دکھائیں کتب
  • 351 کامیاب مناظرہ (ایک قادیانی سے فیصلہ کن مناظرہ) (منگل 19 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1542

    دنیا میں فرقے مختلف ناموں اور کاموں کے اعتبار سے موجود ہیں۔ کچھ فرقے فکری و نظریاتی بنیادوں پر وجود میں آتے ہیں اور فرقے سیاسی بنیادوں پر وجود پکڑتے ہیں۔ فکری و نظریاتی فرقوں میں سے ایک باطل فرقہ قادیانیت ہے جس کی بنیاد ہی غلط ہے۔ اور ان کی سب سے بڑی غلطی نبوت و رسالت پر حملہ ہے۔ ملک وقوم کے دشمنوں نے اپنے اغراض و مقاصد کی تکمیل کے لیے مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدد کا رنگ دیاجو بعد میں مسیح موعودنبی اور رسالت کا روپ دھار گیا۔ ان کی اسی غلط نظریات کی وجہ سے بالخصوص حکومت پاکستان اور دوسرے اسلامی ممالک نے ان کو غیر مسلم قراردیا۔ اس فرقے کو دبانے کےلیے علماء اسلام نے قادیانیوں کو ناکوں چنے چبوائے اور ہر میدان میں ان کا مدلل و منہ توڑ جواب دیاچاہے وہ تحریر ی میدان ہو یا مناظرے کا اسٹیج غرضیکہ مجاہدین ختم نبوت ان کے ناپاک مقاصدکو نیست و نابود کرتے رہے اورکرتے رہیں گئے (انشاءاللہ) زیر نظر کتاب" کامیاب مناظرہ"مجاہد ختم نبوت محمد خالد متین کا ایک قادیانی عالم سےفیصلہ کن مناظرے کو تحریری قالب میں ڈھالا گیا ہے جس کے نتیجہ سے وہ قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام کی آغوش میں آگیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا گوہیں کہ علماء اسلام کو اجر عظیم سے نوازے۔ آمین(عمیر)

  • 352 کتاب الملل والنحل ( طبع ثانی ) (جمعہ 04 جنوری 2013ء)

    مشاہدات:94268

    امام ابو الفتح محمد الشہرستیانی کی کتاب ’الملل و النحل‘ علمی دنیا میں ایک معتبر کتاب کے طور پر جانی جاتی ہے۔ اس بے مثال تصنیف نے مصنف کو شہرہ عام اور بقائے دوام بخشا۔ اس کی تحسین و تعریف میں علماو فضلا نے کبھی بخل سے کام نہیں لیا اور ہر دور میں اس کی اہمیت کا اعتراف کیا ہے۔ مصنف نے اس کتاب کے پانچ مقدمے لکھے ہیں اس کے بعد کتاب کا مواد تین ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں مسلمان فرقوں کا، دوسرے باب میں اہل کتاب اور تیسرے باب میں شبہ کتاب کے فرقوں کا قدرے تفصیلی تذکرہ کیا گیا ہے۔ پہلے باب میں ایمان، اسلام اور احسان کے مفہوم کی وضاحت کے بعد ان اختلاف کا ذکر کیا گیا ہے جو عقائد توحید، عدل، وعد وعید اور سمع  وو عقل میں مسلمان فرقوں کے مابین ہیں۔ دوسرے باب میں اہل کتاب کے عقائد، تحزب اور فرقہ بندیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کو دو گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ تیسرے باب میں ان مذاہب کا ذکر ہے جن کے پاس الہامی کتب موجود نہیں۔ مصنف کے خیال میں ان مذاہب کے انبیا پر جو الہامی کتابیں نازل کی گئی تھیں انھیں اٹھا لیا گیا اور اب دنیا میں ان کا وجود نہیں ہے۔ کتاب کا سلیس اردو ترجمہ پروفیسر علی محسن صدیقی نے کیا ہے۔ اس کتاب کا اردو زبان میں منتقل ہونا یقینا اردو دان طبقہ کے لیے باعث مسرت ہے۔ (ع۔م)
     

  • 353 کرسمس عیسائیت سے مسلمانوں تک (پیر 08 فروری 2016ء)

    مشاہدات:1665

    د ين اسلام ايك ايسا فطری اور عالمگیر مذہب ہے جس کے اصول وفرامین قیامت تک کے لوگوں کے لیے شمع ہدایت کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ جبکہ دیگر الہامی مذاہب تحریف کاشکار ہو کر ضلالت وگمراہی کے گڑھوں میں جا پڑے۔ مگر قرآن مجید واحد کتاب ہے جو تقریبا ساڑھے چودہ سو سال گزر جانے کےباوجود ہر طرح کی تحریف سے پاک ہے۔ کیونکہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری خو د اللہ تعالیٰ نے اٹھائی ہے۔ عیسائیت اور اسلام دونو ں الہامی مذاہب ہیں اور ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ عیسائی عقیدہ تثلیث کے قائل ہیں جبکہ اسلام اس کے بر عکس عقیدہ توحید اظہر من الشمس نظریے کا قائل ہے۔ عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ،حضرت مریمؑ، حضرت عیسیٰ ؑ کے حواریوں، راہبوں کی کھلم کھلا پرستش کی مگر اسلام اس کے برخلاف وحدانیت کا سبق دیتاہے۔ زیر نظر کتاب"کرسمس عیسائیت سے مسلمانوں تک"مولانا عبدالوارث ساجد کی ایک فکر انگیز تالیف ہے۔ موصوف نے کرسمس کی تاریخ، کرسمس ٹری، رسومات کرسمس، موجودہ عیسائیت کا بانی اور دیگر عیسائیت کے افکار و نظریات کا تقابلی جائزہ لیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ موصوف کی محنتوں کو شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین(عمیر)

  • 354 کشف الحقائق حصہ اول (منگل 04 فروری 2014ء)

    مشاہدات:15782

    ہمارے ہاں عمومی طور پر دیوبندی حضرات کے بارے میں یہ خیال عام ہے کہ وہ تقلید شخصی کے قائل تو ہیں لیکن شرکیہ امور سے دور ہیں اور پکے موحد ہیں،چنانچہ بریلوی حضرات کے مقابلے میں یہ اہل حدیث کے زیادہ قریب ہیں۔سچ  یہ ہے کہ فرقہ پرستی کے اس عہد میں افراد امت کو وحدت کی لڑی میں پرونے کی اشد ضرورت ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اتحاد و اتفاق کا اصل و اساس عقیدہ توحید ہی ہے۔اب اگر بے تعصبی سے دیوبندی لٹریچر کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ان کے ہاں بھی ایسی بے شمار چیزیں موجود ہیں ،جن کی وجہ سے بریلوی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شرکیہ امور کے مرتکب ہیں۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ایک بریلوی مصنف ارشد القادری صاحب نے ’زلزلہ‘نامی کتاب لکھ کر یہ ثابت کیا  ہے کہ دیوبندی بھی وہی عقاید رکھتے ہیں جو بریلویوں کے ہیں،لیکن اس کے باوجود وہ ہمیں مشرک کہتے ہیں اور خود کو موحد۔ایک مصنف دیوبندی عالم جناب عامر عثمانی نے بھی’زلزلہ‘کے مندرجات کی تائید کی ہے کہ واقعتاً دیوبندی حضرات بھی انہی خرابیوں کا شکار ہیں ۔زیر نظر کتاب میں بھی اسی نکتے پر بحث کی گئی ہے یہ ایک سابق دیوبندی مولانا محمد بشیر مظہر کی تصنیف ہے جس  میں ا نہوں نے معتبر حوالہ جات سے دکھایا ہے کہ دیوبندی حضرات کے ہاں بھی شرکیہ حکایات موجود ہیں۔انداز کہیں کہیں سخت ہے تاہم  بات درست ہے ،امید ہے دیوبندی دوست کھلے دل سے اس کا مطالعہ کریں گے اور حق بات واضح ہو جانے پر اصلاح احوال کی سعی کریں گے۔(ط۔ا)

  • 355 کشف الحقائق حصہ اول (منگل 04 فروری 2014ء)

    مشاہدات:15782

    ہمارے ہاں عمومی طور پر دیوبندی حضرات کے بارے میں یہ خیال عام ہے کہ وہ تقلید شخصی کے قائل تو ہیں لیکن شرکیہ امور سے دور ہیں اور پکے موحد ہیں،چنانچہ بریلوی حضرات کے مقابلے میں یہ اہل حدیث کے زیادہ قریب ہیں۔سچ  یہ ہے کہ فرقہ پرستی کے اس عہد میں افراد امت کو وحدت کی لڑی میں پرونے کی اشد ضرورت ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اتحاد و اتفاق کا اصل و اساس عقیدہ توحید ہی ہے۔اب اگر بے تعصبی سے دیوبندی لٹریچر کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ان کے ہاں بھی ایسی بے شمار چیزیں موجود ہیں ،جن کی وجہ سے بریلوی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شرکیہ امور کے مرتکب ہیں۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ایک بریلوی مصنف ارشد القادری صاحب نے ’زلزلہ‘نامی کتاب لکھ کر یہ ثابت کیا  ہے کہ دیوبندی بھی وہی عقاید رکھتے ہیں جو بریلویوں کے ہیں،لیکن اس کے باوجود وہ ہمیں مشرک کہتے ہیں اور خود کو موحد۔ایک مصنف دیوبندی عالم جناب عامر عثمانی نے بھی’زلزلہ‘کے مندرجات کی تائید کی ہے کہ واقعتاً دیوبندی حضرات بھی انہی خرابیوں کا شکار ہیں ۔زیر نظر کتاب میں بھی اسی نکتے پر بحث کی گئی ہے یہ ایک سابق دیوبندی مولانا محمد بشیر مظہر کی تصنیف ہے جس  میں ا نہوں نے معتبر حوالہ جات سے دکھایا ہے کہ دیوبندی حضرات کے ہاں بھی شرکیہ حکایات موجود ہیں۔انداز کہیں کہیں سخت ہے تاہم  بات درست ہے ،امید ہے دیوبندی دوست کھلے دل سے اس کا مطالعہ کریں گے اور حق بات واضح ہو جانے پر اصلاح احوال کی سعی کریں گے۔(ط۔ا)

  • 356 کلام الرحمن بائبل یا قرآن (جمعہ 17 نومبر 2017ء)

    مشاہدات:652

    اللہ رب العزت ہمارے خالقِ حقیقی ہیں اور لوگوں کی رہنمائی کے لیے اللہ رب العزت نے بے شمار انبیاء اور صحائف نازل فرمائے۔ الہامی کتب میں سے چار مشہور کتب ہیں‘ توراۃ جو کہ حضرت موسیٰؑ پرآرامی زبان میں نازل ہوئی‘ زبورجو کہ حضرت داؤدؑ پر عبرانی زبان میں نازل ہوئی‘ انجیل جو کہ حضرت عیسیٰؑ پر سریانی زبان میں نازل ہوئی اور قرآن مجید جو کہ اللہ کے آخری پیغمبر حضرت محمدﷺ پرعربی زبان میں نازل ہوا۔ آج دنیا میں پہلی تین کتب اپنی اصل حالت میں موجود نہیں ہیں یعنی تحریف کا شکار ہیں‘صرف قرآن پاک ہی ایسی واحد آسمانی کتاب ہے جو کہ محفوظ ہے‘ اس لیے زیر تبصرہ کتاب کے مصنف کے ذہن میں چند سوال ہیں کہ اللہ رب العزت کا کلام بائبل ہے یا قرآن مجید؟ کیا بائبل اصل حالت میں ہے؟ اسے لکھنے والا کون تھا؟کس زمانے میں لکھی گئی؟اس بائبل کا متن خود گواہی دیتا ہے کہ وہ تحریف شدہ ہے؟۔اور اس کتاب میں ان اہل علم مستشرقین کے لیے مشعل راہ ہے جو حق کے متلاشی ہیں کیونکہ اس میں حضرت عیسیٰؑ کے مصلوب کیے جانے‘ انہیں خدا کا بیٹا ماننے‘ان کے دوبارہ اس دنیا میں تشریف لانے اور اس نوع کے دوسرے مسائل کو جو عیسائیوں ‘ یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان نہایت حساس بھی ہیں اور متنازعہ بھی‘جس کے صاحب کتاب نے مدلل جواب دیئے ہیں اور مصنف نے اکثر حوالے تورات‘ انجیل اور قرآن مجید سے ہیں دیے ہیں۔اور اس کتاب کو مصنف نے مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کی شہرہ آفاق کتاب’’تفہیم القرآن‘‘کی روشنی میں مرتب کیا ہے۔مصنف نے اس کتاب میں سولہ ابو...

  • 357 کلیسا میں اذان (پیر 18 فروری 2019ء)

    مشاہدات:618

    اللہ تعالی نے  مختلف قوموں کی ہدایت کے لیے  ان کے  درمیان اپنے پیغمبر بھیجے  تو ان پر اپنی کتابیں بھی نازل کیں یہ کتابیں پیغمبروں کے  بعدبھی  ان  قوموں کے لیے  ہدایت  کاذریعہ رہی  ہیں اور ان سے وہ اپنی زندگی کے مختلف معاملات میں رہنمائی  حاصل کرتے ر ہے  ہیں ۔مسلمان تمام نبیوں اور آسمانی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں۔لیکن ان کا عقیدہ ہے کہ عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید دونوں کے نسخے تبدیل ہو چکے ہیں اور ان کے ماننے والوں نے اپنی ذاتی اغراض کے لئے ان کے متن میں تحریف کر دی ہے۔اس کے برعکس قرآن مجید ساڑھے چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود ہر طرح کی تحریف وتصحیف سے محفوظ ہے۔کیونکہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود ذات باری تعالی نے اٹھائی ہوئی ہے۔ زیر نظر کتاب’’ کلیسا میں  اذان‘‘  محترمہ ڈاکٹر جویریہ شجاع صاحبہ کی کاوش ہے   مصنفہ نےاس کتاب میں   حضرت موسی﷤،  حضرت عیسیٰ﷤  اور دیگر پیغمبروں کےاصل پیغام کوواضح کرنے کی کوشش کی ہے اور   نبی آخر الزماں  حضرت  محمد ﷺ  کے بارے  دیگر الہامی کتابوں میں موجود پیشن گوئیاں بھی کتاب میں شامل کی  ہیں۔ جو لوگ عیسائی اور یہودی معاشروں میں رہتے ہوئے  اسلام کی دعوت دینا چاہتے ہیں ان کے لیے یہ کتاب   بڑی اہم اور مفید ہے ۔(م۔ا) 

  • 358 کنفیوشس ، زرتشت اور اسلام (جمعرات 30 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:3257

    اس وقت دنیا میں بے شمار آسمانی و غیر آسمانی مذاہب پائے جاتے ہیں،جن کی اپنی اپنی تہذیب وثقافت اور زندگی گزارنے کی لئے تعلیمات ہیں۔لیکن اسلامی تعلیمات ان تمام مذاہب  کی تعلیمات سے زیادہ معتدل ،روشن اور عدل وانصاف کے تقاضوں  پر پورا اترنے والی ہیں۔بنیادی طور پر مذاہب کی دو قسمیں ہیں۔1۔سامی مذاہب،2۔غیر سامی مذاہب۔سامی مذاہب میں یہودیت ،عیسائیت اور اسلام داخل ہیں،جبکہ غیر سامی مذاہب  میں ہندو مت،بدھ مت ،جین مت زرتشت ،کنفیوشس اور سکھ شامل ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " کنفیوشس،زرتشت اور اسلام" عالمی شہرت یافتہ ،عظیم اسلامی سکالر  ،مبلغ،داعی،  مذاہب عالم کےمحقق ،تقابل ادیان کے مناظراور عیسائی پادریوں کی زبانیں بند کردینے والے عظیم مجاہدشیخ احمد دیدات﷫  کی انگریزی کتاب کا اردو ترجمہ ہے۔ترجمہ کرنے کی سعادت محترم مصباح اکرم صاحب نے حاصل کی ہے۔آپ  کا پیدائشی نام احمد حسین دیدات ﷫تھا۔ آپ کی  تقاریر کے اہم موضوعات، انجیل، نصرانیت، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، انجیل میں محمد ﷺ کا ذکر ، کیا آج کی اناجیل کلام اللہ ہیں وغیرہ وغیرہ ہوتے تھے۔ مولف ﷫نے اپنی تقاریر اور مناظروں کے ذریعے  عیسائیت کے رد  میں عظیم الشان خدمات انجام دیں،جو رہتی دنیا تک ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔آپ نے اس کتاب میں  مذاہب عالم میں سے ان  دو مذاہب (کنفیوشس،زرتشت)اور اسلام کا پہلے تفصیلی تعارف کروایا ہے ،اور ہر مذہب  کا پس منظر ،تعارف،بانی ،کتاب،عقائد،اہم ترین معلومات اور حقائق بیان کئے ہیں اور سب سے آخر میں ان دونوں مذاہب کا اسلام کے سات...

  • 359 کیا علماء دیوبند اہل سنت ہیں (بدھ 22 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:1567

    1857ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد مسلمانان ہند کے سیاسی اور معاشی زوال کے ساتھ ساتھ ان کے اخلاق ، ثقافت ، مذہب اور معاشرت پر بھی دوررس نتائج کے حامل برے اثرات مرتب ہو رہے تھے۔ مسلمانوں کا ملی تشخص خطرے میں پڑ گیا تھا اگر ایک طرف سقوط دہلی کے بعد مدرسہ رحیمیہ کے دروازے بند کر دئیے گئے تھے تو دوسری طرف ان کو ان کے مذہب سے بیزار کرنے کے لیے مذموم کوششوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا تھا۔ ان حالات میں ضروری تھا کہ مسلمانوں کو اسلامی احکامات سے باخبررکھا جائے اور ان میں جذبہ جہاد اور جذبہ شہادت کی تجدید کا عمل بلا تاخیر شروع کیا جائے تاکہ سپین اور خلافت عثمانیہ کے مسلمانوں کی طرح ان کا شیرازہ ملت کہیں بکھر نہ جائے مذکورہ مقاصد کے حصول کے لیے حضرت شاہ ولی اللہ کی تعلیمات اور تحریک سے متأثر کچھ علماء نے برطانوی ہند میں دینی مراکز قائم کرنے کی ضرورت شدت سے محسوس کی۔ اسی ضرورت کے پیش نظر یو۔ پی کے ضلع سہارنپور کے ایک قصبے نانوتہ کے مولانا قاسم نانوتوی نے 30 مئی 1866ء بمطابق 15 محرم الحرام 1283ھ کو دیوبند کی ایک چھوٹی سی مسجد (مسجد چھتہ) میں مدرسۃ دیوبند کی بنیاد رکھی۔ بعد میں   دار العلوم دیوبند کے نام سے اسے عالمگیر شہرت حاصل ہوئی اور جہاں سے بڑے بڑے نامور علماء   کرام نے تعلیم حاصل کر کے سند فراغت حاصل کی۔ اسی مناسبت سے آج مسلک احناف میں سے ایک فرقہ دیوبندی کہلاتا ہے۔ علمائے دیوبند عملاً مسلک امام ابوحنیفہ کے پیروکار ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں انگریز کے دور استبداد میں حنفیہ کی مسند تدریس کو منور رکھنا علمائے دیوبند کا کارنامہ ہے۔ زیر تبصرہ...

  • 360 گوتم بدھ راج محل سے جنگل تک (جمعرات 05 ستمبر 2013ء)

    مشاہدات:7372

    بدھ مت دنیا کے قدیم ترین مذاہب میں سے ایک ہے جو عیسوی صدی سے کئی سال بیشتر اس وجہ سے معرض وجود میں آیا تھا کہ ہندومت کی ظالمانہ رسومات ختم کی جائیں ۔ اور معاشرے کے اندر انصاف پر مبنی شفاف ترین تعلیمات کا بول بالا کیا جائے ۔ یہ دنیا کے معرف ترین مذاہب میں سے ایک ہے اس دنیا میں اس کے پیروکاروں کی تعداد لاکھوں میں ہے ۔ یہ مذہب  بنیادی طور پر ترک دنیا کی تعلیم دیتا ہے ۔ اس مذہب کے بانی گوتم بدھ بھی پہلے ایک شہزادہ تھے تصوف و رہبانیت اور مادی آلائشوں سے طبعی نفرت رکھتے تھے ۔ ایک روز غم ، دکھ اور تکلیف کی مختلف تین حالتیں دکھیں جس کی وجہ سے دل برداشتہ ہو کر جنگلات کا رخ کیا ۔ اور وہاں گیان دھیان میں مصر ف ہوگئے ۔  عرصہ دراز کی ریاضت کے بعد انکشاف حقیقت کے مدعی ہو گئے ۔ اور پھر الگ طور پر ایک مذہب کی  بنیاد رکھی ۔ چناچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ بدھ مت ایک غیر سماوی اور خود ساختہ مذہب ہے یہ  زندگی کے بنیادی سوالات کے خلا کو جاہلانہ تصورات سے پر کرتا ہے ۔ ظاہر بات ہے جو مذہب سماوی نہیں وہ حقیقت بھی نہیں ہو سکتا بلکہ سماوی دین میں بھی اگر تحریف ہو جائے تو وہ غیرحقیقی بن جاتا ہے چہ جائیکہ ایک دین ہو ہی غیر سماوی ۔ (ع۔ح)
     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1154
  • اس ہفتے کے قارئین: 5754
  • اس ماہ کے قارئین: 37718
  • کل مشاہدات: 45389874

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں