دکھائیں کتب
  • 1131 پتھروں کی بارش (قصہ سیدنا لوطؑ) (بدھ 13 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:2556

    سیدنا لوط ﷤ اللہ تعالیٰ کے جلیل القد ر نبی تھی انہوں نے زندگی بھر اپنی قوم کو اللہ کی واحدانیت کی دعوت دی۔ لیکن ان کے قوم نےان کی ایک نہ مانی اور سرکشی پراترآئی۔جب حضرت لوط ﷤کی قوم کی سرکشی جب حد سے بڑھ گئی اور اس میں دن بدن اضافہ ہوتا گیا تو انہوں نے اللہ پاک سے التجا کی کہ وہ فسادیوں کے خلاف انکی مدد فرمائے۔ انکی دعا قبول ہوئی اور آپ کی ناراضگی کی وجہ سے قوم پر اللہ کا عذاب نازل ہوا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے فرشتے اس قوم کے لئے عذاب الہٰی لیکر پہنچے اور انسانی شکل میں حضرت لوط ﷤کے پاس آئے۔ قرآن مجید نےاس واقعہ کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔"آپ اپنے گھر والوں کو لیکر رات کے آخری حصے میں یہاں سے تشریف لے جائیں اور جب قوم پر عذاب نازل ہو تو انکی آواز سن کر تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔ سوائے تمہاری عورت کے اسے بھی وہی پہنچنا ہے جو انہیں پہنچے کا۔ ان کے (عذاب کے) وعدے کا وقت صبح ہے اور کیا صبح کچھ دور ہے؟" (سورۂ ہود: ۸۱)حضرت حضرت لوط ﷤ جب شہر سے نکلے تو ان کے ساتھ انکی بیٹیاں اور بیوی بھی تھی اورجب وہ شہر سے نکل گئے اور سورج طلوع ہوا تو اللہ کا عذاب بھی آ گیا جسے ٹال دینا کسی کے بس میں نہیں تھا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:" تو جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس (بستی) کو (الٹ کر) نیچے اوپر کر دیا۔ اور ان پر پتھر کے تہ بہ تہ کنکر برسائے جن پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کئے ہوئے تھے اور وہ ظالموں سے کچھ دور نہیں۔"(سورۂ ہود: 82،83) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان بستیوں کو اسطرح الٹ دیا کہ انکا اوپر والا حصہ نیچے ہو گیا، پھر مسلسل پتھروں کی...

  • 1132 پرانی لاش (جمعرات 01 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:1718

    قرآن مجید کی دوسورتوں میں سیدنا ادریس    کا ذکر ہے۔حضرت ادریس کی شخصیت ، زمانے اور وطن کے بارے میں مورخین میں اختلاف ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ آپ آدم اور نوح کے درمیانی زمانے میں پیدا ہوئے اور بابل آپ کا وطن تھا۔ ابن مسعود اور ابن عباس کے نزدیک الیاس اور ادریس  ایک ہی شخصیت کے دو نام ہیں۔ "صحیح بخاری کتاب الانبیا" صحیح بخاری ہی کی ایک روایت کے مطابق جب آنحضرت ﷺ کو معراج ہوئی تو چوتھے آسمان پر آپ نے حضرت ادریس سے ملاقات فرمائی۔حضرت آدم  کے بعد آپ پہلے نبی تھے  انہوں نے ہی سب سے پہلے سینا اور لکھنا شروع کیا ۔اور سید ناادریس   پہلے   انسان ہیں جنہوں نے  ظلم کے خلاف جہاد کیا  اور  ظالموں کو شکست دی۔زیر تبصرہ کتاب’’ پرانی کتاب‘‘ محترم جناب  اشتیاق احمد صاحب کی کاوش ہے  جس میں ا نہوں نے  سید ناادریس   کی  سیرت کو  ایک  عام فہم انداز میں کہانی  اور مکالمے کی صورت میں پیش کیا ہے  اللہ تعالیٰ ان  کی سلسلہ  قصص الانبیاء کی  اس  حسین  کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • 1133 پرانی کتاب (جمعرات 01 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:2002

    سیدنا یعقوب   کی اولاد بنی اسرائیل کو مصر میں رہتے ہوئے کافی مدت گزر چکی تھی، چوں کہ باہر سے آئے ہوئے تھے، اس لیے مصری انہیں اچھی نظر سے نہیں دیکھتے تھے۔اس زمانے میں مصر کا ہر بادشاہ فرعون کہلاتا تھا، حضرت یوسف  سولہویں فرعون کے زمانے میں مصر تشریف لائے۔سیدنا  موسیٰ  کے زمانے کا انیسواں فرعون تھا۔ اس کا نام منفتاح بن ریمسس دوم تھا۔ سیدنا موسیٰ  خدا کےبرگزیدہ پیغمبروں میں سے ایک تھے. آپ کے بھائی حضرت ہارون  بھی اللہ کے برگزیدہ نبیوں میں سے ایک ہیں۔تمام پیغمبر کی نسبت قرآن میں حضرت موسیٰ   کا واقعہ زیادہ آیا ہے۔ تیس سے زیادہ سورتوں میں موسیٰ   و فرعون اور بنی اسرائیل کے واقعہ کی طرف سومرتبہ سے زیادہ اشارہ ہوا ہے۔فرعون نے ایک خواب دیکھا جس کی تعبیر یہ بتائی گئی کہ بنی اسرائیل کا ایک لڑکا تیری حکومت کے زوال کا باعث ہوگا اس پر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہو اس قتل کردیا جائے۔اسی زمانے میں حضرت موسی  عمران کے گھرمیں پیدا ہوائے۔ ماں باپ کو سخت پریشانی تھی اور وہ سمجھتے تھے اگر کسی کو پتا چل گیا تو اس بچے کی خیر نہیں۔ کچھ مدت تک تو ماں باپ نے اس خبر کو چھپایا، لیکن مارے پریشان کے ان کا حال برا ہورہا تھا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے آپ کی والدہ کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ اس معصوم بچے کو صندوق میں ڈال کر دریائے نیل میں بہادو۔حضرت موسیٰ  کی والدہ نے ایسا ہی کیا اور اپنی بڑی لڑکی کو بھیجا کہ وہ صندوق کے ساتھ ساتھ کنارے پر جائے اور دیکھے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اس کی حفاظت کرتا ہے۔جب یہ صندوق تیرتا ہوا...

  • 1134 پس دیوار زنداں (ہفتہ 27 فروری 2016ء)

    مشاہدات:2654

    آغا شورش کاشمیری پاکستان کےمشہور و معروف شاعر،صحافی، سیاستدان اوربلند پایہ خطیب تھے۔آغا شورش کاشمیری 14 اگست 1917ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام عبدالکریم تھا، لیکن آغا شورش کاشمیری کے نام سے مشہور ہوئے۔ آغا شورش کاشمیری ایک مجموعہ صفات شخصیت تھے۔ صحافت، شعروادب، خطابت وسیاست ان چاروں شعبوں کے وہ شہسوار تھے۔ آغا شورش نے ایک متوسط گھرانہ میں جنم لیا اور بمشکل میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ آپکی سیاسی علمی ادبی تربیت کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ گھر میں ’’زمیندار‘‘ اخبار آتا اور مسجد شہید گنج کی تحریک نصف نہار پر تھی عبدالکریم اسکول سے فارغ ہوئے تو تحریک شہید گنج کا رخ کیا اور مولانا ظفر علی خان سے قربت میسر آ گئی۔ عبدالکریم پہلے ہی جوش و جذبہ کا سیل رواں تھے، بغاوت و آزادی کا ہدی خواں تھے، شمشیر برہاں تھے، آپ تخلص الفت کرتے اور زمانے میں شورش برپا کر رکھی تھی لہٰذا حسب مزاج الفت کو شورش کا نام دینا مناسب جانا بس مولانا ظفر علی خان تھے۔ تحریک شہید گنج تھی اور شورش کا جذبہ تھا کچھ کر گزرنے کا جنوں تھا۔ مولانا ظفر علی خان کی سیاست، صحافت، خطابت اور عشق خاتم النبیؐ آغا شورش کے مزاج میں سرایت کرتا چلا گیا، خون میں حلاوت کرتا چلا گیا۔ اب شورش بھی برصغیر کا منفرد خطیب مانا جانے لگے۔ سارا ہندوستان انکے نام سے شناسا ہوا۔ آغا صاحب کا ایک سیاسی قد کاٹھ بن گیا جس دوران مسلم لیگ علیحدہ وطن کیلئے کوشاں تھی اس وقت آغا شورش کاشمیری مجلس احرار کے چنیدہ رہنمائوں میں شامل ہو چکے تھے۔ مجلس کے ایک روزنامہ (آزاد) کے ایڈیٹر بن گئے مگر قیام پاکستان کے ب...

  • 1135 پوری دنیا ایک طرف (جمعرات 08 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:1600

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان  میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں سے بھر پور ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا  لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب "پوری دنیا ایک طرف" محترم اشتیاق احمدصاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے اسی کمی کو پورا کرتے ہوئےایک منفرد اور کہانی کے انداز میں کھانا کھانے کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ کو بیان کیا ہے۔یہ کتاب پاکستان کے معروف  عالمی طباعتی ادارے  مکتبہ دارالسلام کی طرف سے شروع کئے گئے اجالوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔اس کتاب میں نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ  کی قدر وقیمت اور اہمیت  اور شادی کے موقعہ پر ہونے والی  برائیوں کو براءت اور شادی کے ایک واقعہ کی روشنی میں کچھ اس ا...

  • 1136 پہاڑی کے چراغ (پیر 18 اپریل 2016ء)

    مشاہدات:1624

    اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے انبیاء کرام و رسل عظام کی ایک برزگزیدہ جماعت کو مبعوث فرمایا۔ اس مقدس و مطہر جماعت کو کچھ ایسے حواری اور اصحاب بھی عنائت کیے جو انبیاء کرام کی تصدیق و حمایت کرتے۔ اللہ رب العزت نے سید الاوّلین و الآخرین حضرت محمد ﷺ کو صحابہ کرام کی ایک ایسی جماعت عطا فرمائی جن کے بارے میں اللہ کی یہ مشیت ہوئی کہ وہ خاتم النبیین سے براہ راست فیض حاصل کریں اور رسول اللہ ﷺ خود ان کا تزکیہ نفس کرتے ہوئے کتاب و حکمت کی تعلیم دیں۔ اور یہ وہ مقدس نفوس تھے جن کا ذکر قرآن مجید اور دیگر آسمانی کتب میں بھی اللہ رب العزت نے فرمایا اورنبی کریم ﷺ نے" خیر امتی قرنی" کے مقدس کلمات سے نوازہ۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ ایک مسلمان کامیابی اور فتح و نصرت کے لیے کبھی ظاہری وسائل پر اعتماد نہیں کرتا بلکہ اسباب کی بجائے اسباب کے رب پر اعتماد کرتے  ہوئے آتش نمرود میں کود کر تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن جاتا ہے۔ دین حنیف کی سر بلندی کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں کچھ ایسے افراد کو پیدا کیا کہ حق گوئی، بے باکی جن کا خاصہ تھی جو جابر و ظالم حکمران کے سامنے پہاڑ کی مانند ثابت ہوئے اور موت سے آنکھیں دو چار کرتے ہوئے تاریخ اسلام کی اوراق کو ہمیشہ کے لیے منور کر دیا۔ زیر تبصرہ کتاب"پہاڑی کے چراغ" فاضل مصنف آباد شاہ پوری کی قابل داد تصنیف ہے۔ یہ کتاب محض سیرت  اور واقعہ نگاری کا مرقع نہیں ہے بلکہ اس سے ہٹ کر اپنے دامن میں فکر و نظر کی تربیت اور اخلاص و اصلاح کا سامان بھی رکھتی ہے اور حق کی راہ میں جدوجہد کرنے والوں کے...

  • 1137 پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری دعائیں (ہفتہ 26 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:4539

    شریعتِ اسلامیہ میں دعا کو اایک خاص مقام حاصل ہے ۔او رتمام شرائع ومذاہب میں بھی دعا کا تصور موجود رہا ہے مگر موجود ہ شریعت میں اسے مستقل عبادت کادرجہ حاصل ہے ۔صرف دعا ہی میں ایسی قوت ہے کہ جو تقدیر کو بدل سکتی ہے ۔دعا ایک ایسی عبادت ہے جو انسا ن ہر لمحہ کرسکتا ہے اور اپنے خالق ومالق اللہ رب العزت سے اپنی حاجات پوری کرواسکتا ہے۔مگر یہ یاد رہے   انسان کی دعا اسے تب ہی فائدہ دیتی ہے جب وہ دعا کرتے وقت دعا کےآداب وشرائط کوبھی ملحوظ رکھے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ پیارے رسول کی پیاری دعائیں ‘‘ برصغیر پاک وہند کے ممتاز جید عالم دین شارح نسائی مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی ﷫ کی مرتب شدہ   نماز مسنون اور رسول اللہ ﷺ کی مبارک دعاؤں کا مختصر مجموعہ ہے ۔مولانا موصوف نے اس مجموعہ کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ اس میں تقریباً ہر نوع کی ادعیہ مسنونہ آگئی ہیں۔یہ کتاب اپنی افادیت کے باعث عوام الناس میں انتہائی مقبول ہوئی ۔ چند سالوں میں اس کی اشاعت ہزاروں تک پہنچ گئی ۔ کئی کاروباری ادارے اسے   ایصال ِثواب کی خاطر فری بھی تقسیم کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ مولانا کی تدریسی ودعوتی ، تصنیفی وتحقیقی اور صحافتی خدمات کو قبول فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • 1138 پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری وصیتیں (اتوار 30 اگست 2015ء)

    مشاہدات:3169

    ویسے تو نبی کریم ﷺ کی تمام باتیں اور وصیتیں اپنے موقع محل میں نہایت ہی اہمیت کی حامل ہیں او رآ پ کے ارشادات وفرمودات وہ مشعل ہدایت ہیں جن کی روشنی میں انسان کو اپنی فلاح وبہبود کی منزلیں نظر آتی ہیں ۔ آپ کی ہر پند ونصیحت میں اسرار وحکم کے سمندر موجزن ہیں۔ آپ کاکوئی بھی ارشاد حکمت ومصلحت سے خالی نہیں۔ اور کیوں نہ ہو جب کہ آپ ﷺ کی مقدس زبان وحی کی ترجمان ہے ۔ آپ کی زبان مبارک سے وہی باتیں نکلتی ہیں جو اللہ چاہتا ہے۔اس لیے آپﷺ کا ہر قول اور فرمان انسان کےلیے متاع دنیا وآخرت ہے ۔نبی کریم ﷺ کسی تجربہ او رمشاورت کے ساتھ نہیں بلکہ وحیِ الٰہی کی بنیاد پر مخاطبین کووصیت کیا کرتے تھے ۔یہ وصیتیں صرف مخصوص افراد ومخاطبین ہی کے لیے نہیں بیان کی گئیں بلکہ ان کےذریعے سے پوری امت کو خطاب کیا گیا ہے۔ان وصیتوں میں مخاطبین کی دنیا وآخرت دونوں کی سربلندی اور فلاح ونجات کاسامان موجود ہے ۔جو یقیناً تاقیامت آنے والوں کےلیے سر چشمہ ہدایت ونجات ہے ۔اور ان وصیتوں کی ایک نمایاں خوبی الفاظ میں اختصار اورمعانی ومطالب کی وسعت وجامعیت ہے جو نبی کریم ﷺ کے معجزۂ الٰہیہ’’جوامع الکلم‘‘ کا نتیجہ ہے۔ زیر نظر کتاب ’’پیارے رسول ﷺکی پیاری وصیتیں‘‘ محدث العصر علامہ ناصرالدین البانی ﷫ کی کتب سے ماخوذ شدہ ہیں ۔ اس کتاب میں احادیث وسنن سے وصایا نبویہ پر مشتمل احادیث کو جمع کیا گیا ہے۔ان نبوی وصیتوں کا سب سے امتیازی پہلو یہ ہے کہ ان میں اختصار کے ساتھ انتہائی مشفقانہ انداز میں امت مسلمہ کےلیے دنیوی واُخروی فوز وفلاح کے کامیاب اصول اور زریں قوانی...

  • 1139 پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دن رات (منگل 02 فروری 2016ء)

    مشاہدات:1232

    رسول اکرمﷺ کی مبارک زندگی ہر شعبے سے منسلک افراد کے لیے اسوۂ کامل کی حیثیت رکھتی ہے۔ کوئی مذہبی پیشوا، سیاسی لیڈر، کسی نظریے کا بانی حتی کہ سابقہ انبیائے کرام﷩ کےماننے والے بھی اپنے پیغمبروں کی زندگیوں کو ہرشعبے سے منسلک افراد کے لیے نمونہ کامل پیش نہیں کرسکتے۔ یہ یگانہ اعزاز و امتیاز صرف رسالت مآبﷺ ہی کو حاصل ہے۔ نبی کریمﷺ کا اٹھنا، بیٹھنا، چلنا پھرنا، کھانا، پینا، سونا، جاگنا اور 24 گھنٹے میں دن رات کے معمولات زندگی ہمارے لیے اسو ۂ حسنہ ہیں۔ محترم جناب حافظ عبد الرحمن صدیقی صاحب آف سیالکوٹ نے زیرتبصرہ کتاب ’’پیارے رسولﷺ کے دن رات‘‘ میں پیغمبر رحمت کی حیات مبارکہ کے معمولات و ملفوظات طیبا ت اور بابرکت لمحات کو کتب احادیث کے نہایت مستند خاصا عمدہ مواد پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔ جو زندگی کے ہر پہلوپر راہنما تحریر ہے۔ اس کتاب میں اس بات کی کمال وضاحت ہے کہ اخلاق و کردار ،عمدہ گفتار ،خطاب وبیان، حسن معاشرت ومعیشت میں پھر عہد طفولیت ہو یا عالم شباب و شیب، صحت وہو یا مرض، مشغولیت ہو یا فراغت، دن کے لمحات ہوں یا رات کی تنہائیاں، آقا ہویا غلام، حاکم ہو یا محکوم، زمانہ امن ہو، جہاد وقتال، دولت مند ہو یا فقیر الغرض زندگی کےہرشعبہ میں آپﷺ کی ذات بابرکاتﷺ ہمارے لیے بہترین وبے نظیرنمونہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور ہمیں زندگی کے ہرلمحہ میں نبی کریمﷺکی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ (آمین) (م۔ا)

  • 1140 پیارے نبی کی پیاری زندگی (اتوار 21 فروری 2010ء)

    مشاہدات:19457

    دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں میں سے اکمل ترین انسان اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بنایا ہے-اسی لیے ان کے ہر عمل اور کام کو امت کے لیے نمونہ بنایا ہے-سیرت کے موضوع پر اس کتاب میں بچوں کو سیرت کے حوالے سے بڑے اعلی انداز سے سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے اور ہر بات بچوں کے سوالات اور بڑوں کے جوابات کے انداز سے سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے-اسلوب بیان بالکل عام فہم اور سادہ ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے لے کر دور نبوت کے تمام واقعات جیسے عرب کے ماحول کی عکاسی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا واقعہ،نکاح کا واقعہ،دعوت و تبلیغ میں آنے والی رکاوٹیں،غزوات حتی کہ سیرت کے تمام پہلوؤں کو بڑے اچھے انداز سے بیان کیا ہے-بچوں کی صحیح نہج پر تربیت کے لیے بہترین کتاب ہے جس کا ہر گھر میں ہونا انتہائی ضروری ہے-

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 2012
  • اس ہفتے کے قارئین: 6397
  • اس ماہ کے قارئین: 20368
  • کل قارئین : 48371127

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں