دکھائیں کتب
  • 361 کنفیوشس ، زرتشت اور اسلام (جمعرات 30 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:3390

    اس وقت دنیا میں بے شمار آسمانی و غیر آسمانی مذاہب پائے جاتے ہیں،جن کی اپنی اپنی تہذیب وثقافت اور زندگی گزارنے کی لئے تعلیمات ہیں۔لیکن اسلامی تعلیمات ان تمام مذاہب  کی تعلیمات سے زیادہ معتدل ،روشن اور عدل وانصاف کے تقاضوں  پر پورا اترنے والی ہیں۔بنیادی طور پر مذاہب کی دو قسمیں ہیں۔1۔سامی مذاہب،2۔غیر سامی مذاہب۔سامی مذاہب میں یہودیت ،عیسائیت اور اسلام داخل ہیں،جبکہ غیر سامی مذاہب  میں ہندو مت،بدھ مت ،جین مت زرتشت ،کنفیوشس اور سکھ شامل ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " کنفیوشس،زرتشت اور اسلام" عالمی شہرت یافتہ ،عظیم اسلامی سکالر  ،مبلغ،داعی،  مذاہب عالم کےمحقق ،تقابل ادیان کے مناظراور عیسائی پادریوں کی زبانیں بند کردینے والے عظیم مجاہدشیخ احمد دیدات﷫  کی انگریزی کتاب کا اردو ترجمہ ہے۔ترجمہ کرنے کی سعادت محترم مصباح اکرم صاحب نے حاصل کی ہے۔آپ  کا پیدائشی نام احمد حسین دیدات ﷫تھا۔ آپ کی  تقاریر کے اہم موضوعات، انجیل، نصرانیت، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، انجیل میں محمد ﷺ کا ذکر ، کیا آج کی اناجیل کلام اللہ ہیں وغیرہ وغیرہ ہوتے تھے۔ مولف ﷫نے اپنی تقاریر اور مناظروں کے ذریعے  عیسائیت کے رد  میں عظیم الشان خدمات انجام دیں،جو رہتی دنیا تک ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔آپ نے اس کتاب میں  مذاہب عالم میں سے ان  دو مذاہب (کنفیوشس،زرتشت)اور اسلام کا پہلے تفصیلی تعارف کروایا ہے ،اور ہر مذہب  کا پس منظر ،تعارف،بانی ،کتاب،عقائد،اہم ترین معلومات اور حقائق بیان کئے ہیں اور سب سے آخر میں ان دونوں مذاہب کا اسلام کے سات...

  • 362 کیا علماء دیوبند اہل سنت ہیں (بدھ 22 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:1685

    1857ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد مسلمانان ہند کے سیاسی اور معاشی زوال کے ساتھ ساتھ ان کے اخلاق ، ثقافت ، مذہب اور معاشرت پر بھی دوررس نتائج کے حامل برے اثرات مرتب ہو رہے تھے۔ مسلمانوں کا ملی تشخص خطرے میں پڑ گیا تھا اگر ایک طرف سقوط دہلی کے بعد مدرسہ رحیمیہ کے دروازے بند کر دئیے گئے تھے تو دوسری طرف ان کو ان کے مذہب سے بیزار کرنے کے لیے مذموم کوششوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا تھا۔ ان حالات میں ضروری تھا کہ مسلمانوں کو اسلامی احکامات سے باخبررکھا جائے اور ان میں جذبہ جہاد اور جذبہ شہادت کی تجدید کا عمل بلا تاخیر شروع کیا جائے تاکہ سپین اور خلافت عثمانیہ کے مسلمانوں کی طرح ان کا شیرازہ ملت کہیں بکھر نہ جائے مذکورہ مقاصد کے حصول کے لیے حضرت شاہ ولی اللہ کی تعلیمات اور تحریک سے متأثر کچھ علماء نے برطانوی ہند میں دینی مراکز قائم کرنے کی ضرورت شدت سے محسوس کی۔ اسی ضرورت کے پیش نظر یو۔ پی کے ضلع سہارنپور کے ایک قصبے نانوتہ کے مولانا قاسم نانوتوی نے 30 مئی 1866ء بمطابق 15 محرم الحرام 1283ھ کو دیوبند کی ایک چھوٹی سی مسجد (مسجد چھتہ) میں مدرسۃ دیوبند کی بنیاد رکھی۔ بعد میں   دار العلوم دیوبند کے نام سے اسے عالمگیر شہرت حاصل ہوئی اور جہاں سے بڑے بڑے نامور علماء   کرام نے تعلیم حاصل کر کے سند فراغت حاصل کی۔ اسی مناسبت سے آج مسلک احناف میں سے ایک فرقہ دیوبندی کہلاتا ہے۔ علمائے دیوبند عملاً مسلک امام ابوحنیفہ کے پیروکار ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں انگریز کے دور استبداد میں حنفیہ کی مسند تدریس کو منور رکھنا علمائے دیوبند کا کارنامہ ہے۔ زیر تبصرہ...

  • 363 گوتم بدھ راج محل سے جنگل تک (جمعرات 05 ستمبر 2013ء)

    مشاہدات:7483

    بدھ مت دنیا کے قدیم ترین مذاہب میں سے ایک ہے جو عیسوی صدی سے کئی سال بیشتر اس وجہ سے معرض وجود میں آیا تھا کہ ہندومت کی ظالمانہ رسومات ختم کی جائیں ۔ اور معاشرے کے اندر انصاف پر مبنی شفاف ترین تعلیمات کا بول بالا کیا جائے ۔ یہ دنیا کے معرف ترین مذاہب میں سے ایک ہے اس دنیا میں اس کے پیروکاروں کی تعداد لاکھوں میں ہے ۔ یہ مذہب  بنیادی طور پر ترک دنیا کی تعلیم دیتا ہے ۔ اس مذہب کے بانی گوتم بدھ بھی پہلے ایک شہزادہ تھے تصوف و رہبانیت اور مادی آلائشوں سے طبعی نفرت رکھتے تھے ۔ ایک روز غم ، دکھ اور تکلیف کی مختلف تین حالتیں دکھیں جس کی وجہ سے دل برداشتہ ہو کر جنگلات کا رخ کیا ۔ اور وہاں گیان دھیان میں مصر ف ہوگئے ۔  عرصہ دراز کی ریاضت کے بعد انکشاف حقیقت کے مدعی ہو گئے ۔ اور پھر الگ طور پر ایک مذہب کی  بنیاد رکھی ۔ چناچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ بدھ مت ایک غیر سماوی اور خود ساختہ مذہب ہے یہ  زندگی کے بنیادی سوالات کے خلا کو جاہلانہ تصورات سے پر کرتا ہے ۔ ظاہر بات ہے جو مذہب سماوی نہیں وہ حقیقت بھی نہیں ہو سکتا بلکہ سماوی دین میں بھی اگر تحریف ہو جائے تو وہ غیرحقیقی بن جاتا ہے چہ جائیکہ ایک دین ہو ہی غیر سماوی ۔ (ع۔ح)
     

  • 364 ہم اہلحدیث کیوں ہوئے؟ (جمعرات 07 اکتوبر 2010ء)

    مشاہدات:22281

    اسلام وحی الہی کی اتباع وپیروی سے عبارت ہے وحی قرآن مجید اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث وسنت کی صورت میں امت مسلمہ کے پاس محفوظ حالت میں موجود ہے اللہ تبارک وتعالی نے بھی ہمیں یہیں حکم دیا ہے کہ ’’اتبعوا ما انزل الیکم من ربکم ‘‘یعنی اس شئے کی اتباع کرو جو تمہار ے رب کی طرف سے اتاری گئی ہے اور ظاہر ہے کہ یہ وحی یعنی قرآن وحدیث کے سوا کچھ نہیں اہل حدیث کی صرف یہی دعوت ہے کہ امت فلاح وکامرانی او رکامیابی کا راز کتاب وسنت کی غیر مشروط اطاعت میں مضمر ہے یہ فطری سادہ اور شفاف دعوت ہر طبع سلیم کو اپنی جانب راغب کرتی ہے اور لوگ اپنے آبائی اور علاقائی مسالک ومذاہب کو چھوڑ کر اسے اپنا رہے ہیں زیر نظر کتاب میں چند ایسے ہی خوش قسمت افراد کی داستان بیان کی گئی ہے جنہوں نے وحی کی صدائے دل نواز پہ لبیک کہتےہوئے اپنی تقلیدی مسالک کو ترک کرکے عمل بالحدیث کا مذہب اختیار کیا ٹھنڈے دل اور وسعت قلب کے ساتھ اس کتاب کا مطالعہ کرنے سے انشاء اللہ حق کو قبول کرنے کا جذبہ بیدارہوگا اور خودساختہ فرقوں کی حقیقت نکھر کر نظر وبصر کے سامنے آجائے گی ہم خلوص دل کے ساتھ یہ کتاب ہدیۂ قارئین  کر رہے ہیں امید ہے اسی جذبے کو سامنے رکھتے ہوئے اس کتا ب کا مطالعہ کیا جائے گا


     

  • 365 ہم اہلحدیث کیوں ہیں؟ (بدھ 20 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1754

    اہل حدیث کوئی نئی جماعت نہیں، تمام اہل علم اس کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کا نصب العین کتاب و سنت ہے۔ اس لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف نہیں ہے۔ "اہلحدیث" ایک فکر اور تحریک کا نام ہے جو سنت کو مدار عمل ٹھہرانے میں نہایت حریص اور رد بدعات میں نہایت بے باک ہیں۔ اس کا مطح نظر فقط عمل بالقراٰن والحدیث ہے معاشرے میں پھیلے ہوئے رسوم و رواج کو یہ جماعت میزان نبوی میں پرکھتی ہے۔ جوبات قرآن و سنت کے مطابق ہو اس کو قبول کرنا اس جماعت کا خاصہ اور امتیاز ہے۔ مسلک اہل حدیث وہ دستور حیات ہے جو صرف قرآن وحدیث سے عبارت ہے، بزرگان دین کی عزت سکھاتا ہے مگر اس میں مبالغہ نہیں۔ "امرین صحیحین" کے علاوہ کسی کو بھی قابل حجت اور لائق تعمیل نہیں مانتا۔ اہل حدیث ہی وہ فرقہ ہے جو خالص کتاب وسنت کا داعی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "ہم اہل حدیث کیوں ہوئے" مولانا عبد الغفور اثری کی تالیف ہے۔ اس کتاب میں موصوف نے لقب اہل حدیث کی وجہ تسمیہ، اہل حدیث کبار ائمہ کی نظر میں، اور صحیح احادیث و آثار سے ثابت کیا ہے کہ اہل حدیث ہی وہ طائفہ منصورہ ہے جس کے متعلق سرور کائنات نے اپنی احادیث مبارکہ میں امت کو پیشین گوئی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے اللہ رب العزت موصوف کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • 366 ہم نے کیوں اسلام قبول کیا؟ (ہفتہ 25 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:1955

    مسلمان ہونا یہ اللہ تعالیٰ کی اتنی بڑی نعمت ہے اس نعمت کے مقابلہ میں دنیا جہاں کی تمام نعمتیں ہیچ او ر بے حیثیت ہیں۔ اسلام کتنی عظیم نعمت ہے اسکا احساس یہودیت اور عیسائیت سے توبہ تائب ہوکر اسلام لانے والو ں کے حالات پڑ ھ کر ہوتا ہے۔اسلام کی نعمت عطا فرماکر اللہ تعالی ٰ نے یقیناً اپنے بندوں پر بڑا انعام فرمایا ہے۔ لیکن اسلام کو مکمل صورت اختیار کرنا جتنا مشکل ہے اس سے کہیں دشوار اپنے آبائی مذہب کو ترک کر کے اسلام کی آغوش میں آنا ہے یہ ہرگز معمولی بات نہیں کہ ایک شخص اپنے ماحول خاندان اور والدین کے خلاف بغاوت کرتا ہے اور تلاشِ حق میں اس راستے پر گامزن ہوتاہے جوہزاروں گھاٹیوں اور دشواریوں سے بھرا ہوتا ہے مگر وہ ہر مصیبت کا مقابلہ کرتا ہے اور ہر آزمائش پر پورا اترتا ہے یہ کام یقیناً انھی لوگوں کا جن کے حوصلے بلند اور ہمتیں غیر   متزلزل ہوتی ہیں اہل عزیمت کایہ قافلہ قابل صد مبارک باد اور قابل تحسین ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ ہم نےکیو ں اسلام قبول کیا ؟‘‘ محمد انور بن اختر کی مرتب شدہ ہے جس میں انہوں نے یہودیت اور عیسائیت سے اسلام لانے والے مردوں کےایمان فروز حالات کو   عام فہم انداز میں بیان کیا ہے۔تاکہ لوگوں میں ان حالات کوپڑ ھ کر اللہ کے شکر   کاداعیہ پیدا ہو اور لوگوں کو یہ معلوم ہو سکے دین ِاسلام میں کفار کس تیزی سے داخل ہورہے ہیں ۔اس وقت اسلام دنیا میں تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے جس کے سائے میں دنیا بھر کے مسلم جوق درجوق داخل ہور ہے ہیں ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو اشاعت اسلام کا ذریعہ بنائے۔ آمین(م۔ا)

  • 367 ہند و پاک میں مسلم فرقوں کا انسائیکلو پیڈیا (ہفتہ 27 فروری 2016ء)

    مشاہدات:2424

    ایک جدید ذہن جب دین کی طرف مائل ہوتا ہے تو اسے اپنے سامنے  دین کے نام پر ڈھیروں اختلافات نظر آتے ہیں۔ اس موقع پر وہ اس کنفیوژن کا شکار ہو جاتا ہے کہ کون سا راستہ درست ہے اور کون سا غلط اور میں کس کی بات مانوں اور کسے غلط قرار دوں؟ ہر فرقہ و مسلک اپنے نقطہ نظر کی تائید میں قرآن و سنت سے ہی دلائل پیش کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو شخص دین کی طرف مائل ہوا ہے، اسے جس فرقہ و مسلک کے لوگوں سے پہلے واسطہ پڑ جائے، وہ اسی مسلک کے دلائل کو پڑھتا ہے اور پھر اسے اپنا لیتا ہے۔ اس کے بعد وہ انہی دلائل کی روشنی میں دوسروں کو دیکھتا ہے۔اسے یہ سکھایا جاتا ہے کہ  خوش قسمتی سے تم درست جگہ آ گئے ہو، اب کسی اور جانب مت دیکھنا ورنہ گمراہ ہو جاؤ گے۔اگر تمہیں دوسرے مسلک کا مطالعہ کرنا بھی ہے تو اپنے ہی علماء کی کتابوں کے ذریعے کرو جو اس فرقے کے رد میں لکھی گئی ہیں۔اس طریقے سے وہ شخص تعصب اور تحزب کا شکار ہو جاتا ہے۔اس وقت ہندوستان میں بھی بے شمار ایسے فرقے پائے جاتے ہیں جو اسلام کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "ہند و پاک میں مسلم فرقوں کا انسائیکلوپیڈیا" محترم نعیم اختر سندھو صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے ہندوستان میں موجود انہی فرقوں کے تعارف پر ایک انسائیکلوپیڈیا تیار کر دیا ہے اور تمام مسالک کے عقائد اور مناہج کو بیان کر دیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس خدمت  کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 368 ہندوستان میں اہل حدیث کی علمی خدمات (منگل 26 اپریل 2016ء)

    مشاہدات:1993

    مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت نہیں۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔ہندوستان میں اہلحدیث علماء نے بے شمار علمی خدمات انجام دی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "ہندوستان میں اہل حدیث کی علمی خدمات" محترم مولانا  ابو یحیی امام خاں نوشہروی﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے ہندوستان میں اہل حدیثوں کی علمی خ...

  • 369 ہندوستانی قدیم مذاہب (اتوار 12 فروری 2017ء)

    مشاہدات:1617

    انسانی تاریخ میں لاتعداد مذاہب گزر چکے ہیں اور ہر دور میں انسان کسی نہ کسی مذہب کا پیروکار رہا ہے۔ بے شمار مذاہب اب ناپید ہو چکے ہیں  مذاہب کون کون سے ہیں اور ان میں بنیادی طور پر کیا اختلاف پائے جاتے ہیں اور ان میں کیا باتیں مشترک ہیں۔ لیکن یہ بات سب مذاہب میں مشترک ہے کہ ایک اللہ ہی اس کائنات کا مالک ہے۔ ہندوستان میں بھی متعدد قدیم مذاہب پائے جاتے تھے۔ ہندو مذہب کا شمار دنیا کے قدیم ترین مذاہب میں ہوتا ہے۔ آریاؤں کے ہندوستان میں آنے سے ان کی تاریخ شروع ہوتی ہے۔ آج سے تقریبا ساڑھے تین ہزار سال قبل آریا قوم افغانستان وادی سوات کے راستے برصغیر پاک و ہند میں داخل ہوئی تھی۔ اس وقت اس خطہ میں ’’دراوڑی‘‘ قوم آباد تھی۔ جس کے اثرات آج بھی ’’موہنجودڑو‘‘ اور ’’ہڑپہ‘‘ کے وسیع و عریض کھنڈرات میں ملتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ"ہندوستانی قدیم مذاہب"محترم جناب سید اخلاق حسین صاحب کا مرتب کردہ ہے، جس میں انہوں نے ہندوستانی قدیم مذاہب کے بارے میں مولانا ابو الحسن زید فاروقی اور میرزاجان جاناں مظہر کا مکتوب شائع کیا ہے۔ (راسخ)

  • 370 یہ در یہ آستانے (بدھ 02 جون 2010ء)

    مشاہدات:16043

    زیر نظر کتاب’’یہ در یہ آستانے‘‘دراصل آب بیتی ہے ایسے شخص کی جو تیس سال سے زائدعرصہ تک شرک وبدعت اور اوہام وپرخرافت کے کے بحربیکراں میں غرق حیران وسرگرداں رہا۔بالآخر ایک دن سفینہ توحیدپر سوار ہوکر ساحل حق ونجات سے ہمکنار ہواپھر اپنے اس سفر نامہ توحید کو صفحہ قرطاس کیا تاکہ دنیا کے بیشتر حصوں میں اس کے ہی جیسے حالات اور نفسیاتی کیفیات سے دوچار بے شمار مسلمانوں کےلیے یہ مشعل راہ ثابت ہونہایت ہی مفید کتاب ہے۔

     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1344
  • اس ہفتے کے قارئین: 13785
  • اس ماہ کے قارئین: 41479
  • کل قارئین : 46013084

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں