کل کتب 77

دکھائیں
کتب
  • 41 #212

    مصنف : عبد المالک مجاہد

    مشاہدات : 20113

    سنہرے نقوش

    (منگل 29 دسمبر 2009ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    زیر مطالعہ کتاب بھی مولانا عبدالمالک مجاہد صاحب کی دیگر کتب کی طرح سبق آموز اور دلچسپ داستانوں پر مشتمل ہے- مولانا نے کہانی کے انداز میں زندگی کی اٹل حقیقتیں جچے تلے لفظوں میں بیان کر دی ہیں-ایک مرد مؤمن فقط احکام الہی کا پابند اور محمد  کا پیروکار ہوتا ہے دنیا کی کوئی بھی طاقت مؤمن کے ایمان کو شکست نہیں دے سکتی- یہ نظارہ دیکھنا ہو تو لشکر اسامہ کی روانگی کے زیر عنوان حضرت ابوبکر کی استقامت ملاحظہ فرمائیں- حضرت عمر بن عبدالعزیز کے احوال پڑھ کر اسلام کے طریق سیاست وحکومت سے آگاہ ہوں- قرآن کریم کی اثر آفرینی ملاحظہ کرنی ہو تو حضرت عمر اور ان کی ہمشیرہ فاطمہ کا واقعہ پڑھئے- ایک مسلمان کا شباب اسلام کے لیے کس حد تک کار آمد ثابت ہوسکتا ہے اس کی تفصیل جاننی ہو تو کتاب میں موجود عمیر بن حمام، اسامہ بن زید اور طارق بن زیاد کی سیرت ملاحظہ فرمائیے-کتاب میں جہاں آپ کو سعید بن جبیر اور امام احمد بن حنبل کی دلکش سیرت کے جلوے نظر آئیں گے وہیں حضرت عثمان کی اہلیہ محترمہ کو تھپڑ مارنے والے انجام بھی دیکھنے کو ملے گا- مختصرا یہ کتاب نیکی اور بدی کے کرداروں کا حیرت انگیز نگار خانہ ہے جس کے مطالعے سے دل ودماغ کے بند دریچے کھلتے ہوئے نظر آئیں گے-

  • 42 #4720

    مصنف : ابو عمار محمود المصری

    مشاہدات : 2735

    سچے واقعات اور ہنسی مزاح کے اسلامی آداب

    (اتوار 17 جولائی 2016ء) ناشر : مکتبہ بیت السلام الریاض

    واقعات جہاں انسان کے لیے خاصی دلچسپی کا سامان ہوتے ہیں وہیں یہ انسان کے دل پر بہت سارے پیغام اوراثرات نقش کر دیتے ہیں۔ اسی لیے قرآن مبین میں اللہ تعالیٰ نے جا بجا سابقہ اقوام کے قصص و واقعات بیان کیے ہیں تاکہ لوگ ان سے عبرت و نصیحت حاصل کریں اور اپنی زندگی میں وہ غلطیاں نہ کریں جو ان سے سرزد ہوئیں۔ دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہر موڑ پر مکمل راہ نمائی کرتا ہے خوشی ہو یاغمی ہواسلام ہر ایک کی حدود وقیوم کو بیان کرتا ہے تاکہ کو ئی شخص خوشی یا تکلیف کے موقع پر بھی اسلام کی حدود سےتجاوز نہ کرے فرمان نبوی ہے ’’ مومن کامعاملہ بھی عجیب ہے اس کا ہر معاملہ اس کے لیے باعث خیر ہےاور یہ چیز مومن کے لیے خاص ہے ۔ اگر اسے کوئی نعمت میسر آتی ہے تووہ شکرکرتا ہے اور یہ اس کےلیے بہترہے اور اگراسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کےلیے بہتر ہے۔‘‘ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام وتابعین کی سیرت وسوانح میں ہمیں جابجا پاکیزہ مزاح او رہنسی خوشی کے واقعات او رنصیت آموز آثار وقصص ملتے ہیں کہ جن میں ہمارے لیے مکمل راہ نمائی موجود ہے۔ لہذا اہمیں چاہیے کہ خوش طبعی اور پند نصیحت کےلیے جھوٹے ،من گھڑت اور افسانوی واقعات ولطائف کےبجائے ان مقدس شخصیات کی سیرت اور حالات کا مطالعہ کریں تاکہ ان کی روشنی میں ہم اپنے اخلاق وکردار اور ذہن وفکر کی اصلاح کرسکیں۔ زیر تبصرہ کتا ب’’نصیحت آموز اور عبرت انگیز سچے واقعات‘‘شیخ ابو عمار محمود المصری کی تصنیف ہے اس کتا ب میں فاضل مصنف نے قرآن وحدیث اور صحابہ وتابعین کی سیرت کی روشنی میں قارئین کرام کے لیے ہنسی مذاق کےاسلامی آداب واحکام بیان کیے ہیں اور اخلاق وکردار کی اصلاح کے لیے انتہائی سبق آموز اور نصیحت خیز واقعات ذکر کیے ہیں۔اس دلچسپ کتاب کو محترم جناب مولانا یاسر عرفات ﷾ نے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف ، مترجم ،اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوراسے عوام الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے۔ (آمین)(م۔ا)

  • 43 #5131

    مصنف : ابو مسعود عبد الجبار سلفی

    مشاہدات : 2535

    صالحین کرام کے دلچسپ اور ایمان افروز واقعات

    (پیر 30 جنوری 2017ء) ناشر : بیت الحکمت، لاہور

    اسلامی تعلیمات کا یہ اعجاز ہے کہ ان کے ذریعے زندگی کے ہر شعبے میں انتہائی اعلیٰ درجے کے افراد پیدا ہوئے۔ چنانچہ اسلامی تاریخ اس امر پر شاہد ہے کہ مختلف ادوار میں بے مثال کردار اور خوبیاں رکھنے والے حکمران،علماء، سپہ سالار اور ماہرین فن موجود رہے،جن پر آج بھی انسانیت کا سر فخر سے بلند ہے۔ لیکن افسوس کہ بعض غیر محتاط اور متعصب مؤرخین نے اسلامی تاریخ کو اس طرح بگاڑا ہے کہ آج کی نئی نسل اپنے اسلاف سے بد ظن ہو چکی ہے اور ان کی روشن تاریخ کو اپنے ہی منہ سے سیاہ قرار دینے لگی ہے۔ زیر نظر کتاب ’’صالحین کرام کے دلچسپ اور ایمان افروز واقعات‘‘ مولانا ابومسعود عبدالجبارسلفی﷾ تاریخی معلومات پر مشتمل بڑی ہی دلچسپ کاوش ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں ہمارے اسلاف کی شجاعت وبسالت، رافت ورحمت، فہم وفراست، جودوسخا، بدل وعطا، عفووحلم، حق گوئی وبیباکی، ہمدردی و غمگساری کے دلچسپ بے نظیر واقعات کو ایسے دل کش ادبی اسلوب میں بیان کیا ہے کہ قارئین ان واقعات کو اطمینان سے پڑھے بغیرسونا پسند نہ کریں اور انہیں یقین ہوجائے گایقیناً ہمارے اسلاف کے اندر یہی وہ خوبیاں تھیں جنہیں سن کر قیصر و روم اوراس کا فوجی دربار جھوم اٹھا تھا اور مان گیا تھا کہ یقیناً ان کی فتوحات کا سبب ان کی یہی خوبیاں ہیں۔ (م۔ا)

  • 44 #3640

    مصنف : ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر

    مشاہدات : 1515

    صحرا کا جہاز

    (اتوار 04 اکتوبر 2015ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان  میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں سے بھر پور ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا  لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب "صحرا کا جہاز" محترم ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے ایک منفرد اور کہانی کے انداز میں اونٹ کی خصوصیات کوبیان کیاہے۔یہ کتاب پاکستان کے معروف  عالمی طباعتی ادارے  مکتبہ دارالسلام کی طرف سے بچوں کی تعلیم وتربیت  کے لئے شروع کئے گئے  حیوانات قرآنی کے سلسلےکی ایک کڑی ہے۔مکتبہ دار السلام نے بچوں کے لئے اس کے علاوہ بھی متعدد کتب تیار کی ہیں ،جن میں سے اکثر کتب ہماری اس سائٹ پر موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور ناشر کی بچوں کی اصلاح وتربیت کی حوالے سے کی جانے والی ان کوششوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمارے بچوں کو صحیح معنوں میں مسلمان اور اہل ایمان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 45 #4325

    مصنف : حافظ عبد الشکور شیخو پوری

    مشاہدات : 3590

    صحیح اسلامی واقعات

    (جمعہ 11 مارچ 2016ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    واقعات جہاں انسان کے لیے خاصی دلچسپی کا سامان ہوتے ہیں وہیں یہ انسان کے دل پر بہت سارے پیغام اور اثرات نقش کر دیتے ہیں۔ اسی لیے قرآن مبین میں اللہ تعالیٰ نے جا بجا سابقہ اقوام کے قصص و واقعات بیان کیے ہیں تاکہ لوگ ان سے عبرت و نصیحت حاصل کریں اور اپنی زندگی میں وہ غلطیاں نہ کریں جو ان سے سرزد ہوئیں۔فی زمانہ بچے بڑے جھوٹے اور لغوافسانوں ،ناولوں اورکہانیوں کے قصوں میں گرفتار نظر آتے ہیں ،ایسی کتابوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے، جس میں سچے واقعات بیان کئے گئے ہوں ۔جنہیں پڑھ کرعمل کاجذبہ بیدارہو۔ زیر نظرکتاب ’’صحیح اسلامی واقعات‘‘ حافظ عبدالشکور شیخوپوری صاحب کی مرتب شدہ ہے۔ موصوف نے عربی زبان کے مستند ماخذوں سے استفادہ کر کے صحیح اسلامی واقعات کو بحوالہ مرتب کیا ہے۔ جس کے باعث یہ واقعات تاریخی جامعیت کے حامل ہیں۔ جنہیں طلبہ، اساتذہ اور علماء بڑے اعتماد سے مطالعہ کرسکتے ہیں اس میں رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ او رآپ کے ساتھ کفار کی بد سلوکیوں اور صحابہ کرام ﷢ کے اسلام لانے کے واقعات شامل ہیں۔ جن کا مقصد عبرت وموعظت اور سبق حاصل کرنا ہے۔ قرآن مجید نے بھی امم سابقہ کے جن واقعات کا تذکرہ کیا ہے ان سے مقصود بھی موعظت ہے۔ کتاب کا انداز بیان بہت سادہ، دلچسپ اور سلیس ہے۔ گھروں میں خصوصاً بچوں اورخواتین کوان کےمطالعے کی ترغیب دی جائے تاکہ وہ جھوٹے اور فحش ناولوں میں وقت ضائع کرنےکے بجائے سیرت سلف سے روشناس ہوسکیں۔ کیونکہ ان واقعات کے مطالعہ سے ایمان کو تازگی اور روح کو شادابی نصیب ہوتی ہے۔ نیزدل میں صحابہ کرام اور سلف صالحین کی عظمت اوران سے محبت کاجذبہ پیداہوتاہے۔ (م۔ا)

  • 46 #4708

    مصنف : محمد بن جمیل زینو

    مشاہدات : 2361

    صحیح قصص النبی صلی اللہ علیہ وسلم

    (منگل 05 جولائی 2016ء) ناشر : حدیبیہ پبلیکیشنز

    واقعات جہاں انسان کے لیے خاصی دلچسپی کا سامان ہوتے ہیں وہیں یہ انسان کے دل پر بہت سارے پیغام اوراثرات نقش کر دیتے ہیں۔ اسی لیے قرآن مبین میں اللہ تعالیٰ نے جا بجا سابقہ اقوام کے قصص و واقعات بیان کیے ہیں تاکہ لوگ ان سے عبرت و نصیحت حاصل کریں اور اپنی زندگی میں وہ غلطیاں نہ کریں جو ان سے سرزد ہوئیں۔دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہر موڑ پر مکمل راہ نمائی کرتا ہے خوشی ہو یاغمی ہواسلام ہر ایک کی حدود وقیوم کو بیان کرتا ہے تاکہ کو ئی شخص خوشی یا تکلیف کے موقع پر بھی اسلام کی حدود سےتجاوز نہ کرے۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام وتابعین کی سیرت وسوانح میں ہمیں جابجا پاکیزہ مزاح او رہنسی خوشی کے واقعات او رنصیت آموز آثار وقصص ملتے ہیں کہ جن میں ہمارے لیے مکمل راہ نمائی موجود ہے ۔ لہذا اہمیں چاہیے کہ خوش طبعی اور پند نصیحت کےلیے جھوٹے ،من گھڑت اور افسانوی واقعات ولطائف کےبجائے ان مقدس شخصیات کی سیرت اور حالات کا مطالعہ کریں تاکہ ان کی روشنی میں ہم اپنے اخلاق وکردار اور ذہن وفکر کی اصلاح کرسکیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’صحیح قصص النبوی ‘‘عرب کے مشہور ومعروف ادیب اورسکالرشیخ محمد بن جمیل زینو﷾کی عربی تصنیف ’’ من بدائع القصص النبوی الصحیح‘‘ کا سلیس اردوترجمہ ہے۔شیخ موصو ف نے صحیح احادیث کی روشنی میں زبان رسالت مآبﷺ سے بیان کیے گئےدلچسپ اور نصیحت آموز بارہ خوبصورت ، دلچسپ اور ایمان افروز واقعا ت کو بڑے دلنشیں انداز میں بیان کیا ہے ۔یہ کتاب آج کے دور میں مروجہ بیہودہ اور لغو لٹریچر کا بہترین نعم البدل ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ (آمین)(م۔ا)

  • 47 #1658

    مصنف : محمد عظیم حاصلپوری

    مشاہدات : 7306

    صحیح منتخب واقعات حصہ اول

    dsa (اتوار 14 اپریل 2013ء) ناشر : نعمان پبلیکشنز

    واقعات جہاں انسان کے لیے خاصی دلچسپی کا سامان ہوتے ہیں وہیں یہ انسان کے دل پر بہت سارے پیغام اور اثرات نقش کر دیتے ہیں۔ اسی لیے قرآن مبین میں اللہ تعالیٰ نے جا بجا سابقہ اقوام کے قصص و واقعات بیان کیے ہیں تاکہ لوگ ان سے عبرت و نصیحت حاصل کریں اور اپنی زندگی میں وہ غلطیاں نہ کریں جو ان سے سرزد ہوئیں۔ زیر نظر کتاب احادیث سے اخذ کردہ واقعات پر مشتمل ہے۔ اس ضمن میں مصنف کا کہنا ہے، اور جیسا کہ کتاب کے نام سے بھی ظاہر ہے، کہ صرف صحیح ثابت شدہ واقعات قلمبند کیے گئے ہیں۔ اس سلسلہ میں مصنف نے واقعات میں صحت و ضعف کا التزام کرنے کی کوشش بھی کی ہے لیکن بہت سارے واقعات کتاب میں ایسے بھی موجود ہیں جن پر صحت و ضعف کاحکم نہیں لگایا گیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ صحیح بخاری و مسلم کے علاوہ بقیہ تمام کتب کی احادیث پر صحت و ضعف کا حکم لگایا جاتا لیکن تمام تر واقعات میں یہ چیز نظر نہیں آتی۔ بہرحال عام طور پر تمام خواتین و حضرات اور خاص طور پر خطبا اور واعظین کے لیے یہ بہت فائدہ مند کتاب ہے۔(ع۔م)
     

  • 48 #4798

    مصنف : حافظ محمد انور زاھد

    مشاہدات : 2718

    ضعیف اور من گھڑت واقعات حصہ اول

    dsa (جمعہ 14 اکتوبر 2016ء) ناشر : نعمانی کتب خانہ، لاہور

    حدیث شریف دین کا دوسرا بڑا ماخذ ہے ۔ اور بلاشبہ اسلام کے جملہ عقائد واعمال کی بنیاد کتاب وسنت پر ہے اور حدیث درحقیقت کتاب اللہ کی شارح اور مفسر ہے اور اسی کی عملی تطبیق کا دوسرا نام سنت ہے ۔نبی کریمﷺکو جوامع الکلم دیئے اور آپ کوبلاغت کے اعلیٰ وصف سے نوازہ گیا ۔ جب آپﷺ اپنے بلیغانہ انداز میں کتاب اللہ کے اجمال کی تفسیر فرماتے تو کسی سائل کو اس کے سوال کا فی البدیع جواب دیتے۔ تو سامعین اس میں ایک خاص قسم کی لذت محسوس کرتے اوراسلوبِ بیان اس قدر ساحرانہ ہوتا کہ وقت کے شعراء اور بلغاء بھی باوجود قدرت کے اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتے ۔احادیثِ مبارکہ گوآپﷺ کی زندگی میں مدون نہیں ہوئیں تھی تاہم جو لفظ بھی نبیﷺ کی زبانِ مبارکہ سے نکلتا وہ ہزار ہا انسانوں کے قلوب واذہان میں محفوظ ہو جاتا اور نہ صرف محفوظ ہوتا بلکہ صحابہ کرام ا س کے حفظ وابلاغ اور اس پر عمل کے لیے فریفتہ نظر آتے ۔یہی وجہ تھی کہ آنحصرت ﷺ کے سفر وحضر،حرب وسلم، اکل وشرب اور سرور وحزن کے تمام واقعات ہزارہا انسانوں کے پاس آپ کی زندگی میں ہی محفوظ ہوچکے تھے کہ تاریخ انسانی میں اس کی نظیر نہیں ملتی اور نہ ہی آئندہ ایسا ہونا ممکن ہے-۔خیر القرون کے گزر نے تک ایک طرف تو حدیث کی باقاعدہ تدوین نہ ہوسکی اور دوسری طرف حضرت عثمان کی شہادت کے ساتھ ہی دور ِ فتنہ شروع ہوگیا جس کی طرف احادیث میں اشارات پائے جاتے ہیں۔ پھر یہ فتنے کسی ایک جہت سے رونما نہیں ہوئے بلکہ سیاسی اور مذہبی فتنے اس کثرت سے ابھرے کہ ان پر کنٹرول ناممکن ہوگیا۔ان فتنوں میں ایک فتنہ وضع حدیث کا تھا۔اس فتنہ کے سد باب کے لیے گو پہلی صدی ہجری کے خاتمہ پر ہی بعض علمائے تابعین نے کوششیں شروع کردی تھی۔اور پھر اس کے بعد وضع حدیث کے اس فتہ کوروکنے کےلیے ائمہ محدثین نے صرف احادیث کوجمع کردینے کو ہی کافی نہیں سمجھا بلکہ سنت کی حفاظت کے لیے علل حدیث، جرح وتعدیل، اور نقد رجال کے قواعد اور معاییر قائم کئے ،اسانید کے درجات مقرر کئے ۔ ثقات اور ضعفاء رواۃ پر مستقل تالیفات مرتب کیں¬۔ اور مجروح رواۃ کے عیوب بیان کئے ۔موضوع احادیث کو الگ جمع کیا او ررواۃ حدیث کےلیے معاجم ترتیب دیں۔جس سے ہر جہت سے صحیح ، ضعیف ،موضوع احادیث کی تمیز امت کے سامنے آگئی۔اس سلسلے میں ماضی قریب میں شیخ البانی کی کاوشیں بھی لائق تحسین ہیں۔  زیر تبصرہ کتاب ’’ضعیف اورمن گھڑت واقعات‘‘حافظ محمد انوار زاہد ﷾ کی کاوش ہے ۔ انہوں نے طبقات ابن سعد ، میزان الاعتدال ، سلسلۃ احادیث ضعیفہ،الخصائص الکبریٰ وغیرہ کتب حدیث سے ضعیف اور موضوع روایات کواخذ کر کے ان کا ترجمہ کر کے اسے چار جلدوں میں مرتب کیا ہے ۔ ضعیف اور من گھڑت کے واقعات کے سلسلے میں اردو زبان میں یہ ایک منفرد کاوش ہے ۔(م۔ا)

  • 49 #4798.01

    مصنف : حافظ محمد انور زاھد

    مشاہدات : 2277

    ضعیف اور من گھڑت واقعات حصہ دوم

    (ہفتہ 15 اکتوبر 2016ء) ناشر : نعمانی کتب خانہ، لاہور

    حدیث شریف دین کا دوسرا بڑا ماخذ ہے ۔ اور بلاشبہ اسلام کے جملہ عقائد واعمال کی بنیاد کتاب وسنت پر ہے اور حدیث درحقیقت کتاب اللہ کی شارح اور مفسر ہے اور اسی کی عملی تطبیق کا دوسرا نام سنت ہے ۔نبی کریمﷺکو جوامع الکلم دیئے اور آپ کوبلاغت کے اعلیٰ وصف سے نوازہ گیا ۔ جب آپﷺ اپنے بلیغانہ انداز میں کتاب اللہ کے اجمال کی تفسیر فرماتے تو کسی سائل کو اس کے سوال کا فی البدیع جواب دیتے۔ تو سامعین اس میں ایک خاص قسم کی لذت محسوس کرتے اوراسلوبِ بیان اس قدر ساحرانہ ہوتا کہ وقت کے شعراء اور بلغاء بھی باوجود قدرت کے اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتے ۔احادیثِ مبارکہ گوآپﷺ کی زندگی میں مدون نہیں ہوئیں تھی تاہم جو لفظ بھی نبیﷺ کی زبانِ مبارکہ سے نکلتا وہ ہزار ہا انسانوں کے قلوب واذہان میں محفوظ ہو جاتا اور نہ صرف محفوظ ہوتا بلکہ صحابہ کرام ا س کے حفظ وابلاغ اور اس پر عمل کے لیے فریفتہ نظر آتے ۔یہی وجہ تھی کہ آنحصرت ﷺ کے سفر وحضر،حرب وسلم، اکل وشرب اور سرور وحزن کے تمام واقعات ہزارہا انسانوں کے پاس آپ کی زندگی میں ہی محفوظ ہوچکے تھے کہ تاریخ انسانی میں اس کی نظیر نہیں ملتی اور نہ ہی آئندہ ایسا ہونا ممکن ہے-۔خیر القرون کے گزر نے تک ایک طرف تو حدیث کی باقاعدہ تدوین نہ ہوسکی اور دوسری طرف حضرت عثمان کی شہادت کے ساتھ ہی دور ِ فتنہ شروع ہوگیا جس کی طرف احادیث میں اشارات پائے جاتے ہیں۔ پھر یہ فتنے کسی ایک جہت سے رونما نہیں ہوئے بلکہ سیاسی اور مذہبی فتنے اس کثرت سے ابھرے کہ ان پر کنٹرول ناممکن ہوگیا۔ان فتنوں میں ایک فتنہ وضع حدیث کا تھا۔اس فتنہ کے سد باب کے لیے گو پہلی صدی ہجری کے خاتمہ پر ہی بعض علمائے تابعین نے کوششیں شروع کردی تھی۔اور پھر اس کے بعد وضع حدیث کے اس فتہ کوروکنے کےلیے ائمہ محدثین نے صرف احادیث کوجمع کردینے کو ہی کافی نہیں سمجھا بلکہ سنت کی حفاظت کے لیے علل حدیث، جرح وتعدیل، اور نقد رجال کے قواعد اور معاییر قائم کئے ،اسانید کے درجات مقرر کئے ۔ ثقات اور ضعفاء رواۃ پر مستقل تالیفات مرتب کیں¬۔ اور مجروح رواۃ کے عیوب بیان کئے ۔موضوع احادیث کو الگ جمع کیا او ررواۃ حدیث کےلیے معاجم ترتیب دیں۔جس سے ہر جہت سے صحیح ، ضعیف ،موضوع احادیث کی تمیز امت کے سامنے آگئی۔اس سلسلے میں ماضی قریب میں شیخ البانی کی کاوشیں بھی لائق تحسین ہیں۔  زیر تبصرہ کتاب ’’ضعیف اورمن گھڑت واقعات‘‘حافظ محمد انوار زاہد ﷾ کی کاوش ہے ۔ انہوں نے طبقات ابن سعد ، میزان الاعتدال ، سلسلۃ احادیث ضعیفہ،الخصائص الکبریٰ وغیرہ کتب حدیث سے ضعیف اور موضوع روایات کواخذ کر کے ان کا ترجمہ کر کے اسے چار جلدوں میں مرتب کیا ہے ۔ ضعیف اور من گھڑت کے واقعات کے سلسلے میں اردو زبان میں یہ ایک منفرد کاوش ہے ۔(م۔ا)

  • 50 #4798.02

    مصنف : حافظ محمد انور زاھد

    مشاہدات : 2135

    ضعیف اور من گھڑت واقعات حصہ سوم

    (اتوار 16 اکتوبر 2016ء) ناشر : نعمانی کتب خانہ، لاہور

    حدیث شریف دین کا دوسرا بڑا ماخذ ہے ۔ اور بلاشبہ اسلام کے جملہ عقائد واعمال کی بنیاد کتاب وسنت پر ہے اور حدیث درحقیقت کتاب اللہ کی شارح اور مفسر ہے اور اسی کی عملی تطبیق کا دوسرا نام سنت ہے ۔نبی کریمﷺکو جوامع الکلم دیئے اور آپ کوبلاغت کے اعلیٰ وصف سے نوازہ گیا ۔ جب آپﷺ اپنے بلیغانہ انداز میں کتاب اللہ کے اجمال کی تفسیر فرماتے تو کسی سائل کو اس کے سوال کا فی البدیع جواب دیتے۔ تو سامعین اس میں ایک خاص قسم کی لذت محسوس کرتے اوراسلوبِ بیان اس قدر ساحرانہ ہوتا کہ وقت کے شعراء اور بلغاء بھی باوجود قدرت کے اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتے ۔احادیثِ مبارکہ گوآپﷺ کی زندگی میں مدون نہیں ہوئیں تھی تاہم جو لفظ بھی نبیﷺ کی زبانِ مبارکہ سے نکلتا وہ ہزار ہا انسانوں کے قلوب واذہان میں محفوظ ہو جاتا اور نہ صرف محفوظ ہوتا بلکہ صحابہ کرام ا س کے حفظ وابلاغ اور اس پر عمل کے لیے فریفتہ نظر آتے ۔یہی وجہ تھی کہ آنحصرت ﷺ کے سفر وحضر،حرب وسلم، اکل وشرب اور سرور وحزن کے تمام واقعات ہزارہا انسانوں کے پاس آپ کی زندگی میں ہی محفوظ ہوچکے تھے کہ تاریخ انسانی میں اس کی نظیر نہیں ملتی اور نہ ہی آئندہ ایسا ہونا ممکن ہے-۔خیر القرون کے گزر نے تک ایک طرف تو حدیث کی باقاعدہ تدوین نہ ہوسکی اور دوسری طرف حضرت عثمان کی شہادت کے ساتھ ہی دور ِ فتنہ شروع ہوگیا جس کی طرف احادیث میں اشارات پائے جاتے ہیں۔ پھر یہ فتنے کسی ایک جہت سے رونما نہیں ہوئے بلکہ سیاسی اور مذہبی فتنے اس کثرت سے ابھرے کہ ان پر کنٹرول ناممکن ہوگیا۔ان فتنوں میں ایک فتنہ وضع حدیث کا تھا۔اس فتنہ کے سد باب کے لیے گو پہلی صدی ہجری کے خاتمہ پر ہی بعض علمائے تابعین نے کوششیں شروع کردی تھی۔اور پھر اس کے بعد وضع حدیث کے اس فتہ کوروکنے کےلیے ائمہ محدثین نے صرف احادیث کوجمع کردینے کو ہی کافی نہیں سمجھا بلکہ سنت کی حفاظت کے لیے علل حدیث، جرح وتعدیل، اور نقد رجال کے قواعد اور معاییر قائم کئے ،اسانید کے درجات مقرر کئے ۔ ثقات اور ضعفاء رواۃ پر مستقل تالیفات مرتب کیں¬۔ اور مجروح رواۃ کے عیوب بیان کئے ۔موضوع احادیث کو الگ جمع کیا او ررواۃ حدیث کےلیے معاجم ترتیب دیں۔جس سے ہر جہت سے صحیح ، ضعیف ،موضوع احادیث کی تمیز امت کے سامنے آگئی۔اس سلسلے میں ماضی قریب میں شیخ البانی کی کاوشیں بھی لائق تحسین ہیں۔  زیر تبصرہ کتاب ’’ضعیف اورمن گھڑت واقعات‘‘حافظ محمد انوار زاہد ﷾ کی کاوش ہے ۔ انہوں نے طبقات ابن سعد ، میزان الاعتدال ، سلسلۃ احادیث ضعیفہ،الخصائص الکبریٰ وغیرہ کتب حدیث سے ضعیف اور موضوع روایات کواخذ کر کے ان کا ترجمہ کر کے اسے چار جلدوں میں مرتب کیا ہے ۔ ضعیف اور من گھڑت کے واقعات کے سلسلے میں اردو زبان میں یہ ایک منفرد کاوش ہے ۔(م۔ا)

< 1 2 3 4 5 6 7 8 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 999
  • اس ہفتے کے قارئین 12696
  • اس ماہ کے قارئین 51090
  • کل قارئین49409175

موضوعاتی فہرست