کل کتب 156

دکھائیں
کتب
  • 141 #3914

    مصنف : خالد گھرجاکھی

    مشاہدات : 1545

    میں اہلحدیث کیوں ہوا

    (منگل 05 جنوری 2016ء) ناشر : ادارہ احیاء السنۃ گوجرانوالہ

    اہل حدیث کوئی نئی جماعت نہیں، تمام اہل علم اس کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کا نصب العین کتاب و سنت ہے۔ اس لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف نہیں ہے۔ "اہلحدیث "ایک فکر اور تحریک کا نام ہے جو سنت کو مدار عمل ٹھہرانے میں نہایت حریص اور رد بدعات میں نہایت بے باک ہیں۔اس کا مطح نظر فقط عمل بالقراٰن والحدیث ہے معاشرے میں پھیلے ہوئے رسوم و رواج کو یہ جماعت میزان نبوی میں پرکھتی ہے۔جوبات قرآن و سنت کے مطابق ہو اس کو قبول کرنا اس جماعت کا خاصہ اور امتیاز ہے۔ مسلک اہل حدیث وہ دستور حیات ہے جو صرف قرآن وحدیث سے عبارت ہے،بزرگان دین کی عزت سکھاتا ہے مگر اس میں مبالغہ نہیں۔"امرین صحیحین" کے علاوہ کسی کو بھی قابل حجت اور لائق تعمیل نہیں مانتا۔ زیر نظر کتاب"میں اہل حدیث کیوں ہوا "خالد گرجاکھی کی تصنیف ہےجس میں مولانا عبدالرحمن فاضل دارلعلوم دیوبند کا اہل حدیث ہونے کا مکمل سفر اور درپیش مسائل کو ایک تحریری قالب میں ڈھالا گیاہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اور تمام مسلک اہل حدیث اختیار کرنے والوں کو صبرو استقامت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • 142 #5281

    مصنف : ڈاکٹر محمد سلیم بن عبید الہلالی

    مشاہدات : 1705

    میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا

    (پیر 06 فروری 2017ء) ناشر : المرکز الاسلامی للبحوث العلمیہ کراچی

    مسلک اہل حدیث یا سلفی منہج ایک نکھرا ہوا اور نترا ہوا مسلک ہے۔جو حقیقتا خاصے کی شے اور پاسے کا سونا ہے۔ اس کا منبع مصدر کتاب وسنت ہے۔مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت یا فرقہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مکتب فکر اور تحریک کا نام ہے ۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔ اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔ یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔ پہلا لفظ"اہل"ہے۔ جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ "حدیث" ہے۔ حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔ اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔ پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔ اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔ کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔ اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔اہل حدیث ایک تحریک ہے، ایک فکر ہے، جو دنیا کے کونے کونے میں پھیل رہی ہے اور لوگوں کو سمجھ آنا شروع ہو گئی ہے کہ قرآن وسنت ہی شریعت کے اصلی مصادر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا" محترم سلیم بن عید الہلالی تلیذ رشید علامہ ناصر الدین البانی کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے، اردو ترجمہ محترم عبد العظیم حسن زئی صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 143 #5281

    مصنف : ڈاکٹر محمد سلیم بن عبید الہلالی

    مشاہدات : 1705

    میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا

    (پیر 06 فروری 2017ء) ناشر : المرکز الاسلامی للبحوث العلمیہ کراچی

    مسلک اہل حدیث یا سلفی منہج ایک نکھرا ہوا اور نترا ہوا مسلک ہے۔جو حقیقتا خاصے کی شے اور پاسے کا سونا ہے۔ اس کا منبع مصدر کتاب وسنت ہے۔مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت یا فرقہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مکتب فکر اور تحریک کا نام ہے ۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔ اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔ یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔ پہلا لفظ"اہل"ہے۔ جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ "حدیث" ہے۔ حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔ اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔ پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔ اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔ کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔ اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔اہل حدیث ایک تحریک ہے، ایک فکر ہے، جو دنیا کے کونے کونے میں پھیل رہی ہے اور لوگوں کو سمجھ آنا شروع ہو گئی ہے کہ قرآن وسنت ہی شریعت کے اصلی مصادر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا" محترم سلیم بن عید الہلالی تلیذ رشید علامہ ناصر الدین البانی کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے، اردو ترجمہ محترم عبد العظیم حسن زئی صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 144 #688

