محمد جونا گڑھی

9 کل کتب
دکھائیں

  • 1 سیف محمدی (پیر 15 اگست 2011ء)

    مشاہدات:17454

    دنیا میں کوئی ایسا مسلمان نہیں جو اس حقیقت سے نا آشنا ہو کہ زمانہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں مسلمانوں کے پاس عقیدے اور عمل کے لیے صرف وحی الہی تھی جس کے دو حصے تھے:قرآن وحدیث،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم صرف انہی د و چیزوں پر عمل کرتے رہے۔دین ودنیا کی تمام ضرورتوں کے احکام اسی سے لیتے رہے۔صحابہ وتابعین کے زمانہ میں وحی الہیٰ ہی ماخذ ومصدر مسائل تھا۔بعد ازاں بعض لوگوں نے تقلید شخصی کو بھی داخل دین کر لیا اور ائمہ اربعہ سے منسوب فتاوی واجتہادات کو بھی مستقل ماخذ سمجھ کر ان سے مسائل کا استنباط کرنے لگے۔اہل حدیث کی دعوت یہ ہے کہ پھر سے صحابہ وتابعین کی روش کی جانب پلٹا جائے اور صرف قرآن وحدیث ہی سے رہنمائی لی جائے۔حضرات مقلدین کو یہ روش پسند نہیں چنانچہ وہ اہل حدیث کی جانب غلط مسائل منسوب کر کے انہیں بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،حالانکہ اہل حدیث کا دامن ان سے بالکل بری ہے۔دوسری طرف خود ان کے فقہی ذخیرے میں ایسے مسائل ہیں جو کتاب وسنت کے بالکل خلاف اور شرم وحیا سے عاری ہیں ۔زیر نظر کتاب میں خطیب الہند مولانا محمد جونا گڑھی رحمتہ اللہ نے اسی کو موضوع بحث بنایا ہے اور انتہائی مدلل انداز سے فقہ حنفی کے مسائل کو کتاب وسنت کے مخالف ثابت کیا ہے ۔امید ہے مقلد شیان حق کھلے دل سے اس کا مطالعہ کریں گے ،جس سے حق پہچاننے میں یقیناً مدد ملے گی۔(ط۔ا)
     

  • 2 شمع محمدی صلی اللہ علیہ وسلم (منگل 16 اگست 2011ء)

    مشاہدات:23529

    ہمارے ہاں کے ارباب تقلید حضرات احناف نے یہ مشہور ےکر رکھا ہے کہ فقہ حنفی کی کتابوں کا ایک مسئلہ بھی خلاف حدیث نہیں بلکہ یہ فقہ قرآن وحدیث کا مغز،گودا اور عطر ہے۔بہ کھٹکے اس پر عمل کرنا نجات کا سبب ہے کیونکہ یہ فقہ درجنوں ائمہ اجتہاد کا نتیجہ ہے ۔حقیقت حال اس کے بالکل برعکس ہے ۔فقہ حنفی کے بے شمار مسائل کتاب وسنت سے صریح متصادم ہیں ،جن کا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی کوئی ثبوت نہیں ملتا۔مولانا محمد جونا گڑھی رحمتہ اللہ  نے زیر نظر کتاب میں با حوالہ اس امر کو ثابت کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ایک مسلمان کو محض کتاب وسنت اور اجماع امت ہی کی پیروی کرنی چاہیے نہ کہ کسی مخصوص مسلک ومذہب کی۔چونکہ کئی صدیوں سے فقہ حنفی کو قرآن وحدیث کا نچوڑ بتایا جا رہا ہے ،اس لیے حنفی حضرات کے دل  پر یہ بات نقش ہو چکی ہے۔زیر نظر کتاب کے منصفانہ مطالعہ سے اس کی قلعی کھل جائے گی اور ایک سچا مسلمان کبھی بھی کتاب وسنت کے خلاف کسی مسئلہ کو تسلیم کرنا تو گوارہ نہیں کرے گا۔خدا کرے کہ اس کتاب سے طالبین حق کو رہنمائی میسر آئے اور مسلمانوں میں وحی الہی کی طرف لوٹنے کا جذبہ بیدار ہو تاکہ اتحاد امت کی راہ ہموار ہو سکے۔(ط۔ا)

  • 3 درایت محمدی (بدھ 12 اکتوبر 2011ء)

    مشاہدات:22511

    اس کتاب میں حنفی مذہب کی اعلی کتاب ہدایہ کی پوری چھان بین کی گئی ہے اور یہ دکھایا گیا ہے کہ  ہدایہ میں امام ابوحنیفہ ،امام ابو یوسف ، امام شافعی اور امام مالک وغیرہ کے مذاہب بیان کرنے ،تاریخی واقعات،موقوف اور مرفوع حدیث کی تمیز ،خلفاء اور صحابہ کے مسئال اور رایوں کےناموں میں مصنف ہدایہ نے فاش غلطیاں کی ہیں ۔ہدایہ میں بہت سی ایسی احادیث ہیں جوبالکل لاپتہ اور بے اصل ہیں  اکثر صحیح احادیث کا انکار ہے ار احادیث میں کمی وزیادتی بھی ہے ۔اغلاط ہدایہ یعنی درایت محمدی  جس کے مطالعہ سے معلوم ہوگا کہ ہدایہ وغیرہ فقہ کی کتابوں کی احادیث ناقابل اعتبار ہیں۔فقہ کی کتابوں کے تمام مسائل امام ابوحنیفہ کے نہیں ۔ہدایہ کے ایک سوخلاف عقل ونقل مسائل ،ہدایہ کے امام صاحب اوران کے شاگردوں کےایک سواختلافی مسائل،ہدایہ میں خود امام صاحب کے اقوال میں حلال وحرام کااختلاف  وغیرہ درج ہے۔ہدایہ کی اصلیت پر ایک اہم کتاب درایت محمدی۔(ک۔م)

  • 4 خطبات محمدی (اتوار 01 جون 2014ء)

    مشاہدات:4755

    جمعہ کے خطبات پر دنیا کی مختلف زبانوں میں بے شمار کتابیں موجود ہیں اور ان میں اب بھی مسلسل اضافہ ہورہاہے اسلامی خطبات ، خطبات جمعہ از عبد السلام بستوی ، زاد الخطیب از ڈاکر حافظ محمد اسحا ق زاہد وغیرہ قابل ذکر ہیں اور ان کے علاوہ اہل علم او ر خطباء حضرات کے ذاتی خطابات کے بے شمار مجموعےموجود ہیں لیکن اب تک نبیﷺ کے جملہ خطبات کو جمع وترتیب کا کام کسی نےنہیں کیا اس لحاظ سے خطبات محمدی اپنے موضوع پر ایک منفرد اور مثالی کتاب اور خطباتِ نبوی کامستند ترین مجموعہ ہے مولانامحمد جوناگڑھی﷫ خود ایک سحربیان خطیب تھے خطابت کاملکہ فطری طور پر ان کے اندر قدرت نے بڑی فیاضی سے کوٹ کوٹ کر بھر دیا تھا کہ وہ خطیب الہند کے نام سے معروف ہیں احادیث پر ان کی گہری اور وسیع نظر تھی خطبات محمدی میں انہوں نے صحیح احادیث اور معتبر دینی کتبِ تفسیر وحدیث سے چن چن کر خطبات ِ نبوی ﷺ کے موتیوں کو جمع کردیا ہے خطبات محمدی کے اس مجموعہ میں رسول اللہﷺ کے ایک ہزار(1000) سے زائد خطبات موجود ہیں مولانا موصوف اس کتاب کے علاوہ بیسیوں علمی وتحقیقی کتب کےمؤلف ہیں اور مشہور زمانہ تفسیر کی معتبرکتاب تفسیر ابن کثیر کے مترجم بھی ہیں اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کے درجات بلند فرمائے او رعوام الناس کے لیے ان کی کوششوں کو نفع بخشش بنائے(آمین)(م۔ا)

     

     

  • ہر مسلمان پرواجب اورضروری ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے بعد مسلمانوں کے علماء، مجتہدین اور اولیاء صالحین کی محبت اختیار کرے، خاص کر وہ ائمہ اور علماء جو پیغمبروں کےوارث ہیں، آسمان کے ستاروں کی طرح خشکی و تری کی تاریکیوں میں راستہ دیکھاتے ہیں، مخلوق کے سامنے ہدایت کے راستے کھولتے ہیں۔ خاتم الرسل ﷺ کی بعثت سے پہلے جو امتیں تھیں ان کے علماء بد ترین لوگ تھے، مگر ملت اسلامیہ کے علماء بہترین لوگ ہیں۔ جب کبھی رسول اللہ ﷺ کی سنت مطہرہ مردہ ہونے لگتی ہے تو اس کو یہ علماء ہی زندہ کرتے ہیں، اوراسلام کے جسم میں ایک تازہ روح پھونکتے ہیں۔ اسی طرح چاروں ائمہ مجتہدین اور دوسرے علماء حدیث جن کی مقبولیت کے آگے امت سرنگوں رہتی ہے، ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی کسی حدیث اور سنت کی مخالفت کا اعتقاد دل میں رکھتا ہو۔ ائمہ اربعہ میں سے ہر کوئی منفرد خصوصیات و صلاحیتوں کے مالک اور علم وعرفان کے بحر بیکراں تھے۔ بشری تقاضوں کے پیش نظر ائمہ، مجتہدین سے لغزشیں اور اخطاء بھی سرزد ہوئیں مگر اس کا مطلب ہرگزیہ نا ہو گا کہ ان کو شب و شتم کا نشانہ بنایا جائے۔ ائمہ اربعہ میں سے جو مقام امام ابو حنیفہؒ کو فقہ و اجتہاد میں حاصل ہوا وہ کسی اور کو نا مل سکا۔ امام ابو حنیفہؒ کی شخصیت کے بارے امت مسلمہ تین طبقوں میں منقسم ہے۔ زیر نظر کتاب"امام محمدی امام ابو حنیفہؒ تاریخ بغداد کے آئینے میں"مشہور محدث و امام خطیب البغدادیؒ کی مایہ ناز کتاب"تاریخ بغداد" کے ایک جزء کا ترجمہ ہے جس کو مصنف مولانا محمد محدث جونا گڑھیؒ نے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ خطیب البغ...

  • 6 مشکوٰۃ محمدی (منگل 08 نومبر 2016ء)

    مشاہدات:1262

    مولانا محمد جوناگڑھی صوبہ گجرات میں ضلع کاٹھیاوار کے شہرت یافتہ شہر جوناگڑھ میں 1890ء میں پیدا ہوئے، جو متحدہ ہندوستان میں اسلامی ریاست کے نام سے معروف تھا،مولانا جوناگڑھی نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن مالوف میں مولانا محمد عبداللہ صاحب جوناگڑھی سے حاصل کی۔اس کے بعد 1913ء میں 22 سال کی عمر میں اپنے مادر وطن کی محبت و کشش سے خود کو آزاد کر کے بڑے خفیہ طریقہ سے دہلی پہنچے اور “مدرسہ امینیہ” میں داخلہ لے کر یکسوئی کے ساتھ حصول تعلیم میں مشغول ہو گئے، اس کےبعد مولانا عبدالوہاب ملتانی ﷫ کے مدرسہ دارالکتاب والسنہ میں چلے گئے۔ مولانا جوناگڑھی ﷫ کا دہلی میں شیخ عبدالرحمان شیخ عطاء الرحمان اور ان کے قائم کردہ جامعہ رحمانیہ سے والہانہ لگاوٴ اور حقیقی تعلق تھا مولانا کی ہمدردیاں ہمہ وقت دارالحدیث رحمانیہ کے ساتھ رہتیں۔ دارالحدیث رحمانیہ کے اجلاس اور خصوصی پروگرام میں بھی مولانا جوناگڑھی شریک ہوا کرتے تھے، چنانچہ رحمانیہ کے سترھویں سالانہ اجلاس میں بحیثیت صدر ایک جامع خطاب کیا جو بعد میں “مقالہٴ محمدی” کے نام سے طبع ہوا۔تعلیمی مراحل کے بعد عملی زندگی میں اپنے خیالات کو کارگر بنانے کی نیت سے سب سے پہلے ایک دینی مدرسہ کے قیام کی بابت سوچا اور آخر اجمیری گیٹ اہل حدیث مسجد کو مذاکرہٴ علمیہ کا مرکز اور مثالی تعلیم گاہ قرار دیا اور اس ادارہ کا نام بھی آپ نے مدرسہ محمدیہ رکھا، اس میں دیگر اساتذہ کے ساتھ ساتھ آپ خود بنفس نفیس بیرونی طلبہ کی علمی تشنگی بجھانے کی سعی بلیغ فرماتے۔اجمیری گیٹ میں قیام کے دوران مولانا مرحوم نے تصنیف و تالیف کا کام جاری ر...

  • 7 صلاۃ محمدی (جونا گڑھی) (اتوار 09 اپریل 2017ء)

    مشاہدات:1078

    نماز  انتہائی اہم ترین فریضہ اور سلام کا   دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل  ہے۔ نماز دین کاستون   ہے جس نے اسے قائم کیا اس نے دین کو قائم کیا  اور جس نے  اسے ترک کردیا ہے اس نے دین کی عمارت کوڈھادیا۔ نماز مسلمان کے افضل اعمال میں سے  ہے۔نماز ایک ایسا صاف ستھرا سرچشمہ ہے جس کےشفاف پانی  سے نمازی  اپنے  گناہوں اور خطاؤں کودھوتا ہے ۔کلمہ توحید کے  اقرار کےبعد سب سے پہلے  جو فریضہ  انسان  پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے۔ اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی  ہے۔ بے نماز کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ قیامت کےدن  اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال  ہوگا۔ فرد ومعاشرہ کی اصلاح کے لیے  نماز ازحد ضروری ہے ۔ نماز فواحش و منکرات سے انسان کو روکتی ہے۔ بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سے نماز کا پابند بنایا جائے۔  قرآن  وحدیث میں  نماز کو بر وقت  اور باجماعت  اداکرنے کی  بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے۔ اور نمازکی عدم ادائیگی پر وعید کی  گئی ہے ۔نماز کی ادائیگی  اور  اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر  اہم ہے   کہ  سفر وحضر  اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری  ہے۔ نماز کی اہمیت  وفضیلت کے  متعلق بے شمار  احادیث ذخیرۂ  حدیث میں موجود  ہیں او ر  بیسیوں اہل  علم نے  مختلف  انداز میں اس  موض...

  • 8 ہدایت محمدی (پیر 26 جون 2017ء)

    مشاہدات:682

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔لیکن بعد میں آنے والوں نے اسلام کی روشن تعلیمات کو چھوڑ کر اپنے علما کی تعلیمات پر عمل کرنا شروع کر دیا اور بہت ساری ایسی باتیں تحریر کر دیں جو قرآن وحدیث کے صریح مخالف ہیں۔انہی کتابوں میں سے ایک فقہ حنفی کی معروف ترین کتاب ہدایہ ہے، جس میں متعدد مسائل قرآن وحدیث کے خلاف بیان کئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "ہدایت محمدی" خطیب الہند مولانا محمد صاحب محدث جونا گڑھی﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے فقہ حنفی کی اعلی ترین کتاب ہدایہ کے 100 مسائل کو قرآن وحدیث کے خلاف ثابت کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 9 محمدیات (ہفتہ 02 ستمبر 2017ء)

    مشاہدات:1086

    دینِ اسلام کاابلاغ او راس کی نشر واشاعت ہر مسلمان پر فرض ہے۔ لہذا اس انعام الٰہی کی وجہ سےایک عام مسلمان کی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں کہ اصلاحِ انسانیت کےلیے اللہ تعالیٰ نےامت مسلمہ کو ہی منتخب فرمایا ۔اور ہر دور میں مسلمانوں نےاپنی ذمہ داریوں کومحسوس کیا اور دین کی نشر واشاعت میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔دور حاضر میں ہر محاذ پر ملت کفر مسلمانوں پر حملہ آور ہے او راسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ اور نفرت انگیز رویہ اپنائے ہوئےہیں او ر آئے دن نعوذ باللہ پیغمبر اسلام کی ذات کوہدف تنقید کا نشانہ بنا کر انٹرنیشنل میڈیا کے ذریعے اس کی خوب تشہیر کی جاتی ہے۔ تو یقینا ایسی صورت حال میں رحمت کائناتﷺ کےاخلاقِ عالیہ اور آپﷺ کےپاکیزہ کردار اور سیرت کے روشن ،چمکتے اور دمکتے واقعات کو دنیا میں عام کرنے کی شدید ضرورت ہے تاکہ اسے پڑھ کر امت مسلمہ اپنے پیارے نبیﷺ کے خلاق حسنہ اور اوصاف حمیدہ سے آگا ہ ہوسکے اور آپ کی سیرت وکردارکوروشنی میں اپنی آنے والی نسل کی تربیت کر سکے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ محمدیات‘‘ مولانا محمد صاحب جونا گڑھی کی ہے۔ جس میں انہوں نے فقہ حنفی کے (فاتحہ خلف الامام، فاتحہ خوانی اور دیگر بدعات کو قرآن وحدیث کے خلاف ثابت کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین۔ (رفیق الرحمن)


3 کل کتب
دکھائیں

  • 1 تفسیر ابن کثیر(تخریج شدہ) جلد1 (پیر 02 مئی 2011ء)

    مشاہدات:28358

    دینی علوم میں کتاب اللہ کی تفسیر وتاویل کا علم اشرف علوم میں شمار ہوتا ہے۔ ہر دور میں ائمہ دین نے کتاب اللہ کی تشریح وتوضیح کی خدمت سر انجام دی ہے تا کہ عوام الناس کے لیے اللہ کی کتاب کو سمجھنے میں کوئی مشکل اور رکاوٹ پیش نہ آئے۔ سلف صالحین ہی کے زمانہ ہی سے تفسیر قرآن، تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائے کے مناہج میں تقسیم ہو گئی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام اور تبع تابعین رحمہم اللہ اجمعین کے زمانہ میں تفسیر بالماثور کو خوب اہمیت حاصل تھی اور تفسیر کی اصل قسم بھی اسے ہی شمار کیا جاتا تھا۔ تفسیر بالماثور کو تفسیر بالمنقول بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں کتاب اللہ کی تفسیر خود قرآن یا احادیث یا اقوال صحابہ یا اقوال تابعین و تبع تابعین سے کی جاتی ہے۔ بعض مفسرین اسرائیلیات کے ساتھ تفسیر کو بھی تفسیر بالماثور میں شامل کرتے ہیں کیونکہ یہ اہل کتاب سے نقل کی ایک صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قدیم تفسیری ذخیرہ میں اسرائیلیات بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی ۷۷۴ھ کی اس تفسیر کا منہج بھی تفسیر بالماثور ہے۔ امام رحمہ اللہ نے کتاب اللہ کی تفسیر قرآن مجید، احادیث مباکہ، اقوال صحابہ وتابعین اور اسرائیلیات سے کی ہے اگرچہ بعض مقامات پر وہ تفسیر بالرائے بھی کرتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہے۔ تفسیر طبری ، تفسیر بالماثور کے منہج پر لکھی جانے والی پہلی بنیادی کتاب شمار ہوتی ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ تفسیر ابن کثیر ، تفسیر طبری کا خلاصہ ہے۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کو تفسیر بالماثور ہونے کی وجہ سے ہر دور میں خواص وعوام میں مرجع و مصد...

  • 2 اعلام الموقعین عن رب العالمین(جلد اول) (پیر 09 اگست 2010ء)

    مشاہدات:24718

    علامہ ابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ ایک جلیل القدرعالم ربانی تھے ۔آپ نےبے شمارکتابیں تصنیف فرمائی ہیں ان میں زیرنظرکتاب اعلام الموقعین ایک ممتاز مقام رکھتی ہے ۔اس مفصل کتاب میں علامہ موصوف نے اصول فقہ خصوصافتوی،اجتہاداورقیاس کے موضوع پرقلم اٹھایاہے اورحق یہ ہےکہ حق اداکردیاہے ۔جولوگ تقلیداورقیاس کےباب میں افراط وتفریط کاشکارہیں ،ان کاتفصیلی ردکیاہے اورایک ایک مسئلے پربیسیوں دلائل پیش کیےہیں ۔حیلہ سازوں کی بھی تردیدفرمائی ہےاورصحابہ کرام وسلف صالحین کے حوالے سے واضح کیاہے کہ وہ ہرمسئلے میں کتاب وسنت مقدم رکھتے تھے ،لہذاہمیں بھی براہ راست کتاب وسنت کی پیروی کرنی چاہیے نہ کہ اقوال رجال کاسہارالیناچاہیے ۔ان لوگوں کی غلطی کوبھی واضح کیاہے جویہ گمان رکھتےہیں بعض احادیث خلاف قیاس ہیں ۔اس وضع کتاب کوخطیب الہندعلامہ محمدجوناگڑھی نے رواں اورشگفتہ اردوکے قالب میں ڈھالاہے ،جس سےاردودان طبقےکے لیے بھی اس سے استفادہ کی راہ  آسان ہوگئی ہے۔خداوندقدوس فاضل مؤلف اورمترجم کی اس عظیم خدمت کوشرف قبولیت سے نوازےاوراہل اسلام کواس سے اکتساب فیض کی توفیق  مرحمت فرمائے۔آمین

     

     

     

    فقہ 
  • قرآن ِ مجید انسانوں کی راہنمائی کےلیے رب العالمین کی طرف سے نازل کی گئی آخری کتاب ہے ۔اور قرآن کریم ہی وہ واحد کتاب ہے جو تاقیامت انسانیت کے لیے رشد وہدایت کا سرچشمہ اور نوعِ انسانی کےلیے ایک کامل او رجامع ضابطۂ حیات ہے ۔ اسی پر عمل پیرا ہو کر دنیا میں سربلند ی او ر آخرت میں نجات کا حصول ممکن ہے لہذا ضروری ہے کہ اس کے معانی ومفاہیم کوسمجھا جائے ،اس کی تفہیم کے لیے درس وتدریس کا اہتمام کیا جائے او راس کی تعلیم کے مراکز قائم کئے جائیں۔ قرٖآن فہمی کے لیے ترجمہ قرآن اساس کی حیثیت رکھتا ہے ۔آج دنیاکی میں کم وبیش 103 زبانوں میں قرآن کریم کے مکمل تراجم شائع ہوچکے ہیں۔جن میں سے ایک اہم زبان اردو بھی ہے ۔اردو زبان میں اولین ترجمہ کرنے والے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ کے دو فرزند شاہ رفیع الدین ﷫اور شاہ عبد القادر﷫ ہیں۔ اب تو اردو زبان میں بیسیوں تراجم دستیاب ہیں ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ مفہوم القرآن ‘‘شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ کے فرزند شاہ رفیع الدین ﷫ اور تفسیر کی مشہو ر ومعروف کتاب ’’ تفسیر ابن کثیر کے مترجم ومصنف کتب کثیرہ مولانا محمد جوناگڑھ کے ﷫ ترجمہ قرآن کریم پر مشتمل ہے ۔مکتبہ قدوسیہ کے ذمہ داران نے قریم کریم کے معنی ٰ ومفہوم کے سمجھنے کے لیے آسان طریقہ اخیتار کرتے ہوئے شاہ رفیع الدین کے لفظی ترجمہ اور مولانا محمد جوناگڑھی﷫ کے بامحاورہ ترجمہ قرآن کو یکجا کر کے شائع کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ ناشرین کی اس کا وش کو شرف قبولیت سے نوازے ۔(آمین)(م۔ا)


0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1217
  • اس ہفتے کے قارئین: 4871
  • اس ماہ کے قارئین: 33120
  • کل قارئین : 46461098

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں