دکھائیں کتب
  • 21 جد اول النحو لتفہیم ہدایۃ النحو (جمعرات 15 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:4192

    علوم نقلیہ کی  جلالت وعظمت اپنی جگہ مسلمہ ہے مگر یہ بھی  حقیقت کہ ان کے اسرار ورموز اور معانی ومفاہیم تک  رسائی علم نحو کے بغیر ممکن نہیں۔   کلام الٰہی ،دقیق تفسیر ی نکات،احادیث رسول ﷺ ،اصول وقواعد ،اصولی وفقہی احکام ومسائل کا فہم وادراک  اس علم کے بغیر  حاصل نہیں کرسکتے  یہی وہ عظیم فن ہےکہ جس کی بدولت انسان ائمہ کےمرتبے اور مجتہدین کی منزلت تک پہنچ جاتاہے ۔جوبھی شخص اپنی تقریر وتحریر میں عربی دانی کو اپنانا چاہتا ہے  وہ سب سے پہلے  نحو کےاصول وقواعد کی معرفت کا محتاج ہوتاہے  ۔عربی مقولہ ہے : النحو فی الکلام کالملح فی الطعام یعنی کلام میں نحو کا وہی  مقام ہے جو کھانے میں نمک کا  ہے ۔  قرآن وسنت  اور دیگر عربی علوم  سمجھنےکے لیے’’ علم نحو‘‘کلیدی حیثیت رکھتاہے اس کے بغیر علوم  ِاسلامیہ میں رسوخ وپختگی  اور پیش قدمی کاکوئی امکان نہیں ۔ قرنِ  اول  سے لے کر اب  تک نحو وصرف  پرکئی کتب ان کی شروح  لکھی  کی جاچکی ہیں  ہنوز یہ سلسلہ جاری  ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ جداول النحو لتفہیم ہدایۃ النحو‘‘ محدث فورم کے فعال رکن  محترم  مولانا  ارشد محمود﷾ کی کاوش ہے ۔ ہدایۃ النحو  نحو کے موضوع پر معروف کتاب ہے او ر اکثر مدارسِ دینیہ  میں شامل نصاب ہے ۔محترم ارشد صاحب   جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور اور عبداللہ  بن عبد اللہ بن مسعود اسلامک سنٹر،لاہور میں ...

  • 22 جدید عربی لغت اور عربی بول چال کے نمونے (منگل 29 جون 2010ء)

    مشاہدات:24403

    زیر نظر کتاب جو حجم کے اعتبار سے مختصر ہے لیکن افادیت کے پہلو سے بڑی بڑی کتابوں پہ بھاری ہے اس میں عربی بول چال کے حوالے سے بہت ہی احسن انداز سے رہنمائی کی گئی ہے مختلف فنون اور پیشوں کے لیے عربی الفاظ مختلف عناوین کےتحت بیان کیے گئے ہیں جوعربی بول چال کی عملی مشق کےلیےمختلف افراد کےمکالمے بھی اس میں دیئے گئے ہیں مثلاً اگر کوئی عرب ملک میں جانے اور راستہ پوچھنے کی ضرورت ہو ،یا ہوٹل میں گفتگو کرنی پڑے ،یا پاسپورٹ آفس میں بات چیت کی ضرورت  پڑے تو کس طریقے سے گفتگو ہوگی اس کےنمونے کتاب میں موجود ہیں آخر میں ایک جامع اور مختصر جدید عربی اردو لغت بھی شامل کتاب ہے عربی بول چال کے شوقین طبقے کےلیے یہ کتاب بہت ہی مفید ہے

     

  • 23 خاصیات ابواب الصرف (بدھ 17 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:2002

    شریعت اسلامی کے بنیادی مآخد اسی زبان میں ہیں لہذا قرآن وسنت اور شریعت اسلامیہ پر عبور حاصل کرنےکا واحد ذریعہ عربی زبان ہے اس لحاظ سے عربی سیکھنا اور سکھانا امت مسلمہ کا اولین فریضہ ہے ۔عربی زبان سیکھنے کےلیے نحو وصرف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔فن صرف علم نحو ہی کی ایک شاخ ہے شروع میں اس کے مسائل نحو کے تحت ہی بیان کیےجاتے تھے معاذ بن مسلم ہرّاء یاابو عثمان بکر بن محمدمزنی نے علم صرف کو علم النحو سے الگ کرکے مستقل فن کی حیثیت مرتب ومدون کیا۔ صرف ونحوصرف کی کتابوں کی تدوین وتصنیف میں علماء عرب کےساتھ ساتھ عجمی علماء بھی پیش پیش رہے ۔مدارس میں پڑھنے والے طلباء صرف گردانیں یاد کرنے کےلیے ابواب الصرف کتاب پڑھتے ہیں بعض کتب میں مصادر کاترجمہ فارسی زبان میں ہے چونکہ اب فارسی زبان کی طرف قوم کا رجحان بہت کم ہوگیا ہے لہذا طلباء کے لیے معانی میں مشکل ہوتی ہے ۔ بعض کتب میں لازم کے ابواب کی مجہول گرادنوں کی متعدی باب کی مانند لکھ دیاگیا ہے جو کہ صرفی طور غلط ہے ۔  زیر تبصرہ کتاب’’ خاصیات ابواب الصرف ‘‘ مجلس المدینۃ العلمیۃ کی پیش کش ہے۔ جس میں انہوں نے طلباء کی سہولت وبہتری کےلیے تمام ابواب کی خاصیات کو معانی کے ساتھ مختلف اسباق کی صورت میں بیان کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے طلبہ وطالبات دینیہ کےلیے نفع بخش بنائے (آمین) (رفیق الرحمن)

  • 24 خواب اور تعبیر جدید ایڈیشن (منگل 19 فروری 2013ء)

    مشاہدات:128414

    عام زندگی میں ہر انسان کو خوابوں سے واسطہ رہتا ہے جہاں انسان اچھا خواب دیکھ کر خوش ہوتا ہے وہیں برا خواب دیکھ کر پریشان بھی ہو جاتا ہے۔ خوابوں سے متعلق مناسب شرعی رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے بہت سارے لوگ فقط نیند میں نظر آنے والے واقعات پر کچھ غیر شرعی افعال سرانجام دینے لگتے ہیں۔ بہر حال شریعت مطہرہ نے اس سلسلہ میں بھی انسان کی کامل رہنمائی فرمائی ہے۔ علمائے امت نے دیگر فنون کی طرح اس فن کی بھی حفاظت کی اور اس فن میں بھی بہت سی کتب تصنیف فرمائیں جن میں شیخ عبدالغنی بن اسماعیل نابلسیؒ کی مشہور زمانہ کتاب ’تعطیر الأنام فی تعبیر المنام‘ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ اسی کتاب کا اردو قالب اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ ترجمہ کرتے ہوئے اس بات کو خاص طور پر مد نظر رکھا گیا ہے کہ ترجمہ سلیس اور بامحاورہ تو ہو لیکن مفہوم سے یک سرمو انحراف نہ ہو۔ کتاب کی فہرست میں عنوانات کا اردو ترجمہ تحریر کیا گیا ہے اورحروف تہجی کے اعتبار سے انھیں رقم کیا گیا ہے جس کی وجہ سے کسی بھی خواب کی تعبیر آسانی سے تلاش کی جا سکتی ہے۔ یاد رہے کہ یہ ترجمہ اصل کتاب کا کیا گیا ہے نہ کہ معروف مصطفیٰ زریق صاحب کی تلخیص کا، جو کہ لوگوں میں اصل کتاب کے طور پر متعارف ہے۔ خوابوں کے حوالے سے یہ بات ذہن میں رہے کہ ہر قسم کے خواب کی تعبیر نہیں ہوتی۔ کتاب کےمقدمہ میں بھی مصنف نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے اور ایسے خواب جن کی تعبیر نہ ہو ان کی سات قسمیں بیان کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام خوابوں میں صحیح ترین خواب بشریٰ ہیں جو طبیعت میں سکون، لباس، پوشاک اور خوراک کے معیاری ہونے اور صحت مند ہونے کی صورت میں دیکھے جاتے ہیں ی...

  • 25 ریح العبیر فی شرح نحو میر (ہفتہ 28 نومبر 2015ء)

    مشاہدات:2804

    علومِ نقلیہ کی جلالت وعظمت اپنی جگہ مسلمہ ہے مگر یہ بھی حقیقت کہ ان کے اسرار ورموز اور معانی ومفاہیم تک رسائی علم نحو کے بغیر ممکن نہیں۔ کیونکہ علومِ عربیہ میں علم نحو کو جو رفعت ومنزلت حاصل ہے اس کا اندازہ اس امر سے بہ خوبی ہو جاتاہے کہ جو بھی شخص اپنی تقریر وتحریر میں عربی دانی کو اپنانا چاہتا ہے وہ سب سے پہلے نحو کےاصول وقواعد کی معرفت کا محتاج ہوتا ہے کلام ِالٰہی ،دقیق تفسیر ی نکات،احادیث رسول ﷺ ،اصول وقواعد ،اصولی وفقہی احکام ومسائل کا فہم وادراک اس علم کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا یہی وہ عظیم فن ہےکہ جس کی بدولت انسان ائمہ کےمرتبے اور مجتہدین کی منزلت تک پہنچ جاتاہے ۔عربی مقولہ ہے : النحو فی الکلام کالملح فی الطعام یعنی کلام میں نحو کا وہی مقام ہے جو کھانے میں نمک کا ہے ۔ قرآن وسنت اور دیگر عربی علوم سمجھنےکے لیے’’ علم نحو‘‘کلیدی حیثیت رکھتاہے اس کے بغیر علوم ِاسلامیہ میں رسوخ وپختگی اور پیش قدمی کاکوئی امکان نہیں ۔ قرنِ اول سے لے کر اب تک نحو وصرف پرکئی کتب اور ان کی شروح لکھی کی جاچکی ہیں ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ ریح العبیر فی شرح نحومیر‘‘علامہ ارشد حسن ثاقب﷾ کی کاوش ہے ۔ یہ شرح علم نحو کی ایک عمیق وجاندار تحقیق اور نحومیرکی ایک نہایت واضح او رمفصل شرح ہے۔یہ شرح نہ صرف نحومیر بلکہ شرح جامی تک تمام نحوی کتب کی تدریس اساتذہ کے لیے معاون ہے ۔ علم نحوکی یہ پہلی کتاب ہے جس میں درجنوں عربی اشعار کے علاوہ تیرہ صد سے زائد قرآنی آیات کو نحوی شواہد کےطور پر پیش کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ شا...

  • 26 ضیاء النحو (بدھ 20 مئی 2015ء)

    مشاہدات:2528

    عربی زبان ایک زندہ وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔عربی زبان معاش ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔لیکن عربی زبان کو اس وقت تک سیکھنا ناممکن ہے جب تک اس کے اصول وقواعد اور اس کی گرائمر (نحو وصرف)کو نہ سیکھ لیا جائے۔عہد تدوین سے لیکر آج تک عربی گرائمر(نحو وصرف) پر  عربی واردو  زبان  میں مختصر ،معتدل،مغلق اور مطول ہر طرح کی بے شمار کتب لکھی جاچکی ہیں۔عربی گرائمر (نحو وصرف)کی کتب میں سے ایک اہم ترین کتاب امام محمد محی الدین عبد الحمید ﷫کی "المقدمۃ الآجرومیہ " ہے اور التحفۃ السنیہ اس کی عربی شرح ہے جبکہ زیر تبصرہ کتاب "ضیاء النحو " اس عربی شرح کا اردو ترجمہ ہے۔اردو ترجمہ کرنے کی سعادت الشیخ عبد الصمد  بلوچ﷾ نے حاصل کی ہے۔اہل عرب میں یہ کتاب بڑی مشہور اور معروف ہےاور لوگوں کے ہاں اسے مقبولیت حاصل ہے۔اللہ تعالی ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ...

  • 27 عربی کا معلم - جلد1 (ہفتہ 14 جنوری 2012ء)

    مشاہدات:20583

    زیر نظر کتابچہ ’’عربی کا معلم‘‘ اگرچہ حجم کے لحاظ سے چار چھوٹے چھوٹے اجزاء پر مشتمل ہے تاہم عربی قواعد اور عربی زبان دانی کی تعلیم وتعلم کے حوالے سے ناقابل فراموش اور مفید ترین ہے۔قابل مصنف نے اقتضائے وقت کے مطابق اس کتاب میں عربی قواعد کو آسان ترین مشقوں اور مثالوں کے ذریعے بیان کیا ہے تاکہ زبان دانی کے ضمن میں یہ قواعد باآسانی ذہن نشین ہوتے چلے جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عربی زبان کی تفہیم اور افہام کے لیے اسباق کا انتخاب اور ان کی ترتیب کوئی معمولی کام نہیں ھے مگر اس کتابچے کے مشاہدے اور مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ موصوف نے شائقین عربی کی مایوسی اور مشقت کو کم کرنے اور تسہیل عربی کے حوالے سے قابل قدر اور کامیاب کوشش کی ہے ۔اسباق کے انتخاب اور ترتیب میں آسانی کے پہلو کو مدنظر رکھا گیا ہے۔پہلا جزء پندرہ اسباق پر ، دوسرا جزء دس اسباق پر ، تیسرا جزء اٹھارہ اسباق پر اور چوتھا چزء تیس اسباق پر مشتمل ہے ۔جزء اول کے علاوہ باقی سب اجزاء میں قرآنی امثلہ ، محاکموں او رتمرینات کا قابل قدر اضافہ نظر آتا ہے۔ اگر سب اسباق کو  تطبیق کے ساتھ حل کرلیا جائے تو طالب علم میں عربی سمجھنے ، لکھنے اور بولنے کی لیاقت پیدا ہوجاتی ہے یہ کتابچہ برصغیر پاک وہند کے اکثر سرکاری وغیرسرکاری مدارس ، کلیات اور جامعات میں شامل نصاب رہاہے ۔بہر حال یہ کتابچہ اس قابل ہے کہ اسے عربی دانی اور عربی گرائمر کے حوالے سے تمام سرکاری وغیر سرکاری مدارس ، کلیات اور جامعات میں داخل نصاب کردیا جائے تاکہ عربی زبان سیکھنے کے ساتھ ساتھ متعلمین کے دلوں میں قرآن فہمی کا احساس بھی جاگزیں ہو جائے۔(م۔آ۔ہ) گرامر  نصابی کتب 

  • 28 عربی گرائمر (منگل 19 جون 2012ء)

    مشاہدات:18035

    کسی بھی زبان میں مہارت کے لیے گرامر کا آنا بہت ضروری ہے۔ ہمارے ہاں انٹرمیڈیٹ کی کلاسوں میں عربی کا مضمون داخل نصاب ہے۔ بنیادی طور پر عربی سے شد بد نہ ہونے کی وجہ سے طلبا کو اس مضمون میں کافی دقت ہوتی ہے۔ اور اسی وجہ سے وہ زیادہ اچھے نمبرزلینے سے بھی قاصر ہوتے ہیں۔ انٹرمیڈیٹ کے طلبا و طالبات کے لیے زیر نظر کتاب آسان اور واضح انداز میں ترتیب دی گئی ہے تاکہ طلبا کو عربی پر گرفت بھی ہو اور وہ اچھے نمبرز حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو جائیں۔ ہر سبق کے اخیر میں تمرین دی گئی ہے جس کو حل کرنے سے سبق ذہن نشین ہو جاتا ہے۔ کتاب جہاں انٹر میڈیٹ کے طلبا و طالبات کے لیے سہولت کا باعث ہیں وہیں عربی گرامر سے شغف رکھنے والے دوسرے لوگ بھی اس سے خاطر خواہ استفادہ کر سکتے ہیں۔ کتاب کے مؤلف پروفیسر خان محمد چاولہ ہیں جو ریاض یونیورسٹی سے فارغ التحصیل اور شعبہ عربی گورنمنٹ کالج میں پروفیسر ہیں۔ (ع۔م)
     

  • 29 عربی گفتگو نامہ (منگل 27 جولائی 2010ء)

    مشاہدات:18437

    ہدایت انسانی کےلیے اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر دو چیزوں کو نازل کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا''اعطیت القرآن ومثلہ معہ''مجھے قرآن اور اس کی مثل ایک اور چیز(یعنی حدیث)دے کر بھیجا گیا ہے اور انہی دو چیزوں کے واسطے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگو ں کو اللہ تعالی کا پیغام سنایا-یہ دونوں چیزیں عربی میں ہے اس لیے ان کو سمجھنے کےلیے عربی زبان کا آنا ضروری ہے -اس ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ کتابچہ آپ کے سامنے پیش کیا جارہا ہے جس میں روز مرہ استعمال کیے جانے والے الفاظ کو عربی میں استعمال کیا گیا ہے تاکہ اس کے مطالعے سے آدمی عربی زبان بولنے پر فائز ہوسکے -یہ کتابچہ بہت عمدہ ہے ضرور اس کا مطالعہ فرمایئے گا
     

  • 30 علم الصرف آخرین (ہفتہ 15 ستمبر 2012ء)

    مشاہدات:19517

    جب اسلام کی دعوت جزیرۃ العرب سے نکل کر باقی دنیا میں پھیلی اور کثیر آبادی اسلام کے سایہ امن و عاطفت میں آئی تو قرآن مجید کا سمجھنا، حدیث سے واقف ہونا، نت نئے مسائل کا استنباط کرنا اور بدلتے ہوئے حالات میں اسلام کی ترجمانی اور مسلمانوں کی رہنمائی کا فرض انجام دینا علمائے کرام کے لیے فرض لازم ٹھیرا۔ اس کے لیے نہ ترجمہ کافی تھا، نہ عربی زبان کی سرسری واقفیت کام دے سکتی تھی بلکہ اس سے ایسی گہری فنی واقفیت ضروری تھی جس کی بدولت غلطی کا امکان کم سے کم اور کتاب وسنت کے علم و فہم اور صحیح ترجمانی کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت پیدا ہو، اس مقصد کے تحت عربی کے قواعد و ضوابط پر کامل عبور شرط لازم کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب صرف و نحو کی تدوین اور اس سلسلے میں کتابوں کی تصنیف کی ضرورت پیش آئی۔ اس سلسلہ میں جہاں عربی علما نے بہت سی قیمتی تصنیف فرمائی وہیں عجمی علما بھی ان سے کسی طور پیچھے نہیں رہے اور صرف و نحو کے قواعد پر مشتمل بیش بہا کتب تحریر فرمائیں۔ یاد رہے کہ فن صرف علم نحو ہی کی ایک شاخ ہے، شروع میں اس کے مسائل نحو ہی کے تحت بیان کیے جاتے تھے۔ مولانا مشتاق احمد چرتھاولی نے علم نحو پر کتاب تالیف فرمائی تو اس کو مدارس نے ہاتھوں ہاتھ لیا اس کے بعد انھوں نے ’علم الصرف‘ کے نام سےایک مختصر کتاب تصنیف فرمائی۔ پیش نظر کتاب ’علم الصرف اخیرین‘ اسی کتاب کا دوسرا حصہ ہے۔(ع۔م)
     

  • ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 1447
    • اس ہفتے کے قارئین: 2972
    • اس ماہ کے قارئین: 34936
    • کل مشاہدات: 45363483

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں