دکھائیں کتب
  • 31 ماہنامہ رشد کا علم قراءات نمبر (اول) (بدھ 01 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:18590

    ہمارا عمومی مشاہدہ یہ ہے کہ کالجوں،یونیورسٹیوں کے وہ جرائد جنہیں طلبہ اپنے اَساتذہ کی رہنمائی میں مرتب کرتے ہیں عموماً معیاری اور تحقیقی نہیں ہوتے بلکہ ان کا اجراء اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ طلبہ کو تحریر وتدوین کی مشق کا موقع ملے جائے اور عملی کام کر کے اس شعبے میں ان کی صلاحیتیں نکھر جائیں۔  دینی جامعات کے ترجمان جرائد کا حال خاصہ پتلا ہے چہ جائیکہ کسی دینی جامعہ کے ایسے جریدے کی وقیع علمی حیثیت مشاہدے میں آئے جو اصلاً طلبہ مجلہ ہو۔ اس لحاظ سے ماہنامہ رشد کازیر نظر شمارہ ایک استثنائی مثال ہے جو دقیع علمی وتحقیقی حیثیت کا حامل ہے ۔ اس میں علم قراء ات جیسے ادق موضوع پر خصوصی علمی و تحقیقی مضامین شائع کئے گئے ہیں۔ماہنامہ’ رشد‘ کے اس شمارے کے مطالعے سے اس کے مضامین کے تنوع کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس میں ایک طرف منکرین قراء ات اورمستشرقین کے اعتراضات کا مسکت جواب دیا گیا ہے تو دوسر ی طرف قراءات کے اثبات اوران کے شرعی دلائل اورعقلی استدلالات وفوائد کابھی تفصیلی ذکر کیا گیا ہے اور وہ بھی عمدہ اسلوب میں مترددین ومتشکّکین کی عقلی گرہیں کھولتا ہے۔ مزید یہ کہ مرتبین نے اس مجلہ میں علم تجوید وقراءات کے متعلق رسائل وجرائد میں شائع ہونے والے مضامین کا اشاریہ شائع کر کے گویا دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ اس شمارہ میں 1933ء سے لے کر اب تک 400 سے زائد مضامین کا اشاریہ مرتب کیا گیا ہے اور اسے علم قراءات ، حجیت و انکار قراءات، تدوین آداب تلاوت، قرآنی معلومات، فتاویٰ، قراء کا تعارف اور انٹرویو ز جیسے عنوانات کے تحت مصنف وار اور الف بائی ترتیب س...

  • 32 ماہنامہ رشد کا علم قراءات نمبر (اول) (بدھ 01 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:18590

    ہمارا عمومی مشاہدہ یہ ہے کہ کالجوں،یونیورسٹیوں کے وہ جرائد جنہیں طلبہ اپنے اَساتذہ کی رہنمائی میں مرتب کرتے ہیں عموماً معیاری اور تحقیقی نہیں ہوتے بلکہ ان کا اجراء اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ طلبہ کو تحریر وتدوین کی مشق کا موقع ملے جائے اور عملی کام کر کے اس شعبے میں ان کی صلاحیتیں نکھر جائیں۔  دینی جامعات کے ترجمان جرائد کا حال خاصہ پتلا ہے چہ جائیکہ کسی دینی جامعہ کے ایسے جریدے کی وقیع علمی حیثیت مشاہدے میں آئے جو اصلاً طلبہ مجلہ ہو۔ اس لحاظ سے ماہنامہ رشد کازیر نظر شمارہ ایک استثنائی مثال ہے جو دقیع علمی وتحقیقی حیثیت کا حامل ہے ۔ اس میں علم قراء ات جیسے ادق موضوع پر خصوصی علمی و تحقیقی مضامین شائع کئے گئے ہیں۔ماہنامہ’ رشد‘ کے اس شمارے کے مطالعے سے اس کے مضامین کے تنوع کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس میں ایک طرف منکرین قراء ات اورمستشرقین کے اعتراضات کا مسکت جواب دیا گیا ہے تو دوسر ی طرف قراءات کے اثبات اوران کے شرعی دلائل اورعقلی استدلالات وفوائد کابھی تفصیلی ذکر کیا گیا ہے اور وہ بھی عمدہ اسلوب میں مترددین ومتشکّکین کی عقلی گرہیں کھولتا ہے۔ مزید یہ کہ مرتبین نے اس مجلہ میں علم تجوید وقراءات کے متعلق رسائل وجرائد میں شائع ہونے والے مضامین کا اشاریہ شائع کر کے گویا دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ اس شمارہ میں 1933ء سے لے کر اب تک 400 سے زائد مضامین کا اشاریہ مرتب کیا گیا ہے اور اسے علم قراءات ، حجیت و انکار قراءات، تدوین آداب تلاوت، قرآنی معلومات، فتاویٰ، قراء کا تعارف اور انٹرویو ز جیسے عنوانات کے تحت مصنف وار اور الف بائی ترتیب س...

  • 33 ماہنامہ رشد کا علم قراءات نمبر (دوم) (بدھ 01 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:13612

    علم قراءت کے موضوع پر ماہنامہ رشد کی یہ دوسری خصوصی اشاعت ہے-قرآن مجید علوم کا بیش بہا خزانہ اور گرانقدر مخزن ہے، علوم القرآن میں علم القراء ت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے لیکن دیگر علوم کی طرح یہ علم بھی قحط الرجال کا شکار ہے۔ علم القراء ا ت کی اس اہمیت کے پیش نظر ادارہ ماہنامہ رشد کی جانب سے ان خصوصی نمبرز کی اشاعت اس علم کی بہت بڑی خدمت ہے۔مجلہ کے عناوین اور مقالات جہاں ایک قاری کو بہت سی علمی معلومات فراہم کرتے ہیں وہاں ایک محقق کو مزید تحقیق کے لیے بہت سے پہلوؤں کی راہنمائی بھی کرتے ہیں۔ ان عنوانات کا انتخاب ادارہ کا علم القراء ت سے گہری دلچسپی کا مظہر بھی ہے۔اس مجلہ کا ہر مقالہ علمی اعتبار سے ایک خصوصی اہمیت کا حامل ہے خصوصاً علم القراء ت سے متعلق کتب کی فہرست، بین الاقوامی سطح کی یونیورسٹیوں میں لکھے گئے تحقیقی مقالات کی فہرست اور مخطوطات کی فہرست محققین کے لیے بہت سُود مند ہوگی۔ ۹۳۵ صفحات پر مشتمل یہ ضخیم مجلہ 53 مقالات پر مشتمل ہے۔ اس ادارہ سے شائع ہونے والا ماہنامہ ”محدث“ تحقیق کی دنیا میں اہم مقام کا حامل ہے، تحقیق کی وہ روایت اس مجلہ کے مقالات میں بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ بایں وجہ اس مجلہ کو علم القراء ت کا انسائیکلو پیڈیا کہنا بے جا نہ ہوگا۔ ادارہ رشد کی جانب سے اس سے قبل بھی متعدد خصوصی نمبرز شائع ہوچکے ہیں ان نمبرز میں قراء ت کا یہ خصوصی نمبر ایک بہترین علمی اضافہ ہے۔جبکہ تیسرا نمبر بھی زیور طبع سے آراستہ ہو رہا ہے جیسے ہی مکمل ہوگا  تو افادہ عام کے لیے اس کو بھی اپ لوڈ کر دیا جائے گا-ان شاء اللہ

     

    تجوید وقراءات  رشد  اشاعت خاص مجلات 
  • 34 ماہنامہ رشد کا علم قراءات نمبر (دوم) (بدھ 01 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:13612

    علم قراءت کے موضوع پر ماہنامہ رشد کی یہ دوسری خصوصی اشاعت ہے-قرآن مجید علوم کا بیش بہا خزانہ اور گرانقدر مخزن ہے، علوم القرآن میں علم القراء ت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے لیکن دیگر علوم کی طرح یہ علم بھی قحط الرجال کا شکار ہے۔ علم القراء ا ت کی اس اہمیت کے پیش نظر ادارہ ماہنامہ رشد کی جانب سے ان خصوصی نمبرز کی اشاعت اس علم کی بہت بڑی خدمت ہے۔مجلہ کے عناوین اور مقالات جہاں ایک قاری کو بہت سی علمی معلومات فراہم کرتے ہیں وہاں ایک محقق کو مزید تحقیق کے لیے بہت سے پہلوؤں کی راہنمائی بھی کرتے ہیں۔ ان عنوانات کا انتخاب ادارہ کا علم القراء ت سے گہری دلچسپی کا مظہر بھی ہے۔اس مجلہ کا ہر مقالہ علمی اعتبار سے ایک خصوصی اہمیت کا حامل ہے خصوصاً علم القراء ت سے متعلق کتب کی فہرست، بین الاقوامی سطح کی یونیورسٹیوں میں لکھے گئے تحقیقی مقالات کی فہرست اور مخطوطات کی فہرست محققین کے لیے بہت سُود مند ہوگی۔ ۹۳۵ صفحات پر مشتمل یہ ضخیم مجلہ 53 مقالات پر مشتمل ہے۔ اس ادارہ سے شائع ہونے والا ماہنامہ ”محدث“ تحقیق کی دنیا میں اہم مقام کا حامل ہے، تحقیق کی وہ روایت اس مجلہ کے مقالات میں بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ بایں وجہ اس مجلہ کو علم القراء ت کا انسائیکلو پیڈیا کہنا بے جا نہ ہوگا۔ ادارہ رشد کی جانب سے اس سے قبل بھی متعدد خصوصی نمبرز شائع ہوچکے ہیں ان نمبرز میں قراء ت کا یہ خصوصی نمبر ایک بہترین علمی اضافہ ہے۔جبکہ تیسرا نمبر بھی زیور طبع سے آراستہ ہو رہا ہے جیسے ہی مکمل ہوگا  تو افادہ عام کے لیے اس کو بھی اپ لوڈ کر دیا جائے گا-ان شاء اللہ

     

    تجوید وقراءات  رشد  اشاعت خاص مجلات 
  • 35 ماہنامہ رشد کا علم قراءات نمبر (سوم) (اتوار 24 مئی 2015ء)

    مشاہدات:2502

    قرآن حکیم اللہ غزوجل کا مقدس کلام ہے دو صفت خداوندی ہے جس طرح اللہ رب العزت کی ذات بے مثال ہے اسی طرح اس کی صفات بھی بے نظیر ہیں قرآن کریم علوم معارف کا ایک بحربےکراں ہے علوم قرآن پر لکھی گئی کتب سے ان علوم کو تنوع او روسعت کااندازہ ہوتاہے علوم قرآن کاایک اہم گوشہ علم القراءات ہے یعنی قرآن کریم کو ازروئے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم متعدد لہجوں میں پڑھا جاسکتا ہے ماہنامہ رشد نے علم القراءات کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لیے علم قراءات پر خصوصی نمبر شائع کیے ہیں زیر نظر شمارہ حصہ سوئم ہے اس مین قراءات کی تاریخ وحجیت اور اس کے متعلقہ مباحث پر روشنی ڈالی گئی ہے علاوہ ازیں قراءات کے حوالے سے پائے جانے والے اہل استشراق اور ان کے مشرقی تلامذہ کے شبہات کا بھی مدلل ،ٹھوس اور علمی وتحقیقی انداز سے ازالہ گیا ہے نیز اس کے ساتھ متعدد قراء کرام کے سوانح بھی مربع کی گئے ہیں اسی طرح بعض معروف اہل علم کے انٹرویو اور علمی مکاتیب بھی شامل اشاعت ہیں رشد کے قراءات نمبر بلاشبہ علم قراءات پر ایک عظیم انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتے ہیں اور اشاعت علوم قرآنی میں منفرد مقام کے حامل ہیں باری تعالی ادارہ رشد کی اس کاوش کو شرف سے قبولیت سے نوازے او راہل اسلام کےلیے مفید ونافع بنائے-
     

  • 36 ماہنامہ رشد کا علم قراءات نمبر (سوم) (اتوار 24 مئی 2015ء)

    مشاہدات:2502

    قرآن حکیم اللہ غزوجل کا مقدس کلام ہے دو صفت خداوندی ہے جس طرح اللہ رب العزت کی ذات بے مثال ہے اسی طرح اس کی صفات بھی بے نظیر ہیں قرآن کریم علوم معارف کا ایک بحربےکراں ہے علوم قرآن پر لکھی گئی کتب سے ان علوم کو تنوع او روسعت کااندازہ ہوتاہے علوم قرآن کاایک اہم گوشہ علم القراءات ہے یعنی قرآن کریم کو ازروئے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم متعدد لہجوں میں پڑھا جاسکتا ہے ماہنامہ رشد نے علم القراءات کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لیے علم قراءات پر خصوصی نمبر شائع کیے ہیں زیر نظر شمارہ حصہ سوئم ہے اس مین قراءات کی تاریخ وحجیت اور اس کے متعلقہ مباحث پر روشنی ڈالی گئی ہے علاوہ ازیں قراءات کے حوالے سے پائے جانے والے اہل استشراق اور ان کے مشرقی تلامذہ کے شبہات کا بھی مدلل ،ٹھوس اور علمی وتحقیقی انداز سے ازالہ گیا ہے نیز اس کے ساتھ متعدد قراء کرام کے سوانح بھی مربع کی گئے ہیں اسی طرح بعض معروف اہل علم کے انٹرویو اور علمی مکاتیب بھی شامل اشاعت ہیں رشد کے قراءات نمبر بلاشبہ علم قراءات پر ایک عظیم انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتے ہیں اور اشاعت علوم قرآنی میں منفرد مقام کے حامل ہیں باری تعالی ادارہ رشد کی اس کاوش کو شرف سے قبولیت سے نوازے او راہل اسلام کےلیے مفید ونافع بنائے-
     

  • اسلام میں فتویٰ نویسی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ بذات خود اسلام۔ فتویٰ سے مراد پیش آمدہ مسائل اور مشکلات سےمتعلق دلائل کی روشنی میں شریعت کا وہ حکم ہے جو کسی سائل کےجواب میں کوئی عالم دین اور احکامِ شریعت کےاندر بصیرت رکھنے والاشخص بیان کرے۔فتویٰ پوچھنے اور فتویٰ دینے کاسلسلہ رسول ﷺکےمبارک دور سے چلا آرہا ہے ۔نبی کریم ﷺ نے اپنی زبان ر سالت سے سوال کرنے اور اس سوال کاجواب دینے کےادب آداب بھی سکھلائے ہیں ۔کتب فقہ وحدیث میں یہ بحثیں موجود ہیں او رباقاعدہ آداب المفتی والمستفتی کے نام سے کتب بھی لکھی گئیں ہیں ۔ اب عصر حاضر میں تو مفتی کورس بھی کروائے جاتے ہیں۔ ہر دور میں فتاووں کےاثرات دیر پار ہے ہیں ۔فتاوی کےاثرات کبھی کبھی تاریخ ساز ہوتے ہیں ۔ہندوستان میں شاہ عبد العزیز محدث دہلوی ﷫کے فتوےکاہی اثر تھا کہ سید احمد شہید﷫ اور شاہ اسماعیل شہید﷫ کی قیادت میں مجاہدوں کی ایک تحریک اٹھی جس نےملک کو انگریزی استبداد سےنجات دلانے کےلیے کمر کس لی اور اس کی راہ کی صعوبتیں براداشت کرتے ہوئے 1831ء میں جام شہادت نوش کیا ۔ یہ اس فتویٰ کااثر تھا کہ ہندوستانیوں میں قومی شعور پیدا ہوا، ان میں آزادی کا احساس جاگا اور 1857ء میں انگریزوں کےخلاف ایک فیصلہ کن جنگ چھیڑ دی۔ہندوستان میں آزادی کےبعد افتا کافریضہ کافی اہمیت اختیار کرگیا۔لیکن ہمارا دستور آئینِ اسلام کے شرعی قوانین سے قعطا میل نہیں کھاتا ۔ افتا کے نفاذ اور اس پر عمل کی آزادی بہت ہی محدود ہوچکی ہے ۔ حکومتی عدالتیں دار الافتا کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کرتی ہیں۔بر صغیر پاک وہند کےعدالتی نظام نے انصاف کےحصول کوبہت...

  • 38 ماہنامہ محدث کا فتتہ انکار حدیث نمبر (بدھ 01 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:19477

    علم حدیث کی قدرومنزلت او رشرف وقار صرف اس لیے ہے کہ یہ شریعت اسلامی میں قرآن پاک کے بعد دوسرا بڑا مصدر ہے علم حدیث ارشادات واعمال رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مظہر ،حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم فداہ امی وابی کی پاکیزہ زندگی کاعملی عکس ہے جو ہر مسلمان کی شب وروز زندگی  کےلیے بہترین نمہونہ ہے علم حدیث رفیع القدر،عظیم الفخر اور شریف الذکر ہے اس کے شیدائی فدائی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو لقب ’’محدثین ‘‘کے نام سے معروف ہیں۔اس کے مطالعہ سے ان شاءاللہ تعالی اس گروہ جو حدیث ختم رسل صلی اللہ علیہ وسلم کا دل وجان سے مخالف جوبزعم خود اہل قرآن کہلاتا ہے اگرچہ قرآن پاک سے انکا کوئی قطعی تعلق نہیں ان کے پیدا کردہ شکوک وشبہات کا خاطر خواہ ازالہ ہوگا چونکہ منکرین حدیث حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سادہ لوح لوگوں میں یہ تأثر پید ا کرتے ہیں کہ حدیث غیر محفوظ قرآن کے خلاف او رحدیث خود حدیث کے مخالف ہوتی ہے حالانکہ یہ صریحاً دروغ گوئی ہے۔اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا تعارف ،اس کے عمومی خدوخال ،تدوین حدیث،کتابت حدیث،حفاظت حدیث اور حجیت حدیث  پر بنیادی معلومات فراہم کی گئی ہیں نیز دینی رسائل میں حجیت حدیث پر مضامین کا اشاریہ بھی پیش کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ہر عام وخاص علوم حدیث  جیسے اہم علوم کی گہرائی تک  باآسانی  رسائی حاصل کرسکتا ہے ۔

  • مولانا عبد الرحمن کیلانی﷫ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں، انکی علمی و تحقیقی کتب ہی ان کا مکمل تعارف ہیں۔ موصوف جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے ہیں اس کا حق ادا کر دیتے ہیں، مولانا كيلانى اسلامى اور دينى ادب كے پختہ كارقلم كار تھے ۔کتب کے علاوہ ان کے بیسیوں علمی وتحقیقی مقالات ملک کے معروف علمی رسائل وجرائد(ماہنامہ محدث، ترجمان الحدیث ، سہ ماہی منہاج لاہور وغیرہ ) میں شائع ہوئے ان كى بيشتر تاليفات اہل علم وبصيرت سے خراج تحسين پا چکی ہیں۔مولانا کیلانی نےفوج کی سرکاری ملازمت سے استعفی کے بعد کتابت کو بطورِ پیشہ اختیار کیا۔ آپ عربی ،اردو کے بڑے عمدہ کاتب تھے۔١٩٤٧ء سے ١٩٦٥ء تک اردو کتابت کی اور اس وقت کے سب سے بہتر ادارے ، فیروز سنز سے منسلک رہے ۔١٩٦٥ء میں قرآن مجید کی کتابت شروع کی اور تاج کمپنی کے لئے کام کرتے رہے ۔تقریباپچاس قرآن کریم کی انہوں نے کتابت کی ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ١٩٧٢ء میں حج کرنے گئے تو مکی سورتوں کی کتابت باب بلال(مسجد حرام ) میں بیٹھ کر اور مدنی سورتوں کی کتابت مسجد نبوی میں اصحاب صفہ کے چبوترہ پر بیٹھ کر کی ۔یہ وہی قرآن کریم ہے جو پاک وہند کے مسلمانوں کے لیے ان کے مانوس رسم الخط میں سعودی حکومت نے حمائل سائز میں چھاپا اور ہر سال لاکھوں کی تعداد میں چھپتا او رفری تقسیم ہوتا ہے یعنی پاکستان اور سعودی عرب میں مروجہ رسم قرآنی میں سب سے زیادہ چھپنے والے قرآن کی کتابت کی سعادت بھی آپ کو حاصل ہے ۔ تفسیر' تیسیر القرآن 'میں قرآن مجید کی اسی بابرکت کتابت کو ہی بطور متنِ قرآن شائع کیا گیا ہے کتابت کے سلسلہ میں موصوف نے خاندان کے بہت سے لوگو...

  • موجودہ دور میں الیکٹرانک میڈیا  نے جس قدر ترقی کی منازل طے کی ہیں اس سے  یوں محوس ہوتا ہے کہ مستقبل میں لوگوں کے تمام معاملات الیکٹرانک میڈیا کے گرد ہی گھومیں گے اور رسائل وجرائد ایک مخصوص طبقے تک محدود ہوکر رہ جائیں کے ۔ جب کہ یہ دینی رسائل وجرائد ہماری تہذیب اور دینی صحافت کا حصہ ہیں ۔ ذرائع ابلاغ اور میڈیا میں سے یہی ایک وہ طاقت ہے جس کے ذریعے مسلم قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتی  اوراپنی منزل کا تعین کرسکتی ہے ۔ دینی رسائل ہی لوگوں کو دین ِخالص کی تعلیمات سے  روشناس اور موجودہ فتنوں سے آگاہ کرتے ہیں ۔ برصغیر پاک وہند میں اردو زبان میں   بے شمار دینی، ادبی ، سیاسی  مجلات شائع ہوتے ہیں جن کااحاطہ کرنا مشکل ہے ۔پاکستان سے شائع ہونے والے اہم  مجلات کے تعارف کےسلسلے  میں ڈاکٹر سعید الرحمن کی زیر نظر کتاب ’’مجلات ِاسلامیات(نیشنل ڈائریکٹری اسلامک سٹڈیز ریسرچ جزنلز)‘‘ اہم کاوش ہے  اس کتاب میں  انہوں نے  ہائیر ایچوکیشن کمیشن پاکستان سے منظوری پانے  والے اور منظوری کے خواہاں تحقیقی مجلات کی کیٹگریز بنا کر ان کا تعارف پیش کرنے کے علاوہ  اہل علم وادب کی نظر میں رسائل جرائد ومجلات کی علمی ، ادبی وتحقیقی افادیت  کو  بھی پیش کیا ہے  ۔اور علوم اسلامیہ کے فیکلٹی ممبرز ، ایم فل ، پی ایچ ڈی سکالرز اور مدیرانِ جرائد کے لیے  مفید معلومات  اس کتاب میں جمع کردی ہیں ۔(م۔ا)

  • ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 1020
    • اس ہفتے کے قارئین: 7551
    • اس ماہ کے قارئین: 26844
    • کل قارئین : 47730943

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں