اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

میاں انوار اللہ

  • نام : میاں انوار اللہ

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #1618

    مصنف : میاں انوار اللہ

    مشاہدات : 16237

    مقام قرآن

    (مقام قرآن) ناشر : مرکز دعوۃ التوحید، اسلام آباد

    قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایک معجزہ اور نہایت بابرکت کتاب ہے۔ جس کی تلاوت کرنا اور اپنے عمل کا حصہ بنانا لازم و ملزوم ہے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ مسلمانان اسلام کی قرآن کے ساتھ جذباتی وابستگی تو ضرور ہے لیکن قرآنی احکامات سے انحراف بھی مسلمانوں کی زندگی کا جزو لازم بن گیا ہے۔ اسی وجہ سے ہرگزرتے دن کے ساتھ غیر مسلم شدت پسند طبقہ کی جانب سے اہانت قرآن کے واقعات میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ قرآن کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کیا جائے اور اس کی تلاوت کے ساتھ ساتھ اس کے معانی کو سمجھا جائے اور عمل کا حصہ بنایا جائے۔ قرآن کریم کی اہمیت و فضیلت سے یقیناً تمام لوگ واقف ہیں۔ اس کے مقام و مرتبے کا کسی حد تک اندازہ اس سے ہی ہو سکتا ہے کہ یہ انسانوں کے رب کی اپنے بندوں سے کیا جانے والا کلام ہے۔اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور بہت لکھا جا رہا ہے۔ زیر مطالعہ کتاب بھی اسی سلسلہ کی ایک اہم کاوش ہے جس میں قرآن مجید میں غوطہ زن ہو کر ا س کے خصائص و محاسن تلاش کیے گئے ہیں۔ کتاب کی تالیف کرنے والے دو حضرات میاں انوار اللہ اور ڈاکٹر حافظ محمد شہباز حسن ہیں۔ جنھوں نے نہایت عرق ریز ی کے ساتھ جہاں مقام قرآن کے حوالے سے اہم نگارشات پیش کی ہیں وہیں قرآن سے متعلقہ دیگر بہت سے مسائل پر علمی انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ (ع۔م)
     

  • 2 #3063

    مصنف : میاں انوار اللہ

    مشاہدات : 4505

    حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا ہدایت کی جانب سفر

    (حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا ہدایت کی جانب سفر) ناشر : مرکز دعوۃ التوحید، اسلام آباد

    حضرت سلمان فارسی  رسول اللہ ﷺکے مشہور اصحاب میں سے تھے۔ ابتدائی طور پر ان کا تعلق زرتشتی مذ ہب سے تھا مگر حق کی تلاش ان کو اسلام کے دامن تک لے آئی۔ آپ کئی زبانیں جانتے تھے اور مختلف مذاہب کا علم رکھتے تھے۔ نبی ﷺکے بارے میں مختلف مذاہب کی پیشینگوئیوں کی وجہ سے وہ اس انتظار میں تھے کہ حضرت محمد ﷺ کا ظہور ہو اور وہ حق کو اختیار کر سکیں۔ سلمان فارسی   ایران کے شہر اصفہان کے ایک گاؤں روزبہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا تعلق زرتشتی مذ ہب سے تھا۔ مگر حضرت سلمان فارسی   کا دل سچ کی تلاش میں تھا۔ پہلے آپ نے عیسائیت اختیار کی اور حق کی تلاش جاری رکھی۔ ایک عیسائی راہب نے انہیں بتایا کہ ایک سچے نبی کی آمد قریب ہے جس کا تذکرہ  پرانی مذہبی کتابوں میں موجود ہے۔ اس راہب نے اس نبی کا حلیہ اور ان کے ظہور کی ممکنہ جگہ یعنی مدینہ کے بارے میں بھی بتایا جو اس وقت یثرب کہلاتا تھا ۔ یہ جاننے کے بعد حضرت سلمان فارسی نے مدینہ جانے کی کوشش شروع کر دی۔ مدینہ کے راستے میں ان کو ایک عرب بدوی گروہ نے دھوکے سے ایک یہودی کے ہاتھ غلام کے طور پر بیچ دیا۔ یہ یہودی مدینہ میں رہتا تھا چنانچہ حضرت سلمان فارسی  مدینہ پہنچ گئے اور اس یہودی کے باغ میں سخت محنت پر مجبور ہو گئے۔ کچھ عرصے کے بعد آ پ  ﷺمکہ شہر سے ہجرت کر کے مدینہ آئے ہیں۔ تو سلمان فارسی نے ان کی خصوصیات سے فوراً پہچان لیاکہ یہی اللہ کے سچے نبی ہیں۔ انہوں نے مہر نبوت بھی ملاحظہ کی۔ اسی وقت انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔اس وقت  حضرت سلمان  ایک یہودی کے غلام تھے ۔ آپ ﷺنے خود اپنے مبارک ہاتھوں سے تقریبا 300 پودے یہودی کے باغ میں لگاکرحضرت سلمان  کو آزاد کرایا۔ا ن کے بارے میں ارشاد نبوی  ہے کہ: اگر ایمان ثریا کے پاس بھی ہوگا تو اس کی قوم کے لوگ اس کو ضرور تلاش کر لیں گے۔ غزوہ خندق کے موقع پر خندق کی کھدائی کے موقع پر حضرت سلمان سب سے زیادہ سرگرم تھے ۔ اس پر مہاجرین نے کہا کہ’’ سلمان ہمارا ہے‘‘انصار نے یہ سنا تو کہا ’’سلمان ہمارا ہے‘‘۔ نبی ﷺ  تک یہ بات پہنچی تو آپ ﷺنے فرمایا ’’ سلمان ہمارے اہل بیت میں سے ہے ‘‘ اس لیے  حضرت سلمان کو مہاجرین یا انصار کے بجائے اہل بیت میں شمار کیا گيا۔غزوہ خندق کے دوران جب مسلمان شدید خطرے میں تھے، حضرت سلمان فارسی  نے مشورہ دیا کہ مدینہ کے ارد گرد خندق کھودی جائے چنانچہ خندق کھودی گئی جس نے مشرکین کو حیران کر دیا کیونکہ یہ طریقہ اس سے پہلے عرب میں استعمال نہیں ہوا تھا۔ زیر نظر کتاب ’’ حضرت سلمان  فارسی  کا ہدایت کی جانب سفر‘‘ محترم جناب  میاں انوار اللہ  صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں   نے  اسلام کی خاطر حضرت سلمان فارسی     کے ایمان افروز تفصیلی حالات وواقعات، ان  کے  فضائل ومناقب او ران سے مروی احادیث کو   جمع کردیا ہے ۔ (م۔ا)
     

  • 3 #5705

    مصنف : میاں انوار اللہ

    مشاہدات : 1745

    الاسماء الحسنیٰ

    (الاسماء الحسنیٰ) ناشر : مکتبہ افکار اسلامی، لاہور

    اللہ رب العزت ہمارے خالق حقیقی ہیں اور اللہ کا ذاتی نام ’’اللہ‘‘ اور اس کے علاوہ اللہ کے ننانوے صفاتی نام مشہور ہیں۔ ان میں سے بیشتر قرآن میں موجود ہیں اگرچہ قرآن میں ننانوے کی تعداد مذکور نہیں مگر یہ ارشاد ہے کہ اللہ کو اچھے اچھے ناموں سے پکارا جائے۔ قرآن پاک کی آیت’’قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَنَ أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى‘‘ اور’’وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ‘‘ ان دونوں آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کے نام توقیفیہ ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ نے اور اس کے روسول نے بتائے ہیں۔ان اسماء کے علاوہ اسماء سے اللہ تعالیٰ کو پکارنا جائز نہیں ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’ الاسماء الحسنی ‘‘ میاں انوار اللہ صاحب کی ہے۔ جو کہ اللہ رب العزت کے اسمائے حسنیٰ پر مشتمل ہے اور ان اسماء کی مصنف نے مختصر تشریح بھی کی ہے اور کتاب کو بہت احسن انداز کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے‘ جملوں کی ترتیب اور عبارت کے حسن کا مکمل خیال رکھا گیا ہے۔اسمائے حسنیٰ میں سے انتخاب سب سے پہلے قرآن مجید سے کیا گیا ہے۔اور آیت اور سورۃ کا نمبر بھی دیا گیا ہے اس کے بعد صحاح ستہ کی کتب میں سے جس کتاب میں بھی اللہ تعالیٰ کا کوئی نام ملا وہ درج کیا گیا ہے او راس کی تشریح کی گئی ہے اور کتاب اور باب کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔اور جو اسماء غیر ثابت ہیں ان کی بھی وضاحت کی گئی ہے اور ان احادیث پر مدلل جر ح بھی کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنائے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( رفیق الرحمن)

کل کتب 6

دکھائیں
کتب

کل کتب 0

دکھائیں
کتب

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1319
  • اس ہفتے کے قارئین 5196
  • اس ماہ کے قارئین 57229
  • کل قارئین49484599

موضوعاتی فہرست