دکھائیں کتب
  • 291 محمدیہ پاکٹ بک بجواب احمدیہ پاکٹ بک (بدھ 13 مئی 2009ء)

    مشاہدات:11424

    قادیانیت کی تردید اور مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کے گھروندے کو مسمار کرنے کے لئے خارج سے کسی دلیل کی قطعاً ضرورت نہیں۔ اس کے لئے تو مرزا قادیانی کی متضاد تحریریں ہی کافی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب بھی اس بات کی شاہد عدل ہے۔ قادیانیت جیسے غلیظ مذہب کو درست ثابت کرنے کیلئے ایک کتاب بنام "احمدیہ پاکٹ بک"  لکھی گئی ہےجو کہ اب انٹرنیٹ پر بھی عام دستیاب ہے۔ اور مرزائی حضرات اس کتاب کی تصنیف پر پھولے نہیں سماتے کہ اس کا جواب تو گویا ہو ہی نہیں سکتا۔ زیر تبصرہ کتاب اسی کتاب کے بھرپور اور شافی جواب پر مشتمل ہے۔ جس میں قادیانیت سے متعلقہ کم و بیش تمام مباحث شامل ہیں۔ اور احمدیہ پاکٹ بک کے تمام تر اعتراضات، تاویلات اور شبہات و تحریفات کا خود مرزا قادیانی کی تحریروں سے ایسا رد کیا گیا ہے کہ قاری مصنف کی محنت کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ رد قادیانیت کے میدان میں یہ کتاب واقعی ایک لاجواب کتاب ہے۔

     

  • 292 مختصر اظہار الحق (پیر 07 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:2448

    مولانا رحمت اللہ کیرانوی﷫ اسلام اور اہل سنت کے بڑے پاسبانوں میں سے تھے۔ آپ علماء دیوبند مولانا قاسم نانوتوی و‌مولانا رشید احمد گنگوہی وغیرہم کے حلقۂ فکر کے ایک فرد تھے۔ جس زمانے میں ہزاروں یورپی مشنری، انگریز کی پشت پناہی میں ہندوستان کے مسلمانوں کو عیسائی بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے، مولانا کیرانوی اور ان کے ساتھی مناظروں، تقریروں اور تحریرکے ذریعے اسلامی عقائد کے دفاع میں مصروف تھے۔ ١٨٥٤‌ء یعنی جنگ آزادی سے تین سال قبل مولانا رحمت اللہ کیرانوی نے آگرہ میں پیش آنے والے ایک معرکہ کے مناظرہ میں عیسائیت کے مشہور مبلغ پادری فنڈر کو شکست دی۔جنگ آزادی ١٨٥٧‌ء میں مولانا کیرانوی حاجی امداد اللہ (مہاجر مکی) رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں انگریز کے ساتھ قصبہ تھانہ بھون میں انگریز کے خلاف جہاد میں شامل ہوئے اور شاملی کے بڑے معرکہ میں بھی شریک ہوئے جس میں دیگر کئی لوگوں کے علاوہ ان کے ساتھی حافظ محمد ضامن شہیدہوئے اور مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ زخمی ہوئےانگریز کی فتح کے بعد مولانا کیرانوی دیگر مجاہدین کی طرح ہجرت کرکے حجاز چلے گئے۔ یہاں موصوف نے پادری فنڈر کی کتاب میزان الحق کا جواب اظہار الحق کے نام سے تحریر فرمایا۔ حجاز سے سلطان ترکی کے بلانے پر قسطنطنیہ (حالیہ استنبول) گئے اور وہاں عیسائیوں سے مناظرےکئے، وہاں سے اظہار الحق شائع بھی ہوئی۔ زیر نظر کتاب ’’مختصر اظہار الحق‘‘ علامہ رحمت اللہ بن خلیل الرحمن کیرانوی ہندی کی عیسائیت کے رد میں لکھی گئی مایہ ناز تالیف " اظہارالحق " کا جامع اختصارہے۔ اس کتاب...

  • 293 مختصر تاریخ اہل حدیث (جمعہ 17 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:4244

    اہل  حدیث مروجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں  ہےاورنہ ہی  فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے ۔ اہل  حدیث ایک جماعت  او رایک تحریک  کا نام ہے۔  جس کا بنیادی موقف زندگی  کےہر شعبے  میں قرآن  وحدیث کے مطابق عمل  کرنا  او ردوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے  کی ترغیب دلانا  ،یا یو ں کہہ لیجیئے کہ اہل حدیث کانصب العین کتاب وسنت کی  دعوت او ر اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے زیر نظر کتابچے  میں  مولانا  حافظ جلال الدین  قاسمی  فاضل  دار العلوم دیو بند﷾ نے     لفظ اہل حدیث  کا معنی بیان کرتے ہوئے   مختصراً تاریخ  اہل  حدیث کو دلائل  کے ساتھ  بڑےاحسن  انداز میں بیان کیا  ہے او ر یہ ثابت کیا ہے کہ اہل سنت سے مراد اہل حدیث ہی ہیں  ۔(م۔ا)
     

  • مذاہب باطلہ کے پیروکار اس بات کوتسلیم کرتے ہیں  کہ مذہب حق اسلام  ہےلیکن  اس کے باوجود وہ اس کو ماننے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔غیر مسلم مصنفین نے ہمیشہ حقائق کو توڑ مروڑ کر اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔مستشرقین نے جب اسلام کو اپنی تحقیقات کا نشانہ بنایا تو انہوں نے  مستند تاریخی حقائق، بخاری ومسلم ودیگر کتب صحاح کی صحیح روایات کو نظر انداز کر کے غیر مستند اور وضعی روایات کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔ ہر دو ر میں محدثین اور ائمہ عظام نے  مذاہب باطلہ کا خوب  رد ّکیا ہے ۔مذاہب باطلہ کےردّ میں  علمائے برصغیر کی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں ۔ زیر نظر  مقالہ بعنوان’’ مذاہب باطلہ کےردّ میں مؤلفین تفسیر ثنائی وحقانی کی کاوشیں ‘‘ پروفیسر ڈاکٹر  حافظ اسرائیل فاروقی (سابقہ چیئر مین شعبہ علوم اسلامیہ،یو ای  ٹی) کا وہ تحقیقی مقالہ  ہے   جسے انہوں نے  2003ء میں پنجاب یونیورسٹی شعبہ علوم اسلامیہ میں   پیش کر کے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ مقالہ نگار نے  اپنے اس تحقیقی مقالہ  کو چھ ابواب میں تقسیم کر کے  تفسیر ثنائی وحقانی کے   تمام دلائل جو مذاہب  باطلہ کےردّ میں  ہیں  انہیں مرتب صورت میں یکجا کردیا ہے  اور اس  میں  یہودیت کاتعارف بھی شامل کردیا ہے ۔(م۔ا)

  • 295 مذاہب عالم ( احمد عبد اللہ ) (جمعہ 11 جنوری 2019ء)

    مشاہدات:1381

    جب ہم مذاہب کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں۔ تو ہم پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے ۔ کہ جب سے یہ کائنات وجود میں آئی ہے ۔تب سے انسان اور مذہب ساتھ ساتھ چلتے آئے ہیں ۔ابتدا میں تمام انسانوں کا مذہب ایک تھامگر جوں جوں انسانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا لوگ مذہب سے دور ہونے لگے پھر خالق کائنات نے مختلف ادوار میں انسانوں کی راہنمائی کے لیے پیغمبر بھیجے لیکن پیغمبروں کے اس دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد ان کے ماننے والوں نے ان کے پیغام پر عمل کرنے کی بجائے خود سے نئے دین اور مذاہب اختیار کر لیے اس طرح مذاہب کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا او ر اس وقت دنیا میں کئی مذاہب پیدا ہو چکے ہیں جن میں سے مشہور مذاہب ،اسلام،عیسائیت،یہودیت،ہندو ازم،زرتشت،بدھ ازم ،سکھ ازم ہیں۔اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ بنی نوع انسان ہر دور میں کسی نہ کسی مذہب کی پیروی کرتے رہے ہیں۔ لیکن ان تمام مذاہب کی تعلیمات میں کسی نہ کسی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے ۔جیسا کہ دنیا کے تمام مذاہب کسی نہ کسی درجے میں قتل، چوری ،زنااور لڑائی جھگڑے کو سختی سے ممنوع قرار دیتے ہیں اور تمام قسم کی اچھائیوں کو اپنانے کی تلقین کرتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ مذاہب عالم ‘‘ احمد عبد اللہ کی تصنیف ہے  فاضل مصنف نے  اس کتاب میں  مذہب کی حقیقت اور مذہبی تصورات کے ارتقاء  کو پیش کر نے کے بعد   دنیا میں پائے جانے  مشہور  مذاہب(اسلام ،  بدھ مت،ٹاؤمت ،سکھ مت ، شنٹومذہب، عیسائیت  ، کنفیوشی مت، ہندو مت، یہودی مذہب)  کا تعارف پیش کیا  ہے ۔(م۔ا)

  • 296 مذاہب عالم کا انسائیکلوپیڈیا (بدھ 22 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:5174

    جب ہم مذاہب کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں۔ تو ہم پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے ۔ کہ جب سے یہ کائنات وجود میں آئیہے ۔تب سے انسان اور مذہب ساتھ ساتھ چلاتے آئے ہیں ۔ابتدا میں تمام انسانوں کا مذہب ایک تھامگر جوں جوں انسانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا لوگ مذہب سے دور ہونے لگے پھر خالق کائنات نے مختلف ادوار میں انسانوں کی راہنمائی کے لیے پیغمبر بھیجے لیکن پیغمبروں کے اس دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد ان کے ماننے والوں نے ان کے پیغام پر عمل کرنے کی بجائے خود سے نئے دین اور مذاہب اختیار کر لیے اس طرح مذاہب کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا او ر اس وقت دنیا میں کئی مذاہب پیدا ہو چکے ہیں جن میں سے مشہور مذاہب ،اسلام،عیسائیت،یہودیت،ہندو ازم،زرتشت،بدھ ازم ،سکھ ازم شامل ہیں۔اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ بنی نوع انسان ہر دور میں کسی نہ کسی مذہب کی پیروی کرتے رہے ہیں۔ لیکن ان تمام مذاہب کی تعلیمات میں کسی نہ کسی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے ۔جیسا کہ دنیا کے تمام مذاہب کسی نہ کسی درجے میں قتل، چوری ،زنااور لڑائی جھگڑے کو سختی سے ممنوع قرار دیتے ہیں اور تمام قسم کی اچھائیوں کو اپنانے کی تلقین کرتے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب"مذاہب عالم  کا انسائیکلوپیڈیا"  لیوس مورکی تصنیف ہے اور اس کا اردو ترجمہ یاسر جواد اور سعدیہ جواد نے کیا ہے۔اس کتاب میں انہوں نے مذاہب عالم کا مختصر تعارف اور ان کی تہذیب وثقافت پر روشنی ڈالی ہے۔اس کتاب کے کل 13 تیرہ باب ہیں، اور ہر باب ایک  بڑے بڑے مذہب اور پھر اس سے متعلق چھوٹے چھوٹے  مذاہب کے تعارف پر مبنی ہے۔مذاہب عالم کے تعارف کے حوالے...

  • 297 مذاہب عالم کا انسائیکلوپیڈیا (بدھ 22 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:5174

    جب ہم مذاہب کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں۔ تو ہم پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے ۔ کہ جب سے یہ کائنات وجود میں آئیہے ۔تب سے انسان اور مذہب ساتھ ساتھ چلاتے آئے ہیں ۔ابتدا میں تمام انسانوں کا مذہب ایک تھامگر جوں جوں انسانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا لوگ مذہب سے دور ہونے لگے پھر خالق کائنات نے مختلف ادوار میں انسانوں کی راہنمائی کے لیے پیغمبر بھیجے لیکن پیغمبروں کے اس دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد ان کے ماننے والوں نے ان کے پیغام پر عمل کرنے کی بجائے خود سے نئے دین اور مذاہب اختیار کر لیے اس طرح مذاہب کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا او ر اس وقت دنیا میں کئی مذاہب پیدا ہو چکے ہیں جن میں سے مشہور مذاہب ،اسلام،عیسائیت،یہودیت،ہندو ازم،زرتشت،بدھ ازم ،سکھ ازم شامل ہیں۔اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ بنی نوع انسان ہر دور میں کسی نہ کسی مذہب کی پیروی کرتے رہے ہیں۔ لیکن ان تمام مذاہب کی تعلیمات میں کسی نہ کسی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے ۔جیسا کہ دنیا کے تمام مذاہب کسی نہ کسی درجے میں قتل، چوری ،زنااور لڑائی جھگڑے کو سختی سے ممنوع قرار دیتے ہیں اور تمام قسم کی اچھائیوں کو اپنانے کی تلقین کرتے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب"مذاہب عالم  کا انسائیکلوپیڈیا"  لیوس مورکی تصنیف ہے اور اس کا اردو ترجمہ یاسر جواد اور سعدیہ جواد نے کیا ہے۔اس کتاب میں انہوں نے مذاہب عالم کا مختصر تعارف اور ان کی تہذیب وثقافت پر روشنی ڈالی ہے۔اس کتاب کے کل 13 تیرہ باب ہیں، اور ہر باب ایک  بڑے بڑے مذہب اور پھر اس سے متعلق چھوٹے چھوٹے  مذاہب کے تعارف پر مبنی ہے۔مذاہب عالم کے تعارف کے حوالے...

  • 298 مذاہب عالم کا تقابلی مطالعہ (اتوار 20 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:5892

    جب ہم مذاہب کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں۔ تو ہم پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے ۔ کہ جب سے یہ کائنات وجود میں آئی ہے ۔تب سے انسان اور مذہب ساتھ ساتھ چلاتے آئے ہیں ۔ابتدا میں تمام انسانوں کا مذہب ایک تھامگر جوں جوں انسانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا لوگ مذہب سے دور ہونے لگے پھر خالق کائنات نے مختلف ادوار میں انسانوں کی راہنمائی کے لیے پیغمبر بھیجے لیکن پیغمبروں کے اس دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد ان کے ماننے والوں نے ان کے پیغام پر عمل کرنے کی بجائے خود سے نئے دین اور مذاہب اختیار کر لیے اس طرح مذاہب کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا او ر اس وقت دنیا میں کئی مذاہب پیدا ہو چکے ہیں جن میں سے مشہور مذاہب ،اسلام،عیسائیت،یہودیت،ہندو ازم،زرتشت،بدھ ازم ،سکھ ازم شامل ہیں۔اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ بنی نوع انسان ہر دور میں کسی نہ کسی مذہب کی پیروی کرتے رہے ہیں۔ لیکن ان تمام مذاہب کی تعلیمات میں کسی نہ کسی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے ۔جیسا کہ دنیا کے تمام مذاہب کسی نہ کسی درجے میں قتل، چوری ،زنااور لڑائی جھگڑے کو سختی سے ممنوع قرار دیتے ہیں اور تمام قسم کی اچھائیوں کو اپنانے کی تلقین کرتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"مذاہب عالم کا تقابلی  مطالعہ "محترم پروفیسر چودھری غلام رسول چیمہ صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے دنیا میں پائے جانے والے بے شمار مذاہب کے اصول وضوابط  اور ان کی تہذیب وثقافت کو بیان کرتے ہوئے ان کا تقابلی جائزہ پیش کیا ہے۔مذاہب عالم کے تعارف اور ان کے باہمی تقابل کے حوالے سے یہ ایک مفید اور شاندار کتاب ہے،جو اپنے موضوع پر انتہائی مکمل ہے۔(راسخ) تقابل ادیان 

  • 299 مذہب اور جدید چیلنج (پیر 06 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:3787

    تاریخ انسانی میں جس طرح موت کا مسئلہ ہمیشہ یقینی اور حتمی رہا ہے، اسی طرح یہ بات بھی ہمیشہ غیر متنازع رہی ہے کہ اس کائنات کا خالق کوئی نہ کوئی ہے، اور آنکھ بند کرکے یہ بھی سب کہتے ہیں کہ وہ ازل سے ہے اور ابد تک ہے۔ہمیشہ سے ہمیشہ تک اس کا وجود قائم رہے گا۔خالق کائنات کے وجود پر یقین کے بعد عقل انسانی کا اس میں اختلاف ہو گیا، کہ وہ خالق ہے کون؟ اور پھر وہ ایک ہے دوہے یا چند؟ ان مباحث سے قطع نظر ہم تھوڑی دیر اس متفق علیہ مسئلہ پر غور کرلیں کہ خدا موجود ہے اور خدا کا وجود یقینی اور حتمی ہے تو اس کے وجود کے ساتھ ہمارے فرائض کیا ہیں اور خالق کو مانتے ہوئے ہمارے اوپر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں؟خدا کے وجود کو ماننے کو بعد جو سب سے پہلا احساس ہمارے اندر پیدا ہوتا ہے وہ اپنے مخلوق ہونے کا احساس ہے۔ یہ احساس سب سے پہلے ہمارے کبر ونخوت کے بت کو توڑتا ہے، اکڑنے کے بجائے جھکنے کا درس دیتا ہے۔ یہ احساس ہمیں بتاتا ہے کہ ہم اس جہاں میں خود سے نہیں آئے کسی نے بھیجا، کسی نے چاہا تب ہم آئے۔ جب ہم عقل کے سہارے یہاں تک پہنچتے ہیں تو ہماری روح ہم سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ ہم اپنے خالق کو مانیں، پھر جانیں اور پھر پہچانیں۔ اگر انسان فکر کی اس منزل تک پہنچ جاتا ہے تو فوراً اس کا وجدان بول اٹھے گا کہ اس کی زندگی، طرز زندگی اور شعور زندگی کے حوالے سے اس کے خالق کی مرضی کیا ہے اسے جانے، اس کے بعد اس کی زندگی کا صحیح ڈھنگ وہ ہوگا جو اس کے خالق کی مرضی ہوگی، انسان تخلیقی طور پر ہر قدم پر دو اختیار رکھتا ہے کہ قدم کو آگے بڑھائے یا پیچھے ہٹائے، اس کی عقل بڑی حد تک اس کی رہنمائی کر...

  • 300 مذہب اور جدید چیلنج (پیر 06 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:3787

    تاریخ انسانی میں جس طرح موت کا مسئلہ ہمیشہ یقینی اور حتمی رہا ہے، اسی طرح یہ بات بھی ہمیشہ غیر متنازع رہی ہے کہ اس کائنات کا خالق کوئی نہ کوئی ہے، اور آنکھ بند کرکے یہ بھی سب کہتے ہیں کہ وہ ازل سے ہے اور ابد تک ہے۔ہمیشہ سے ہمیشہ تک اس کا وجود قائم رہے گا۔خالق کائنات کے وجود پر یقین کے بعد عقل انسانی کا اس میں اختلاف ہو گیا، کہ وہ خالق ہے کون؟ اور پھر وہ ایک ہے دوہے یا چند؟ ان مباحث سے قطع نظر ہم تھوڑی دیر اس متفق علیہ مسئلہ پر غور کرلیں کہ خدا موجود ہے اور خدا کا وجود یقینی اور حتمی ہے تو اس کے وجود کے ساتھ ہمارے فرائض کیا ہیں اور خالق کو مانتے ہوئے ہمارے اوپر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں؟خدا کے وجود کو ماننے کو بعد جو سب سے پہلا احساس ہمارے اندر پیدا ہوتا ہے وہ اپنے مخلوق ہونے کا احساس ہے۔ یہ احساس سب سے پہلے ہمارے کبر ونخوت کے بت کو توڑتا ہے، اکڑنے کے بجائے جھکنے کا درس دیتا ہے۔ یہ احساس ہمیں بتاتا ہے کہ ہم اس جہاں میں خود سے نہیں آئے کسی نے بھیجا، کسی نے چاہا تب ہم آئے۔ جب ہم عقل کے سہارے یہاں تک پہنچتے ہیں تو ہماری روح ہم سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ ہم اپنے خالق کو مانیں، پھر جانیں اور پھر پہچانیں۔ اگر انسان فکر کی اس منزل تک پہنچ جاتا ہے تو فوراً اس کا وجدان بول اٹھے گا کہ اس کی زندگی، طرز زندگی اور شعور زندگی کے حوالے سے اس کے خالق کی مرضی کیا ہے اسے جانے، اس کے بعد اس کی زندگی کا صحیح ڈھنگ وہ ہوگا جو اس کے خالق کی مرضی ہوگی، انسان تخلیقی طور پر ہر قدم پر دو اختیار رکھتا ہے کہ قدم کو آگے بڑھائے یا پیچھے ہٹائے، اس کی عقل بڑی حد تک اس کی رہنمائی کر...

  • ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 1430
    • اس ہفتے کے قارئین: 3100
    • اس ماہ کے قارئین: 43235
    • کل قارئین : 46032428

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں