دکھائیں کتب
  • فضیلۃ الشیخ ابو القاسم محب اللہ شاہ راشدی ﷫ کی شخصیت او ر ذات گرامی کسی تعارف کی محتاج نہیں آپ سندھ کے سادات گھرانے راشدی خاندان سے تعلق رکھتے تھے سندھ میں راشدی خاندان نہایت اہمیت کا حامل ہے مسلک اہل کو اس علاقے میں صرف ان کی بدولت ہی ترویج وترقی اور فروغ ہوا اس خاندان کی دینی ملی اور مسلکی خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں شیخ محب اللہ راشدی اپنے وقت کے ایک عظیم مفکر ومحدث تھے اور صاحبِ قلم عالم دین تھے آپ نے مختلف مسائل پر اردو اور سندھی زبان میں نہایت وقیع تحقیقی کتابیں اور رسائل لکھے ۔ زیر نظرکتاب در اصل جامعہ بحر العلوم السلفیہ سندھ کے سہ ماہی مجلہ بحر العلوم کا شیخ محب اللہ شاہ راشدی کی حیات وخدمات وتاثرات پر مشتمل خاص نمبر ہے جس میں شیخ کے متعلق نامور علماء اور اہل قلم کے مضامین اور اور تاثرات کو مدیر مجلہ جناب افتخار احمد تاج الدین الازہر ی ﷾ او ران کے رفقاء نے بڑی محنت سے جمع کرکے شائع کیا ہے اللہ تعالی شیخ محب اللہ کے درجات بلند فرمائے۔(آمین) (م۔ا)

     

  • بابائے تبلیغ مولانا محمد عبد اللہ گورداسپوری﷫ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ نے اپنی پوری زندگی دعوت وتبلیغ میں کھپا دی اور تحریک ختم نبوت میں بڑی گراں قدر خدمات انجام دیں۔آپ دین اسلام کی دعوت کو عام کرنے کے مشن میں متعدد بار پابند سلاسل بھی ہوئے ،اور آپ کو مختلف قسم کی اذیتیں دی گئیں ،لیکن آپ کے ایمان میں ذرہ برابر بھی لغزش نہ آئی۔آپ نے قادیانیوں سے متعدد مناظرے کئے اور ان کے ایسے چھکے چھڑائے کہ وہ میدان میں کھڑے نہ رہ پائے۔آپ عقلی ونقلی دلائل کا پہاڑ تھے،اور فریق مخالف کو چند ہی لمحوں میں خاموش کرا دیا کرتے تھے۔ موصوف کے بیٹے   محترم ڈاکٹر بہاؤالدین ﷾ نے بھی   تقریبا 33 جلدوں پر مشتمل کتاب ’’تحرک ختم نبو ت ‘‘اور 6 جلدوں میں تاریخ اہل حدیث لکھ     عظیم الشان خدمت سرانجام دے ہے۔ کتب کی تیاری او رمواد جمع کرنے کے لیے ڈاکٹر بہاؤالدین﷾ کے بیٹے سہیل احمدکی خدمات بھی لائق تحسین ہیں ۔ زیر تبصرہ مجلہ عالمی تحریک ختم نبوت اہل حدیث کے زیر اہتمام ڈسکہ سیالکوٹ سے شائع ہوتا ہے،جس کے مدیر اعلی محترم عبد الحفیظ مظہر اور مدیر حافظ عبد الستار بخاری ہیں۔یہ اس کی خصوصی اشاعت ہے،جس میں بابائے تبلیغ مولانا محمد عبد اللہ گورداسپوری﷫ کی حیات وخدمات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی مدیران مجلہ اور مقالہ نگار حضرات کی ان محنتوں کو قبول فرمائے اور ہمیں بھی ان جیسے بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دین اسلام کی خدمت کرنے کی توفیق اور ہمت دے۔آمین(راسخ)

  • 23 مجلہ دعوۃ الحق نجد و حجاز ایڈیشن (بدھ 25 مئی 2016ء)

    مشاہدات:2055

    نجد وحجاز سے مراد ارض سعودی عرب ہے سعودی خاندان کی حکومت قائم ہونے سے قبل اس خطے کا نام حجاز تھا جس پر ترکوں کی حکومت تھی جب جہاں سے ترکوں کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو اس کا نام المملکۃ السعودیۃ العربیۃ رکھ دیا گیا اور اب یہ اسی نام یعنی سعودی عرب کے نام سے معروف ہے ۔یہاں حرمین کی وجہ سے بلادِ حرمین شریفین بے شمار عظمتوں ، برکتوں اور فضیلتوں کے حامل ہیں ۔ تمام مسلمانوں کےدینی وروحانی مرکزہیں اور حرم مکی مسلمانوں کا قبلہ امت کی وحدت کی علامت اوراتحاد واتفاق کا مظہر ہے۔ پوری دنیا کےمسلمان نمازوں کی ادائیگی کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرتے ہیں اوراس کے علاوہ دیگر اسلامی شعائر وعبادات حج او رعمرہ بھی یہاں ادا ہوتے ہیں ۔ دنیا کے تمام شہروں میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سب سے افضل ہیں اور فضیلت کی وجہ مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کا ہونا جبکہ مدینہ منورہ میں روضہ رسول ﷺ کا ہونا ہے۔ان دونوں کی حرمت قرآن و حدیث میں بیان کی گئی ہے۔سعودی حکومت کی حرمین شریفین کے تحفظ اور دنیا بھر میں دین اسلام کی نشر واشاعت ، تبلیغ کے لیے خدمات لائق تحسین ہیں ۔ زیر تبصرہ مجلہ دعوۃ الحق کا نجد وحجاز ایڈیشن ہے ۔مجلہ مذکور کے ایڈیٹر جناب محمود احمد غضنفر ﷫ نےاس ایڈیشن میں مکہ المکرمہ ، حجاز مقدس ، مدینہ منورہ کی تاریخ اور حرمین شریفین کی حرمت وعظمت ، شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب ﷫ کی حیات و خدمات اور موجود ہ سعودی عرب کے قیام کی تاریخ اور مملکت سعودی عرب کی اشاعت اسلام کے لیے کی جانے والے خدمات کے سلسلے میں نامور مضمون نگاروں کی تحریرں کو اس میں جمع کردیا ہے ۔

  • 24 مجلہ دعوۃ الحق کویت نمبر جنوری 1991ء (بدھ 25 مئی 2016ء)

    مشاہدات:1719

    1990ء میں عراق نے کویت پر عراقی تیل چوری کرنے کا الزام عائد کیا اور مطلوبہ معاوضہ نہ ملنے پر اگست 1990ء میں عراقی فوجیں کویت میں داخل ہو گئیں اور کویت پر قبضہ کرلیاجو سات ماہ جاری رہا۔ کویتی حکمران رات کو سعودی عرب فرار ہو گئے۔ کویت کوعراق  کے قبضہ سے آزاد رکروانے کے لیے  مسلم ممالک نے اہم کردار ادا کیا  بالخصوص سعودی عرب کے شاہ فہد نے ہروال دستے کا  کردار ادا کیا  اور  افواج پ پاکستان اور امریکی افواج  کو  مدد  کےلیے  پکارا تو  امریکی صدرجارج بش کی صدارت میں امریکہ نے سعودی عرب میں اپنی فوجیں جمع کیں اور حملہ کر کے کویت کو عراق سے آزاد کرا لیا۔ مغربی ممالک میں اس حملے کو پہلی خلیجی جنگ کہا جاتا ہے۔اس دوران  پاکستان کی دینی جماعتوں نے تقریر وتحریر کے او راحتجاجی مظاہروں کے ذریعے کویت اورسعودی عرب کا بھر پور ساتھ دیا۔ زیر تبصرہ  مجلہ’’ دعوۃ الحق‘‘  کا  کویت نمبر بھی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔اس مجلہ کے ایڈیٹر جناب مولانا محمود احمد غضنفر﷫ نے جنوری 1991ء میں کویت  کی حمایت اور عراقی قبضہ کی تردید میں عربی اردو زبان میں  نامور قلمکاروں کے 37 مضامیں پر مشتمل  مجلہ ’’ دعوۃ الحق ‘‘ کا کویت نمبر  شائع کیا۔

  • 25 مجلہ صفدر فتنہ غامدی نمبر 1 ( جون 2015ء ) (بدھ 03 فروری 2016ء)

    مشاہدات:3165

    دورِ حاضر کے فتنوں میں ایک بڑا فتنہ منکرین حدیث کا ہے۔ مغرب کی چکا چوند سے متاثر ، وضع قطع میں اسلامی شعائر سے عاری، نام نہاد روشن خیالی کے سپورٹر، دینی اصولوں میں جدت و ارتقاء کے نام پر تحریف کے قائل و فاعل ، دینی احکام کی عملی تعبیر کو انتہا پسندی اور دقیانوسیت قرار دینے والے، قرآن مجید کی آڑ میں احادیث رسول ﷺ کی تاویل و تحریف کے ساتھ استہزاء کرنے والے اس گروہ کے دور حاضر کے لیڈر جناب جاوید احمد غامدی صاحب ہیں۔ جو میڈیا کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنے باطل افکار و نظریات کو خوب پھیلا رہے ہیں۔ جن میں معتزلہ کی طرح عقل انسانی کے بجائے فطرت انسانی کو کلی اختیارات عطا کرنا، دین اسلام کی تفہیم و تشریح میں انسانی فطرت و عربی محاورات یا دور جاہلیت کے اشعار کو بنیادی حیثیت دینا اور احادیث کو روایات کہہ کر ثانوی یا ثالثی حیثیت دے کر اوربسا اوقات قرآن سے متصادم کا لیبل چسپاں کر کے اسے پس پشت ڈال دینا، مسئلہ تحلیل و تحریم کو شریعت سے خارج کرنا، علاقائی رسومات کو تواتر عملی کا جامہ پہنا کر اسے دین بنا ڈالنا، قرآن کے نام پر مغرب کے تمام ملحدانہ افکار و نظریات کو امپورٹ کرنا ، سنت کی جدید تعریف کر کے اصطلاحات محدثین کو نشانہ ستم بنانا، قرات سبعہ کو فتنہ عجم بتانا وغیرہ وغیرہ۔رد فتنہ غامدیت کےسلسلے میں ماہنامہ محدث ،لاہور نے آغاز کیا ۔ محترم مولانا محمدرفیق چودہری صاحب نے مسلسل غامدیت کے رد میں علمی وتحقیقی مضمون لکھے جومحدث کےصفحات پر شائع ہوتے رہے بعدازاں ان مضامین کو چودہری صاحب نے اپنے ادارہ مکتبہ ’’قرآنیات‘‘ کی طرف سے...

  • 26 مجلہ نقوش رسول صلی اللہ علیہ وسلم نمبر جلد۔1 (جمعہ 10 نومبر 2017ء)

    مشاہدات:3351

    سیرتِ رسولﷺ پر منثور اور منظوم نذرانہ عقیدت پیش کرنے کا لا متناہی سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا، بلکہ فرمان الٰہی کے مطابق ہر آنے والے دور میں آپ کا ذکر خیر بڑھتا جائے گا۔دنیا میں ہزار وں سماجی مصلحین ،فلاسفہ و حکماء ،مدبرین و سیاست داں، مقنّنین ومنتظمینِ سلطنت، انسانوں کا بھلا چاہنے والے اور ان کی فلاح و بہبود کے کام کرنے والے آئے، لیکن انسانی سماج پر جتنے ہمہ گیر اثرات خاتم النبیین حضرت محمدﷺ کی ذاتِ گرامی کے مرتب ہوئے، اتنی اثر آفرینی کسی اور کے حصے میں نہیں آئی۔۔ رسول اللہﷺ کی شخصیت اور پیغام کے بارے میں ہر زمانے میں اور دنیا کے ہر خطے میں بے شمار کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور یہ سلسلہ جاری وساری ہے اور قیامت تک رہے گا۔ ان شاء اللہ۔ زیرِ تبصرہ’’ نقوش رسول نمبر‘‘کو مصنف نے سیرت کے موضوع پر لکھے گئے جتنے اچھے اچھے مقالات تھے سب کو اس نمبر کی زینت بنایا ہے اور جن موضوعات پر کام کا مواد نہ تھا اُن موضوعات پر نئے سرے سے کام کروایا۔ اور سیرت کی دوسری کتابوں کی نسبت اس میں بہت تفصیل کے ساتھ لکھا گیا ہے. جہاں دوسری کتابوں میں ہر موضوع پر دو یا ایک صفحے ملیں گے تو اس میں آپ کو اُ س موضوع پر بیسیوں صفحات ملیں گے اور اس میں تکنیک اور مصادر پر آٹھ سو سولہ کے قریب صفحات پیش کیے گئے ہیں جو کہ اس سے پہلے ایسا کام نہیں ہوا۔اس نمبر میں سیرت کی جامعیت اور سیرت نگاری کے اصول اور سیرت کا مکمل مواد کہاں کہاں سے ملے گا کو بڑے احسن اور سلیس زبان میں پیش کیا گیا ہے۔ سیرت کا اولین دور اور اولین کتب کی فہرست اور تفصیل بھی دی گئی ہے۔مص...

  • 27 پندرہ روزہ جریدہ ترجمان دہلی دسمبر 2015ء (ہفتہ 09 اپریل 2016ء)

    مشاہدات:2310

    صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی  سے مراد رسول  اکرم ﷺکا وہ  ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت  میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی  کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص  ہے  لہذاب  یہ لفظ کوئی دوسراشخص اپنے ساتھیوں کےلیے  استعمال نہیں کرسکتا۔  انبیاء  کرام﷩ کے  بعد  صحابہ کرام   کی   مقدس  جماعت تمام  مخلوق سے  افضل  اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام  کو ہی  حاصل  ہے  کہ اللہ  نے   انہیں دنیا میں  ہی  مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے  بہت سی  قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام  سے محبت اور  نبی کریم  ﷺ نے  احادیث مبارکہ  میں جوان کی افضلیت  بیان کی ہے ان کو تسلیم   کرنا  ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔ اور صحابہ کرام کی  مقدس جماعت  ہی وہ پاکیزہ جماعت  ہے جس کی  تعدیل قرآن نے بیان کی ہے ۔ متعدد آیات میں ان کے  فضائل ومناقب پر زور دیا ہے  اوران کے اوصاف حمیدہ کو ’’اسوہ‘‘ کی حیثیت سے پیش کیا ہے ۔  اوران  کی راہ  سے انحراف کو غیر سبیل المؤمنین کی اتباع سے تعبیر  کیا ہے ۔ الغرض ہر جہت سے صحابہ کرا م  کی عدالت وثقاہت پر اعتماد کرنے  پر زور دیا ہے۔ اور علماء امت نے قرآن  وحدیث کےساتھ  تعامل...

  • 28 ہفت روزہ اہلحدیث لاہور (ہفتہ 07 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:1125

    شیخ الحدیث مولانا محمد عبد اللہ﷫ ۱۸؍ مارچ ۱۹۲۰ء بمطابق ۲۶/جمادی الثانی ۱۳۳۸ھ بروز جمعرات، سرگودھا کی تحصیل بھلوال کے نواحی گاؤں چک نمبر ۱۶ جنوبی میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد گرامی مولانا عبدالرحمن نے آپ کا نام محمد عبداللہ رکھا۔ بعدازاں آپ ’شیخ الحدیث‘ کے لقب کے ساتھ مشہور ہوئے۔ اکثر و بیشتر علماء و طلباء آپ کو شیخ الحدیث کے نام سے ہی یادکیا کرتے تھے۔مولانا موصوف نے ۱۹۳۳ء میں مقامی گورنمنٹ سکول سے مڈل کا امتحان پاس کیا، پھردینی تعلیم کی طرف رغبت کی وجہ سے ۱۹۳۴ء میں مدرسہ محمدیہ، چوک اہلحدیث، گوجرانوالہ میں داخلہ لیا۔ اسی مدرسہ سے دینی تعلیم عرصہ آٹھ سال میں مکمل کرکے ۱۹۴۱ء میں سند ِفراغت حاصل کی۔ مدرسہٴ محمدیہ کے جن اساتذہ سے آپ نے اکتسابِ فیض کیا، ان میں سرفہرست اُستاذ الاساتذہ حضرت مولانا حافظ محمد گوندلوی، شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی ﷭ کے اسماء گرامی شامل ہیں۔آپ دورانِ تعلیم سے ہی خطابت میں دلچسپی رکھتے تھے اور گاہے بگاہے منبر خطابت پر اپنے جوہر دکھاتے رہتے تھے۔لیکن ۱۹۴۲ء میں تعلیم سے فراغت کے بعد مستقلاً تدریس اور خطابت اور مدرسہ محمدیہ چوک اہلحدیث میں تدریس کا آغاز کیا۔ حضرت مولانا اسماعیل سلفی  کی وفات بعد کے گوجرانوالہ کی جماعت اہلحدیث نے انہیں مولانا اسماعیل سلفی کا جانشین مقرر کردیا ۔ آپ نے نے 1968 ء سے اپنی وفات تک جامعہ محمدیہ کے مہتمم کے منصب کی ذمہ داری نبھائی ۔ آپ تقریباً دس سال تک مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے امیر رہے۔حضرت مولانا محمد عبداللہ جماعت اہلحدیث کی صف ِاول کے ایک نامور رہنما، کہنہ مشق مدرّس، ممتاز اور...

  • 29 ہفت روزہ اہلحدیث لاہور خدمت اہلحدیث نمبر (بدھ 11 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:1473

    مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت نہیں۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔ زیر تبصرہ رسالہ " ہفت روزہ اہلحدیث لاہور، خدمات اہل حدیث نمبر "  مرکزی جمعیت اہل حدیث کے زیر اہتمام شائع ہوا ہے، جس میں قیام پاکستان کے 50 سالوں کے حوالے سے پاک وہند میں اھلحدیث کی ہمہ جہت خدمات کا حسین ودلآویز تذکرہ ا...

  • 30 ’’ترجمان الحدیث اپریل تا جون 2016ء (اتوار 08 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:1667

    مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫ کی شخصیت تعارف کی محتاج نہیں آپ برصغیر پا ک وہند کے اہل علم طبقہ میں او رخصوصا جماعت اہل میں ایک معروف شخصیت ہیں آپ صحافی ،مقرر، دانش ور وادیب اور وسیع المطالعہ شخصیت ہیں ۔ ان کا شمارعصر حاضر کے ان گنتی کےچند مصنفین میں کیا جاتا ہے جن کے قلم کی روانی کاتذکرہ زبان زدِعام وخاص رہتا ہے تاریخ وسیر و سوانح ان کا پسندیدہ موضوع تھا او ر ان کا یہ بڑا کارنامہ ہے کے انہوں نے برصغیر کے جلیل القدر علمائے اہل حدیث کے حالاتِ زندگی او ر ان کےعلمی وادبی کارناموں کو کتابوں میں محفوظ کردیا ہے مولانا محمداسحاق بھٹی ﷫ تاریخ وسیر کے ساتھ ساتھ مسائل فقہ میں بھی نظر رکھتے تھے مولانا صاحب نے تقریبا 30 سے زائدکتب تصنیف کیں ہیں جن میں سے 26 کتابیں سیر واسوانح سے تعلق رکھتی ہیں مولانا تصنیف وتالیف کےساتھ ساتھ 15 سال ہفت روزہ الاعصتام کے ایڈیٹر بھی رہے الاعتصام میں ان کےاداریے،شذرات،مضامین ومقالات ان کے انداز ِفکر او روسیع معلومات کے آئینہ دار ہیں الاعتصام نے علمی وادبی دنیا میں جو مقام حاصل کیا ہے اس کی ایک وجہ محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫ کی انتھک مساعی اور کوششیں تھیں ۔مولانا مرحوم نے تحریر وتصنیف کے میدان میں بھرپور زندگی بسر کی ۔آپ اپنی زندگی کی 91برس کی بہاریں دیکھ کر مختصر علالت میں مبتلا رہ کر 22 دسمبر 2015ء بروز منگل لاہور میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔(انا للہ وانا الیہ راجعون ) محترم جناب ڈاکٹر حماد لکھوی ﷾ نے ناصر باغ لاہور میں ان کانماز جنازہ کی امامت کی اور پھر انکے آبائی گاؤں ڈھیسیاں فیصل آباد میں میں بعد نماز عشاء شیخ الحدیث حافظ مسعو...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1557
  • اس ہفتے کے قارئین: 16285
  • اس ماہ کے قارئین: 35578
  • کل قارئین : 47818657

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں