اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

محمد سرور گوہر

  • نام : محمد سرور گوہر

کل کتب 6

دکھائیں
کتب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #2425

    مصنف : صبیح رحمانی

    مشاہدات : 803

    سیرت ابوبکر صدیق

    (اتوار 31 اگست 2014ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    سیدنا ابوبکر صدیق﷜ قبیلہ قریش کی ایک مشہور شاخ تیم بن مرہ بن کعب کے فرد تھے۔ساتویں پشت میں مرہ پر ان کا نسب رسول اللہﷺ سے مل جاتا ہے ہے ۔ایک سچے مسلمان کا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ انبیاء ورسل کے بعد اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اور ارفع شخصیت سیدنا ابو بکر صدیق ﷜ ہیں ۔ سیدنا ابو بکر صدیق﷜ ہی وہ خو ش نصیب ہیں جو رسول اللہﷺ کےبچپن کے دوست اور ساتھی تھے ۔آپ پر سب سے پہلے ایمان لانے کی سعادت حاصل کی اور زندگی کی آخری سانس تک آپ ﷺ کی خدمت واطاعت کرتے رہے اور اسلامی احکام کے سامنے سرجھکاتے رہے ۔ رسول اللہ سے عقیدت ومحبت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت کے لیے تن من دھن سب کچھ پیش کر دیا ۔نبی کریم ﷺ بھی ان سے بے حد محبت فرماتے تھے ۔آپ ﷺ نے ان کو یہ اعزاز بخشا کہ ہجرت کے موقع پر ان ہی کو اپنی رفاقت کے لیے منتخب فرمایا۔ بیماری کے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے حکماً ان ان کو اپنے مصلیٰ پر مسلمانوں کی امامت کے لیے کھڑا کیا اورارشاد فرمایا کہ اللہ اورمؤمن ابو بکر صدیق کے علاوہ کسی اور کی امامت پر راضی نہیں ہیں۔خلیفہ راشد اول سیدنا صدیق اکبر ﷜ نے رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہر قدم پر آپ کا ساتھ دیا اور جب اللہ کے رسول اللہ وفات پا گئے سب صحابہ کرام کی نگاہیں سیدنا ابو بکر صدیق ﷜ کی شخصیت پر لگی ہو ئی تھیں۔امت نے بلا تاخیر صدیق اکبر کو مسند خلافت پر بٹھا دیا ۔ تو صدیق اکبر ؓ نے مسلمانوں کی قیادت ایسے شاندار طریقے سے فرمائی کہ تمام طوفانوں کا رخ اپنی خدا داد بصیرت وصلاحیت سے کام لے کر موڑ دیا اور اسلام کی ڈوبتی ناؤ کو کنارے لگا دیا۔ آپ نے اپنے مختصر عہدِ خلافت میں ایک مضبوط اور مستحکم اسلامی حکومت کی بنیادیں استوار کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ۔نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کے بعد اس کی سرحدیں ایشیا میں ہندوستان اور چین تک جا پہنچیں افریقہ میں مصر، تیونس او رمراکش سے جاملیں او ریورپ میں اندلس اور فرانس تک پہنچ گئیں۔سیدنا ابو بکر صدیق ﷜ کی زندگی کے شب وروز کے معمولات کو الفاظ کے نقوش میں محفوظ کرنے سعادت نامور شخصیات کو حاصل ہے۔زیر نظر کتاب بین الاقوامی شہرت یافتہ یونیورسٹی جامعہ ازہر کی لائبریری کے انچارج   علامہ محمد رضا مصر ی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے   سیدنا ابو بکر   صدیق ﷜ کی حیات مبارکہ کے تعارف،آپ کی خلافت کی تشریح آپ کی حکمت عملیوں کو واضح کوبڑے احسن انداز میں واضح کر دیا ہے کتاب ہذا کے مصنف موصوف نے اس کتاب کے علاوہ سیدنا عمر فاروق ،سیدنا عثمان غنی ، سیدنا علی المرتضیٰ ،اور سیدنا حسن وحسین ﷢ کی سوانح حیات بھی   کتب تصنیف کی ہیں ۔ تمام اہل اسلام کو صحابہ کرام﷢   کی طر ح زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین) (م۔ا)

  • 2 #2426

    مصنف : صبیح رحمانی

    مشاہدات : 803

    سیرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

    (پیر 01 ستمبر 2014ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    اللہ تعالیٰ نے امت ِاسلامیہ میں چند ایسے افراد پیدا کیے جنہوں نے دانشمندی ، جرأت بہادری اور لازوال قربانیوں سے ایسی تاریخ رقم کی کہ تاقیامت ا ن کے کارنامے لکھے اور پڑھے جاتے رہے ہیں گے تاکہ افرادِ امت میں تازہ ولولہ اور جذبۂ قربانی زندہ رہے۔ آج مغرب سر توڑ کوشش کر رہا ہے کہ مسلمان ممالک کے لیے ایسی تعلیمی نصاب مرتب کیے جائیں جوان ہیروز اور آئیڈیل افراد کے تذکرہ سے خالی ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نوجوان پھر سےوہی سبق پڑھنے لگیں جس پر عمل پیرا ہو کر اسلامی رہنماؤں نے عالمِ کفر کے ایوانوں میں زلزلہ بپا کردیا تھا۔ہماری بد قسمتی دیکھئے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں غیر مسلموں (ہندوؤں،عیسائیوں ،یہودیوں) کے کارنامے تو بڑے فخر سے پڑھائے جارہے ہیں مگر دینی تعلیمات او رااسلامی ہیروز کے تذکرے کو نصاب سے نکال باہر کیا جارہا ہے ۔ سیدنا فاروق اعظم ﷜کی مبارک زندگی اسلامی تاریخ کاوہ روشن باب ہے جس نےہر تاریخ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ آپ نے حکومت کے انتظام   وانصرام بے مثال عدل وانصاف ،عمال حکومت کی سخت نگرانی ،رعایا کے حقوق کی پاسداری ،اخلاص نیت وعمل ،جہاد فی سبیل اللہ ،زہد وعبادت ،تقویٰ او رخوف وخشیت الٰہی او ردعوت کے میدانوں میں ایسے ایسے کارہائےنمایاں انجام دیے کہ انسانی تاریخ ان کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ انسانی رویوں کی گہری پہچان ،رعایا کے ہر فرد کے احوال سے بر وقت آگاہی او رحق وانصاف کی راہ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہ کر نےکے اوصاف میں کوئی حکمران فاروق اعظم ﷜ کا ثانی نہیں۔ آپ اپنے بے پناہ رعب وجلال اور دبدبہ کے باوصف نہایت درجہ سادگی فروتنی اورتواضع کا پیکر تھے ۔ آپ کا قول ہے کہ ہماری عزت اسلام کے باعث ہے دنیا کی چکا چوند کے باعث نہیں۔ سید ناعمر فاروق کے بعد آنے والے حکمرانوں میں سے جس نے بھی کامیاب حکمران بننے کی خواہش کی ،اسے فاروق اعظمؓ کے قائم کردہ ان زریں اصول کو مشعل راہ بنانا پڑا جنہوں نے اس عہد کے مسلمانوں کی تقدیر بدل کر رکھ دی تھی۔ سید نا عمر فاروق ﷜ کے اسلام لانے اور بعد کے حالات احوال اور ان کی   عدل انصاف پر مبنی حکمرانی سے اگاہی کے لیے مختلف اہل علم اور مؤرخین نے   کتب تصنیف کی ہیں۔اردو زبان میں شبلی نعمانی ، ڈاکٹر صلابی ، محمد حسین ہیکل ،مولانا عبد المالک مجاہد(ڈائریکٹر دار السلام)   وغیرہ کی کتب قابل ذکر ہیں ۔ زیرنظر کتاب ’’ سیرت عمر فاروق ﷜‘‘ محترم محمد رضاکی تصنیف ہے جوکہ خلیفہ ثانی سیدنا عمر بن خطاب ﷜ کی سیرت اورکارناموں پر مشتمل ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا’’ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر فاروق﷜ہوتے ‘‘ آپ کے دور خلافت میں اسلامی سلطنت کی حدود بائیس لاکھ مربع میل تک پھیلی ہوئی تھیں۔ حتیٰ کہ غیر مسلم دانشور یہ لکھنے پر مجبور ہوگئے کہ اگر ایک عمر او رپیدا ہوجاتا تو دنیا میں کوئی کافر باقی نہ رہتا۔ اللہ تعالی مصنف ،مترجم ،ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔اور تمام اہل اسلام کو صحابہ کرام﷢   کی طر ح زندگی بسر کرنے کی توفیق اور عالم اسلام کے حکمرانوں کو سیدنا عمر فاروق ﷜کے نقشے قدم   پرچلنے   کی توفیق عطا فرمائے(آمین)(م۔ا)

  • 3 #3803

    مصنف : صبیح رحمانی

    مشاہدات : 803

    معرفت دین کے 3 بنیادی اصول

    (اتوار 06 دسمبر 2015ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    توحید کا معنی ہے کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ حق  باری تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور جُملہ اوصاف و کمال میں یکتا و بے مثال ہے۔ اس کا کوئی ساتھی یا شریک نہیں۔ کوئی اس کا ہم پلہ یا ہم مرتبہ نہیں۔ صرف وہی با اختیار ہے۔ اس کے کاموں میں نہ کوئی دخل دے سکتا ہے، نہ اسے کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہے۔ حتیٰ کہ اس کی نہ اولاد ہے اور نہ ہی وہ کسی سے پیدا  ہواہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ   اَللّٰہُ الصَّمَدُ  لَمْ یَلِدْ ڏ وَلَمْ یُوْلَدْ  وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ کہو کہ وہ (ذات پاک ہے جس کا نام) اللہ (ہے) ایک ہے۔معبود برحق جو بےنیاز ہے۔نہ کسی کا باپ ہے۔ اور نہ کسی کا بیٹا۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔(سورۃالاخلاص)علامہ جرجانی رحمہ اللہ توحید کی تعریف اس طرح بیان کرتے ہیں :توحید تین چیزوں کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی پہچان اس کی وحدانیت کا اقرار اور اس سے تمام شریکوں کی نفی کرنا۔ (التعریفات73) توحید کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق صرف اللہ تعالیٰ ہی کیلئے خاص رکھے جائیں۔ زیر تبصرہ کتاب" معرفت دین کے 3 بنیادی  اصول"شیخ الاسلام امام محمد بن سلیمان التمیمی  ﷫کی عربی تصنیف "الاصول الثلاثۃ وادلتھا " کا اردو ترجمہ ہے۔ترجمہ کرنے کی سعادت  پروفیسر ابو انس محمد سرور گوہر صاحب نے حاصل کی ہے۔یہ کتاب اپنی اہمیت وفادیت کے پیش نظر متعدد دینی مدارس میں داخل نصاب ہے۔یہ کتاب اس لائق ہے کہ اسے ہر گھر کی زینت بنایا جائے اور گھر میں تما م بچوں کو یہ زبانی یاد کروائی جائے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف اور مترجم دونوں کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

کل کتب 0

دکھائیں
کتب

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1499
  • اس ہفتے کے قارئین 13196
  • اس ماہ کے قارئین 51590
  • کل قارئین49414527

موضوعاتی فہرست