کل کتب 288

دکھائیں
کتب
  • 271 #258

    مصنف : امیر حمزہ

    مشاہدات : 18893

    ہم مسلمان کیوں ہوئے؟

    (ہفتہ 20 فروری 2010ء) ناشر : دار الاندلس،لاہور

    اسلام اللہ تعالی کی طرف سے آسمانی دین ہے جس کی دعوت تمام انبیاء کرام نے مختلف اوقات میں مختلف انداز سے دی ہے اور جس نبی کے امتیوں نے اسے قبول کیا انہیں مسلم اور جنہوں نے قبول نہیں کیا انہیں غیر مسلم یا کافر سے نام سے موسوم کیا گیا-دین اسلام کی کی تعلیمات کے نزول کے لیے آخری مسلمہ حیثیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی ہے اسی لیے یہ تقاضا ہے کہ جب تک کوئی شخص آخر الزماں پیغمبر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار نہیں کرتا وہ مسلم کے درجے میں داخل نہیں ہوتا-اسی لیے اس کتاب میں مصنف نے ان لوگوں کے حالات کو یکجا کیا ہے جنہوں نے اسلام کا مطالعہ کیا اور اسلامی تعلیمات نے ان کواس چیز پر مجبور کر دیا کہ وہ احقاق حق کا اعلان برملا کریں اور ابطال باطل کا اظہار سر عام کر کے کائنات کے سامنے حقانیت اسلام کو واضح کریں-اس کتاب میں مصنف نے ایسے تمام لوگوں کے حالات و واقعات اور قبول اسلام سے پہلے کی حالت اور قبول اسلام کے بعد دلی اطمینان اور پیش آمدہ مسائل کو اکٹھا کر کے غیر مسلموں کو سوچ و بچار کا پیغام دیا ہے اور مسلمانوں کو نعمت اسلام سے سرفراز ہونے کی وجہ سے ایک مبارک باد کا پیغام دیا ہے کہ اللہ تعالی نے انہیں بغیر محنت کے اتنی بڑی دولت سے سرفراز فرمایا ہے-

  • 272 #6837

    مصنف : ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر

    مشاہدات : 1472

    ہمارے ہندوستانی مسلمان

    (منگل 01 جنوری 2019ء) ناشر : مکی دارالکتب لاہور

    یہ حقیقت ہے کہ مسلمان ہندوستان میں ابھر نہیں سکے۔ وہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ آزادی کے بعد سے آج تک جس قدر مسائل سے ہندوستانی مسلمان دوچار رہے ہیں، کوئی اور قوم ان حالات سے گزرتی تو ممکن تھا کہ وہ اپنا وجود ہی خطرہ میں ڈال چکی ہوتی۔ اُس کی شناخت ختم ہو جاتی اور اس کے عقائد بگڑ جاتے۔ لیکن غالباً یہ مسلمانوں کی خود کی کوشش کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ خدا برحق کی مصلحت ہے کہ مسلمان ہندوستان میں نہ صرف باقی رہیں بلکہ اپنی مکمل شناخت اور عقائد و افکار میں بھی وہ نمایاں حیثیت برقرار رکھیں۔۱۸۵۷ء کے بعد کے ہندوستانی مسلمانوں کی، اس وقت کی کسی حد تک تصویر کشی ڈاکٹر سرولیم ہنٹر کی   کتاب’ ’ہمارے ہندوستانی مسلمان‘  میں تلاش کی جاسکتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ ہمارے ہندوستانی مسلمان‘‘ڈاکٹر سرولیم ہنٹر کی انگریزی کتاب   OUR INDIAN MUSLMANS کا اردو ترجمہ ہے۔ 1944ء میں جب   مترجم  کتاب  جناب صادق حسین نے اس کتاب کاترجمہ کیا   تو  اس وقت ہندوستان میں تحریک آزادی پورے شباب پر تھی۔ڈاکٹر سرولیم ہنٹر نےکتاب کے چوتھے باب میں مسلمانوں کی اقتصادی حالت اور ان کی مشکلات پر بحث کی ہے۔ جس میں وہ لکھتے ہیں کہ: مسلمانوں کوحکومت سے بہت سی شکایات ہیں۔ ایک شکایت یہ ہے کہ حکومت نے ان کے لیے تمام اہم عہدوں کا دروازہ بند کردیا ہے۔ دوسرے ایک ایسا طریقۂ تعلیم جاری کیا ہے، جس میں ان کی قوم کے لیے کوئی انتظام نہیں۔ تیسرے قاضیوں کی موقوفی نے ہزاروں خاندانوں کو جو فقہ اور اسلامی علوم کے پاسبان تھے، بیکار اور محتاج کردیا ہے۔ چوتھے یہ کہ ان کے اوقاف کی آمدنی جو ان کی تعلیم پر خرچ ہونی چاہیے تھی، غلط مصرفوں پر خرچ ہورہی ہے۔ڈاکٹرہنٹر یہ بھی لکھتے ہیں: جب ملک ہمارے قبضے میں آیا تو مسلمان سب قوموں سے بہتر تھے۔ نہ صرف وہ دوسروں سے زیادہ بہادر اور جسمانی حیثیت سے زیادہ توانا اور مضبوط تھے بلکہ سیاسی اور انتظامی قابلیت کا ملکہ بھی ان میں زیادہ تھا، لیکن یہی مسلمان آج سرکاری ملازمتوں اور غیر سرکاری اسامیوں سے یکسر محروم ہیں۔(م۔ا)

  • 273 #5117

    مصنف : سید سلیمان ندوی

    مشاہدات : 1650

    ہندوؤں کی علمی و تعلیمی ترقی میں مسلمان حکمرانوں کی کوششیں

    (پیر 30 جنوری 2017ء) ناشر : دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، انڈیا

    سائنس کو مذہب کا حریف سمجھا جاتا ہے،لیکن یہ ایک  غلط فہمی ہے۔دونوں کا دائرہ کار بالکل مختلف ہے ،مذہب کا مقصد شرف انسانیت کا اثبات اور تحفظ ہے۔وہ انسان کامل کا نمونہ پیش کرتا ہے،سائنس کے دائرہ کار میں یہ باتیں نہیں ہیں،نہ ہی کوئی بڑے سے بڑا سائنس دان انسان کامل کہلانے کا مستحق ہے۔اسی لئے مذہب اور سائنس کا تصادم محض خیالی ہے۔مذہب کی بنیاد عقل وخرد،منطق وفلسفہ اور شہود پر نہیں ہوتی بلکہ ایمان بالغیب پر  زیادہ ہوتی ہے۔اسلام نے علم کو کسی خاص گوشے میں محدود نہیں رکھا بلکہ تمام علوم کو سمیٹ کر یک قالب کر دیا ہےاور قرآن مجید میں قیامت تک منصہ شہود پر آنے والے تمام علوم کی بنیاد ڈالی ہے۔چنانچہ مسلمانوں نے تفکر فی الکائنات اور حکمت تکوین میں تامل وتدبر سے کام لیا اور متعددسائنسی اکتشافات  سامنے لائے ۔تاریخ میں ایسے بے شمار  مسلمان سائنسدانوں کے نام ملتے ہیں،جنہوں نے بے شمار نئی نئی چیزیں ایجاد کیں اور دنیا  میں مسلمانوں  اور اسلام کا نام روشن کیا۔مسلم حکمرانوں نے جہاں ساری دنیا کو اپنی ایجادات سے فائدہ پہنچایا وہیں ہندوستان کے مسلم حکمرانوں کے ہندوؤں  کی تعلیمی ترقی میں بھی بھر پور حصہ لیا۔ زیر تبصرہ کتاب" ہندوؤں کی علمی وتعلیمی ترقی میں مسلمان حکمرانوں کی کوششیں" علامہ سید سلیمان ندوی صاحب  کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے ہندوؤں کی علمی وتعلیمی ترقی میں مسلمان حکمرانوں کی کوششوں کا تذکرہ کیا ہے۔ اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول ومنظور فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 274 #7055

    مصنف : ابو الکلام آزاد

    مشاہدات : 841

    ہندوستان آزاد ہو گیا

    (جمعہ 13 ستمبر 2019ء) ناشر : نشریات لاہور

    برصغیر پاک و ہند میں کچھ ایسی شخصیات نے جنم لیا جو علم و ادب اور صحافت کے افق پر ایک قطبی ستارے کی طرح نمودار ہوئے اور دیر تک چھائے رہے۔ ان شخصیات میں سے مولانا ابو الکلام آزادؒ سرِ فہرست ہیں، مولانا کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازہ تھا۔ مولانا آزادؒ عربی، اردو، فارسی اور انگریزی کے عظیم سکالر تھے، آپ نہایت ہی زیرک اور بے باک انسان تھے۔ جب فرنگی حکومت نے ایک منصوبہ کے تحت تقسیم برصغیر کا پروگرام بنایا اور ان کا ارادہ تھا کہ مسلمان پسماندہ ہیں اس لیے ان کو چند ایک رعایتوں کے ساتھ اپنا آلہ کار بنا لیا جائے گا۔ مولانا آزادؒ نے جب برطانوی حکومت کی چالوں میں شدّت محسوس کی تو برصغیر کے مسلمانوں کو اس خطرناک چال سے بچانے کے لیے مولانا نے باقاعدہ کوششیں کیں۔ مولانا یہ چاہتے تھے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی نو(9) کروڑ سے زیادہ ہے اور وہ اپنی اس زبردست تعداد کے ساتھ ایسی مذہبی و معاشرتی صفات کے حامل ہیں کہ ہندوستان کی قومی و وطنی زندگی میں فیصلہ کن اثرات ڈال سکتے ہیں۔ مولانا کا یہ نظریہ تھا کہ اگر آج ہندوستان کے مسلمان ایک الگ ملک حاصل کر لیں گئے تو وہ فرنگیوں کے آلہ کار ہو کر رہ جائیں گئے اور انڈیا کے مسلمان اپنی اجتماعی طاقت سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو کر احساس کمتری کا شکار رہیں گئے۔ زیر تبصرہ کتاب"ہندوستان آزاد ہو گیا" مولانا ابو الکلام آزادؒ کی بےمثال تصانیف میں سے ہے۔ جس میں مولانا آزادؒ کا بچپن، جوانی ، خاندان، کانگرس کی امارت، تحریک تقسیم ہندوستان اور برطانوی حکومت کے ساتھ مذاکرات وغیرہ کو قلمبندکیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مولانا آزادؒ کو غریق رحمت فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • 275 #5367

    مصنف : ضیاء الدین اصلاحی

    مشاہدات : 1618

    ہندوستان عربوں کی نظر میں جلد۔1

    dsa (جمعرات 02 مارچ 2017ء) ناشر : دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، انڈیا

    تجارت کی غرض سے عرب تاجر ہندوستان کے ساحلوں پر آتے جاتے رہتے تھے اس سلسلے میں ایک بڑی تعداد سری لنکا میں آباد ہو گئی تھی اس کے علاوہ مکران کے ساحلی علاقوں میں بھی عرب مسلم آبادیاں تھیں ایک روایت کے مطابق فتح سندھ سے قبل عرب مسلمان سندھ میں بستے تھے پانچ سو عرب مسلمان مکران سے سندھ میں آکر آباد ہو گئے تھے دیبل کی بندرگاہ کی وجہ سے بھی سندھ میں مسلمان آبادیاں تھیں۔ بعض روایتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ عرب مسلمانوں کا دوسرا مرکز ہندوستان کا وہ آخری کنارہ تھا جس کو ہندوؤں کے پرانے زمانے میں "کیرالہ" کہتے تھے اور بعد کو "ملیبار" کہنے لگے یہاں تجارت کی غرض سے آنے والے بہت سے عرب تاجر بس گئے تھے۔ تجارت کے علاوہ عربوں کے ہندوستان پر حملوں کو بھی تاریخ میں عربوں کی آمد کی وجہ بتایا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتا ب ’’ہندوستان عربوں کی نظر میں‘‘ ضیاء الدین اصلاحی کی کاوش ہے۔ جسے انہوں نے ہندوستان کے متعلق قدیم عربی مصنفین خصوصاً جغرافیہ نویسوں اور ساحوں کی عربی کتابوں سے استفادہ کر کے اردو میں دو جلدوں میں پیش کیا ہے۔ (م۔ا)

  • 276 #6834

    مصنف : ڈاکٹر محمد مظفر الدین فاروقی

    مشاہدات : 2004

    ہندوستان میں مسلم دور حکومت کا خاتمہ اسباب و علل

    (ہفتہ 29 دسمبر 2018ء) ناشر : ایم آر پبلی کیشنز نئی دہلی

    مغلیہ سلطنت 1526ء سے 1857ء تک برصغیر پر حکومت کرنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کی بنیاد ظہیر الدین بابر نے 1526ء میں پہلی جنگ پانی پت میں دہلی سلطنت کے آخری سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دے کر رکھی تھی۔ مغلیہ سلطنت اپنے عروج میں تقریباً پورے برصغیر پر حکومت کرتی تھی، یعنی موجودہ دور کے افغانستان، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے ممالک پر مشتمل خطے پر انکا دور دورہ تھا۔خاندان مغلیہ کے کل پندرہ بادشاہ ہوئے۔ ان میں سے پہلے چھ طاقتور اور واقعی بادشاہ کہلانے کے مستحق تھے۔ مغلیہ خاندان کے ان زبردست بادشاہوں میں اورنگزیب آخری تھا۔اورنگزیب 49سال تک حکمران رہا لیکن اس کے بعد کوئی بھی ایسا شخص نہ تھاجو مغلیہ سلطنت کو سنبھال سکتا۔ اورنگزیب کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ اس نے راجپوتوں،سکھوؤں، مرہٹوں اور تمام غیر مسلم اقوام کے ساتھ زیادہ اچھا سلوک نہ کیا جس کی وجہ سے مغل تنہا ہوتے گئے۔اورنگزیب کے جانشین سلطنت کو نہ سنبھال سکے اور ایک وقت آیا کہ ایک مغل شہزادے فرخ سیار نامی بادشاہ نے سید بھائیوں کی مدد سے حکومت پر قبضہ کرلیا ۔ فرخ کے بعدسید بھائیوں نے 18سالہ لڑکے محمد شاہ کو بادشاہ بنانے میں کردار ادا کیاجس کانتیجہ یہ نکلا کہ امراء نے بغاوت کردی اور سلطنت مزید کمزور ہوتی گئی۔ایک وقت آیا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے مغل سلطنت کا خاتمہ کرتے ہوئے بہادر شاہ ظفر کو رنگون میں قید کروادیاجہاں اس کی موت واقع ہوئی۔یوں ہندوستان  میں مسلم  حکومت کے خاتمہ ہوگیا ۔ زیر نظر کتاب ’’ ہندوستان میں مسلم دور کا خاتمہ ۔ اسباب وعلل‘‘   ڈاکٹر محمد مظفر الدین  فاروقی کے   2006ء میں  شکا گو  (امریکہ) کے مضافاتی  شہر شام برگ کی پبلک لائبریری میں  مذکورہ موضوع تین  لیکچرز کامجموعہ ہے ۔ اس کتاب میں   اورنگزیب کے انتقال 1707ء سے لے کر  نظام حیدرآباد میر عثمان علی خان کی حکومت آصفیہ سےدست  برداری 1948ء  تک تاریخ رقم ہے ۔مصنف نے اس کتاب کو تین ابواب میں تقسیم کیا ہے  ۔ پہلا باب سلطنت  مغلیہ کے زوال کی داستان اوردوسرا باب 1857ء کی جنگ آزادی اور اس کی ناکامی کے اسباب پر مشتمل ہماری تاریخ کے مثبت او رمنفی پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے ۔ اور تیسرا باب ہندوستان  کی آخری مسلم حکومت سلطنت آصفیہ کےزوال کی رودا پر مشتمل ہے۔(م۔ا)

  • 277 #6834

    مصنف : ڈاکٹر محمد مظفر الدین فاروقی

    مشاہدات : 2004

    ہندوستان میں مسلم دور حکومت کا خاتمہ اسباب و علل

    (ہفتہ 29 دسمبر 2018ء) ناشر : ایم آر پبلی کیشنز نئی دہلی

    مغلیہ سلطنت 1526ء سے 1857ء تک برصغیر پر حکومت کرنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کی بنیاد ظہیر الدین بابر نے 1526ء میں پہلی جنگ پانی پت میں دہلی سلطنت کے آخری سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دے کر رکھی تھی۔ مغلیہ سلطنت اپنے عروج میں تقریباً پورے برصغیر پر حکومت کرتی تھی، یعنی موجودہ دور کے افغانستان، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے ممالک پر مشتمل خطے پر انکا دور دورہ تھا۔خاندان مغلیہ کے کل پندرہ بادشاہ ہوئے۔ ان میں سے پہلے چھ طاقتور اور واقعی بادشاہ کہلانے کے مستحق تھے۔ مغلیہ خاندان کے ان زبردست بادشاہوں میں اورنگزیب آخری تھا۔اورنگزیب 49سال تک حکمران رہا لیکن اس کے بعد کوئی بھی ایسا شخص نہ تھاجو مغلیہ سلطنت کو سنبھال سکتا۔ اورنگزیب کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ اس نے راجپوتوں،سکھوؤں، مرہٹوں اور تمام غیر مسلم اقوام کے ساتھ زیادہ اچھا سلوک نہ کیا جس کی وجہ سے مغل تنہا ہوتے گئے۔اورنگزیب کے جانشین سلطنت کو نہ سنبھال سکے اور ایک وقت آیا کہ ایک مغل شہزادے فرخ سیار نامی بادشاہ نے سید بھائیوں کی مدد سے حکومت پر قبضہ کرلیا ۔ فرخ کے بعدسید بھائیوں نے 18سالہ لڑکے محمد شاہ کو بادشاہ بنانے میں کردار ادا کیاجس کانتیجہ یہ نکلا کہ امراء نے بغاوت کردی اور سلطنت مزید کمزور ہوتی گئی۔ایک وقت آیا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے مغل سلطنت کا خاتمہ کرتے ہوئے بہادر شاہ ظفر کو رنگون میں قید کروادیاجہاں اس کی موت واقع ہوئی۔یوں ہندوستان  میں مسلم  حکومت کے خاتمہ ہوگیا ۔ زیر نظر کتاب ’’ ہندوستان میں مسلم دور کا خاتمہ ۔ اسباب وعلل‘‘   ڈاکٹر محمد مظفر الدین  فاروقی کے   2006ء میں  شکا گو  (امریکہ) کے مضافاتی  شہر شام برگ کی پبلک لائبریری میں  مذکورہ موضوع تین  لیکچرز کامجموعہ ہے ۔ اس کتاب میں   اورنگزیب کے انتقال 1707ء سے لے کر  نظام حیدرآباد میر عثمان علی خان کی حکومت آصفیہ سےدست  برداری 1948ء  تک تاریخ رقم ہے ۔مصنف نے اس کتاب کو تین ابواب میں تقسیم کیا ہے  ۔ پہلا باب سلطنت  مغلیہ کے زوال کی داستان اوردوسرا باب 1857ء کی جنگ آزادی اور اس کی ناکامی کے اسباب پر مشتمل ہماری تاریخ کے مثبت او رمنفی پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے ۔ اور تیسرا باب ہندوستان  کی آخری مسلم حکومت سلطنت آصفیہ کےزوال کی رودا پر مشتمل ہے۔(م۔ا)

  • 278 #6742

    مصنف : مفتی شوکت علی فہمی

    مشاہدات : 2500

    ہندوستان پر اسلامی حکومت

    (جمعہ 17 اگست 2018ء) ناشر : سٹی بک پوائنٹ کراچی

    ہندوستان دنیا کا قدیم ترین ملک ہے ۔ اس ملک  کوو ہی قدامت حاصل ہےجو دنیا کے کسی پرانے سے پرانے ملک  کو حاصل ہوسکتی ہے۔ ہندوستان کےبارے میں مؤرخوں کی رائے  ہے کہ  اس  ملک کی تہذیب او ر تمدن یونان سے بھی قدیم ہے۔ہندوستان ابتداء ہی ایک نہایت زرخیز ملک ہے ۔ لیکن اس کی زرخیزی اس ملک کے باشندوں کےلیے  ہمیشہ مصیبت بنی ر ہے ۔ چنانچہ ہندوستان کے گرد وپیش  جب بھی کسی قوم کو ذرا بھی اقتدار حاصل ہوا   وہ ہندوستان پر چڑھ دوڑی تاکہ ہندوستان کی زرخیزی سے مالا مال ہو سکے ۔ ہندوستان دنیا کا ایسا خطہ ہے جہاں آٹھویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک دو غیرملکی حکمران، عرب مسلمان اور انگریز(برطانوی) قابض رہے۔ 712 ء میں مسلمان حکمران محمد بن قاسم نے ہندوستان میں قدم رکھا اور 1857 کے غدر کے بعد باقاعدہ مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ ہوا ۔ برطانوی سامراج جس کی ابتداء 1757 ء کو ہوئی تھی کا خاتمہ 1947 ء کو ہوا۔ محمد بن قاسم نے دمشق میں موجود مسلمان خلیفہ الولید اور بغداد کے گورنر حجاج بن یوسف کی آشیر باد سے، 712 ء میں ہندوستان پر حکمرانی کا آغاز کیا ۔ 1590ء تک مسلمان حکمران شہنشاہ اکبر تقریباً پورے ہندوستان پر قابض ہو چکا تھا۔ مغلیہ سلطنت 1526ء سے 1857ء تک برصغیر پر حکومت کرنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کی بنیاد ظہیر الدین بابر نے 1526ء میں پہلی جنگ پانی پت میں دہلی سلطنت کے آخری سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دے کر رکھی تھی۔ مغلیہ سلطنت اپنے عروج میں تقریباً پورے برصغیر پر حکومت کرتی تھی، یعنی موجودہ دور کے افغانستان، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے ممالک پر مشتمل خطے پر انکا دور دورہ تھا زیرتبصرہ کتاب ’’ ہندوستان پر اسلامی حکومت ‘‘ مفتی شوکت علی فہمی کی  ہندوستان پر مسلم دور حکومت کی تاریخی معلومات پر  ایک دلچسپ تاریخی کتاب ہے۔مصنف نے  اس کتاب میں  مستند تاریخی حوالوں سے ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد سےمغلیہ حکومت کے قیام تک کی  مختصر تاریخ  جامع انداز میں  ہندوستان کےمسلمان بادشاہوں کی سچی تصویر پیش کی ہے ۔تاکہ غیر مسلموں کےذہنوں سے بدگمانیوں کا زہر  نچوڑ لیا جائے۔اس تاریخی کتاب میں  جتنے بھی واقعات درج ہیں و ہ تمام کے تمام ہندوستان کی ان قابل اعتبار پرانی تاریخوں سے اخذ کیے گئے ہیں  جو  ہندوستان کےتقریباً  ہر طبقہ میں مستند خیال کی جاتی ہیں۔یہ  کتاب    ایڈیشن ہذا پہلے   56 برس قبل ہندوستان کی راجدھانی دہلی سےشائع ہوئی تھی۔50 برس سے یہ کتاب مارکیٹ سے ختم ہوچکی  تھی 2005ء میں سٹی بک پوائنٹ  کراچی نے پاکستان میں پہلی بار شائع کیا۔(م۔ا) 

  • 279 #6771

    مصنف : مفتی شوکت علی فہمی

    مشاہدات : 1700

    ہندوستان پر مغلیہ حکومت

    (ہفتہ 22 ستمبر 2018ء) ناشر : سٹی بک پوائنٹ کراچی

    ہندوستان دنیا کا قدیم ترین ملک ہے ۔ اس ملک  کوو ہی قدامت حاصل ہےجو دنیا کے کسی پرانے سے پرانے ملک  کو حاصل ہوسکتی ہے۔ ہندوستان کےبارے میں مؤرخوں کی رائے  ہے کہ  اس  ملک کی تہذیب او ر تمدن یونان سے بھی قدیم ہے۔ہندوستان ابتداء ہی ایک نہایت زرخیز ملک ہے ۔ لیکن اس کی زرخیزی اس ملک کے باشندوں کےلیے  ہمیشہ مصیبت بنی ر ہے ۔ چنانچہ ہندوستان کے گرد وپیش  جب بھی کسی قوم کو ذرا بھی اقتدار حاصل ہوا   وہ ہندوستان پر چڑھ دوڑی تاکہ ہندوستان کی زرخیزی سے مالا مال ہو سکے ۔ ہندوستان دنیا کا ایسا خطہ ہے جہاں آٹھویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک دو غیرملکی حکمران، عرب مسلمان اور انگریز(برطانوی) قابض رہے۔ 712 ء میں مسلمان حکمران محمد بن قاسم نے ہندوستان میں قدم رکھا اور 1857 کے غدر کے بعد باقاعدہ مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ ہوا ۔ برطانوی سامراج جس کی ابتداء 1757 ء کو ہوئی تھی کا خاتمہ 1947 ء کو ہوا۔ محمد بن قاسم نے دمشق میں موجود مسلمان خلیفہ الولید اور بغداد کے گورنر حجاج بن یوسف کی آشیر باد سے، 712 ء میں ہندوستان پر حکمرانی کا آغاز کیا ۔ 1590ء تک مسلمان حکمران شہنشاہ اکبر تقریباً پورے ہندوستان پر قابض ہو چکا تھا۔ مغلیہ سلطنت 1526ء سے 1857ء تک برصغیر پر حکومت کرنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کی بنیاد ظہیر الدین بابر نے 1526ء میں پہلی جنگ پانی پت میں دہلی سلطنت کے آخری سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دے کر رکھی تھی۔ مغلیہ سلطنت اپنے عروج میں تقریباً پورے برصغیر پر حکومت کرتی تھی، یعنی موجودہ دور کے افغانستان، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے ممالک پر مشتمل خطے پر انکا دور دورہ تھا۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ ہندوستان پرمغلیہ حکومت‘‘ مفتی شوکت علی فہمی کی  ہندوستان پر مغلیہ دور  سے لے کر انگریزں کے دورِ حکومت تک مغلیہ حکومت کی تاریخی معلومات پر  ایک دلچسپ تاریخی کتاب ہے۔مصنف نے  اس کتاب میں  مستند تاریخی حوالوں سے ہندوستان پر مغلیہ حکومت کے قیام  ، عروج زوال اور انگریزی راج کےقیام پر بڑی وضاحت کے ساتھ روشنی  ڈالی ہے اور  جامع انداز میں  ہندوستان کےمغلیہ بادشاہوں کی سچی تصویر پیش کی ہے ۔اس کتاب کا سب سے اہم حصہ وہ آخری باب ہےجس میں مغلیہ حکومت کے زوال کی تفصیلات درج ہیں اور جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ انگریزوں  نے مغلیہ حکومت کی ہڈیوں پر کس طر ح برطانوی حکومت کی تعمیر شروع کی ۔ اس باب میں انگریزوں کو بالکل عریاں کر کے پیش کیا گیا ہےاور یہ واضح کیا گیا ہے کہ انگریزوں نے کس  عیاری اور مکاری کے ساتھ ہندوستان کے برصغیرپر غاصبانہ قبضہ  جمایا۔اس تاریخی کتاب میں  جتنے بھی واقعات درج ہیں و ہ تمام کے تمام ہندوستان کی ان قابل اعتبار پرانی تاریخوں سے اخذ کیے گئے ہیں  جو  ہندوستان کےتقریباً  ہر طبقہ میں مستند خیال کی جاتی ہیں (م۔ا) 

  • 280 #5250

    مصنف : ابو الحسنان ندوی

    مشاہدات : 2034

    ہندوستان کی قدیم اسلامی درسگاہیں

    (اتوار 02 اپریل 2017ء) ناشر : دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، انڈیا

    مسلمانوں میں دینی تعلیم کے اہتمام کا سلسلہ عہد نبوی ہی میں شروع ہوچکا تھا۔ دارارقم ،درس گاہ مسجد قبا ، مسجد نبوی اور اصحاب صفہ کے چبوترہ میں تعلیم وتربیت کی مصروفیات اس کے واضح ثبوت ہیں۔ چوتھی وپانچویں صدی ہجری کی معروف دینی درس گاہوں میں مصر کا جامعہ ازہر ، اصفہان کا مدرسہ ابوبکر الاصفہانی ، نیشاپور کا مدرسہ ابو الاسحاق الاسفرائینی اور بغداد کا مدرسہ نظامیہ شامل ہیں۔غرضیکہ مدارس کی تاریخ وتاسیس کی کڑی عہد رسالت سے جاکر ملتی ہے اور مدارس میں پڑھائی جانے والی کتب حدیث کی سند کا سلسلہ حضور اکرم ﷺ تک پہنچتا ہے۔ برصغیر میں مدارس کا قیام دوسری صدی ہجری یعنی آٹھویں صدی عیسوی میں ہوا۔اور جب دہلی میں مسلم حکومت قائم ہوئی تو دہلی کے علاوہ دوسرے شہروں وقصبوں ودیہاتوں میں کثیر تعداد میں مکاتب ومدارس قائم ہوئے۔ مدارس کے قیام کا بنیادی مقصد کتاب وسنت اور ان سے ماخوذ علوم وفنون کی تعلیم وتعلم ، توضیح وتشریح ، تعمیل واتباع ، تبلیغ ودعوت کے ساتھ ایسے رجال کار پیدا کرنا ہے جو اس تسلسل کو قائم وجاری رکھ سکیں ، نیز انسانوں کی دنیاوی زندگی کی رہنمائی کے ساتھ ایسی کوشش کرنا ہے کہ ہر ہر انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جانے والا بن جائے۔ زیر تبصرہ کتاب" ہندوستان کی قدیم اسلامی درسگاہیں" محترم مولانا ابو الحسنات ندوی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نےہندوستان کے مسلمان حکمرانوں کے عہد کی اسلامی درسگاہوں کی تاریخ کو یکجا کر دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

< 1 2 ... 21 22 23 24 25 26 27 28 29 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1301
  • اس ہفتے کے قارئین 3146
  • اس ماہ کے قارئین 55179
  • کل قارئین49459307

موضوعاتی فہرست