دکھائیں کتب
  • ڈاکٹر لقمان سلفی ﷾ 1943ءکو بھارت میں پیدا ہوئے او ردار العلوم  احمد سلفیہ دربھگنہ ،بہار میں  دینی تعلیم حاصل کی  اس دوران ہی آپ کا داخلہ مدینہ یونیورسٹی  میں ہوگیا تو باقی تعلیم آپ نے مدینہ یونیورسٹی میں  حاصل کی۔ مدینہ یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرکے آپ مفتی دیار سعودیہ فضیلۃ الشیخ ابن باز ﷫کے سیکرٹری کے طور پر کام کرتے رہے ۔بلکہ ان کے معتمد خاص بنے۔ علماء کرام عموماً ان کی وساطت سے شیخ مرحوم سے رابطہ کیاکرتے تھے۔ شیخ بن باز کی خصوصی سفارش بلکہ حکم پر انہیں سعودی شہریت دی گئی اب ماشاء اللہ ان کے بیٹے بھی ڈاکٹر یٹ کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں ۔ماشاء اللہ بڑی مطمئن زندگی گزار رہے ہیں ۔ شیخ لقمان صاحب کی بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ منہج اسلاف اہل الحدیث کے بہت بڑے وکیل ہیں۔موصوف  نے   عربی اردو زبان  میں کئی کتب تصنیف کیں ۔تفسیر ’’تیسیر الرحمن لبیان القرآن ‘‘آپ  ہی کی   تصنیف ہے۔اور آپ سرزمینِ ہند کے عظیم ادارہ جامعہ امام ابن تیمیہ، مدینۃالسلام، بہار کے  مؤسس و رئیس بھی    ہیں۔31؍ جنوری 2009ءجامعہ امام ابن تیمیہ کے اعلیٰ تعلیمی ادارے المعہد العالی للتخصص فی التدریس والتربیۃکے افتتاحی پروگرام میں جامعہ سلفیہ بنارس کے رئیس، اُستاذ الاساتذہ علامہ ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری﷫  اور شیخ حفیظ الرحمن اعظمی (اُستاذ جامعہ دارالسلام، عمر آباد) کو بحیثیت ِمہمانِ خصوصی مدعو کیا گیا ۔تو ڈاکٹر مقتدی حسن ازہر ی ﷫ اس وقت جامعہ ابن تیمیہ  کی نشاطات اور ڈاکٹر محمد لقمان سلفی ﷾  کی خدمات...

  • 282 کاروان زندگی (منگل 31 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:1641

    سیدابو الحسن علی حسنی ندوی 24 مشہور بہ علی میاں ؍نومبر 1914ء کو رائے بریلی،بھارت میں ایک علمی خاندان میں پیدہوئے ۔ ابتدائی تعلیم اپنے ہی وطن تکیہ، رائے بریلی میں حاصل کی۔ علی میاں نے مزید اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے لکھنؤ میں واقع اسلامی درسگاہ دار العلوم ندوۃ العلماء کا رخ کیا۔اور وہاں سے علوم اسلامی میں سند فضیلت حاصل کی ۔ علی میاں نے عربی اور اردو میں پچاس سے زائد متعدد کتابیں تصنیف کی ہیں ۔ یہ تصانیف تاریخ، الہیات، سوانح موضوعات پر مشتمل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سمیناوروں میں پیش کردہ ہزاروں مضامین مقالات اورتقاریر بھی موجود ہیں۔علی میاں کی ایک انتہائی مشہور عربی تصنیف’’ ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمين ‘‘ہے جس کے متعدد زبانوں میں تراجم ہوئے، اردو میں ا س کا ترجمہ’’ انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔آپ کی تصانیف میں ایک ضخیم تصنیف ’’ تاریخ دعوت وعزیمت‘‘ ہے جو کہ آٹھ جلدوں پر مشتمل ہے۔ موصوف بھر پورعلمی زندگی گزار کر 31؍1999ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔ان کی وفات پر پاک وہند کے کئی رسائل وجرائد میں ان کی حیات وخدمات کےمتعلق مضامین شائع ہوئے اور متعدد مجلات نےان کی حیات وخدمات پر مشتمل ضخیم خاص نمبر بھی شائع کیے اور کئی اصحاب قلم نے ان کی سیرت وسوانح ، خدمات پر مستقل کتب بھی تصنیف کیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ کاروانِ زندگی ‘‘مولانا سید ابو الحسن علی ندوی﷫ کی خودنوشت سرگزشت ِ حیا ت ہے۔ اس میں سیدابو الحسن ندوی کی ذاتی زندگی کےمش...

  • 283 کاروان سلف حصہ اول (منگل 04 جون 2019ء)

    مشاہدات:817

    برصغیر پاک و ہند میں علمائے اہل حدیث نے اسلام کی سربلندی ، اشاعت ، توحید و سنت نبوی ﷺ ، تفسیر قرآن کےلیے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے او رعلمائے اہلحدیث نے مسلک صحیحہ کی اشاعت و ترویج میں جو فارمولا پیش کیا اس سے کسی بھی پڑھے لکھے انسان نے انکار نہیں کیا ۔علمائے اہلحدیث نے اشاعت توحید و سنت نبویﷺاور اس کے ساتھ ہی ساتھ شرک و بدعت کی تردید میں جو کام کیاہے اور جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔پنجاب میں تدریسی خدمت کے سلسلہ میں استاد پنجاب مولانا حافظ عبدالمنان محدث و زیر آبادی ﷫  (م1334ھ) کی خدمات بھی سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔مولانا حافط عبدالمنان ﷫حضرت شیخ الکل کے نامورتلامذہ میں سے تھے اور فنّ حدیث میں اپنے تمام معاصر پر فائز تھے۔ آپ نے اپنی زندگی میں 80 مرتبہ صحاح ستہ پڑھائی۔ آپ کے تلامذہ میں ملک کے ممتاز علمائے کرام کا نام آتاہے اورجن کی اپنی خدمات بھی اپنے اپنے وقت میں ممتاز حیثیت کی حامل ہیں۔ مولانا سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں:’’علمائے اہلحدیث کی تدریسی و تصنیفی خدمات قدر کے قابل ہے۔ پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں﷫ (م1307ھ) کے قلم او رمولانا سید محمد نذیر حسین دہلوی﷫ (م1320ھ) کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا۔ بھوپال ایک زمانہ تک علمائے اہلحدیث کا مرکز رہا۔ قنوج، سہوان اوراعظم گڑھ کے بہت سے نامور اہل علم اس ادارہ میں کام کررہے تھے۔ شیخ حسین عرب یمنی﷫ (م327ھ) ان سب کے سرخیل تھے اوردہلی میں مولانا سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی اہل حدیث  علماء 

  • 284 کالا پانی (پیر 23 نومبر 2015ء)

    مشاہدات:2801

    ہندوستان کی  فضا میں  رشد وہدیٰ کی روشنیاں بکھیرنے کے لیے  اللہ تعالیٰ نے   اپنے  فضل  خاص سے ایک ایسی شخصیت کو پید ا فرمایا جس نے  اپنی  قوت ایمان اور علم وتقریر کے زور سے کفر وضلالت کے بڑے بڑے بتکدوں میں زلزلہ بپا کردیا اور شرک وبدعات کے  خود تراشیدہ بتوں کو  پاش پاش کر کے  توحیدِ خالص  کی اساس قائم کی   یہ شاہ  ولی اللہ  دہلوی  کے پوتے  شاہ اسماعیل  شہید  تھے ۔ شیخ  الاسلام ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب کے بعد  دعوت واصلاح میں امت کے لیے  ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں انہو ں نے نہ صرف قلم سےجہاد کیا بلکہ عملی طور پر حضرت سید احمد شہید کی  امارت میں تحریک مجاہدین میں شامل  ہوکر سکھوں  کے خلاف جہاد کرتے ہوئے 6 مئی 1831ء بالاکوٹ کے  مقام پر  شہادت کا درجہ حاصل کیا   اور ہندوستان کے ناتواں اور محکوم مسلمانوں کے لیے  حریت کی ایک  عظیم مثال قائم کی جن کے بارے   شاعر مشرق علامہ  اقبال نے  کہا  کہ ’’اگر مولانا محمد اسماعیل شہید کےبعد ان کے  مرتبہ کاایک مولوی بھی پیدا ہوجاتا تو آج ہندوستان کے مسلمان ایسی ذلت کی زندگی  نہ گزارتے۔ سید محمد اسماعیل شہید اور  ان کےبےمثل پیرو ومرشد سید احمد شہید اور ان کےجانباز رفقاء کی شہادت کےبعد  ،بقیۃ السیف مجاہدین نے دعوت واصلاح وجہاد کاعلم سرنگوں نے نہ ہونے دیا بلکہ اس بے سروسامانی  کی کیفیت میں اسے بلند سےبلند تر...

  • 285 کربلا سے بالا کوٹ تک (اتوار 19 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:2108

    اسلام دین فطرت ہے۔خدا کی عبادت اور اطاعت انسان کے خمیر میں شامل ،اور اس کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے۔ پالنے پوسنے والے کی پوجا ،پرستش اس کی فطرت کا حصہ ہے۔ہر انسانی بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے ۔ماں ،باپ ،ماحول اور سوسائٹی اگر اسے غلط راہوں پر نہ ڈال دے اور اسلام کی سادہ تعلیم اس کے سامنے آئے تو اس کی سادہ فطرت بہت آسانی سے اسے قبول کرنے کے لئے آمادہ ہو جاتی ہے۔ تاریخ میں کوئی گروہ ایسا نہیں گزرا جو کسی نہ کسی کو معبود مان کر اس کے آگے سر نیاز نہ جھکاتا ہو۔تاریخ اگر ایک طرف یہ ثبوت فراہم کرتی ہے کہ ہر گروہ اور قوم نے کسی نہ کسی خدا کو مان کر اسے پوجا ہے تو دوسری طرف یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ خدا پرستی کے سلسلہ میں انسانی افراد اور جماعتوں نے بارہا ٹھوکریں کھائی ہیں ۔فکر وعمل کے میدانوں میں بھٹک کر انسان ضلالت اور گمراہی کے عمیق غاروں اور کھڈوں میں جا گرا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی نے جماعت انسان کی راہنمائی کے لئے انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا اور نبی کریم ﷺ کے بعد بے شمار ایسے نیک اور مصلح پیدا کئے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اللہ تعالی کے پیغام اور وحی کو اگلی نسلوں تک پہنچایا۔ زیر تبصرہ کتاب "کربلا سے بالا کوٹ تک" محترم محمد سلیمان فرخ آبادی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے سیدنا حسین بن علی ﷢سے لیکر سید احمد شہید تک کے اکیس 21 شہداء ،محدثین اور معروف اہل علم کا تذکرہ کیا ہے۔ اللہ تعالی مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو ان عظیم ہستیوں کے نقش قدم پر چلنے توفیق دے۔ آمین(راسخ)

  • 286 گوانتاناموبے کی کہانی ملا ضعیف کی زبانی (پیر 21 نومبر 2011ء)

    مشاہدات:19195

    ملا عبدالسلام ضعیف طالبان دور حکومت میں پاکستان میں افغان سفیر تھے ،لیکن  نائن الیون کے بعد طالبان کے حکومت کے خاتمہ کے ساتھ ہی پاکستانی حکمرانوں نے بغیرتی کا لبادہ اوڑھا،شرم وحیا کی چادر تار تار کی اور سفلت اور کمینگی کے اس درجہ کو جا پہنچے کہ ڈالروں کی خاطر اپنے ہی ہم دین وہم وطن افراد کی بیوپاری شروع کر دی ۔اور نیٹو اور امریکہ کے مطالبات پر عرب وافغان مجاہدین اور پاکستانی درد دل رکھنے والے افراد کو قندھار جیل اور گوانتاناموبے جیسے بدنام ترین عقوبت خانوں میں جھونکنا شروع کیا۔حتی کہ سفیروں کا تحفظ جو ازلی اور بین الاقوامی قانون ہے اسے بھی بالائے طاق رکھتے ہوئے ملا عبدالسلام ضعیف افغان سفیر کو امریکہ کے حوالے کر دیا اور انہیں شدید ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ملا موصوف نے زیر نظر کتاب میں امریکیوں کے قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک ،مغرب کی اسلام دشمنی اور پوری دنیا پر عیسائیت کے غلبہ کی فکر کو کھول کر بیان کیا۔اور مغرب کا اصل کردار ،اسلام کی بیخ کنی اور اہل اسلام کی تذلیل پر سیر حاصل گفتگو کی ہے ۔زیر تبصرہ کتاب میں امریکہ ویورپ کا مکروہ چہرہ اور مذموم عزائم کی قلعی کھول دی ہے ۔اورجو مغرب پسند ،مغربی رواداری اور انسانی حقوق کی مالا جپتے نہیں تھکتے ان کے لیے حقائق کو سمجھنے کے لیے بہترین معاون ہے ۔(فاروق رفیع)
     

  • 287 ہم مسلمان کیوں ہوئے؟ (ہفتہ 20 فروری 2010ء)

    مشاہدات:18682

    اسلام اللہ تعالی کی طرف سے آسمانی دین ہے جس کی دعوت تمام انبیاء کرام نے مختلف اوقات میں مختلف انداز سے دی ہے اور جس نبی کے امتیوں نے اسے قبول کیا انہیں مسلم اور جنہوں نے قبول نہیں کیا انہیں غیر مسلم یا کافر سے نام سے موسوم کیا گیا-دین اسلام کی کی تعلیمات کے نزول کے لیے آخری مسلمہ حیثیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی ہے اسی لیے یہ تقاضا ہے کہ جب تک کوئی شخص آخر الزماں پیغمبر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار نہیں کرتا وہ مسلم کے درجے میں داخل نہیں ہوتا-اسی لیے اس کتاب میں مصنف نے ان لوگوں کے حالات کو یکجا کیا ہے جنہوں نے اسلام کا مطالعہ کیا اور اسلامی تعلیمات نے ان کواس چیز پر مجبور کر دیا کہ وہ احقاق حق کا اعلان برملا کریں اور ابطال باطل کا اظہار سر عام کر کے کائنات کے سامنے حقانیت اسلام کو واضح کریں-اس کتاب میں مصنف نے ایسے تمام لوگوں کے حالات و واقعات اور قبول اسلام سے پہلے کی حالت اور قبول اسلام کے بعد دلی اطمینان اور پیش آمدہ مسائل کو اکٹھا کر کے غیر مسلموں کو سوچ و بچار کا پیغام دیا ہے اور مسلمانوں کو نعمت اسلام سے سرفراز ہونے کی وجہ سے ایک مبارک باد کا پیغام دیا ہے کہ اللہ تعالی نے انہیں بغیر محنت کے اتنی بڑی دولت سے سرفراز فرمایا ہے-

  • 288 یاد رفتگاں (جمعرات 20 اکتوبر 2016ء)

    مشاہدات:2040

    تاریخ نویسی ہو یا سیرت نگاری ایک مشکل ترین عمل ہے ۔ اس کےلیے امانت ودیانت او رصداقت کاہونا از بس ضروری ہے۔مؤرخ کے لیے یہ بھی ضروری ہےکہ وہ تعصب ،حسد بغض، سے کوسوں دور ہو ۔تمام حالات کو حقیقت کی نظر سے دیکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتاہو ۔ذہین وفطین ہو اپنے حافظےپر کامل اعتماد رکھتا ہو۔حالات وواقعات کوحوالہ قرطاس کرتے وقت تمام کرداروں کا صحیح تذکرہ کیا گیا ہو ۔اس لیے کہ تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے کہ جس کے ذریعے انسان اپنا ماضی دیکھ سکتاہے اور اسلام میں تاریخ ، رجال اور تذکرہ نگار ی کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور یہ اس کے امتیازات میں سے ہے ۔بے شمارمسلمان مصنفین نے اپنے اکابرین کے تذکرے لکھ کر ان کےعلمی عملی،تصنیفی،تبلیغی اورسائنسی کارناموں کوبڑی عمدگی سے اجاگر کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتا ب’’یادرفتگان‘‘ برصغیر پاک وہند کے معروف سیرت نگار اور مؤرخ مولانا سید سلیمان ندوی ﷫ کی ان تحریروں اور مضامین کا مجموعہ ہے جو انہوں نےاپنی زندگی میں 1914 ءسے 1953 تک مختلف شخصیات کی وفات پر ان تذکرہ وسوانح کے متعلق تحریر کیے ۔اس کتاب میں 135 شخصیات کی سیرت وسوانح کو جمع کیا گیا ہے یہ مضامین اولاً مختلف رسائل میں شائع ہوئے بعد ازاں کو مرتب کر کے کتابی صورت میں شائع کیاگیا ہے ۔(م۔ا)

  • ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 2148
    • اس ہفتے کے قارئین: 4346
    • اس ماہ کے قارئین: 38367
    • کل قارئین : 47853556

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں