کل کتب 1215

دکھائیں
کتب
  • 1131 #4195

    مصنف : محمد الیاس خان

    مشاہدات : 1299

    پاکستان کا جوہری پروگرام قومی سلامتی کے تناظر میں

    (جمعرات 04 فروری 2016ء) ناشر : انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز، اسلام آباد

    قوموں کے عروج و زوال کی داستان اس حقیقت پر شاہد ہے کہ قومی دفاع اور ملکی سلامتی سے غفلت برتنے والی اقوام با لآخر اپنی آزادی اور استقلال کو کھو دیتی ہیں اور اغیار کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ لی جاتی ہیں۔ پاکستان کا مسئلہ یہ رہا ہے کہ برصغیر کے جذبہ ایمانی سے سرشار مسلمانوں کی ایک بھرپور تحریک اور لازوال شہادتوں اور قربانیوں کے نتیجہ میں ہم جس عظیم ملک کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، پچھلے تقریباً پچاس(50) سالوں کے دوران اس کی بقاء اور سلامتی کے تقاضوں کو کما حقہ سمجھنے، ان کے حصول کے لیے مناسب پالیسیوں کی تشکیل اور پھر ہم ان پر خلوص نیت سے عمل پیرا ہونے میں مسلسل ناکام چلے آ رہے ہیں۔ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں پاکستان کی سلامتی کو گوناگوں خطرات کاسامنا ہے۔ ایک طرف ہم بھارت کے جارحانہ عزائم کا نشانہ ہیں جس نے کبھی پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور دوسری طرف کرّاہ ارض پر اپنی بالادستی کے قیام کی خواہشمند مغربی اقوام کے خطرناک ارادے ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کو"خطرہ" اور"دہشت گرد" بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اور یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ان"دہشت گردوں" کی ہتھیاروں تک رسائی مستقبل میں انسانیت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"پاکستان کا جوہری پروگرام قومی سلامتی کے تناظر میں" محمد الیاس خان کی نہایت فکر انگیز تصنیف ہے۔ جس میں ہندو مسلم نظریاتی تصادم، صہونی عزائم، پاکستان اور بھارت کے جوہری پروگرام اور دیگر اہم موضوعات کو موصوف زیر بحث لائے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں کو شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین(عمیر)

  • 1132 #4002

    مصنف : پروفیسر محمد عثمان

    مشاہدات : 3382

    پاکستان کی سیاسی جماعتیں

    (جمعہ 29 جنوری 2016ء) ناشر : سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور

    دنیا میں بہت سے ممالک ایسے ہوں گے جہاں صرف دو یا گنتی کی تین، چار سیاسی جماعتیں ہوں گی لیکن پاکستان میں ان جماعتوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔پاکستان ایک کثیر سیاسی جماعتیں رکھنے والا ملک ہے، جن کی تعداد اڑھائی سو کے قریب ہے۔ان میں سے کچھ مذہبی اور کچھ لسانی جماعتیں بھی ہیں اور بعض جماعتیں ایسی بھی ہیں جن کا نام کے سوا کوئی عملی وجود نہیں ہے۔ان میں سے ہر جماعت کا اپنا منشور اور آئین ہے جس کے مطابق وہ اپنی سیاسی زندگی گزار رہی ہے اور انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔پاکستان کی سب سے پہلی سیاسی جماعت مسلم لیگ تھی جس کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔اس کے بعد بے شمار جماعتیں وجود میں آتی گئیں۔ زیر تبصرہ کتاب" پاکستان کی سیاسی جماعتیں" محترم پروفیسر محمد عثمان اور مسعود اشعر صاحبان  کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے پاکستان کی 16  بڑی سیاسی جماعتوں  کے پروگرامز اور ان کے منشور کو بعینہ یہاں جمع کردیا ہے اور اس میں کسی قسم کا ردو بدل نہیں کیا تاکہ ہر کوئی ان جماعتوں کے منشور سے آگاہی حاصل کر سکے۔یہ کتاب سیاسی جماعتوں کے حوالے سے ایک مفید ترین کتاب ہے اور اپنے موضوع پر مصدر کی حیثیت رکھتی ہے۔سیاست کے طالب علموں کو اس کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔(راسخ)

  • 1133 #6080

    مصنف : عزیز جاوید

    مشاہدات : 1010

    پاکستان کی نامور خواتین

    (منگل 14 نومبر 2017ء) ناشر : دیبا پبلیکیشنز پشاور

    برصغیر کے مسلمانوں نے حصول پاکستان کی جد و جہد میں جس ضبط و نظم، خلوص، ایثار اور قربانی کا عملی مظاہرہ کیاہے وہ یقینا ہماری تاریخ کا ایک ایسا درخشندہ باب ہے جو ےنے والی نسلوں کے لئے مشعلے راہ کا کام دیتا رہے گا۔ یہ تریخی ورثہ ایک ایسا نادر سرمایہ ہےجس کی تانباکی ہر زمانے میں روشنی کے مینار کا کام دے گی۔ اس سرمائے کا تحفظ ہمارا قومی فریضہ ہے۔اگرچہ تحریک پاکستان پر مختلف زاویہ ہائے نظر سے کتابیں لکھی جا چکی ہیں لیکن ان نامور خواتین کے حالات ابھی تک زیور طبع سے آراستہ نہیں ہو سکے جنہوں نے تحریک آزادی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاریخی حقائق اس امر کے متقاضی تھے کہ قوم کی اُن مایہ ناز خواتین کی جدو جہد آزادی اور سماجی وملّی خدمات کو ایک جامع اور مبسوط کتاب کی شکل میں محفوظ کر کے تاریخی ذمہ داریوں کو پورا کیا جائے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ پاکستان کی نامور خواتین‘‘ عزیز جاوید کی ہے جس میں کہ قوم کی اُن مایہ ناز خواتین کی جدو جہد آزادی اور سماجی وملّی خدمات کو ایک جامع اور مبسوط کتاب کی شکل میں محفوظ کر کے تاریخی ذمہ داریوں کو پورا کیا گیا ہے۔اس کتاب کا مطالعہ یقینا نئی پود کے لئے فکر و نظر کے نئے زاویے پیدا کرنے میں مدد دے گا۔ ہم مصنف اور دیگر ساتھیوں کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے ۔آمین۔ طالب دعا: پ،ر،ر

  • 1134 #6524

    مصنف : ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی

    مشاہدات : 1669

    پاکستان کے لیے مثالی نظام تعلیم کی تشکیل تعلیمات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں

    (منگل 29 مئی 2018ء) ناشر : سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور

    تعلیم اپنے وسیع تر معنوں میں وہ چیز ہے جس کے ذریعے لوگوں کے کسی گروہ کی عادات اور اہداف ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتے ہیں۔ اپنے تکنیکی معنوں میں اس سے مراد وہ رسمی طریقہ کار ہے جس کے ذریعے ایک معاشرہ اپنا مجموعی علم ، ہنر ، روایات اور اقدار ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل کرتا ہے۔اسلامی نقطہ نظر سے تعلیم محض حصول معلومات کا نام نہیں ،بلکہ عملی تربیت بھی اس کا جزو لاینفک ہے۔اسلام ایسا نظام تعلیم وتربیت قائم کرنا چاہتا ہے جو نہ صرف طالب علم کو دین اور دنیا کے بارے میں صحیح علم دے بلکہ اس صحیح علم کے مطابق اس کے شخصیت کی تعمیر بھی کرے۔یہ بات اس وقت بھی نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے جب ہم اسلامی نظام تعلیم کے اہداف ومقاصد پر غور کرتے ہیں۔اسلامی نظام تعلیم کا بنیادی ہدف ہی یہ ہے کہ وہ ایک ایسا مسلمان تیار کرنا چاہتا ہے،جو اپنے مقصد حیات سے آگاہ ہو،زندگی اللہ کے احکام کے مطابق گزارے اور آخرت میں حصول رضائے الہی اس کا پہلا اور آخری مقصد ہو۔اس کے ساتھ ساتھ وہ دنیا میں ایک فعال ،متحرک اور با عزم زندگی گزارے ۔ایسی شخصیت کی تعمیر اسی وقت ممکن ہے جب تعلیم کے مفہوم میں حصول علم ہی نہیں ،بلکہ کردار سازی پر مبنی تربیت اور تخلیقی تحقیق بھی شامل ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ پاکستان کے لیے مثالی نظام تعلیم کی تشکیل تعلیمات نبوی کی روشنی میں ‘‘ ڈاکٹر لیاقت علی نیازی کی تصنیف ہے اس کتاب میں انہوں نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ معلم انسانیت ﷺ کے فن تدریس کے رہنما خطوط کو اگر ہم سامنے رکھیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ نے درسگاہ صفہ میں دینی علوم کے ساتھ ساتھ سائنسی علوم کی بھی تعلیم دی آپﷺ کے تعلیمی اسوہ حسنہ کی وجہ سے دنیا میں ایک فقید المثال علمی اور سائنسی انقلاب برپا ہوا۔ علماء اسلام نے دینی علوم سے شغف کے ساتھ ساتھ سائنسی علوم میں بھی بہت دلچسپی لی ۔چنانچہ حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات کی وجہ سے دینی مدارس کے ساتھ ساتھ دینوی علوم میں ترقی ہوئی۔ہم پاکستان میں تعلیمات نبوی ﷺ کی روشنی میں ایک مثالی نظام تعلیم تشکیل دے سکتے ہیں ۔کیونکہ پاکستان کی ترقی کا راز سائنسی علوم کے حصول میں مضمر ہے ۔ تعلیمات نبویﷺ کی روشنی میں سائنسی علوم وفنون کی تعلیم امت مسلمہ کے لیے لازم ہے ۔(م۔ا)

  • 1135 #6639

    مصنف : ایس ایم شاہد

    مشاہدات : 3993

    پاکستانی معاشرہ اور ثقافت

    (پیر 28 مئی 2018ء) ناشر : ایورنیو بک پیلس لاہور

    معاشرہ افراد کے ایک ایسے گروہ کو کہا جاتا ہے کہ جس کی بنیادی ضروریات زندگی میں ایک دوسرے سے مشترکہ روابط موجود ہوں اور معاشرے کی تعریف کے مطابق یہ لازمی نہیں کہ انکا تعلق ایک ہی قوم یا ایک ہی مذہب سے ہو۔ جب کسی خاص قوم یا مذہب کی تاریخ کے حوالے سے بات کی جاتی ہے تو پھر عام طور پر اس کا نام معاشرے کے ساتھ اضافہ کردیا جاتا ہے جیسے ہندوستانی معاشرہ ، مغربی معاشرہ یا اسلامی معاشرہ۔ اسلام میں مشترکہ بنیادی ضروریات زندگی کے اس تصور کو مزید بڑھا کر بھائی چارے اور فلاح و بہبود کے معاشرے کا قرآنی تصور، ایک ایسا تصور ہے کہ جس کے مقابلے معاشرے کی تمام لغاتی تعریفیں اپنی چمک کھو دیتی ہیں۔ معاشرے کے قرآنی تصور سے ایک ایسا معاشرہ بنانے کی جانب راہ کھلتی ہے کہ جہاں معاشرے کے بنیادی تصور کے مطابق تمام افراد کو بنیادی ضروریات زندگی بھی میسر ہوں اور ذہنی آسودگی بھی۔ اور کسی بھی انسانی معاشرے کو اس وقت تک ایک اچھا معاشرہ نہیں کہا جاسکتا کہ جب تک اس کے ہر فرد کو مساوی انسان نہ سمجھا جائے، اور ایک کمزور کو بھی وہی انسانی حقوق حاصل ہوں جو ایک طاقتور کے پاس ہوں، خواہ یہ کمزوری طبیعی ہو یا مالیاتی یا کسی اور قسم کی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’پاکستانی معاشرہ اور ثقافت‘‘ جناب ایس ایم شاہد کی تصنیف ہے ۔ پاکستان کی معاشرت ،تہذیب وثقافت ،معاشرتی مسائل،جغرافیہ ،رسم و رواج وغیرہ جاننے کے لیے یہ کتاب انتہائی جامع ہے۔ یہ کتاب 23ابو اب پر مشتمل ہے۔ ان ابواب کے عنوانات حسب ذیل ہیں ۔ بنیادی تصورات ، معاشرتی تنظیم ، معاشرہ اور کلچر،معاشرتی طبقہ بندی،جدیدیت کا ارتقاء، تعبیر پاکستان، ارض پاکستان ،پاکستان کے صوبے ،پاکستانی ثقافت کا تاریخی پس منظر،پاکستانی ثقافت .... تعارف ، تہذیب کی بنیاد اور معاشرت، طبعی ماحول اورمعاشرت، پاکستان میں ذیلی ثقافتیں، پاکستان میں رسوم ورواج،معاشرتی اقدار اور ادارے ،پاکستان کی زبانیں، پاکستانی ادب،پاکستان کی مشہور لوک داستانیں،پاکستانی فنون،نقل مکانی، قومی شناخت ،پاکستان میں عورت .. مختصر مطالعہ ،پاکستان اور معاشرتی برائیاں ،پاکستان کے معاشرتی مسائل۔(م۔ا)

  • 1136 #1606

    مصنف : آغا اشرف

    مشاہدات : 16926

    پتھر کا شہر پتھر کے لوگ

    (اتوار 23 دسمبر 2012ء) ناشر : دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی یونیورسٹی، اسلام آباد

    جس طرح رنگ برنگے اور مختلف خوشبو والے نرم و نازک پھولوں کی آبیاری کے لیے مناسب غذا اور تہذیب کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح بچوں کی نشو و نما کے لیے بھی اچھی تعلیم و تربیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ بچوں تک مثبت تعمیری اور صحت مند اقدار حیات کو پہنچانے اور ان کی ذہنی سطح کے لحاظ سے انھیں مخاطب کرنے کی ذمہ داری محض مدارس کے معلمین اور معلمات کی نہیں ہے اس میں والدین، رشتہ دار اور معاشرہ کے افراد بھی یکساں طور پر شریک ہیں۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد بہت سارے علمی، ادبی اور فکری منصوبہ جات شروع کرتی رہتی ہے۔ دعوۃ اکیڈمی نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ’شعبہ بچوں کا ادب‘ قائم کیاتاکہ بچوں کے ذہنوں میں نہ صرف راست فکر کے بیج بوئے جائیں بلکہ فکر کی نمو و ترقی میں آسانیاں پیدا ہو سکیں۔ زیر نظر کتابچہ ’پتھر کے شہر پتھر کے لوگ‘ بھی بچوں کے اخلاق و کردار سنوارنے میں اہم کردار ادا کرے گا جس میں نبی کریمﷺ کا طائف میں تبلیغ کے لیے جانا اور اہل طائف کا آپﷺ کے ساتھ نہایت برے سلوک کا واقعہ قلمبند کیا گیا ہے اس کےساتھ ساتھ ’وہ مائیں وہ بیٹے‘اور ’سجدہ بندگی‘کے عنوانات سے بھی بہت سبق آموز واقعات قلمبند کیے گئے ہیں۔(ع۔م)
     

  • 1137 #1606

    مصنف : آغا اشرف

    مشاہدات : 16926

    پتھر کا شہر پتھر کے لوگ

    (اتوار 23 دسمبر 2012ء) ناشر : دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی یونیورسٹی، اسلام آباد

    جس طرح رنگ برنگے اور مختلف خوشبو والے نرم و نازک پھولوں کی آبیاری کے لیے مناسب غذا اور تہذیب کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح بچوں کی نشو و نما کے لیے بھی اچھی تعلیم و تربیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ بچوں تک مثبت تعمیری اور صحت مند اقدار حیات کو پہنچانے اور ان کی ذہنی سطح کے لحاظ سے انھیں مخاطب کرنے کی ذمہ داری محض مدارس کے معلمین اور معلمات کی نہیں ہے اس میں والدین، رشتہ دار اور معاشرہ کے افراد بھی یکساں طور پر شریک ہیں۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد بہت سارے علمی، ادبی اور فکری منصوبہ جات شروع کرتی رہتی ہے۔ دعوۃ اکیڈمی نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ’شعبہ بچوں کا ادب‘ قائم کیاتاکہ بچوں کے ذہنوں میں نہ صرف راست فکر کے بیج بوئے جائیں بلکہ فکر کی نمو و ترقی میں آسانیاں پیدا ہو سکیں۔ زیر نظر کتابچہ ’پتھر کے شہر پتھر کے لوگ‘ بھی بچوں کے اخلاق و کردار سنوارنے میں اہم کردار ادا کرے گا جس میں نبی کریمﷺ کا طائف میں تبلیغ کے لیے جانا اور اہل طائف کا آپﷺ کے ساتھ نہایت برے سلوک کا واقعہ قلمبند کیا گیا ہے اس کےساتھ ساتھ ’وہ مائیں وہ بیٹے‘اور ’سجدہ بندگی‘کے عنوانات سے بھی بہت سبق آموز واقعات قلمبند کیے گئے ہیں۔(ع۔م)
     

  • 1138 #3968

    مصنف : اشتیاق احمد

    مشاہدات : 2672

    پتھروں کی بارش (قصہ سیدنا لوطؑ)

    (بدھ 13 جنوری 2016ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    سیدنا لوط ﷤ اللہ تعالیٰ کے جلیل القد ر نبی تھی انہوں نے زندگی بھر اپنی قوم کو اللہ کی واحدانیت کی دعوت دی۔ لیکن ان کے قوم نےان کی ایک نہ مانی اور سرکشی پراترآئی۔جب حضرت لوط ﷤کی قوم کی سرکشی جب حد سے بڑھ گئی اور اس میں دن بدن اضافہ ہوتا گیا تو انہوں نے اللہ پاک سے التجا کی کہ وہ فسادیوں کے خلاف انکی مدد فرمائے۔ انکی دعا قبول ہوئی اور آپ کی ناراضگی کی وجہ سے قوم پر اللہ کا عذاب نازل ہوا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے فرشتے اس قوم کے لئے عذاب الہٰی لیکر پہنچے اور انسانی شکل میں حضرت لوط ﷤کے پاس آئے۔ قرآن مجید نےاس واقعہ کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔"آپ اپنے گھر والوں کو لیکر رات کے آخری حصے میں یہاں سے تشریف لے جائیں اور جب قوم پر عذاب نازل ہو تو انکی آواز سن کر تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔ سوائے تمہاری عورت کے اسے بھی وہی پہنچنا ہے جو انہیں پہنچے کا۔ ان کے (عذاب کے) وعدے کا وقت صبح ہے اور کیا صبح کچھ دور ہے؟" (سورۂ ہود: ۸۱)حضرت حضرت لوط ﷤ جب شہر سے نکلے تو ان کے ساتھ انکی بیٹیاں اور بیوی بھی تھی اورجب وہ شہر سے نکل گئے اور سورج طلوع ہوا تو اللہ کا عذاب بھی آ گیا جسے ٹال دینا کسی کے بس میں نہیں تھا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:" تو جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس (بستی) کو (الٹ کر) نیچے اوپر کر دیا۔ اور ان پر پتھر کے تہ بہ تہ کنکر برسائے جن پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کئے ہوئے تھے اور وہ ظالموں سے کچھ دور نہیں۔"(سورۂ ہود: 82،83) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان بستیوں کو اسطرح الٹ دیا کہ انکا اوپر والا حصہ نیچے ہو گیا، پھر مسلسل پتھروں کی بارش سے انہیں نظروں سے اوجھل کر دیا۔ ہر پتھر پر اس شخص کا نام لکھا تھا جس پر اسے گرنا تھا، خواہ ان میں سے کوئی اپنے شہر میں تھا یا سفر کی وجہ سے شہر سے باہر تھا۔حضرت لوط ﷤ کی بیوی بھی اپنے خاوند اور بیٹیوں کے ہمراہ روانہ ہوئی تھی، لیکن جب شہر تباہ ہونے کی آواز اور ہلاک ہونے والوں کا شور سنا تو اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس نے مڑ کر دیکھا اور بولی "ہائے میری قوم" وہیں ایک پتھر اس پر آ پڑا، جس نے اسکا سر پھاڑ کر اسے اس کی قوم سے ملا دیا۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’پتھروں کی بارش قصہ سیدنا لوط ﷤‘‘جناب اشتیاق احمدکی تحریر ہے اور دار السلام کی سلسلہ قصص الانبیاء سیریز   کا نواں حصہ ہے۔ اس میں مرتب نے سیدنا لوط ﷤ کی قوم کی تباہی   کے واقعہ کو بڑے آسان اور دلچسپ اندا ز میں بیان کیا ہے۔ دار السلام نے اسے حسنِ طباعت سے آراستہ کیا ہے۔دار السلام کی بچوں کے لیے یہ منفرد کاوش ہے ۔والدین اپنے بچوں کو بازاری فضول کہانیاں ، اخلاق سے گرے ہوئے ڈائجسٹ او رناولوں کی بجائے قصص الانبیاء اور سچی کہانیوں کو پڑھنے کی ترغیب دیں ۔ (م۔ا)

  • 1139 #3635

    مصنف : اشتیاق احمد

    مشاہدات : 1761

    پرانی لاش

    (جمعرات 01 اکتوبر 2015ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    قرآن مجید کی دوسورتوں میں سیدنا ادریس    کا ذکر ہے۔حضرت ادریس کی شخصیت ، زمانے اور وطن کے بارے میں مورخین میں اختلاف ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ آپ آدم اور نوح کے درمیانی زمانے میں پیدا ہوئے اور بابل آپ کا وطن تھا۔ ابن مسعود اور ابن عباس کے نزدیک الیاس اور ادریس  ایک ہی شخصیت کے دو نام ہیں۔ "صحیح بخاری کتاب الانبیا" صحیح بخاری ہی کی ایک روایت کے مطابق جب آنحضرت ﷺ کو معراج ہوئی تو چوتھے آسمان پر آپ نے حضرت ادریس سے ملاقات فرمائی۔حضرت آدم  کے بعد آپ پہلے نبی تھے  انہوں نے ہی سب سے پہلے سینا اور لکھنا شروع کیا ۔اور سید ناادریس   پہلے   انسان ہیں جنہوں نے  ظلم کے خلاف جہاد کیا  اور  ظالموں کو شکست دی۔زیر تبصرہ کتاب’’ پرانی کتاب‘‘ محترم جناب  اشتیاق احمد صاحب کی کاوش ہے  جس میں ا نہوں نے  سید ناادریس   کی  سیرت کو  ایک  عام فہم انداز میں کہانی  اور مکالمے کی صورت میں پیش کیا ہے  اللہ تعالیٰ ان  کی سلسلہ  قصص الانبیاء کی  اس  حسین  کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • 1140 #3634

    مصنف : اشتیاق احمد

    مشاہدات : 2080

    پرانی کتاب

    (جمعرات 01 اکتوبر 2015ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    سیدنا یعقوب   کی اولاد بنی اسرائیل کو مصر میں رہتے ہوئے کافی مدت گزر چکی تھی، چوں کہ باہر سے آئے ہوئے تھے، اس لیے مصری انہیں اچھی نظر سے نہیں دیکھتے تھے۔اس زمانے میں مصر کا ہر بادشاہ فرعون کہلاتا تھا، حضرت یوسف  سولہویں فرعون کے زمانے میں مصر تشریف لائے۔سیدنا  موسیٰ  کے زمانے کا انیسواں فرعون تھا۔ اس کا نام منفتاح بن ریمسس دوم تھا۔ سیدنا موسیٰ  خدا کےبرگزیدہ پیغمبروں میں سے ایک تھے. آپ کے بھائی حضرت ہارون  بھی اللہ کے برگزیدہ نبیوں میں سے ایک ہیں۔تمام پیغمبر کی نسبت قرآن میں حضرت موسیٰ   کا واقعہ زیادہ آیا ہے۔ تیس سے زیادہ سورتوں میں موسیٰ   و فرعون اور بنی اسرائیل کے واقعہ کی طرف سومرتبہ سے زیادہ اشارہ ہوا ہے۔فرعون نے ایک خواب دیکھا جس کی تعبیر یہ بتائی گئی کہ بنی اسرائیل کا ایک لڑکا تیری حکومت کے زوال کا باعث ہوگا اس پر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہو اس قتل کردیا جائے۔اسی زمانے میں حضرت موسی  عمران کے گھرمیں پیدا ہوائے۔ ماں باپ کو سخت پریشانی تھی اور وہ سمجھتے تھے اگر کسی کو پتا چل گیا تو اس بچے کی خیر نہیں۔ کچھ مدت تک تو ماں باپ نے اس خبر کو چھپایا، لیکن مارے پریشان کے ان کا حال برا ہورہا تھا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے آپ کی والدہ کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ اس معصوم بچے کو صندوق میں ڈال کر دریائے نیل میں بہادو۔حضرت موسیٰ  کی والدہ نے ایسا ہی کیا اور اپنی بڑی لڑکی کو بھیجا کہ وہ صندوق کے ساتھ ساتھ کنارے پر جائے اور دیکھے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اس کی حفاظت کرتا ہے۔جب یہ صندوق تیرتا ہوا شاہی محل کے قریب پہنچا تو فرعون کے گھرانے کی عورتوں میں سے ایک نے اس کو دیکھ کر باہر نکلوالیا اور جب اس میں ایک خوب صورت بچے کو دیکھا تو خوش ہوئیں اور اس بچے کو محل میں لے گئیں۔ حضرت موسیٰ  کی بہن بھی فرعون کی خادماؤں میں شامل ہوگئیں۔فرعون کے کوئی اولاد نہ تھی۔ جب اس کی بیوی آسیہ نے ایک حسین و جمیل بچے کو دیکھا تو بہت خوش ہوئیں۔ اتنے میں فرعون بھی آگیا۔ اور اس کے قتل کا حکم دے دیا۔ فرعون کی بیوی نے منت سے کہا کہ اس معصوم کو قتل نہ کرو، کوئی بڑی بات نہیں اگر یہی بچہ میری اور تیری آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بن جائے اور ہم اس کو اپنا بیٹا بنالیں اور اگر حقیقت میں یہی وہ بچہ ہے جو تیرے خواب کی تعبیر بننے والا ہے تو ہم اس کی ایسی تربیت کریں گے کہ ہمارے لیے نقصان رسان بننے کی بجائے مفید ہی ثابت ہو۔ اس طرح فرعون حضرت موسی   کے قتل کرنے سے باز رہا۔حضرت موسیٰ  فرعون کے گھر میں پل کر جوان ہوئے۔ آپ بڑے خوب صورت اور طاقتور تھے۔ایک دن آپ شہر سے باہر جارہے تھے کہ آپ نے دیکھا کہ ایک مصری ایک اسرائیلی کو بیگار میں لے کر تنگ کررہا ہے۔ جب حضرت موسیٰ   اس کے قریب سے گزرے تو اسرائیلی نے حضرت موسیٰ   سے فریاد کی، آپ نے مصری کو سختی اور جبر سے روکنے کی کوشش کی، لیکن مصری نہ مانا۔ اس پر حضرت موسیٰ   نے غصے میں آکر مصری کو ایک ایسا طمانچہ مارا کہ وہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔  فرعون نے ان کی گرفتاری کے احکام جاری کردئیے۔ اس وقت ایک آدمی فرعون کے دربار میں موجود تھا، جس کو حضرت موسیٰ    سے انس تھا۔ اس نے فوراً حضرت موسیٰ   کو جا کر سارے واقعہ کی اطلاع دی اور مشورہ دیا کہ آپ فوراً یہاں سے نکل جائیں۔ چنانچہ حضرت موسیٰ   بے سرو سامان نکل کھڑے ہوئے اور منزلیں طے کرتے ہوئے مدین کے شہر جاپہنچے۔ وہاں  دو لڑکیوں کی بکریوں کوپانی پلانے کے عوض ان کی مہمان نوازی کی گئی اور ان میں سے ایک لڑکی  کےساتھ  ان  کی شادی  بھی کردی گئی   وہاں کافی عرصہ بکریاں چراتے رہے ۔طویٰ کی مقدس وادی میں آپ کو نبوت سےسرفرازکیاگیا  اور کچھ معجزے اور نشانیاں بھی  عطا کیں اوراللہ تعالیٰ نے  حکم دیا کہ ہماری ان نشانیوں کو لے کر فرعون کے پاس جاؤ اور اس کو او اس کی قوم کو سیدھا راستہ دکھاؤ۔ اس نے بہت سرکشی اور نافرمانی اختیار کررکھی ہے اور وہ بنی اسرائیل پر انتہائی ظلم کررہا ہے، ان کو اس غلامی اور ذلت سے نجات دلاؤ۔حضرت موسیٰ   اپنے بھائی کو ساتھ لے کر فرعون کے دربار گئے اور فرعون سے کہا کہ خدا نے مجھے اپنا پیغمبر اور رسول بنا کر تیرے پاس بھیجا ہے۔ ہم تم سے دو باتیں کہتے ہیں ایک تو خدا واحد پر ایمان لے آؤ۔ دوسرے بنی اسرائیل پر ظلم و ستم سے باز آؤ اور ان کو غلامی سے نجات دو۔فرعون سے کافی باتیں ہوئیں۔ حضرت موسیٰ   نے پیار و محبت سے فرعون کو سمجھانے کی بہت کوشش کی اور جب اس سے کوئی جواب نہ بن آیا تو درباریوں سے کہنے لگا کہ یہ کوئی پاگل معلوم ہوتا ہے اور کج بحثی کرنے لگا اور اپنے وزیر بامان سے کہنے لگا کہ ایک اونچی عمارت بناؤ جس پر چڑھ کر میں موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں اور میں تو اس کو جھوٹا سمجھتا ہوں۔ حضرت موسیٰ   نے کہا کہ میں اپنی صداقت میں تیرے پاس ظاہر نشانیاں لایا ہوں۔ فرعون نے کہا اگر تیرے پاس کوئی نشانی ہے تو ہمیں بھی دکھا۔ حضرت موسیٰ   نے اپنی لاٹھی کو زمین پر پھینک دیا اور وہ ایک خوفناک اژدھا بن گیا۔ پھر اپنا ہاتھ گریبان کے اندر لے گئے۔ جب نکالا تو وہ ایک روشن ستارے کی طرح چمک رہا تھا۔یہ دیکھ کر فرعون کے درباری چلا اٹھے کہ یہ تو کوئی بہت بڑا جادو گر ہے۔ چنانچہ یہ فیصلہ ہوا کہ اب تو موسیٰ اور ہارون کو جانے دیا جائے اور کچھ دن بعد اپنی سلطنت کے تمام بڑے بڑے جادوگروں کو اکٹھا کرکے حضرت موسیٰ   سے مقابلہ کرایا جائے۔مقابلے سے پہلے حضرت موسیٰ  نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا، اللہ پر جھوٹی تہمت نہ لگاؤ، ایسا نہ ہو کہ اللہ  کا عذاب تم کو دنیا سے نیست و نابود کردے۔ جادوگروں نے آگے بڑھ کر کہا کہ ان باتوں کو جانے دو۔ اب ذرا دو دو ہاتھ ہوجائیں۔ اب یہ بتاؤکہ پہل تم کرو گے، یا ہم کریں آپ نے فرمایا کہ پہل تمہاری طرف سے ہونی چاہیے۔اب ان جادوگروں نے اپنی رسیاں بان اور لاٹھیاں زمین پر ڈال دیں جو سانپ بن کر زمین پر دوڑنے لگے۔ یہ دیکھ کر حضرت  موسیٰ  کچھ گھبراگئے ۔ مگر اسی وقت خدا کا حکم ہوا، موسیٰ خوف نہ کھاؤ، ہمارا وعدہ ہے تم غالب رہو گے، اپنی لاٹھی کو زمین پر ڈال دو۔حضرت موسیٰ نے فوراً اپنا عصا زمین پر پھینک دیا اور وہ ایک خوفناک اژدھا بن گیا۔ جس نے تمام جادو کے زور سے بنے ہوئے نمائشی سانپوں کو نگل لیا۔ جادوگر یہ دیکھ کر سخت حیران ہوئے اور پکار اٹھے کہ موسیٰ   کا یہ عمل جادو نہیں بلکہ خدا کا معجزہ ہے اور فوراً سجدہ میں گر پڑے اور اعلان کیا کہ ہم موسیٰ   اور ہارون کے خدا پر ایمان لے آئے ہیں۔جادوگروں نے کہا کہ اب سچائی ہمارے سامنے آگئی ہے تو جو کچھ کرنا چاہتا ہے کر گزر، ہم ایک الہ پر ایمان لاچکے ہیں۔ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔یہ دیکھ کر اسرائیلی نوجوانوں کی ایک جماعت بھی حضرت موسیٰ   پر ایمان لے آئی۔ لیکن وہ بھی فرعون کے قہر و غضب سے ڈرتے تھے اس لیے کھل کر اعلان نہ کرسکے۔حضرت موسیٰ   نے کہا کہ اگر تم واقعی اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے ہو اور اس کے فرمانبردار بننا چاہتے ہو تو فرعون سے ہرگز نہ ڈرو اور اللہ پر ہی اپنا بھروسہ رکھو۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم اللہ پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔جب حضرت موسیٰ  کو فرعون اور اس کے درباریوں کے منصوبوں کا علم ہوا تو آپ نے بنی اسرائیل کے لوگوں نے کہا۔ موسیٰ، ہم تو پہلے ہی مصیبتوں میں پھنسے ہوئے تھے، تیرے آنے سے کچھ امید بندھی تھی، مگر تیرے آنے کے بعد تو اور بھی مصیبت آگئی ہے۔ حضرت موسیٰ   نے اس کو تسلی دی اور کہا کہ گھبراؤ نہیں۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے تم ضرور کامیاب رہو گے اور تمہارا دشمن ہلاک ہوگا۔اللہ نے حضرت موسیٰ   کو حکم دیا کہ اپنی قوم بنی اسرائیلی کو مصر سے نکال کر باپ دادا کی سرزمین پر لے جاؤ، چنانچہ آپ رات کے وقت نبی اسرائیل کو لے کر نکل گئے۔ ادہر فرعون کو بھی اطلاع مل گئی، اس نے ایک زبردست فوج کے ساتھ ان کا تعاقب کیا۔ وہ پانی کے کنارے پر پہنچے تھے کہ مصری فوجیں آگئیں۔ جنہیں دیکھ کر بنی اسرائیل بہت گھبرائے۔ مگر حضرت موسیٰ   نے ان کو تسلی دی کہ گھبراؤ نہیں اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ   کو حکم دیا کہ اپنی لاٹھی پانی پر مارو، چنانچہ جب حضرت موسیٰ   نے بحیرہ قلزم کے پانی پر اپنی لاٹھی ماری تو اس میں سے راستہ بن گیا اور حضرت موسیٰ   بڑے آرام سے بحیرہ قلزم سے پار ہوگئے۔ یہ دیکھ کر فرعون نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ تم بھی اس راستے سے بحیرہ قلزم کو پار کرجاؤ۔ لیکن جب فرعون اور اس کی ساری فوج درمیان میں آگئی تو اللہ کے حکم سے پانی پھر اپنی اصلی حالت پر آگیا اور فرعون اپنی فوج سمیت غرق ہوگیا۔ جب فرعون غرق ہونے لگا تو اس نے پکارا کہ میں موسیٰ کے رب کے اوپر ایمان لاتا ہوں، لیکن یہ بعد از وقت تھا ۔ فرعون کی پکار پر اللہ نے فرمایا کہ "آج کے دن ہم تیرے جسم کو ان لوگوں کے لیے جو تیرے پیچھے آنے والے ہیں نجات دیں گے کہ وہ عبرت کا نشان بنے"۔ چنانچہ ہزارو سالوں کے بعد اس پرانی  لاش دستیاب ہوئی ہے اور اب مصر کے عجائب خانہ میں موجود ہے۔زیر تبصرہ کتاب’’پرانی لاش‘‘ میں  محترم جنا ب اشتیاق احمد صاحب نے    کہانی او رمکالمے کے  انداز میں اس فرعون کا تذکرہ کیا ہے۔ایک اچھی کہانی کی طرح اس  کہانی میں بھی یہ خوبی نمایاں ہے یہ عبرت ونصیحت کےتمام پہلو اپنے اندرکھتی ہے۔ (م۔ا)

< 1 2 ... 111 112 113 114 115 116 117 ... 121 122 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1243
  • اس ہفتے کے قارئین 5107
  • اس ماہ کے قارئین 43501
  • کل قارئین49299552

موضوعاتی فہرست