دکھائیں کتب
  • مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی     ضلع امرتسر کے ایک گاؤں’’بھوجیاں‘‘ میں 1909  کوپیداہوئے ۔ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی میاں صدرالدین حسین اور مقامی علماء  کرام  سے حاصل کی ۔اس کےبعد  پندرہ سولہ برس  کی عمر  میں مدرسہ حمیدیہ ،دہلی میں  داخل ہوئے او روہاں مولانا عبدالجبار کھنڈیلوی اور ابوسعید شرف الدین دہلوی سے  بعض متداول درسی کتب  اور حدیث کا درس لیا ۔بعد ازاں لکھو کے  اور گوندالانوالہ  کے اہل حدیث مدارس میں علوم دینیہ کی تکمیل کی جہاں مولانا عطاء اللہ  لکھوی اور  حافظ محمد گوندلوی ان کے اساتذہ میں  شامل تھے ۔مولانا  نے عملی زندگی  کاآغاز اپنے  گاؤں کے اسی  مدرسہ  فیض الاسلام میں بطور مدرس کیا جس میں  انہوں نے  خود ابتدائی تعلیم حاصل کی  تھی ۔لیکن چند ماہ  قیام کے بعد  گوجرانوالہ تشریف گئے او رمختلف مدارس میں  تدریسی فرائض سرانجام  دیتے رہے ۔سالانہ تعطیلات  گزارنے گاؤں  گئے ہوئے تھے کہ  ہندوستان تقسیم ہوگیا ۔مولانا ہجر ت کر کے پاکستان آگئے اور اپنے  پرانے تعارف  وتعلق کےتحت گوندلانوالہ میں سکونت اختیار کی ۔ اسی زمانے میں گوجرانوالہ سے ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘ کا  ڈیکلریشن حاصل کیا اور مولانا محمد  حنیف ندوی کی ادارت میں  9اگست 1949ء کو ’’الاعتصام‘‘ کی اشاعت  کا آغاز کیا۔اس کے بعد ...

  • 132 مولانا محمد علی جوہر (جمعرات 28 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1567

    مولانا محمدعلی جوہر﷫ (1878ء ۔1931ء)نے ریاست اترپردیش کے ضلع رامپور میں مولانا عبدالعلی﷫ کے گھر میں اپنی آنکھیں کھولیں۔مولانا محمدعلی جوہر کے والد محترم مولانا عبدالعلی﷫ بھی ایک عظیم مجاہد آزادی تھے۔ اور انگریزوں کے خلاف ہمیشہ سربکف رہے۔مولانا محمد علی جوہر﷫نے اپنی تحریروں اور تقریروں سے ہندوستانیوں کے رگوں میں حریت کا جذبہ اس قدر سرایت کر دیا تھا کہ ہر آن کی تحریروں سے ہر کوئی باشعور ومحب وطن ہندوستانی انگریزوں کے خلاف لازماً سر بکف نظر آتا تھا۔مولانا نے کبھی بھی اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا بلکہ ہمیشہ آزادیٔ ہند کے لئے کوشاں رہے  آپ تحریک خلافت کے روح رواں اور عظیم مجاہدِ آزادی ۔مولانا محمد علی جوہر کا بچپن نہایت کسمپرسی میں گزرا۔بچپن میں ہی ان کے والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا ۔والدین کا سایہ سر پرنہ ہونے کے باوجودآپ نے دینی ودنیوی تعلیم حاصل کی ۔آپ نے الہٰ آباد یونیورسٹی سے بی اے پاس کیا اس کے بعد1898ءمیں آکسفورڈیونیورسٹی کے ایک کالج میں ماڈرن تعلیم کی غرض سے داخلہ لیا اور وہاں پر اپنے مذہبی تشخص کو من وعن برقرار رکھتے ہوئے دنیاوی تعلیم حاصل کرتے رہے۔مولانا محمد علی جوہربیک وقت بیدار مغزصحافی بھی تھے، بے مثال قلمکار بھی تھے ، پُرا ثرشاعر بھی تھے، فکر جلیل رکھنے والے ادیب بھی تھے،اور ایک بہترین مقرر بھی تھے۔آکسفورڈ سے واپسی کے بعدآپ رامپور میں ایجوکیشن ڈائریکٹر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دینے لگے۔اس کے کچھ دنوں بعدآپ اسٹیٹ ہائی اسکول کے پرنسپل مقرر ہوئے۔آپ کی تحریریں انگریزی اور اردو زبان میں ہندوستانی اخبارات کی زینت بنتی رہتی...

  • مولانا محمدعلی جوہر﷫ (1878ء ۔1931ء)نے ریاست اترپردیش کے ضلع رامپور میں مولانا عبدالعلی﷫ کے گھر میں اپنی آنکھیں کھولیں۔مولانا محمدعلی جوہر کے والد محترم مولانا عبدالعلی﷫ بھی ایک عظیم مجاہد آزادی تھے۔ اور انگریزوں کے خلاف ہمیشہ سربکف رہے۔مولانا محمد علی جوہر﷫نے اپنی تحریروں اور تقریروں سے ہندوستانیوں کے رگوں میں حریت کا جذبہ اس قدر سرایت کر دیا تھا کہ ہر آن کی تحریروں سے ہر کوئی باشعور ومحب وطن ہندوستانی انگریزوں کے خلاف لازماً سر بکف نظر آتا تھا۔مولانا نے کبھی بھی اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا بلکہ ہمیشہ آزادیٔ ہند کے لئے کوشاں رہے  آپ تحریک خلافت کے روح رواں اور عظیم مجاہدِ آزادی ۔مولانا محمد علی جوہر کا بچپن نہایت کسمپرسی میں گزرا۔بچپن میں ہی ان کے والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا ۔والدین کا سایہ سر پرنہ ہونے کے باوجودآپ نے دینی ودنیوی تعلیم حاصل کی ۔آپ نے الہٰ آباد یونیورسٹی سے بی اے پاس کیا اس کے بعد1898ءمیں آکسفورڈیونیورسٹی کے ایک کالج میں ماڈرن تعلیم کی غرض سے داخلہ لیا اور وہاں پر اپنے مذہبی تشخص کو من وعن برقرار رکھتے ہوئے دنیاوی تعلیم حاصل کرتے رہے۔مولانا محمد علی جوہربیک وقت بیدار مغزصحافی بھی تھے، بے مثال قلمکار بھی تھے ، پُرا ثرشاعر بھی تھے، فکر جلیل رکھنے والے ادیب بھی تھے،اور ایک بہترین مقرر بھی تھے۔آکسفورڈ سے واپسی کے بعدآپ رامپور میں ایجوکیشن ڈائریکٹر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دینے لگے۔اس کے کچھ دنوں بعدآپ اسٹیٹ ہائی اسکول کے پرنسپل مقرر ہوئے۔آپ کی تحریریں انگریزی اور اردو زبان میں ہندوستانی اخبارات کی زینت بنتی رہتی...

  • شیخ الحدیث مولانا ابوانس محمد یحییٰ گوندلوی  رحمہ اللہ علیہ جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین ، بلندپایہ محقق، منجھے ہوئے مدرس ، حاضر جواب مناظر ، لائق مصنف و مترجم اور شارح اور سلجھے ہوئے خطیب تھے ۔ انہوں نے درس و تدریس ، تصنیف و تالیف ، وعظ و تقریر اور مناظروں اور مباحثوں سے دین اسلام کی صحیح تعلیم کو اجاگر کیا اور بے پناہ خدمات سرانجام دیں ۔ وہ سادی وضع کے عظیم المرتبت عالم دین تھے ۔ حدیث رسولﷺ کو پڑھنا پڑھانا زندگی بھر ان کا مقصد حیات رہا۔ زیرنظر کتا ب ان کی حیات و خدمات پر مشتمل ہے ۔ جسے جماعت اہل حدیث کے معروف قلم کار عبدالرشید عراقی  نے رقم کیا ہے اور اسے چھ (6) ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔ پہلے باب میں ان کے حالات زندگی ، تعلیم ، تدریس اور ان کے اخلاق و عادات پر روشنی ڈالی گئی ہے ، دوسرے باب میں مولانا گوندلوی کے اساتذہ کا تذکرہ ہے ۔ تیسرے باب میں ان بیس تصانیف کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے چوتھا باب ان کے فتاوی کے متعلق ہے پانچویں باب میں مولانا گوندلوی نے دوسرے مصنفین کی تصانیف پر جو مقدمات و تقریضات اور تعارف لکھا ان کا ذکر ہے ۔ آخر باب میں مولانا گوندلوی کاعلم مناظرہ میں جو مقام تھا اس پر روشنی ڈالی ہے اور اس کے ساتھ آپ نے جماعتی رسائل و جرائد میں جو مقالات و مضامین لکھے ان کی جو  تفصیل مل سکی ہے اس کا ذکر کیا ہے ۔ (ع۔ح)
     

  • 135 مولانا مسعود عالم ندوی حیات اور کارنامے (اتوار 03 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:1552

    مولانا مسعود عالم  ندوی ﷫11 فروری 1910ء کو صوبہ بہار کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔آپ کاخاندان پورے علاقے میں زہد وتقویٰ اور دینداری کی علامت سمجھا جاتا تھا۔آپ کے خاندان کے اکثر بزرگوں کاشمار اپنے زمانے کےبڑے  جید علماء دین میں ہوتا  تھا۔آپ کےوالد گرامی  مولانا سید عبدالفتح صوبہ بہار کے چند بلند پایہ اور جید علماء میں ایک معروف  شخصیت تھے ۔ مولانا مسعود عالم نےابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی  کی زیر نگرانی میں حاصل کی  میٹر ک  کرنے  کےبعد مدرسہ غزنویہ میں  داخل ہوگے  جہاں آپ کی تمام توجہ دینی علوم وفنون کی جانب مرکوز ہوگئی ہے۔ اس مدرسے میں آپ نےبڑی محنت اور لگن سے تعلیم حاصل کی ۔اسی زمانہ میں آپ کو عربی زبان و ادب سے لگاؤ پیدا ہوا۔دوران تعلیم ہی آپ  عربی رسائل وجرائد کی تلاش میں  رہنے لگے اور ان کو بڑے شوق سے پڑھتے  اوران کو سمجھنے کی کوشش کرتے ۔مولانا  مسعود عالم ندوی اپنے وقت میں  عربی  کےنامور ادیب تھے۔مولانا کی ادبی  خدمات کے اعتراف میں سعودی عرب میں ایک سڑک کانام ’’شارع مسعود عالم ندوی ‘‘ رکھا گیا  ہے ۔ موصوف وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے مجلہ ’’الضیاء ‘‘کےذریعے  ندوۃ العلماء کو عالم عرب  کے گوشے گوشے میں  متعارف کرایا۔اور اولاً جماعت اسلامی کوبھی عربوں میں متعارف کروانے والے آپ  ہیں۔ زیر تبصرہ  کتاب ’’مولانامسعودعالم  ندوی حیات اور کارنامے ‘‘ علی گڑھ یونیورس...

  • 136 مولانا وحید الدین خان افکار و نظریات (بدھ 13 نومبر 2013ء)

    مشاہدات:8864

    مولانا وحید الدین خان یکم جنوری 1925ءکو پید ا ہوئے۔ اُنہوں نے  اِبتدائی تعلیم مدرسۃ الاصلاح سرائے میر اعظم گڑھ میں حاصل کی ۔شروع  شروع میں مولانا مودودی﷫ کی تحریروں سے متاثر ہوکر  1949ء میں جماعت اسلامی   ہند میں شامل ہوگئے،  لیکن 15 سال بعد جماعت اسلامی کوخیر باد کہہ دیا  اورتبلیغی جماعت میں شمولیت اختیار کرلی ۔ 1975ء میں اسے بھی مکمل طور پر چھوڑ دیا ۔مولانا وحید الدین خان تقریبا دو صد کتب کے مصنف ہیں  جو  اُردو ،عربی، اورانگریزی زبان میں ہیں۔ اُن  کی تحریروں میں مکالمہ بین  المذاہب ،اَمن کابہت  زیادہ ذکر ملتاہے  اوراس میں وعظ وتذکیر  کاپہلو  بھی نمایاں طور پر موجود ہوتاہے ۔لیکن مولانا  صاحب کے افکار  ونظریات میں تجدد پسندی کی  طرف میلانات اور رجحانات بہت  زیادہ پائے جاتے  ہیں ۔ اُنہوں نے  دین کے بنیادی تصورات کی از سر نو ایسی تعبیر وتشریح پیش کی ہے، جو ان سے پہلے کسی نے  نہیں کی۔وہ نہ صرف اس بات کو تسلیم کرتے ہیں، بلکہ اپنے لیے  اس میں فخر بھی محسوس کرتے ہیں ۔زیر تبصرہ کتاب ڈاکٹر  حافظ زبیر﷾  کی تالیف ہے، جس  میں اُنہوں نے مولاناوحید الدین خان صاحب کی فکر کا  ان کے   اپنے الفاظ کی روشنی میں ایک مفصل تحلیلی وتجزیاتی مطالعہ پیش کیاہے۔اور  نقد وتبصرہ  کرتے ہوئے اس بات کا  بھی لحاظ رکھا ہے کہ مولانا  صاحب کے اصولوں ہی کی روشنی میں  ان کے  افکار ونظریات کا جائزہ  لیا جائے۔ اس لیے کتاب میں جابجا ...

  • شیخ الکل فی الکل شمس العلما، استاذالاساتذہ سید میاں محمد نذیر حسین محدث دہلوی حسینی حسنی بہاروی ہندی(۱) برصغیر پاک وہند کی عظیم المرتبت شخصیت ہی نہیں بلکہ اپنے دور میں شیخ العرب و العجم، نابغہ روز گار فردِ وحید تھے۔ آپ کی حیات و خدمات کا احاطہ ایک مضمون میں ناممکن ہے۔ بلاشک و شبہ اب تک عظیم اہل قلم نے اپنی تحریروں میں حضرت محدث دہلوی کی حیات وصفات کے کئی پنہاں گوشے نمایاں کئے ہیں۔ زیرنظر مضمون میں بھی خدماتِ حدیث کی تاریخ میں جھانکنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاریخ کے دامن میں کتنی جلیل القدر شخصیات ہیں جو اپنی ذات میں انجمن تھیں، انہوں نے زندگی کے ہر شعبے میں گرانقدر خدمات انجام دیں جو ہماری تاریخ کا بیش قیمت سرمایہ ہے۔ بالخصوص خدمت ِحدیث کے حوالہ سے برصغیر پاک و ہند کے عظیم مجتہد، امام وفقیہ، مفسر ومحدث سید میاں محمد نذیر حسین حسنی حسینی ہندی بہاروی دہلوی جن کا سلسلہ نسب حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ملتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’میاں نذیر حسین محدث دہلوی  چند الزامات کا تحقیقی جائزہ‘‘مولانا رفیع احمد مدنی کی ہے۔جس میں میاں صاحب سے متعلق چند گھناؤنے الزامات کا تحقیقی اور تنقیدی جائزہ ہے۔ آج بھی ایک گروہ مسلسل چبائے ہوئے لقمے کو چبا رہا ہے، جھوٹی اور من گھڑت روایات کی تکرار پر تلا ہوا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ دفاع عن السنت سے متعلق اسلاف کی کتابوں کی بار بار اشاعت کی جائے اور ان موضوعات پر لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے ،یہ تحفظ سنت کا فریضہ ہے ۔ اس سے اغماض برتنا دین میں مداہنت ہے ۔ مقالہ کے مرتب جامعہ سلفیہ کے فاضل شیخ رفیع احمد مدنی...

  • 138 میں نے ہدایت کیسے پائی (منگل 10 اپریل 2012ء)

    مشاہدات:18544

    اس کتاب کے مصنف جمیل زینو شام کے شہر حلب میں پیداہوئے اور وہیں پلے بڑھے آپ کا تعلق صوفیت کے متعدد طریقوں کے ساتھ رہا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو توحید کی سیدھی راہ نصیب فرمائی۔ زیر نظر کتاب میں محترم جمیل زینو نے اپنے ہدایت کی جانب سفر کو کسی لگی لپٹی کے بغیر بیان کردیا ہے۔ مصنف کے بقول یہ داستان رقم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ شاید پڑھنے والے کو اس میں نصیحت اور سبق مل جائے کہ جو اس کے لیے باطل سے حق کی پہچان کرنےمیں ممدو معاون ثابت ہو۔ شیخ صاحب نے اپنی داستان کو قرآن و سنت کے مضبوط اور قوی دلائل کے ساتھ بھی آراستہ کیاہے تاکہ پڑھنے والے کی ہرمسئلہ میں مکمل تشفی ہوتی چلی جائے۔ محترم ابن لعل دین نے مصنف کے مؤقف کو وضاحت سے بیان کرنے کے لیے فٹ

  • 139 نقوش ابو الوفاء (بدھ 16 اکتوبر 2013ء)

    مشاہدات:4094

    مولانا ثناء اللہ امرتسری ہندوستان کے مشاہیر علماء میں سے تھے۔آپ خوش بیاں مقرر، متعدد تصانیف کے مصنف اور بے باک مناظر تھے۔مذہبا اہل حدیث  مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔آپ نے اپنی تعلیم ہندوستان کی دو عظیم درسگا ہوں دیوبند اور مدرسہ فیض عام سے حاصل کی۔آپ نے سند فراغت حاصل کرنے کے بعد سب سے پہلے قادیانیوں کے خلاف صف آرائی کی  ۔ اللہ کے فضل سے طویل محنت سے اس میں کامیاب اور سرخرو ہوئے۔ مزید برآں آپ نے آریوں ، عیسائیوں کے خلاف بھی کا م کیا۔ ساتھ ساتھ آپ میدان سیاست میں بھی  ایک  حدتک قدم رنجہ ہوتے رہے۔ مولانا جماعت اہل حدیث کا غازہ  ہیں۔ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ صفات الٰہی میں آپ تاویل کے منہج  کو اپنا بیٹھے تھے۔اللہ آپ کو جوار رحمت میں  جگہ نصیب فرمائے۔زیرنظر کتاب مولانا کے سیرت و سوانح ان گونا گوں پہلوؤں کو واضح کرتی ہے۔(ع۔ح)
     

  • 140 نقوش ابو الکلام و مقالات آزاد (ہفتہ 16 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:1854

    مولانا ابو الکلام11نومبر1888ء کو پیدا ہوئے اور 22 فروری1958ءکو وفات پائی۔مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا۔آپ کے والد بزرگوارمحمد خیر الدین انہیں فیروزبخت (تاریخی نام) کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ میں مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ والدہ کا تعلق مدینہ سے تھا ۔سلسلہ نسب شیخ جمال الدین سے ملتا ہے جو اکبر اعظم کے عہد میں ہندوستان آئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔1857ء کی جنگ آزادی میں آزاد کے والد کو ہندوستان سے ہجرت کرنا پڑی کئی سال عرب میں رہے۔ مولانا کا بچپن مکہ معظمہ اور مدینہ میں گزرا ۔ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی۔ پھر جامعہ ازہرمصر چلے گئے۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کر لیا تھا۔مولانا کی ذہنی صلاحتیوں کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں ماہوار جریدہ لسان الصدق جاری کیا۔ جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بھی بڑی تعریف کی۔ 1914ء میں الہلال نکالا۔ یہ اپنی طرز کا پہلا پرچہ تھا۔ ترقی پسند سیاسی تخیلات اور عقل پر پوری اترنے والی مذہبی ہدایت کا گہوارہ اور بلند پایہ سنجیدہ ادب کا نمونہ تھا۔آپ ایک سنی المسلک انسان تھے ۔آپ کا قادیانیت یا مرزائیت سے کوئی تعلق نہ تھا۔لیکن اس کا باوجود بعض لوگوں نے آپ پر مرزا قادیانی کا جنازہ پڑھنے کا بہتان لگا کر آپ کو قادیانیت کی طرف میلان رکھنے والا ظاہر کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" نقوش ابو الکلام ومقالات آزاد "جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین مولانا عبد المجید سوہدروی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے  مولانا آزاد کے مسلک اور عقیدے پر گفتگو کی ہے۔اللہ تعالی سے...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1305
  • اس ہفتے کے قارئین: 3364
  • اس ماہ کے قارئین: 45226
  • کل قارئین : 46580733

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں