ڈاکٹر فضل الٰہی

32 کل کتب
دکھائیں

  • 21 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے اسباب (ہفتہ 28 جولائی 2012ء)

    مشاہدات:15224

    نبیﷺ کی محبت ایک مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔ اور کوئی بھی مسلمان اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ رسول اللہ ﷺ سے اپنے جان و مال ماں باپ اور اولاد سے زیادہ محبت نہ کرے۔ دعویٰ محبت میں صرف قول ہی معتبر نہیں بلکہ اس کی عملی دلیل ضروری ہے اور وہ محبوب یعنی نبیﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونا او ران کے اخلاق کو اپنانا ہے۔زیر نظر کتاب میں اس بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ نبیﷺ سے محبت کے اسبا ب کیا ہیں ؟اور ان پر عمل پیرا ہوا جائے جس سے نبیﷺ سے محبت کا رشتہ ہمیشہ کے لئے قائم رہ سکتا ہے۔مثلاً نبیﷺ سےمحبت کی فرضیت کو نہ بھولنا، حب نبیؐ کے ثمرات کو یاد رکھنا ، آپ ؐ کے احسانات کو فراموش نہ کرنا، شان مصطفیٰؐ کو نگاہوں میں رکھنا، اخلاق نبویؐ کو حرز جان بنانا اور کثرت سے آپؐ کا ذکر خیر کرنا اور درود پڑھنا۔یہ وہ اسباب ہیں جن سے ایک امت کا نبیؐ کی محبت سے رشتہ جڑا رہ سکتا ہے۔(ک۔ط)
     

  • 22 مسائل قربانی (اتوار 23 ستمبر 2012ء)

    مشاہدات:22613

    قربانی ابراہیم علیہ السلام کی عظیم سنت اور رسول مکرم ﷺ کا دائمی عمل ہے۔ پھر اہل اسلام کو اس اہم عمل کی خاصی تاکید کی گئی ہے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ مسائل قربانی پر ایک ایسی جامع کتاب مرتب کی جائے جو قربانی کے تمام مسائل کو محیط ہو اور اس حوالہ سے کسی مسئلہ کا حل تشنہ نہ رہے۔ پروفیسر ڈاکٹر فضل الٰہی کی زیر نظر کتاب اس سلسلہ کی ایک اہم کوشش و کاوش ہے۔ جس میں قربانی سے متعلقہ بہت سارے مسائل کو بالبداہت بیان کر دیا گیا ہے۔ جس میں قربانی کرنے والے کےلیے ناخن و بال کاٹنے کا حکم، میت کو قربانی میں شریک کرنا، قربانی کے جانور کی عمر، قربانی کے دن، قربانی نماز عید کے بعد کرنا، اونٹ اور گائے میں ایک سے زیادہ افراد کی شرکت اور قربانی کے گوشت کی تقسیم وغیرہ جیسے مسائل پر کتاب و سنت کی درست رہنمائی فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کتاب کے آخر میں ماہ ذوالحجہ کے آخری دس دنوں کی فضیلت و اہمیت بھی بیان کر دی گئی ہے۔ اہل حدیث علما کے مابین ایک اختلافی مسئلہ میت کی طرف سے قربانی کے جواز یا عدم جواز کا ہے۔ اس سلسلہ میں ڈاکٹر صاحب نے میت کی طرف سے قربانی کے جواز کی جانب رجحان ظاہر  کیا ہے۔ جبکہ مولانا عبدالمنان نورپوری رحمہ اللہ اور دیگر بہت سے اہل حدیث علما کا موقف اس سے مختلف ہے۔ بہر حال قربانی کے عمومی مسائل سے واقفیت کے حوالہ سے یہ کتاب لائق مطالعہ ہے۔(ع۔م)
     

  • کسی بھی شخص کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ نبی کریمﷺ کو پوری مخلوق سے زیادہ محبت نہ کرے۔ آج امت کی بہت بڑی تعداد زبانی طور پر  نبی کریمﷺسے محبت کا دم تو بھرتی ہے لیکن آنحضرتﷺ سےمحبت کی حقیقت، اس کےتقاضوں  اور علامتوں سے غافل ہے۔ نبی کریمﷺ سے محبت کے ضمن میں پروفیسر ڈاکٹر فضل الٰہی نے پنےمخصوص انداز میں زیر نظر کتاب مرتب کی ہے۔ جس میں ان سوالات کےجوابات دینےکی کوشش کی گئی ہے: نبی کریمﷺ سے محبت کا حکم کیا ہے؟ نبی کریمﷺ سے محبت کے دنیا و آخرت میں کیا فوائد ہیں؟ نبی کریمﷺ سے محبت کی کیا علامات ہیں؟ صحابہ کرام آپﷺ سے محبت کی علامتوں کے اعتبار سے کیسےتھے؟ اور ہم آپﷺ سے محبت کی علامتوں کے اعتبار سے کیسے ہیں؟ اس موضوع سے متعلق گفتگو کو تین مباحث میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مبحث اول نبی کریمﷺ کے ساتھ ساری مخلوق سے زیادہ محبت کرنے کی فرضیت، دوسری مبحث نبی کریمﷺ سے محبت کے فوائد و ثمرات اور تیسری اور آخری مبحث نبی کریمﷺ سے محبت کی علامتوں پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ کتاب کے آخر میں مصنف نے تین صفحات پر مشتمل مسلمانان عالم کو ایک تنبیہ کی ہے جس میں انھیں یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ آپ ﷺ سے محبت میں کسی بھی طور اعتدال کا دامن ہاتھ نہیں چھوٹنا چاہیے۔(ع۔م)
     

  • 24 نبی کریم ﷺ بحیثیت والد (بدھ 07 اگست 2013ء)

    مشاہدات:5748

    آپﷺکی حیات طیبہ کا ہر گوشہ ہی ہمارے لئے بہترین اسوہ ہے ۔ اور انسانی زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کے بارے میں آپﷺ کی سیرت طیبہ سے رہنمائی نہ ملتی ہو ۔ تجارت ، جنگ ، معلم ، مربی ، لیڈری ، الغرض کوئی شعبہء حیات ایسا نہیں جس کے بارے میں آپ کی سیرت طیبہ روشنی نہ ڈالتی ہو ۔ ایسے ہی آپ ﷺ کی زندگی کا ایک بہترین پہلو والد ہونا ہے ۔ اس حوالے سے آپ نے کیا فرائض سرانجام دیے ۔ اور کونسی تعلیمات دی ہیں؟ آج کے اس مصروف ترین دور میں انسان کا اپنے گھر اور بچوں کے ساتھ ایک جز وقتی سا تعلق رہ گیا ہے ۔ بچوں کی تربیت جیسے حساس پہلو سے بھی غفلت برتی جا رہی ہے ۔ محترم جناب ڈاکٹر فضل الہی صاحب نے اس حوالے سے ذمہ داری کا احساس دلانے کے لیے یہ کتاب رقم فرمائی ہے ۔ اور چونکہ ایک مسلمان اپنی زندگی تمام شعبوں میں آپ کی حیات مبارکہ سے ہی رہنمائی لیتا ہے اس وجہ سے جناب ڈاکٹر صاحب نے اس غفلت شدہ فرض کا احساس بیدار کرنے کے لیے سیرت کا ہی انتخاب فرمایا ۔ اس سلسلے میں آپ نے سترہ اصول دیے ہیں کہ اولاد کی تربیت کے لیے آپ ﷺ نے کیا طریقہ اختیار فرمایا ۔ (ع۔ح)
     

  • 25 حج و عمرہ کی آسانیاں (ہفتہ 06 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:2392

    دین کی سہولت اور نبی کریم ﷺکےآسانی کرنے کے مظاہر دین کے ہرگوشے میں ہیں ۔اعتقادات،عبادات اورمعاملات کو ئی پہلو اس سے خالی نہیں۔ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے  بیت اللہ کا حج ہے ۔بیت  اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی  ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے  ہر  صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں  ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی  فرض ہے  ۔ا ور  اس  کے انکار ی  کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام   سےخارج ہے اس میں بھی  اللہ تعالیٰ کی عطاہ کردہ اور نبی کریم ﷺ کی بیان  کردہ آسانیاں کثرت سے  موجود ہیں ۔حج کےآغازہی میں  آسانی  ہے حتی کہ اس کی فرضیت  صرف  استطاعت رکھنے والے  لوگوں پر ہے۔اس  کے اختتام میں بھی  سہولت ہے ۔مخصوص  ایام والی عورت کی روانگی کا وقت آجائے تو  طواف کیے بغیر  روانہ ہوجائے۔ایسا  کرنے سے  نہ اس کے  حج میں کچھ خلل ہوگا او رنہ ہی اس پر کوئی فدیہ لازم آئے گا۔اللہ  کریم  نےاپنے  دین کو سراپا آسانی بنانے اور آنحضرت ﷺ کوسہولت کرنے والا بناکر  مبعوث کرنے پر  ہی اکتفا نہیں ،بلکہ امتِ اسلامیہ کو بھی آسانی کرنے والی امت بناکر  بھیجا جیساکہ ارشاد نبوی  ہے : فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ، وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ (صحیح بخاری :6128)’’ یقیناً تم آسانی کرنے  والے  نبا کر بھیجے گئے ہو ،تنگی کرنے والے  بنا کر نہیں بھیجے گئے&lsq...

    حج 
  • 26 زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات (ہفتہ 18 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:3007

    زنا ایک سنگین اور قبیح ترین گناہ ہے۔دین اسلام  جہاں زنا سے منع کرتا ہے وہیں اسباب زنا کے قریب جانے سے بھی روکتا ہے۔شرک کے بعد زنا کی نجاست و خباثت تمام معصیات سے بڑھ کر ہے۔ کیونکہ یہ گناہ ایسے ہیں جو دل کی قوت و وحدت کو پارہ پارہ کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں وارد ہونے والوں کی اکثریت مشرک ہوتی ہے۔اور جب یہ نجاست دل کو فساد سے بھر دیتی ہے تو یقینا اللہ طیب و پاک ذات سے انسان دور ہی ہوگا۔دین اسلام اس بدکاری کی ہر شکل سے روکتا اور اس کی مذمت کرتا ہے۔ سراً ہو یا جہراً، ہمیشہ کا ہو یا ایک لحظہ کا، آزادی سے ہو یا غلامی کے ساتھ، اپنوں سے ہو یا بیگانوں سے، حتی کہ اس کی طرف لے جانے والے اسباب المخادنہ والمصادقہ کی بھی نہیں اور نفی کر دی گئی ہے۔ مردوں کے لیے بھی اور عورتوں کے لیے بھی۔اور قرب قیامت اسی بدکاری کے ارتکاب کی شدت و کثرت کی وجہ سے سماوی عذاب اور لا علاج امراض مسلط کر دیئے جائیں گے۔ حتی کہ اس جرم اور دیگر اس کے ہم جنس جرائم کی وجہ سے لوگ خنزیر اور بندر کی شکل والے بنا دیئے جائیں گے۔ زیر تبصرہ کتاب "زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات"علامہ احسان الہی ظہیر کے برادر اصغر معروف عالم دین پروفیسر ڈاکٹر  فضل الٰہی ظہیر صاحب کی تصنیف ہے۔آپ ایک معروف شخصیت ہیں اور  کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔آپ ایک کہنہ مشق مدرس و معلم اور کتب کثیرہ و قیمہ کے مصنف و مؤلف اور مترجم ہیں۔یہ کتابدو فصلوں پر مشتمل ہے۔ فصل اول میں چار عدد مباحث ہیں، جن میں اسلام، یہودیت، عیسائیت اور دیگر سلیم الفطرت لوگوں کا زنا سے متعلق مؤقف با دلائل لکھا گیا ہے۔جبکہ...

    زنا 
  • 27 رزق کی کنجیاں ( جدید ایڈیشن ) (اتوار 19 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:2867

    دین اسلام میں حلال ذرائع سے کمائی جانے والی دولت کو معیوب قرار نہیں دیا گیا چاہے اس کی مقدار کتنی ہی ہو۔ لیکن اس کے لیے شرط یہ ہےکہ دولت انسان کوبارگاہ ایزدی سے دورنہ کرے۔ فی زمانہ جہاں امت مسلمہ کو دیگر لا تعداد مسائل کا سامنا ہے وہیں امت کےسواد اعظم کو فکر معاش بری طرح لاحق ہے۔اور لوگوں کی ایک کثیر تعداد کا باطل گمان یہ ہے ہےکہ قرآن وسنت کی تعلیمات کی پابندی رزق میں کمی کا سبب ہے اس سے زیادہ تعجب اور دکھ کی بات یہ ہے کہ کچھ بظاہر دین دار لوگ بھی یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ معاشی خوشی حالی اور آسودگی کے حصول کےلیے کسی حد تک اسلامی تعلیمات سے چشم پوشی کرنا ضروری ہے ۔ یہ نادان لوگ اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ کائنات کے مالک وخالق اللہ جل جلالہ کے نازل کردہ دین میں جہاں اُخروی معاملات میں رشد وہدایت کا ر فرما ہے وہاں اس میں دنیوی امور میں بھی انسانوں کی راہنمائی کی گئی ہے جس طرح اس دین کا مقصد آخرت میں انسانوں کیو سرفراز وسربلند کرنا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے یہ دین اس لیے بھی نازل فرمایا ہے کہ انسانیت اس دین سے وابستہ ہو کر دنیا میں بھی خوش بختی اور سعادت مندی کی زندگی بسر کرے ۔کسبِ معاش کے معاملے میں اللہ تعالیٰ او ران کےرسول کریم ﷺ نے بنی نوع انسان کو اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے ہوئے نہیں چھوڑا بلکہ کتاب وسنت میں رزق کے حصول کےاسباب کو خوب وضاحت سے بیان کردیا گیا ہے ۔ اگر انسانیت ان اسباب کواچھی طرح سمجھ کر مضبوطی سے تھام لے اور صحیح انداز میں ان سے استفادہ کرے تو اللہ مالک الملک جو ’’الرزاق ذو القوۃ المتین‘‘ ہیں لوگوں کےلیے ہر ج...

  • 28 آیت الکرسی کے فضائل و تفسیر (پیر 20 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:5357

    آیت الکرسی بہت بڑی عظمت ورفعت والی آیت ہے اوراس بلندی اور برتری کا سبب اس میں بیان کردہ باتیں ہیں ۔ یہ رب العالمین کی توحید ان کی کبریائی بڑائی صفات پر مشتمل ہے۔قرآن کریم ہر آیت کریمہ عالی مرتبت اور عظیم القدر ہے لیکن ان میں سے عظیم ترین آیت ’’آیت الکرسی‘‘ ہے آیات قرآنیہ میں سےیہ واحد آیت کریمہ ہے جس کو آنحضرت ﷺ نے بطور وظیفہ کثرت سے تلاوت کیا ہے اور صحابہ کرام اور امت مسلمہ کو تلاوت کی بار بار تاکید فرمائی ہے ۔ مثلاً پانچ نمازوں کے بعد ،رات کوسوتے وقت ، اپنی مادی چیزوں کو جن وانس سے محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی طور تلاوت کی تعلیم عطا فرمائی ہے ۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس کو بطور وظیفہ اپنانے کی مقدور بھر کوشش کرے اور اس آیت کے فیوض وبرکات کوسمیٹنے کا اہتمام کرے ۔اور نبی کریم ﷺ کی متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ آیۃ الکرسی قرآن کریم کی عظیم ترین آیت ہے اس لیے کہ اس میں ذات باری تعالیٰ کی توحید اس کی عظمت اوراس کی صفات کا بیان ہے حضرت ابی بن کعبؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ: ’’آیۃ الکرسی قرآن کریم کی عظیم ترین آیت ہے‘‘اور حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا کہ’’ آیۃ الکرسی ایک چوتھائی قرآن ہے‘‘ ۔ زیرتبصرہ کتاب ’’آیت الکرسی کے فضائل وتفسیر‘‘ شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کے برادر محترم مصنف کتب کثیرہ جناب ڈاکٹر فضل الٰہی ﷾ کی تصنیف ہےاس کتاب کو انہوں نے دو بحثوں میں تقسیم کیا ہے پہلی بحث آیت الکرسی کے فضائل اور دوس...

  • 29 بیٹی کی شان و عظمت (پیر 19 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:3618

    اللہ تعالیٰ نےدنیاکی ہر نعمت ہر انسان کوعطا نہیں کی بلکہ اس نے فرق رکھا ہے اور یہ فرق بھی اس کی تخلیق کا کمال ہے کسی کو اس نے صحت قابلِ رشک عطا کی کسی کو علم دوسروں کے مقابلے میں زیادہ دیا، کسی کودولت کم دی کسی کوزیادہ دی ،کسی کو بولنے کی صلاحیت غیرمعمولی عطا کی ، کسی کو کسی ہنر میں طاق بنایا، کسی کودین کی رغبت وشوق دوسروں کی نسبت زیادہ دیا کسی کو بیٹے دئیے، کسی کو بیٹیاں، کسی کو بیٹے بیٹیاں، کسی کو اولاد زیادہ دی ، کسی کوکم اور کسی کو دی ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر اولاد کی محبت اور خواہش رکھ دی ہے ۔ زندگی کی گہما گہمی اور رونق اولاد ہی کےذریعے قائم ہے۔ یہ اولاد ہی ہےجس کےلیے انسان نکاح کرتا ہے ،گھر بساتا ہے اور سامانِ زندگی حاصل کرتا ہے لیکن اولاد کے حصول میں انسان بے بس اور بے اختیار ہے۔ اللہ تعالیٰ نےاس نعمت کی عطا کا مکمل اختیار اپنےہاتھ میں رکھا ہے چاہے توکسی کو بیٹے اور بیٹیوں سے نوازے او رکسی کو صرف بیٹے دے او رچاہے توکسی صرف بیٹیاں دے دے توبیٹیوں کی پیدائش پر پریشانی کا اظہار نہیں کرناچاہیے کیونکہ بیٹیوں کی پیدائش پر افسردہ ہونا کافروں کی قابل مذمت صفات میں سے ہے۔امام احمد بن حنبل﷫ بیٹیوں کی ولادت پر فرمایا کرتے تھے کہ حضرات انبیاء ﷩ بیٹیوں کےباپ تھے ۔بیٹیوں کی بجائے صرف بیٹوں کی ولادت پرمبارک باد دینا طریقہ جاہلیت ہے ۔ دونوں کی ولادت پر مبارک باددی جائے یا دونوں موقعوں پر خاموشی اختیار کی جائے ۔آنحضرتﷺ نےبیٹیوں کو ناپسند کرنے سے منع فرمایا او رانہیں پیار کرنے والیاں اور بیش قیمت قرار دیا۔ اور نیک بیٹیاں اپنے والدین کےلیے ثواب...

  • 30 حضرت ابراہیم کی قربانی، تفسیر و دروس (جمعرات 22 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:2656

    قرآن کریم کاایک بہت بڑا حصہ انبیائے سابقین ﷩ او ردیگر لوگوں کے قصوں پر مشتمل ہے۔ بعض اہل علم کی رائے میں یہ حصہ قرآن کریم کے آٹھ پاروں کے برابر ہے۔ قرآنی قصوں کی اہمیت او رفائدہ کوواضح کرنے کےلیے یہ بذات خود ایک بہت بڑی شہادت ہے۔ علازہ ازیں اللہ تعالیٰ نےنبی کریم ﷺ کوحکم دیا کہ وہ لوگوں کوتدبر وتفکر پرآمادہ کرنے کےلیے ان کے روبروقصے بیان کریں۔قرآنی قصوں میں کتنے فوائد ہیں ! ان سے انسانی معاشروں میں ہمیشہ سے موجود سنن الٰہیہ سے آگاہی ہوتی ہے۔قرآنی قصے انسانیت کو اس بات کی خبر دیتے ہیں کہ انسانوں کےاعمالِ خیر سے کیا بہاریں آئیں او راعمال ِ شر کن بربادیوں کاسبب بنے۔ قرآنی قصے تاریخی نوادرات ہیں، جوانسانیت کو تاریخ سے فیض یاب ہونے کا سلیقہ سکھاتے ہیں۔ اوران قصوں میں نبی کریم ﷺ اور آپ کے بعد امت کےلیے دلوں کی تسکین اور مضبوطی کاسامان ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں انبیائے کرام﷩کے واقعات بیان کرنے کامقصد خودان الفاظ میں واضح اور نمایا ں فرمایا ’’اے نبیﷺ جونبیوں کے واقعات ہم آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں ان سے ہمارا مقصد آپ کے دل کو ڈھارس دینا ہے اور آپ کے پاس حق پہنچ چکا ہے اس میں مومنوں کے لیے بھی نصیحت وعبرت ہے۔‘‘ قرانی قصوں میں ایک اہم قصہ سیدنا ابراہیم ﷤ کابڑھاپے میں ملنے والے لخت جگر کودوڑ دھوپ کی عمر کوپہنچنے پر حکم الٰہی کی بجا آوری میں ذبح کرنے کا ارادہ کرنا ہے۔ سیدنا حضرت ابراہیم ﷤ اللہ تعالی کے جلیل القدر پیغمبر تھے ۔قرآن مجید میں وضاحت سے حضرت ابراہیم ﷤ کا تذکرہ موجود ہے ۔قرآن مجید کی 25 سورتوں میں 69 دفعہ حضرت ابراہیم ﷤ ک...


0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔

0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1471
  • اس ہفتے کے قارئین: 12116
  • اس ماہ کے قارئین: 39810
  • کل قارئین : 45995514

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں