دکھائیں کتب
  • 61 تعلیم النحو (اتوار 07 اکتوبر 2012ء)

    مشاہدات:20362

    کسی بھی زبان کی تعلیم و تعلم کے لیے اس کے قواعد و ضوابط کا علم ہونا نہایت ضروری ہے۔ اسی ضمن میں عربی زبان بھی اس چیز کی متقاضی ہے کہ اس کے قواعد کو اچھی طرح سیکھا جائے تاکہ قرآن و حدیث کے فہم و تفہیم میں آسانی پیدا ہو اور ان کے صحیح معانی و مطالب سمجھنے میں کسی غلطی کی گنجائش باقی نہ رہے۔ علم النحو جو عربی زبان کے قواعد و اصول سے عبارت ہے، دراصل قرآن و حدیث کی خدمت ہے۔ اسی حوالے سے ابو ہشام ریاض اسماعیل نے زیر مطالعہ ایک مختصر، جامع اور سہل رسالہ مرتب کیا ہے، جو طرز قدیم و جدید کا حسین امتزاج ہے۔ قواعد کی تعریفیں بہت آسان انداز میں بیان کی ہیں، چند نئی اصطلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، ہر قاعدے کے آخر میں مروجہ مثالوں کے علاوہ قرآنی مثالوں کا اضافہ بھی کر دیا گیا ہے اور بعض جگہ احادیث سے بھی مثالیں دی گئی ہیں۔ اسباق کی ترتیب متداول عربی گرامر کی کتب کے مطابق ہے۔ اس کے علاوہ کتاب کے آخر میں مختلف جملوں کی تراکیب کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ (ع۔م)
     

  • 62 تمرین النحو حصہ اول (جمعرات 24 نومبر 2016ء)

    مشاہدات:4870

    عربی زبان ایک زندہ وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔اس زبان کی نشر و اشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج و اشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ اور متعدد اہل علم نے اس پر قلم آزمائی کی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "تمرین النحو" محترم مولانا محمد مصطفی ندوی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس پر اضافہ وتکمیل محترم مولانا عبد الماجد ندوی صاحب نے فرمایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف ومرتب کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 63 تنویر شرح نحو میر (جمعہ 18 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:2093

    کسی بھی زبان کو سمجھنے کے لیے اس کے بنیادی اصول و قواعد کا جاننا بہت ضروری ہوتا ہے۔کوئی انسان اس وقت تک کسی زبان پر مکمل عبور حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ اس زبان کے بنیادی قواعد میں پختگی حاصل نہ کر لے۔یہ عالم فانی  بے شمار  زبانوں کی آماجگاہ ہےاور اس میں بہت سی زبانوں کا تعلق زمانہ قدیم سے ہے۔موجوہ تمام زبانوں میں سب سےقدیم زبان عربی ہے اس کاوجود اس وقت سے ہےجب سےیہ کائنات معرض وجود میں آئی اور  یہی زبان روزِ قیامت بنی آدم کی ہوگی۔عربی زبان سے اہل عجم کا شغف رکھنا اہم اور ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی پاک کلام بھی عربی میں ہے۔اہل اسلام کی تمام تر تعلیمات کا ذخیرہ عربی زبان میں مدوّن و مرتب ہے اور ان علوم سے استفادہ عربی گرائمر(نحو و صرف) کے بغیر نا ممکن ہے۔ زیر نظر کتاب"تنویر اردو شرح نحو میر" مفتی عطا الرحمٰن ملتانی کی ایک نادر تصنیف ہے۔ جس میں نحو کے لازمی و ضروری قواعد کو جامعیت کےساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • 64 تنویر شرح نحو میر (جمعہ 18 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:2093

    کسی بھی زبان کو سمجھنے کے لیے اس کے بنیادی اصول و قواعد کا جاننا بہت ضروری ہوتا ہے۔کوئی انسان اس وقت تک کسی زبان پر مکمل عبور حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ اس زبان کے بنیادی قواعد میں پختگی حاصل نہ کر لے۔یہ عالم فانی  بے شمار  زبانوں کی آماجگاہ ہےاور اس میں بہت سی زبانوں کا تعلق زمانہ قدیم سے ہے۔موجوہ تمام زبانوں میں سب سےقدیم زبان عربی ہے اس کاوجود اس وقت سے ہےجب سےیہ کائنات معرض وجود میں آئی اور  یہی زبان روزِ قیامت بنی آدم کی ہوگی۔عربی زبان سے اہل عجم کا شغف رکھنا اہم اور ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی پاک کلام بھی عربی میں ہے۔اہل اسلام کی تمام تر تعلیمات کا ذخیرہ عربی زبان میں مدوّن و مرتب ہے اور ان علوم سے استفادہ عربی گرائمر(نحو و صرف) کے بغیر نا ممکن ہے۔ زیر نظر کتاب"تنویر اردو شرح نحو میر" مفتی عطا الرحمٰن ملتانی کی ایک نادر تصنیف ہے۔ جس میں نحو کے لازمی و ضروری قواعد کو جامعیت کےساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • 65 توضیح النحو باجراء قواعد النحو (جمعرات 17 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:3142

    عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب "توضیح النحو باجراء  قواعد النحو"مسلک دیو بند کے معروف عالم دین محترم مولانا مفتی محمد حسن صاحب  کی تصنیف ہے جس میں انہوں نےقواعد نحو کے اجراء کے ساتھ نحو کو آسان بنانے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے۔عربی زبان کے قواعد سیکھنے کے حوالے سے یہ ایک شاندارکتاب ہے ،جو اساتذہ کرام اور طلباء سب کے لئے مفیدہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 66 توضیح النحو باجراء قواعد النحو (جمعرات 17 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:3142

    عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب "توضیح النحو باجراء  قواعد النحو"مسلک دیو بند کے معروف عالم دین محترم مولانا مفتی محمد حسن صاحب  کی تصنیف ہے جس میں انہوں نےقواعد نحو کے اجراء کے ساتھ نحو کو آسان بنانے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے۔عربی زبان کے قواعد سیکھنے کے حوالے سے یہ ایک شاندارکتاب ہے ،جو اساتذہ کرام اور طلباء سب کے لئے مفیدہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 67 تکمیل الادب شرح اردو نفحۃ العرب (جمعہ 10 مئی 2019ء)

    مشاہدات:1370

    مولانا محمد اعزاز علی امروہوی دار العلوم دیوبند کے مایہ ناز فاضل ، مفسر محدث فقیہ اور ادیب تھے اور تمام ہی علوم میں انھیں یکساں کمال حاصل تھا ، ان کے  قلم سے پھیلا فیضان آج تک جاری و فیض رساں ہے ، نہایت متواضع شخصیت کے حامل ، خلوص و للہیت کے پیکر اور علم پر خود کو فدا کرنے کی اپنی مثال آپ تھے ۔فقہ و ادب ان کا خاص فن تھا ، جب ابتداً دار العلوم  دیوبند آئے تو علم الصیغہ اور نور الایضاح سپرد ہوئیں ، مگر دروس نے ایسی مقبولیت پائی کہ دار العلوم کے حلقہ میں شیخ الادب و الفقہ کے لقب سے مشہور ہو گئے ، ہر فن کی کتابوں پر ان کو عبور حاصل تھا ، تعلیم کے ساتھ طلبہ کی تربیت اور نگرانی ان کا خاص ذوق تھا ۔ جس طرح عربی نظم و نثر پر قدرت و کمال تھا ، اسی طرح اردو نظم و نثر پر بھی کمال حاصل تھا ، عربی ادب میں انہوں نے نفحةالیمن کے معیار کے مطابق نفحة العرب کے نام سے ایک کتاب مرتب کی تھی ، جس میں تاریخی حکایات ، وقصص اور اخلاقی مضامین درج کیے گئے ہیں ، یہ کتاب عربی مدارس میں کافی مقبول ہوئی ، اور كئی  مدارس میں آج تک داخلِ نصاب ہے اسی لیے اہل علم  نے نفحۃ  العرب کی متعدد شروح لکھی ہیں ۔ زیر نظر  کتاب ’’ تکمیل الادب شرح اردو نفحۃ العرب ‘‘    مدارس  دینیہ کے نصاب میں  شاملِ نصاب  عربی ادب کی مشہور ومعروف کتاب نفحةالعربکی    اردوشرح ہے ۔یہ شرح مولانا مصلح الدین قاسمی  عربی زبان و ادب  دینی تعلیم  نصابی کتب 

  • 68 جاہلی عرب شعراء (منگل 25 جون 2019ء)

    مشاہدات:292

    عربی شاعری عربی ادب کی سب سے پہلی شکل ہے۔ عربی شاعری کا سب سے پہلا نمونہ چھٹی صدی میں ملتا ہے مگر زبانی شاعری اس سے بھی قدیم ہے۔ عربی شاعری صحیح تعریف اور اس کے اجزا میں محققین کا خاصا اختلاف رہا ہے۔ابن منظور کے مطابق شعر وہ منظوم کلام ہے جو وزن اور قافیہ میں مقید ہو۔ ظہورِ اسلام سے قبل جو بھی شاعری کی گئی اس کو جاہلیت سے تعبیر کیا گیا۔ظہورِ اسلام سے  قبل  عرب کا سارا علم شاعری پر محیط تھا، ان کے یہاں شاعری سے بڑھ کر علم، سرداری اور عزت و افتخار کا اور کوئی پیمانہ نہیں تھا۔ کسی کو باعزت کرنا ہو تو اس کی شان میں مدحیہ قصیدہ لکھتے اور ذلیل کرنا ہو تو اس کی ہجو کرتے۔ نیز یہ شعرا ءجس کو ذلیل کر دیتے پھر اس کی عزت خاک میں مل جاتی اور جس کی تعریف کر دیتے وہ عزت و ناموری کی بلندیوں پر پہنچ جاتا۔ دورِ جاہلی میں شعر کے علاوہ خطابت اور خطوط کو بھی کچھ اہمیت حاصل تھی۔ آغازِ اسلام میں شاعری دفاع کا ایک ذریعہ ثابت ہوئی، چنانچہ شاعرِ اسلام   سیدنا حسان بن ثابت ﷜ اور دوسرے مسلمان شعرا نے اپنی شاعری کے ذریعہ کفار قریش کے خلاف اسلام اور مسلمانوں کا خوب دفاع کیا۔ فکر و جوش مدح صادق، مرثیہ ،حکمت و دانائی جاہلی شاعری کی خصوصیات ہیں  اور جاہلی شاعری میں گھڑ سواری، اونٹ، جنگ، شکار، نیل گائے، ہرن، ماں، بیوی، محبوبہ، لونڈی، شراب اور ساتھیوں کا تذکرہ خوب ملتا ہے، عدی بن ربیعہ،عنترہ بن شداد، امرؤ القیس،، اعشى ،زہیر بن ابی سلمی، عمرو بن کلثوم، حارث بن حلزہ الیشکری ،لبید بن ربیعہ ،طرفہ بن العبد، نابغہ ذبیانی مشہور جاہلی شعراء ہیں عربی زبان و ادب 

  • 69 جد اول النحو لتفہیم ہدایۃ النحو (جمعرات 15 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:4349

    علوم نقلیہ کی  جلالت وعظمت اپنی جگہ مسلمہ ہے مگر یہ بھی  حقیقت کہ ان کے اسرار ورموز اور معانی ومفاہیم تک  رسائی علم نحو کے بغیر ممکن نہیں۔   کلام الٰہی ،دقیق تفسیر ی نکات،احادیث رسول ﷺ ،اصول وقواعد ،اصولی وفقہی احکام ومسائل کا فہم وادراک  اس علم کے بغیر  حاصل نہیں کرسکتے  یہی وہ عظیم فن ہےکہ جس کی بدولت انسان ائمہ کےمرتبے اور مجتہدین کی منزلت تک پہنچ جاتاہے ۔جوبھی شخص اپنی تقریر وتحریر میں عربی دانی کو اپنانا چاہتا ہے  وہ سب سے پہلے  نحو کےاصول وقواعد کی معرفت کا محتاج ہوتاہے  ۔عربی مقولہ ہے : النحو فی الکلام کالملح فی الطعام یعنی کلام میں نحو کا وہی  مقام ہے جو کھانے میں نمک کا  ہے ۔  قرآن وسنت  اور دیگر عربی علوم  سمجھنےکے لیے’’ علم نحو‘‘کلیدی حیثیت رکھتاہے اس کے بغیر علوم  ِاسلامیہ میں رسوخ وپختگی  اور پیش قدمی کاکوئی امکان نہیں ۔ قرنِ  اول  سے لے کر اب  تک نحو وصرف  پرکئی کتب ان کی شروح  لکھی  کی جاچکی ہیں  ہنوز یہ سلسلہ جاری  ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ جداول النحو لتفہیم ہدایۃ النحو‘‘ محدث فورم کے فعال رکن  محترم  مولانا  ارشد محمود﷾ کی کاوش ہے ۔ ہدایۃ النحو  نحو کے موضوع پر معروف کتاب ہے او ر اکثر مدارسِ دینیہ  میں شامل نصاب ہے ۔محترم ارشد صاحب   جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور اور عبداللہ  بن عبد اللہ بن مسعود اسلامک سنٹر،لاہور میں ...

  • 70 جدید عربی ایسے بولیے (پیر 26 فروری 2018ء)

    مشاہدات:1731

    عربی سیکھنا اور سکھانا امت مسلمہ کا اولین فریضہ ہے ۔ لیکن مسلمانوں کی اکثریت عربی زبان سے ناواقف ہے جس کی وجہ سے وہ فرمان الٰہی اور فرمان نبوی ﷺ کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ حتی کہ تعلیم حاصل کرنے والے لوگوں کی اکثریت سکول ،کالجز ،یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل اسلامیات کے اسباق کو بھی بذات خود پڑھنے پڑھانے سے قا صر ہے ۔دنيا كي سب سے بڑی اسلامی مملکت پاکستان دنیا کے نقشے پر اس لیے جلوہ گر ہوئی تھی کہ اس کے ذریعے اسلامی اقدار اور دینی شعائر کا احیاء ہوگا۔ اسلامی تہذیب وثقافت کا بول بالا ہوگا اور قرآن کی زبان سرزمین پاک میں زند ہ وتابندہ ہوگی۔مگر زبان قرآن کی بے بسی وبے کسی کہ ارض پاکستان میں اس مقام پر پہنچ گئی ہے کہ دور غلامی میں بھی نہ پہنچی تھی۔علماء ومدارس کی اپنی حدتک عربی زبان کی نشرواشاعت کے لیے کوششیں وکاوشیں قابل ذکر ہیں۔ لیکن سرکاری طور پر حکومت کی طرف کماحقہ جدوجہد نہیں کی گئی۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ جدید عربی ایسے بولیے ‘‘ مولانا بدر الزماں قاسمی کیرانوی کی کاوش ہے ۔ اس کتاب کی جدت،ندرت،اہمیت اور افادیت یہ ہے کہ یہ جدیداحوال وظروف اور وزمرہ معاملات ومسائل کو پیش نظر رکھ کر مرتب کی گی ہے ۔ تدریس وتفہیم میں سہولت کے پیش نظر اسے مکالمات کی صورت میں تیار کیا گیا ہے اور مشکل الفاظ نمایاں کر کے ان کے معانی واضح کردیے گئے ہیں ۔ مدارس دینیہ کے طلباء و مدرسین کے لیے یہ کتاب ایک نادر تحفہ ہے کیونکہ مدارس دینیہ کی اکثریت عربی گرائمر تو جانتی ہے مگر آج کل کی بولی اور لکھی جانے والی عربی زبان سےناواقف ہے ۔اس کتاب کی مدد سے عرب ممالک کے مسا...

  • ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 1744
    • اس ہفتے کے قارئین: 6994
    • اس ماہ کے قارئین: 34688
    • کل قارئین : 45943849

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں