کل کتب 132

دکھائیں
کتب
  • 71 #3466

    مصنف : ڈاکٹر علی محمد الصلابی

    مشاہدات : 4648

    سیدنا علی رضی اللہ عنہ ( الصلابی )

    (جمعہ 07 اگست 2015ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    سیدناعلی آنحضرت ﷺ کے چچا ابو طالب کے بیٹے تھے اور بچپن سے ہی حضورﷺ کے زیر سایہ تربیت پائی تھی بعثت کے بعد جب حضور ﷺ نے اپنے قبیلہ بنی ہاشم کے سامنے اسلام پیش کیا تو سیدناعلی نے سب سے پہلے لبیک کہی اور ایمان لے آئے۔اس وقت آپ کی عمر آٹھ برس کی تھی ہجرت کی رات نبی کریم ﷺ آپ کو ہی اپنے بستر پر لٹا کر مدینہ روانہ ہوئے تھے۔ ماسوائے تبوک کے تمام غزوات حضور ﷺ کے ساتھ تھے۔لڑائی میں بے نظیر شجاعت اور کمال جو انمردی کا ثبوت دیا۔آحضرت ﷺ کی چہیتی بیٹی سیدہ فاطمۃ الزہرا کی شادی آپ ہی کے ساتھ ہوئی تھی۔حضور ﷺ کی طرف سے خطوط اور عہد نامے بھی بالعموم آپ ہی لکھا کرتے تھے۔پہلے تین خلفاء کے زمانے میں آپ کو مشیر خاص کا درجہ حاصل رہا اور ہر اہم کام آپ کی رائے سے انجام پاتا تھا۔سیدنا علی بڑے بہادر انسان تھے۔ سخت سے سخت معر کوں میں بھی آپ ثابت قدم رہے ۔بڑے بڑے جنگو آپ کے سامنے آنے کی جر ات نہ کرتے تھے۔آپ کی تلوار کی کاٹ ضرب المثل ہوچکی ہے۔شجاعت کے علاوہ علم وفضل میں بھی کمال حاصل تھا۔ایک فقیہ کی حیثیت سے آپ کا مرتبہ بہت بلند ہے۔آپ کے خطبات سے کمال کی خوش بیانی اور فصاحت ٹپکتی ہے۔خلیفۂ ثالث سید عثمان بن عفان کی شہادت کے بعد ذی الحجہ535میں آپ نے مسند خلافت کو سنبھالا۔آپ کا عہد خلافت سارے کاسارا خانہ جنگیوں میں گزرا۔اس لیے آپ کو نظام ِحکومت کی اصلاح کے لیے بہت کم وقت ملا۔تاہم آپ سے جہاں تک ممکن ہوا اسے بہتر بنانے کی پوری کوشش کی۔ فوجی چھاؤنیوں کی تعداد میں اضافہ کیا۔صیغہ مال میں بہت سی اصلاحات کیں ۔جس سے بیت المال کی آمدنی بڑھ گئی۔عمال کے اخلاق کی نگرانی خود کرتے اور احتساب فرماتے۔خراج کی آمدنی کا نہایت سختی سے حساب لیتے۔ذمیوں کے حقوق کا خاص خیال رکھتے۔ عدل وانصاف کارنگ فاروق اعظم کے عہد سے کسی طرح کم نہ تھا۔محکمہ پولیس جس کی بنیاد سیدنا عمر نے رکھی تھی۔اس کی تکمیل بھی سیدناعلی کے زمانے میں ہوئی۔ نماز فجر کے وقت ایک خارجی نے سیدنا علی پر زہر آلود خنجر سے حملہ کیا جس سے آپ شدید زخمی ہوگئے ۔اور حملہ کے تیسرے روز رحلت فرماگئے۔انتقال سے پہلے تاکید کی کہ میرے قصاص میں صرف قاتل ہی کو قتل کیا جائے کسی اور مسلمان کا خون نہ بھایا جائے۔خلفائے راشدین کی سیرت امت کےلیے ایک عظیم خزانہ ہے اس میں بڑے لوگو ں کےتجربات،مشاہدات ہیں خبریں ہیں امت کے عروج اور غلبے کی تاریخ ہے ۔ اس کےمطالعہ سے ہمیں دیکھنے کا موقع ملتا ہے کہ کن کن مواقع پر اہل حق کوعروج وترقی ملی ۔خلفاء راشدین کی سیرت شخصیت ،خلافت وحکومت کےتذکرہ پر مشتمل متعد د کتب موجود ہیں ۔لیکن عصر حاضر میں خلفائے راشدین پر سب سے عمدہ اوراعلیٰ درجے کی کتب قطر میں مقیم ڈاکٹر علی محمد محمد صلابی ﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی ) کی ہیں۔انہوں نےجس عمدہ انداز میں خلفائے راشدین پر کتب تالیف کی ہیں اس کا کوئی جواب نہیں۔ کسی بھی مؤلف کے کام کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ جو بات بھی تحریر کرے باحوالہ صحیح اور درست تحریر کرے ۔ اس کے کام میں ادھر ادھر کی باتیں اور رطب ویابس جمع نہ کیا گیا ہو۔ اس کا اسلوب اورانداز بیان بہت واضح ہو ۔ زبان ایسی آسان استعمال کی گئی ہوکی عام آدمی بھی اسے پڑھ اور سمجھ سکے اورفلسفیانہ انداز سے ہٹ کر اس انداز میں لکھاگیاہو کہ اس کی بات پڑھنے والے کے دل ودماغ کی گہرائی تک اتر جائے۔ ڈاکٹر صلابی صاحب کی تالیفات میں یہ تمام خوبیاں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ڈاکٹر صلابی موصوف نے متعد د کتب کے علاوہ سیرت النبیﷺ اور خلفائے راشدین کی سیرت پر بڑی عمدہ کتب تحریر کی ہیں۔جنہیں بڑی مقبولیت حاصل ہے اصل کتب عربی زبان میں ہیں لیکن ان کی مقبولیت کےباعث دیگر زبانوں میں اس کے ترجمے بھی ہوچکے ہیں۔  زیر تبصرہ کتاب ’’سیدنا علی ‘‘ دکتور صلابی ہی کی اہم تصنیف ہے ۔اس کتاب میں سید نا علی کی مکمل سوانح اور آپ کی سیرت انتہائی احسن انداز میں بیان کی گئی ہے ۔ یہ کتاب داماد رسول ، فاتح خیبر،خلیفہ راشد سیدنا علی بن ابی طالب کی تابناک سیرت کا مستند تذکرہ ہے ۔اس اہم کتاب کا سلیس اردو ترجمہ پروفیسر عبد الغفور مدنی ﷾ نے کیا ہے اور اسلامی کتب کے عالمی ادار ے ’’دار السلام ‘‘ نے بڑ ی عمدہ حسنِ طباعت سے آراستہ کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم ، اور ناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور قارئین کےلیے اسے مفید بنائے (آمین)(م۔ا)

  • 72 #580

    مصنف : عبد المالک مجاہد

    مشاہدات : 131400

    سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی کے سنہرے واقعات

    (اتوار 06 جنوری 2013ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    سیدنا فاروق اعظمؒ کی زندگی اسلامی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جس نے ہر تاریخ کو پیچھے چھوڑ دیا۔ آپ نے حکومت کے انتظام و انصرام، بے مثال عدل و انصاف، عمال حکومت کی سخت نگرانی، رعایا کے حقوق کی پاسداری، اخلاص نیت و عمل، جہاد فی سبیل اللہ اور دعوت کے میدانوں میں ایسے ایسے کارہائے نمایاں انجام دئیے کہ انسانی تاریخ ان کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ سیدنا عمر فاروق کے بعد آنے والے حکمرانوں میں سے جس نے بھی کامیاب حکمران بننے کی خواہش کی، اسے فاروق اعظم کے قائم کردہ ان زریں اصولوں کو مشعل اہ بنانا پڑا، جنھوں نے اس عہد کے مسلمانوں کی تقدیر بدل کر رکھ دی۔ مولانا عبدالمالک مجاہد نے اپنے مخصوص انداز میں صحابہ کرام کی زندگی کے چنیدہ واقعات کو قلمبند کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے زیر نظر کتاب اسی سلسلہ کی ایک اہم کڑی ہے۔ جس میں فاروق اعظم کی زندگی کے سنہری واقعات احاطہ تحریر میں لائے گئے ہیں۔(ع۔م)
     

  • 73 #5268

    مصنف : ڈاکٹر علی محمد الصلابی

    مشاہدات : 3890

    سیدنا معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہما شخصیت اور کارنامے

    (پیر 10 اپریل 2017ء) ناشر : الفرقان ٹرسٹ، مظفر گڑھ

    سیدنا معاویہ  ان جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ہیں ،جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے لئے کتابتِ وحی جیسے عظیم الشان فرائض سر انجام دئیے۔سیدنا علی   کی وفات  کے بعد  ان کا دور حکومت تاریخ اسلام کے درخشاں زمانوں میں سے ہے۔جس میں اندرونی طور پر امن اطمینان کا دور دورہ بھی تھا اور ملک سے باہر دشمنوں پر مسلمانوں کی دھاک بھی بیٹھی ہوئی تھی۔لیکن افسوس کہ بعض نادان مسلمان بھائیوں نے ان پر اعتراضات اور الزامات کا کچھ اس انداز سے انبار لگا رکھا ہے کہ تاریخ اسلام کا یہ تابناک زمانہ سبائی پروپیگنڈے کے گردوغبار میں روپوش ہو کر رہ گیاہے۔ کئی اہل علم اور نامور صاحب قلم حضرات نے  سیدنا معاویہ ابی سفیان   کے متعلق مستند کتب لکھ کر  سیدنا معاویہ  کے فضائل ومناقب،اسلا م کی خاطر  ان کی عظیم قربانیوں کا ذکر کے  ان کے خلاف کےجانے والےاعتراضات کی حقیقت کو خوب واضح کیا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب  ’’ سیدنا معاویہ بن ابو سفیان شخصیت اور کارنامے   ‘‘ بھی اسے سلسلے کی  ایک کڑی ہے ۔یہ کتاب  سعودی عرب کے  ایک جید  عالم دین  اور نامور مؤرخ وسیرت نگا ر  دکتورعلی محمد محمد الصلابی ﷾  کی تصنیف ہے  انہوں نے اس کتاب میں حضرت معاویہ کا نام ونسب،کنیت ،خاندان، عہد رسول ﷺ اور عہد خلافت راشدہ میں بنی امیہ کاکردار، امیر المومنین عمر بن خطاب   کےدورمیں دمشق ،بعلبک اور بلقان پر گورنری اورسیدنا عمر   سے سیدنامعاویہ کے تعلق  کے علاوہ  دیگر کئی  ابحاث کو اس کتاب میں تاریخ  کی مستند کتابوں سے استفادہ کر کے  بڑے خوبصورت  انداز میں  پیش کیا ہے ۔فاضل مصنف نے اسی نوعیت  کی تحقیقی  اور معیاری کتب سیرت النبی ﷺ ،سیدناابو بکر ،سیدنا ابو بکر صدیق ، سیدنا عمرفاروق ، سید عثمان غنی ، سید نا علی المرتضیٰ ،  سیدنا حسن وحسین   کے متعلق  تصنیف کی  ہیں جن کے اردو تراجم ہوکر شائع ہوکر اردو  داں طبقہ سے  داد تحسین  حاصل کر چکے ہیں۔اور کتاب وسنت سائٹ بھی پر موجود ہیں ۔(م۔ا)

  • 74 #5678

    مصنف : محمد ظفر اقبال

    مشاہدات : 2265

    سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ گمراہ کن غلط فہمیوں کا ازالہ

    (ہفتہ 15 جولائی 2017ء) ناشر : مکتبہ عمر فاروق، کراچی

    سیدنا معاویہ  ان جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ہیں،جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے لئے کتابت وحی جیسے عظیم الشان فرائض سر انجام دئیے۔سیدنا علی   کی وفات  کے بعد  ان کا دور حکومت تاریخ اسلام کے درخشاں زمانوں میں سے ہے۔جس میں اندرونی طور پر امن اطمینان کا دور دورہ بھی تھا اور ملک سے باہر دشمنوں پر مسلمانوں کی دھاک بھی بیٹھی ہوئی تھی۔لیکن افسوس کہ بعض نادان مسلمان بھائیوں نے ان پر اعتراضات اور الزامات کا کچھ اس انداز سے انبار لگا رکھا ہے کہ تاریخ اسلام کا یہ تابناک زمانہ سبائی پروپیگنڈے کے گردوغبار میں روپوش ہو کر رہ گیاہے۔اور امر کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ تاریخ کی روشنی میں اصل حقیقت کو واضح کیا جائے۔ زیر تبصرہ کتاب" سیدنا معاویہ ، گمراہ کن غلط فہمیوں کا ازالہ" محترم محمد ظفر اقبال صاحب کی تصنیف ہے، جبکہ اس کے شروع میں مسلک دیو بند سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے معروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خاں صاحب  کی تقریظ موجود ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں صحابی رسول سیدنا معاویہ   کی سیرت،آپ کے فضائل ومناقب ،آپ کے عہد حکومت کے حالات کو بیان کرتے ہوئے  آپ پر کئے گئے  مخالفین کے اعتراضات کا مدلل اور مسکت جواب دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 75 #1089

    مصنف : ڈاکٹر علی محمد الصلابی

    مشاہدات : 26531

    سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے

    (ہفتہ 24 ستمبر 2011ء) ناشر : الفرقان ٹرسٹ، مظفر گڑھ

    اسلام کی اب تک کی تاریخ میں دور نبوت کے بعد خلافت راشدہ کا دور ہر اعتبار سے سب سے ممتاز اور تابناک رہا ہے، کیونکہ اس کی باگ ڈور ان ہستیوں کے ہاتھ میں تھی  جنہو ں نے جہاں بانی اور جہاں بینی میں شمع نبوت سے روشنی حاصل کی تھی۔ ڈاکٹر علی محمد محمد الصلابی ہدیہ تبریک کے مستحق ہیں کہ انہوں نے سیرت خلفائے راشدین کے تمام پہلوؤں پر نہایت علمی انداز میں روشنی ڈالی۔ زیر مطالعہ کتاب ڈاکٹر موصوف کی دوسرے خلیفہ راشد حضرت عمر فاروق کی حیات و خدمات اور کارناموں پر مشتمل ہے۔ جس کا سلیس اردو ترجمہ شمیم احمد خلیل السلفی اور عبدالمعین بن عبدالوہاب مدنی نے کیا ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ وہ شخصیت ہیں جنھوں نے فکری، سماجی، سیاسی، اقتصادی اور جنگی و فتوحاتی غرض ہر میدان میں انسانیت و روحانیت اور امن و آشتی کے لئے ایسے عدیم النظیر نقوش چھوڑے جن سے آج کی ترقی یافتہ کہی جانے والی دنیا بھی درست راہ لینے پر مجبور ہے۔ اس کتاب میں آپ کے دور کی آبادیاتی ترقی اور وقتی بحران سے نمٹنے کا تذکرہ ہے۔ گزرگاہوں اور خشکی اور سمندری وسائل، فوجی چھاؤنیوں اور تمدنی مراکز کے قیام کے سلسلہ میں آپ کے شدت اہتمام کا ذکر ہے۔ اس حقیقت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ آپ کے زمانہ میں بصرہ، کوفہ اور فسطاط جیسے بڑے بڑے شہر کیسے آباد ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے دور کی فتوحات اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد و الہٰی سنن کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔ غرضیکہ اس کتاب میں فاروق اعظم رضی اللہ کی زندگی کے کسی بھی پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑا گیا۔ اس کتاب کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اس میں کوئی بھی چیز حوالہ کے بغیر ذکر نہیں کی گئی۔ یہ کتاب خطبا و مقررین، علما و سیاسی قائدین، دانشوروں، طلبا اور عوام کے لئے یکساں اہمیت کی حامل ہے۔(ع۔م)

  • 76 #3317

    مصنف : شاہ معین الدین احمد ندوی

    مشاہدات : 2721

    سیر الصحابہ رضی اللہ عنہم جلد۔1

    dsa (بدھ 17 جون 2015ء) ناشر : دار الاشاعت، کراچی

    صحابہ نام ہے ان نفوس قدسیہ کا جنہوں نے محبوب ومصدوق رسول ﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا اور اس خیر القرون کی تجلیات ِایمانی کو اپنے ایمان وعمل میں پوری طرح سمونے کی کوشش کی ۔ صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی سے مراد رسول اکرم ﷺکا وہ ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص ہے لہذاب یہ لفظ کوئی دوسراا شخص اپنے ساتھیوں کےلیے استعمال نہیں کرسکتا۔ انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام ﷢ کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام﷢ کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے۔ صحابہ کرام ﷢ کے ایمان ووفا کا انداز اللہ کو اس قدر پسند آیا کہ اسے بعد میں آنے والے ہر ایمان لانے والے کے لیے کسوٹی قرار دے دیا۔یو ں تو حیطہ اسلام میں آنے کے بعد صحابہ کرام ﷢ کی زندگی کاہر گوشہ تاب ناک ہے لیکن بعض پہلو اس قدر درخشاں ،منفرد اور ایمان افروز ہیں کہ ان کو پڑہنے اور سننے والا دنیا کا کوئی بھی شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ صحابہ کرام ﷢ کےایمان افروز تذکرے سوانح حیا ت کے حوالے سے ائمہ محدثین او راہل علم کئی کتب تصنیف کی ہیں عربی زبان میں الاصابہ اور اسد الغابہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اور اسی طرح اردو زبان میں کئی مو جو د کتب موحود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سیر الصحابۃ‘‘ جو کئی مصنفین کی محنت وکاوش کانتیجہ ہے۔ یہ کتاب 15 حصوں میں نو مجلدات پر مشتمل انبیاء کرام ﷩ کےدنیا کےمقدس ترین انسانوں کی سرگزشت حیا ت ہے ۔تاریخ اسلام ،اسماء الرجال اور ذخیرۂ احادیث کی گرانقدر کتابوں سے ماخوذ مستند حوالہ جات پر مبنی صحابہ کرام ﷢ نیز مشہور تابعین وتبع تابعین او رائمۂ کرام ﷭ کے مفصل حالات زندگی پر اردومیں سب سے جامع کتاب ہے جوکہ طالبان ِعلوم نبوت کےلیے بیش قیمت خزانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنفین،ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ آمین( م۔ا)

  • 77 #4279

    مصنف : سعید انصاری

    مشاہدات : 2588

    سیر الصحابیات مع اسوۂ صحابیات

    (بدھ 02 مارچ 2016ء) ناشر : مشتاق بک کارنر لاہور

    اسلام عفت و عصمت اور پاکیزگی قلب و نگاہ کا دین ہے۔ اسلام زمانہ جاہلیت کی غیر انسانی طفل کشی کی رسم کی پرزور مذمت کرتا ہے۔ اسلام ہی دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے عورتوں کو ان کے اصل مقام و مرتبے سے ہمکنار کیا۔ اس کی عزت و آبرو کے لیے جامع قوانین متعین کیے، عورت کو وراثت میں حقدار ٹھہرایا، اس کے عائلی نظام کو مضبوط کیا۔ اسلام سے پہلے دنیا نے جس قدر ترقی کی تھی، صرف ایک صنف واحد(مرد) کی اخلاقی اور دماغی قوتوں کا کرشمہ تھی۔ مصر، بابل، ایران، یونان اور ہندوستان مختلف تہذیب و تمدن کے چمن آراء تھے لیکن اس میں صنف نازک (عورت) کی آبیاری کا کچھ دخل نہ تھا۔ عورت کو دنیا میں جس نگاہ سے دیکھا جاتا ہے وہ ہر ممالک میں مختلف رہی ہے، مشرق میں عورت مرد کے دامن تقدس کا داغ ہے، اہل یونان اس کو شیطان کہتے ہیں، تورات اس کو لعنت ابدی کا مستحق قرار دیتی ہے، کلیسا اس کو باغ انسانیت کا کانٹا تصور کرتا ہے لیکن اسلام کا نقطہ نظر ان سب سے جدا گانہ ہے۔ اسلام میں عورت نسیم اخلاق کی نکہت اور چہرہ انسانیت کا غازہ سمجھی جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"سیر الصحابیات معہ اسوہ صحابیات" مولانا سعید انصاری کی نایاب تصنیف ہے۔ جس میں موصوف نے ازواج مطہرات، بنات طاہرات اور اکابر صحابیات کے سوانح زندگی اور ان کے علمی، مذہبی، اخلاقی کارناموں کو مفصل قلمبند کیا ہے۔ کتاب کے آخر میں مولانا سید سلیمان ندویؒ کا مختصر رسالہ"مسلمان عورتوں کی بہادری" کو بھی کتاب ہذا کے ساتھ ذکر کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کی محنتوں کو شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین(عمیر)

  • 78 #5968

    مصنف : سعید انصاری

    مشاہدات : 1017

    سیر انصار حصہ اول

    (بدھ 13 دسمبر 2017ء) ناشر : دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، انڈیا

    اللہ رب العزت کے ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جس کی آخری کڑی جناب محمد کریمﷺ ہیں۔ اللہ رب العزت نے ہر نبی کو چند ساتھی دیے جنہیں حواری کے لفظ سے جانا جاتا ہے اور ہمارے نبیﷺ کے ساتھیوں کو صحابہ کے نام سے۔ ہر نبی کے ساتھیوں کو اتنی عظیمت وشان حاصل نہیں ہے جتنی کہ نبیﷺ کے صحابہؓ   کو حاصل ہے اور پھر آگے صحابہ کرامؓ میں سے بھی کچھ صحابہ فضائل میں دوسروں کی نسبت عظمت والے ہیں اور ہمارے اسلاف کا یہ طرز عمل رہا ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کے صحابہ کےحالات زندگی محفوظ کیے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ زیر نظر کتا ب میں مولوی سعید صاحب انصاری ﷾نے انصار صحابہ کے حالات وسوانح‘ اور ان کے علمی‘ مذہبی‘ اخلاقی اور سیاسی کارناموں کی پوری تفصیل بیان کی ہے کیونکہ صحابہؓ کی مقدس صف میں انصار کو ایک خاص امتیاز حاصل ہے اس لیے انصاری صحابہ کے حالات بیان کیے گئے ہیں اور نام حروف تہجی کے اعتبار سے بیان کیے گئے ہیں۔اور ان کے اسماء کی تفصیل سے پہلے انصار قبیلے کانسب اور تاریخ وغیرہ کو تفصیلاً بیان کیا گیا ہے اور یہ کتاب دو ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں مستند کتابوں سے حوالے بھی دیے گئے ہیں اور اس کی ترتیب عمدہ دی گئی ہے کہ اس کتاب کے مطالعے سے کوئی شخص اُکتاہٹ یا تنگی محسوس نہیں کر سکتا۔ یہ کتاب ’’سیر انصار‘‘ مولانا سعید صاحت انصاری﷾ کی عظیم کاوش ہے اور آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔ (آمین)( ح۔م۔ا )

  • 79 #5968.01

    مصنف : سعید انصاری

    مشاہدات : 852

    سیر انصار حصہ دوم

    (جمعرات 14 دسمبر 2017ء) ناشر : دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، انڈیا

    اللہ رب العزت کے ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جس کی آخری کڑی جناب محمد کریمﷺ ہیں۔ اللہ رب العزت نے ہر نبی کو چند ساتھی دیے جنہیں حواری کے لفظ سے جانا جاتا ہے اور ہمارے نبیﷺ کے ساتھیوں کو صحابہ کے نام سے۔ ہر نبی کے ساتھیوں کو اتنی عظیمت وشان حاصل نہیں ہے جتنی کہ نبیﷺ کے صحابہؓ   کو حاصل ہے اور پھر آگے صحابہ کرامؓ میں سے بھی کچھ صحابہ فضائل میں دوسروں کی نسبت عظمت والے ہیں اور ہمارے اسلاف کا یہ طرز عمل رہا ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کے صحابہ کےحالات زندگی محفوظ کیے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ زیر نظر کتا ب میں مولوی سعید صاحب انصاری ﷾نے انصار صحابہ کے حالات وسوانح‘ اور ان کے علمی‘ مذہبی‘ اخلاقی اور سیاسی کارناموں کی پوری تفصیل بیان کی ہے کیونکہ صحابہؓ کی مقدس صف میں انصار کو ایک خاص امتیاز حاصل ہے اس لیے انصاری صحابہ کے حالات بیان کیے گئے ہیں اور نام حروف تہجی کے اعتبار سے بیان کیے گئے ہیں۔اور ان کے اسماء کی تفصیل سے پہلے انصار قبیلے کانسب اور تاریخ وغیرہ کو تفصیلاً بیان کیا گیا ہے اور یہ کتاب دو ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں مستند کتابوں سے حوالے بھی دیے گئے ہیں اور اس کی ترتیب عمدہ دی گئی ہے کہ اس کتاب کے مطالعے سے کوئی شخص اُکتاہٹ یا تنگی محسوس نہیں کر سکتا۔ یہ کتاب ’’سیر انصار‘‘ مولانا سعید صاحت انصاری﷾ کی عظیم کاوش ہے اور آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔ (آمین)( ح۔م۔ا )

  • 80 #2425

    مصنف : محمد رضا

    مشاہدات : 2649

    سیرت ابوبکر صدیق

    (اتوار 31 اگست 2014ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    سیدنا ابوبکر صدیق﷜ قبیلہ قریش کی ایک مشہور شاخ تیم بن مرہ بن کعب کے فرد تھے۔ساتویں پشت میں مرہ پر ان کا نسب رسول اللہﷺ سے مل جاتا ہے ہے ۔ایک سچے مسلمان کا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ انبیاء ورسل کے بعد اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اور ارفع شخصیت سیدنا ابو بکر صدیق ﷜ ہیں ۔ سیدنا ابو بکر صدیق﷜ ہی وہ خو ش نصیب ہیں جو رسول اللہﷺ کےبچپن کے دوست اور ساتھی تھے ۔آپ پر سب سے پہلے ایمان لانے کی سعادت حاصل کی اور زندگی کی آخری سانس تک آپ ﷺ کی خدمت واطاعت کرتے رہے اور اسلامی احکام کے سامنے سرجھکاتے رہے ۔ رسول اللہ سے عقیدت ومحبت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت کے لیے تن من دھن سب کچھ پیش کر دیا ۔نبی کریم ﷺ بھی ان سے بے حد محبت فرماتے تھے ۔آپ ﷺ نے ان کو یہ اعزاز بخشا کہ ہجرت کے موقع پر ان ہی کو اپنی رفاقت کے لیے منتخب فرمایا۔ بیماری کے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے حکماً ان ان کو اپنے مصلیٰ پر مسلمانوں کی امامت کے لیے کھڑا کیا اورارشاد فرمایا کہ اللہ اورمؤمن ابو بکر صدیق کے علاوہ کسی اور کی امامت پر راضی نہیں ہیں۔خلیفہ راشد اول سیدنا صدیق اکبر ﷜ نے رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہر قدم پر آپ کا ساتھ دیا اور جب اللہ کے رسول اللہ وفات پا گئے سب صحابہ کرام کی نگاہیں سیدنا ابو بکر صدیق ﷜ کی شخصیت پر لگی ہو ئی تھیں۔امت نے بلا تاخیر صدیق اکبر کو مسند خلافت پر بٹھا دیا ۔ تو صدیق اکبر ؓ نے مسلمانوں کی قیادت ایسے شاندار طریقے سے فرمائی کہ تمام طوفانوں کا رخ اپنی خدا داد بصیرت وصلاحیت سے کام لے کر موڑ دیا اور اسلام کی ڈوبتی ناؤ کو کنارے لگا دیا۔ آپ نے اپنے مختصر عہدِ خلافت میں ایک مضبوط اور مستحکم اسلامی حکومت کی بنیادیں استوار کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ۔نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کے بعد اس کی سرحدیں ایشیا میں ہندوستان اور چین تک جا پہنچیں افریقہ میں مصر، تیونس او رمراکش سے جاملیں او ریورپ میں اندلس اور فرانس تک پہنچ گئیں۔سیدنا ابو بکر صدیق ﷜ کی زندگی کے شب وروز کے معمولات کو الفاظ کے نقوش میں محفوظ کرنے سعادت نامور شخصیات کو حاصل ہے۔زیر نظر کتاب بین الاقوامی شہرت یافتہ یونیورسٹی جامعہ ازہر کی لائبریری کے انچارج   علامہ محمد رضا مصر ی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے   سیدنا ابو بکر   صدیق ﷜ کی حیات مبارکہ کے تعارف،آپ کی خلافت کی تشریح آپ کی حکمت عملیوں کو واضح کوبڑے احسن انداز میں واضح کر دیا ہے کتاب ہذا کے مصنف موصوف نے اس کتاب کے علاوہ سیدنا عمر فاروق ،سیدنا عثمان غنی ، سیدنا علی المرتضیٰ ،اور سیدنا حسن وحسین ﷢ کی سوانح حیات بھی   کتب تصنیف کی ہیں ۔ تمام اہل اسلام کو صحابہ کرام﷢   کی طر ح زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین) (م۔ا)

< 1 2 ... 5 6 7 8 9 10 11 ... 13 14 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1891
  • اس ہفتے کے قارئین 7876
  • اس ماہ کے قارئین 46270
  • کل قارئین49341269

موضوعاتی فہرست