دکھائیں کتب
  • 91 قاضی محمد سلیمان منصور پوری (جمعرات 14 نومبر 2013ء)

    مشاہدات:7120

    برصغیر کے افق علمی پر انیسویں صدی کے نصف اوًل کے بعد چار سلیمان ایسے طلوع ہوئے ، جنہوں نے اپنے اپنے دائرہ علمی میں ایک امتیاز اور اختصاص  حاصل کیا۔شاہ سلیمان پھلواری، سید سلیمان اشرف، سید سلیمان ندوی اور قاضی سلیمان منصورپوری۔چاروں ملت اسلامیہ برصغیر کی علمی محفل کے گوہر شب چراغ تھے۔ان کی سرگرمیوں سے تہذیب اسلامی کو ایک نکھار اور وقار میسر آیا مگر ان میں قاضی محمدسلیمان کی شخصیت میں جو دلآویزی ، خاندانی وجاہت، علمی انہماک ، تدبر و تفکر، آداب و اطوار، زہد و ورع ، فہم و فراست ، امانت و دیانت ، تعلیمی اور تحقیقی استعداد کتاب و سنت کا ذوق اور عملی و کردار کے نقوش دکھائی دیتے ہیں۔آپ رحمہ اللہ نے ایک مجاہد خاندان میں آنکھ کھولی۔اور کئی ایک موضوعات  پر متعدد تصانیف لکھیں۔ جن میں سے سیرت النبی ﷺ کو بالخصوص موضوع بنایا ہے۔سکھ اور انگریز حکومت کے ماتحت زندگی بسر کی اور علم و فکر آبیاری  میں مشغول رہے۔ قاضی  صاحب کی تعلیم و تربیت مشرقی ماحول میں ہوئی۔آپ رحمہ اللہ طبعا بہت ذہین و فطین تھے۔اس پر مستزاد یہ تھا کہ  آپ رحمہ اللہ کے ذوق مطالعہ نے چارچاند لگا دیے۔علوم دینیہ اور فارسی ادبیات  بھر پور استفادہ فرمایا۔زیرنظر کتاب قاضی  صاحب کی سوانح پر ایک جامع دستاویز ہے۔ جسے مولانا اسحاق بھٹی صاحب نے بڑی عرق ریزی  سے تیار کیا ہے۔(ع۔ح)
     

  • 92 قافلہ حدیث (جمعرات 11 اگست 2011ء)

    مشاہدات:23597

    یہ کتاب ان اصحاب علم وقلم کا تذکرہ ہے کہ جن کے شب وروز قال اللہ وقال الرسول کی صدائیں بلند کرتے ہوئے گزرے ہیں ۔ان میں سے اکثر لوگ حیات فانی سے حیات جاودانی کا مرحلہ طے کر چکے ہیں ۔ترتیب عنوانات کی رو سے ظاہری طور پر یہ روادا چھبیس اصحاب فضل کی نشاندہی کرتی ہے ،لیکن اس کے باطن میں جھانکنے کی کوشش کریں تو معلوم ہوا کہ اس میں اہل علم کی ایک دنیا آباد ہے۔یعنی ان چھبیس کے اسلاف،اساتذہ،تلامذہ،متاثرین،فیض یافتگان،ہم مکتب،ہم جماعت،دوست احباب اور مستفیدین کی متعدد قطاریں ہیں جو تاحد نگاہ دکھائی دیتی ہیں۔بہ الفاظ دیگر ایک شخص کے حالات میں کئی اشخاص کے حالات کی تہیں کھلتی گئی ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ پیوستہ یہ سلسلہ دور  تک چلا گیا ہے ۔یہ کتاب اہل حدیث اصحاب علم کی تک وتازنوع بنوع کو اجاگر کرتی اور بتاتی ہے کہ ان میں سے کس کس بزرگ نے کیا کیا معرکہ آرائیاں کیں ا ور ان کے فکر وعمل کے حدود نے کس انداز سے کہاں تک وسعت اختیار کی۔تصنیف وتالیف میں یہ حضرات کہاں تک پہنچے،تحقیق وکاوش کی کن کن وادیوں میں قدم زن ہوئے ،درس وتدریس میں کہاں تک رسائی حاصل کی اور وعظ وتبلیغ کے میدانوں میں انہوں نے کیا اثرات چھوڑے۔یہ کتاب معروف مورخ مولانا اسحق بھٹی صاحب کے رشمات قلم کا نتیجہ ہے ،جن کا نام ہی معیار کتاب کی ضمانت ہے ۔(ط۔ا)

  • شہید ملت علامہ احسان الہٰی ظہیر شہید ؒسیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔علامہ صاحب ایک دینی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ۔ بچپن ہی سے بڑے ذہین او ر فطین ثابت ہوئے۔درس نظامی کی تکمیل کے  بعد  حصول  تعلیم  کےلیے  آپ مدینہ یونیورسٹی  تشریف لے  گئے وہاں شیخ ناصر الدین  البانی ،شیخ  ابن باز ،شیخ    شنقیطی  وغیرہم  جیسے  کبار اہل علم  سے شرف تلمذ  حاصل کیا ۔ مدینہ یونیورسٹی میں  شیخ  الحدیث  حافظ ثناء اللہ مدنی ،حافظ عبد الرحمن مدنی ،ڈاکٹر  محمد لقمان سلفی  حفظہم اللہ  آپ کے ہم کلاس رہے ۔علامہ  صاحب  وہاں سے  سند فراغت  حاصل کرکے   وطنِ عزیز میں واپس تشریف لے آئے  اور زندگی بھر  اسلام کی دعوت وتبلیغ ،نفاذ اسلام کی جدوجہد ،  فرق  باطلہ  کارد  او رمسلک حق اہل  حدیث کی ترجمانی  کرتے  ہوئے اپنے  خالق حقیقی سے جاملے ۔  آپ پر صحیح معنوں میں اہلحدیثیت کا رنگ نمایاں تھا۔آپ ایک تاریخ ساز شخصیت کے حامل تھے۔ آپ میدان خطابت  کےشہسوار  تھے ۔شیخ الحدیث مولانا حافظ اسماعیل سلفی ؒ نے آپ کو مولانا سید دائود غزنوی ؒ کی اور اہلحدیثوں کی قدیم تاریخ ساز مسجد ’’جامع مسجد چینیانوالی اہلحدیث ‘‘ کی مسند میں لا کر کھڑا کر دیا۔ آپ 16کتابوں کے مصنف  بھی تھے ۔ علامہ شہید ؒ مسلک اہلحدیث کے ماتھے کا جھومر تھے۔ ۔ علامہ صاحب ؒ نے قادیانیت ، شیعیت فتنے کو آڑے ہات...

  • مولانا عبد الرحمن کیلانی﷫ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں، انکی علمی و تحقیقی کتب ہی ان کا مکمل تعارف ہیں۔ موصوف جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے ہیں اس کا حق ادا کر دیتے ہیں، مولانا كيلانى اسلامى اور دينى ادب كے پختہ كارقلم كار تھے ۔کتب کے علاوہ ان کے بیسیوں علمی وتحقیقی مقالات ملک کے معروف علمی رسائل وجرائد(ماہنامہ محدث، ترجمان الحدیث ، سہ ماہی منہاج لاہور وغیرہ ) میں شائع ہوئے ان كى بيشتر تاليفات اہل علم وبصيرت سے خراج تحسين پا چکی ہیں۔مولانا کیلانی نےفوج کی سرکاری ملازمت سے استعفی کے بعد کتابت کو بطورِ پیشہ اختیار کیا۔ آپ عربی ،اردو کے بڑے عمدہ کاتب تھے۔١٩٤٧ء سے ١٩٦٥ء تک اردو کتابت کی اور اس وقت کے سب سے بہتر ادارے ، فیروز سنز سے منسلک رہے ۔١٩٦٥ء میں قرآن مجید کی کتابت شروع کی اور تاج کمپنی کے لئے کام کرتے رہے ۔تقریباپچاس قرآن کریم کی انہوں نے کتابت کی ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ١٩٧٢ء میں حج کرنے گئے تو مکی سورتوں کی کتابت باب بلال(مسجد حرام ) میں بیٹھ کر اور مدنی سورتوں کی کتابت مسجد نبوی میں اصحاب صفہ کے چبوترہ پر بیٹھ کر کی ۔یہ وہی قرآن کریم ہے جو پاک وہند کے مسلمانوں کے لیے ان کے مانوس رسم الخط میں سعودی حکومت نے حمائل سائز میں چھاپا اور ہر سال لاکھوں کی تعداد میں چھپتا او رفری تقسیم ہوتا ہے یعنی پاکستان اور سعودی عرب میں مروجہ رسم قرآنی میں سب سے زیادہ چھپنے والے قرآن کی کتابت کی سعادت بھی آپ کو حاصل ہے ۔ تفسیر' تیسیر القرآن 'میں قرآن مجید کی اسی بابرکت کتابت کو ہی بطور متنِ قرآن شائع کیا گیا ہے کتابت کے سلسلہ میں موصوف نے خاندان کے بہت سے لوگو...

  • 95 متنازعہ ترین شخصیت (اتوار 25 ستمبر 2011ء)

    مشاہدات:21916

    پروفیسر طاہر القادری صاحب کا شمار پاکستان کی ان شخصیات میں سے ہوتا ہے جو اپنے آپ کو نمایاں کرنے کا فن بخوبی جانتے ہیں، لیکن تاسف کی بات یہ ہے کہ انہوں نے شہرت کی معراج پانے کے لیے مذہبی لبادہ اوڑھنا ضروری سمجھا۔ جس کا نقصان یہ ہوا کہ ہزاروں کی تعداد میں سادہ لوح مسلمان موصوف کو اسلام کا سفیر سمجھ کر ان کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کے لیے تیارہو گئے۔ زیر نظر کتاب میں ہمارے ممدوح کی ’محمد طاہر‘ سے ’شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری‘ بننے اور ان کا سائیکل سے لے کر لینڈکروزر تک کا سفر ہے۔ طاہر القادری صاحب کی شخصیت ان کے شباب سے لے کر اب تک کیوں متنازعہ رہی اس کا جواب وہ تمام حقائق ہیں جن کو اس کتاب میں یکجا کر دیا گیا ہے۔ اس کتاب کا مقصد ہرگز ہرگز کسی خاص مکتب فکر کو ہدف تنقید بنانا نہیں ہے بلکہ طاہر القادری صاحب کے پیروؤں کی آنکھوں پر بندھی ہوئی پٹی کو اتارنا ہے جن کی کھلی آنکھیں انہیں یہ بتانے میں دیر نہیں کریں گی کہ ایک ایسا شخص جس نے دولت و شہرت پانے کے لیے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر ہاتھ ڈالنے سے گریز نہیں کیا ہرگز اس قابل نہیں ہے کہ اسے پلکوں پر بٹھایا جائے۔ کتاب کے مصنف محمد نواز کھرل نے پروفیسر طاہر القادری سے متعلق اخبارات و جرائد میں جو کچھ شائع ہوتا رہا ہے ان تمام تحریروں کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے تاکہ ان کی روشنی میں قائد انقلاب اور ان کے کارکنان اپنی سمت کا از سر نو تعین فرمائیں۔ یہ کتاب 2002ء میں شائع ہوئی، جب پروفیسر صاحب پاکستان میں رہ کر ’مذہبی خدمات‘ انجام دے رہے تھے۔ ان دنوں وہ کینیڈا میں مقیم ہیں، اپنے نام ک...

  • 96 مجاہد اسلام مولانا رحمت اللہ کیرانوی (اتوار 05 فروری 2017ء)

    مشاہدات:1435

    مولانا رحمت اللہ بن خلیل الرحمٰن کیرانوی﷫ کیرانہ ضلع مظفر نگر (یوپی ۔بھارت) میں پیدا ہوئے۔ آپ کا سلسلہ نسب اکتیس واسطوں سے سیدنا عثمان غنی﷜ سے ملتا ہے۔ مولانا کیرانوی نے بارہ برس کی عمر میں قرآن کریم اور فارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں پھر تحصیل علم کےشوق میں دہلی چلے آئے اور مولانا حیات کے مدرسہ میں داخل ہوکر درس نظامی کی تکمیل کی اور شاہ عبد الغنی وغیرہ سے دورہ حدیث پڑھا طب کی تعلیم حکیم فیض محمد حاصل کی۔ تعلیم سےفراغت کے بعد کچھ عرصہ دہلی میں ملازمت کی اس دوران والد کا انتقال ہوگیا تو آپ وطن واپس آکر درس وتدریس میں مشغول ہوگئے۔ رحمت اللہ کیرانوی اسلام بڑے پاسبانوں میں سے تھے۔ جس زمانے میں ہزاروں یورپی مشنری، انگریز کی پشت پناہی میں ہندوستان کے مسلمانوں کو عیسائی بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے، کیرانوی اور ان کے ساتھی مناظروں، تقریروں کے ذریعے اسلامی عقائد کے دفاع میں مصروف تھے۔ 1270ھ بمطابق 1854ء یعنی جنگ آزادی سے تین سال قبل رحمت اللہ کیرانوی نے آگرہ میں پیش آنے والے ایک معرکہ کے مناظرہ میں عیسائیت کے مشہور مبلغ پادری فنڈر کو شکست دی۔جنگ آزادی 1857ء میں کیرانوی صوفی شیخ حضرت حاجی امداد اللہ (مہاجر مکی) کی قیادت میں انگریز کے ساتھ قصبہ تھانہ بھون میں انگریز کے خلاف جہاد میں شامل ہوئے اور شاملی کے بڑے معرکہ میں بھی شریک ہوئے۔ انگریز کی فتح کے بعد کیرانوی دیگر مجاہدین کی طرح ہجرت کرکے حجاز چلے گئے۔ یہاں آپ نے پادری فنڈر کی کتاب میزان الحق کا جواب اظہار الحق تحریر فرمایا۔ حجاز سے سلطان ترکی کے بلانے پر قسطنطنیہ (حالیہ استنبول) گئے اور وہاں عیسائیوں...

  • فضیلۃ الشیخ ابو القاسم محب اللہ شاہ راشدی ﷫ کی شخصیت او ر ذات گرامی کسی تعارف کی محتاج نہیں آپ سندھ کے سادات گھرانے راشدی خاندان سے تعلق رکھتے تھے سندھ میں راشدی خاندان نہایت اہمیت کا حامل ہے مسلک اہل کو اس علاقے میں صرف ان کی بدولت ہی ترویج وترقی اور فروغ ہوا اس خاندان کی دینی ملی اور مسلکی خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں شیخ محب اللہ راشدی اپنے وقت کے ایک عظیم مفکر ومحدث تھے اور صاحبِ قلم عالم دین تھے آپ نے مختلف مسائل پر اردو اور سندھی زبان میں نہایت وقیع تحقیقی کتابیں اور رسائل لکھے ۔ زیر نظرکتاب در اصل جامعہ بحر العلوم السلفیہ سندھ کے سہ ماہی مجلہ بحر العلوم کا شیخ محب اللہ شاہ راشدی کی حیات وخدمات وتاثرات پر مشتمل خاص نمبر ہے جس میں شیخ کے متعلق نامور علماء اور اہل قلم کے مضامین اور اور تاثرات کو مدیر مجلہ جناب افتخار احمد تاج الدین الازہر ی ﷾ او ران کے رفقاء نے بڑی محنت سے جمع کرکے شائع کیا ہے اللہ تعالی شیخ محب اللہ کے درجات بلند فرمائے۔(آمین) (م۔ا)

     

  • بابائے تبلیغ مولانا محمد عبد اللہ گورداسپوری﷫ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ نے اپنی پوری زندگی دعوت وتبلیغ میں کھپا دی اور تحریک ختم نبوت میں بڑی گراں قدر خدمات انجام دیں۔آپ دین اسلام کی دعوت کو عام کرنے کے مشن میں متعدد بار پابند سلاسل بھی ہوئے ،اور آپ کو مختلف قسم کی اذیتیں دی گئیں ،لیکن آپ کے ایمان میں ذرہ برابر بھی لغزش نہ آئی۔آپ نے قادیانیوں سے متعدد مناظرے کئے اور ان کے ایسے چھکے چھڑائے کہ وہ میدان میں کھڑے نہ رہ پائے۔آپ عقلی ونقلی دلائل کا پہاڑ تھے،اور فریق مخالف کو چند ہی لمحوں میں خاموش کرا دیا کرتے تھے۔ موصوف کے بیٹے   محترم ڈاکٹر بہاؤالدین ﷾ نے بھی   تقریبا 33 جلدوں پر مشتمل کتاب ’’تحرک ختم نبو ت ‘‘اور 6 جلدوں میں تاریخ اہل حدیث لکھ     عظیم الشان خدمت سرانجام دے ہے۔ کتب کی تیاری او رمواد جمع کرنے کے لیے ڈاکٹر بہاؤالدین﷾ کے بیٹے سہیل احمدکی خدمات بھی لائق تحسین ہیں ۔ زیر تبصرہ مجلہ عالمی تحریک ختم نبوت اہل حدیث کے زیر اہتمام ڈسکہ سیالکوٹ سے شائع ہوتا ہے،جس کے مدیر اعلی محترم عبد الحفیظ مظہر اور مدیر حافظ عبد الستار بخاری ہیں۔یہ اس کی خصوصی اشاعت ہے،جس میں بابائے تبلیغ مولانا محمد عبد اللہ گورداسپوری﷫ کی حیات وخدمات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی مدیران مجلہ اور مقالہ نگار حضرات کی ان محنتوں کو قبول فرمائے اور ہمیں بھی ان جیسے بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دین اسلام کی خدمت کرنے کی توفیق اور ہمت دے۔آمین(راسخ)

  • 99 محدث روپڑی اور تفسیری درایت کے اصول(ایم فل۔ مقالہ) (جمعرات 14 اپریل 2011ء)

    مشاہدات:12699

    زیر نظر کتاب حافظہ مریم مدنی کا ایم فل کا مقالہ ہے۔ جس میں انہوں نے قرآن کی تفسیر روایت و درایت سے اخذ کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔کیونکہ انسانی عقل کتنی ہی پختہ ہو ،خیالات میں کتنی ہی رفعت ہو اور افکاری بالیدگی میں کتنی ہی موزونیت ہو قرآنی آیات کی تفسیر کو سمجھنے کے لیے روایات (احادیث نبوی )اور درایات(صحابہ کرام رضی اللہ عنہما کے تفسیری اقوال ) کا علم بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔اس لیے کہ قرآنی آیات کے صحیح مفہوم کی تعیین کے یہی دو طریق اصل ماخذ ہیں۔علماء حق اور محدثین کا قرآن کی تفسیر میں یہی اسلوب رہا ہے ۔لیکن مرور زمانہ کے ساتھ کئی گمراہ فرقے ،روشن خیال افراد اور مغرب زدہ دانشوروں نے قرآنی آیات کی گتھیاں سلجھانے اور قرآنی آیات کے مفہوم کی تعیین کے لیے لغت عربی ،عرب ادبا ء کے کلام اور عقلی سوچ کا سہارا لیا ہے ۔جو وحی کی تعبیر و تشریح میں مستقل اتھارٹی نہیں ہیں ۔بلکہ اپنی تخلیقی کمزوریوں کے باعث خود بھی محتاج اصلاح ہیں۔لہذا کلام الہی کی صحیح تعبیر و تشریح احادیث نبویہ ﷺ یا آثار صحابہ ہی سے ممکن ہے۔البتہ اجتہادی مسائل میں اہل علم کے اختلافی اقوال کی صورت میں دلائل شرعیہ یا لغت عرب سے مدد لی جاسکتی ہے ۔اس پس منظر میں فکری اصلاح اور صحیح قرآنی تعبیر و تفسیر کے لیے یہ مقالہ ایک اہم سنگ میل ہے ۔جس میں مقالہ نگار نے روپڑی خاندان کے چشم و چراغ اور علماء برصغیر کے آسمان کے درخشندہ ستارے حافظ عبداللہ محدث روپڑیؒ کے قرآنی تفسیر کی تعبیر میں روایت و درایت کا اہتمام کرنے کے راہنما اصول کا بیان ہے ۔نیز یہ مقالہ منکرین حدیث و مستشرقین کی فکری یلغار کے سامنے ایک مضبوط بند ہے ۔جس سے عقلی تو...

  • 100 محفل دانش منداں (پیر 16 اکتوبر 2017ء)

    مشاہدات:1116

    تذکرہ نگاری ہماری ادبی اور تہذیبی روایت کا حصہ ہے۔مختلف فنون کے صاحبانِ کمال کے تذکرے ہمارے ہاں بہ کثرت لکھے گئے ہیں۔ایسے تذکروں کی بھی کمی نہیں جن میں کسی خاص فن کا نہیں بلکہ لکھنے والے کے مذاق یا تعلق کا لحاظ غالب ہوتا ہے۔ ایسے تذکرے بھی مختلف فنون کی تاریخوں میں اساسی معلومات فراہم کرنے کا ذریعہ بن جایا کرتے ہیں۔ تاریخ نگار سے جس معروضیت کا مطالبہ کیا جاتا ہے تذکرہ نگار عام طور سے ویسی معروضیت سے آزاد ہوتا ہے اور اپنے ربط وتعلق کی روشنی میں موضوع بننے والی شخصیت کا جائزہ لیتا اور قاری کو اس کی تصویر دکھاتا ہے۔ تذکرہ نگار یا شخصیت نگار موضوع میں سے اپنے پسندیدہ نقوش تو چن سکتا ہے لیکن  اسے وہ سہولت بہ ہر حال میسر نہیں ہوتی جو ایک کہانی کار کو حاصل ہوتی ہے۔شخصیت نگار کی دیانت داری کا تقاضا یہ ہے کہ وہ شخصیت کے وہی خدو خال پیش کرے جو واقعتاً اس میں موجود ہوں۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص شخصیت نگاری کے  موضوع پر ہےجس میں مختلف نامور شخصیات کا تعارف دیا گیا ہے۔ اس میں تقریباً بیس سے زائد شخصیات کا تعارف موجود ہے۔ اور ان شخصیات سے ہونے والی گفتگو اور واقعات کو کتاب کے اوراق کی زینت بنایا گیا ہے۔ ۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ،دل کش اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ محفل دانش منداں ‘‘ محمد اسحاق بھٹی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنا...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1487
  • اس ہفتے کے قارئین: 13079
  • اس ماہ کے قارئین: 41328
  • کل قارئین : 46545784

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں