دکھائیں کتب
  • 31 ضیاء النحو (بدھ 20 مئی 2015ء)

    مشاہدات:2625

    عربی زبان ایک زندہ وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔عربی زبان معاش ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔لیکن عربی زبان کو اس وقت تک سیکھنا ناممکن ہے جب تک اس کے اصول وقواعد اور اس کی گرائمر (نحو وصرف)کو نہ سیکھ لیا جائے۔عہد تدوین سے لیکر آج تک عربی گرائمر(نحو وصرف) پر  عربی واردو  زبان  میں مختصر ،معتدل،مغلق اور مطول ہر طرح کی بے شمار کتب لکھی جاچکی ہیں۔عربی گرائمر (نحو وصرف)کی کتب میں سے ایک اہم ترین کتاب امام محمد محی الدین عبد الحمید ﷫کی "المقدمۃ الآجرومیہ " ہے اور التحفۃ السنیہ اس کی عربی شرح ہے جبکہ زیر تبصرہ کتاب "ضیاء النحو " اس عربی شرح کا اردو ترجمہ ہے۔اردو ترجمہ کرنے کی سعادت الشیخ عبد الصمد  بلوچ﷾ نے حاصل کی ہے۔اہل عرب میں یہ کتاب بڑی مشہور اور معروف ہےاور لوگوں کے ہاں اسے مقبولیت حاصل ہے۔اللہ تعالی ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ...

  • 32 عربی زبان کا آسان قاعدہ (اتوار 17 اگست 2014ء)

    مشاہدات:4611

    اللہ تعالی کاکلام اور  نبی کریم ﷺکی احادیث مبارکہ عربی زبان میں  ہیں اسی وجہ  سے اسلام اور مسلمانوں سے  عربی کا رشتہ مضبوط ومستحکم ہے  عربی اسلام کی سرکاری زبان ہے ۔شریعت اسلامی  کے بنیادی مآخد اسی زبان میں ہیں  لہذا قرآن وسنت اور  شریعت اسلامیہ پر عبور حاصل  کرنےکا واحد ذریعہ عربی زبان ہے  اس لحاظ سے عربی سیکھنا اور  سکھانا   امتِ مسلمہ  کا اولین فریضہ ہے ۔عربی  زبان کی تفہیم وتدریس کے لیے  کئی ماہرین فن  نے اردو زبان   زبان میں  کتب تصنیف  کی ہیں۔جن سے استفادہ  کرکے  عربی زبان سے واقفیت حاصل کی  جاسکتی ہے ۔زیر نظر کتاب ’’عربی زبان کا  آسان قائدہ‘‘ مولانا  مشتاق احمد چرتھاؤلی   کی  ابتدائی طلباء و طالبات کے لیے    آسان  فہم  کاوش ہے جوکہ اکثر مدارس دینیہ کی ابتدائی کلاسوں میں شامل نصاب ہے ۔ اس   کتاب کو اچھی طرح پڑھنے سے  طلباء  صغیوں اور ضمیروں کو پہچاننے اور عربی سے اردو ،اردو سے  عربی ترجمہ کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں ۔اللہ تعالی  صاحب کی  عربی زبان کےفروغ کے  لیے   کاوشوں  کوقبول فرمائے (آمین)(م۔ا)

     

  • 33 علم الصرف آخرین (ہفتہ 15 ستمبر 2012ء)

    مشاہدات:19691

    جب اسلام کی دعوت جزیرۃ العرب سے نکل کر باقی دنیا میں پھیلی اور کثیر آبادی اسلام کے سایہ امن و عاطفت میں آئی تو قرآن مجید کا سمجھنا، حدیث سے واقف ہونا، نت نئے مسائل کا استنباط کرنا اور بدلتے ہوئے حالات میں اسلام کی ترجمانی اور مسلمانوں کی رہنمائی کا فرض انجام دینا علمائے کرام کے لیے فرض لازم ٹھیرا۔ اس کے لیے نہ ترجمہ کافی تھا، نہ عربی زبان کی سرسری واقفیت کام دے سکتی تھی بلکہ اس سے ایسی گہری فنی واقفیت ضروری تھی جس کی بدولت غلطی کا امکان کم سے کم اور کتاب وسنت کے علم و فہم اور صحیح ترجمانی کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت پیدا ہو، اس مقصد کے تحت عربی کے قواعد و ضوابط پر کامل عبور شرط لازم کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب صرف و نحو کی تدوین اور اس سلسلے میں کتابوں کی تصنیف کی ضرورت پیش آئی۔ اس سلسلہ میں جہاں عربی علما نے بہت سی قیمتی تصنیف فرمائی وہیں عجمی علما بھی ان سے کسی طور پیچھے نہیں رہے اور صرف و نحو کے قواعد پر مشتمل بیش بہا کتب تحریر فرمائیں۔ یاد رہے کہ فن صرف علم نحو ہی کی ایک شاخ ہے، شروع میں اس کے مسائل نحو ہی کے تحت بیان کیے جاتے تھے۔ مولانا مشتاق احمد چرتھاولی نے علم نحو پر کتاب تالیف فرمائی تو اس کو مدارس نے ہاتھوں ہاتھ لیا اس کے بعد انھوں نے ’علم الصرف‘ کے نام سےایک مختصر کتاب تصنیف فرمائی۔ پیش نظر کتاب ’علم الصرف اخیرین‘ اسی کتاب کا دوسرا حصہ ہے۔(ع۔م)
     

  • 34 علم الصرف اولین (جمعہ 14 ستمبر 2012ء)

    مشاہدات:20464

    جب اسلام کی دعوت جزیرۃ العرب سے نکل کر باقی دنیا میں پھیلی اور کثیر آبادی اسلام کے سایہ امن و عاطفت میں آئی تو قرآن مجید کا سمجھنا، حدیث سے واقف ہونا، نت نئے مسائل کا استنباط کرنا اور بدلتے ہوئے حالات میں اسلام کی ترجمانی اور مسلمانوں کی رہنمائی کا فرض انجام دینا علمائے کرام کے لیے فرض لازم ٹھیرا۔ اس کے لیے نہ ترجمہ کافی تھا، نہ عربی زبان کی سرسری واقفیت کام دے سکتی تھی بلکہ اس سے ایسی گہری فنی واقفیت ضروری تھی جس کی بدولت غلطی کا امکان کم سے کم اور کتاب وسنت کے علم و فہم اور صحیح ترجمانی کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت پیدا ہو، اس مقصد کے تحت عربی کے قواعد و ضوابط پر کامل عبور شرط لازم کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب صرف و نحو کی تدوین اور اس سلسلے میں کتابوں کی تصنیف کی ضرورت پیش آئی۔ اس سلسلہ میں جہاں عربی علما نے بہت سی قیمتی تصنیف فرمائی وہیں عجمی علما بھی ان سے کسی طور پیچھے نہیں رہے اور صرف و نحو کے قواعد پر مشتمل بیش بہا کتب تحریر فرمائیں۔ یاد رہے کہ فن صرف علم نحو ہی کی ایک شاخ ہے، شروع میں اس کے مسائل نحو ہی کے تحت بیان کیے جاتے تھے۔ مولانا مشتاق احمد چرتھاولی نے علم نحو پر کتاب تالیف فرمائی تو اس کو مدارس نے ہاتھوں ہاتھ لیا اس کے بعد انھوں نے ’علم الصرف‘ کے نام سے زیر نظر کتاب تصنیف فرمائی۔یہ قواعد صرف پر مشتمل ایک اہم تصنیف ہے جس میں صرف کے قواعد کی تفہیم کے لیے نہایت آسان انداز اختیار کیا گیا ہے تاکہ مدارس کے ابتدائی جماعتوں کے طلبا اس سے کسی مشکل میں پڑے بغیر استفادہ کر سکیں۔ (ع۔م)
     

  • 35 علم الصیغہ اردو مع ضروری فوائد و تشریحات (بدھ 17 فروری 2016ء)

    مشاہدات:6765

    کسی بھی زبان کو سمجھنے کے لیے اس کے بنیادی اصول و قواعد کا جاننا بہت ضروری اور لازمی ہوتا ہے۔ انسان اس وقت تک کسی زبان میں مکمل عبور حاصل نہیں کر سکتا جب تک اس زبان کے اصول و قواعد میں پختگی حاصل نہ کر لے۔ یہ عالم فانی بے شمار زبانوں کی آماجگاہ ہے اور سب سے قدیم ترین زبان' عربی زبان' ہے۔ فہم القرآن و حدیث کے لیے عربیت کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔ اہل اسلام کی تمام تر تعلیمات کا ذخیرہ عربی زبان میں مدوّن و مرتب ہے اور ان علوم سے استفادہ عربی گرائمر(نحو و صرف) کے بغیر نا ممکن ہے۔ جب مسلمانانِ ہند کی علمی زبان فارسی تھی طالب علم کو فارسی سیکھانے کے بعد ہی درس نظامی میں داخلہ دیا جاتا تھا اور نحو و صرف کی ابتدائی کتب بھی فارسی میں مدوّن تھیں۔ لیکن اب المیہ یہ ہے کہ مدارس میں فارسی زبان سیکھانے کا وہ اہتمام نہیں رہا اور اس کی جگہ اردو زبان رائج ہوتی گئی۔ زیر نظر کتاب" علم الصیغہ" مولانا مفتی عنایت احمدؒ کی بے نظیر تصنیف ہے اور مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی حفظہ اللہ تعالیٰ نے اس کو نہایت محنت و لگن سے سلیس اردو قالب میں منتقل کرکے درس نظامی کے طلباء پر احسان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور مزید توفیق عطا فرمائے تاکہ اس قسم کے علمی جواہرات سے طلباء کے دامن کو مالامال کریں۔ آمین(عمیر)

  • 36 علم النحو (جمعرات 13 ستمبر 2012ء)

    مشاہدات:26326

    جب اسلام کی دعوت جزیرۃ العرب سے نکل کر باقی دنیا میں پھیلی اور کثیر آبادی اسلام کے سایہ امن و عاطفت میں آئی تو قرآن مجید کا سمجھنا، حدیث سے واقف ہونا، نت نئے مسائل کا استنباط کرنا اور بدلتے ہوئے حالات میں اسلام کی ترجمانی اور مسلمانوں کی رہنمائی کا فرض انجام دینا علمائے کرام کے لیے فرض لازم ٹھیرا۔ اس کے لیے نہ ترجمہ کافی تھا، نہ عربی زبان کی سرسری واقفیت کام دے سکتی تھی بلکہ اس سے ایسی گہری فنی واقفیت ضروری تھی جس کی بدولت غلطی کا امکان کم سے کم اور کتاب وسنت کے علم و فہم اور صحیح ترجمانی کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت پیدا ہو، اس مقصد کے تحت عربی کے قواعد و ضوابط پر کامل عبور شرط لازم کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب صرف و نحو کی تدوین اور اس سلسلے میں کتابوں کی تصنیف کی ضرورت پیش آئی۔ اس سلسلہ میں جہاں عربی علما نے بہت سی قیمتی تصنیف فرمائی وہیں عجمی علما بھی ان سے کسی طور پیچھے نہیں رہے اور صرف و نحو کے قواعد پر مشتمل بیش بہا کتب تحریر فرمائیں۔ زیر نظر کتاب ’علم النحو‘ بھی اس سلسلہ کی ایک اہم کتاب ہے جو مدارس کی ابتدائی کلاسوں کے طلبہ کے لیے خاصے کی چیز ہے۔ اور اکثر پاکستانی مدارس میں طلبہ کو یہی کتاب سبقاً پڑھائی جاتی ہے۔ کتاب کے مصنف مولانا مشتاق احمد چرتھاولی ہیں جنھوں نے نہایت آسان انداز میں قواعد نحو کو ترتیب دیا ہے۔ یہ کتاب بہت سالوں قبل لکھی گئی اس لیے اس کا اسلوب بھی خاصا پرانا ہوچکا ہے۔ دور جدید کے علما نے علم نحو و صرف پر جدید انداز میں کتب تالیف فرمائی ہیں جن کی اہمیت و افادیت اس کتاب سے بھی بڑھ کر ہے۔(ع۔م)
     

  • 37 قواعد التصغیر (جمعرات 29 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:1656

    عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب " قواعد التصغیر "  علامہ ارشد حسن ثاقب صاحب کی  ایک شاندار تصنیف ہے ،جو اپنے موضوع پر انتہائی مفید کتاب ہے۔ جس میں انہوں نے تصغیر کے چالیس کے قریب قواعد کوبیان کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف  کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے  اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 38 قواعد الصرف - حصہ اول (بدھ 04 دسمبر 2013ء)

    مشاہدات:23044

    قرآن و سنت سمجھنے کے لیے علوم عربیت میں ’فن صرف‘ کو بنیادی مقام حاصل ہے۔ جب تک کوئی شخص اس فن میں مہارت تامہ حاصل نہ کرے اس وقت تک اس کے لیے علوم اسلامیہ میں پیش رفت اور کامل دسترس ممکن نہیں۔ قرآن و سنت سمجھنے کے لیے یہ بنیاد ہے۔ زیر نظر کتاب ’قواعد الصرف‘ بھی اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے جس میں قواعد ومسائل کو بہت آسان اندازمیں پیش کیا گیا ہے۔ کتاب کو قرآنی مثالوں سے مزین کرتے ہوئے طالب علم کی علمی اور ذہنی سطح کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ ہر سبق کے بعد تمرینات طالب علم کے لیے نہایت مفید ہیں۔ قواعد و امثلہ کی تصحیح کا مکمل اہتمام کیا گیا ہے نیز قواعد و مسائل کے انتخاب میں راجح قول کا التزام کیا گیا ہے۔ صرف سے متعلقہ بعض ایسے موضوعات بھی شامل کیے گئے ہیں جو مروجہ کتابوں میں موجود نہیں۔ بلاشبہ طالبان علوم عربیہ کے لیے یہ ایک قیمتی تحفہ ہے۔ (عین۔ م)
     

  • 39 قواعد الصرف - حصہ دوئم (جمعرات 05 دسمبر 2013ء)

    مشاہدات:22343

    قرآن و سنت سمجھنے کے لیے علوم عربیت میں ’فن صرف‘ کو بنیادی مقام حاصل ہے۔ جب تک کوئی شخص اس فن میں مہارت تامہ حاصل نہ کرے اس وقت تک اس کے لیے علوم اسلامیہ میں پیش رفت اور کامل دسترس ممکن نہیں۔ قرآن و سنت سمجھنے کے لیے یہ بنیاد ہے۔ زیر نظر کتاب ’قواعد الصرف‘ بھی اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے جس میں قواعد ومسائل کو بہت آسان اندازمیں پیش کیا گیا ہے۔ کتاب کو قرآنی مثالوں سے مزین کرتے ہوئے طالب علم کی علمی اور ذہنی سطح کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ ہر سبق کے بعد تمرینات طالب علم کے لیے نہایت مفید ہیں۔ قواعد و امثلہ کی تصحیح کا مکمل اہتمام کیا گیا ہے نیز قواعد و مسائل کے انتخاب میں راجح قول کا التزام کیا گیا ہے۔ صرف سے متعلقہ بعض ایسے موضوعات بھی شامل کیے گئے ہیں جو مروجہ کتابوں میں موجود نہیں۔ بلاشبہ طالبان علوم عربیہ کے لیے یہ ایک قیمتی تحفہ ہے۔ (عین۔ م)
     

  • 40 قواعد النحو حصہ دوم (منگل 03 دسمبر 2013ء)

    مشاہدات:6961

    علوم نقلیہ کی  جلالت وشان اپنی جگہ مسلم ہے، مگر یہ بھی ایک  حقیقت ہے کہ ان کے اسرار ورموز اور معانی ومفاہیم تک  رسائی  حاصل کرناعلم نحو کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہی وہ عظیم فن ہے، جس کی بدولت انسان امامت کےمرتبے اور اجتہاد کے مقام تک پہنچ جاتاہے ۔ تمام ائمہ کرام کااس بات پراجماع ہے  کہ  مرتبۂ اجتہاد تک پہنچنے کے لیے علم نحو کا حصول ایک لازمی شرط ہے۔ قرآن وسنت  اور دیگر عربی علوم  کوسمجھنےکے لیے’’ علم نحو‘‘کلیدی حیثیت رکھتاہے۔ اس کے بغیر علوم  اسلامیہ میں رسوخ وپختگی پیدا نہیں ہوسکتی ۔نحو وصرف کی کتابوں کی تدوین وتصنیف میں علماء عرب کےساتھ ساتھ  عجمی علماء نے بھی   بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔اور اپنی  اپنی مقامی زبانوں میں اس فن  پر    کتب تصنیف فرمائیں۔ زیر نظرکتاب  وفاق المدارس السلفیہ کے ذمہ داران کے  حکم پر تجربہ کار ،اور ماہر  اساتذہ ومعلمین کی نگرانی میں الثانویة الخاصة کے نصاب کے لیےلکھی  گئی ہے۔ جسے مکتبہ دار السلام لاہور نے شائع کیاہے۔ اس کی ترتیب میں  ایک  جدید اور منفرد اسلوب اختیارکیا گیا ہے،   جو عام فہم اور نہایت آسان ہے،  تاکہ مبتدی طالب علم اس کو آسانی سے پڑھ سکیں ۔فائدہ عام کے لئے اسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔اللہ اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(م۔ا)
     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1706
  • اس ہفتے کے قارئین: 6956
  • اس ماہ کے قارئین: 34650
  • کل قارئین : 45942844

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں