹھا لی جاتی ہیں جس سے دین غیر محفوظ ہوتا چلا جاتا ہے۔
    شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے اپنی اس کتاب میں یہ بحث بھی کی ہے کہ بعض منکرین بدعات ، بدعات کا تو خوب انکار کرتے ہیں لیکن خود سنت کے پیروکار نہیں ہوتے یعنی سنن موکدہ اور غیر موکدہ وغیرہ پر عمل نہیں کرتے اورصرف فرائض واجبات کو پورا کرنے کے چکر میں رہتے ہیں۔ شیخ الاسلام ایسے لوگوں کی مذمت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بدعات کو رواج دینا اور سنن کو ترک کرنا دونوں برابر ہی ہیں اور سنن کو ترک کرنے والے اس اہل نہیں ہیں کہ وہ بدعات سے لوگوں کو روکیں۔ بدعات کے رواج سے بھی سنن اٹھالی جاتی ہیں اور آہستہ آہستہ مٹ جاتی ہیں اور ترک سنن سے بھی سنن ختم ہو جاتی ہیں لہذا نتیجہ کے اعتبار سے ارتکاب بدعات اور ترک سنن دونوں دین کو غیر محفوظ بناتے ہیں۔شیخ الاسلام کا مقصود یہ ہے کہ سوموار اور جمعرات کا روزہ یا ایام بیض کے تین روزے یا عاشورہ اور ذہ الحجہ وغیرہ کے نفلی روزے رکھنے کی سنن پر اگر معاشرے میں رواج ہو گا تو لوگوں کا روزے کی عبادت کا بنیادی طبعی وفطری تقاضامکمل ہو رہا ہو گا لہذا روزہ کے حوالہ سے کسی بدعت کا رواج پانے کے امکانات بہت کم ہوں گے۔
    اپنی اس کتاب میں امام رحمہ اللہ نے شد رحال والے مسئلہ پر تفصیلی گفتگو کی ہے اور تین مقامات یعنی مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصی کے علاوہ کسی مقام یا قبر کے لیے اہتمام سے سفر کرنے کی نفی کی ہے تاکہ انسان وہاں دعا یا عبادت کر سکے۔ ایک تو صاحب قبر سے دعا کرنا ہے تو یہ تو شرک ہے اور اگر کوئی شخص کسی صاحب قبر کی نبوت یا ولایت یا مقامات ثلاثہ کے علاوہ کسی مقام کو بابر کت سمجھتے ہوئے وہاں جا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرے یا وہاں جا کر اللہ ہی کی عبادت کرے تو یہ بدعت ہے اور ایسا کرنے والے پر نکیر کی جائے گی۔پس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر سلام کہنا تو مسنون ہے لیکن قبر کے پاس اہتمام سے جا کر عبادت کرنا یا اللہ سے دعا کرنا اس عقیدہ کے ساتھ کہ یہ مقام بابرکت ہے ، تو یہ شیخ الاسلام کے نقطہ نظر میں درست نہیں ہے۔اگر اتفاق سے کسی کو قبر کے پاس عبادت یا دعا کا وقت داخل ہوا اور اس نے عبادت یا دعا کر لی تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
    شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے اپنی اس کتاب میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے اس طرز عمل کے بارے بھی بحث کی ہے وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقامات عبادت تلاش کرتے تھے تو کیا اس مسئلہ میں ان کی اتباع درست ہے ۔مثلاً غار حرا میں آپ نے عبادت فرمائی تو آپ کے اس مقام عبادت کا سفر وہاں دورکعت نفل وغیرہ پڑھنے کے لیے جائز ہے اور اس کی دلیل حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے عمل سے لی جا سکتی ہے ؟ شیخ الاسلام اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ اپنے اس عمل میں منفرد تھے جبکہ بقیہ کبار صحابہ مثلا خلفائے راشدین آپ کی اس قسم کی اتباع نہیں کرتے جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ کرنے کی کوشش کرتے تھے لہذا صحابہ کے اس اختلاف کی صورت میں جمہور اور کبار صحابہ کا عمل راجح ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان مقامات کو تبرک سمجھ کر وہاں عبادت یا وہ افعال نہیں کیے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے بلکہ آپ کی اتباع کی نیت سے کیے تھے۔

  • 7 #508

    مصنف : امام ابن تیمیہ

    مشاہدات : 11543

    رافضیت ابن تیمیہ کے اقوال کی روشنی میں

    (رافضیت ابن تیمیہ کے اقوال کی روشنی میں) ناشر : المکتبۃ التعاونی للدعوۃ والارشاد

    اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت کے لئے مختلف اسباب مہیا فرمائے، جن میں ایک سبب یہ ہے کہ اس نے امت کے ربانی علماء کو دین اسلام کا دفاع اور بدعت اور اس کے خطرات کی نشاندہی کرنے کی توفیق دی، اللہ نے جن علمائے امت کو اس کارخیر کی توفیق بخشی ان میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کا نام بھی شامل ہے۔ ان کی تالیفات میں سے منہاج السنۃ النبویہ ایک اہم تالیف ہے۔ زیر تبصرہ کتاب اسی کتاب سے منتخب کردہ رافضیت کے موضوع پر سوالات کے جوابات پر مشتمل ہے۔ مذکورہ فرقہ سے متعلق ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اقوال اس کی واضح دلیل ہیں کہ انہیں اس فرقہ کے مذہب اور ان کے اقوال و روایات پر وسیع معلومات حاصل تھیں، ان کے پیش کردہ عقلی و نقلی دلائل و براہین سنجیدہ ، ٹھوس اور پائیدار بنیادوں پر قائم ہیں۔جن کی تردید کی فریق مخالف نے آج تک جرات نہیں کی۔

  • 8 #563

    مصنف : امام ابن تیمیہ

    مشاہدات : 16395

    کتاب الوسیلہ

    (کتاب الوسیلہ) ناشر : اسلامی اکادمی،لاہور

    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کا اسم گرامی محتاج تعارف نہیں ۔ساتویں صدی ہجری میں جب کہ ہر طرف شرک و بدعت ،تصوف و فلسفہ اور الحاد ولادینیت کے گھٹا گھوپ اندھیرے چھائے ہوئے تھے،حضرت الامام نے توحید رسالت اور آخرت پر ایمان و یقین کی قندیلیں روشن کیں او ر شرک و بدعت کے خلاف علم جہاد بلند کیا۔امام صاحب کے زمانہ میں ایک گمراہ کن عقیدہ یہ بھی فروغ پارہا تھا کہ اللہ تعالی تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کسی بزرگ کے وسیلہ کی ضرورت ہے ۔جس طرح ایک عام شہری کسی درمیانی واسطہ کے بغیر براہ راست بادشاہ  وقت تک نہیں پہنچ سکتا،اسی طرح اللہ عزوجل کا تقرب بھی کسی توسط کے بغیر ممکن نہیں ۔ظاہر ہے کہ یہ نظریہ قرآن وحدیث سے کسی طرح میل نہیں کھاتا لہذا امام صاحب نے اس کی پرزور تائید کی اور شرعی دلائل کی روشنی میں وسیلہ کے جائز و ناجائز پہلوؤں پر سیر حاصل بحث کی۔موجودہ زمانے میں بھی یہ مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ اہل بدعت وسیلہ کے غلط تصور کو معاشرے میں پھیلانے کے لیے کوشاں ہیں ۔لہذا ہر متبع سنت کو اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ حقیقت حال سے آگاہ ہو سکے اور شکوک و شبہات سے خود  بھی بچ سکے اور دوسروں کو بھی بچا سکے۔
     

  • 9 #577

    مصنف : امام ابن تیمیہ

    مشاہدات : 18356

    الوصیۃ الصغریٰ

    (الوصیۃ الصغریٰ) ناشر : الدار السلفیہ، ممبئی

    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ علیہ الرحمۃ کی تجدیدی اوراصلاحی خدمات قیامت تک امت اسلامیہ پراحسان رہیں گی،اوران کی علمی ،اصلاحی اورتجدیدی یادگاریں رہتی دنیاتک عوام وخواص کے لیے مشعل راہ بنی رہیں گی۔زیرنظررسالہ الوصیۃ الصغریٰ جودراصل حضرت معاذبن جبل رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کی  مکمل تشریح ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تقوی ،حسن خلق ،اخلاص ،توکل ،توبہ ،استغفار،تفقہ فی الدین اورمداومت ذکرکی تاکیدفرمائی تھی ۔یہ وصیت اتنی جامع اورمکمل ہے کہ ہرمسلمان کواسے اپنی زندگی کادستورالعمل بنایاچاہیے کہ اسی میں امت کی فلاح اوردین ودنیا کی سعادت کارازمضمرہے ۔رب کریم ہمیں ان قیمتی نصائخ کواپنانے کی توفیق عنائیت فرمائے تاکہ ہم اپناکھویاہوا وقارپھرسے حاصل کرسکیں۔آمین

     

     

  • 10 #631

    مصنف : امام ابن تیمیہ

    مشاہدات : 19642

    روضئہ اقدس کی زیارت

    (روضئہ اقدس کی زیارت) ناشر : ادارہ ترجمہ و تالیف و الا شاعت ۔فیصل آباد

    یہ کتاب شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’الرد علی الاخنائی‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔اس میں جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اقدس کی زیارت پر مبسوط بحث کی گئی ہے ۔روایتی فقہاء کا خیال ہے کہ روضہ رسول کی زیارت کے لیے سفر جائز ہے ،لیکن شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ نے عقلی و نقلی دلائل کے ساتھ سختی سے اس کی تردید کی ہے ۔شیخ الاسلام خوب سمجھتے تھے کہ اس نازک مسئلہ پر قلم اٹھانا آسان نہیں،لیکن انہوں نے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عتاب کے پیش نظر اپنے آپ کو اس کٹھن کام کے لیے آمادہ کیا اور عوام کی مخالفت اور دشمنی کی پروا نہ کرتے ہوئے اس کو مفصل ،مبسوط اور واضح شکل میں پیش کر دیا۔واضح رہے کہ امام صاحب نے روضہ رسول کی زیارت کے لیے سفر سے تو روکا ہے تاہم مطلق زیارت کو جائز قرار دیا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ بنی معظم صلی اللہ علیہ وسلم کا اجلال و احترام اور توقیر و اکرام ایسے پر کشش انداز اور دل نشین پیرائے میں ذکر فرمایا ہے جو کمال محبت،جذب و مستی اور وارفتگی میں اپنی مثال آپ ہے ۔
     

< 1 2 3 4 5 >

کل کتب 6

دکھائیں
کتب

کل کتب 0

دکھائیں
کتب

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1309
  • اس ہفتے کے قارئین 16163
  • اس ماہ کے قارئین 39703
  • کل قارئین49255238

موضوعاتی فہرست