• 1 تفسیر فضل القرآن ۔ جزء اول (اتوار 02 فروری 2014ء)

    مشاہدات:19788

    مولانا فضل الرحمن کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو ابتدائی عمر میں تو دینی تعلیم حاصل نہیں سکے۔لیکن جب اللہ نے ان کے لیے ہدایت کا راستہ روشن کیا تو  انہوں نے سخت محنت سے اپنا مقام بنایا۔ آپ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے عربی میں گولڈ میڈلسٹ ہیں اور پاکستان قومی کرکٹ ٹیم  کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں۔ کرکٹ کے جھمیلوں سے نکللنے کے بعد آپ دینی تعلیم کی طرف راغب ہوئے اور مولانا عطاء اللہ حنیف کی شاگردی میں کتب احادیث اور دیگر علوم میں مہارت حاصل کی۔ آپ اب تک متعدد کتب اور کتابچے لکھ چکے ہیں۔ مولانا نے تفسیر قرآن میں بھی اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا اور ’تفسیر فضل القرآن‘ کے نام سے قرآن کی تفسیر لکھی جو اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ مولانا نے اس میں تفسیر بالماثور کا اسلوب اختیار کیا ہےاور اسلاف کے نقطہ نظر کو سامنے رکھا ہے۔ جس جگہ پر آیات کی تفسیر آیات سے ہوسکتی تھی وہاں پر آیات ہی سے کی ہے پھر تشریح کے طور پر احادیث رسولﷺ سے استشہاد کیا ہے اور احادیث کو حوالوں سے مزین کیا ہے اگرچہ بہت سے مقامات ایسے بھی ہیں جہاں احادیث حوالوں سے خالی نظر آتی ہیں اور کچھ مقامات پر ضعیف احادیث بھی شامل ہو گئی ہیں۔ جا بجا اقوال صحابہ و ائمہ اور تاریخی واقعات بھی قلمبند کئے گئے ہیں۔ اس تفسیر کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ حل لغات کے عنوان سے ہر آیت کے مشکل الفاظ کے اصل معنی کی وضاحت کر دی گئی ہے۔ جس سے آیت کا مدعا سمجھنے میں خاصی مدد ملتی ہے۔
     

  • 2 تفسیر فضل القرآن ۔ جزء دوئم (اتوار 02 فروری 2014ء)

    مشاہدات:19383

    مولانا فضل الرحمن کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو ابتدائی عمر میں تو دینی تعلیم حاصل نہیں سکے۔لیکن جب اللہ نے ان کے لیے ہدایت کا راستہ روشن کیا تو  انہوں نے سخت محنت سے اپنا مقام بنایا۔ آپ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے عربی میں گولڈ میڈلسٹ ہیں اور پاکستان قومی کرکٹ ٹیم  کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں۔ کرکٹ کے جھمیلوں سے نکللنے کے بعد آپ دینی تعلیم کی طرف راغب ہوئے اور مولانا عطاء اللہ حنیف کی شاگردی میں کتب احادیث اور دیگر علوم میں مہارت حاصل کی۔ آپ اب تک متعدد کتب اور کتابچے لکھ چکے ہیں۔ مولانا نے تفسیر قرآن میں بھی اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا اور ’تفسیر فضل القرآن‘ کے نام سے قرآن کی تفسیر لکھی جو اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ مولانا نے اس میں تفسیر بالماثور کا اسلوب اختیار کیا ہےاور اسلاف کے نقطہ نظر کو سامنے رکھا ہے۔ جس جگہ پر آیات کی تفسیر آیات سے ہوسکتی تھی وہاں پر آیات ہی سے کی ہے پھر تشریح کے طور پر احادیث رسولﷺ سے استشہاد کیا ہے اور احادیث کو حوالوں سے مزین کیا ہے اگرچہ بہت سے مقامات ایسے بھی ہیں جہاں احادیث حوالوں سے خالی نظر آتی ہیں اور کچھ مقامات پر ضعیف احادیث بھی شامل ہو گئی ہیں۔ جا بجا اقوال صحابہ و ائمہ اور تاریخی واقعات بھی قلمبند کئے گئے ہیں۔ اس تفسیر کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ حل لغات کے عنوان سے ہر آیت کے مشکل الفاظ کے اصل معنی کی وضاحت کر دی گئی ہے۔ جس سے آیت کا مدعا سمجھنے میں خاصی مدد ملتی ہے۔
     

  • 3 تفسیر فضل القرآن ۔ جزء سوئم (اتوار 02 فروری 2014ء)

    مشاہدات:19550

    مولانا فضل الرحمن کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو ابتدائی عمر میں تو دینی تعلیم حاصل نہیں سکے۔لیکن جب اللہ نے ان کے لیے ہدایت کا راستہ روشن کیا تو  انہوں نے سخت محنت سے اپنا مقام بنایا۔ آپ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے عربی میں گولڈ میڈلسٹ ہیں اور پاکستان قومی کرکٹ ٹیم  کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں۔ کرکٹ کے جھمیلوں سے نکللنے کے بعد آپ دینی تعلیم کی طرف راغب ہوئے اور مولانا عطاء اللہ حنیف کی شاگردی میں کتب احادیث اور دیگر علوم میں مہارت حاصل کی۔ آپ اب تک متعدد کتب اور کتابچے لکھ چکے ہیں۔ مولانا نے تفسیر قرآن میں بھی اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا اور ’تفسیر فضل القرآن‘ کے نام سے قرآن کی تفسیر لکھی جو اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ مولانا نے اس میں تفسیر بالماثور کا اسلوب اختیار کیا ہےاور اسلاف کے نقطہ نظر کو سامنے رکھا ہے۔ جس جگہ پر آیات کی تفسیر آیات سے ہوسکتی تھی وہاں پر آیات ہی سے کی ہے پھر تشریح کے طور پر احادیث رسولﷺ سے استشہاد کیا ہے اور احادیث کو حوالوں سے مزین کیا ہے اگرچہ بہت سے مقامات ایسے بھی ہیں جہاں احادیث حوالوں سے خالی نظر آتی ہیں اور کچھ مقامات پر ضعیف احادیث بھی شامل ہو گئی ہیں۔ جا بجا اقوال صحابہ و ائمہ اور تاریخی واقعات بھی قلمبند کئے گئے ہیں۔ اس تفسیر کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ حل لغات کے عنوان سے ہر آیت کے مشکل الفاظ کے اصل معنی کی وضاحت کر دی گئی ہے۔ جس سے آیت کا مدعا سمجھنے میں خاصی مدد ملتی ہے۔
     

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1835
  • اس ہفتے کے قارئین 5699
  • اس ماہ کے قارئین 44093
  • کل قارئین49309666

موضوعاتی فہرست