    مصنف : ارشاد الحق اثری

    مشاہدات : 4149

    پاک و ہند میں علمائے اہلحدیث کی خدمات حدیث

    (اتوار 10 اکتوبر 2010ء) ناشر : ادارہ علوم اثریہ، فیصل آباد

    اس کتاب میں مصنف ارشاد الحق اثری صاحب نے پاک و ہند میں علمائے اہلحدیث کی خدمات حدیث کو بیان کیا ہے جس  میں انہوں نے بے شمار جید علماء اہلحدیث کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ برصیغر میں اسلام کی آمد  کیسے ہوئی , حدیث سے بے اعتنائی کے چند واقعات کو بیان کرتے ہوئے چند رجال حدیث کا بھی ذکر کیا ہے جس میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ , شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ , عبد الغزیز رحمہ اللہ , مولانا عبد الرحمان محدث مبارکپوری رحمہ اللہ , مولانا شمس الحق محدث ڈیانوی رحمہ اللہ مولانا وحید الزمان خاں رحمہ اللہ , حضرت نواب صدیق الحسن خاں قنوجی رحمہ اللہ اور اہلحدیثوں کے تدریسی مراکز , اکابرین دیوبند کا انداز تدریس , حدیث کی تعلیم اشاعت میں روکاٹ , دیوبند کا اساسی مقصد , علمائے اہلحدیث کا طریقہ درس , علمائے اہلحدیث کی خدمات کا اعتراف اور اس کی تحسین , اہلحدیثوں کی تصنیفی خدمات , خدمات علمائے غزنویہ کو بیان کرتے ہوئے موصوف نے بے شمار کتب حدیث کا تعارف کرایا ہے جس میں صحیح بخاری , صحیح مسلم , سنن نسائی , سنن ابی داؤد , جامع ترمذی , سنن ابن ماجہ , مؤطا امام مالک جیسی بے شمار کتب کا تعارف کروایا ہے  اس کتاب کے مطالعہ سے علمائے اہل حدیث کی حدیث وسنت سے محبت اور اس کی تبلیغ واشاعت کا جذبہ نکھر کرسامنے آتا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدمت حدیث اہل حدیث کا طرۂ امتیاز ہے


     

  • 145 #2968

    مصنف : مفتی غلام سرور قادری

    مشاہدات : 1920

    پروفیسر طاہر القادری ایک علمی و تحقیقی جائزہ جلد۔1

    dsa (بدھ 11 فروری 2015ء) ناشر : ادارہ مصباح القرآن، لاہور

    اہل پاکستان کے لئے ڈاکٹر طاہر القادری کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ان کی شخصیت اہل علم کے ہاں ہمیشہ سے متنازعہ رہی ہے۔ان کے معتقدین انہیں مفکر اسلام،نابغہ عصر، قائد انقلاب اور شیخ الاسلام ایسے پر فخر القاب سے یاد کرتے ہیں۔جبکہ ان کے ناقدین انہیں احسان فراموش، شہرت کا بھوکا اور حب جاہ و منصب کا حریص قرار دیتے ہیں۔موصوف کے ناقدین میں محض مسلکی مخالفین ہی شامل نہیں ہیں، بلکہ ان کے ہم مکتب فکر بریلوی علما بھی ،جن کی طرف قادری صاحب اپنا انتساب کرتے ہیں،موصوف کو خطرے کی گھنٹی سمجھتے ہوئے اہل سنت میں شمار کرنے پر تیار نہیں ہیں۔شہرت و ناموری کی خاطر قادری صاحب کرسمس کا کیک کاٹنے اور دشمنان صحابہ روافض کی مجالس کو رونق بخشنے سے بھی ذرا نہیں شرماتے ۔اور اب تو نوبت بایں جا رسید کہ انہوں نے اعداے ملت یہود ونصاریٰ کے حق میں بھی فتاویٰ صادر کرنے شروع کر دیئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " پروفیسر طاہر القادری ،ایک علمی وتحقیقی جائزہ "بریلوی مکتب فکر کے معروف عالم دین مفتی غلام سرور قادری مشیر وفاقی شرعی عدالت پاکستان ومہتمم جامعہ غوثیہ مین   مارکیٹ لاہور کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے قادری صاحب کے نقاب سنیت کو الٹ کر ان کے باطنی رفض وتشیع کوآشکار کردیا ہے۔اور ان کی علمی وتحقیقی شخصیت کا بھانڈہ پھوڑ دیا ہے۔جس سے ان کااصل چہرہ بے نقاب ہوکر سامنے آگیا ہے۔ امیدہے کہ اس کتاب کےمطالعہ سے قارئین کو جناب ''شیخ الاسلام '' کو پہنچاننے میں آسانی رہے گی،اور وہ اپنے ایمان کی حفاظت فرما سکیں گے۔(راسخ)(تقابل مسالک،بریلوی)

  • 146 #3861

    مصنف : حکیم محمد اشرف سندھو

    مشاہدات : 1775

    پیغام جیلانی

    (منگل 29 دسمبر 2015ء) ناشر : دار الاشاعت اشرفیہ، سندھو بلو کی، قصور

    شیخ عبد القادر جیلانی ﷫ایک موحد اور متبع سنت انسان تھے۔انہوں نے اپنی ساری زندگی قرآن اور سنت کے مطابق گزاری اور لوگوں کو  قرآن وسنت پر عمل کرنے کی ترغیب دیتے رہے۔آپ کی تزکیہ نفس کے حوالہ سے بے مثال خدمات چہار دانگ عالم میں عقیدت واحترام کے ساتھ تسلیم کی جاتی ہیں۔لیکن افسوس کہ آپ کے بعض عقیدت مندوں نے فرطِ عقیدت میں آپ کی خدمات وتعلیمات کوپس پشت ڈال کر ایک ایسا متوازی دین وضع کر رکھا ہے جو نہ صرف قرآن وسنت کے صریح منافی ہے بلکہ خود شیخ کی مبنی بر حق تعلیمات کے بھی منافی ہے۔ اس پرطرہ یہ کہ اگر ان عقیدت مندوں کو ان کی غلو کاریاں سے آگاہ کیاجائے تو یہ نہ صرف یہ کہ اصلاح کرنے والوں پر برہم ہوتے ہیں بلکہ انہیں اولیاء ومشائخ کا گستاخ قرار دے کر مطعون کرنے لگتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" پیغام جیلانی﷫" محترم حکیم محمد اشرف سندھو صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے شیخ عبد القادر جیلانی ﷫کی صحیح اور حقیقی تعلیمات کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور ان کے معتقدین اور سچے عقیدت مندوں ومریدین سے درخواست کی ہے کہ وہ بھی  اپنی اصلاح کریں اور اپنے پیر مرشد کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے قرآن وسنت کو تھام لیں۔ اللہ تعالی مولف کی اس خدمت کو قبول فرمائے،اور تمام مسلمانوں کو عقیدہ توحید اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 147 #6976

    مصنف : عبد الرؤف ندوی

    مشاہدات : 952

    کاروان سلف حصہ اول

    dsa (منگل 04 جون 2019ء) ناشر : مجلس تحقیق الاسلامی یوپی انڈیا

    برصغیر پاک و ہند میں علمائے اہل حدیث نے اسلام کی سربلندی ، اشاعت ، توحید و سنت نبوی ﷺ ، تفسیر قرآن کےلیے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے او رعلمائے اہلحدیث نے مسلک صحیحہ کی اشاعت و ترویج میں جو فارمولا پیش کیا اس سے کسی بھی پڑھے لکھے انسان نے انکار نہیں کیا ۔علمائے اہلحدیث نے اشاعت توحید و سنت نبویﷺاور اس کے ساتھ ہی ساتھ شرک و بدعت کی تردید میں جو کام کیاہے اور جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔پنجاب میں تدریسی خدمت کے سلسلہ میں استاد پنجاب مولانا حافظ عبدالمنان محدث و زیر آبادی ﷫  (م1334ھ) کی خدمات بھی سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔مولانا حافط عبدالمنان ﷫حضرت شیخ الکل کے نامورتلامذہ میں سے تھے اور فنّ حدیث میں اپنے تمام معاصر پر فائز تھے۔ آپ نے اپنی زندگی میں 80 مرتبہ صحاح ستہ پڑھائی۔ آپ کے تلامذہ میں ملک کے ممتاز علمائے کرام کا نام آتاہے اورجن کی اپنی خدمات بھی اپنے اپنے وقت میں ممتاز حیثیت کی حامل ہیں۔ مولانا سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں:’’علمائے اہلحدیث کی تدریسی و تصنیفی خدمات قدر کے قابل ہے۔ پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں﷫ (م1307ھ) کے قلم او رمولانا سید محمد نذیر حسین دہلوی﷫ (م1320ھ) کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا۔ بھوپال ایک زمانہ تک علمائے اہلحدیث کا مرکز رہا۔ قنوج، سہوان اوراعظم گڑھ کے بہت سے نامور اہل علم اس ادارہ میں کام کررہے تھے۔ شیخ حسین عرب یمنی﷫ (م327ھ) ان سب کے سرخیل تھے اوردہلی میں مولانا سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی کے ہاں سند درس بچھی تھی اور جوق در جوق طالبانِ حدیث مشرق و مغرب سے ان کی درس گاہ کا رخ کررہے تھے۔ ان کی درس گاہ سے جو نامور اُٹھے ان میں ایک مولانا محمد ابراہیم آروی ﷫(م1320ھ) تھے۔ جنہوں نے سب سے پہلے عربی تعلیم اور عربی مدارس میں اصلاح کا خیال کیا اور مدرسہ احمدیہ کی بنیادڈالی ۔اس درس گاہ کے دوسرے نامور مولانا شمس الحق ڈیانوی عظیم ابادی ﷫(م1329ھ) صاحب عون المعبود فی شرح ابی داؤد ہیں جنہوں نے کتبِ حدیث کی جمع اور اشاعت کو اپنی دولت اور زندگی کامقصد قرار دیا اوراس میں وہ کامیاب ہوئے۔تصنیفی لحاظ سے بھی علمائے اہلحدیث کاشمار برصغیر پاک و ہند میں اعلیٰ اقدار کا حامل ہے۔ علمائے اہلحدیث نے عربی ، فارسی اور اردو میں ہر فن یعنی تفسیر، حدیث، فقہ،اصول فقہ، ادب تاریخ اورسوانح پر بے شمار کتابیں لکھی ہیں۔ الغرض برصغیر پاک وہندمیں علمائےاہل حدیث نےاشاعِت اسلام ، کتاب وسنت کی ترقی وترویج، ادیان باطلہ اور باطل افکار ونظریات کی تردید اور مسلک حق کی تائید اور شرک وبدعات ومحدثات کےاستیصال اور قرآن  مجید کی تفسیر اور علوم االقرآن پر  جو گراں قدر نمایاں خدمات سرانجام دیں وہ تاریخ اہل حدیث کاایک زریں باب ہے ۔اس بات میں کوئی  مبالغہ نہیں  کہ اگر علمائے اہل حدیث  ہند کی توجہ علوم حدیث کی جانب نہ ہوتی تو مشرقی ممالک سےعلم حدیث اٹھ چکا ہوتا جیسا کہ دسویں ہجری میں مصر، شام ، عراق اور حجاز سے علوم حدیث کا سلسلہ کمزور پرنا شروع ہوا یہاں تک کہ چودہویں صدی میں اس کی کمزوری انتہاکو پہنچ گئی۔مختلف   قلمکاران اور مؤرخین نے  علمائے اہل حدیث  کےالگ الگ اکٹھے تذکرے تحریر کیے  ہیں  اور بعض  نے کسی خاص علاقہ کے علماء کا تذکرہ  وسوانح حیات  لکھے ہیں۔ جیسے  تذکرہ علماء مبارکپور ، تذکرہ علماء خانپور وغیرہ ۔  علما  ئے عظام کے حالات وتراجم کو  جمع کرنے میں  مؤرخ اہل  حدیث جناب مولانامحمد اسحاق بھٹی ﷫ کی خدمات سب سے زیادہ نمایاں ہیں ۔ زیر نظرکتاب’’کاروانِ سلف‘‘ مولانا عبد الرؤف ندوی ﷾کی کاوش ہے  یہ کتاب  دو  حصوں میں ہے   مصنف نے اس کتاب میں  مشرقی یوپی کے مشاہیر اہل حدیث علمائے کرام  اور بعض دیگر اہم دینی شخصیات مرحومین کا تذکرہ کیا ہے۔اس کتاب میں پیشتر ان ہستیوں کا تذکرہ ہےکہ جن  کے کارناموں  سے دین وملت کا ہرگوشہ معمور ہے اور جنہوں نے اسلام مخالف طاقتوں سے چومکھی لڑائی لڑی ہے اور وہ الحمد للہ ہر محاذ پر کامیاب  وکامران رہے ۔ اسی طرح اس کتاب میں  بعض ایسے اہل حدیث افراد کابھی تذکرہ ہے جو مستند علماء تو نہیں  ہیں مگر احیاء توحید وسنت میں ان کابڑا اہم رول رہا ہے  ۔صاحب کتاب نے  تقریباً بارہ درجن سے زیادہ شخصیات اور علمائے جماعت کےتذکرے تحریرفرمائے ہیں  ان میں قدیم وجدید دونوں طرح کی شخصیات شامل ہیں ۔اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی  اس کاوش کو قبول فرمائے  اور انہیں  مزید کام کرنے کی توفیق دے ۔(م۔ا)

  • 148 #871

    مصنف : محمد بشیر ظہیر

    مشاہدات : 16299

    کشف الحقائق حصہ اول

    (منگل 19 جولائی 2011ء) ناشر : چوک سرائے کرشنا ضلع بھکر

    ہمارے ہاں عمومی طور پر دیوبندی حضرات کے بارے میں یہ خیال عام ہے کہ وہ تقلید شخصی کے قائل تو ہیں لیکن شرکیہ امور سے دور ہیں اور پکے موحد ہیں،چنانچہ بریلوی حضرات کے مقابلے میں یہ اہل حدیث کے زیادہ قریب ہیں۔سچ  یہ ہے کہ فرقہ پرستی کے اس عہد میں افراد امت کو وحدت کی لڑی میں پرونے کی اشد ضرورت ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اتحاد و اتفاق کا اصل و اساس عقیدہ توحید ہی ہے۔اب اگر بے تعصبی سے دیوبندی لٹریچر کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ان کے ہاں بھی ایسی بے شمار چیزیں موجود ہیں ،جن کی وجہ سے بریلوی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شرکیہ امور کے مرتکب ہیں۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ایک بریلوی مصنف ارشد القادری صاحب نے ’زلزلہ‘نامی کتاب لکھ کر یہ ثابت کیا  ہے کہ دیوبندی بھی وہی عقاید رکھتے ہیں جو بریلویوں کے ہیں،لیکن اس کے باوجود وہ ہمیں مشرک کہتے ہیں اور خود کو موحد۔ایک مصنف دیوبندی عالم جناب عامر عثمانی نے بھی’زلزلہ‘کے مندرجات کی تائید کی ہے کہ واقعتاً دیوبندی حضرات بھی انہی خرابیوں کا شکار ہیں ۔زیر نظر کتاب میں بھی اسی نکتے پر بحث کی گئی ہے یہ ایک سابق دیوبندی مولانا محمد بشیر مظہر کی تصنیف ہے جس  میں ا نہوں نے معتبر حوالہ جات سے دکھایا ہے کہ دیوبندی حضرات کے ہاں بھی شرکیہ حکایات موجود ہیں۔انداز کہیں کہیں سخت ہے تاہم  بات درست ہے ،امید ہے دیوبندی دوست کھلے دل سے اس کا مطالعہ کریں گے اور حق بات واضح ہو جانے پر اصلاح احوال کی سعی کریں گے۔(ط۔ا)

  • 149 #871

    مصنف : محمد بشیر ظہیر

    مشاہدات : 16299

    کشف الحقائق حصہ اول

    (منگل 19 جولائی 2011ء) ناشر : چوک سرائے کرشنا ضلع بھکر

    ہمارے ہاں عمومی طور پر دیوبندی حضرات کے بارے میں یہ خیال عام ہے کہ وہ تقلید شخصی کے قائل تو ہیں لیکن شرکیہ امور سے دور ہیں اور پکے موحد ہیں،چنانچہ بریلوی حضرات کے مقابلے میں یہ اہل حدیث کے زیادہ قریب ہیں۔سچ  یہ ہے کہ فرقہ پرستی کے اس عہد میں افراد امت کو وحدت کی لڑی میں پرونے کی اشد ضرورت ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اتحاد و اتفاق کا اصل و اساس عقیدہ توحید ہی ہے۔اب اگر بے تعصبی سے دیوبندی لٹریچر کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ان کے ہاں بھی ایسی بے شمار چیزیں موجود ہیں ،جن کی وجہ سے بریلوی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شرکیہ امور کے مرتکب ہیں۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ایک بریلوی مصنف ارشد القادری صاحب نے ’زلزلہ‘نامی کتاب لکھ کر یہ ثابت کیا  ہے کہ دیوبندی بھی وہی عقاید رکھتے ہیں جو بریلویوں کے ہیں،لیکن اس کے باوجود وہ ہمیں مشرک کہتے ہیں اور خود کو موحد۔ایک مصنف دیوبندی عالم جناب عامر عثمانی نے بھی’زلزلہ‘کے مندرجات کی تائید کی ہے کہ واقعتاً دیوبندی حضرات بھی انہی خرابیوں کا شکار ہیں ۔زیر نظر کتاب میں بھی اسی نکتے پر بحث کی گئی ہے یہ ایک سابق دیوبندی مولانا محمد بشیر مظہر کی تصنیف ہے جس  میں ا نہوں نے معتبر حوالہ جات سے دکھایا ہے کہ دیوبندی حضرات کے ہاں بھی شرکیہ حکایات موجود ہیں۔انداز کہیں کہیں سخت ہے تاہم  بات درست ہے ،امید ہے دیوبندی دوست کھلے دل سے اس کا مطالعہ کریں گے اور حق بات واضح ہو جانے پر اصلاح احوال کی سعی کریں گے۔(ط۔ا)

  • کیا علماء دیوبند اہل سنت ہیں

    (بدھ 22 مارچ 2017ء) ناشر : المکتب التعاونی للدعوۃ والارشاد وتوعیۃ الجالیات، ریاض

    1857ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد مسلمانان ہند کے سیاسی اور معاشی زوال کے ساتھ ساتھ ان کے اخلاق ، ثقافت ، مذہب اور معاشرت پر بھی دوررس نتائج کے حامل برے اثرات مرتب ہو رہے تھے۔ مسلمانوں کا ملی تشخص خطرے میں پڑ گیا تھا اگر ایک طرف سقوط دہلی کے بعد مدرسہ رحیمیہ کے دروازے بند کر دئیے گئے تھے تو دوسری طرف ان کو ان کے مذہب سے بیزار کرنے کے لیے مذموم کوششوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا تھا۔ ان حالات میں ضروری تھا کہ مسلمانوں کو اسلامی احکامات سے باخبررکھا جائے اور ان میں جذبہ جہاد اور جذبہ شہادت کی تجدید کا عمل بلا تاخیر شروع کیا جائے تاکہ سپین اور خلافت عثمانیہ کے مسلمانوں کی طرح ان کا شیرازہ ملت کہیں بکھر نہ جائے مذکورہ مقاصد کے حصول کے لیے حضرت شاہ ولی اللہ کی تعلیمات اور تحریک سے متأثر کچھ علماء نے برطانوی ہند میں دینی مراکز قائم کرنے کی ضرورت شدت سے محسوس کی۔ اسی ضرورت کے پیش نظر یو۔ پی کے ضلع سہارنپور کے ایک قصبے نانوتہ کے مولانا قاسم نانوتوی نے 30 مئی 1866ء بمطابق 15 محرم الحرام 1283ھ کو دیوبند کی ایک چھوٹی سی مسجد (مسجد چھتہ) میں مدرسۃ دیوبند کی بنیاد رکھی۔ بعد میں   دار العلوم دیوبند کے نام سے اسے عالمگیر شہرت حاصل ہوئی اور جہاں سے بڑے بڑے نامور علماء   کرام نے تعلیم حاصل کر کے سند فراغت حاصل کی۔ اسی مناسبت سے آج مسلک احناف میں سے ایک فرقہ دیوبندی کہلاتا ہے۔ علمائے دیوبند عملاً مسلک امام ابوحنیفہ کے پیروکار ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں انگریز کے دور استبداد میں حنفیہ کی مسند تدریس کو منور رکھنا علمائے دیوبند کا کارنامہ ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’کیا علماء دیوبند اہل سنت ہیں؟‘‘ سعودی عرب کے دعوت وتبلیغ کے میدان میں کام کرنے والے فعال ادارے ’’جالیات‘‘ کی طرف سے عربی زبان میں مرتب کردہ رسالہ ’’هل علماء الفرقة الديوبندية اهل السنة والجماعة ؟ کا اردو ترجمہ ہے۔ مشہور واعظ و مبلغ محترم جناب سید توصیف الرحمٰن راشد﷾ نے اسے عربی سے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ مرتب نے اس کتاب میں علماء دیوبند کی کتب کےحوالہ جات کی روشنی میں ان کے عقائد کو بیان کر کے ان کا ناقدانہ تجزیہ کیا ہے۔ (م۔ا)

< 1 2 ... 8 9 10 11 12 13 14 15 16 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1768
  • اس ہفتے کے قارئین 14418
  • اس ماہ کے قارئین 37958
  • کل قارئین49237425

موضوعاتی فہرست