دکھائیں کتب
  • 31 علم الصرف اولین (جمعہ 14 ستمبر 2012ء)

    مشاہدات:20816

    جب اسلام کی دعوت جزیرۃ العرب سے نکل کر باقی دنیا میں پھیلی اور کثیر آبادی اسلام کے سایہ امن و عاطفت میں آئی تو قرآن مجید کا سمجھنا، حدیث سے واقف ہونا، نت نئے مسائل کا استنباط کرنا اور بدلتے ہوئے حالات میں اسلام کی ترجمانی اور مسلمانوں کی رہنمائی کا فرض انجام دینا علمائے کرام کے لیے فرض لازم ٹھیرا۔ اس کے لیے نہ ترجمہ کافی تھا، نہ عربی زبان کی سرسری واقفیت کام دے سکتی تھی بلکہ اس سے ایسی گہری فنی واقفیت ضروری تھی جس کی بدولت غلطی کا امکان کم سے کم اور کتاب وسنت کے علم و فہم اور صحیح ترجمانی کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت پیدا ہو، اس مقصد کے تحت عربی کے قواعد و ضوابط پر کامل عبور شرط لازم کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب صرف و نحو کی تدوین اور اس سلسلے میں کتابوں کی تصنیف کی ضرورت پیش آئی۔ اس سلسلہ میں جہاں عربی علما نے بہت سی قیمتی تصنیف فرمائی وہیں عجمی علما بھی ان سے کسی طور پیچھے نہیں رہے اور صرف و نحو کے قواعد پر مشتمل بیش بہا کتب تحریر فرمائیں۔ یاد رہے کہ فن صرف علم نحو ہی کی ایک شاخ ہے، شروع میں اس کے مسائل نحو ہی کے تحت بیان کیے جاتے تھے۔ مولانا مشتاق احمد چرتھاولی نے علم نحو پر کتاب تالیف فرمائی تو اس کو مدارس نے ہاتھوں ہاتھ لیا اس کے بعد انھوں نے ’علم الصرف‘ کے نام سے زیر نظر کتاب تصنیف فرمائی۔یہ قواعد صرف پر مشتمل ایک اہم تصنیف ہے جس میں صرف کے قواعد کی تفہیم کے لیے نہایت آسان انداز اختیار کیا گیا ہے تاکہ مدارس کے ابتدائی جماعتوں کے طلبا اس سے کسی مشکل میں پڑے بغیر استفادہ کر سکیں۔ (ع۔م)
     

  • 32 علم الصیغہ اردو مع ضروری فوائد و تشریحات (بدھ 17 فروری 2016ء)

    مشاہدات:7342

    کسی بھی زبان کو سمجھنے کے لیے اس کے بنیادی اصول و قواعد کا جاننا بہت ضروری اور لازمی ہوتا ہے۔ انسان اس وقت تک کسی زبان میں مکمل عبور حاصل نہیں کر سکتا جب تک اس زبان کے اصول و قواعد میں پختگی حاصل نہ کر لے۔ یہ عالم فانی بے شمار زبانوں کی آماجگاہ ہے اور سب سے قدیم ترین زبان' عربی زبان' ہے۔ فہم القرآن و حدیث کے لیے عربیت کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔ اہل اسلام کی تمام تر تعلیمات کا ذخیرہ عربی زبان میں مدوّن و مرتب ہے اور ان علوم سے استفادہ عربی گرائمر(نحو و صرف) کے بغیر نا ممکن ہے۔ جب مسلمانانِ ہند کی علمی زبان فارسی تھی طالب علم کو فارسی سیکھانے کے بعد ہی درس نظامی میں داخلہ دیا جاتا تھا اور نحو و صرف کی ابتدائی کتب بھی فارسی میں مدوّن تھیں۔ لیکن اب المیہ یہ ہے کہ مدارس میں فارسی زبان سیکھانے کا وہ اہتمام نہیں رہا اور اس کی جگہ اردو زبان رائج ہوتی گئی۔ زیر نظر کتاب" علم الصیغہ" مولانا مفتی عنایت احمدؒ کی بے نظیر تصنیف ہے اور مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی حفظہ اللہ تعالیٰ نے اس کو نہایت محنت و لگن سے سلیس اردو قالب میں منتقل کرکے درس نظامی کے طلباء پر احسان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور مزید توفیق عطا فرمائے تاکہ اس قسم کے علمی جواہرات سے طلباء کے دامن کو مالامال کریں۔ آمین(عمیر)

  • 33 علم النحو (جمعرات 13 ستمبر 2012ء)

    مشاہدات:26763

    جب اسلام کی دعوت جزیرۃ العرب سے نکل کر باقی دنیا میں پھیلی اور کثیر آبادی اسلام کے سایہ امن و عاطفت میں آئی تو قرآن مجید کا سمجھنا، حدیث سے واقف ہونا، نت نئے مسائل کا استنباط کرنا اور بدلتے ہوئے حالات میں اسلام کی ترجمانی اور مسلمانوں کی رہنمائی کا فرض انجام دینا علمائے کرام کے لیے فرض لازم ٹھیرا۔ اس کے لیے نہ ترجمہ کافی تھا، نہ عربی زبان کی سرسری واقفیت کام دے سکتی تھی بلکہ اس سے ایسی گہری فنی واقفیت ضروری تھی جس کی بدولت غلطی کا امکان کم سے کم اور کتاب وسنت کے علم و فہم اور صحیح ترجمانی کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت پیدا ہو، اس مقصد کے تحت عربی کے قواعد و ضوابط پر کامل عبور شرط لازم کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب صرف و نحو کی تدوین اور اس سلسلے میں کتابوں کی تصنیف کی ضرورت پیش آئی۔ اس سلسلہ میں جہاں عربی علما نے بہت سی قیمتی تصنیف فرمائی وہیں عجمی علما بھی ان سے کسی طور پیچھے نہیں رہے اور صرف و نحو کے قواعد پر مشتمل بیش بہا کتب تحریر فرمائیں۔ زیر نظر کتاب ’علم النحو‘ بھی اس سلسلہ کی ایک اہم کتاب ہے جو مدارس کی ابتدائی کلاسوں کے طلبہ کے لیے خاصے کی چیز ہے۔ اور اکثر پاکستانی مدارس میں طلبہ کو یہی کتاب سبقاً پڑھائی جاتی ہے۔ کتاب کے مصنف مولانا مشتاق احمد چرتھاولی ہیں جنھوں نے نہایت آسان انداز میں قواعد نحو کو ترتیب دیا ہے۔ یہ کتاب بہت سالوں قبل لکھی گئی اس لیے اس کا اسلوب بھی خاصا پرانا ہوچکا ہے۔ دور جدید کے علما نے علم نحو و صرف پر جدید انداز میں کتب تالیف فرمائی ہیں جن کی اہمیت و افادیت اس کتاب سے بھی بڑھ کر ہے۔(ع۔م)
     

  • 34 قواعد الصرف - حصہ اول (بدھ 04 دسمبر 2013ء)

    مشاہدات:23296

    قرآن و سنت سمجھنے کے لیے علوم عربیت میں ’فن صرف‘ کو بنیادی مقام حاصل ہے۔ جب تک کوئی شخص اس فن میں مہارت تامہ حاصل نہ کرے اس وقت تک اس کے لیے علوم اسلامیہ میں پیش رفت اور کامل دسترس ممکن نہیں۔ قرآن و سنت سمجھنے کے لیے یہ بنیاد ہے۔ زیر نظر کتاب ’قواعد الصرف‘ بھی اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے جس میں قواعد ومسائل کو بہت آسان اندازمیں پیش کیا گیا ہے۔ کتاب کو قرآنی مثالوں سے مزین کرتے ہوئے طالب علم کی علمی اور ذہنی سطح کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ ہر سبق کے بعد تمرینات طالب علم کے لیے نہایت مفید ہیں۔ قواعد و امثلہ کی تصحیح کا مکمل اہتمام کیا گیا ہے نیز قواعد و مسائل کے انتخاب میں راجح قول کا التزام کیا گیا ہے۔ صرف سے متعلقہ بعض ایسے موضوعات بھی شامل کیے گئے ہیں جو مروجہ کتابوں میں موجود نہیں۔ بلاشبہ طالبان علوم عربیہ کے لیے یہ ایک قیمتی تحفہ ہے۔ (عین۔ م)
     

  • 35 قواعد الصرف - حصہ دوئم (جمعرات 05 دسمبر 2013ء)

    مشاہدات:22476

    قرآن و سنت سمجھنے کے لیے علوم عربیت میں ’فن صرف‘ کو بنیادی مقام حاصل ہے۔ جب تک کوئی شخص اس فن میں مہارت تامہ حاصل نہ کرے اس وقت تک اس کے لیے علوم اسلامیہ میں پیش رفت اور کامل دسترس ممکن نہیں۔ قرآن و سنت سمجھنے کے لیے یہ بنیاد ہے۔ زیر نظر کتاب ’قواعد الصرف‘ بھی اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے جس میں قواعد ومسائل کو بہت آسان اندازمیں پیش کیا گیا ہے۔ کتاب کو قرآنی مثالوں سے مزین کرتے ہوئے طالب علم کی علمی اور ذہنی سطح کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ ہر سبق کے بعد تمرینات طالب علم کے لیے نہایت مفید ہیں۔ قواعد و امثلہ کی تصحیح کا مکمل اہتمام کیا گیا ہے نیز قواعد و مسائل کے انتخاب میں راجح قول کا التزام کیا گیا ہے۔ صرف سے متعلقہ بعض ایسے موضوعات بھی شامل کیے گئے ہیں جو مروجہ کتابوں میں موجود نہیں۔ بلاشبہ طالبان علوم عربیہ کے لیے یہ ایک قیمتی تحفہ ہے۔ (عین۔ م)
     

  • 36 قواعد النحو (منگل 24 اپریل 2018ء)

    مشاہدات:1278

    عربی زبان تمام علوم ومعارف اور فنون وحِکم کا ایک عظیم ذخیرہ اور خزینہ ہے۔ کلام اللہ العظیم اور حدیث رسول کریمﷺ کا معجزانہ اور لامثال کلام بھی عربی میں ہی موجود ہے۔ اقوام وملل کی تواریخ اور سلاطین وممالک کے احوال واخبار کا مجموعہ بھی عربی زبان میں پایا جاتا ہے۔ اخلاق وآداب اور ادیان ومذاہب کی کتب اور دفاتر بھی عربی زبان میں ہی دستیاب ہیں۔ بنابریں عربی زبان سے استعناء اور بعد درحقیقت علم وحکمت اور دنیا وآخرت کی ہر خیر وخوبی سے محرومیت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عربی زبان اور اس کے قواعد بہت مشکل اور دشوار ہیں مگر کون نہیں جانتا کہ توجہ اور لگن کے سامنے کوئی چیز حائل اور مانع نہیں ہو سکتی ۔ اگر اللہ تعالیٰ نبیﷺ اور اہل جنت کی زبان ہونے کی روحانی نسبت ہمارے دل میں جاگزین ہو جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ عربی  زبان کی دشواری باقی رہے۔زیرِ تبصرہ کتاب بھی خاص عربی زبان کے قواعد پر مشتمل ہے  جس میں مصنف نے آسان اور عام فہم پیرائے میں قواعد کو ترتیب دیا ہے اور طلباء کو ذخیرہ الفاظ اور امثلہ بہم پہنچائی جائیں تو بہت سے مفردات ومرکبات کو طلباء سمجھ اور بول چال میں رواں ہو سکتے ہیں۔مصنف نے مختصر کتاب میں اکہتر مسائل نحو کو بیان کریا ہے اور بعض مقامات پر تمارین بھی دی گئی ہیں تاکہ طلبہ عربی فقرات بنانے کے قابل ہو سکیں۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ قواعد النحو ‘‘محمد اسماعیل عبد اللہ کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے...

  • 37 قواعد النحو حصہ دوم (منگل 03 دسمبر 2013ء)

    مشاہدات:7068

    علوم نقلیہ کی  جلالت وشان اپنی جگہ مسلم ہے، مگر یہ بھی ایک  حقیقت ہے کہ ان کے اسرار ورموز اور معانی ومفاہیم تک  رسائی  حاصل کرناعلم نحو کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہی وہ عظیم فن ہے، جس کی بدولت انسان امامت کےمرتبے اور اجتہاد کے مقام تک پہنچ جاتاہے ۔ تمام ائمہ کرام کااس بات پراجماع ہے  کہ  مرتبۂ اجتہاد تک پہنچنے کے لیے علم نحو کا حصول ایک لازمی شرط ہے۔ قرآن وسنت  اور دیگر عربی علوم  کوسمجھنےکے لیے’’ علم نحو‘‘کلیدی حیثیت رکھتاہے۔ اس کے بغیر علوم  اسلامیہ میں رسوخ وپختگی پیدا نہیں ہوسکتی ۔نحو وصرف کی کتابوں کی تدوین وتصنیف میں علماء عرب کےساتھ ساتھ  عجمی علماء نے بھی   بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔اور اپنی  اپنی مقامی زبانوں میں اس فن  پر    کتب تصنیف فرمائیں۔ زیر نظرکتاب  وفاق المدارس السلفیہ کے ذمہ داران کے  حکم پر تجربہ کار ،اور ماہر  اساتذہ ومعلمین کی نگرانی میں الثانویة الخاصة کے نصاب کے لیےلکھی  گئی ہے۔ جسے مکتبہ دار السلام لاہور نے شائع کیاہے۔ اس کی ترتیب میں  ایک  جدید اور منفرد اسلوب اختیارکیا گیا ہے،   جو عام فہم اور نہایت آسان ہے،  تاکہ مبتدی طالب علم اس کو آسانی سے پڑھ سکیں ۔فائدہ عام کے لئے اسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔اللہ اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(م۔ا)
     

  • 38 قواعد النحو حصہ اول (پیر 02 دسمبر 2013ء)

    مشاہدات:9813

    علوم نقلیہ کی  جلالت وشان اپنی جگہ مسلم ہے، مگر یہ بھی ایک  حقیقت ہے کہ ان کے اسرار ورموز اور معانی ومفاہیم تک  رسائی  حاصل کرناعلم نحو کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہی وہ عظیم فن ہے، جس کی بدولت انسان امامت کےمرتبے اور اجتہاد کے مقام تک پہنچ جاتاہے ۔ تمام ائمہ کرام کااس بات پراجماع ہے  کہ  مرتبۂ اجتہاد تک پہنچنے کے لیے علم نحو کا حصول ایک لازمی شرط ہے۔ قرآن وسنت  اور دیگر عربی علوم  کوسمجھنےکے لیے’’ علم نحو‘‘کلیدی حیثیت رکھتاہے۔ اس کے بغیر علوم  اسلامیہ میں رسوخ وپختگی پیدا نہیں ہوسکتی ۔نحو وصرف کی کتابوں کی تدوین وتصنیف میں علماء عرب کےساتھ ساتھ  عجمی علماء نے بھی   بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔اور اپنی  اپنی مقامی زبانوں میں اس فن  پر    کتب تصنیف فرمائیں۔ زیر نظرکتاب  وفاق المدارس السلفیہ کے ذمہ داران کے  حکم پر تجربہ کار ،اور ماہر  اساتذہ ومعلمین کی نگرانی میں الثانویة الخاصة کے نصاب کے لیےلکھی  گئی ہے۔ جسے مکتبہ دار السلام لاہور نے شائع کیاہے۔ اس کی ترتیب میں  ایک  جدید اور منفرد اسلوب اختیارکیا گیا ہے،   جو عام فہم اور نہایت آسان ہے،  تاکہ مبتدی طالب علم اس کو آسانی سے پڑھ سکیں ۔فائدہ عام کے لئے اسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔اللہ اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(م۔ا)
     

  • 39 قواعد زبان قرآن (حصہ اول) (جمعرات 16 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:15123

    مولانا حمید الدین فراہی نے علم نحو کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ’اسباق النحو‘ کے نام سے کتاب لکھ کر مدارس کے طلباء کے لیے مناسب سہولت فراہم کی۔ لیکن ایک عام طالب علم کے لیے اس سے استفادہ کرنا دشوار ہے۔ مولانا خلیل الرحمٰن چشتی نے اسی مشکل کو سامنے رکھتے ہوئے ’قواعد زبان قرآن‘ کے نام سے مولانا فراہی کی کتاب کو نہایت سہل انداز میں ترتیب دیا اور جا بجا قرآنی مثالوں کے ذریعے عربی زبان کے قواعد سمجھانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔  مولانا نے جدید طریقہ تدریس کے پیش نظر پہلے اصول بتایا ہے پھر مثال دی ہے اور آخر میں چند مثالوں کی تحلیل کر دی گئی ہے تاکہ طالب علم کو اصول و قواعد سمجھنے میں کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ کتاب کو اس انداز سے مرتب کیا گیا ہے کہ تعلیم یافتہ طبقہ استاد کے بغیر خود مشقوں کو حل کر سکے۔

     

  • 40 مختار النحو (ہفتہ 28 ستمبر 2013ء)

    مشاہدات:7761

    مختار احمد سلفی حفظہ اللہ نے ابتدائی طالب علموں کے لیے ان کی استعداد کو محلوظ رکھ کر کتاب النحو کی جگہ پر ’’ مختار النحو ‘‘ بڑی عرق ریزی اور جانفشانی سے مرتب کی ہے ۔ یہ منتہی طلبا اور اساتذہ کرام کے لیے بھی جواہر کا منبع محسوس ہوتا ہے کیونکہ اس میں اکثر مثالیں قرآن مقدس اور احادیث مبارکہ سے ماخوذ ہیں ، پھر آخر کتاب میں ہر سبق میں آنے والی بعض مثالوں کی ترکیب بھی موجود ہے ۔ قوانین نحو کو عربی عبارت پر لاگو کرنے کے لیے اجراء کا طریقہ بھی بتایا گیا ہے ۔ اس کتاب کے اسلوب کو نحو کی دوسری درسی کتابوں کے مطابق ہی رکھا گیا ہے تاکہ طلبا ذہنی انتشار و خلفشار اور تشویش سے محفوظ رہیں ۔ اس کا اسلوب سہل اور ترتیب پرکشش ہے ۔ مبتدی کی استطاعت سے بالاتر وہ باتیں جو اہم تھیں ان کا بیان حاشیے میں ہے ۔ نہ اتنا اختصار کہ مفہوم سمجھ نہ آئے نہ اتنی طوالت کہ پڑھنے والا اکتا جائے ۔ کتاب کی اسباب میں تقسیم ، ہر سبق کے آخر میں مختصر نقشہ ، ہر سبق کے بعد قرآن و سنت کی مثالوں سے مزین تمرین اور سبق میں آیات قرآنیہ کا مختصر حوالہ اس کتاب کی افادیت کو چار چاند لگا دیتا ہے ۔ بعض معلمین اور شیوخ الحدیث ، مثلا مولانا عبدالصمد رفیقی حفظہ اللہ اور مولانا عمر فاروق سعیدی حفظہ اللہ کو اس کتاب کی تعریف میں رطب اللسان پایا ۔ مؤلف جس مدرسے میں پڑھاتے ہیں اس میں انہوں نے اسے نصاب کا حصہ بنا دیا ہے اور باقاعدہ پڑھائی جا رہی ہے اور واقعی یہ اس قابل ہے کہ ابتدائی طلبہ کو پڑھائی جائے ۔ مدرسین و معلمین مطالعہ میں اسے اپنا معاون بنائیں ، تب بھی مفید ہے ۔ خالصتا قرآن و حدیث کو سمجھنے کی نیت سے لکھی ج...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1482
  • اس ہفتے کے قارئین: 3541
  • اس ماہ کے قارئین: 45403
  • کل قارئین : 46585149

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں