دکھائیں کتب
  • 141 نواب صدیق حسن خاں  کی خدمات حدیث (اتوار 06 نومبر 2016ء)

    مشاہدات:1886

    برصغیر میں علومِ اسلامیہ،خدمت ِقرآن اور عقیدہ سلف کی نصرت واشاعت کےسلسلے میں نواب صدیق حسن خاں﷫ (1832۔1890ء) صدیق حسن خان قنوجی رحمہ اللہ کی ذات والا صفات کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ علامہ مفتی صدر الدین ، شیخ عبد الحق محدث بنارسی ، شیخ قاضی حسین بن محسن انصاری خزرجی ۔ شیخ یحیی بن محمد الحازمی ، قاضی عدن ، علامہ سید خیر الدین آلوسی زادہ جیسے اعلام اور اعیان سے کسب ِفیض کیا۔آپ کی مساعی جمیلہ روزِروشن کی طرح عیاں ہیں ۔ عربی ، فارسی ، اردو تینوں زبانوں میں دو سو سے زائد کتابیں تصنیف کیں او ردوسرے علماء کو بھی تصنیف وتالیف کی طرف متوجہ کیا،ان کے لیے خصوصی وظائف کا بندوبست کیا او راسلامی علوم وفنون کے اصل مصادر ومآخذ کی از سرنو طباعت واشاعت کاوسیع اہتمام کیا۔نواب محمدصدیق حسن خان﷫ نے علوم ِاسلامیہ کے تقریبا تمام گوشوں سے متعلق مستقل تالیفات رقم کی ہیں اور شاید ہی کوئی ایسا دینی وعلمی موضوع ہو جس پر نواب صاحب نے کوئی مستقبل رسالہ یا کتاب نہ لکھی ہو۔حدیث پاک کی ترویج کا ایک انوکھا طریقہ یہ اختیار فرمایا کہ کتب ِاحادیث کے حفظ کا اعلان کیا۔ اوراس پرمعقول انعام مقرر کیا۔ چنانچہ صحیح بخاری کے حفظ کرنے پر ایک ہزار روپیہ اور بلوغ المرام کے کے حفظ کرنے ایک سو روپیہ انعام مقرر کیا۔ جہاں نواب صاحب نے خود حدیث اور اس کے متعلقات پر بیش قیمت کتابیں تصنیف کیں وہاں متقدمین کی کتابیں بصرف کثیر چھپوا کر قدردانوں تک مفت پہنچائیں۔دوسری طرف صحاح ستہ بشمول موطا امام مالک کے اردو تراجم و شروح لکھوا کر شائع کرانے کا بھی اہتمام کیا۔ تاکہ عوام براہ راست علوم سنت سے فیض یاب ہوں۔ ز...

  • 142 والدی و مشفقی (اتوار 31 اگست 2014ء)

    مشاہدات:1598

    خطیبِ  پاکستا ن مولانا محمد حسین شیخوپوری﷫ 1918ء ميں اس دنيا ميں تشريف لايا اور تقريباً پینسٹھ سال تك مختلف گلستانوں ميں چہچہاتا رہا اور وما جعلنا لبشر من قبلك الخُلد كے ازلى قانون كے تحت 6؍اگست 2005ء ميں ہميشہ كے لئے خاموش ہوگيا۔ آپ كو اللہ تبارك و تعالىٰ نے لحنِ داوٴدى عطا فرمايا تها اور جب آپ اپنى رسیلى اور سُريلى آواز سے قرآن كى آيات اور حضرت رسالت مآب كى مدح ميں اشعار پڑهتے تو لاكهوں سامعين وجد ميں آكر جهومنے لگتے۔ آپ نے كراچى تا خيبر چاروں صوبوں ميں لاتعداد جلسوں سے خطاب كيا، آپ كى زبان ميں الله تبارك و تعالىٰ نے بلا كى تاثير ركهى تهى۔جس جلسہ ميں آپ كا خطاب ہوتا اسے سننے كے لئے ديہاتوں كے گنوار اور شہروں كے متمدن لوگ يكساں طور پر كشاں كشاں چلے آتے۔ عموماً آپ كا وعظ رات ڈيڑھ دو بجے شروع ہوتا اور اذانِ فجر تك جارى رہتا۔ سامعين آپ كے وعظ كو يوں خاموش ہوكر سنتے جيسے ان كے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں اور اُنہيں يوں معلوم ہوتا تها كہ وحى الٰہى اب ہى نازل ہورہى ہے۔ بڑے سے بڑے مذہبى مخالف اپنے نرم و گرم بستروں كو چهوڑ كر آپ كى مجلسِ وعظ ميں آبیٹھتے تهے۔آپ نے زندگى بهر امر بالمعروف ونهى عن المنكر كا فريضہ احسن انداز ميں انجام ديا۔ آپ كا پُر اثر وعظ سن كر كتنے سود خوروں نے سود خورى سے اور رشوت خوروں نے رشوت خورى سے توبہ كرلى بلكہ آپ كے ايك وعظ ميں سولہ كے قريب پوليس افسروں نے پوليس ملازمت ہى چهوڑ دى اور مسلک حنفی کے کئی نامور علماء نے   آپ کے خطابات سے متاثر ہوکر مسلک اہل حدیث  اختیار کیا۔۔ مولانا مرحوم اللہ تعالىٰ كى توفيق وعنايت سے سا...

  • 143 پس دیوار زنداں (ہفتہ 27 فروری 2016ء)

    مشاہدات:2446

    آغا شورش کاشمیری پاکستان کےمشہور و معروف شاعر،صحافی، سیاستدان اوربلند پایہ خطیب تھے۔آغا شورش کاشمیری 14 اگست 1917ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام عبدالکریم تھا، لیکن آغا شورش کاشمیری کے نام سے مشہور ہوئے۔ آغا شورش کاشمیری ایک مجموعہ صفات شخصیت تھے۔ صحافت، شعروادب، خطابت وسیاست ان چاروں شعبوں کے وہ شہسوار تھے۔ آغا شورش نے ایک متوسط گھرانہ میں جنم لیا اور بمشکل میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ آپکی سیاسی علمی ادبی تربیت کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ گھر میں ’’زمیندار‘‘ اخبار آتا اور مسجد شہید گنج کی تحریک نصف نہار پر تھی عبدالکریم اسکول سے فارغ ہوئے تو تحریک شہید گنج کا رخ کیا اور مولانا ظفر علی خان سے قربت میسر آ گئی۔ عبدالکریم پہلے ہی جوش و جذبہ کا سیل رواں تھے، بغاوت و آزادی کا ہدی خواں تھے، شمشیر برہاں تھے، آپ تخلص الفت کرتے اور زمانے میں شورش برپا کر رکھی تھی لہٰذا حسب مزاج الفت کو شورش کا نام دینا مناسب جانا بس مولانا ظفر علی خان تھے۔ تحریک شہید گنج تھی اور شورش کا جذبہ تھا کچھ کر گزرنے کا جنوں تھا۔ مولانا ظفر علی خان کی سیاست، صحافت، خطابت اور عشق خاتم النبیؐ آغا شورش کے مزاج میں سرایت کرتا چلا گیا، خون میں حلاوت کرتا چلا گیا۔ اب شورش بھی برصغیر کا منفرد خطیب مانا جانے لگے۔ سارا ہندوستان انکے نام سے شناسا ہوا۔ آغا صاحب کا ایک سیاسی قد کاٹھ بن گیا جس دوران مسلم لیگ علیحدہ وطن کیلئے کوشاں تھی اس وقت آغا شورش کاشمیری مجلس احرار کے چنیدہ رہنمائوں میں شامل ہو چکے تھے۔ مجلس کے ایک روزنامہ (آزاد) کے ایڈیٹر بن گئے مگر قیام پاکستان کے ب...

  • مولانا محمد ادریس ہاشمی ﷫ جماعت غرباء اہل حدیث کا عظیم سرمایہ تھے انہوں نے تمام عمر جماعت کے ساتھ بے لوث وابستگی قائم رکھی اور تن من دھن سے جماعت کا کام کر کے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔اوائل عمرمیں ہی انہوں نے جماعت کے لیے کام کا آغاز کیا ۔سکول کی سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ پنجاب کے دوردراز علاقوں اور شہر وں میں دعوت وتبلیغ کا کاجاری رکھا اور مساجد ومدارس کی تعمیر وترقی میں رات دن مصروف ر ہے ۔زیر نظرکتاب میں مولانا محمد رمضان سلفی ﷾ نے ہاشمی صاحب مرحوم کی زندگی اور جماعتی خدمات کے گوشوں کو بڑی عمدگی سے اجاگر کردیا ہے اللہ مولانا ہاشمی مرحوم کے درجات بلند فرمائے او ر مولانا محمد رمضان یوسف سلفی کو صحت وسلامتی والی لمبی عمر عطاء فرمائے اور ان کا رواں قلم اسلاف کےحالات وواقعات پر سلامت روی سے چلتا رہے (آمین) (م۔ا)

     

     

  • 145 چار اللہ کے ولی (اتوار 11 مئی 2014ء)

    مشاہدات:2147

    مولانا محمد رمصان یوسف سلفی ﷾ علمی ،دینی اور تعلیمی حلقوں میں مختاج تعارف نہیں ہیں جماعت اہل حدیث پاکستان کےمعروف مقالہ نگار اور مصنف ہیں۔ان کی تصانیف پر ان کوایوارڈ دیئے جاتے ہیں اورعلمی ادبی حلقوں میں ان کو بہت پذیرائی حاصل ہے ۔ ان کے مضامین ومقالات مختلف موضوعات پر ملک کے مؤقر رسائل وجرائد میں شائع ہوتے ہیں رہتے ہیں سلفی صاحب کتاب ہذا کے علاوہ تقریبا 8 کتب کے مصنف ہیں ۔اللہ تعالی ان کے زورِ قلم میں مزید اضافہ فرمائے اور ان کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے(آمین) ۔ زیر نظر کتاب اللہ کے چار ولی ''مولانا سلفی کی تصنیف ہے جوکہ جماعت غرباء اہل حدیث کے بانی او رامام اول مولانا عبد الوہاب صدری دہلوی ،امام ثانی مولانا عبد الستار دہلوی ،امام ثالث مولانا عبد الغفار سلفی اور مولانا عبد الجلیل خان جھنگوی کے حالات پر مشتمل ہے (م۔ا)

     

     

  • 146 چالیس علمائے اہل حدیث (بدھ 17 اگست 2011ء)

    مشاہدات:24645

    برصغیر پاک وہند میں اہل حدیث علما کی خدمات حدیث تاریخ کا ایک روشن باب ہیں۔حدیث وسنت کی نشرواشاعت کے علاوہ دعوت وتبلیغ اور تصنیف وتالیف کے میدانوں میں بھی کارہائے نمایاں سرانجام دیے۔حقیقت یہ ہے کہ برصغیر میں حدیث کی تدریس ،نشرواشاعت اور حدیث ومحدثین کے دفاع کا جو کام بھی ہو رہا ہے اس کا آغاز علمائے اہل حدیث ہی نے کیا تھا۔زیر نظر کتاب جناب عبدالرشید عراقی کی ہے،جنہوں نے چالیس اہل حدیث علما کی حیات وخدمات حدیث کو اجاگر کیا ہے۔یہ تمام علما اصحاب تدریس بھی تھے اور اس کے ساتھ صاحب تصنیف بھی،ہر صاحب تذکرہ کی تمام  کتابوں کی فہرست بھی شامل کتاب ہے۔ان میں سے چند اہم کتابوں کا تعارف بھی کرا دیا گیاہے۔یہ کتاب علمائے اہل حدیث کی جہود ومساعی کو بہت خوبصورتی سے نمایاں کرتی ہے۔اس کے مطالعہ سے علما کی قدرومنزلت سے آگاہی ہوگی اور ان کی سیرتوں کو اپنانے کا جذبہ بیدار ہو گا۔(ط۔ا)

  • 147 چمنستان حدیث (ہفتہ 17 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:1727

    مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷾ کی شخصیت تعارف کی محتاج نہیں آپ برصغیر پا ک وہند کے اہل علم طبقہ میں او رخصوصا جماعت اہل میں ایک معروف شخصیت ہیں آپ صحافی ،مقرر، دانش ور وادیب ،یاسات حاضرہ سے پوری طرح باخبر اور وسیع المطالعہ شخصیت ہیں عہد حاضر کے ممتاز اہل قلم میں ان کا شمار ہوتا ہے ۔ تاریخ وسیر و سوانح ان کا پسندیدہ موضوع ہے او ر ان کا یہ بڑا کارنامہ ہے کے انہوں نے برصغیر کے جلیل القدر علمائے اہل حدیث کے حالاتِ زندگی او ر ان کےعلمی وادبی کارناموں کو کتابوں میں محفوظ کردیا ہے مولانا محمداسحاق بھٹی ﷾ تاریخ وسیر کے ساتھ ساتھ مسائل فقہ میں بھی نظر رکھتے ہیں مولانا صاحب نے تقریبا 30 سے زائدکتب تصنیف کیں ہیں جن میں سے 26 کتابیں سیر واسوانح سے تعلق رکھتی ہیں مولانا تصنیف وتالیف کےساتھ ساتھ 15 سال ہفت روزہ الاعصتام کے ایڈیٹر بھی رہے الاعتصام میں ان کےاداریے،شذرات،مضامین ومقالات ان کے انداز ِفکر او روسیع معلومات کے آئینہ دار ہیں الاعتصام نے علمی وادبی دنیا میں جو مقام حاصل کیا ہے اس کی ایک وجہ محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷾ کی انتھک مساعی اور کوششیں ہیں ۔برصغیر پاک وہند کے ا ہل حد یث علما ء نے ہر میدان میں گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں جن کا بھٹی صاحب نے اپنی کتب میں تذکرہ کیا ہے۔ تدوین قرآ ن سےلےکر اس کے اعراب وتشکیل،تجویدوقراء ات تراجم وتفسیر،اعجاز القرآن،علوم القرآن اور دیگر بیسیوں عنوانات پر ہر دور میں علمائے امت نے ضخیم کتابیں تالیف کی ہیں کررہے اور کرتے رہیں گے ۔ان شاءاللہ زیر تبصرہ کتاب ’’ چمنستان حدیث‘‘ مؤرخ اہل حدیث مولانا اسحاق بھ...

  • 148 چند مایہ ناز اسلاف قدیم و جدید (منگل 07 مئی 2019ء)

    مشاہدات:778

    تاریخ نویسی ہو یا سیرت نگاری ایک مشکل ترین عمل ہے ۔ اس کےلیے  امانت ودیانت او رصداقت کاہونا از بس ضروری ہے۔مؤرخ کے لیے  یہ بھی ضروری ہےکہ وہ تعصب ،حسد بغض، سے کوسوں دور  ہو ۔تمام حالات کو  حقیقت کی نظر  سے  دیکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتاہو ۔ذہین  وفطین ہو  اپنے حافظےپر کامل اعتماد رکھتا ہو۔حالات وواقعات کوحوالہ قرطاس کرتے وقت تمام کرداروں کا صحیح تذکرہ کیا گیا ہو ۔اس لیے  کہ تاریخ  ایک ایسا آئینہ ہے کہ جس  کے ذریعے انسان اپنا ماضی دیکھ سکتاہے  اور اسلام میں تاریخ ، رجال  اور تذکرہ  نگار ی کو بڑی اہمیت  حاصل ہے ۔انسان انسان سے سیکھتا ہےاور اپنی زندگی کےلیے پیش رو کی زندگیوں سے فیض  حاصل کرتا ہےاس لیے  ہمیں اپنے اسلاف کے طور طریق کوجاننا چاہیے  اور ان میں  جو ہماری زندگی سنوارنے اور بنانے کے لیے مفید ہوں اس کواپنی زندگی  کےلیے رہنما بناناچاہیے ۔بے شمارمسلمان مصنفین نے اپنے اکابرین  کے تذکرے لکھ کر ان  کےعلمی عملی،تصنیفی،تبلیغی اورسائنسی کارناموں کوبڑی عمدگی سے اجاگر کیا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’چند مایہ ناز اسلاف قدیم وجدید‘‘مولولی محمد مسعود عزیزی ندوی  کےمقالات کے کا مجموعہ ہے ۔ان مقالات میں انہوں نے  متعدد اہل حق اسلاف  اور قابل استفادہ شخصتیوں کا تذکرہ کیا ہے  کہ جن کی زندگیاں علمی  ودینی خدمات میں گزری ہیں اس کتاب میں ایسے   نفوسِ قدسیہ  اور اصحاب دعوت وعزیمت کے سوان...

  • ڈاکٹر لقمان سلفی ﷾ 1943ءکو بھارت میں پیدا ہوئے او ردار العلوم  احمد سلفیہ دربھگنہ ،بہار میں  دینی تعلیم حاصل کی  اس دوران ہی آپ کا داخلہ مدینہ یونیورسٹی  میں ہوگیا تو باقی تعلیم آپ نے مدینہ یونیورسٹی میں  حاصل کی۔ مدینہ یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرکے آپ مفتی دیار سعودیہ فضیلۃ الشیخ ابن باز ﷫کے سیکرٹری کے طور پر کام کرتے رہے ۔بلکہ ان کے معتمد خاص بنے۔ علماء کرام عموماً ان کی وساطت سے شیخ مرحوم سے رابطہ کیاکرتے تھے۔ شیخ بن باز کی خصوصی سفارش بلکہ حکم پر انہیں سعودی شہریت دی گئی اب ماشاء اللہ ان کے بیٹے بھی ڈاکٹر یٹ کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں ۔ماشاء اللہ بڑی مطمئن زندگی گزار رہے ہیں ۔ شیخ لقمان صاحب کی بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ منہج اسلاف اہل الحدیث کے بہت بڑے وکیل ہیں۔موصوف  نے   عربی اردو زبان  میں کئی کتب تصنیف کیں ۔تفسیر ’’تیسیر الرحمن لبیان القرآن ‘‘آپ  ہی کی   تصنیف ہے۔اور آپ سرزمینِ ہند کے عظیم ادارہ جامعہ امام ابن تیمیہ، مدینۃالسلام، بہار کے  مؤسس و رئیس بھی    ہیں۔31؍ جنوری 2009ءجامعہ امام ابن تیمیہ کے اعلیٰ تعلیمی ادارے المعہد العالی للتخصص فی التدریس والتربیۃکے افتتاحی پروگرام میں جامعہ سلفیہ بنارس کے رئیس، اُستاذ الاساتذہ علامہ ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری﷫  اور شیخ حفیظ الرحمن اعظمی (اُستاذ جامعہ دارالسلام، عمر آباد) کو بحیثیت ِمہمانِ خصوصی مدعو کیا گیا ۔تو ڈاکٹر مقتدی حسن ازہر ی ﷫ اس وقت جامعہ ابن تیمیہ  کی نشاطات اور ڈاکٹر محمد لقمان سلفی ﷾  کی خدمات...

  • 150 کاروان زندگی (منگل 31 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:1564

    سیدابو الحسن علی حسنی ندوی 24 مشہور بہ علی میاں ؍نومبر 1914ء کو رائے بریلی،بھارت میں ایک علمی خاندان میں پیدہوئے ۔ ابتدائی تعلیم اپنے ہی وطن تکیہ، رائے بریلی میں حاصل کی۔ علی میاں نے مزید اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے لکھنؤ میں واقع اسلامی درسگاہ دار العلوم ندوۃ العلماء کا رخ کیا۔اور وہاں سے علوم اسلامی میں سند فضیلت حاصل کی ۔ علی میاں نے عربی اور اردو میں پچاس سے زائد متعدد کتابیں تصنیف کی ہیں ۔ یہ تصانیف تاریخ، الہیات، سوانح موضوعات پر مشتمل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سمیناوروں میں پیش کردہ ہزاروں مضامین مقالات اورتقاریر بھی موجود ہیں۔علی میاں کی ایک انتہائی مشہور عربی تصنیف’’ ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمين ‘‘ہے جس کے متعدد زبانوں میں تراجم ہوئے، اردو میں ا س کا ترجمہ’’ انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔آپ کی تصانیف میں ایک ضخیم تصنیف ’’ تاریخ دعوت وعزیمت‘‘ ہے جو کہ آٹھ جلدوں پر مشتمل ہے۔ موصوف بھر پورعلمی زندگی گزار کر 31؍1999ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔ان کی وفات پر پاک وہند کے کئی رسائل وجرائد میں ان کی حیات وخدمات کےمتعلق مضامین شائع ہوئے اور متعدد مجلات نےان کی حیات وخدمات پر مشتمل ضخیم خاص نمبر بھی شائع کیے اور کئی اصحاب قلم نے ان کی سیرت وسوانح ، خدمات پر مستقل کتب بھی تصنیف کیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ کاروانِ زندگی ‘‘مولانا سید ابو الحسن علی ندوی﷫ کی خودنوشت سرگزشت ِ حیا ت ہے۔ اس میں سیدابو الحسن ندوی کی ذاتی زندگی کےمش...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1787
  • اس ہفتے کے قارئین: 10540
  • اس ماہ کے قارئین: 35068
  • کل قارئین : 47147757

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں