دکھائیں کتب
  • 41 ضرب الامثال اور محاورات (بدھ 16 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:9268

    اردو ادب میں ضرب الامثال اور محاورات کے استعمال کی اہمیت  بڑی واضح ہے۔ان سے کسی قوم کی بنیادی ذہنیت اور اس کی ثقافت فکری کا پتہ چلتا ہے۔اگر ان کے صحیح اور واضح پس منظر اور معانی کا درست علم نہ ہو تو آدمی صحیح مفہوم سے بہت دور بھٹک جاتا ہے۔ضرب الامثال عوامی سطح پر پیدا ہوتی ہیں۔ ان میں عوامی فطانت سمائی ہوتی ہے اور عوامی زندگی کی جھلک نظر آتی ہے۔ خوبی یہ ہے کہ پھر خواص بھی ان ہی مثلوں اور کہاوتوں کو برتتے ہیں اور اپنا لیتے ہیں۔ اگرچہ وہ اکثران کے اپنے ماحول یا معاشرے سے تعلق نہیں رکھتیں۔ نہ صرف امثال بلکہ الفاظ، تلفظ، محاورے وغیرہ کے معاملے میں بھی عوام کے آگے خواص کی زیادہ نہیں چلنے پاتی۔ضرب الامثال بالعموم عوامی ذہانت کی امین ہوتی ہیں اور ان کے پیچھے صدیوں کی دانش کارفرما ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ انہیں زبان کی زینت اور زیور تصور کیا جاتا ہے اور تحریر و تقریر میں رنگا رنگی اور ندرت پیدا کرنے کے لیے ان کا استعمال ناگزیر ہوتا ہے۔محاورے اور ضرب المثل میں جو مشترک آہنگ پایا جاتا ہے، وہ اُس دانش، حکمت، دانائی یا اس ذہنی اور فکری استعداد کا وہ قرینہ ہے، جو زندگی کے تجربے سے پھوٹتا ہے، لیکن مختلف صورتیں اور شکلیں اوڑھنے کے بعد یہ ایسی ترکیبی صورتیں اختیار کرتا ہے کہ زبان کے اصطلاحی پیکر میں اُس کا نیا آہنگ یا نیا نام سامنے آتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"ضرب الامثال اور محاورات"محترم ڈاکٹر صلاح الدین اور محترم محمد ثقلین بھٹی دونوں کی مشترکہ کاوش ہے۔اس کتاب میں مولفین نے اردو ادب کی بے شمار ضرب الامثال اور محاورات کو جمع کر دیا ہے۔یہ کتاب  طلباء ا...

  • 42 عربی انگلش اردو بول چال ( کیرانوی ) (اتوار 13 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:7364

    عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے عربی میں ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب "عربی انگلش اردو بول چال"انڈیا کے معروف لغوی محترم بدر الزماں قاسمی کیرانوی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے ایک سو پچیس عنوانات کے تحت عربی اردو اور انگلش بول چال کی مشق کروائی ہے۔اور اس میں کوشش یہ کی گئی ہے کہ روز مرہ بول چال کے تمام موضوعات شامل ہو جائیں۔مولف موصوف  کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ عربی زبان کی اہمیت کے پیش نظر پہلے عربی الفاظ پیش کرتے ہیں، پھر ان کا اردو ترجمہ لکھتے ہیں اور آخر میں ان کا انگلش ترجمہ لکھ دیتے ہیں تاکہ اردو دان طبقہ بیک وقت عربی اور انگلش زبان سے آگاہ ہوتا جائے۔یہ اپنے موضوع پر  ایک شاندار اور انتہائی مفید تصنیف ہے خصوصا ان حضرات کے لئے جو بیرون ملک سفر کرتے رہتے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محن...

  • 43 علم لغت‘اصول لغت اور لغات (جمعہ 19 اکتوبر 2018ء)

    مشاہدات:1778

    لُغت (dictionary ڈکشنری ایک ایسی کتاب ہے جس میں کسی زبان کے الفاظ کو وضاحتوں، صرفیات، تلفّظات اور دوسری معلومات کے ساتھ بترتیبِ حروفِ تہجّی درج کیا گیا ہو یا ایک ایسی کتاب جس میں کسی زبان کے الفاظ اور کسی اور زبان میں اُن کے مترادفات کے ساتھ حروفِ تہجّی کی ترتیب سے لکھا گیا ہو۔ لغت میں کسی زبان کے الفاظ کو کسی خاص ترتیب کے لحاظ سے املا، تلفظ، ماخذ اور مادہ بیان کرتے ہوئے حقیقی، مجازی، یا اصطلاحی معنوں کے ساتھ درج کیا جاتا ہے۔ ضرورت کے مطابق الفاظ کی شکلوں میں تبدیلی اور صحیح محل استعمال کی وضاحت کی جاتی ہے۔لغت نویسی کی دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ دو مختلف زبانوں کے بولنے والے افراد، گروہ یا جماعتیں، جب ایک دوسرے سے زندگی کے مختلف شعبوں میں ربط پیدا کرتی اور اسے برقرار رکھتی ہیں تو انھیں ایک دوسرے کی زبان کے الفاظ سیکھنے پڑتے ہیں۔  لُغات عموماً کتاب کی شکل میں ہوتے ہیں، تاہم، آج کل کچھ جدید لُغات مصنع لطیفی  ڈکشنری 

  • 44 فارسی اردو بول چال ( مخدوم صابری ) (منگل 05 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:6348

    فارسی جیسی شیریں زبان کی اہمیت محتاج وضاحت نہیں ہے۔یہ زبان ایران افغانستان ہی نہیں بلکہ پاکستان وہندوستان کے علاوہ خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں بھی بکثرت بولی اور سمجھی جاتی ہے۔فارسی دنیا کی قدیم زبانوں میں سے ایک ہے۔مسلمانوں نے عربی کے بعد فارسی ہی کو اپنایا کیونکہ مسلمانوں کا بیشر دینی وادبی سرمایہ فارسی زبان میں ہے۔ہندوستان میں مسلمانوں کے دور حکومت میں قومی وسرکاری زبان فارسی ہی تھی لیکن سلطنت مغلیہ کے زوال کے بعد اسے بتدریج فراموش کیا جاتا رہا۔ زیر تبصرہ کتاب"فارسی اردو بول چال" محترم مخدوم صابری صاحب کی تصنیف ہے جو فارسی زبان سیکھنے کے خواہش مند حضرات اور بالخصوص تلاش روز گار کے لئے بیارون ملک جانے والوں کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر لکھی گئی ہے۔کتاب کاانداز  بیان سہل، پیرایہ دلچسپ اور اسلوب عام فہم ہے۔یہ کتاب فارسی سیکھنے والوں کے لئے ایک نادر تحفہ ہے جس سے فارسی زبان سیکھنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 45 فارسی کا آسان قاعدہ (پیر 11 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:5687

    کسی بھی زبان کو سمجھنے کے لیے اس کے بنیادی اصول و قواعد کا جاننا بہت ضروری ہوتا ہے۔کوئی انسان اس وقت تک کسی زبان پر مکمل عبور حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ اس زبان کے بنیادی قواعد میں پختگی حاصل نہ کر لے۔یہ عالم فانی بے شمار زبانوں کی آماجگاہ ہےاور اس میں بہت سی زبانوں کا تعلق زمانہ قدیم سے ہے۔ان قدیم زبانوں میں سے ایک قدیم زبان فارسی بھی ہے۔بر صغیرپاک و ہند میں علوم اسلامیہ کا بہت سارا حصہ فارسی زبان میں قلمبند ہے اس لیے بہت سارے مدارس دینیہ میں فارسی زبان بطور نصاب شامل ہوتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"فارسی زبان کا آسان قاعدہ" مولانا مشتاق احمد چرتھاولیؒ کی قابل قدر تصنیف ہے۔ مصنف ہذا کی عربی گرائمر پر بھی گراں قدر خدمات ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت طلبہ اسلام کو کماحقہ استفادہ کرنے کی توفیق دے اور مصنف کے بلندی ِدرجات کا سبب بنائے۔ آمین(عمیر)

  • 46 فیروزاللغات اردو پارٹ 1(1تا103) (اتوار 25 نومبر 2012ء)

    مشاہدات:22772

    لسانیات میں اردو زبان کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ جو تاریخ کے مختلف دور طے کرتےہوئے ہنوز ایک علمی، ادبی اور بڑی حد تک ایک سائنسی زبان بن چکی ہے۔ کسی بھی زبان کے معانی کی وسعت اور جامعیت کو جاننے کے لیے بنیادی طور پر متعلقہ زبان کی لغات کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ پھر لغات میں سے کچھ کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے وہ آئندہ لغات کےلیے بنیاد و اساس کی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔ زبان اردو میں اس حوالے سے ’فیروز اللغات‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ جسے بابائے اردو الحاج مولوی فیروز الدین نے اپنی عمر بھر کی ریاضت کے بعد تدوین و ترتیب دیا تھا۔ا س کے ساتھ ساتھ اردو کےاولین اور اتھینٹک لغات میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ’فیروز اللغات‘ کا زیر مطالعہ ایڈیشن نئی ترتیب اور جدید اضافوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ جس میں پچیس ہزار کے قریب جدید اصلاحات اور الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ ایڈیشن لغت نگاری کی جدید سائنسی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ دوسرے مروجہ لغتوں سے زیادہ مستندہے اور عہد حاضر کے تمام لسانی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ اس میں گزشتہ نصف صدی کے عرصے میں اردو میں رائج ہونے والے نئے الفاظ اور دفتری اصطلاحات کے علاوہ وہ قدیم اور متروک الفاظ بھی شامل کیے گئے ہیں جن کے معنی جانے بغیر اردو کی کلاسیکی خصوصاً دکنی تصنیفات سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔ تمام الفاظ کےمعنی شرح و بسط سے دئیے گئے ہیں اور ہر محاورے، ضرب الامثال اور اصطلاح کی تشریح کی گئی ہے۔(ع۔م)

     

  • 47 فیروزاللغات اردو پارٹ 2(104تا 208) (پیر 26 نومبر 2012ء)

    مشاہدات:17082

    لسانیات میں اردو زبان کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ جو تاریخ کے مختلف دور طے کرتےہوئے ہنوز ایک علمی، ادبی اور بڑی حد تک ایک سائنسی زبان بن چکی ہے۔ کسی بھی زبان کے معانی کی وسعت اور جامعیت کو جاننے کے لیے بنیادی طور پر متعلقہ زبان کی لغات کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ پھر لغات میں سے کچھ کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے وہ آئندہ لغات کےلیے بنیاد و اساس کی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔ زبان اردو میں اس حوالے سے ’فیروز اللغات‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ جسے بابائے اردو الحاج مولوی فیروز الدین نے اپنی عمر بھر کی ریاضت کے بعد تدوین و ترتیب دیا تھا۔ا س کے ساتھ ساتھ اردو کےاولین اور اتھینٹک لغات میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ’فیروز اللغات‘ کا زیر مطالعہ ایڈیشن نئی ترتیب اور جدید اضافوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ جس میں پچیس ہزار کے قریب جدید اصلاحات اور الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ ایڈیشن لغت نگاری کی جدید سائنسی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ دوسرے مروجہ لغتوں سے زیادہ مستندہے اور عہد حاضر کے تمام لسانی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ اس میں گزشتہ نصف صدی کے عرصے میں اردو میں رائج ہونے والے نئے الفاظ اور دفتری اصطلاحات کے علاوہ وہ قدیم اور متروک الفاظ بھی شامل کیے گئے ہیں جن کے معنی جانے بغیر اردو کی کلاسیکی خصوصاً دکنی تصنیفات سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔ تمام الفاظ کےمعنی شرح و بسط سے دئیے گئے ہیں اور ہر محاورے، ضرب الامثال اور اصطلاح کی تشریح کی گئی ہے۔(ع۔م)

     

  • 48 فیروزاللغات اردو پارٹ 3(209تا317) (منگل 27 نومبر 2012ء)

    مشاہدات:16928

    لسانیات میں اردو زبان کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ جو تاریخ کے مختلف دور طے کرتےہوئے ہنوز ایک علمی، ادبی اور بڑی حد تک ایک سائنسی زبان بن چکی ہے۔ کسی بھی زبان کے معانی کی وسعت اور جامعیت کو جاننے کے لیے بنیادی طور پر متعلقہ زبان کی لغات کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ پھر لغات میں سے کچھ کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے وہ آئندہ لغات کےلیے بنیاد و اساس کی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔ زبان اردو میں اس حوالے سے ’فیروز اللغات‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ جسے بابائے اردو الحاج مولوی فیروز الدین نے اپنی عمر بھر کی ریاضت کے بعد تدوین و ترتیب دیا تھا۔ا س کے ساتھ ساتھ اردو کےاولین اور اتھینٹک لغات میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ’فیروز اللغات‘ کا زیر مطالعہ ایڈیشن نئی ترتیب اور جدید اضافوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ جس میں پچیس ہزار کے قریب جدید اصلاحات اور الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ ایڈیشن لغت نگاری کی جدید سائنسی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ دوسرے مروجہ لغتوں سے زیادہ مستندہے اور عہد حاضر کے تمام لسانی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ اس میں گزشتہ نصف صدی کے عرصے میں اردو میں رائج ہونے والے نئے الفاظ اور دفتری اصطلاحات کے علاوہ وہ قدیم اور متروک الفاظ بھی شامل کیے گئے ہیں جن کے معنی جانے بغیر اردو کی کلاسیکی خصوصاً دکنی تصنیفات سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔ تمام الفاظ کےمعنی شرح و بسط سے دئیے گئے ہیں اور ہر محاورے، ضرب الامثال اور اصطلاح کی تشریح کی گئی ہے۔(ع۔م)

     

  • 49 فیروزاللغات اردو پارٹ 4(318تا426) (بدھ 28 نومبر 2012ء)

    مشاہدات:17750

    لسانیات میں اردو زبان کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ جو تاریخ کے مختلف دور طے کرتےہوئے ہنوز ایک علمی، ادبی اور بڑی حد تک ایک سائنسی زبان بن چکی ہے۔ کسی بھی زبان کے معانی کی وسعت اور جامعیت کو جاننے کے لیے بنیادی طور پر متعلقہ زبان کی لغات کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ پھر لغات میں سے کچھ کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے وہ آئندہ لغات کےلیے بنیاد و اساس کی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔ زبان اردو میں اس حوالے سے ’فیروز اللغات‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ جسے بابائے اردو الحاج مولوی فیروز الدین نے اپنی عمر بھر کی ریاضت کے بعد تدوین و ترتیب دیا تھا۔ا س کے ساتھ ساتھ اردو کےاولین اور اتھینٹک لغات میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ’فیروز اللغات‘ کا زیر مطالعہ ایڈیشن نئی ترتیب اور جدید اضافوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ جس میں پچیس ہزار کے قریب جدید اصلاحات اور الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ ایڈیشن لغت نگاری کی جدید سائنسی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ دوسرے مروجہ لغتوں سے زیادہ مستندہے اور عہد حاضر کے تمام لسانی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ اس میں گزشتہ نصف صدی کے عرصے میں اردو میں رائج ہونے والے نئے الفاظ اور دفتری اصطلاحات کے علاوہ وہ قدیم اور متروک الفاظ بھی شامل کیے گئے ہیں جن کے معنی جانے بغیر اردو کی کلاسیکی خصوصاً دکنی تصنیفات سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔ تمام الفاظ کےمعنی شرح و بسط سے دئیے گئے ہیں اور ہر محاورے، ضرب الامثال اور اصطلاح کی تشریح کی گئی ہے۔(ع۔م)

     

  • 50 فیروزاللغات اردو پارٹ 5(427 تا 539) (جمعرات 29 نومبر 2012ء)

    مشاہدات:16726

    لسانیات میں اردو زبان کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ جو تاریخ کے مختلف دور طے کرتےہوئے ہنوز ایک علمی، ادبی اور بڑی حد تک ایک سائنسی زبان بن چکی ہے۔ کسی بھی زبان کے معانی کی وسعت اور جامعیت کو جاننے کے لیے بنیادی طور پر متعلقہ زبان کی لغات کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ پھر لغات میں سے کچھ کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے وہ آئندہ لغات کےلیے بنیاد و اساس کی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔ زبان اردو میں اس حوالے سے ’فیروز اللغات‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ جسے بابائے اردو الحاج مولوی فیروز الدین نے اپنی عمر بھر کی ریاضت کے بعد تدوین و ترتیب دیا تھا۔ا س کے ساتھ ساتھ اردو کےاولین اور اتھینٹک لغات میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ’فیروز اللغات‘ کا زیر مطالعہ ایڈیشن نئی ترتیب اور جدید اضافوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ جس میں پچیس ہزار کے قریب جدید اصلاحات اور الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ ایڈیشن لغت نگاری کی جدید سائنسی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ دوسرے مروجہ لغتوں سے زیادہ مستندہے اور عہد حاضر کے تمام لسانی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ اس میں گزشتہ نصف صدی کے عرصے میں اردو میں رائج ہونے والے نئے الفاظ اور دفتری اصطلاحات کے علاوہ وہ قدیم اور متروک الفاظ بھی شامل کیے گئے ہیں جن کے معنی جانے بغیر اردو کی کلاسیکی خصوصاً دکنی تصنیفات سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔ تمام الفاظ کےمعنی شرح و بسط سے دئیے گئے ہیں اور ہر محاورے، ضرب الامثال اور اصطلاح کی تشریح کی گئی ہے۔(ع۔م)

     

  • ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 858
    • اس ہفتے کے قارئین: 7027
    • اس ماہ کے قارئین: 46595
    • کل قارئین : 47264878

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں