کل کتب 1215

دکھائیں
کتب
  • 1111 #2549

    مصنف : محمد اسماعیل سلفی

    مشاہدات : 3361

    واقعہ افک

    (اتوار 26 اکتوبر 2014ء) ناشر : ندوۃ المحدثین گوجرانوالہ

    واقعہ افک سیرت نبوی کا ایک اہم واقعہ ہے۔ یہ منافقین کی طرف سے خانوادہ نبوی کو نشانہ بنانے کی سب سے بڑی کوشش تھی جس میں سیدہ عائشہ پر بدکاری کی تہمت لگائی گئی۔اس الزام کی بنا پر سیدہ اور ان کے گھر والے خصوصاً ان کے والد حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ اور سب سے بڑھ کر ان کے شوہر رسول خدا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سخت ذہنی اذیت سے دوچارہوگئے ۔ اس دوران میں تمام مسلمان بھی گومگو اور باہمی اختلاف و انتشار کی کیفیت میں مبتلا رہے۔ایک مہینے تک بہتان تراشی اور ایذا رسانی کا یہ سلسلہ جاری رہا۔اس کے بعد کہیں جاکر سورہ نور کی ابتدائی آیات  میں حضرت عائشہ کی براء ت اللہ تعالیٰ نے خود نازل کی اور یہ طوفان تھما۔اس کے بعد تہمت لگانے والے مسلمانوں کو اسی اسی کوڑے مارے گئے ،جو تہمت لگانے کی شرعی سزا ہے۔یہ ایک صحیح اور ثابت شدہ واقعہ ہے جس کا تذکرہ قرآن مجید اور متعدد احادیث صحیحہ کے اندر موجود ہے۔مگر بعض عقل پرستوں کو یہ واقعہ سمجھ نہیں آتا ،وہ اس کے راویوں پر مختلف قسم کے اعتراضات کر کے ان احادیث کو سرے سے ہی اڑا دیتے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب"واقعہ افک"جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی ﷫ کی گرانقدر تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے ادارہ طلوع اسلام کی جانب سے اس واقعہ اور اس واقعہ کے راویوں پراٹھائے گئے اعتراضات کا مدلل اور دندان شکن جواب دیا ہے۔اللہ تعالی ان کی ان جلیل القدر خدمات کو قبول فرمائے ،اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

     

  • 1112 #651

    مصنف : عتیق الرحمن سنبھلی

    مشاہدات : 98568

    واقعہ کربلا اور اس کا پس منظر

    (اتوار 24 فروری 2013ء) ناشر : الفرقان بکڈپو نیا گاؤں مغربی نظیرآباد لکھنؤ

    نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت ایک عظیم سانحہ ہے جس کی مذمت بہرآئینہ ضروری ہے۔ لیکن اس بنیاد پر ماتم، سینہ کوبی اور سب و شتم کا بازار گرم کرنے کی بھی کسی طور تائید نہیں کی جا سکتی۔ زیر نظر کتاب میں مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی نے غیر جانبداری سے سانحہ کربلا پربالدلائل اپنی قیمتی آراء کا اظہار کیا ہے اور اس کا مکمل  پس منظر تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ مکمل کتاب 12 ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلا باب شہادت عثمان رضی اللہ عنہ ، خانہ جنگی، صلح حسین  رضی اللہ عنہ پر ہے۔ ایک باب یزید کی ولی عہدی کی تجویز اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے عنوان سے ہے جس میں یزید کی ولی عہدی سے متعلق کھل کر بحث کی گئی ہے۔ باب دہم میں واقعہ کربلا کی مکمل سرگزشت بیان کی گئی ہے۔ جبکہ اس سے اگلے باب میں شہادت کے بعد کی کہانی کو کسی لگی لپٹی کے بغیر بیان کیا گیا ہے۔مولانا نے یزید پر سب و شتم کے مسئلہ کو بھی بڑے احسن انداز سے قلم زد کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ شہادت حسین رضی اللہ عنہ میں یزید کسی بھی حوالے سے  ملوث نہیں تھے۔ فاضل مؤلف نے نہایت عرق ریزی کے ساتھ سانحہ کربلا کے اسباب سے نقاب کشائی کرنے کے ساتھ ساتھ واقعات شہادت میں مبالغہ آمیزی کی بھی قلعی کھولی ہے۔(ع۔م)
     

  • 1113 #651

    مصنف : عتیق الرحمن سنبھلی

    مشاہدات : 98568

    واقعہ کربلا اور اس کا پس منظر

    (اتوار 24 فروری 2013ء) ناشر : الفرقان بکڈپو نیا گاؤں مغربی نظیرآباد لکھنؤ

    نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت ایک عظیم سانحہ ہے جس کی مذمت بہرآئینہ ضروری ہے۔ لیکن اس بنیاد پر ماتم، سینہ کوبی اور سب و شتم کا بازار گرم کرنے کی بھی کسی طور تائید نہیں کی جا سکتی۔ زیر نظر کتاب میں مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی نے غیر جانبداری سے سانحہ کربلا پربالدلائل اپنی قیمتی آراء کا اظہار کیا ہے اور اس کا مکمل  پس منظر تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ مکمل کتاب 12 ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلا باب شہادت عثمان رضی اللہ عنہ ، خانہ جنگی، صلح حسین  رضی اللہ عنہ پر ہے۔ ایک باب یزید کی ولی عہدی کی تجویز اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے عنوان سے ہے جس میں یزید کی ولی عہدی سے متعلق کھل کر بحث کی گئی ہے۔ باب دہم میں واقعہ کربلا کی مکمل سرگزشت بیان کی گئی ہے۔ جبکہ اس سے اگلے باب میں شہادت کے بعد کی کہانی کو کسی لگی لپٹی کے بغیر بیان کیا گیا ہے۔مولانا نے یزید پر سب و شتم کے مسئلہ کو بھی بڑے احسن انداز سے قلم زد کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ شہادت حسین رضی اللہ عنہ میں یزید کسی بھی حوالے سے  ملوث نہیں تھے۔ فاضل مؤلف نے نہایت عرق ریزی کے ساتھ سانحہ کربلا کے اسباب سے نقاب کشائی کرنے کے ساتھ ساتھ واقعات شہادت میں مبالغہ آمیزی کی بھی قلعی کھولی ہے۔(ع۔م)
     

  • 1114 #252

    مصنف : حافظ صلاح الدین یوسف

    مشاہدات : 22355

    واقعۂ معراج اور اس کے مشاہدات

    (جمعہ 12 فروری 2010ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    واقعۂ معراج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم معجزہ ہے جس کا ثبوت قرآن کریم اور احادیث صحیحہ دونوں میں ہے۔ لیکن نام نہاد مسلمانوں کا ایک گروہ ایسا ہے جو اسے ایک کشفی و روحانی یا منامی (خواب کے)مشاہدے سے تعبیر کر کے اس کی معجزانہ حیثیت کا انکار کرتا ہے۔ ایک دوسرا گروہ ہے جو اس میں زیب داستاں کے طور پر بہت سی بے سروپا روایات شامل کر کے اسے کچھ کا کچھ بنا دیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں ہی گروہ افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ صحیح بات کیا ہے؟ یہی اس کتاب کا اصل موضوع ہے۔ اس میں قرآن و حدیث کے دلائل سےپہلے مؤقف کی بھی تغلیط و تردید کی گئی ہے اور روایات کی تحقیق کر کے دوسرے گروہ کی بے اصل باتوں کی توضیح بھی۔ اس اعتبار سے یہ اردو کی پہلی کتاب ہے جو واقعۂ معراج کو اس کے صحیح تناظر میں پیش کرتی ہے اور اس کے واقعاتی مشاہدات کو غیر مستند روایات سے ممیّز کرتی ہے۔

  • 1115 #2383

    مصنف : عطا ء الرحمن شیخو پوری

    مشاہدات : 1712

    والدی و مشفقی

    (اتوار 31 اگست 2014ء) ناشر : جامعہ محمدیہ توحید آباد شیخوپورہ

    خطیبِ  پاکستا ن مولانا محمد حسین شیخوپوری﷫ 1918ء ميں اس دنيا ميں تشريف لايا اور تقريباً پینسٹھ سال تك مختلف گلستانوں ميں چہچہاتا رہا اور وما جعلنا لبشر من قبلك الخُلد كے ازلى قانون كے تحت 6؍اگست 2005ء ميں ہميشہ كے لئے خاموش ہوگيا۔ آپ كو اللہ تبارك و تعالىٰ نے لحنِ داوٴدى عطا فرمايا تها اور جب آپ اپنى رسیلى اور سُريلى آواز سے قرآن كى آيات اور حضرت رسالت مآب كى مدح ميں اشعار پڑهتے تو لاكهوں سامعين وجد ميں آكر جهومنے لگتے۔ آپ نے كراچى تا خيبر چاروں صوبوں ميں لاتعداد جلسوں سے خطاب كيا، آپ كى زبان ميں الله تبارك و تعالىٰ نے بلا كى تاثير ركهى تهى۔جس جلسہ ميں آپ كا خطاب ہوتا اسے سننے كے لئے ديہاتوں كے گنوار اور شہروں كے متمدن لوگ يكساں طور پر كشاں كشاں چلے آتے۔ عموماً آپ كا وعظ رات ڈيڑھ دو بجے شروع ہوتا اور اذانِ فجر تك جارى رہتا۔ سامعين آپ كے وعظ كو يوں خاموش ہوكر سنتے جيسے ان كے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں اور اُنہيں يوں معلوم ہوتا تها كہ وحى الٰہى اب ہى نازل ہورہى ہے۔ بڑے سے بڑے مذہبى مخالف اپنے نرم و گرم بستروں كو چهوڑ كر آپ كى مجلسِ وعظ ميں آبیٹھتے تهے۔آپ نے زندگى بهر امر بالمعروف ونهى عن المنكر كا فريضہ احسن انداز ميں انجام ديا۔ آپ كا پُر اثر وعظ سن كر كتنے سود خوروں نے سود خورى سے اور رشوت خوروں نے رشوت خورى سے توبہ كرلى بلكہ آپ كے ايك وعظ ميں سولہ كے قريب پوليس افسروں نے پوليس ملازمت ہى چهوڑ دى اور مسلک حنفی کے کئی نامور علماء نے   آپ کے خطابات سے متاثر ہوکر مسلک اہل حدیث  اختیار کیا۔۔ مولانا مرحوم اللہ تعالىٰ كى توفيق وعنايت سے سارى زندگى اتحاد بين المسلمین كے داعى رہے اور مكّے كى مثال دے كر سمجھاتے رہے كہ مسلمانوں ايك مُكے كى طرح متحد ہوجاؤ، ديكهو اكيلى انگشت ِشہادت، وسطىٰ، بنصر، خنصر اور انگوٹها كچھ نہيں كرسكتے ليكن جب يہ متحد ہوجاتے ہيں تو مُكا بن كر بہت كچھ كرسكتے ہيں۔ لہٰذا اے مسلمانوں تم مُكے كى طرح متحد ہوجاوٴ اور بنيانِ مرصوص بن كر دشمن كا مقابلہ كرو اور باہم ايك دوسرے كو قتل كركے يہود و ہنود كا راستہ صاف نہ كرو۔ آپ نہ صرف يہ كہ اسلاميانِ پاكستان كے خطيب تهے بلكہ آپ اسلاميانِ برطانيہ، امريكہ، كويت اور سعودى عرب كے مقبول عام خطيب بهى تهے۔آپ اكثر و بيشتر توحيد ور سالت كى عظمت بيان كرتے اور آياتِ قرآنيہ اتنى سريلى آواز سے پڑهتے كہ سننے والے وجد ميں آجاتے اور جب شانِ مصطفى بيان فرماتے تو آپ كے سر مبارك سے لے كر پاوٴں مبارك تك كے اوصاف پر مبنى اشعار پڑھ كر اس انداز سے بيان كرتے كہ سامعين فرطِ عقيدت سے جهومنے لگتے۔اس دو ر ميں واعظ تو بے شمار ہيں، جن ميں شيريں بيانى اور اثر آفرينى بهى اپنى اپنى جگہ بہت ہے، ليكن مولانا شیخوپورى جيسا خلوص ركهنے والے اور شب ِزندہ دار مبلغ خال خال ہيں۔ مولانا كے ساتھ سفر وحضر كے ساتهى بيان كرتے ہيں كہ رات 2 بجے بهى طويل خطاب سے فارغ ہونے كے بعد آپ چند لمحے آرام كے بعد دوبارہ تين بجے نمازِ تہجد كے لئے جائے نماز پر آكهڑے ہوتے۔آپ نے سارى زندگى توحيد وسنت كى دعوت وتبليغ ميں صرف كردى اور اس كے لئے پاكستان كا قريہ قريہ  چهان مارا۔آپ نے اپنى تعليم كا آغاز حافظ عبد اللہ محدث روپڑى﷫ كى زير نگرانى كمیرپور ميں قائم درسگاہ سے كيا، جہاں ان كے برادرِ خورد حافظ عبدالرحمن روپڑى﷫ سے آپ نے پہلا سبق ليا اور صرف ونحو كى كتب بهى اُنہيں سے پڑھیں۔ اس دور كے عظيم خطیب مولانا حافظ محمداسمٰعيل روپڑى ﷫نے آپ كو خطابت كے رموز واسرار سكهائے اور اس فن ميں طاق كيا۔اس لیے آپ کے روپڑی خاندان سے گہرے مراسم تھےمولانا شيخوپورى  بیان  کرتے ہیں۔دعوتى ميدان ميں اللہ تعالىٰ نے مجهے د و بہترين ساتهى عطا كرديے تهے: حافظ عبد القادر روپڑى اور حافظ محمد اسمٰعيل روپڑى۔ دونوں بهائى مجهے اپنا تيسرا بهائى قرار دے كر اكثر جلسوں ميں ساتھ ركهتے، پہلے ميرى تقريركراتے۔ ميں اكثر سنتا كہ ميں تقرير كررہا ہوتا اور حافظ محمد اسمٰعيل ميرے پیچھے بیٹھے ميرے لئے دعا كررہے ہوتے: اللهم أيده بروح القدسان كى پرخلوص دعاؤں كا نتيجہ ہے كہ اللہ تعالىٰ نے بہت تيزى سے مجهے سٹيج پر آنے كى توفيق بخشى۔آپ كى ذات اپنے  دو رميں ايك مخلص داعى اسلام كا ايك جيتا جاگتا نمونہ تهى۔عمر مبارك كى چلتے پهرتے ستاسى بہاريں گزارنے كے بعد آپ كو مختصر سا بخار ہوا اور  6؍اگست 2005ء آپ كى وفات كى خبر جنگل كى آگ كى طرح ملك اوربيرونِ ملك ميں پھیلى، دور دور سے آپ كے عقیدت مند اور روحانى فرزند ہزاروں كى تعداد ميں آپ كى نمازِ جنازہ ميں شريك ہوئے- پہلى نمازِ جنازہ حضرت مولانا معين الدين لكھوى نے نہايت رقت سے پڑهائى كہ لوگوں كى آہيں نكل گئيں اور وہ سسكياں بهركر رو رہے تهے ۔ دوسرى مرتبہ كمپنى باغ شيخوپورہ ميں آپ كى نمازِ جنازہ حافظ محمد یحیىٰ ميرمحمدى نے پڑهائى۔ آپ کی  وفات کے روز  مسلسل بارش کے باوجود  آپ  کے عقیدت مند نصف پنڈليوں تك پانى ميں صفیں باندھ كر نمازِ جنازہ ميں دعائيں مانگتے رہے۔اللہ تعالی ان کے درجات  بلند فرمائے  اور  ان ک  مرقد  پر  اپنی رحمتوں کی برکھا برسائے اور آپ كو اپنے جوارِ رحمت ميں جگہ نصيب فرمائے ۔اور ان کی دینی ودعوتی خدمات کو  قبول فرمائے آمین) ۔ زیر نظر  ’’کتاب والدی  ومشفقی‘‘  مولانا   عطاء الرحمن ﷫  کی  اپنے والدگرامی  شیخ  القرآن  مولانا  مولانا محمد حسین   ﷫ کی  سوانحی حیات پر مشتمل کاوش ہے  ۔جس میں انہوں نے مختلف علماء کے  اپنے  والد گرامی کے متعلق تاثرات   کے بعد  مولانا کی ابتدائی تعلیم  اور دعوت وتبلیع کے سلسلے  میں پیش آنے والے  اہم   حالات وواقعات  اوران کی اہم تقریریں،تفسیر ی نکات اور آخر میں   مولانا کے اردو  او رپنجابی اشعار کو تحریر کیا ہے   ۔ یہ کتاب مولانا شیخوپوری کی  وفات سے  چار سال قبل شائع ہوئی تھی۔لہذا ان کی زندگی کے آخری  سال اور لمحات ،وفات اور نماز جنازہ کے  متعلق معلومات کےلیے   مختلف رسائل وجرائد میں بکھرے ہوئے مضامین کوایڈٹ کرکے اس کتاب میں شامل  کرنے کی ضرورت ہے  (م۔ا)

     

  • 1116 #4160

    مصنف : قاضی محمد اقبال چغتائی

    مشاہدات : 2817

    وسط ایشیاء کے مغل حکمران

    (پیر 29 فروری 2016ء) ناشر : چغتائی ادبی ادارہ لاہور

    مغلیہ سلطنت 1526ء سے 1857ء تک برصغیر پر حکومت کرنے والی ایک مسلم سلطنت تھی۔جس کی بنیادظہیر الدین بابر نے 1526ء میں پہلی جنگ پانی پت میں دہلی سلطنت کے آخری سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دے کر رکھی تھی۔ مغلیہ سلطنت اپنے عروج میں تقریباً پورے برصغیر پر حکومت کرتی تھی، یعنی موجودہ دور کے افغانستان، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے ممالک پر مشتمل خطے پر انکا دور دورہ تھا۔مغلیہ سلطنت کا سرکاری مذہب اسلام تھا۔ تاہم اکبراعظم کے دور میں کچھ عرصے تک اکبر کا ایجاد کردہ مذہب (دین الٰہی) رائج کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیکن اس کا عوام پر کوئی اثر نہ پڑا اور وہ بہت جلد ہی ختم ہوگیا۔ باقی تمام شہنشاہوں کے دور میں اسلام ہی سرکاری مذہب تھا اور مغل شہنشاہان اسلام کے بہت پابند ہوا کرتے تھے۔ان میں اورنگزیب عالمگیر زیادہ شہرت رکھتے تھے۔ باقی شہنشاہ بھی اسلام کی پیروی کے لحاظ سے جانے جاتے ہے۔انہوں نے نہ صرف اسلامی قوانین رائج کیے اور اسلامی حکومت کو برصغیر کے کونے کونے میں پھیلانے کی بھرپور کوشش کی۔مغلوں میں جانشینی کا کوئی قانون نہیں تھا ایک بادشاہ کے مرنے کے بعد اس کے بیٹوں اور رشتہ داروں کے درمیان جنگ چھڑ جاتی جو شہزادہ اپنے حریفوں کو شکست دے دیتا وہ تخت مغلیہ کا وارث بن جاتا۔ زیر تبصرہ کتاب"وسط ایشیا کے مغل حکمران"محترم قاضی محمد اقبال چغتائی بائقرہ صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مغلیہ سلطنت کی اسی تاریخ اور عروج وزوال کو بیان کیا ہے۔(راسخ)

  • 1117 #4160

    مصنف : قاضی محمد اقبال چغتائی

    مشاہدات : 2817

    وسط ایشیاء کے مغل حکمران

    (پیر 29 فروری 2016ء) ناشر : چغتائی ادبی ادارہ لاہور

    مغلیہ سلطنت 1526ء سے 1857ء تک برصغیر پر حکومت کرنے والی ایک مسلم سلطنت تھی۔جس کی بنیادظہیر الدین بابر نے 1526ء میں پہلی جنگ پانی پت میں دہلی سلطنت کے آخری سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دے کر رکھی تھی۔ مغلیہ سلطنت اپنے عروج میں تقریباً پورے برصغیر پر حکومت کرتی تھی، یعنی موجودہ دور کے افغانستان، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے ممالک پر مشتمل خطے پر انکا دور دورہ تھا۔مغلیہ سلطنت کا سرکاری مذہب اسلام تھا۔ تاہم اکبراعظم کے دور میں کچھ عرصے تک اکبر کا ایجاد کردہ مذہب (دین الٰہی) رائج کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیکن اس کا عوام پر کوئی اثر نہ پڑا اور وہ بہت جلد ہی ختم ہوگیا۔ باقی تمام شہنشاہوں کے دور میں اسلام ہی سرکاری مذہب تھا اور مغل شہنشاہان اسلام کے بہت پابند ہوا کرتے تھے۔ان میں اورنگزیب عالمگیر زیادہ شہرت رکھتے تھے۔ باقی شہنشاہ بھی اسلام کی پیروی کے لحاظ سے جانے جاتے ہے۔انہوں نے نہ صرف اسلامی قوانین رائج کیے اور اسلامی حکومت کو برصغیر کے کونے کونے میں پھیلانے کی بھرپور کوشش کی۔مغلوں میں جانشینی کا کوئی قانون نہیں تھا ایک بادشاہ کے مرنے کے بعد اس کے بیٹوں اور رشتہ داروں کے درمیان جنگ چھڑ جاتی جو شہزادہ اپنے حریفوں کو شکست دے دیتا وہ تخت مغلیہ کا وارث بن جاتا۔ زیر تبصرہ کتاب"وسط ایشیا کے مغل حکمران"محترم قاضی محمد اقبال چغتائی بائقرہ صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مغلیہ سلطنت کی اسی تاریخ اور عروج وزوال کو بیان کیا ہے۔(راسخ)

  • 1118 #3645

    مصنف : ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر

    مشاہدات : 1669

    وعدہ

    (منگل 06 اکتوبر 2015ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان  میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں سے بھر پور ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا  لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب "وعدہ" محترم ڈاکٹر محمد افتخار صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے ایک منفرد اور کہانی کے انداز میں شہد اورشہد کی مکھی کے حوالے سے  متعدد سائنسی ودینی  معلومات کو بڑے خوبصورت پیرائے میں جمع  کردیاہے۔یہ کتاب پاکستان کے معروف  عالمی طباعتی ادارے  مکتبہ دارالسلام کی طرف سے بچوں کی اصلاح وتربیت کے لئے شروع کئے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔مکتبہ دار السلام نے بچوں کے لئے اس کے علاوہ بھی متعدد کتب تیار کی ہیں ،جن میں سے اکثر کتب ہماری اس سائٹ پر موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور ناشر کی بچوں کی اصلاح وتربیت کی حوالے سے کی جانے والی ان کوششوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمارے بچوں کو صحیح معنوں میں مسلمان اور اہل ایمان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 1119 #3646

    مصنف : اشفاق احمد خان

    مشاہدات : 1350

    وفا کا پیکر

    (بدھ 07 اکتوبر 2015ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان  میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں سے بھر پور ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا  لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب "وفا کا پیکر" محترم اشفاق احمد خاں صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے ایک منفرد اور کہانی کے انداز میں معروف صحابی رسول سیدنا اسامہ بن زید  کے سیرت وسوانح کو بڑے خوبصورت پیرائے میں جمع  کردیاہے۔یہ کتاب پاکستان کے معروف  عالمی طباعتی ادارے  مکتبہ دارالسلام کی طرف سےدور نبوت کے بچوں کے حوالے سے شروع کئے گئے  سلسلے کی ایک کڑی ہے۔یہ کتاب ایک عظیم اور مجاہد صحابی کی داستان ہے ، جس میں دلچسپی کا عنصر بھی ہے اور دل پہ  چھا جانے والا گہرا اثر بھی ہے۔مکتبہ دار السلام نے بچوں کے لئے اس کے علاوہ بھی متعدد کتب تیار کی ہیں ،جن میں سے اکثر کتب ہماری اس سائٹ پر موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور ناشر کی بچوں کی اصلاح وتربیت کی حوالے سے کی جانے والی ان کوششوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمارے بچوں کو صحیح معنوں میں مسلمان اور اہل ایمان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 1120 #5063

    مصنف : زبیر طارق

    مشاہدات : 943

    وفا کی خوشبو

    (جمعہ 06 جنوری 2017ء) ناشر : دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی یونیورسٹی، اسلام آباد

    اللہ تعالی اور نبی کریمﷺ نے ایک پاکیزہ مثالی معاشرہ قائم کرنے کے لئے اس کے جملہ خدوخال کو بیان فرمایا،ان خوبیوں کو بیان فرمایاجو کسی بھی کامیاب معاشرے کا حسن ہوتی ہیں اور ان مفاسد اور گمراہیوں کو بھی کھول کھول کر بیان فرمایا جو معاشرتی حسن کو دیمک کی طرح کاٹ لیتی ہیں اور پورا معاشرہ شکست و ریخت کا شکار ہو جاتا ہے۔ قرآن مجید فرقان حمید نے اوامر ونواہی کے ساتھ ساتھ جو ماضی کی اقوام وملل کے قصص بیان فرمائے ہیں ان کا مقصد محض واقعات بیان کرنا نہیں بلکہ ان اقدار عالیہ اور اوصاف حمیدہ کو بیان کرنا مقصد ہے جنہیں اپنا کر مختلف اقوام کی تقدیر کا ستارہ کمال بلندی پر چمکا۔ دعوہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد اقدار اسلامیہ کو پروان چڑھانے اور اخلاقی برائیوں کے تدارک کے لئے جہاں مختلف ٹریننگ پروگرامز کا اہتمام کرتی ہے وہیں مختلف طبقات کے لئے آسان اور سلیس زبان میں قرآن وسنت کی روشنی میں ضخیم کتب کے ساتھ ساتھ کتابچہ جات کی طباعت کا بھی اہتمام کرتی رہتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" وفا کی خوشبو" بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں دعوہ اکیڈمی کی جانب سے شائع کئے جانے والے مجلے ماہنامہ "دعوۃ" کے مدیر جناب زبیر طارق نے سیرت نبویﷺ پر چند واقعات کو قلمبند کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی  بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

< 1 2 ... 109 110 111 112 113 114 115 ... 121 122 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1247
  • اس ہفتے کے قارئین 5111
  • اس ماہ کے قارئین 43505
  • کل قارئین49299579

موضوعاتی فہرست