کل کتب 391

دکھائیں
کتب
  • 291 #2455

    مصنف : سید محمد تقی

    مشاہدات : 1691

    قرآن پاک پر چند شبہات کا ازالہ

    (جمعرات 25 ستمبر 2014ء) ناشر : سید محمد تقی فاطمی لاہور کینٹ

    قرآن مجید اللہ تعالی کی وہ آخری کتاب ہے،جسےاس نے اپنے آخری پیغمبر جناب محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل فرمایا ہے۔ یہ کتاب قیامت تک آنے والے لوگوں کےلئے ذریعۂ ہدایت و رُشد اور راہ نجات ہے۔ یہ کتاب ایک ایسی گائیڈ بک ہے ،جو کسی بھی انسان کے لئے ہرقسم کے حالات وواقعات میں شاندار اور کامیاب رہنمائی کرتی ہے۔ یہ کتاب آسمانی وزمینی علوم کا احاطہ کرنے والی ہے۔ یہ دنیا کی وہ تنہا معجزاتی کتاب ہے، جسے بار بار پڑھنے سے بوریت اوراکتاہٹ کی جھلک بھی محسوس نہیں ہوتی اور ہر بار پڑھتے وقت اس کلام کی گہرائی کا ادراک ہوکر نئی معلومات انسان کے ذہن کو ملتی ہے۔اس کتاب کی حقانیت کے لئےصرف ایک ہی دلیل کافی ہے کہ اس کتاب میں جو کچھ  لکھا ہے، آج تک اس میں سے ایک حرف کی معلومات کو کوئی غلط ثابت نہیں کرسکا اور نہ ہی کبھی کرسکے گا۔ یہ اس کتاب کاکھلم کھلا چیلنج ہے۔اسی طرح اس کتاب کو مضبوطی سے تھام کرچلنے والا انسان کبھی ناکام ونامراد نہیں ہوا ہے اورنہ ہی کبھی ہوگا۔ اس کتاب میں کوئی تحریف وتبدیلی نہیں کرسکتا،جیسا کہ سابقہ کتب (تورات اورانجیل وغیرہ) میں ہوا ہے، کیونکہ اس کتاب کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ رب العالمین نے اٹھارکھی ہے۔[الحجر:۹] لیکن  مستشرقین اور دشمنان اسلام  کی جانب سے ہر دور میں اس کی حقانیت  پر اعتراضات اور شبہات کئے جاتے رہے ہیں،اور علماء اسلام ان کا کما حقہ جواب دیتے رہے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب"قرآن پاک پرچند شبہات کا ازالہ"محترم سید محمد تقی فاطمی کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے قرآن مجید  کی غیب سے متعلق پانچ معروف  باتوں (کہ ان پانچ چیزوں یعنی قیامت ،بارش ،رحم مادر میں جنین،کل کیا کمائے گا اور موت  کا علم صرف  اللہ تعالی کو ہی ہے)پر  کئے گئے اعتراضات کا تسلی بخش جواب دیا ہے۔ اللہ تعالی اس حوالے سے سر انجام دی گئی ان کی ان خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 292 #3292

    مصنف : محمد ارشد آزاد

    مشاہدات : 1354

    لا تفرقوا

    (ہفتہ 06 جون 2015ء) ناشر : تحریک اتحاد عالم اسلامی، خانیوال

    آج جب ہم اعدائے دین کی طرف دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی صفوں میں ہزارہا اختلافات کے باوجود مکمل ہم آہنگی ،وحدت اور یکجہتی پائی جاتی ہے۔اور جب ہم اپنی طرف دیکھتے ہیں تو ایک خدا ،ایک نبی،ایک قرآن اور ایک کعبہ کے ماننے والے انتشار وخلفشار میں مبتلاء،تفرقہ بازی،دھڑے بندی اور افتراق وتشتت کے ہاتھوں قعر مذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں سسکتے نطر آتے ہیں۔وہ دین جو سراپا اتحاد واتفاق ہے ،اہل ہوس نے اسے فرقہ بندی کے زہر آلود خنجر سے لخت لخت کر دیا ہے اور عالمگیر انسانی اخوت کے داعی گروہ بندی کے زخموں سے چور چور نڈھال پڑے کراہ رہے ہیں اور تہذیب وانسانیت کے دشمن ہر جگہ ان کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں۔آج امت مسلمہ میں اتفاق اور اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، ہم 58 اسلامی ممالک ہیں۔ 2 ارب مسلمان ہیں۔ ہم بہت طاقتور ہوسکتے ہیں، بشرطیہ اختلاف کے ناسور سے نکل آئیں۔ایک نقطے پر متفق ہوجائیں۔ مسلمانوں کے لیے اس وقت سب سے آہم اور مشترکہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ سب مل کر وقت کے طاغوت سے نجات حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کریں۔فرقہ بندی اور اسلام دو متضاد چیزیں ہیں۔اس حقیقت کو لوگوں میں آشکار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دین کا درد رکھنے والے لوگ فرقہ پرستی کے خونخوار عفریت کا شکار نہ ہو جانے پائیں۔ زیر تبصرہ کتاب "لا تفرقوا"محترم محمد ارشد آزاد کی تصنیف ہے ،جو اتحاد امت کے لئے ایک کاوش اور کوشش ہے۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ مولف کی ان کوششوں کو قبول فرمائے اور امت کو تفرقہ بازی سے بچا کر اتحاد واتفاق کی توفیق دے۔آمین(راسخ)

  • 293 #4951

    مصنف : رانا محمد شفیق خاں پسروری

    مشاہدات : 1243

    لقب اہل حدیث

    (ہفتہ 10 دسمبر 2016ء) ناشر : مرکزی جمعیت اہل حدیث، پاکستان

    مسلک اہل حدیث ایک نکھرا ہوا اور نترا  ہوا مسلک ہے۔جو حقیقتا خاصے کی شے اور پاسے کا سونا ہے۔اس کا منبع مصدر کتاب وسنت ہے۔مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت یا فرقہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مکتب فکر اور تحریک کا نام ہے ۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔اہل حدیث  ایک تحریک ہے، ایک فکر ہے، جو دنیا کے کونے کونے میں پھیل رہی ہے اور لوگوں کو سمجھ آنا شروع ہو گئی ہے کہ قرآن وسنت ہی شریعت کے اصلی مصادر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " لقب اہل حدیث "مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے راہنما رانا محمد شفیق خاں پسروری صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں اہل حدیث لقب اختیار کرنے کی وجہ بتائی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 294 #4067

    مصنف : مشتاق احمد چنیوٹی

    مشاہدات : 1478

    محاسبہ قادیانیت (حصہ اول)

    (بدھ 20 جنوری 2016ء) ناشر : انٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹ، پاکستان

    عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کابہت اہم اور بنیادی عقیدہ ہے۔جس پر تمام امت مسلمہ سلفاً و خلفاً کا ہمیشہ ہر زمانے میں اجماع رہا ہےکہ جو شخص بھی اس اجماعی عقیدے کا مخالف ہو گاوہ کافر، مرتد، خارج از اسلام ہوگا۔ 1857ء کے بعد برطانوی سامراج نے برصغیر میں اپنے غلیظ اور ناپاک مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے جھوٹی نبوت کی بنیاد ڈالی اور اس کے لیے مرزا غلام احمد قادیانی کا انتخاب کیا گیا۔ اس دجال، کذاب کے ذریعے امت مرزائیہ وجود میں آئی۔ جس نے برطانوی سامراج کے مقاصد شریرہ کو ہر سطح پر کامیاب کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ علمائے اسلام مجاہدین ختم نبوت نے شروع دن سے ہی اس کفریہ فتنے کا محاسبہ وتعاقب کیا اور عوام الناس کو ان کے کفریہ و باطل عقائد و عزائم سے آگاہ کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے مذہبی روپ اختیار کرکے مسلمانوں کو اجرائے نبوت، حیات مسیح، مہدویت کی بحثوں میں الجھایا اور مسلمانوں کو انگریزوں کا وفادار بننے پر زور دیا۔ قادیانی صرف اسلام ہی کے لیے نہیں بلکہ ملک وقوم کے لیے بھی ایک سامراجی ہتھیار ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"محاسبہ قادیانیت"جس کو مولانا مشتاق احمد چنیوٹی نے مجاہد ختم نبوت آغاشورش کاشمیریؒ کے ہفت روزہ "چٹان" سےاقتباسات کو جمع و ترتیب دیا ہے۔ آغا کاشمیریؒ عقیدہ ختم نبوت کو مذہبی و سیاسی سطح پر اجاگر کرنے والے صف اول کے مجاہد تھے۔ عقیدہ ختم نبوت پر غیر متزلزل ایمان اور فتنہ قادیانیت سے شدید نفرت ان کی پہچان تھی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنت و لگن کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے نوازے اور امت مسلمہ کو اس خطرناک فتنہ سے محفوظ رکھے۔ آمین(عمیر)

  • 295 #96

    مصنف : عبد اللہ معمار امرتسری

    مشاہدات : 11795

    محمدیہ پاکٹ بک بجواب احمدیہ پاکٹ بک

    (بدھ 13 مئی 2009ء) ناشر : شاہی کتب خانہ دیوبند

    قادیانیت کی تردید اور مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کے گھروندے کو مسمار کرنے کے لئے خارج سے کسی دلیل کی قطعاً ضرورت نہیں۔ اس کے لئے تو مرزا قادیانی کی متضاد تحریریں ہی کافی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب بھی اس بات کی شاہد عدل ہے۔ قادیانیت جیسے غلیظ مذہب کو درست ثابت کرنے کیلئے ایک کتاب بنام "احمدیہ پاکٹ بک"  لکھی گئی ہےجو کہ اب انٹرنیٹ پر بھی عام دستیاب ہے۔ اور مرزائی حضرات اس کتاب کی تصنیف پر پھولے نہیں سماتے کہ اس کا جواب تو گویا ہو ہی نہیں سکتا۔ زیر تبصرہ کتاب اسی کتاب کے بھرپور اور شافی جواب پر مشتمل ہے۔ جس میں قادیانیت سے متعلقہ کم و بیش تمام مباحث شامل ہیں۔ اور احمدیہ پاکٹ بک کے تمام تر اعتراضات، تاویلات اور شبہات و تحریفات کا خود مرزا قادیانی کی تحریروں سے ایسا رد کیا گیا ہے کہ قاری مصنف کی محنت کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ رد قادیانیت کے میدان میں یہ کتاب واقعی ایک لاجواب کتاب ہے۔

     

  • 296 #4183

    مصنف : رحمت اللہ خلیل الرحمن کیرانوی ہندی

    مشاہدات : 3085

    مختصر اظہار الحق

    (پیر 07 مارچ 2016ء) ناشر : وزارت اسلامی امور و اوقاف و دعوت و ارشاد، مملکت سعودی عرب

    مولانا رحمت اللہ کیرانوی﷫ اسلام اور اہل سنت کے بڑے پاسبانوں میں سے تھے۔ آپ علماء دیوبند مولانا قاسم نانوتوی و‌مولانا رشید احمد گنگوہی وغیرہم کے حلقۂ فکر کے ایک فرد تھے۔ جس زمانے میں ہزاروں یورپی مشنری، انگریز کی پشت پناہی میں ہندوستان کے مسلمانوں کو عیسائی بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے، مولانا کیرانوی اور ان کے ساتھی مناظروں، تقریروں اور تحریرکے ذریعے اسلامی عقائد کے دفاع میں مصروف تھے۔ ١٨٥٤‌ء یعنی جنگ آزادی سے تین سال قبل مولانا رحمت اللہ کیرانوی نے آگرہ میں پیش آنے والے ایک معرکہ کے مناظرہ میں عیسائیت کے مشہور مبلغ پادری فنڈر کو شکست دی۔جنگ آزادی ١٨٥٧‌ء میں مولانا کیرانوی حاجی امداد اللہ (مہاجر مکی) رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں انگریز کے ساتھ قصبہ تھانہ بھون میں انگریز کے خلاف جہاد میں شامل ہوئے اور شاملی کے بڑے معرکہ میں بھی شریک ہوئے جس میں دیگر کئی لوگوں کے علاوہ ان کے ساتھی حافظ محمد ضامن شہیدہوئے اور مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ زخمی ہوئےانگریز کی فتح کے بعد مولانا کیرانوی دیگر مجاہدین کی طرح ہجرت کرکے حجاز چلے گئے۔ یہاں موصوف نے پادری فنڈر کی کتاب میزان الحق کا جواب اظہار الحق کے نام سے تحریر فرمایا۔ حجاز سے سلطان ترکی کے بلانے پر قسطنطنیہ (حالیہ استنبول) گئے اور وہاں عیسائیوں سے مناظرےکئے، وہاں سے اظہار الحق شائع بھی ہوئی۔ زیر نظر کتاب ’’مختصر اظہار الحق‘‘ علامہ رحمت اللہ بن خلیل الرحمن کیرانوی ہندی کی عیسائیت کے رد میں لکھی گئی مایہ ناز تالیف " اظہارالحق " کا جامع اختصارہے۔ اس کتاب میں عیسائیت کی حقیقت , اہل تثلییث کی طرف سے بائبل میں مختلف ادوارمیں کئے گئےتحریف وتغیرکا بیان اورعیسائی مشنریوں کے ذریعہ اسلام کے خلاف پھیلائے جانے والے باطل شکوک وشبہات وریشہ دوانیوں کا مکمل رد پیش کیا گیا ہے ۔کتاب اظہار الحق کا یہ اختصار جامعہ الملك سعود، ریاض سعودی عرب کے استادڈاکٹر محمد عبدالقادر ملکاوی نے کیا ہے اور اسکو اردو قالب میں عالم اسلام کے مایہ ناز سیرت نگار ومصنف کتب کثیرہ مولانا صفی الرحمن مبارکپوری ﷫نے ڈھالا ہے ۔اس کتاب کو وزارت اوقاف سعودی عرب نے بڑی تعداد میں شائع کر کےتقسیم کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو تیار کرنے میں شامل تمام افراد کی کاوشوں کوقبول فرمائے ۔(آمین) اصل کتاب اظہار الحق کااردو ترجمہ ’’ بائیبل سے قرآن تک‘‘کے نام سے تین جلدوں میں شائع ہوچکا ہے اور کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہے۔(م۔ا)

  • 297 #794

    مصنف : جلال الدین قاسمی

    مشاہدات : 4591

    مختصر تاریخ اہل حدیث

    (جمعہ 17 جنوری 2014ء) ناشر : نا معلوم

    اہل  حدیث مروجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں  ہےاورنہ ہی  فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے ۔ اہل  حدیث ایک جماعت  او رایک تحریک  کا نام ہے۔  جس کا بنیادی موقف زندگی  کےہر شعبے  میں قرآن  وحدیث کے مطابق عمل  کرنا  او ردوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے  کی ترغیب دلانا  ،یا یو ں کہہ لیجیئے کہ اہل حدیث کانصب العین کتاب وسنت کی  دعوت او ر اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے زیر نظر کتابچے  میں  مولانا  حافظ جلال الدین  قاسمی  فاضل  دار العلوم دیو بند﷾ نے     لفظ اہل حدیث  کا معنی بیان کرتے ہوئے   مختصراً تاریخ  اہل  حدیث کو دلائل  کے ساتھ  بڑےاحسن  انداز میں بیان کیا  ہے او ر یہ ثابت کیا ہے کہ اہل سنت سے مراد اہل حدیث ہی ہیں  ۔(م۔ا)
     

  • مذاہب باطلہ کے رد میں مؤلفین تفسیر ثنائی و حقانی کی کاوشیں ( مقالہ پی ایچ ڈی )

    (بدھ 21 اگست 2019ء) ناشر : شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

    مذاہب باطلہ کے پیروکار اس بات کوتسلیم کرتے ہیں  کہ مذہب حق اسلام  ہےلیکن  اس کے باوجود وہ اس کو ماننے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔غیر مسلم مصنفین نے ہمیشہ حقائق کو توڑ مروڑ کر اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔مستشرقین نے جب اسلام کو اپنی تحقیقات کا نشانہ بنایا تو انہوں نے  مستند تاریخی حقائق، بخاری ومسلم ودیگر کتب صحاح کی صحیح روایات کو نظر انداز کر کے غیر مستند اور وضعی روایات کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔ ہر دو ر میں محدثین اور ائمہ عظام نے  مذاہب باطلہ کا خوب  رد ّکیا ہے ۔مذاہب باطلہ کےردّ میں  علمائے برصغیر کی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں ۔ زیر نظر  مقالہ بعنوان’’ مذاہب باطلہ کےردّ میں مؤلفین تفسیر ثنائی وحقانی کی کاوشیں ‘‘ پروفیسر ڈاکٹر  حافظ اسرائیل فاروقی (سابقہ چیئر مین شعبہ علوم اسلامیہ،یو ای  ٹی) کا وہ تحقیقی مقالہ  ہے   جسے انہوں نے  2003ء میں پنجاب یونیورسٹی شعبہ علوم اسلامیہ میں   پیش کر کے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ مقالہ نگار نے  اپنے اس تحقیقی مقالہ  کو چھ ابواب میں تقسیم کر کے  تفسیر ثنائی وحقانی کے   تمام دلائل جو مذاہب  باطلہ کےردّ میں  ہیں  انہیں مرتب صورت میں یکجا کردیا ہے  اور اس  میں  یہودیت کاتعارف بھی شامل کردیا ہے ۔(م۔ا)

  • 299 #6847

    مصنف : احمد عبد اللہ

    مشاہدات : 2224

    مذاہب عالم ( احمد عبد اللہ )

    (جمعہ 11 جنوری 2019ء) ناشر : مکی دارالکتب لاہور

    جب ہم مذاہب کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں۔ تو ہم پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے ۔ کہ جب سے یہ کائنات وجود میں آئی ہے ۔تب سے انسان اور مذہب ساتھ ساتھ چلتے آئے ہیں ۔ابتدا میں تمام انسانوں کا مذہب ایک تھامگر جوں جوں انسانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا لوگ مذہب سے دور ہونے لگے پھر خالق کائنات نے مختلف ادوار میں انسانوں کی راہنمائی کے لیے پیغمبر بھیجے لیکن پیغمبروں کے اس دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد ان کے ماننے والوں نے ان کے پیغام پر عمل کرنے کی بجائے خود سے نئے دین اور مذاہب اختیار کر لیے اس طرح مذاہب کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا او ر اس وقت دنیا میں کئی مذاہب پیدا ہو چکے ہیں جن میں سے مشہور مذاہب ،اسلام،عیسائیت،یہودیت،ہندو ازم،زرتشت،بدھ ازم ،سکھ ازم ہیں۔اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ بنی نوع انسان ہر دور میں کسی نہ کسی مذہب کی پیروی کرتے رہے ہیں۔ لیکن ان تمام مذاہب کی تعلیمات میں کسی نہ کسی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے ۔جیسا کہ دنیا کے تمام مذاہب کسی نہ کسی درجے میں قتل، چوری ،زنااور لڑائی جھگڑے کو سختی سے ممنوع قرار دیتے ہیں اور تمام قسم کی اچھائیوں کو اپنانے کی تلقین کرتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ مذاہب عالم ‘‘ احمد عبد اللہ کی تصنیف ہے  فاضل مصنف نے  اس کتاب میں  مذہب کی حقیقت اور مذہبی تصورات کے ارتقاء  کو پیش کر نے کے بعد   دنیا میں پائے جانے  مشہور  مذاہب(اسلام ،  بدھ مت،ٹاؤمت ،سکھ مت ، شنٹومذہب، عیسائیت  ، کنفیوشی مت، ہندو مت، یہودی مذہب)  کا تعارف پیش کیا  ہے ۔(م۔ا)

  • 300 #2525

    مصنف : لیوس مور

    مشاہدات : 6503

    مذاہب عالم کا انسائیکلوپیڈیا

    (بدھ 22 اکتوبر 2014ء) ناشر : نگارشات مزنگ لاہور

    جب ہم مذاہب کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں۔ تو ہم پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے ۔ کہ جب سے یہ کائنات وجود میں آئیہے ۔تب سے انسان اور مذہب ساتھ ساتھ چلاتے آئے ہیں ۔ابتدا میں تمام انسانوں کا مذہب ایک تھامگر جوں جوں انسانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا لوگ مذہب سے دور ہونے لگے پھر خالق کائنات نے مختلف ادوار میں انسانوں کی راہنمائی کے لیے پیغمبر بھیجے لیکن پیغمبروں کے اس دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد ان کے ماننے والوں نے ان کے پیغام پر عمل کرنے کی بجائے خود سے نئے دین اور مذاہب اختیار کر لیے اس طرح مذاہب کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا او ر اس وقت دنیا میں کئی مذاہب پیدا ہو چکے ہیں جن میں سے مشہور مذاہب ،اسلام،عیسائیت،یہودیت،ہندو ازم،زرتشت،بدھ ازم ،سکھ ازم شامل ہیں۔اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ بنی نوع انسان ہر دور میں کسی نہ کسی مذہب کی پیروی کرتے رہے ہیں۔ لیکن ان تمام مذاہب کی تعلیمات میں کسی نہ کسی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے ۔جیسا کہ دنیا کے تمام مذاہب کسی نہ کسی درجے میں قتل، چوری ،زنااور لڑائی جھگڑے کو سختی سے ممنوع قرار دیتے ہیں اور تمام قسم کی اچھائیوں کو اپنانے کی تلقین کرتے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب"مذاہب عالم  کا انسائیکلوپیڈیا"  لیوس مورکی تصنیف ہے اور اس کا اردو ترجمہ یاسر جواد اور سعدیہ جواد نے کیا ہے۔اس کتاب میں انہوں نے مذاہب عالم کا مختصر تعارف اور ان کی تہذیب وثقافت پر روشنی ڈالی ہے۔اس کتاب کے کل 13 تیرہ باب ہیں، اور ہر باب ایک  بڑے بڑے مذہب اور پھر اس سے متعلق چھوٹے چھوٹے  مذاہب کے تعارف پر مبنی ہے۔مذاہب عالم کے تعارف کے حوالے سے یہ ایک مفید اور شاندار کتاب ہے،جو اپنے موضوع پر انتہائی مکمل ہے۔(راسخ)

     

< 1 2 ... 27 28 29 30 31 32 33 ... 39 40 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1508
  • اس ہفتے کے قارئین 3353
  • اس ماہ کے قارئین 55386
  • کل قارئین49460992

موضوعاتی فہرست