دکھائیں کتب
  • 1111 وفود عرب بارگاہ نبوی میں (جمعہ 14 جون 2013ء)

    مشاہدات:5880

    تاریخ اس امر پرشاہد عادل ہےکہ حضورﷺنےمدینہ منورہ میں  جب  اسلامی ریاست کی تشکیل وتاسیس فرمائی تو اللہ تعالی کے فضل عمیم سے حضور کی تبلیغی مساعی کےنتیجےمیں  آپ ﷺ کی حیات مبارکہ میں صرف دس برس  کے قلیل عرصےمیں سلطنت اسلامی کا حصہ دس لاکھ مربع میل  اور ایک رائے کے مطابق بارہ لاکھ مربع میل وسیع ہوگیا ۔اتنی تھوڑی سی مدت میں اتنی عظیم کامیابی  کاراز آپﷺکا وہ تبلیغی نظام تھاجو رب کائنات نےآپ کو سجھایا تھا۔اس وسیع تبلیغی نظام میں وفود کاکردار بھی بیحد اہمیت کاحامل ہے کیونکہ ان لوگوں نےاپنے قبائل میں تبلیغ کا فریضہ بڑی سرگرمی سے انجام دیا۔یہ کہانابجاہوگا کہ وفود کا تذکرہ سیرت طیبہ کاایک اہم باب ہے۔یہ وفود مختلف النوع مقاصد کی حاطر آنحضرت کی خدمت میں  آیاکرتےتھے۔ان مقاصدمیں سے تلاش حق،تفقہ فی الدین،مفاخرت،خوابوں کی تعبیر،صلح وامن کا پیغام اوربعض آپ کو شہید کرنےکے ناپاک عزائم کیلے آئے تھے۔زیر نظرکتاب میں ،محترم جناب طالب ہاشمی صاحب نےسیرت طیبہ کے اسی باب کو بڑے احسن اندازمیں بیان کرنےکی کوشش فرمائی ہے۔(ع۔ح)
     

  • 1112 وما ارسلناک الا رحمۃ اللعالمین (اتوار 25 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:2525

    رسول اکرمﷺ کی مبارک زندگی ہر شعبے سے منسلک افراد کے لیے اسوۂ کامل کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کوئی مذہبی پیشوا، سیاسی لیڈر، کسی نظریے کا بانی حتی کہ سابقہ انبیائے کرام ﷩ کےماننے والے بھی اپنے پیغمبروں کی زندگیوں کو ہرشعبے سے منسلک افراد کےلیے نمونہ کامل پیش نہیں کرسکتے۔ یہ یگانہ اعزاز وامتیاز صرف رسالت مآب ﷺ ہی کو حاصل ہے ۔اور ہر دلعزیز سیرتِ سرورِ کائنات کا موضوع گلشنِ سدابہار کی طرح ہے ۔جسے شاعرِ اسلام سیدنا حسان بن ثابت ﷜ سے لے کر آج تک پوری اسلامی تاریخ میں آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے جملہ گوشوں پر مسلسل کہااور لکھا گیا ہے او رمستقبل میں لکھا جاتا رہے گا۔اس کے باوجود یہ موضوع اتنا وسیع اور طویل ہے کہ اس پر مزید لکھنے کاتقاضا اور داعیہ موجود رہے گا۔ دنیا کی کئی زبانوں میں بالخصوص عربی اردو میں بے شمار سیرت نگار وں نے سیرت النبی ﷺ پر کتب تالیف کی ہیں۔ اردو زبان میں سرت النبی از شبلی نعمانی ، رحمۃللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری اور مقابلہ سیرت نویسی میں دنیا بھر میں اول آنے والی کتاب   الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کو بہت قبول عام حاصل ہوا۔ زیر تبصرہ کتاب’’ رحمۃ للعالمین‘‘ برصغیر کے معروف سیرت نگار قاضی سلیمان منصورپوی﷫ کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب سیرت النی ﷺ مقبول ترین کتاب ہے۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں قرآن وسنت کےدلائل کےساتھ ساتھ دیگر مذاہب کی کتب (تورات، انجیل وغیرہ ) سے پیغمبر آخر الزمان ﷺ کی صداقت بیان کی گئی ہے۔ رسول ِ ہاشمی پر یہود وہنود اورنصاریٰ کےاعتراضات کےمدلل جوابات دئیے گئے ہیں۔اس کتاب کی مقبولی...

  • 1113 ٹیپو سلطان (شیرِ میسور) (جمعرات 26 فروری 2015ء)

    مشاہدات:3010

    ٹیپوسلطان برصغیرِ کا وہ اولین مجاہد آزادی اور شہید آزادی ہے جس نے آزادی کی پہلی شمع جلائی اور حریت ِفکر، آزادی وطن اور دینِ اسلام کی فوقیت و فضیلت کے لیے اپنی جان نچھاور کردی تھی، ٹیپوسلطان نے حق و باطل کے درمیان واضح فرق و امتیاز قائم کیا اور پرچم آزادی کو ہمیشہ کے لیے بلند کیا تھا۔ ٹیپوسلطان 1750 میں بنگلور کے قریب ایک قصبے میں پیدا ہوا ۔ٹیپوسلطان کا نام جنوبی ہندوستان کے ایک مشہور بزرگ حضرت ٹیپو مستان کے نام پر رکھا گیا تھا، ٹیپوسلطان کے آباؤ اجداد کا تعلق مکہ معظمہ کے ایک معزز قبیلے قریش سے تھا جو کہ ٹیپوسلطان کی پیدائش سے اندازاً ایک صدی قبل ہجرت کرکے ہندوستان میں براستہ پنجاب، دہلی آکر آباد ہوگیا تھا۔ٹیپوسلطان کے والد نواب حیدر علی بے پناہ خداداد صلاحیتوں کے حامل شخص تھے جو ذاتی لیاقت کے بے مثال جواں مردی اور ماہرانہ حکمت عملی کے سبب ایک ادنیٰ افسر ’’نائیک‘‘ سے ترقی کرتے ہوئے ڈنڈیگل کے گورنر بنے اور بعد ازاں میسور کی سلطنت کے سلطان بن کر متعدد جنگی معرکوں کے بعد خود مختار بنے اور یوں 1762 میں باقاعدہ ’’سلطنت خداداد میسور‘‘ (موجودہ کرناٹک) قائم کی۔ 20 سال تک بے مثال حکمرانی کے بعد نواب حیدر علی 1782 میں انتقال کرگئے اور یوں حیدر علی کے ہونہار جواں سال اور باہمت فرزند ٹیپوسلطان نے 1783 میں ریاست کا نظم و نسق سنبھالا۔دنیا کے نقشے میں ہندوستان ایک چھوٹا سا ملک ہے اور ہندوستان میں ریاست میسور ایک نقطے کے مساوی ہے اور اس نقطے برابر ریاست میں سولہ سال کی حکمرانی یا بادشاہت اس وسیع وعریض لامتناہی کائنات...

  • 1114 پانچ عظیم مسلم سپہ سالار (جمعہ 29 مارچ 2013ء)

    مشاہدات:22812

    دور جدید میں نئی نسل کی تاریخ اسلام میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے وہ اسلام کے تاریخی واقعات پر مبنی کتب کا مطالعہ کرتے ہوئے بوریت محسوس کرتے ہیں حالانکہ ہر دور میں نئی نسل کے لیے بہادری کی ان داستانوں کا پڑھنا نہایت ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ ان عظیم لوگوں کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں اور آنے والے دنوں کے لیے تاریخ میں  اپنا اور اپنے ملک کا نام رقم کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ایسے بے شمار سپہ سالاروں سے نوازا جنھوں نے مختلف مواقع پر مسلمانوں کی بہت بڑی بڑی فتوحات سے ہمکنار کیا۔ زیر تبصرہ کتاب میں عبدالصمد مظفر نے ان میں سے 5 سپہ سالاروں کا انتخاب کیا ہے۔ جن میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، محمد بن قاسم، طارق بن یزید، یوسف بن تاشفین اور امیر تیمور کے نام شامل ہیں۔ اسلامی لشکر کے یہ جانباز سپہ سالار میدانِ جنگ میں دشمن کے لیے موت اور اپنوں کے لیےامن و راحت کے پیامبر تھے۔ اسلام کے ان عظیم سپہ سالاروں نے اپنی منزل کا تعین کرتے ہوئے جب بھی قدم بڑھائے تو رفعت و عظمت کے پھول ان کے استقبال کے لیے بکھرتے چلے گئے۔ ان عظیم سپہ سالاروں کی زندگی کے حالات و واقعات کے مطالعے سے قارئین میں ایک نیا جوش و ولولہ بیدار ہوگا جو دنیا کے مسلمانوں کا مستقبل مزید محفوظ بنا سکتا ہے۔(ع۔م)

  • 1115 پاکستان تصور سے حقیقت تک (جمعرات 17 اکتوبر 2013ء)

    مشاہدات:4106

    جدوجہد پاکستان ایک تاریخی باب ہے ۔جو کئی فصول پر مشتمل ہے۔عام طور پر اس تاریخی جدوجہد کا آغاز شاہ ولی اللہ  کے حوالے سے بتایا جاتا ہے۔لیکن تاریخی طور پر یہ  ثابت ہے کہ شاہ صاحب نے جس  فکری و عملی تحریک  کی اساس رکھی تھی وہ خالصتا اسلامی تھی۔ مثلا سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل  شہید  نے پشاور او رخیبر پختون خوان میں ایک ایسی ریاست قائم کی جو حقیقی معنوں میں شاہ صاحب  کے خواب کی تعبیر تھی۔جس میں  صحیح معنوں  میں اسلامی نظام کا قیام کیا گیا۔  لیکن گزشتہ سے پیوستہ  صدی کے انتہائی اور گزشتہ صدی کے  ابتدائی عرصے میں تحریک جدوجہد پاکستان کی قیادت ایک ایسے گروہ کے ہاتھ آئی جس  کا تصور اسلام ،سلف کے تصور اسلام سے  بوجوہ مختلف تھا۔چنانچہ تخلیق پاکستان کے بعد اس ملک کو ایسی پالیسیوں کے مطابق چلانے کی کوشش کی گئی  جن کا قبلہ کعبے کی بجائے  کوئی اور تھا۔عام طور پر یہ باور کرایا جاتا ہے کہ تخلیق پاکستان کے لیے  ہونے والی کوششوں کے  مرکزی کردار محمدعلی جناح اور اقبال  ہیں ۔ یہ کتاب انہی دونوں شخصیتوں کے ان باہمی روابط پر مشتمل   دستاویز ہے جو جدوجہد کے دوران ہوئے ۔اللہ پاکستان کو صحیح معنوں اسلامی نظام کی آماجگاہ بنائے۔ آمین۔(ع۔ح)
     

  • 1116 پاکستان قائم رہنے کے لیے بنا ہے (جمعہ 07 اپریل 2017ء)

    مشاہدات:855

    " تحریک پاکستان اصل میں مسلمانوں کے قومی تشخص اور مذہبی ثقافت کے تحفظ کی وہ تاریخی جدو جہد تھی جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ اور بحیثیت قوم ان کی شناخت کو منوانا تھا ۔ جس کے لیے علیحدہ مملکت کا قیام از حد ضروری تھا ۔یوں تو تحریک پاکستان کا باقاعدہ آغاز 23 مارچ 1940 کے جلسے کو قرار دیا جا سکتا ہے مگر اس کی اصل شروعات تاریخ کے اس موڑ سے ہوتی ہے جب مسلمانان ہند نے ہندو نواز تنظیم کانگریس سے اپنی راہیں جدا کر لی تھی ۔ 1930 میں علامہ اقبال نے الہ آباد میں مسلم لیگ کے اکیسیوں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے باضابطہ طور پر بر صغیر کے شمال مغبر میں جداگانہ مسلم ریاست کا تصور پیش کر دیا ۔ چودھری رحمت علی نے اسی تصور کو 1933 میں پاکستان کا نام دیا ۔ سندھ مسلم لیگ نے 1938 میں اپنے سالانہ اجلاس میں بر صغیر کی تقسیم کے حق میں قرار داد پاس کر لی ۔ علاوہ ازیں قائد اعظم بھی 1930 میں علیحدہ مسلم مملکت کے قیام کی جدو جہد کا فیصلہ کر چکے تھے ۔1940 تک قائد اعظم نے رفتہ رفتہ قوم کو ذہنی طور پر تیار کر لیا ۔23مارچ 1940 کے لاہور میں منٹو پارک میں مسلمانان ہند کا ایک عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا جس میں تمام ہندوستان کے مختلف علاقوں سے مسلمانوں نے قافلے کی صورت سفر کرکے شرکت کی اور ایک قرار داد منظور کی جس کے مطابق مسلمانان ہند انگریزوں سے آزادی کے ساتھ ساتھ ہندوؤں سے بھی علیحدہ ریاست چاہتے تھے ۔ زیر تبصرہ کتاب" پاکستان قائم رہنے کے لئے بنا ہے "محترم  میجر سید حیدر حسن(ریٹائرڈ) کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے پاکستان کی بقاء کے لئے موجودضروری ام...

  • 1117 پاکستان ناگزیر تھا (پیر 07 مئی 2018ء)

    مشاہدات:1388

    مسلمانوں کی کوشش سے برصغیر ہند کی تقسیم اور خود مختار اعتقادی دولت کی حیثیت سے پاکستان کا قیام ایسا واقعہ ہے کہ اس پر ہمیشہ گفتگو رہے گی کہ ساری دنیا کی مخالفت کے باوجود یہ کیسے ہو گیا۔ برصغیر پر انگریزوں کے تسلط کے ساتھ ہی مسلمان ایسی سخت سیاسی الجھن میں مبتلا ہونے کہ دنیا کے کسی حصے میں کوئی دوسری قوم نہیں ہوئی۔ وہ برصغیر میں‘ جسے بڑے اہتمام سے اور بڑی بدنیتی سے‘ ایک ملک کہا جاتا تھا‘ تنہا ایک قوم نہیں تھے بلکہ ہندو دوسری قوم تھے جن کی آبادی میں کثرت تھی‘ جنہوں نے مسلمانوں کی فیاضانہ حکومت میں سات سو برس دولت سمیٹی تھی اور اپنے توہمات اور تعصبات کو ترقی دینے کے لیے بالکل آزاد رہے تھے۔ وہ مسلمانوں کی مخالفت کے لیے کھل کر سامنے آگئی۔ انہوں نے ہندوستان پر انگریزوں کا تسلط قائم کرنے میں انگریزوں کا پورا ساتھ دیا۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص تاریخ پاکستان کے حوالے سے ہے جس میں مصنف نے انگریزی مواد کو بھی اقتباسات کی شکل میں افادۂ عام کے لیے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے اور پاکستان کے وجود میں آنے کی تاریخ کو امت کے سالاروں کے کارناموں اور ان کی ان تھک کاوشوں کو کتاب کی زینت بنایا ہے۔ اس کتاب کو تیس ابواب پر منقسم کیا گیا ہے، یہ کتاب نہایت ضخیم اور مفصل کتاب ہے جس میں اہم ترین مضامین کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ پاکستان ناگزیر تھا ‘‘ سید حسن ریاض  کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب...

  • 1118 پاکستان کا جوہری پروگرام قومی سلامتی کے تناظر میں (جمعرات 04 فروری 2016ء)

    مشاہدات:1135

    قوموں کے عروج و زوال کی داستان اس حقیقت پر شاہد ہے کہ قومی دفاع اور ملکی سلامتی سے غفلت برتنے والی اقوام با لآخر اپنی آزادی اور استقلال کو کھو دیتی ہیں اور اغیار کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ لی جاتی ہیں۔ پاکستان کا مسئلہ یہ رہا ہے کہ برصغیر کے جذبہ ایمانی سے سرشار مسلمانوں کی ایک بھرپور تحریک اور لازوال شہادتوں اور قربانیوں کے نتیجہ میں ہم جس عظیم ملک کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، پچھلے تقریباً پچاس(50) سالوں کے دوران اس کی بقاء اور سلامتی کے تقاضوں کو کما حقہ سمجھنے، ان کے حصول کے لیے مناسب پالیسیوں کی تشکیل اور پھر ہم ان پر خلوص نیت سے عمل پیرا ہونے میں مسلسل ناکام چلے آ رہے ہیں۔ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں پاکستان کی سلامتی کو گوناگوں خطرات کاسامنا ہے۔ ایک طرف ہم بھارت کے جارحانہ عزائم کا نشانہ ہیں جس نے کبھی پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور دوسری طرف کرّاہ ارض پر اپنی بالادستی کے قیام کی خواہشمند مغربی اقوام کے خطرناک ارادے ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کو"خطرہ" اور"دہشت گرد" بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اور یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ان"دہشت گردوں" کی ہتھیاروں تک رسائی مستقبل میں انسانیت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"پاکستان کا جوہری پروگرام قومی سلامتی کے تناظر میں" محمد الیاس خان کی نہایت فکر انگیز تصنیف ہے۔ جس میں ہندو مسلم نظریاتی تصادم، صہونی عزائم، پاکستان اور بھارت کے جوہری پروگرام اور دیگر اہم موضوعات کو موصوف زیر بحث لائے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں کو شرف قبولیت سے ن...

  • 1119 پاکستان کی سیاسی جماعتیں (جمعہ 29 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:2439

    دنیا میں بہت سے ممالک ایسے ہوں گے جہاں صرف دو یا گنتی کی تین، چار سیاسی جماعتیں ہوں گی لیکن پاکستان میں ان جماعتوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔پاکستان ایک کثیر سیاسی جماعتیں رکھنے والا ملک ہے، جن کی تعداد اڑھائی سو کے قریب ہے۔ان میں سے کچھ مذہبی اور کچھ لسانی جماعتیں بھی ہیں اور بعض جماعتیں ایسی بھی ہیں جن کا نام کے سوا کوئی عملی وجود نہیں ہے۔ان میں سے ہر جماعت کا اپنا منشور اور آئین ہے جس کے مطابق وہ اپنی سیاسی زندگی گزار رہی ہے اور انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔پاکستان کی سب سے پہلی سیاسی جماعت مسلم لیگ تھی جس کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔اس کے بعد بے شمار جماعتیں وجود میں آتی گئیں۔ زیر تبصرہ کتاب" پاکستان کی سیاسی جماعتیں" محترم پروفیسر محمد عثمان اور مسعود اشعر صاحبان  کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے پاکستان کی 16  بڑی سیاسی جماعتوں  کے پروگرامز اور ان کے منشور کو بعینہ یہاں جمع کردیا ہے اور اس میں کسی قسم کا ردو بدل نہیں کیا تاکہ ہر کوئی ان جماعتوں کے منشور سے آگاہی حاصل کر سکے۔یہ کتاب سیاسی جماعتوں کے حوالے سے ایک مفید ترین کتاب ہے اور اپنے موضوع پر مصدر کی حیثیت رکھتی ہے۔سیاست کے طالب علموں کو اس کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔(راسخ)

  • 1120 پاکستان کی نامور خواتین (منگل 14 نومبر 2017ء)

    مشاہدات:796

    برصغیر کے مسلمانوں نے حصول پاکستان کی جد و جہد میں جس ضبط و نظم، خلوص، ایثار اور قربانی کا عملی مظاہرہ کیاہے وہ یقینا ہماری تاریخ کا ایک ایسا درخشندہ باب ہے جو ےنے والی نسلوں کے لئے مشعلے راہ کا کام دیتا رہے گا۔ یہ تریخی ورثہ ایک ایسا نادر سرمایہ ہےجس کی تانباکی ہر زمانے میں روشنی کے مینار کا کام دے گی۔ اس سرمائے کا تحفظ ہمارا قومی فریضہ ہے۔اگرچہ تحریک پاکستان پر مختلف زاویہ ہائے نظر سے کتابیں لکھی جا چکی ہیں لیکن ان نامور خواتین کے حالات ابھی تک زیور طبع سے آراستہ نہیں ہو سکے جنہوں نے تحریک آزادی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاریخی حقائق اس امر کے متقاضی تھے کہ قوم کی اُن مایہ ناز خواتین کی جدو جہد آزادی اور سماجی وملّی خدمات کو ایک جامع اور مبسوط کتاب کی شکل میں محفوظ کر کے تاریخی ذمہ داریوں کو پورا کیا جائے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ پاکستان کی نامور خواتین‘‘ عزیز جاوید کی ہے جس میں کہ قوم کی اُن مایہ ناز خواتین کی جدو جہد آزادی اور سماجی وملّی خدمات کو ایک جامع اور مبسوط کتاب کی شکل میں محفوظ کر کے تاریخی ذمہ داریوں کو پورا کیا گیا ہے۔اس کتاب کا مطالعہ یقینا نئی پود کے لئے فکر و نظر کے نئے زاویے پیدا کرنے میں مدد دے گا۔ ہم مصنف اور دیگر ساتھیوں کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے ۔آمین۔ طالب دعا: پ،ر،ر

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 568
  • اس ہفتے کے قارئین: 4070
  • اس ماہ کے قارئین: 31764
  • کل قارئین : 45910083

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں