کل کتب 288

دکھائیں
کتب
  • 281 #6780

    مصنف : سید صباح الدین عبد الرحمن

    مشاہدات : 2606

    ہندوستان کے عہد ماضی میں مسلمان حکمرانوں کی مذہبی رواداری جلد اول

    dsa (منگل 16 اکتوبر 2018ء) ناشر : دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، انڈیا

    ہندوستان میں مسلمان آباد ہوئے تو شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جہاں ان کے  پڑوسی غیر مسلم نہ  ہوں۔ روز مرہ زندگی میں ان سے برابر سابقہ رہا اسلام میں پڑوسیوں کے حقوق کی بڑی اہمیت ہے۔ ہندوستان میں  مسلمان حکمرانوں کے عہد میں صرف لڑائیاں ہی نہیں ہوتی رہیں بلکہ ان کے  یہاں روادای ، فراخ دلی اور انسان دوستی بھی ر ہی ۔ او رمسلمانوں کا یہ عقیدہ رہا ہے  کہ  رہا ہے کہ  حکومت الحاد ، بے  دینی کفر اور شرک کے ساتھ تو عرصۂ دراز تک قائم رہ سکتی ہے مگر جبر،ظلم اور چیرہ دستی سے قرار نہیں رکھی جاسکتی ہے ۔ اسی لیے  ہندوستان کے مسلمان  فرمان رواؤں  نےاپنے دورِ  حکومت میں عدل وانصاف پر   ہرزمانہ میں زور دیا ۔ یہ عدل پسندی اور انصاف پروری رواداری اور فراخ دلی کے بغیر عمل میں نہیں آسکتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ ہندوستان  کےعہد  ماضی میں مسلمانوں حکمرانوں کی مذہبی رواداری ‘‘ سید صباح الدین عبد الرحمٰن(مصنف کتب کثیرہ کی دو جلدوں پر مشتمل تصنیف ہے۔بنیادی طور پر اس کتاب کو دلوں کوجوڑنے کے لیے مرتب کیا گیا ہے۔ جلد اول  میں عہد   مغلیہ سے پہلے کے ہندوستان  کے مسلمان حکم رانوں اور جلد دوم  میں مغل فرمانرواؤں  کے دور کی مذہبی  رواداری ، فراخ دلی اورانسان دوستی کی تفصیلات مستند ماخذوں کے حوالے سے پیش کی گئی ہیں۔(م۔ا) 

  • 282 #3005

    مصنف : امت پانڈے

    مشاہدات : 1827

    ہندوستان کے مسلمان امتیازی سلوک کا شکار

    (اتوار 15 مارچ 2015ء) ناشر : مشعل بکس، لاہور

    آج کل یوں تو پورا عالم اسلام استعمار اور دشمنوں کی سازشوں کےچنگل میں نظرآرہاہے لیکن دنیاکی سب سےبڑی جمہوریت کادعوی کرنےوالے ہندوستانی سیاستدان بھی آئے روزمسلمانوں کوہراساں کرنے اور انہیں طرح طرح سے خوف و وحشت میں مبتلا کرنےکی سازشیں رچاتےرہتےہيں۔اوریوں ہندوستان کےعوام اور اس کےاندر پائی جانےوالی سب سےبڑی اقلیت فی الحال بےشمارمسائل کاشکار ہے۔اوراس کاسب سےبڑا ثبوت ہندوستان میں ہرسطح پر مسلمانوں کوہراساں کئےجانےکےلئےکھیلاجانےوالا کھیل اور تمام اہم قومی وسرکاری اداروں سے ان کی بیدخلی ہے۔ہندوستان میں مسلمان دوسری سب سے بڑی قوم ہیں۔ یہاں ان کی تعداد تقریبا 30 کروڑ ہے۔پورے ہندوستان میں مسجدوں کی تعداد اگر مندروں سے زیادہ نہیں تو کسی طرح کم بھی نہیں ہے ۔ ایک سے ایک عالیشان مسجد جن میں دلی کی جامع مسجد بھی شامل ہے ، اس مسجد کو شاہی مسجد بھی کہا جاتا ہے ۔ان تمام مساجد میں پانچوں وقت اذان دی جاتی ہے ۔لیکن اس کے باوجودمسلمانوں کو ہر میدان سے باہر کیا جارہا ہے اور انہیں غربت،افلاس اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ وہ تعلیم میں، تجارت میں، ملازمت میں، صحت میں غرض زندگی کے ہر شعبے میں ملک کی دوسری برادری سے پیچھے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" ہندوستان کے مسلمان امتیازی سلوک کا شکار"امت پانڈیا کی تصنیف ہے جس کا ارود ترجمہ محمد اختر صاحب نے کیا ہے۔مولف نے اس کتاب میں ہندوستانی مسلمانوں کی حالت زار پر مختلف زاویوں اور پہلوؤں سے گفتگو کی ہےاور ہندوستانی حکومت کے دوغلے پن اور جھوٹے دعوے کا پول کھول دیاہے۔(راسخ)

  • ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں کے عہد کے تمدنی کارنامے

    (جمعہ 10 مارچ 2017ء) ناشر : دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، انڈیا

    ہندوستان دنیا کا ایسا خطہ ہے جہاں آٹھویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک دو غیرملکی حکمران، عرب مسلمان اور انگریز(برطانوی) قابض رہے۔ 712 ء میں مسلمان حکمران محمد بن قاسم نے ہندوستان میں قدم رکھا اور 1857 کے غدر کے بعد باقاعدہ مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ ہوا۔ برطانوی سامراج جس کی ابتداء 1757 ء کو ہوئی تھی کا خاتمہ 1947 ء کو ہوا۔ محمد بن قاسم نے دمشق میں موجود مسلمان خلیفہ الولید اور بغداد کے گورنر حجاج بن یوسف کی آشیر باد سے، 712 ء میں ہندوستان پر حکمرانی کا آغاز کیا۔ 1590ء تک مسلمان حکمران شہنشاہ اکبر تقریباً پورے ہندوستان پر قابض ہو چکا تھا۔ اورنگ زیب کے دور (1657-1707) میں اس سلطنت میں کچھ اضافہ ہوا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں کے عہد کے تمدنی کارنامے‘‘ دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ کے رفقاء کی مرتب کردہ ہے۔ اس کتاب میں سلاطین دہلی اور شاہان مغلیہ کے عہد کے فن تعمیر، رفاہ عام کے کام، شہروں اور گاؤں کی آبادی، باغات، ترقی حیوانات، ترقی تعلیم، کاغذ سازی، کتب خانے او رخطاطی وغیرہ پر تفصیلیر و شنی ڈالی گئی ہے۔ (م۔ا)

  • 284 #6706

    مصنف : نا معلوم

    مشاہدات : 2022

    ہندوستانی مسلمان

    (ہفتہ 28 جولائی 2018ء) ناشر : اورینٹل پبلک لائبریری پٹنہ انڈیا

    یہ حقیقت ہے کہ مسلمان ہندوستان میں ابھر نہیں سکے۔ وہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ آزادی کے بعد سے آج تک جس قدر مسائل سے ہندوستانی مسلمان دوچار رہے ہیں، کوئی اور قوم ان حالات سے گزرتی تو ممکن تھا کہ وہ اپنا وجود ہی خطرہ میں ڈال چکی ہوتی۔ اُس کی شناخت ختم ہو جاتی اور اس کے عقائد بگڑ جاتے۔ لیکن غالباً یہ مسلمانوں کی خود کی کوشش کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ خدا برحق کی مصلحت ہے کہ مسلمان ہندوستان میں نہ صرف باقی رہیں بلکہ اپنی مکمل شناخت اور عقائد و افکار میں بھی وہ نمایاں حیثیت برقرار رکھیں۔۱۸۵۷ء کے بعد کے ہندوستانی مسلمانوں کی، اس وقت کی کسی حد تک تصویر کشی ڈاکٹر سرولیم ہنٹر کی کتاب’ ’ہمارے ہندوستانی مسلمان‘‘ میں تلاش کی جاسکتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ ہمارے ہندوستانی مسلمان‘‘ڈاکٹر سرولیم ہنٹر کی انگریزی کتاب OUR INDIAN MUSLMANS کا اردو ترجمہ ہے۔ 1944ء میں جب مترجم کتاب جناب صادق حسین نے اس کتاب کاترجمہ کیا تو اس وقت ہندوستان میں تحریک آزادی پورے شباب پر تھی۔ڈاکٹر سرولیم ہنٹر نےکتاب کے چوتھے باب میں مسلمانوں کی اقتصادی حالت اور ان کی مشکلات پر بحث کی ہے۔ جس میں وہ لکھتے ہیں کہ: مسلمانوں کوحکومت سے بہت سی شکایات ہیں۔ ایک شکایت یہ ہے کہ حکومت نے ان کے لیے تمام اہم عہدوں کا دروازہ بند کردیا ہے۔ دوسرے ایک ایسا طریقۂ تعلیم جاری کیا ہے، جس میں ان کی قوم کے لیے کوئی انتظام نہیں۔ تیسرے قاضیوں کی موقوفی نے ہزاروں خاندانوں کو جو فقہ اور اسلامی علوم کے پاسبان تھے، بیکار اور محتاج کردیا ہے۔ چوتھے یہ کہ ان کے اوقاف کی آمدنی جو ان کی تعلیم پر خرچ ہونی چاہیے تھی، غلط مصرفوں پر خرچ ہورہی ہے۔ڈاکٹرہنٹر یہ بھی لکھتے ہیں: جب ملک ہمارے قبضے میں آیا تو مسلمان سب قوموں سے بہتر تھے۔ نہ صرف وہ دوسروں سے زیادہ بہادر اور جسمانی حیثیت سے زیادہ توانا اور مضبوط تھے بلکہ سیاسی اور انتظامی قابلیت کا ملکہ بھی ان میں زیادہ تھا، لیکن یہی مسلمان آج سرکاری ملازمتوں اور غیر سرکاری اسامیوں سے یکسر محروم ہیں۔(م۔ا)

  • 285 #3617

    مصنف : اشتیاق احمد

    مشاہدات : 1809

    ہولناک آگ

    (بدھ 23 ستمبر 2015ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان  میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں سے بھر پور ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا  لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب "ھولناک طوفان" محترم اشتیاق احمدصاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے ایک منفرد اور کہانی کے انداز میں سیدنا ابراہیم  کی سیرت وسوانح کو  جمع  کردیاہے۔یہ کتاب پاکستان کے معروف  عالمی طباعتی ادارے  مکتبہ دارالسلام کی طرف سے قصص الانبیاء کے حوالے سے شروع کئے گئے  سلسلے کی چھٹی کڑی ہے۔اس کتاب میں سیدنا ابراہیم  کی حنیفیت اور شرک کی جڑیں کاٹنے کے حوالے سے ان کی محنتوں کو بیان کیا گیاہے ، جس میں دلچسپی کا عنصر بھی ہے اور دل پہ  چھا جانے والا گہرا اثر بھی ہے۔مکتبہ دار السلام نے بچوں کے لئے اس کے علاوہ بھی متعدد کتب تیار کی ہیں ،جن میں سے اکثر کتب ہماری اس سائٹ پر موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور ناشر کی بچوں کی اصلاح وتربیت کی حوالے سے کی جانے والی ان کوششوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمارے بچوں کو صحیح معنوں میں مسلمان اور اہل ایمان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 286 #3618

    مصنف : اشتیاق احمد

    مشاہدات : 1564

    ہولناک طوفان

    (جمعرات 24 ستمبر 2015ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان  میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں سے بھر پور ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا  لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب "ھولناک طوفان" محترم اشتیاق احمدصاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے ایک منفرد اور کہانی کے انداز میں معاصی خصوصا شرک کی حرمت  کو بڑے خوبصورت پیرائے میں جمع  کردیاہے۔یہ کتاب پاکستان کے معروف  عالمی طباعتی ادارے  مکتبہ دارالسلام کی طرف سے قصص الانبیاء کے حوالے سے شروع کئے گئے  سلسلے کی تیسری کڑی ہے۔یہ کتاب شرک کی تاریخ اور شرک کی وجہ سے تباہ ہونے والی قوم نوح  کے تذکروں پر مشتمل ہے ، جس میں دلچسپی کا عنصر بھی ہے اور دل پہ  چھا جانے والا گہرا اثر بھی ہے۔مکتبہ دار السلام نے بچوں کے لئے اس کے علاوہ بھی متعدد کتب تیار کی ہیں ،جن میں سے اکثر کتب ہماری اس سائٹ پر موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور ناشر کی بچوں کی اصلاح وتربیت کی حوالے سے کی جانے والی ان کوششوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمارے بچوں کو صحیح معنوں میں مسلمان اور اہل ایمان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 287 #2962

    مصنف : طالب ہاشمی

    مشاہدات : 1747

    یمن کا سورما اور دوسری کہانیاں

    (پیر 23 فروری 2015ء) ناشر : طہٰ پبلیکیشنز، لاہور

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں کی بھر مار ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب" یمن کا سورما اور دوسری کہانیاں "محترم طالب ہاشمی صاحب کی کاوش ہے ۔جس میں انہوں نے اس کمی کو دور کرنے کی مقدور بھر کوشش کی ہےاور بامقصد اور دلچسپ کہانیوں پر مشتمل کتب لکھنے کا آغاز کیا ہے۔اور یہ کتاب اس سلسلے کی تیسری کڑی ہے۔ اس سے پہلے دو کتابیں"چاندی کی ہتھکڑی اور دوسری کہانیاں"اور "قسمت کا سکندر اور دوسری کہانیاں" چھپ کر بچوں میں مقبولیت حاصل کر چکی ہیں۔اگرچہ اب میدان میں اور بھی متعدد کتب چھپ کر منظر عام پر آ چکی ہیں۔اس کتاب میں انہوں نے احادیث سے ماخوذ واقعات کے ساتھ ساتھ ایسی تاریخی یا نیم تاریخی کہانیاں قلمبند کی ہیں جن سے کوئی نہ کوئی اخلاقی سبق ملتا ہےیامعلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔یہ اگرچہ کوئی تحقیقی یا علمی کتاب نہیں ہے لیکن سائٹ پر بچوں سے متعلقہ مواد نہ ہونے کے سبب اسے بچوں کے بطور تحفہ پیش کیا جارہا ہے۔(راسخ)

  • 288 #6884

    مصنف : نسیم حجازی

    مشاہدات : 1424

    یوسف بن تاشفین

    (اتوار 17 فروری 2019ء) ناشر : جہانگیر بکس

    یوسف بن تاشفین مراکش کے جنوب میں صحرائی علاقے کارہنے والا تھا جس نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے صحرائے اعظم اور اس کے جنوب میں خاندان مرابطین کی حکومت قائم کی اور بعد ازاں اسے اسپین تک پھیلادیا۔ یوسف بن تاشفین نے 1061ءسے 1107ءتک حکومت کی۔ وہ بڑا نیک اور عادل حکمران تھا،اس کی زندگی بڑی سادہ تھی۔ تاریخ اسلام میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ اس نے صحرائے اعظم میں رہنے والے نیم وحشی اور حبشی باشندوں سے کئی سال تک لڑائیاں کیں اور اپنی حکومت دریائے سینی گال تک بڑھادی تھی۔ یہ لوگ ان قبائل کے خلاف جہاد ہی نہیں کرتے تھے بلکہ ان میں اسلام کی تبلیغ بھی کرتے تھے اور اس طرح انہوں نے بے شمار بربروں اور حبشیوں کو مسلمان بنایا۔صحرائے اعظم میں اسلام کی اشاعت اور اندلس میں مسیحی یلغار کو روکنا اس کے بہت بڑے کارنامے ہیں۔ شہر مراکش کی تعمیر بھی قابل فخر کارناموں میں شمار ہوتی ہے کیونکہ اس طرح اس نے ایک نیم وحشی علاقے میں دار الحکومت قائم کرکے تہذیب اور علم کی بنیاد ڈالی۔ یوسف نے تقریباً پچاس سال حکومت کی۔ اس کی قائم کی ہوئی سلطنت دولت مرابطین (1061ءتا 1147ء) کہلاتی ہے۔ یوسف کے انتقال کے بعد یہ حکومت مزید 40 سال قائم رہی۔جناب  نسیم حجازی  مرحوم   نے اس ناول  میں یوسف بن تاشفین  کی سیرت اور ان کےکارناموں کو بڑے دلچسپ انداز  میں   پیش کیا ہے ۔کتاب وسنت سائٹ  کےقارئین کی دلچسپی کے لیے اسے سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے ۔(م۔ا)

< 1 2 ... 21 22 23 24 25 26 27 28 29 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1293
  • اس ہفتے کے قارئین 3138
  • اس ماہ کے قارئین 55171
  • کل قارئین49459198

موضوعاتی فہرست