ڈاکٹر سید شفیق الرحمن

12 کل کتب
دکھائیں

  • 1 تجدید ایمان (بدھ 10 دسمبر 2008ء)

    مشاہدات:12148

    حدیث جبریل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان اور اسلام میں فرق بتایا ہے لیکن تمام قسم کی فروعی بحثوں کو ایک طرف رکھنے ہوئے عقائد کی اصلاح ایک لازمی جز ہے کیونکہ اللہ کے ہاں عقیدے کی لغزش ناقابل معافی جرم ہے اسی لیے عقیدے کی خرابی سے شرک پیدا ہوتا اور اللہ کے ہاں بندہ بغیر توبہ کے شرک کا گناہ لیے آ گیا تو اس پر اللہ نے جنت کو حرام قرار دے دیا ہے-اس لیے عقیدہ توحید ایک لازمی امر ہے جس کو فاضل مصنف نے انتہائی بلیغ اور واضح انداز سے بیان کیا ہے تاکہ کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہ رہ جائے-عقیدے کی اصلاح کے لیے انبیاء کی موت وحیات کا مسئلہ، اولیاء کی تکریم میں مبالغہ کرتے ہوئے ان سے استعانت کا پہلو اختیار کرنا ، عقیدے کو خراب کرنے والی موضوع اور من گھڑت قسم کی روایات کی وضاحت کرتے ہوئے مشرکین مکہ کے شرک کی کیفیت اور بعد کے مشرکین کی وضاحت،وسیلہ کی حقیقت اور غیر اللہ سے مسائل کا حل تلاش کرنا،انبیاء وغیرہم کے بارے میں نور وبشر کے مسئلے کی وضاحت،مسئلہ علم غیب کی وضاحت اور اختیارات کس کے پاس ہیں ان تمام چیزوں کرتے ہوئے آخر میں سنت کی اہمیت کو بیان کر کے لوگوں کو قرآن وسنت پر اکٹھا کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ مسلمان اپنے زندگی کا ہر معاملہ قرآن وسنت کی روشنی میں حل کرے-اور قرآن وسنت کے متعلق پائے جانے والے مختلف شبہات کا مدلل رد بھی کیا ہے-مثال کے طور پر جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ احادیث عجمی سازش ہیں یا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نہیں لکھی گئیں بلکہ بعدکی پیداوار ہیں تو ایسے تمام گھٹیا اعتراضات کا مدلل محاکمہ کیا گیا  ہے۔
     

  • 2 غیراللہ کی پکار کی شرعی حیثیت (جمعرات 26 مارچ 2009ء)

    مشاہدات:15402

    توحید یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کے سوا کسی اور کو اسباب سے بالاتر نہ پکارا جائے۔ لیکن آج کے نام نہاد مسلمانوں نے ہر کام کیلئے الگ الگ پیر بنا لئے ہیں جن سے مختلف قسم کی مافوق الاسباب امداد و استعانت طلب کی جاتی ہے۔ بیٹے دینے والا پیر الگ ہے تو خزانے بخشنے والا کوئی اور۔ بہشتی دروازہ کسی کے پاس ہے تو بیماریاں دور کرنے والا پانی کسی اور کے پاس۔ بالکل اسی طرح جیسے مشرکین الگ الگ بتوں سے الگ الگ کاموں کی توقعات رکھتے تھے۔ فاضل مصنف نے اس نازک اور حساس موضوع پر نہایت ہی عمدہ طریقے سے کتاب و سنت کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ اللہ تعالٰی کے سوا کسی اور کو اسباب سے بالاتر پکارنا شرک ہے۔ غیر اللہ سے مدد طلب کرنے والوں کے تار عنکبوت دلائل اور شبہات کا بھرپور علمی محاکمہ کیا ہے۔

     

     

  • ویلنٹائن ڈے کی حقیقت اور اس کا شرعی حکم : ہر سال 14فروری کو ویلنٹائن ڈے (یوم اظہار محبت) کے نام سے پوری دنیا میں بڑی دھوم دھام سے منایا جاتاہے,لیکن اس تہوار کی کیا حقیقت ہے؟ اور ایک مسلمان کے لیے اسے منانا اور اس میں شرکت کرنا جائز ہے یا نھیں؟ اور اس کا شرعی حکم کیاہے؟ زيرنظر مقالہ میں انہی امور پر باختصار روشنی ڈالی گئی ہے



     

  • 4 ایمان باللہ کی حقیقت (جمعرات 07 جولائی 2011ء)

    مشاہدات:15365

    ’لا الہ الا اللہ‘ کے دو جزء ہیں:ایک میں باطل معبودوں کی نفی ہے اور دوسرے میں صرف اللہ کے معبود ہونے کا اقرار ایمان کے لیے ان دونوں کا فہم اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل پیرا ہونا ضروری ہے ورنہ ایمان باللہ کی حقیقت تک نہیں پہنچا جا سکتا۔بہت سے لوگ خدائے معبود ہونے کا اقرار تو کرتے ہیں لیکن غیر اللہ کا انکار نہیں کرتے جس سے وہ شرک میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔زیر نظر کتابچہ میں جناب ڈاکٹر شفیق الرحمان نے واضح کیا ہے کہ اللہ پر ایمان لانے کا مطلب کیا ہے اور غیر اللہ کی نفی سے کیامراد ہے؟آخر میں انہوں نے ان امور پر بھی روشنی ڈالی ہے جو صحیح عقیدہ سے انحراف کا سبب بنتے ہیں ۔ہر مسلمان کو اس کتابچہ کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ صحیح  معنوں میں اللہ پر ایمان کے مفہوم کو سمجھ سکے اور اس کو عملاً اپنا سکے۔(ط۔ا)
     

  • 5 اسلامی آداب زندگی (جمعہ 26 جولائی 2013ء)

    مشاہدات:5150

    ہر انسان فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اسے یہودی نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں ۔ اگر بچے کی شروع سے اچھی تربیت کی جائے اس میں حق ، نیکی اور خیر کو ترجیح دینے کا جذبہ پیدا کیا جائے تو یہ کام اس کی عادت میں شامل ہو جاتے ہیں ۔ پھر اس میں حلم ، حوصلہ ، صبر ، تحمل ، بردبار ، کرم شجاعت اور عدل و احسان جیسے اخلاق حسنہ پیدا ہو جاتے ہیں ۔ اس کے برعکس اگر بچے کی تربیت مناسب انداز سے نہ کی جائے تو وہ بری عادت کا شکار ہو جاتا ہے ۔ وہ خیانت ، جھوٹ ، بےصبری ، لالچ ، زیادتی اور سختی جیسے اخلاق سیئہ کا شکار ہو جاتا ہے ۔ چناچہ اسلامی طرز زندگی گزارنے کے لیے اور اپنی زندگی میں اسلام پر عمل کرنے کے لیے ہمیں ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے آپ ﷺ کی زندگی پر عمل پیرا ہونا ہو گا ۔ اپنے بچوں کے اور اپنے سامنے حضور کی حیات مبارکہ کو ماڈل بنانا ہو گا ۔ آپ ﷺ نے ہمارے لئے زندگی کے ہر شعبہ میں اعلی اور مثالی نمونے چھوڑے ہیں ۔ اور اس کے علاوہ آپ ﷺ کے بہترین فرمودات بھی موجود ہیں ۔ جن پر عمل کر کے ہم اپنی زندگیوں کو ایک جنت کا نمونہ بنا سکتے ہیں ۔ زیر نظر کتاب بچوں اور بڑوں کی اسلامی تربیت کے حوالے سے لکھی گئی ہے ۔ جس میں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں اسلامی اصولوں کی وضاحت بطریق احسن کر دی گئی ہے ۔ اللہ ہمیں صحیح معنوں میں مسلمان بنائے ۔آمین (ع۔ح)
     

  • 6 نظریہ توحید وجودی اور ڈاکٹر اسرار احمد (منگل 25 اگست 2015ء)

    مشاہدات:3204

    نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اسلام کی ابتداء غربت اور اجنبیت  کی حالت میں ہوئی ،اور  عنقریب اسلام اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹ جائے گا۔پس خوشخبری ہے غریب اور اجنبی لوگوں کے لئے۔توحید اسلام کا بنیادی اور اہم ترین عقیدہ ہے یعنی اللہ تعالی اپنی ذات وصفات اور احکامات میں ہر طرح کی شراکت سے مبرا ہے۔آج اسلام کے دعویداروں کی اکثریت توحید باری تعالی کو چھوڑ کر شرک وکفر میں مبتلاء ہو چکی ہے۔شرک وکفر کے پھیلنے کی متعدد وجوہات میں سے ایک اہم وجہ محی الدین ابن عربی کا فلسفہ وحدۃ الوجود بھی ہے۔اس کی وجہ سے اسلام میں الحاد کے دروازے کھلے ،کشف وکرامات کے بے سند واقعات نے اسلام کی بنیادوں پر حملہ کیا ۔قرآن وسنت کے علم کو "علم ظاہری" کہہ کر علم اور علماء کا مذاق اڑایا گیا۔طریقت کے نام پر شریعت کے مقابلے میں ایک نیا دین گھڑ لیا گیا۔شریعت کی  تحقیر اور طریقت سے کمتر سمجھنے کا رجحان عام ہوا اور من گھڑت وموضوع روایات نے نظریہ توحید میں شک پیدا کر دیا۔امام ابن تیمیہ﷫ اوران کے ہونہار شاگرد امام ابن قیم﷫ نےنہ صرف عقیدہ وحدۃ الوجود کا رد کیا بالکہ ابن عربی کو بھی گمراہ ثابت کیا۔عصر حاضر کے معروف عالم دین اور تنظیم اسلامی کے بانی محترم ڈاکٹر اسرار احمد صاحب﷫  ابن عربی کے علمی اور روحانی مقام کے زبر دست قائل ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے نظریات کے بھی حامی نظر آتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" نظریہ توحید وجودی اور ڈاکٹر اسرار احمد"محترم ڈاکٹر سید شفیق الرحمن صاحب کی مرتب کر دہ ہے۔مولف موصوف نے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی تحریریں مختلف اہل علم کو روانہ کیں اور ان...

  • 7 سبیل المومنین (بدھ 30 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:1638

    اسلام اعلی اخلاقیات کا حامل مذہب ہے جو اپنے ماننے والوں کو اعلی اخلاق اور بلند کردار اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے اورانہیں بد اخلاقی اور بد کرداری سے منع کرتا ہے۔نبی کریم ﷺ اخلاقیات کے اعلی ترین مقام پر فائز تھے،اللہ تعالی نے آپ کو اخلاق کا بہترین نمونہ اور پیکر بنا کر بھیجا تھا۔کسی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا تو آپ نے جواب دیا: کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کے اعلیٰ ترین مرتبے پر فائز تھے۔ اس کی گواہی قرآن نے بھی دی اور صحابہ و ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم نے بھی۔ یہاں تک کہ آپ کے بدترین مخالفین،جنہوں نے آپ پر طرح طرح کے الزامات تو لگائے لیکن کبھی آپ کی سیرت اور کردار کی بابت ایک لفظ بھی نہ کہہ پائے۔حیرت کا مقام ہے کہ آپ کے ہم عصر مخالفین تک آپ کو اعلیٰ اخلاق و کردار کا حامل گردانتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب " سبیل المومنین" محترم جناب ڈاکٹر سید شفیق الرحمن صاحب کی تصنیف ہے  جبکہ تحقیق وتخریج محترم مولانا حافظ زبیر علی زئی صاحب﷫ کی ہے۔مولف نے اس کتاب میں انتہائی سادہ لیکن مؤثر انداز میں اسلام  کے اخلاق و کردار کے اسباق کو بیان کیا ہے۔مولف موصوف نے انتہائی اختصار کے ساتھ اخلاقیات  کے دروس کو ایک ترتیب سے مرتب کر دیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو نبی کریم ﷺ کے اخلاق اور اسوہ حسنہ پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین(راسخ)

  • اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کے بعد ضروری ہے کے اللہ تعالیٰ کے دوستوں کے ساتھ محبت اور اس کے دشمنوں کے ساتھ عداوت ونفرت قائم کی جائے چنانچہ عقیدہ اسلامیہ جن قواعد پر قائم ہے، اُن میں سے ایک عظیم الشان قاعدہ یہ ہے کے اس پاکیزہ عقیدے کو قبول کرنے والا ہر مسلمان اس عقیدے کے ماننے والوں سے دوستی اور نہ ماننے والوں سے عدوات رکھے۔اسلام میں دوستی اور دشمنی کی بڑی واضح علامات بیان کی گئی ہیں، ان علامات کو پیش نظر رکھ کر ہر شخص اپنے آپ کو تول سکتا ہے کہ وہ کس قدر اسلام کی دوستی اور دشمنی کے معیار پر پورا اُتر رہا ہے۔ الولاء عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی دوست ،مدگار، حلیف کے ہیں۔ عقیدہ الولاء کی رو سے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سےاس کےبعد رسول اکرمﷺ سے اور اس کے بعد تمام اہل ایمان سے محبت کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے ۔البراء بھی عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کا مطلب بیزاری اور نفرت کا اظہار کرنا یا دشمنی کا اظہار کرنایا کسی سے قطع تعلق کرنا ہے ۔عقیدہ البراء کی روہ سے اسلام دشمن کفار سے شدید نفرت اور بیزاری کااظہار کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے اور موقع ملنے پر ان کے خلاف جہاد کرنا ان کی قوت توڑنا او ران سے ظلم کا بدلہ لینا فرض ہے ۔شریعت ِاسلامیہ میں عقیدہ ’’الولاء والبراء‘‘ بہت اہمیت رکھتاہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید کی کوئی ایک سورت بلکہ کوئی ایک صفحہ ایسا نہیں جس میں ’’ الولاء والبراء‘‘ کےبارے میں احکام نہ دئیے گئے ہوں یا کسی نہ کسی طرح ’’ الولاء والبراء‘‘کا تذکرہ...

  • 9 حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آڑ میں مشرکانہ عقائد (جمعرات 19 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:2397

    اللہ تعالیٰ نے جس پر زور طریقے  سے شرک کی مذمت کی ہے کسی اور چیز کی نہیں کی ہے۔حتی کہ شرک کی طرف جانے والے ذرائع اور اسباب سے بھی منع فرما دیا ہے۔ شرک کا لغوی معنی برابری جبکہ شرک کی واضح تعریف جو علماء کرام نے کی ہے وہ یہ ہے کہ اَللہ تعالیٰ کے کسی وصف کو غیر اللہ کیلئے اِس طرح ثابت کرنا جس طرح اور جس حیثیت سے وہ اَللہ تعالیٰ کیلئے ثابت ہے ،یعنی یہ اِعتقاد رکھنا کہ جس طرح اَللہ تعالیٰ کا علم اَزَلی، اَبدی ، ذاتی اور غیر محدود ومحیطِ کل(سب کو گھیرے ہوئے ) ہے ،اِسی طرح نبی اورولی کو بھی ہے اور جس طرح اَللہ تعالیٰ جملہ صفاتِ کمالیہ کا مستحق اور تمام عیوب ونقائص سے پاک ہے ،اِسی طرح غیر اللہ بھی ہے تو یہ شرک ہو گا اور یہی وہ شرک ہے جس کی وجہ سے اِنسان دائرۂ اِسلام سے خارِج ہو جاتا ہے اور بغیر توبہ مرگیا تو ہمیشہ کیلئے جہنم کا اِیندھن بنے گا۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اور نبی کریم ﷺ نے اپنی احادیث مبارکہ میں جس قدر شرک کی مذمت اور توحید کا اثبات کیا ہے اتنا کسی اور مسئلے پر زور نہیں دیا ہے۔سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر  نبی کریمﷺ تک ہر رسول و نبی نے اپنی قوم کو یہی دعوت دی ہے۔شرک کی اسی قباحت اور اس کے ناقابل معافی جرم ہونے کے سبب تمام علماء امت نے اس کی مذمت کی اور لوگوں کو اس سے منع کرتے رہے۔ زیر تبصرہ کتاب"حب رسول  ﷺ کی آڑ میں  مشرکانہ عقائد" محترم ڈاکٹر سید شفیق الرحمن صاحب کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے محبت رسول ﷺ کی آڑ میں پھیلانے جانے والے مشرکانہ عقائد کو ایک جگہ جمع فرما دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  ...

  • 10 کبیرہ گناہ اور نواقض اسلام (جمعرات 27 اپریل 2017ء)

    مشاہدات:1910

    اللہ اور اس کے رسول اکرم ﷺ کی نافرمانی کاہر کام گناہ کہلاتا ہے ۔ اہل علم نے کتاب وسنت کی روشنی میں گناہ کی دو قسمیں بیان کی ہیں ۔ صغیرہ گناہ یعنی چھوٹے گناہ اور کبیرہ گناہ یعنی بڑے گناہ۔ اہل علم نے کبیرہ گناہوں کی فہرست میں ان گناہوں کوشمار کیا ہے جن کےبارے میں قرآن وحدیث میں واضح طور پر جہنم کی سزا بتائی گئی ہے یا جن کے بارے میں رسول اکرمﷺ نے شدید غصہ کا اظہار فرمایا ہے ۔اور صغیرہ گناہ وہ ہیں جن سے اللہ اوراس کے رسول نےمنع توفرمایا ہے ، لیکن ان کی سزا بیان نہیں فرمائی یا ان کے بارے میں شدید الفاظ استعمال نہیں فرمائے یا اظہارِ ناراضگی نہیں فرمایا۔کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کی وجہ سے آدمی پر سب سے بڑی ہلاکت اور مصیبت تو یقیناً آخرت میں ہی آئے گی جہاں اسے چاروناچار جہنم کاعذاب بھگتنا پڑے گا لیکن اس دینا میں بھی گناہ انسان کے لیے کسی راحت یاسکون کا باعث نہیں بنتے بلکہ انسان پر آنے والے تمام مصائب وآلام،بیماریاں اور پریشانیاں تکلیفیں اور مصیبتیں درحقیقت ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہی آتی ہیں ۔یہ کبیرہ گناہ نماز ادا کرنے سے ، رمضان کے روزے ،رات کاقیام اور عمرہ کرنے سے معاف نہیں ہوتے بلکہ توبہ واستغفار سے معارف ہوتے ہیں۔ اور اگر اس گناہ کاتعلق دوسرے لوگوں کے حقوق سےہو تو توبہ واستغفار کے ساتھ ان کےحقوق کی ادائیگی یا ان سے معافی بھی شرط ہے ۔ ان کبیرہ گناہوں پر عذاب کامعاملہ اللہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہے ۔اگر چاہے تو بخش دے اورجنت میں داخل کردے اور اگر چاہے تو عذاب دے مگر جہنم کا عذاب اس کےلیے ہمیشہ کے لیےنہیں ہوگا۔کبیرہ گناہ کا موضوع ہمیشہ علماء امت کی توجہ کامر...


2 کل کتب
دکھائیں

  • آج نماز کے حوالے سے بہت سی کتابیں آپ کو دیکھنے کو ملیں گی جن میں نہ صرف اپنے اپنے مسلکوںکا دفاع کیا جاتاہے بلکہ ضعیف اور موضوع روایات درج کرنے میں بھی کسی قسم کے تردد سے کام نہیں لیا جاتاجس وجہ سے عوام لناس میں نماز کی ادائیگی میں بہت تفاوت نظر آتا ہے  اس لیے اس تفاوت کو ختم کرنے اور باہمی اختلاف کو دور کرنے کے لیے ایک ایسے طریقے کی ضرورت ہے جو بالکل وہ طریقہ ہو جس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی ادائیگی فرمائی اور بعد میں صحابہ کرام نے بھی اسی طریقے کو اختیار کیا- زیر نظر کتاب ڈاکٹر سید شفیق الرحمن کی طرف سے نماز نبوی پر لکھی جانے والی ایک بہترین کاوش ہے- ان کا اندازانتہائی آسان اور عام فہم ہے اور نمازکے متعلق تقریباً تمام موضوعات کو جمع کردیا گیا ہے جن میں طہارت کے مکمل مسائل، وضو اور تیمم کا طریقہ اور تکبیر اولی سے سلام تک مکمل نماز نبوی کے ساتھ ساتھ مساجد، اور جنازے کے احکام کا احاطہ کیا گیا ہے-اس کے ساتھ ساتھ نماز معہ کی فرضیت اور اہمیت اور طریقہ ادائیگی کو بیان کیا ہے،نماز کسوف اور خسوف کا طریقہ،میت کے احکام وغیرہ- مزید برآں نماز تہجد، نماز سفر اورسجدہ سہو کے حوالے سے مکمل آگاہی فراہم کی گئی ہے-جنازے سے متعلقہ جمیع مسائل کا حاطہ کیا گیا ہے اور میت سے متعلقہ امور کی نشاندہی کی گئی ہے- اس کتاب کی اہم خوبی یہ ہے کہ اس میں صرف اور صرف صحیح احادیث سے استدلال کیا گیا ہے- احادیث کی تخریج وتحقیق معروف عالم دین حافظ زبیر علی زئی نے کی ہے

     

  • 2 طاغوت پہچان ، حکم ، برتاؤ (اتوار 16 جولائی 2017ء)

    مشاہدات:1232

    طاغوت، عربی زبان کا لفظ ہے۔ جس کے لفظی معنی ہیں، بت، جادو، جادوگر، گمراہوں کا سردار(ابلیس)، سرکش، دیو اور کاہن۔قرآن کریم میں یہ لفظ 8 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔شرعی اصطلاح میں طاغوت سے مراد خاص طور پر وہ شخص ہے، جو ارتکاب جرائم میں ناجائز امور میں اپنے گروہ کا سرغنہ یا سربرہ ہو۔طاغوت کی تعریف ادب ولغت کے امام جوہری نے یہ کی ہے۔ والطاغوت الکاہن والشیطان وکل راس فی الضلال۔ یعنی طاغوت کا اطلاق کاہن اور شیطان پر بھی ہوتا ہے اور اس شخص کو بھی طاغوت کہتے ہیں جو کسی گمراہی کا سرغنہ ہو۔اسلامی اصطلاح میں اس سلسلے میں مزید وسعت ہے۔ طاغوت سے مراد وہ حاکم ہے جو قانون الہی کے علاوہ کسی دوسرے قانون کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور وہ نظام عدالت بھی اسی میں آتا ہے، جو نہ تو اقتدار اعلی یعنی اﷲ کا مطیع ہو اور نہ اﷲ کی کتاب کو سند مانتا ہو۔ لہذا قرآن مجید میں ایک آیت کے حوالے سے ہے کہ جو عدالت طاغوت کی حیثیت رکھتی ہے، اس کے پاس اپنے معاملات فیصلہ کے لیے، لے کر جانا ایمان کے منافی ہے۔قرآن کی رو سے اﷲ پر ایمان اور طاغوت سے کفر یعنی انکار دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ کیونکہ اگر خدا اور طاغوت دونوں کے سامنےسرجھکایا جائے تو ایمان کی بنیادی شرط پوری نہیں ہوتی۔ زیر تبصرہ کتاب"طاغوت، پہچان، حکم، برتاؤ "محترم عبد المنعم مصطفی حلیمہ ابو بصیر طرطوسی کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے۔اردوترجمہ محترم ڈاکٹر سید شفیق الرحمن صاحب نے کیا ہے۔ اس کتاب میں مولف موصوف نے طاغوت کی پہچان کرواتے ہوئے اس کا حکم بیان کیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ اس کے ساتھ برتاؤ کیسا ہونا چاہئے۔ ا للہ تعالی  سے...


0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 2178
  • اس ہفتے کے قارئین: 6335
  • اس ماہ کے قارئین: 30863
  • کل قارئین : 47100894

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں