دکھائیں کتب
  • 41 قواعد النحو حصہ دوم (منگل 03 دسمبر 2013ء)

    مشاہدات:7147

    علوم نقلیہ کی  جلالت وشان اپنی جگہ مسلم ہے، مگر یہ بھی ایک  حقیقت ہے کہ ان کے اسرار ورموز اور معانی ومفاہیم تک  رسائی  حاصل کرناعلم نحو کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہی وہ عظیم فن ہے، جس کی بدولت انسان امامت کےمرتبے اور اجتہاد کے مقام تک پہنچ جاتاہے ۔ تمام ائمہ کرام کااس بات پراجماع ہے  کہ  مرتبۂ اجتہاد تک پہنچنے کے لیے علم نحو کا حصول ایک لازمی شرط ہے۔ قرآن وسنت  اور دیگر عربی علوم  کوسمجھنےکے لیے’’ علم نحو‘‘کلیدی حیثیت رکھتاہے۔ اس کے بغیر علوم  اسلامیہ میں رسوخ وپختگی پیدا نہیں ہوسکتی ۔نحو وصرف کی کتابوں کی تدوین وتصنیف میں علماء عرب کےساتھ ساتھ  عجمی علماء نے بھی   بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔اور اپنی  اپنی مقامی زبانوں میں اس فن  پر    کتب تصنیف فرمائیں۔ زیر نظرکتاب  وفاق المدارس السلفیہ کے ذمہ داران کے  حکم پر تجربہ کار ،اور ماہر  اساتذہ ومعلمین کی نگرانی میں الثانویة الخاصة کے نصاب کے لیےلکھی  گئی ہے۔ جسے مکتبہ دار السلام لاہور نے شائع کیاہے۔ اس کی ترتیب میں  ایک  جدید اور منفرد اسلوب اختیارکیا گیا ہے،   جو عام فہم اور نہایت آسان ہے،  تاکہ مبتدی طالب علم اس کو آسانی سے پڑھ سکیں ۔فائدہ عام کے لئے اسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔اللہ اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(م۔ا)
     

  • 42 قواعد النحو حصہ اول (پیر 02 دسمبر 2013ء)

    مشاہدات:10015

    علوم نقلیہ کی  جلالت وشان اپنی جگہ مسلم ہے، مگر یہ بھی ایک  حقیقت ہے کہ ان کے اسرار ورموز اور معانی ومفاہیم تک  رسائی  حاصل کرناعلم نحو کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہی وہ عظیم فن ہے، جس کی بدولت انسان امامت کےمرتبے اور اجتہاد کے مقام تک پہنچ جاتاہے ۔ تمام ائمہ کرام کااس بات پراجماع ہے  کہ  مرتبۂ اجتہاد تک پہنچنے کے لیے علم نحو کا حصول ایک لازمی شرط ہے۔ قرآن وسنت  اور دیگر عربی علوم  کوسمجھنےکے لیے’’ علم نحو‘‘کلیدی حیثیت رکھتاہے۔ اس کے بغیر علوم  اسلامیہ میں رسوخ وپختگی پیدا نہیں ہوسکتی ۔نحو وصرف کی کتابوں کی تدوین وتصنیف میں علماء عرب کےساتھ ساتھ  عجمی علماء نے بھی   بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔اور اپنی  اپنی مقامی زبانوں میں اس فن  پر    کتب تصنیف فرمائیں۔ زیر نظرکتاب  وفاق المدارس السلفیہ کے ذمہ داران کے  حکم پر تجربہ کار ،اور ماہر  اساتذہ ومعلمین کی نگرانی میں الثانویة الخاصة کے نصاب کے لیےلکھی  گئی ہے۔ جسے مکتبہ دار السلام لاہور نے شائع کیاہے۔ اس کی ترتیب میں  ایک  جدید اور منفرد اسلوب اختیارکیا گیا ہے،   جو عام فہم اور نہایت آسان ہے،  تاکہ مبتدی طالب علم اس کو آسانی سے پڑھ سکیں ۔فائدہ عام کے لئے اسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔اللہ اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(م۔ا)
     

  • 43 مختار النحو (ہفتہ 28 ستمبر 2013ء)

    مشاہدات:7874

    مختار احمد سلفی حفظہ اللہ نے ابتدائی طالب علموں کے لیے ان کی استعداد کو محلوظ رکھ کر کتاب النحو کی جگہ پر ’’ مختار النحو ‘‘ بڑی عرق ریزی اور جانفشانی سے مرتب کی ہے ۔ یہ منتہی طلبا اور اساتذہ کرام کے لیے بھی جواہر کا منبع محسوس ہوتا ہے کیونکہ اس میں اکثر مثالیں قرآن مقدس اور احادیث مبارکہ سے ماخوذ ہیں ، پھر آخر کتاب میں ہر سبق میں آنے والی بعض مثالوں کی ترکیب بھی موجود ہے ۔ قوانین نحو کو عربی عبارت پر لاگو کرنے کے لیے اجراء کا طریقہ بھی بتایا گیا ہے ۔ اس کتاب کے اسلوب کو نحو کی دوسری درسی کتابوں کے مطابق ہی رکھا گیا ہے تاکہ طلبا ذہنی انتشار و خلفشار اور تشویش سے محفوظ رہیں ۔ اس کا اسلوب سہل اور ترتیب پرکشش ہے ۔ مبتدی کی استطاعت سے بالاتر وہ باتیں جو اہم تھیں ان کا بیان حاشیے میں ہے ۔ نہ اتنا اختصار کہ مفہوم سمجھ نہ آئے نہ اتنی طوالت کہ پڑھنے والا اکتا جائے ۔ کتاب کی اسباب میں تقسیم ، ہر سبق کے آخر میں مختصر نقشہ ، ہر سبق کے بعد قرآن و سنت کی مثالوں سے مزین تمرین اور سبق میں آیات قرآنیہ کا مختصر حوالہ اس کتاب کی افادیت کو چار چاند لگا دیتا ہے ۔ بعض معلمین اور شیوخ الحدیث ، مثلا مولانا عبدالصمد رفیقی حفظہ اللہ اور مولانا عمر فاروق سعیدی حفظہ اللہ کو اس کتاب کی تعریف میں رطب اللسان پایا ۔ مؤلف جس مدرسے میں پڑھاتے ہیں اس میں انہوں نے اسے نصاب کا حصہ بنا دیا ہے اور باقاعدہ پڑھائی جا رہی ہے اور واقعی یہ اس قابل ہے کہ ابتدائی طلبہ کو پڑھائی جائے ۔ مدرسین و معلمین مطالعہ میں اسے اپنا معاون بنائیں ، تب بھی مفید ہے ۔ خالصتا قرآن و حدیث کو سمجھنے کی نیت سے لکھی ج...

  • 44 نحو میر سوالاً جواباً (ہفتہ 06 اپریل 2019ء)

    مشاہدات:1130

    علومِ نقلیہ کی  جلالت وعظمت اپنی جگہ مسلمہ ہے مگر یہ بھی  حقیقت کہ ان کے اسرار ورموز اور معانی ومفاہیم تک  رسائی علم نحو کے بغیر ممکن نہیں۔ کیونکہ  علومِ عربیہ میں علم  نحو کو جو رفعت ومنزلت حاصل ہے اس کا اندازہ اس امر سے بہ خوبی ہو جاتاہے کہ جو بھی شخص اپنی تقریر وتحریر میں عربی دانی کو اپنانا چاہتا ہے  وہ سب سے پہلے  نحو کےاصول وقواعد کی معرفت کا محتاج  ہوتا ہے   کلام ِالٰہی ،دقیق تفسیر ی نکات،احادیث رسول ﷺ ،اصول وقواعد ،اصولی وفقہی احکام ومسائل کا فہم وادراک  اس علم کے بغیر  حاصل نہیں ہو سکتا  یہی وہ عظیم فن ہےکہ جس کی بدولت انسان ائمہ کےمرتبے اور مجتہدین کی منزلت تک پہنچ جاتاہے ۔عربی مقولہ ہے : النحو فی الکلام کالملح فی الطعام یعنی کلام میں نحو کا وہی  مقام ہے جو کھانے میں نمک کا  ہے ۔  قرآن وسنت  اور دیگر عربی علوم  سمجھنےکے لیے’’ علم نحو‘‘کلیدی حیثیت رکھتاہے اس کے بغیر علوم  ِاسلامیہ میں رسوخ وپختگی  اور پیش قدمی کاکوئی امکان نہیں ۔ قرنِ  اول  سے لے کر اب  تک نحو وصرف  پرکئی کتب  اور ان کی شروح  لکھی  کی جاچکی ہیں  ہنوز یہ سلسلہ جاری  ہے۔ زیر نظر  کتاب   علم نحو کی  مشہور ومعروف درسی  کتاب’’نحو میر ‘‘  کا سوالاً جواباً اردو خلاصہ ہے  جو کہ    مولانا عبد الغفار بن عبد الخالق﷾ (متعلّم مدینہ یونیورسٹی ) کی...

  • 45 کامل ابواب الصرف (جمعہ 16 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:5917

    اللہ تعالی کاکلام اور  نبی کریم ﷺکی احادیث مبارکہ عربی زبان میں  ہیں اسی وجہ  سے اسلام اور مسلمانوں سے  عربی کا رشتہ مضبوط ومستحکم ہے  عربی اسلام کی سرکاری زبان ہے ۔شریعت اسلامی  کے بنیادی مآخد اسی زبان میں ہیں  لہذا قرآن وسنت اور  شریعت اسلامیہ پر عبور حاصل  کرنےکا واحد ذریعہ عربی زبان ہے  اس لحاظ سے عربی سیکھنا اور  سکھانا   امت مسلمہ  کا اولین فریضہ ہے ۔عربی زبان  سیکھنے کےلیے نحو  وصرف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔فن صرف علم نحو ہی کی  ایک شاخ ہے  شروع  میں اس کے مسائل  نحو کے تحت  ہی بیان کیےجاتے تھے معاذ بن مسلم ہرّاء  یاابو عثمان بکر بن محمدمزنی  نے  علم صرف کو علم النحو سے الگ کرکے مستقل فن کی حیثیت مرتب ومدون کیا۔ صرف ونحوصرف کی کتابوں کی تدوین وتصنیف میں علماء عرب کےساتھ ساتھ  عجمی علماء بھی   پیش پیش رہے  ۔جب یہ تسلیم کرلیا گیا کہ  تعلیم وتدریس میں  علم وفن کاپہلا تعارف طالب علم کی مادری زبان میں  ہی ہوناچاہیے تو مختلف علاقوں کے  اہل علم  نے  اپنی  اپنی مقامی زبان میں اس فن پر  کئی  کتب تصنیف کیں ۔تاریخ اسلام کا یہ باب  کس قدر عظیم ہے کہ  عربی زبان کی صحیح تدوین وترویج  کا اعزاز عجمی علماء اور بالخصوص کبار علمائے  ہندکے  حصے میں آیا  ہندوستان اور مغل حکمرانوں کی سرکاری زبان فارسی  ہونےکی وجہ سے  ہندی علماء   نے صرف ونحو کی کتب...

  • 46 کتاب الصرف جدید (بدھ 28 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:4640

    احکامِ شریعت سمجھنے کےلیے جہاں دیگر علومِ اسلامیہ کی اہمیت ہے وہاں عربی زبان سیکھنے کے لیے ’’ فن صرف‘‘ کو بنیادی درجہ حاصل ہے ۔جب تک کوئی شخص اس فن میں مہارت تامہ حاصل نہ کرے اس وقت تک اس کے لیے علوم ِاسلامیہ میں دسترس تو کجا پیش رفت ہی ممکن نہیں۔ قرآن وسنت کے علوم سمجھنے کےلیے یہ ہنر شرط ِ لازم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مدارسِ اسلامیہ میں اس فن کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور اسی کی تدریس وتفہیم کےلیے درجہ بدرجہ مختلف ادوار میں علمائے کرام نے اس موضوع پر گرانقدر کتابیں لکھیں اور اسے آسان سے آسان تر بنانے کی سعی جمیل کی ۔اکثر مدارس دینیہ میں حافظ عبدالرحمٰن امرتسری ﷫ کی مرتب کردہ گرامر کی شامل نصاب کتاب ’’ کتاب الصرف ‘‘قابل ذکر ہے پہلے یہی کتاب ابتدائی کلاسوں میں پڑھائی جاتی رہی ہے ۔اب مزید کئی نئی کتب بھی شائع ہوچکی ہیں جن میں فن صرف کے اصول وقواعد کو آسان انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ کتاب الصرف جدید‘‘ حاظ عبد الرحمٰن امرتسری کی مرتب کردہ کتاب الصرف کا جدید انداز ، عام فہم اسلوب، قرآنی امثلہ، او رتمرینات سے مزین 2 کلر ایڈیشن ہے ۔مرکز الدعوۃ السلفیہ ،ستیانہ بنگلہ کے فاضل استاذ مولانا ابو نعمان بشیر احمد نے اس قدیم کو کتاب میں بتقاضائے ضرورت مطلوبہ اصلاح وترمیم اور مفید اضافے شامل کرکے اسے نقش ثانی کی حیثیت دے دی ہے ۔ اس جدید ایڈیشن کی خصوصیت یہ ہے کہ اسے قرآنی مثالوں سے مزین کیاگیا ہے تاکہ گرامر پڑھنے کااصل مقصود حاصل ہوسکے ۔ اور تمرینات میں بھی جدت پیدا کی گئی ہے تاکہ طلبہ فہ...

  • 47 کتاب الصّرف جدید (جمعہ 27 دسمبر 2013ء)

    مشاہدات:22856

    قرآن كريم  اور شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم عربوں  پر نازل ہوئی – ان لوگوں کی مادری زبان چونکہ عربی تھی لہذا انہیں احکامات الہی سمجھنے میں کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑا، لیکن جیسے جیسے دین اسلام کی اشاعت میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور بہت سے عجمی لوگ بھی دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے جو عربی زبان سے نابلد تھے لہذااہل علم اور زبان وادب کے ماہرین نے  ایسے لوگوں کے لیے عربی کے ایسے قواعد کو مرتب کیا جن کی روشنی میں وہ عربی کوصحیح انداز میں پڑھ اور سمجھ سکیں-مختلف ادوار میں علم نحو وصرف پر بیشتر کتابیں منصہ شہود پر آئیں جن میں اپنے اپنے انداز میں عربی زبان کے قواعد کو سمجھانے کی کوشش کی گئی- زیر نظر کتاب میں مولانا ابونعمان بشیر صاحب نے علم الصرف کے قواعد کو انتہائی سادہ اور آسان انداز میں جمع کردیا ہے تاکہ ایک عام فہم شخص بھی اس سے  استفادہ  کرتے ہوئے عربی زبان کی تفہیم کر سکے -اپ ڈیٹ اس کتاب کو کافی عرصہ پہلے اپلوڈ کیا گیا تھا۔ لیکن اس اپلوڈ کردہ پی ڈی ایف فائل میں صفحات کم تھے۔ جس کی نشاندہی ہمارے قارئین نے تبصرہ میں کی تھی۔ نیز چونکہ اصل کتاب کلرڈ ہے۔ اس کی بلیک اینڈ وائٹ اسکیننگ میں کوالٹی بہت خراب تھی۔ جسے کہ اس نئی اپ ڈیٹ میں دور کر دیا گیا ہے۔ اب یہ کتاب مکمل بھی ہے اور کلرڈ بھی ہے، جس سے کمپیوٹر پر پڑھنے کا لطف یقیناً دوبالا ہو جائے گا نیز بعض اہم مقامات کی نشاندہی بھی کلرز سے کی گئی ہے ، جسے سمجھنا ممکن ہوگا۔ گزارش ہے کہ جو احباب یہ کتاب پہلے ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں، وہ بھی اسے دوبارہ ڈاؤن لوڈ کر لیں۔ اگرچہ کلرز کی وجہ سے سائز کافی بڑھ...

  • 48 کنوز العرب ترجمہ و تسہیل شرح شذور الذہب (جمعہ 29 اپریل 2016ء)

    مشاہدات:4828

    کسی بھی زبان کو سمجھنے کے لیے اس کے بنیادی اصول و قواعد کا جاننا بہت ضروری ہوتا ہے۔کوئی انسان اس وقت تک کسی زبان پر مکمل عبور حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ اس زبان کے بنیادی قواعد میں پختگی حاصل نہ کر لے۔یہ عالم فانی  بے شمار  زبانوں کی آماجگاہ ہےاور اس میں بہت سی زبانوں کا تعلق زمانہ قدیم سے ہے۔موجوہ تمام زبانوں میں سب سےقدیم زبان عربی ہے اس کاوجود اس وقت سے ہےجب سےیہ کائنات معرض وجود میں آئی اور  یہی زبان روزِ قیامت بنی آدم کی ہوگی۔عربی زبان سے اہل عجم کا شغف رکھنا اہم اور ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی پاک کلام بھی عربی میں ہے۔اہل اسلام کی تمام تر تعلیمات کا ذخیرہ عربی زبان میں مدوّن و مرتب ہے اور ان علوم سے استفادہ عربی گرائمر(نحو و صرف) کے بغیر نا ممکن ہے۔ زیر نظر کتاب"کنوز العرب" جو کہ ابن ہشام انصاریؒ کی کتاب"شذور الذھب" کا اردو ترجمہ و شرح ہے۔ ابن ہشام انصاریؒ عربی گرائمر کے مایہ ناز مصنفین میں سے ہیں اس کے علاوہ بھی وہ بہت سی کتب کے مصنف بھی ہیں۔ مولانا عبد الناصر صاحب اور مولانا خورشید انور صاحب نے آسان و عام فہم اسلوب کے ساتھ اس کا ترجمہ و شرح کو احاطہ تحریر میں لائے ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مصنف و مترجمین کو اجر عظیم سے نوازے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • 49 ہدایۃ النحو سوالاً جواباً (جمعرات 04 اپریل 2019ء)

    مشاہدات:1347

    علومِ نقلیہ کی  جلالت وعظمت اپنی جگہ مسلمہ ہے مگر یہ بھی  حقیقت کہ ان کے اسرار ورموز اور معانی ومفاہیم تک  رسائی علم نحو کے بغیر ممکن نہیں۔ کیونکہ  علومِ عربیہ میں علم  نحو کو جو رفعت ومنزلت حاصل ہے اس کا اندازہ اس امر سے بہ خوبی ہو جاتاہے کہ جو بھی شخص اپنی تقریر وتحریر میں عربی دانی کو اپنانا چاہتا ہے  وہ سب سے پہلے  نحو کےاصول وقواعد کی معرفت کا محتاج  ہوتا ہے   کلام ِالٰہی ،دقیق تفسیر ی نکات،احادیث رسول ﷺ ،اصول وقواعد ،اصولی وفقہی احکام ومسائل کا فہم وادراک  اس علم کے بغیر  حاصل نہیں ہو سکتا  یہی وہ عظیم فن ہےکہ جس کی بدولت انسان ائمہ کےمرتبے اور مجتہدین کی منزلت تک پہنچ جاتاہے ۔عربی مقولہ ہے : النحو فی الکلام کالملح فی الطعام یعنی کلام میں نحو کا وہی  مقام ہے جو کھانے میں نمک کا  ہے ۔  قرآن وسنت  اور دیگر عربی علوم  سمجھنےکے لیے’’ علم نحو‘‘کلیدی حیثیت رکھتاہے اس کے بغیر علوم  ِاسلامیہ میں رسوخ وپختگی  اور پیش قدمی کاکوئی امکان نہیں ۔ قرنِ  اول  سے لے کر اب  تک نحو وصرف  پرکئی کتب  اور ان کی شروح  لکھی  کی جاچکی ہیں  ہنوز یہ سلسلہ جاری  ہے۔کتب ِنحو میں ’’ہدایۃ النحو‘‘  کا شمار نحوکی   اہم بنیادی کتب میں  ہوتا ہے ۔یہ کتاب دینی مدارس کے متوسط درجۂ تعلیم میں شامل  نصاب  ہے ۔ اختصار وطوالت سے منزہ انتہائی جامع اور کثیر فوائد کی ح...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1722
  • اس ہفتے کے قارئین: 10475
  • اس ماہ کے قارئین: 35003
  • کل قارئین : 47146278

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں