کل کتب 45

دکھائیں
کتب
  • 31 #853

    مصنف : محمد بن سعد کاتب الواقدی

    مشاہدات : 17526

    طبقات کبیر جلد اول

    dsa (ہفتہ 23 جولائی 2011ء) ناشر : جامعہ عثمانیہ سرکار حیدرآباد دکن

    زیر نظر کتاب تاریخ اسلامی کا بہت وسیع ذخیرہ اور تاریخی اعتبار سے ایک شاندار تالیف ہے جس میں مصنف نے بہت عرق ریزی سے کام لیا ہے۔واقعات کو بالاسناد ذکر کیا ہے جس سے محققین کے لیے واقعات کی جانچ پڑتال اور تحقیق سہل ہو گئی ہے۔یہ کتاب سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سیر صحابہ وتابعین پر یہ تالیف سند کی حیثیت رکھتی ہے اور سیرت نگاری پر لکھی جانے والی کتب کا یہ اہم ماخذ ہے المختصر سیرت نبوی اور سیرت صحابہ وتابعین پر یہ ایک عمدہ کتا ب ہے ۔جس کا مطالعہ قارئین کو ازمنہ ماضیہ کی یاد دلاتا ہےاور ان عبقری شخصیات کے کارہائے نمایاں قارئین میں دینی ذوق ،اسلامی محبت اور ماضی کی انقلابی شخصیات کے کردار سے الفت و یگانگت پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔لہذا فحش لٹریچر ،گندے میگزین اور ایمان کش جنسی ڈائجسٹ کی بجائے ایسی تاریخی کتب کا مطالعہ کرنا چاہیے جو شخصیات میں نکھار ،ذوق میں اعتدال ،روحانیت میں استحکام اور دین سے قلبی لگاؤ کا باعث بنیں ۔
     

  • عظیم مسلمان دانشور

    (جمعہ 15 دسمبر 2017ء) ناشر : تخلیقات، لاہور

    سائنس کی تنظیم و تٰرقی کی تاریخ ایک مثبت اور باقاعدہ علم ہے۔ ایسے مثبت علم کی تحصیل میں انسان کی مساعی سے ہر وقت اضافہ ہی ہوتا آ رہا ہے۔ کار ہائے صناعی و فنون لطیفہ کا مطالعہ ہم ان اقوام کی ذہنیت سے واقف کراتا ہے جو ان کے بانی ہیں۔اقوام عالم کے ادیان و مذاہب کے ارتقاء کی جانچ بھی انسان کے لیے نہایت ضروری مشغلہ ہے۔ حال تک لوگ سائنس کو دینیات ہی کا ایک جزو تصور کرتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’عظیم مسلمان دانشور‘‘مولوی عبد الرحمٰن (صدر حیدر آباد اکیڈمی، سابق پرنسپل عثمانیہ یونیورسٹی کالج) کی ہے۔ جس میں 1950ء میں قرون وسطیٰ کے مسلمانوں کی علمی خدمات کو اجاگر کیا گیا ہے۔مزیدساتویں صدی عیسوی سے لے کر تیرہویں صدی عیسوی تک تمام سائنسی ادوار، شخصیات اور علمی خدمات کو انتہائی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔یہ کتاب علمی لحاظ سے انتہائی مفید ہےجس کے مطالعہ سے ہمارے دلوں میں جذبات پیدا ہوں گے کہ ہم بھی اپنے سابقہ عظیم شخصیات کی طرح نئے نئے کام سر انجام دیں۔ ہم مصنف اور دیگر ساتھیوں کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو ان کےلئے صدقہ جاریہ بنائے۔آمین۔(رفیق الرحمن)

  • 33 #1664

    مصنف : محمد تقی امینی

    مشاہدات : 5161

    لا مذہبی دور کا تاریخی پس منظر

    (ہفتہ 20 اپریل 2013ء) ناشر : مکی دارالکتب لاہور

    مذہب و سیاست حقیقتاً ایک دوسرے کے حریف نہیں ہیں بلکہ حلیف ہیں ان کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ لیکن جب دونوں کے استعمال اور طریق استعمال میں توازن برقرار نہ رہے اور باہمی کشش ختم ہو جائے تو یقیناً دونوں کے کردار مختلف شکلوں میں نمودار ہوتے ہیں۔ ’لا مذہبی دور کا تاریخی پس منظر‘ مولانا تقی امینی کی ایک شاندار کاوش ہے جس میں لا مذہی دور کی اجمالی تاریخ بیان کی گئی ہے تاکہ اس کے ذریعے مذہب کی نشأۃ ثانیہ کے نوک پلک درست کرنے میں سہولت ہو۔ چونکہ نئے دور کا آغاز اور لا مذہبی نظریات کے فروغ کا زیادہ تعلق یورپ سے وابستہ ہے اس لیے وہیں کے حالات بیان کرنے پر اکتفا کیا گیا ہے۔ ابتدا میں وحی الٰہی کی روشنی میں چند اثرات ذکر کیے گئے ہیں کہ خواہشات و اغراض کو غلبہ ہو کر جب مذہب کی متحرک اور مستقل حیثیت باقی نہیں رہتی ہے تو زندگی میں اس قسم کے اثرات ہوتے ہیں۔ اس سلسلہ میں یہود و نصاریٰ کے حالات سے زیادہ مدد لی گئی ہے۔(ع۔م)
     

  • 34 #6887

    مصنف : ڈاکٹر فخر الاسلام

    مشاہدات : 781

    متبادل عدالتی نظام اور سوات آپریشن

    (بدھ 20 فروری 2019ء) ناشر : پاک بک ایمپائر لاہور

    مالا کنڈ ڈویژن میں صوفی محمد  نے  تحریک نفاذ شریعت محمدی کی بنیاد رکھی بعد  ازاں   صوفی محمد کے منظر عام سے ہٹ جانے کے بعد اس کے داماد فضل اللہ  نے اس تحریک کوسنبھالا اور سوات میں اپنی ایک متوازی حکومت قائم کرلی جو 2009 کے فوجی آپریشن کے شروع ہونے سے قبل یہاں کی سیاہ و سفید کی مالک تھی ۔ مسلم خان اس تحریک کا ترجمان تھا جس کو ستمبر 2009 میں پاک فوج نے گرفتار کر لیا۔ اس تحریک کے خلاف ہونے والی فوجی کارروائی کو آپریشن راہ راست کا نام دیا گیا۔ پاک فوج نے اس آپریشن میں سوات سے اس تحریک کا  تقریبا ًخاتمہ کر دیا اور فضل للہ افغانستان فرار ہو گیا  سوات اپریشن  کے متعلق  کہ معاہدہ امن کیوں کر سبوتاژ ہوا؟ ، سوات آپریشن۔۔۔ اسباب و نتائج  کے بارے میں  ملت اسلامیہ کے علمی وفکر ی ترجمان   ماہنامہ محدث نے  جو ن 2009ء  میں بطور خاص  اسی موضوع پر مضامین شائع کیے ۔ زیر نظر کتاب ’’ متبادل عدالتی نظام اور سوات اپریشن ‘‘ ڈاکٹر فخرالاسلام کی کاوش ہے ۔مصنف موصوف نے اس کتاب میں  سوات آپریشن کی تاریخ ،اسباب، اور عوام الناس پر اس کے منفی اثرات کا مفصل جائزہ لینے کی کوشش کی ہے ۔(م۔ا)

  • 35 #6947

    مصنف : پروفیسر ڈاکٹر جمیلہ شوکت

    مشاہدات : 927

    محدثین اندلس ایک تعارف

    (بدھ 01 مئی 2019ء) ناشر : یو ایم ٹی پریس

    پروفیسر ڈاکٹر جمیلہ شوکت (پ:1941ء)  نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے (عربی، اسلامیات، تاریخ) کیا ۔ اور ’مسندِ عائشہ رضی اللہ عنہا‘ پر تحقیق کے اعتراف میں کیمبرج یونیورسٹی، برطانیہ نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی۔ بطور استاد، ادارہ علوم اسلامیہ، پنجاب یونیورسٹی میں تدریس سے وابستہ (1966ء۔2000ء) رہیں اور بطور پروفیسر سبک دوش ہوئیں۔ ادارہ علوم اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی کی چیئرپرسن، شیخ زاید اسلامک سینٹر کی ڈائریکٹر اور پنجاب یونیورسٹی فیکلٹی آف اسلامک اینڈ اورینٹل لرننگ کی ڈین کے طور پر خدمات انجام دیں۔ بطور نگران 50 سے زیادہ پی ایچ ڈی اور 20 سے زیادہ ایم فل تحقیق کاروں کو رہنمائی دی۔ لاہور کالج یونیورسٹی برائے خواتین میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل حکومتِ پاکستان کی رکن رہیں۔ پنجاب  یونیورسٹی  کے تین تحقیقی مجلوں: مجلہ تحقیق، الاضواء، القلم کی مدیراعلیٰ رہیں۔ 30 سے زائد تحقیقی مقالات اردو، عربی، انگریزی میں شائع ہوئے۔ پنجاب یونیورسٹی نے ان کی مثالی   خدمات کے اعتراف میں پروفیسر ایمریطس مقرر کیا ہے۔ ایم اے عربی میں اندلس کے معروف عالم و ادیب ابن عبدربہ (م328ھ) کی معروف کتاب العقد الفرید (جس کو اہلِ علم نے علم و ادب کا موسوعہ تسلیم کیا ہے) کے ایک جز کا اردو ترجمہ مع حواشی  تحقیقی مقالہ پیش کیا ہے   اور ایم تاریخ کے  اختیاری پرچوں میں تاریخ اندلس کو اختیار کیا۔اس لیے  موصوفہ  کو تاریخ اور بالخصوص  تاریخ ا ندلس  سے خاص دلچسپی ر ہی۔ تاریخ اندلس  سے یہ لگن اور دلچسپی زیر نظر’’  محدثین  اندلس  ایک تعارف  ‘‘ لکھنے کا باعث بنی ۔  ڈاکٹر صاحبہ  نے عربی زبان میں اس موضوع سے متعلق جابجا بکھرے  مواد کو اکٹھا کرکے احسن انداز میں  مرتب کرنے کی کوشش کی ہے ڈاکٹر صاحب ڈاکٹر صاحبہ نے اس کتاب میں دوسری صدی ہجری  سے  آٹھویں صدی  تک  کے  محدثینِ اندلس  کا تذکرہ مرتب  کیا ہےا   س کی تفصیل درج ذیل ہے: دوسری صدی کے چھے محدثین، تیسری صدی ہجری کے تیرہ محدثین، چوتھی صدی ہجری کے اڑتیس محدثین، پانچویں صدی ہجری کے اننچاس محدثین، چھٹی صدی ہجری کے بیالیس محدثین، ساتویں صدی ہجری کے انتیس محدثین، آٹھویں صدی ہجری کے گیارہ محدثین، اس کے علاوہ پچیس محدثات کے حالات کا تعارف بھی شاملِ کتاب ہے۔اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کی اس  گراں قدر  علمی کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے ۔(آمین)(م۔ا)

  • 36 #4892

    مصنف : پروفیسر ارشد جاوید

    مشاہدات : 2454

    مسلمانوں کا ہزار سالہ عروج (سیاسی، سائنسی، طبی، علمی)

    (ہفتہ 05 نومبر 2016ء) ناشر : علم و عرفان پبلشرز، لاہور

    مسلمانوں نے اپنے ابتدائی ہزار سالہ دورحکومت میں سائنسی، سیاسی، طبی اور علمی چور پر ہر میدان میں دنیا کی راہنمائی کی اور انہیں علم وحکمت کے نئے نئے نادر تحفے عطا کئے۔ سائنس کو مذہب کا حریف سمجھا جاتا ہے،لیکن یہ ایک  غلط فہمی ہے۔دونوں کا دائرہ کار بالکل مختلف ہے ،مذہب کا مقصد شرف انسانیت کا اثبات اور تحفظ ہے۔وہ انسان کامل کا نمونہ پیش کرتا ہے،سائنس کے دائرہ کار میں یہ باتیں نہیں ہیں،نہ ہی کوئی بڑے سے بڑا سائنس دان انسان کامل کہلانے کا مستحق ہے۔اسی لئے مذہب اور سائنس کا تصادم محض خیالی ہے۔مذہب کی بنیاد عقل وخرد،منطق وفلسفہ اور شہود پر نہیں ہوتی بلکہ ایمان بالغیب پر  زیادہ ہوتی ہے۔اسلام نے علم کو کسی خاص گوشے میں محدود نہیں رکھا بلکہ تمام علوم کو سمیٹ کر یک قالب کر دیا ہےاور قرآن مجید میں قیامت تک منصہ شہود پر آنے والے تمام علوم کی بنیاد ڈالی ہے۔چنانچہ مسلمانوں نے تفکر فی الکائنات اور حکمت تکوین میں تامل وتدبر سے کام لیا اور متعددسائنسی اکتشافات  سامنے لائے ۔تاریخ میں ایسے بے شمار  مسلمان سائنسدانوں کے نام ملتے ہیں،جنہوں نے بے شمار نئی نئی چیزیں ایجاد کیں اور دنیا  میں مسلمانوں  اور اسلام کا نام روشن کیا۔ زیر تبصرہ کتاب" مسلمانوں کا ہزار سالہ عروج (سیاسی، سائنسی، طبی، علمی) " محترم پروفیسر ارشد جاوید صاحب ایم اے نفسیات امریکہ  کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے مسلمانوں کے ہزار سالہ تاریخ عروج میں ان کی طرف سے انجام دی گئی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی ہےاور یہ ثابت کیا ہے کہ مسلمانوں نے اپنے اس سنہری دور میں بے شمار علوم وفنون کو ایجاد کیا اور بے شمار نئی نئی چیزیں ایجاد کیں۔ان کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ یہ سنہری دوبارہ بھی آ سکتا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 37 #6824

    مصنف : نور احمد

    مشاہدات : 1122

    مسلمانوں کے تہذیبی کارنامے

    (منگل 18 دسمبر 2018ء) ناشر : فیروز سنز، لاہور۔ کراچی

    آج جو سائنس اہلِ مغرب کے لیے نقطہِ عروج سمجھی جا رہی ہے اور جس نے مسلمانوں کی نظروں کو خیرہ کر کے انہیں احساسِ کمتری کا شکار بنادیا ہے، انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس برگ وبار کو ان کے اسلاف ہی نے کئی صدیوں تک اپنے خونِ جگر سے سینچ کر پروان چڑھایا ہے۔ یہ سائنس جس کے برگ وبار سے  دنیا  آج لطف اندوز ہورہی ہے اور جو دیگر ضروریاتِ زندگی کی طرح انسانی زندگی کا ایک اٹوٹ حصہ اور لازمہ بن چکی ہے، اس کی تخم ریزی ہمارےمسلمان اباء ہی نے بدستِ خویش کی تھی۔سائنس کی دنیا میں اقوامِ عالم نے ہمارے ہی بزرگوں کی انگشت پکڑ کر چلنا سیکھا ہے۔ سائنس جس پر آپ اہلِ مغرب کی اجارہ داری ہے یہ درحقیقت مسلم خانوادے کی چشم وچراغ ہے، اغیار کے گھرانے اس کے لیے بانجھ  تھے۔ اہلِ یونان صرف اس کی تمنا ہی گوشہِ جگر میں پال سکتے تھے کیونکہ ان کے یہاں اس کی تخم پاشی کے لیے سرے سے عوامل ہی ناپید تھے اور یورپ میں حال یہ تھا کہ وہاں ایسی اولاد کی تمنا حاشیہِ خیال میں لانا بھی جرم تھا۔ اگر کوئی اس کی خواہش بھی کرتا تو کلیسا کی آگ میں جلا کر خاکستر کردیا جاتا۔ سائنس اپنے وجود کی بقا اور ترقی کے لیے ہمارے آبا واجداد  کی صدیوں تک مرہونِ منت رہی ہے۔جس طرح مسلمان سائنس دانوں نے عظیم  الشان سائنسی کارنامے انجام دئیے ہیں اسی طرح  مسلمانوں  کے بے شمار تہذیبی کارنامے  بھی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’مسلمانوں کے تہذیبی کارنامے ‘‘ مولوی نور محمد کی تصنیف ہے ۔مصنف نے اس کتاب کو تین حصوں میں  تقسیم کیا ہے ۔ حصہ اول میں  عالمی شہرت کے مسلمان سائنسدانوں نیز غیر معروف مسلمان  جلاہوں اور دھات کا کا م کرنے والوں کی مہارت اور ہنرمندی کو خراج پیش کیاگیا ہے  پھر قارئین مسلمان بحری جہازرانوں کی دلیری اور فاتح مسلمان مجاہدوں کی بردباری اور مسلمان ماہر ین تعلیم  کےکارناموں کو بیان کیا ہے ۔ دوسرے حصے میں عدل، اعلیٰ نظم ونسق ، جمہوریت، بین الاقوامیت کی سب سے  زیادہ ترقی یافتہ شکلوں اور کل حقوقِ انسانی میں اسلامی روادای کے جذبے نے جو کام کیا ہے قارئین اس کامطالعہ کرسکتے ہیں ۔تیسرا حصّہ مستقبل کےان امکانات ہی  سے واسطہ رکھتا ہے ۔ اس حصّے میں دیے ہوئے  حوالےیہ عیاں کرتے ہیں کہ کسی طور اسلام میں نئے سرے  سے جنم پانے کی صلاحیت کا رفرمار ہتی ہے اور اسلامی برادری کے ایک ایک رکن میں دوبارہ اُبھرنے کی قوت پائی جاتی ہے ۔(م۔ا)

  • 38 #402

    مصنف : علامہ عبد الرحمن ابن خلدون

    مشاہدات : 19682

    مقدمہ ابن خلدون حصہ اول

    dsa (جمعرات 16 جنوری 2014ء) ناشر : نفیس اکیڈمی کراچی

    مؤرخین کی جانب سے تاریخ اسلام پر متعدد کتب سامنے آ چکی ہیں لیکن ایسی کتب معدودے چند ہی ہیں جن میں ایسے اصولوں کی وضاحت کی گئی ہو جن کی روشنی میں معلوم کیا جا سکے کہ بیان کردہ تاریخی واقعات کا تعلق واقعی حقیقت کے ساتھ ہے۔ علامہ ابن خلدون نے تاریخ اسلام پر ’کتاب العبر و دیوان المبتداء والجز فی ایام العرب والعجم والبریر‘ کے نام سے ایک شاندار کتاب لکھی اور اس کے ایک حصے میں وہ اصول اور آئین بتائے جن کے مطابق تاریخی حقائق کو پرکھا جا سکے۔ انہی اصول وقوانین کا اردو قالب ’مقدمہ ابن خلدون‘ کے نام سے آپ کے سامنے ہے۔ کتاب کے رواں دواں ترجمے کےلیے علامہ رحمانی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ مقدمے کی تقسیم چھ ابواب اور دو جلدوں میں کی گئی ہے۔ دونوں جلدیں تین، تین ابواب پر محیط ہیں۔ پہلے باب میں زمین اور اس کے شہروں کی آبادی، تمول و افلاس کی وجہ سے آبادی کے حالات میں اختلاف اور ان کے آثار سے بحث کی گئی ہے۔ دوسرے باب میں بدوی آبادی اوروحشی قبائل و اقوام پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ تیسرے باب میں دول عامہ، ملک، خلافت اور سلطانی مراتب کو قلمبند کرتے ہوئے کسی بھی سلطنت کےعروج و زوال کے اسباب واضح کیے گئے ہیں۔ چوتھے باب میں شہروں، مختلف آبادیوں اور ان کے تمدن کو واضح کیا گیا ہے نیز مساجد اور مکانوں کی تعمیر سے بھی بحث کی گئی ہے۔ پانچواں باب معاش و کسب و صنائع پر مشتمل ہے تو چھٹا اور آخری باب علوم اور ان کی اقسام، تعلیم اور اس کے طریقوں اور مختلف صورتوں پر مشتمل ہے۔

  • 39 #6347

    مصنف : ثروت صولت

    مشاہدات : 3167

    ملت اسلامیہ کی مختصر تاریخ جلد اول

    dsa (جمعہ 20 اپریل 2018ء) ناشر : اسلامک پبلیکیشنز، لاہور

    اسلامی تاریخ مسلمانوں کی روشن اور تابندہ مثالوں سے بھری پڑی ہے۔لیکن افسوس کہ آج کا مسلمان اپنی اس تاریخ سے کٹ چکا ہے۔اپنی بد اعمالیوں اور شریعت سے دوری کے سبب مسلمان آج پوری دنیا میں ذلیل ورسوا ہو رہے ہیں۔اور ہر میدان میں انہیں شکست وہزیمت کا سامنا ہے ۔ تاہمصدر اسلام میں جب خلفائے راشدین تاریخ اسلام کے ابواب صفحہ ہستی پر منقوش کر رہے تھے تو عجمی دسیسہ کار تاریخ اسلام کے ان زریں اور تابناک ابواب کو مسخ کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ہمارا ایمان ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات تمام صنف اناث میں ہی نہیں بلکہ انبیائے کرام کے بعد تمام انسانوں سے شرف مجد میں بلند ترین مقامات پر فائز تھیں۔مگر عجمیت کے شاطر،عیار، اورخبیث افراد نے بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر بڑی چابکدستی سے اسلام کو نیست ونابود کرنے کے لئے ایک لائحہ عمل مرتب کیا اور امہات المومنین پر طرح طرح کے بہتانات لگائے۔
    زیر تبصرہ کتاب ’’ ملت اسلامیہ کی مختصر تاریخ‘‘ ثروت صولت کی کاوش ہے۔ جس میں ملت اسلامیہ کی پوری تاریخ کو اسلامی نقطۂ نظر سے پرکھ کر پیش کیا ہے اور اس میں امت مسلمہ کے نہ صرف سیاسی بلکہ تہذیبی، علمی اور ادبی تاریخ کو چار جلدوں میں سمو دیا ہے۔ملت اسلامیہ کی مختصر تاریخ کے پانچ حصے 1985ء تک کے ان ملکوں کی تاریخ پر مشتمل تھے جہاں مسلمانوں نے اسلامی تعلیمات کی اشاعت کے ذریعہ معاشرتی زندگی کا رخ کوڑا، جہاں مسلمانوں کو بالادستی نصیب ہوئی۔اس کے بعد کے واقعات پر چھٹی اور ساتویں جلد مرتب ہو رہی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔آمین(رفیق الرحمن)

  • 40 #4402

    مصنف : آباد شاہ پوری

    مشاہدات : 1703

    پہاڑی کے چراغ

    (پیر 18 اپریل 2016ء) ناشر : اسلامک پبلشنگ ہاؤس، لاہور

    اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے انبیاء کرام و رسل عظام کی ایک برزگزیدہ جماعت کو مبعوث فرمایا۔ اس مقدس و مطہر جماعت کو کچھ ایسے حواری اور اصحاب بھی عنائت کیے جو انبیاء کرام کی تصدیق و حمایت کرتے۔ اللہ رب العزت نے سید الاوّلین و الآخرین حضرت محمد ﷺ کو صحابہ کرام کی ایک ایسی جماعت عطا فرمائی جن کے بارے میں اللہ کی یہ مشیت ہوئی کہ وہ خاتم النبیین سے براہ راست فیض حاصل کریں اور رسول اللہ ﷺ خود ان کا تزکیہ نفس کرتے ہوئے کتاب و حکمت کی تعلیم دیں۔ اور یہ وہ مقدس نفوس تھے جن کا ذکر قرآن مجید اور دیگر آسمانی کتب میں بھی اللہ رب العزت نے فرمایا اورنبی کریم ﷺ نے" خیر امتی قرنی" کے مقدس کلمات سے نوازہ۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ ایک مسلمان کامیابی اور فتح و نصرت کے لیے کبھی ظاہری وسائل پر اعتماد نہیں کرتا بلکہ اسباب کی بجائے اسباب کے رب پر اعتماد کرتے  ہوئے آتش نمرود میں کود کر تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن جاتا ہے۔ دین حنیف کی سر بلندی کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں کچھ ایسے افراد کو پیدا کیا کہ حق گوئی، بے باکی جن کا خاصہ تھی جو جابر و ظالم حکمران کے سامنے پہاڑ کی مانند ثابت ہوئے اور موت سے آنکھیں دو چار کرتے ہوئے تاریخ اسلام کی اوراق کو ہمیشہ کے لیے منور کر دیا۔ زیر تبصرہ کتاب"پہاڑی کے چراغ" فاضل مصنف آباد شاہ پوری کی قابل داد تصنیف ہے۔ یہ کتاب محض سیرت  اور واقعہ نگاری کا مرقع نہیں ہے بلکہ اس سے ہٹ کر اپنے دامن میں فکر و نظر کی تربیت اور اخلاص و اصلاح کا سامان بھی رکھتی ہے اور حق کی راہ میں جدوجہد کرنے والوں کے لیے ایمان کی حرارت اور سرمایہ جوش و جذبہ بھی۔فاضل مصنف نے اس میں جابر حکمرانوں کے سامنے حق گوئی اور بے باکی کا مظاہرہ کرنے والوں کے واقعات اور سیرت کو قلمبند کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی محنت کو قبول و منظور فرمائے۔ آمین(عمیر)

< 1 2 3 4 5 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1870
  • اس ہفتے کے قارئین 11555
  • اس ماہ کے قارئین 49949
  • کل قارئین49400737

موضوعاتی فہرست