کل کتب 1215

دکھائیں
کتب
  • 1161 #809

    مصنف : عبد الرشید عراقی

    مشاہدات : 25086

    چالیس علمائے اہل حدیث

    (بدھ 17 اگست 2011ء) ناشر : نعمانی کتب خانہ، لاہور

    برصغیر پاک وہند میں اہل حدیث علما کی خدمات حدیث تاریخ کا ایک روشن باب ہیں۔حدیث وسنت کی نشرواشاعت کے علاوہ دعوت وتبلیغ اور تصنیف وتالیف کے میدانوں میں بھی کارہائے نمایاں سرانجام دیے۔حقیقت یہ ہے کہ برصغیر میں حدیث کی تدریس ،نشرواشاعت اور حدیث ومحدثین کے دفاع کا جو کام بھی ہو رہا ہے اس کا آغاز علمائے اہل حدیث ہی نے کیا تھا۔زیر نظر کتاب جناب عبدالرشید عراقی کی ہے،جنہوں نے چالیس اہل حدیث علما کی حیات وخدمات حدیث کو اجاگر کیا ہے۔یہ تمام علما اصحاب تدریس بھی تھے اور اس کے ساتھ صاحب تصنیف بھی،ہر صاحب تذکرہ کی تمام  کتابوں کی فہرست بھی شامل کتاب ہے۔ان میں سے چند اہم کتابوں کا تعارف بھی کرا دیا گیاہے۔یہ کتاب علمائے اہل حدیث کی جہود ومساعی کو بہت خوبصورتی سے نمایاں کرتی ہے۔اس کے مطالعہ سے علما کی قدرومنزلت سے آگاہی ہوگی اور ان کی سیرتوں کو اپنانے کا جذبہ بیدار ہو گا۔(ط۔ا)

  • 1162 #2955

    مصنف : طالب ہاشمی

    مشاہدات : 1851

    چاندی کی ہتھکڑی اور دوسری کہانیاں

    (پیر 16 فروری 2015ء) ناشر : طہٰ پبلیکیشنز، لاہور

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں کی بھر مار ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب"چاندی کی ہتھکڑی اور دوسری کہانیاں "محترم طالب ہاشمی صاحب کی کاوش ہے ۔جس میں انہوں نے اس کمی کو دور کرنے کی مقدور بھر کوشش کی ہےاور بامقصد اور دلچسپ کہانیوں پر مشتمل کتب لکھنے کا آغاز کیا ہے۔اور یہ کتاب اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔اگرچہ اب میدان میں اور بھی متعدد کتب چھپ کر منظر عام پر آ چکی ہیں۔اس کتاب میں انہوں نے احادیث سے ماخوذ واقعات کے ساتھ ساتھ ایسی تاریخی یا نیم تاریخی کہانیاں قلمبند کی ہیں جن سے کوئی نہ کوئی اخلاقی سبق ملتا ہےیامعلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔یہ اگرچہ کوئی تحقیقی یا علمی کتاب نہیں ہے لیکن سائٹ پر بچوں سے متعلقہ مواد نہ ہونے کے سبب اسے بچوں کے بطور تحفہ پیش کیا جارہا ہے۔(راسخ)

  • 1163 #4986

    مصنف : محمد اسحاق بھٹی

    مشاہدات : 1879

    چمنستان حدیث

    (ہفتہ 17 دسمبر 2016ء) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷾ کی شخصیت تعارف کی محتاج نہیں آپ برصغیر پا ک وہند کے اہل علم طبقہ میں او رخصوصا جماعت اہل میں ایک معروف شخصیت ہیں آپ صحافی ،مقرر، دانش ور وادیب ،یاسات حاضرہ سے پوری طرح باخبر اور وسیع المطالعہ شخصیت ہیں عہد حاضر کے ممتاز اہل قلم میں ان کا شمار ہوتا ہے ۔ تاریخ وسیر و سوانح ان کا پسندیدہ موضوع ہے او ر ان کا یہ بڑا کارنامہ ہے کے انہوں نے برصغیر کے جلیل القدر علمائے اہل حدیث کے حالاتِ زندگی او ر ان کےعلمی وادبی کارناموں کو کتابوں میں محفوظ کردیا ہے مولانا محمداسحاق بھٹی ﷾ تاریخ وسیر کے ساتھ ساتھ مسائل فقہ میں بھی نظر رکھتے ہیں مولانا صاحب نے تقریبا 30 سے زائدکتب تصنیف کیں ہیں جن میں سے 26 کتابیں سیر واسوانح سے تعلق رکھتی ہیں مولانا تصنیف وتالیف کےساتھ ساتھ 15 سال ہفت روزہ الاعصتام کے ایڈیٹر بھی رہے الاعتصام میں ان کےاداریے،شذرات،مضامین ومقالات ان کے انداز ِفکر او روسیع معلومات کے آئینہ دار ہیں الاعتصام نے علمی وادبی دنیا میں جو مقام حاصل کیا ہے اس کی ایک وجہ محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷾ کی انتھک مساعی اور کوششیں ہیں ۔برصغیر پاک وہند کے ا ہل حد یث علما ء نے ہر میدان میں گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں جن کا بھٹی صاحب نے اپنی کتب میں تذکرہ کیا ہے۔ تدوین قرآ ن سےلےکر اس کے اعراب وتشکیل،تجویدوقراء ات تراجم وتفسیر،اعجاز القرآن،علوم القرآن اور دیگر بیسیوں عنوانات پر ہر دور میں علمائے امت نے ضخیم کتابیں تالیف کی ہیں کررہے اور کرتے رہیں گے ۔ان شاءاللہ زیر تبصرہ کتاب ’’ چمنستان حدیث‘‘ مؤرخ اہل حدیث مولانا اسحاق بھٹی﷫ کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اپنی دیگر کتابوں کی طرح برصغیر کے اہل حدیث علمائے ذی وقار کے حالات کی نقاب کشائی کی ہے ۔یہ وہ بوریا نشیں اور درویشانِ خدامست ہیں جنہوں نےزندگی کے ہرموڑ پر اپنے آپ کو قرآن وحدیث کی خدمت کے لیے وقف کیے رکھا۔اس کتاب میں بھٹی صاحب نے ایک سو علمائے کرام کے سوانح حیات درج کیے ہیں ۔ جن میں پندرہ حضرات کا تعلق تلمذ سید نذیر حسین محدث دہلوی ﷫ سے ہے اور 33 ان کا حضرات کا تذکرہ ہے جو حضرت میاں سید نذیر حسین دہلوی ﷫کے شاگردوں کےشاگرد ہیں۔ او رباون وہ حضرات ہیں حو اللہ کے حیات ہیں او رمختلف مقامات پر تصنیفی وتدریسی خدمات سرانجام ردے رہے ہیں ۔لیکن ان کا سلسلہ بھی بالآخر حضرت میاں صاحب کے شاگردوں کی لڑی سے جاملتا ہے۔اللہ تعالیٰ مولانا اسحاق بھٹی ﷫ کی مرقد پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے اور ان کی خدمات کوقبول فرماکر انہیں جنت الفرودس میں اعلی ٰ مقام عطافرمائے۔ (آمین) (م۔ا)

  • 1164 #6953

    مصنف : محمد مسعود عزیزی ندوی

    مشاہدات : 937

    چند مایہ ناز اسلاف قدیم و جدید

    (منگل 07 مئی 2019ء) ناشر : دار الفکر الاسلامی

    تاریخ نویسی ہو یا سیرت نگاری ایک مشکل ترین عمل ہے ۔ اس کےلیے  امانت ودیانت او رصداقت کاہونا از بس ضروری ہے۔مؤرخ کے لیے  یہ بھی ضروری ہےکہ وہ تعصب ،حسد بغض، سے کوسوں دور  ہو ۔تمام حالات کو  حقیقت کی نظر  سے  دیکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتاہو ۔ذہین  وفطین ہو  اپنے حافظےپر کامل اعتماد رکھتا ہو۔حالات وواقعات کوحوالہ قرطاس کرتے وقت تمام کرداروں کا صحیح تذکرہ کیا گیا ہو ۔اس لیے  کہ تاریخ  ایک ایسا آئینہ ہے کہ جس  کے ذریعے انسان اپنا ماضی دیکھ سکتاہے  اور اسلام میں تاریخ ، رجال  اور تذکرہ  نگار ی کو بڑی اہمیت  حاصل ہے ۔انسان انسان سے سیکھتا ہےاور اپنی زندگی کےلیے پیش رو کی زندگیوں سے فیض  حاصل کرتا ہےاس لیے  ہمیں اپنے اسلاف کے طور طریق کوجاننا چاہیے  اور ان میں  جو ہماری زندگی سنوارنے اور بنانے کے لیے مفید ہوں اس کواپنی زندگی  کےلیے رہنما بناناچاہیے ۔بے شمارمسلمان مصنفین نے اپنے اکابرین  کے تذکرے لکھ کر ان  کےعلمی عملی،تصنیفی،تبلیغی اورسائنسی کارناموں کوبڑی عمدگی سے اجاگر کیا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’چند مایہ ناز اسلاف قدیم وجدید‘‘مولولی محمد مسعود عزیزی ندوی  کےمقالات کے کا مجموعہ ہے ۔ان مقالات میں انہوں نے  متعدد اہل حق اسلاف  اور قابل استفادہ شخصتیوں کا تذکرہ کیا ہے  کہ جن کی زندگیاں علمی  ودینی خدمات میں گزری ہیں اس کتاب میں ایسے   نفوسِ قدسیہ  اور اصحاب دعوت وعزیمت کے سوانح حیات او رحالات زندگی  پیش کیے گیے ہیں کہ  جن کی زبان میں اور جن کی باتوں میں اللہ نے تاثیر رکھی تھی اور انہوں نے ایسے اصلاحی  کام انجام دئیے کہ وہ تاریخ  کےہیرو بن گئے اور ان کےدعوتی واصلاحی کارنامے آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہیں ان کےحالات پڑھ کر خو د اپنی زندگیوں میں  تبدیلی لائی جاسکتی ہے ۔یہ کتاب نیٹ سے ڈؤان لوڈ کر کے  قارئین کتاب وسنت سائٹ کےلیے پیش کی گئی ہے۔(م۔ا)

  • 1165 #6245

    مصنف : احمد غزالی

    مشاہدات : 1195

    چولستان

    (منگل 20 فروری 2018ء) ناشر : الفیصل ناشران وتاجران کتب، لاہور

    بے آب و گیا ہ صحرائے چولستان جو کسی زمانے میں بین الاقوامی تجارتی گزر گاہ تھا اور تجارتی قافلوں کی حفاظت کے لئے دریائے ہاکڑا کے کنارے جیسلمیر کے بھٹی راجاﺅں کے دور حکمرانی 834ہجری میں تعمیر ہونے والا قلعہ ڈیراور جو اپنے اندر کئی صدیوں کے مختلف ادوار کی تاریخ سموئے ہوئے ہے۔ اس قلعہ کو نواب صادق محمد خاں اول نے والئی جیسلمیر راجہ راول رائے سنگھ سے فتح کیا جس وقت قلعہ ڈیراور عباسی خاندان کی ملکیت بنا تو عباسی حکمرانوں نے قلعہ کے تمام برج پختہ اینٹوں سے تعمیر کروا کر اس قلعہ کا ہر برج اپنے ڈیزائن میں دوسرے سے جدا ڈیزائن میں کیا ۔ قلعہ کے اندر شاہی محل ،اسلحہ خانہ ، فوج کی بیرکیں اور قید خانہ بھی بنایا گیا تھا ۔ قلعہ کے مشرقی جانب عباسی حکمرانو ں نے ایک محل بھی 2منزلہ تعمیر کرایاجہاں تاج پوشی کی رسم اد اکی جاتی تھی۔ اس وقت قلعہ اپنی شان و شوکت کے ساتھ موجود تھا ۔ ریاست بہاولپور کا پاکستان سے الحاق ہونے کے بعد اور والئی ریاست بہاولپورعباسیہ خاندان کے آخری فرمانروا نواب سر صادق محمد خاں خامس عباسی مرحوم کی وفا ت کے بعد چولستان کے وارثوں اور حکمرانوں کی عدم توجہی اور سی ڈی اے کے منہ زور عملہ کی مبینہ نا اہلی کے باعث انتہائی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر تباہی کی جانب تیزی سے گامزن ہے ۔  زیر تبصرہ کتاب ’’ چولستان‘‘ احمد غزالی کی تالیف ہے۔ جس میں دریا کی کہانی، ہاکڑہ دریا کی کہانی، چولستان کی وجہ تسمیہ، طول و عرض، ٹوبھے اور کُنڈ، مٹی اور مزاج، صحرائی ہوا، راستے اور سفر کی روایت، پر اسرار روشنی، خواجہ فرید کی شاعری اور چولستان، سانپ اور لوک علاج، لال سہانرا نیشنل پارک، قومیں، چولستان کے روایتی زیور، رسم و رواج، آوازیں اور شگون، چولستانی دستکاریاں، مشہور مقامات، اکھان اور نامور صحرانشینوں کے تذکرے بیان کیے گے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے اور مصنف موصوف کی تمام تحقیقی وتصنیفی خدمات کو قبول فرمائے۔ آمین۔ (رفیق الرحمن)

  • 1166 #690

    مصنف : محمد حنیف ندوی

    مشاہدات : 17608

    چہرہ نبوت قرآن کے آئینے میں

    (بدھ 20 اکتوبر 2010ء) ناشر : علم و عرفان پبلشرز، لاہور

    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پربے شمارکتابیں لکھی جاچکی ہیں اورابھی یہ سلسلہ جاری ہے جوتاقیامت جاری رہے گا۔ان شاء اللہ ۔سیرت نگاروں نے متعدداورمتنوع اسالیب اختیارکیے ہیں ۔اس ضمن میں مولانا محمدحنیف ندوی رحمہ اللہ نے قرآن شریف کی روشنی میں سیرت مرتب کرنے کاکام شروع کیاتھایعنی قرآن حکیم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقوش سیرت کواجاگرکیاجائے’چہرہ نبوت‘اس کے نتیجے میں منصہ شہودپرآئی ۔تاہم افسوس مولانااس کام کومکمل نہ کرسکے۔اورمولانااسحاق بھٹی نے چندابواب کااضافہ کیا۔اس پرکام کی مزیدضرورت ہنوز باقی ہے تاہم جتناکام مولانانے کیاوہ لائق تحسین اورقابل قدرکاوش ہے ۔جس سے واضح ہوتاہے کہ قرآن مقدس میں بھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ موجودہے۔


     

  • 1167 #6321

    مصنف : عمران حسین چوہدری

    مشاہدات : 1125

    ڈاکٹر عبد القدیر خان

    (منگل 27 فروری 2018ء) ناشر : علم و عرفان پبلشرز، لاہور

    مالک ارض وسما نے جب انسان کو منصب خلافت دے کر زمین پر اتارا تواسے رہنمائی کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات سے بھی نوازا۔ شروع سے لے کر آج تک یہ دین‘ دین اسلام ہی ہے۔ اس کی تعلیمات کو روئے زمین پر پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمدﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو مبعوث فرمایا اور اس سب کو یہی فریضہ سونپا کہ وہ خالق ومخلوق کے ما بین عبودیت کا حقیقی رشتہ استوار کریں۔ انبیاء کے بعد چونکہ شریعت محمدی قیامت تک کے لیے تھی اس لیے نبیﷺ کے بعد امت محمدیہ کے علماء نے اس فریضے کی ترویج کی۔ ان عظیم شخصیات میں سے ایک ڈاکٹر عبد القدیر خان بھی ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص ڈاکٹر عبد القدیر خان کے حوالے سے ہی تصنیف کی گئی ہے کیونکہ وہ ملت اسلامیہ کی آنکھ کا تارا اور ہر مسلم کو اپنی جان سے پیارا ہے۔ پاکستانی قوم کی عظمت وغیرت جیتی جاگتی تصویر اور شاعر مشرق کے خواب کی تعبیر ہے۔ دشمنوں کے لیے سیل تند وتیز اور اپنوں کے لیے ایک جوئے نغمہ ریز ہے۔اس کتاب میں ڈاکٹر عبد القدیر خان کے عظیم کارناموں اور ان کی سوانح حیات کا تذکرہ ہے اور عوام کو یہ سبق یاد کروایا گیا ہے کہ ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں اور رہتی دنیا تک انہیں یاد رکھا جائے گا۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ ڈاکٹر عبد القدیر خان ‘‘ عمران حسین چوہدری کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 1168 #8073

    مصنف : سید قاسم محمود

    مشاہدات : 510

    ڈاکٹر محمد حمید اللہ رحمہ اللہ کی بہترین تحریریں

    (جمعہ 10 جنوری 2020ء) ناشر : بیکن بکس لاہور

    ڈاکٹر حمید اللہ ﷫ )9فروری 1908ء- 17 دسمبر 2002ء)  ایک بلند پایا عالم دین ، مایہ ناز محقق، دانشور اور مصنف تھے  جن کے قلم  سے علوم قرآنیہ ، سیرت نبویہ اور فقہ اسلام پر  195 وقیع کتابیں اور 937 کے قریب مقالات نکلے ۔ڈاکٹر صاحب قانون دان اور اسلامی دانشور تھے اور بین الاقوامی قوانین کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ تاریخ ،حدیث پر اعلٰی تحقیق، فرانسیسی میں ترجمہ قرآن اور مغرب کے قلب میں ترویج اسلام کا اہم فریضہ نبھانے پر آپ کو عالمگیر شہرت ملی۔ آپ  جامعہ عثمانیہ سے ایم۔اے، ایل ایل۔بی کی ڈگریاں حاصل کرنے کے  بعد  اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے لیے یورپ پہنچے۔ بون یونیورسٹی (جرمنی)  سے ڈی فل اور سوربون یونیورسٹی (پیرس)سے  ڈاکٹریٹ کی  ڈگری  حاصل کی ۔ ڈاکٹر صاحب کچھ عرصے تک جامعہ عثمانیہ حیدر آباد میں پروفیسررہے۔ یورپ جانے کے بعد جرمنی اور فرانس کی یونیورسٹیوں میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔ فرانس کے نیشنل سنٹر آف سائینٹیفک ریسرچ سے تقریباً بیس سال تک وابستہ رہے۔ علاوہ ازیں یورپ اور ایشیا کی کئی یونیورسٹیوں میں آپ کے توسیعی خطبات کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ڈاکٹر مرحوم  نے اپنی پوری زندگی تصنیف وتالیف کے کاموں کے لیے وقف کیے رکھی بالآخر 95 برس کی عمر پاکر  17؍دسمبر 2002ء کو فلوریڈا (امریکہ) میں  اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔ان کے سانحۂ ارتحال کے بعد اہل  دانش  نے ان کی خدمت میں گلہائے عقیدت نچھاور کیے اور موصوف کی زندگی  کی مختلف جہتوں پر اپنی اپنی بساط کےمطابق دادِ تحقیقی دی ۔ بعض علمی اداروں  کی طرف سے  ان کی خدمات کےاعتراف میں  رسائل وجرائد کے خاص نمبر بھی شائع ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ مرحوم  کو جوارِ رحمت میں جگہ دے ۔(آمین) اسلامی علوم وفنون کاشاید ہی کوئی گوشہ ایسا رہا ہوگا جس میں مرحوم  ڈاکٹر صاحب نےانتہائی فاضلانہ، عالمانہ اور انتہائی عمیق تحقیق کےنتائج دنیائے اسلام کے  سامنے پیش نہ کیے ہوں۔ زیر نظر کتاب’’ ڈاکٹر محمد حمید اللہ ﷫ کی بہترین تحریریں‘‘ معروف مصنف جناب سید قاسم محمود ﷫ کی کاوش ہے ۔یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے ۔پہلے حصے کا عنوان’’  تذکار حمیداللہ  ‘‘  ہے جس میں   ڈاکٹر  محمد حمید اللہ مرحوم کے متعلق  رشید شکیب ، مولانا محمد صلاح الدین ، ڈاکٹر محمود احمد غازی ، شاہ بلیغ الدین کی  اہم تحریریں شامل ہیں ۔ اور دوسرا حصہ  تاریخ قرآن،حدیث،فقہ،عقائد وعبادات،مملکت  اور نظم ونسق،نظام عدلیہ،نظام تعلیم، نظام دفاع  وغیرہ کے متعلق  ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی منتخب تحریروں پر مشتمل ہے ۔(م۔ا)

  • 1169 #4396

    مصنف : محمد لقمان سلفی

    مشاہدات : 2743

    کاروان حیات خود نوشت سوانح علامہ ڈاکٹر محمد لقمان سلفی

    (جمعہ 15 اپریل 2016ء) ناشر : دار الداعی للنشر و التوزیع ریاض

    ڈاکٹر لقمان سلفی ﷾ 1943ءکو بھارت میں پیدا ہوئے او ردار العلوم  احمد سلفیہ دربھگنہ ،بہار میں  دینی تعلیم حاصل کی  اس دوران ہی آپ کا داخلہ مدینہ یونیورسٹی  میں ہوگیا تو باقی تعلیم آپ نے مدینہ یونیورسٹی میں  حاصل کی۔ مدینہ یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرکے آپ مفتی دیار سعودیہ فضیلۃ الشیخ ابن باز ﷫کے سیکرٹری کے طور پر کام کرتے رہے ۔بلکہ ان کے معتمد خاص بنے۔ علماء کرام عموماً ان کی وساطت سے شیخ مرحوم سے رابطہ کیاکرتے تھے۔ شیخ بن باز کی خصوصی سفارش بلکہ حکم پر انہیں سعودی شہریت دی گئی اب ماشاء اللہ ان کے بیٹے بھی ڈاکٹر یٹ کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں ۔ماشاء اللہ بڑی مطمئن زندگی گزار رہے ہیں ۔ شیخ لقمان صاحب کی بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ منہج اسلاف اہل الحدیث کے بہت بڑے وکیل ہیں۔موصوف  نے   عربی اردو زبان  میں کئی کتب تصنیف کیں ۔تفسیر ’’تیسیر الرحمن لبیان القرآن ‘‘آپ  ہی کی   تصنیف ہے۔اور آپ سرزمینِ ہند کے عظیم ادارہ جامعہ امام ابن تیمیہ، مدینۃالسلام، بہار کے  مؤسس و رئیس بھی    ہیں۔31؍ جنوری 2009ءجامعہ امام ابن تیمیہ کے اعلیٰ تعلیمی ادارے المعہد العالی للتخصص فی التدریس والتربیۃکے افتتاحی پروگرام میں جامعہ سلفیہ بنارس کے رئیس، اُستاذ الاساتذہ علامہ ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری﷫  اور شیخ حفیظ الرحمن اعظمی (اُستاذ جامعہ دارالسلام، عمر آباد) کو بحیثیت ِمہمانِ خصوصی مدعو کیا گیا ۔تو ڈاکٹر مقتدی حسن ازہر ی ﷫ اس وقت جامعہ ابن تیمیہ  کی نشاطات اور ڈاکٹر محمد لقمان سلفی ﷾  کی خدمات کو دیکھ عربی  زبان تحریری طور پر اپنے  تاثرات کااظہار ان الفاظ میں کیا :’’''31؍ جنوری 2009ء کو جامعہ امام ابن تیمیہ، مدینۃالسلام میں المعہد العالی للتخصص فی التدریس والتربیۃ کی تقریب افتتاح کی مناسبت سے جامعہ کے مؤسس و رئیس عزت مآب ڈاکٹر محمد لقمان سلفی ﷾ کی دعوت پر راقم الحروف کو اس کی زیارت کا موقع ملا۔ میں محترم ڈاکٹر صاحب کابے حد شکر گزار ہوں کہ اُنہوں نے مجھے جامعہ کی زیارت کی دعوت دی۔ اس زیارت نے میری ان خواہشات اور آرزوؤں کو عملی جامہ پہنا دیا جو میرے دل میں اس وقت سے موجزن تھیں جب میں نے بغیر دیکھے ہی جامعہ کے بارے میں لکھا تھا۔ لیکن آج جب کہ میں نے اپنی آنکھوں سے جامعہ کے کامیاب تعلیمی منصوبوں اوریہاں کے اساتذہ و معلّمات، طلبہ و طالبات کی سرگرمیوں کا نظارہ کیا تو مجھے ایک عجیب سی خوشی کا احساس ہوا، اوراس مردِ مجاہد کی ہمت کی داد دینی پڑی جس نے نہ صرف اپنی زندگی جامعہ کے لئے وقف کررکھی ہے، بلکہ اس کی تعمیر و توسیع، اساتذہ کی ہمت افزائی اور طلبہ کی رہنمائی میں اپنا سب کچھ قربان کردیا ہے۔جامعہ امام ابن تیمیہ میری نظر میں ایک عظیم علمی و دعوتی تحریک ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بابرکت تہذیبی مشن ہے جو نہ صرف صوبہ بہار کی تعلیمی و تربیتی ضرورتوں کو پورا کررہا ہے، بلکہ اس کی روشنی پورے اُفقِ ہند پر پھیلتی جارہی ہے۔ میں اس جامعہ کے مؤسس و رئیس ڈاکٹر محمد لقمان سلفی ﷾ کو بے تکلف او رپُرخلوص مبارکباد پیش کرتا ہوں ، جنہوں نے یہ عظیم علمی قلعہ قائم کیا۔ فرزندانِ ملت کو صحیح علم و عقیدہ کے حصول کے لئے یہ خوبصورت فضا عطا کی اور باحثین و دعاة کو علم اور دین کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے پر اُبھارا۔‘‘ڈاکٹر لقمان صاحب نے  جامعہ ابن تیمیہ کے علاوہ بہار میں ’’مرکز ابن باز برائے دراسات اسلامیہ‘‘  قائم کیا  جس کی نگرانی میں یکصد سے زائد عربی اردو  اور انگریزی  زبان میں   نہایت وقیع علمی  کتابیں شائع ہوچکی  ہیں۔آپ نے مختلف کانفرنسوں میں شرکت کے لیے متعدد ممالک  کے سفر بھی کیے ہیں۔پاکستان میں بھی دومرتبہ تشریف لائے ۔ایک مرتبہ سعودیہ حکومت کی  طرف سے   قادیانیوں کی سرگرمیوں کاجائزہ لینے کے لیے  مولانا منظور چنیوٹی  کے تعاون سے  ربوہ کا دورہ کیا۔اور تقریباً دس سال قبل   بھارت میں قائم اپنے ادراے جامعہ ابن تیمیہ  کی لائبریری   کے لیے کتب خریدنے کی غرض سے تشریف لائے  اور  استاذی المکرم مولانا حافظ عبد الرحمن مدنی ﷾(مدیر اعلیٰ ماہنامہ محدث ،لاہور) کےپاس  کئی  دن قیام کیا اور  لاہور ،کراچی،فیصل آباد کے اہم دینی  اداروں کا وزٹ کیا اور مختلف علماء  سے  ملاقات بھی کی۔موصوف کی پوری زندگی دین کی نشرواشاعت اور تعلیم وتربیت میں  گزری ہے۔ زیرتبصرہ کتاب ’’کاروان  حیات‘‘ علامہ ڈاکٹر  محمد لقمان سلفی ﷾ کی خودنوشت سوانح حیات ہے۔ موصوف نے اس کتاب میں اپنی پیدائش سے  لے کر ابتدائی تعلیم  اور پھر سعودی عرب میں  اعلی ٰ تعلیم  اوراپنی تمام دعوتی ،تعلیمی وتدریسی  او رتحقیقی  وتصنیفی خدمات  کامکمل تذکرہ کیاہے ۔اللہ تعالیٰ موصوف کی تمام مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت سےنوازے ۔(آمین)(م۔ا)

  • 1170 #6462

    مصنف : سید ابو الحسن علی ندوی

    مشاہدات : 1803

    کاروان زندگی

    (منگل 31 جولائی 2018ء) ناشر : مجلس نشریات اسلامی کراچی

    سیدابو الحسن علی حسنی ندوی 24 مشہور بہ علی میاں ؍نومبر 1914ء کو رائے بریلی،بھارت میں ایک علمی خاندان میں پیدہوئے ۔ ابتدائی تعلیم اپنے ہی وطن تکیہ، رائے بریلی میں حاصل کی۔ علی میاں نے مزید اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے لکھنؤ میں واقع اسلامی درسگاہ دار العلوم ندوۃ العلماء کا رخ کیا۔اور وہاں سے علوم اسلامی میں سند فضیلت حاصل کی ۔ علی میاں نے عربی اور اردو میں پچاس سے زائد متعدد کتابیں تصنیف کی ہیں ۔ یہ تصانیف تاریخ، الہیات، سوانح موضوعات پر مشتمل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سمیناوروں میں پیش کردہ ہزاروں مضامین مقالات اورتقاریر بھی موجود ہیں۔علی میاں کی ایک انتہائی مشہور عربی تصنیف’’ ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمين ‘‘ہے جس کے متعدد زبانوں میں تراجم ہوئے، اردو میں ا س کا ترجمہ’’ انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔آپ کی تصانیف میں ایک ضخیم تصنیف ’’ تاریخ دعوت وعزیمت‘‘ ہے جو کہ آٹھ جلدوں پر مشتمل ہے۔ موصوف بھر پورعلمی زندگی گزار کر 31؍1999ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔ان کی وفات پر پاک وہند کے کئی رسائل وجرائد میں ان کی حیات وخدمات کےمتعلق مضامین شائع ہوئے اور متعدد مجلات نےان کی حیات وخدمات پر مشتمل ضخیم خاص نمبر بھی شائع کیے اور کئی اصحاب قلم نے ان کی سیرت وسوانح ، خدمات پر مستقل کتب بھی تصنیف کیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ کاروانِ زندگی ‘‘مولانا سید ابو الحسن علی ندوی﷫ کی خودنوشت سرگزشت ِ حیا ت ہے۔ اس میں سیدابو الحسن ندوی کی ذاتی زندگی کےمشاہدات وتجربات، احساسات، وتاثرات اور ہندوستان اور عالم ِاسلام کے واقعات وحوادث اور تحریکات وشخصیات کے مطالعہ کا ماحصل اس طرح گھل مل گیا ہے کہ وہ ایک دلچسپ وسبق آموز آپ بیتی او رایک مؤرخانہ وحقیقت پسندانہ جگ بیتی بن گئی ہےجس میں چودھویں صدی ہجری اوربیسویں صدی عیسوی کی تاریخ وسرگزشت کا ایک اہم باب محفوظ ہوگیا ہے جس سے مؤرخین اور دینی وعلمی کام کرنے والے حضرات رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔ کتاب کے پیش لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب انہوں نے اپنی وفات سے سولہ سال قبل 1983ء سے میں مکمل کرلی تھی۔(م۔ا)

< 1 2 ... 114 115 116 117 118 119 120 121 122 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1323
  • اس ہفتے کے قارئین 5187
  • اس ماہ کے قارئین 43581
  • کل قارئین49300663

موضوعاتی فہرست