حافظ ابن حجر عسقلانی

4 کل کتب
دکھائیں

  • 1 حیات خضر علیہ السلام (جمعہ 28 جولائی 2017ء)

    مشاہدات:2579

    قرآن کی سورۃ کہف میں ہے کہ حضرت موسی ﷤ اپنے خادم ’’جسے مفسرین نے یوشع لکھا ہے‘‘ کے ساتھ مجمع البحرین جارہے تھے کہ راستے میں آپ کی ملاقات اللہ کے بندے سے ہوئی۔ حضرت موسی﷤ نے اس سے کہا کہ آپ اپنےعلم میں سے کچھ مجھے بھی سکھا دیں تو بندے نے کہا کہ آپ جو واقعات دیکھیں گے ان پر صبر نہ کر سکیں گے اگر آپ کو میرے ساتھ رہنا ہے تو مجھ سے کسی چیز کی بابت سوال نہ کرنا اس قول و قرار کے بعد دونوں سفر پر روانہ ہوگئے۔ راستے میں اللہ  کے بندے نے چند عجیب و غریب باتیں کیں۔ کشتی میں سوراخ ، ایک لڑکے کا قتل اور بغیر معاوضہ ایک گرتی ہوئی دیوار کو سیدھا کرنا، جس پر حضرت موسی﷤ سے صبر نہ ہو سکا اور آپ ان باتوں کا سبب پوچھ بیٹھے۔ اللہ کے بندے نے سبب تو بتا دیا ۔ لیکن حضرت موسی﷤ کا ساتھ چھوڑ دیا۔احادیث مبارکہ میں اس خاص بندےکا نام’’ خضر ‘‘آیا ہے  اور مفسرین کی اکثریت کے نزدیک اس سے مرادحضرت خضر﷤ ہیں۔مفسرین نے حضرت خضر کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم  کی ہیں۔انہوں نے  واقعات  وروایات کی چھان بین کرکے  ان کے احوال زندگی معلوم کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے ۔مورخین نے حضرت  خضر کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی ہے  اورعلماء نے ان کی وفات وحیات پر کتابیں تحریر کی ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب’’  حیات حضرت خضر ﷤ ‘‘  معروف شارح صحیح بخاری  امام احمد بن حجر عسقلانی ﷫کی    حضرت خضر﷤ کے  متعلق  تصنیف شدہ عر...

  • 2 شرح بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام جلد۔1 (جمعہ 10 نومبر 2017ء)

    مشاہدات:4156

    اللہ رب العزت ہمارے خالق حقیقی ہیں اور ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جو کہ ہمارے نبی جناب محمدالرسولﷺ پر آ کر ختم ہوا‘ چونکہ نبوت کا سلسلہ ختم ہونا تھا اس لیے ناگزیر تھا کہ آپﷺ کو ایک ایسی آخری اور مکمل تعلیم وہدایت دے کر بھیجا جاتا جو رہتی دنیا تک کافی رہتی‘ اس لیے نبیﷺ کو عنایت کی جانے والی اس ربانی تعلیم وہدایت کے بنیادی طور پر دو حصے ہیں‘ ایک قرآن مجید جو لفظی اور معنوی دونوں اعتبار سے کلام اللہ ہے دوسرے نبیﷺ کے وہ ارشادات اور آپﷺ کی وہ قولی اور عملی تعلیمات ہیں جو نبیﷺ اللہ کے نبی رسول اور نمائندے ہونے کی حیثیت سے امت کو دیتے تھے اور یہ تعلیمات قیامت تک کے لیے تھی اس لیے ان کی حفاظت وکتابت کے لیے بہت احتیاط کرتے ہوئے بہت سی کتب احادیث تالیف کی گئی ہیں جن میں سے ایک مختصر کتاب ’’بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام‘‘ کے نام سے حافظ ابن حجر کی معروف ہے ۔ اس کتاب میں نہایت عمدہ اسلوب اپنایا گیا ہے‘ اس کتاب میں ڈیڑھ ہزار سے زائد احادیث ہیں اور اس کی شرح کو مؤلف نے علم کا ایک سمندر بنا دیا ہے اور یہ عربی کتاب چھ جلدوں پر محیط ہے مگر اس کتاب کو مختصر کیا گیا ہے کیونکہ اتنی ضخیم کتاب سے سب کے لیے استفادہ اٹھانا مشکل تھا اس لیے اختصار کرتے ہوئے عربی متن کے من وعن ترجمہ کا التزام (احادیت کے ترجمہ میں عموماً الفاظ کے ترجمہ تک ہی محدود رہا جاتا ہے) اور عربی اور اردو کی تعبیر واسلوب میں بعین...

  • 3 تقریب التہذیب ( اردو ) جلد اول (اتوار 26 اگست 2018ء)

    مشاہدات:4443

    علم  اسماء الرجال علم راویانِ حدیث کی سوانحِ عمری اورتاریخ  کا  علم ہے، اس میں راویوں کے نام، حسب ونسب، قوم ووطن، علم وفضل، دیانت وتقویٰ، ذکاوت وحفظ، قوت وضعف اور ان کی ولادت وغیرہ کا بیان ہوتا ہے، بغیراس علم کے حدیث کی جانچ مشکل ہے، اس کے ذریعہ ائمہ حدیث نے مراتب روات اور احادیث کی قوت وضعف کا پتہ لگایاہےحدیث کے راوی جب تک صحابہ کرام﷢ تھے اس فن کی کوئی ضرورت نہ تھی، وہ سب کے سب عادل، انصاف پسند اور محتاط تھے ۔کبارِتابعین بھی اپنے علم وتقویٰ کی روشنی میں ہرجگہ لائق قبول سمجھے جاتے تھے، جب فتنے پھیلے اور بدعات شروع ہوئیں تو ضرورت محسوس ہوئی کہ راویوں کی جانچ پڑتال کی جائے۔ تو ائمہ  محدثین  نے علم اسماء الرجال کو شروع کیا ۔سو حدیث کے لیے جس طرح متن کو جاننا ضروری ہے، سند کو پہچاننا بھی ضروری ٹھہرا کہ اسماء الرجال کے علم کے بغیر علم حدیث میں کوئی شخص کامیاب نہیں ہوسکتا، امام علی بن المدینی (۲۳۴ھ) کہتے ہیں:معانی حدیث میں غور کرنا نصف علم ہے تو معرفت رجال بھی نصف علم ہے۔ (مقدمہ خلاصہ تہذیب الکمال، فصل وھذہ نبذۃ من أقوال الائمۃ فی ہذا:۱/۱۶۵ ) ائمہ محدثین نے اس  اسماء الرجال  پر باقائدہ کتب مرتب کیں۔پہلے دور کی اسماء الرجال کی کتابیں راویوں کے نہایت مختصر حالات کو لیے ہوئے تھیں، بعد میں ابنِ عدی اور ابونعیم اصفہانی نے سب سے پہلے معلومات زیادہ حاصل کرنے کی طرف توجہ کی، خطیب بغدادی ابن عبدالبر اور ابن عساکر دمشقی نے ضخیم جلدوں میں بغداد اور دم...

  • 4 شرح نخبۃ الفکر فی مصطلح اہل الاثر سوالاً جواباً (اتوار 07 اپریل 2019ء)

    مشاہدات:1575

    اصولِ حدیث پر  حافظ ابن حجر عسقلانی﷫ کی سب سے  پہلی اور اہم  تصنیف نخبة الفکر فی مصطلح أهل الأثر  ہے  جو علمی حلقوں میں مختصر نام نخبة الفکر سے  جانی جاتی ہےاور اپنی افادیت کے  پیش نظر اکثر مدارس دینیہ   میں  شامل نصاب ہے۔ اس مختصر رسالہ میں  ابن حجر  نے  علومِ  حدیث کے تمام اہم مباحث کا احاطہ کیا ہے  ۔حدیث اوراصو ل میں  نخبۃ الفکر کو وہی مقام حاصل ہے جو علم  لغت میں خلیل بن احمد  کی  کتاب العین  کو ۔مختصر ہونے کے باوجود یہ اصول  حدیث میں اہم ترین مصدر ہے کیونکہ بعد میں  لکھی جانے والی کتب اس سے بے نیاز نہیں ۔حافظ ابن  حجر نے ہی  اس کتاب کی  شرح  نزهةالنظر فی توضیح نخبة الفکر فی مصطلح أهل الأثر کے نام سے لکھی جسے   متن کی طر ح قبول عام حاصل ہوا۔ اور پھر ان کے  بعد  کئی اہل علم  نے  نخبۃ الفکر کی شروح لکھی ۔ زير نظر كتاب شرح نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر کا آسان فہم  اردو ترجمہ ہے۔یہ  ترجمہ   مولانا عبد الغفار بن عبد الخالق﷾ (متعلّم مدینہ یونیورسٹی ) کی اہم کاوش ہے   یہ کتاب  اکثر مدارس   کے  نصاب میں شامل ہے    لہذااس    کوسمجھنے کے لیے یہ سوالاً جواباً اردو تلخیص طلباء کے لیے انتہائی مفید ہے۔ ...


0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔

0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 939
  • اس ہفتے کے قارئین: 7470
  • اس ماہ کے قارئین: 26763
  • کل قارئین : 47730430

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں