کل کتب 30

دکھائیں
کتب
  • 21 #1980

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 2818

    مجلہ بحرالعلوم محدث العصر نمبر ( محب اللہ شاہ راشدی)

    (منگل 15 اپریل 2014ء) ناشر : جامعہ بحرالعلوم السلفیہ، میرپور خاص سندھ

    فضیلۃ الشیخ ابو القاسم محب اللہ شاہ راشدی ﷫ کی شخصیت او ر ذات گرامی کسی تعارف کی محتاج نہیں آپ سندھ کے سادات گھرانے راشدی خاندان سے تعلق رکھتے تھے سندھ میں راشدی خاندان نہایت اہمیت کا حامل ہے مسلک اہل کو اس علاقے میں صرف ان کی بدولت ہی ترویج وترقی اور فروغ ہوا اس خاندان کی دینی ملی اور مسلکی خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں شیخ محب اللہ راشدی اپنے وقت کے ایک عظیم مفکر ومحدث تھے اور صاحبِ قلم عالم دین تھے آپ نے مختلف مسائل پر اردو اور سندھی زبان میں نہایت وقیع تحقیقی کتابیں اور رسائل لکھے ۔ زیر نظرکتاب در اصل جامعہ بحر العلوم السلفیہ سندھ کے سہ ماہی مجلہ بحر العلوم کا شیخ محب اللہ شاہ راشدی کی حیات وخدمات وتاثرات پر مشتمل خاص نمبر ہے جس میں شیخ کے متعلق نامور علماء اور اہل قلم کے مضامین اور اور تاثرات کو مدیر مجلہ جناب افتخار احمد تاج الدین الازہر ی ﷾ او ران کے رفقاء نے بڑی محنت سے جمع کرکے شائع کیا ہے اللہ تعالی شیخ محب اللہ کے درجات بلند فرمائے۔(آمین) (م۔ا)

     

  • 22 #2343

    مصنف : عبد الحفیظ مظہر

    مشاہدات : 1616

    مجلہ خاتم النبیین (مولانا محمد عبد اللہ گورداسپوری)

    (پیر 11 اگست 2014ء) ناشر : عالمی تحریک ختم نبوت، ڈسکہ

    بابائے تبلیغ مولانا محمد عبد اللہ گورداسپوری﷫ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ نے اپنی پوری زندگی دعوت وتبلیغ میں کھپا دی اور تحریک ختم نبوت میں بڑی گراں قدر خدمات انجام دیں۔آپ دین اسلام کی دعوت کو عام کرنے کے مشن میں متعدد بار پابند سلاسل بھی ہوئے ،اور آپ کو مختلف قسم کی اذیتیں دی گئیں ،لیکن آپ کے ایمان میں ذرہ برابر بھی لغزش نہ آئی۔آپ نے قادیانیوں سے متعدد مناظرے کئے اور ان کے ایسے چھکے چھڑائے کہ وہ میدان میں کھڑے نہ رہ پائے۔آپ عقلی ونقلی دلائل کا پہاڑ تھے،اور فریق مخالف کو چند ہی لمحوں میں خاموش کرا دیا کرتے تھے۔ موصوف کے بیٹے   محترم ڈاکٹر بہاؤالدین ﷾ نے بھی   تقریبا 33 جلدوں پر مشتمل کتاب ’’تحرک ختم نبو ت ‘‘اور 6 جلدوں میں تاریخ اہل حدیث لکھ     عظیم الشان خدمت سرانجام دے ہے۔ کتب کی تیاری او رمواد جمع کرنے کے لیے ڈاکٹر بہاؤالدین﷾ کے بیٹے سہیل احمدکی خدمات بھی لائق تحسین ہیں ۔ زیر تبصرہ مجلہ عالمی تحریک ختم نبوت اہل حدیث کے زیر اہتمام ڈسکہ سیالکوٹ سے شائع ہوتا ہے،جس کے مدیر اعلی محترم عبد الحفیظ مظہر اور مدیر حافظ عبد الستار بخاری ہیں۔یہ اس کی خصوصی اشاعت ہے،جس میں بابائے تبلیغ مولانا محمد عبد اللہ گورداسپوری﷫ کی حیات وخدمات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی مدیران مجلہ اور مقالہ نگار حضرات کی ان محنتوں کو قبول فرمائے اور ہمیں بھی ان جیسے بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دین اسلام کی خدمت کرنے کی توفیق اور ہمت دے۔آمین(راسخ)

  • 23 #4490

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 2144

    مجلہ دعوۃ الحق نجد و حجاز ایڈیشن

    (بدھ 25 مئی 2016ء) ناشر : ادارہ دعوۃ الحق لاہور

    نجد وحجاز سے مراد ارض سعودی عرب ہے سعودی خاندان کی حکومت قائم ہونے سے قبل اس خطے کا نام حجاز تھا جس پر ترکوں کی حکومت تھی جب جہاں سے ترکوں کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو اس کا نام المملکۃ السعودیۃ العربیۃ رکھ دیا گیا اور اب یہ اسی نام یعنی سعودی عرب کے نام سے معروف ہے ۔یہاں حرمین کی وجہ سے بلادِ حرمین شریفین بے شمار عظمتوں ، برکتوں اور فضیلتوں کے حامل ہیں ۔ تمام مسلمانوں کےدینی وروحانی مرکزہیں اور حرم مکی مسلمانوں کا قبلہ امت کی وحدت کی علامت اوراتحاد واتفاق کا مظہر ہے۔ پوری دنیا کےمسلمان نمازوں کی ادائیگی کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرتے ہیں اوراس کے علاوہ دیگر اسلامی شعائر وعبادات حج او رعمرہ بھی یہاں ادا ہوتے ہیں ۔ دنیا کے تمام شہروں میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سب سے افضل ہیں اور فضیلت کی وجہ مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کا ہونا جبکہ مدینہ منورہ میں روضہ رسول ﷺ کا ہونا ہے۔ان دونوں کی حرمت قرآن و حدیث میں بیان کی گئی ہے۔سعودی حکومت کی حرمین شریفین کے تحفظ اور دنیا بھر میں دین اسلام کی نشر واشاعت ، تبلیغ کے لیے خدمات لائق تحسین ہیں ۔ زیر تبصرہ مجلہ دعوۃ الحق کا نجد وحجاز ایڈیشن ہے ۔مجلہ مذکور کے ایڈیٹر جناب محمود احمد غضنفر ﷫ نےاس ایڈیشن میں مکہ المکرمہ ، حجاز مقدس ، مدینہ منورہ کی تاریخ اور حرمین شریفین کی حرمت وعظمت ، شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب ﷫ کی حیات و خدمات اور موجود ہ سعودی عرب کے قیام کی تاریخ اور مملکت سعودی عرب کی اشاعت اسلام کے لیے کی جانے والے خدمات کے سلسلے میں نامور مضمون نگاروں کی تحریرں کو اس میں جمع کردیا ہے ۔

  • 24 #4489

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 1781

    مجلہ دعوۃ الحق کویت نمبر جنوری 1991ء

    (بدھ 25 مئی 2016ء) ناشر : جامعہ الفیصل الاسلامیہ لاہور

    1990ء میں عراق نے کویت پر عراقی تیل چوری کرنے کا الزام عائد کیا اور مطلوبہ معاوضہ نہ ملنے پر اگست 1990ء میں عراقی فوجیں کویت میں داخل ہو گئیں اور کویت پر قبضہ کرلیاجو سات ماہ جاری رہا۔ کویتی حکمران رات کو سعودی عرب فرار ہو گئے۔ کویت کوعراق  کے قبضہ سے آزاد رکروانے کے لیے  مسلم ممالک نے اہم کردار ادا کیا  بالخصوص سعودی عرب کے شاہ فہد نے ہروال دستے کا  کردار ادا کیا  اور  افواج پ پاکستان اور امریکی افواج  کو  مدد  کےلیے  پکارا تو  امریکی صدرجارج بش کی صدارت میں امریکہ نے سعودی عرب میں اپنی فوجیں جمع کیں اور حملہ کر کے کویت کو عراق سے آزاد کرا لیا۔ مغربی ممالک میں اس حملے کو پہلی خلیجی جنگ کہا جاتا ہے۔اس دوران  پاکستان کی دینی جماعتوں نے تقریر وتحریر کے او راحتجاجی مظاہروں کے ذریعے کویت اورسعودی عرب کا بھر پور ساتھ دیا۔ زیر تبصرہ  مجلہ’’ دعوۃ الحق‘‘  کا  کویت نمبر بھی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔اس مجلہ کے ایڈیٹر جناب مولانا محمود احمد غضنفر﷫ نے جنوری 1991ء میں کویت  کی حمایت اور عراقی قبضہ کی تردید میں عربی اردو زبان میں  نامور قلمکاروں کے 37 مضامیں پر مشتمل  مجلہ ’’ دعوۃ الحق ‘‘ کا کویت نمبر  شائع کیا۔

  • 25 #4023

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 4788

    مجلہ صفدر فتنہ غامدی نمبر 1 ( جون 2015ء )

    (بدھ 03 فروری 2016ء) ناشر : جامعہ حنفیہ فیصل آباد

    دورِ حاضر کے فتنوں میں ایک بڑا فتنہ منکرین حدیث کا ہے۔ مغرب کی چکا چوند سے متاثر ، وضع قطع میں اسلامی شعائر سے عاری، نام نہاد روشن خیالی کے سپورٹر، دینی اصولوں میں جدت و ارتقاء کے نام پر تحریف کے قائل و فاعل ، دینی احکام کی عملی تعبیر کو انتہا پسندی اور دقیانوسیت قرار دینے والے، قرآن مجید کی آڑ میں احادیث رسول ﷺ کی تاویل و تحریف کے ساتھ استہزاء کرنے والے اس گروہ کے دور حاضر کے لیڈر جناب جاوید احمد غامدی صاحب ہیں۔ جو میڈیا کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنے باطل افکار و نظریات کو خوب پھیلا رہے ہیں۔ جن میں معتزلہ کی طرح عقل انسانی کے بجائے فطرت انسانی کو کلی اختیارات عطا کرنا، دین اسلام کی تفہیم و تشریح میں انسانی فطرت و عربی محاورات یا دور جاہلیت کے اشعار کو بنیادی حیثیت دینا اور احادیث کو روایات کہہ کر ثانوی یا ثالثی حیثیت دے کر اوربسا اوقات قرآن سے متصادم کا لیبل چسپاں کر کے اسے پس پشت ڈال دینا، مسئلہ تحلیل و تحریم کو شریعت سے خارج کرنا، علاقائی رسومات کو تواتر عملی کا جامہ پہنا کر اسے دین بنا ڈالنا، قرآن کے نام پر مغرب کے تمام ملحدانہ افکار و نظریات کو امپورٹ کرنا ، سنت کی جدید تعریف کر کے اصطلاحات محدثین کو نشانہ ستم بنانا، قرات سبعہ کو فتنہ عجم بتانا وغیرہ وغیرہ۔رد فتنہ غامدیت کےسلسلے میں ماہنامہ محدث ،لاہور نے آغاز کیا ۔ محترم مولانا محمدرفیق چودہری صاحب نے مسلسل غامدیت کے رد میں علمی وتحقیقی مضمون لکھے جومحدث کےصفحات پر شائع ہوتے رہے بعدازاں ان مضامین کو چودہری صاحب نے اپنے ادارہ مکتبہ ’’قرآنیات‘‘ کی طرف سے کتابی صورت میں شائع کیا۔جسے اہل علم کے ہاں بڑا قبول عام حاصل ہوا ۔اور پھر اس کے بعد کئی اہل علم نے غامدیت کے رد میں مضامین وکتب تصنیف کیں حالیہ ایام میں مجلہ ماہنامہ ’’صفدر ‘‘ کی غامدیت کے رد میں جدوجہد بھی انتہائی لائق تحسین ہے۔ زیر تبصرہ مجلہ ماہنامہ کا صفدر کا ’’ فتنہ غامدی نمبر‘‘ ہے جسے ماہنامہ صفدر ک ذمہ داران نے بڑی محنت اور جدوجہد سے مرتب کر کے قارئین کے سامنے پیش کیا ہے ۔یہ فتنہ غامدی نمبر محض صفحات کاایک مجموعہ اورکاغذوں کاایک پلندہ نہیں ہے بلکہ بہت سے اہل علم کی دماغ سوزی ، بہت سے اہل دل کے درد دل اور بہت سےاہل محبت کی محبتوں کی مجسم صورت ہے ۔اور ملک بھر کے نامور قلمکار ،مضمون نگاران اور جید علماء کرام ،مفیانِ عظام کی قیمتی تحریروں کا بیش قیمت مجموعہ ہے ۔یہ خاص نمبر ٹی وی اور میڈیا کے شہرت یافتہ متجدد ،آزادخیالی کے داعی دورِ حاضر کے منکرِحدیث نام نہاد دینی اسکالر جاوید احمد غامدی کے گمراہ کن افکار ونظریات کا تحقیقی وعلمی محاسبہ پر مشتمل علمی دستاویزات ہے ۔اس میں ایک باب جاوید غامدی اور اس کے ہم خیال احباب کے افکار ونظریات کے حامل افراد کے متعلق ملک کے نامور مفیان کے فتاوی ٰ جات پر مشتمل ہے جس میں انہوں نے دلائل سے جاوید غامدی کوان کےافکار ونظریات کی وجہ سے ملحد وزندیق قرار دیا ہے ۔یقیناً اس کا حق اور اس کی قدر کا طریقہ یہی ہے کہ اس کی دعوت کودل کے نہاں خانوں سے اتار کر اسے گلی گلی، کوچہ کوچہ عام کیا جائے،غامدیت اور ہر باطل کے زہر سے خود کومحفوظ رکھنے کے علاوہ ہر مسلمان کو اس ایمان سوز فتنے سے بچانے اوراس کی ضلالت کو سمجھانے کی کوشش کی جائے۔اللہ تعالیٰ محترم مولانا احسن خدامی ، حمزہ احسانی اور کے معاونین ،اوراس خاص نمبر کو منظر عام پرلانے میں شامل تمام احباب کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور اسے مسلمانوں کےلیے فتنہ غامدیت سے بچنے کا ذریعہ بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • 26 #5863

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 3786

    مجلہ نقوش رسول صلی اللہ علیہ وسلم نمبر جلد۔1

    dsa (جمعہ 10 نومبر 2017ء) ناشر : ادارہ فروغ اردو، لاہور

    سیرتِ رسولﷺ پر منثور اور منظوم نذرانہ عقیدت پیش کرنے کا لا متناہی سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا، بلکہ فرمان الٰہی کے مطابق ہر آنے والے دور میں آپ کا ذکر خیر بڑھتا جائے گا۔دنیا میں ہزار وں سماجی مصلحین ،فلاسفہ و حکماء ،مدبرین و سیاست داں، مقنّنین ومنتظمینِ سلطنت، انسانوں کا بھلا چاہنے والے اور ان کی فلاح و بہبود کے کام کرنے والے آئے، لیکن انسانی سماج پر جتنے ہمہ گیر اثرات خاتم النبیین حضرت محمدﷺ کی ذاتِ گرامی کے مرتب ہوئے، اتنی اثر آفرینی کسی اور کے حصے میں نہیں آئی۔۔ رسول اللہﷺ کی شخصیت اور پیغام کے بارے میں ہر زمانے میں اور دنیا کے ہر خطے میں بے شمار کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور یہ سلسلہ جاری وساری ہے اور قیامت تک رہے گا۔ ان شاء اللہ۔ زیرِ تبصرہ’’ نقوش رسول نمبر‘‘کو مصنف نے سیرت کے موضوع پر لکھے گئے جتنے اچھے اچھے مقالات تھے سب کو اس نمبر کی زینت بنایا ہے اور جن موضوعات پر کام کا مواد نہ تھا اُن موضوعات پر نئے سرے سے کام کروایا۔ اور سیرت کی دوسری کتابوں کی نسبت اس میں بہت تفصیل کے ساتھ لکھا گیا ہے. جہاں دوسری کتابوں میں ہر موضوع پر دو یا ایک صفحے ملیں گے تو اس میں آپ کو اُ س موضوع پر بیسیوں صفحات ملیں گے اور اس میں تکنیک اور مصادر پر آٹھ سو سولہ کے قریب صفحات پیش کیے گئے ہیں جو کہ اس سے پہلے ایسا کام نہیں ہوا۔اس نمبر میں سیرت کی جامعیت اور سیرت نگاری کے اصول اور سیرت کا مکمل مواد کہاں کہاں سے ملے گا کو بڑے احسن اور سلیس زبان میں پیش کیا گیا ہے۔ سیرت کا اولین دور اور اولین کتب کی فہرست اور تفصیل بھی دی گئی ہے۔مصنف نے اس رسالے کو ’’نقوش رسول نمبر‘‘ کے نام سے تصنیف کیا ہے۔ جو کہ سیرت پر بہت عمدہ مواد کا حامل ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنف  کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے۔ (آمین)( ح۔م۔ا )

  • 27 #4385

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 2434

    پندرہ روزہ جریدہ ترجمان دہلی دسمبر 2015ء

    (ہفتہ 09 اپریل 2016ء) ناشر : مرکزی جمعیت اہل حدیث، ہند

    صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی  سے مراد رسول  اکرم ﷺکا وہ  ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت  میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی  کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص  ہے  لہذاب  یہ لفظ کوئی دوسراشخص اپنے ساتھیوں کےلیے  استعمال نہیں کرسکتا۔  انبیاء  کرام﷩ کے  بعد  صحابہ کرام   کی   مقدس  جماعت تمام  مخلوق سے  افضل  اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام  کو ہی  حاصل  ہے  کہ اللہ  نے   انہیں دنیا میں  ہی  مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے  بہت سی  قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام  سے محبت اور  نبی کریم  ﷺ نے  احادیث مبارکہ  میں جوان کی افضلیت  بیان کی ہے ان کو تسلیم   کرنا  ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔ اور صحابہ کرام کی  مقدس جماعت  ہی وہ پاکیزہ جماعت  ہے جس کی  تعدیل قرآن نے بیان کی ہے ۔ متعدد آیات میں ان کے  فضائل ومناقب پر زور دیا ہے  اوران کے اوصاف حمیدہ کو ’’اسوہ‘‘ کی حیثیت سے پیش کیا ہے ۔  اوران  کی راہ  سے انحراف کو غیر سبیل المؤمنین کی اتباع سے تعبیر  کیا ہے ۔ الغرض ہر جہت سے صحابہ کرا م  کی عدالت وثقاہت پر اعتماد کرنے  پر زور دیا ہے۔ اور علماء امت نے قرآن  وحدیث کےساتھ  تعامل ِ صحابہؓ کو بھی شرعی حیثیت سے پیش کیا ہے ۔اور محدثین نے ’’الصحابۃ کلہم عدول‘‘  کے قاعدہ کےتحت رواۃ حدیث پر جرح وتعدیل کا آغاز  تابعین سے کیا ہے۔اگر صحابہ پر کسی پہلو سے  تنقید جائز ہوتی توکوئی وجہ نہ تھی  کہ محدثین اس سے صرفِ نظر کرتے یاتغافل کشی سے کام لیتے۔ لہذا تمام صحابہ کرام کی شخصیت ،کردار، سیرت اور عدالت بے غبار ہے اور قیامت تک بے غبار رہی گئی ۔ لیکن مخالفین اسلام نے جب کتاب وسنت کو مشکوک بنانے کے لیے  سازشیں کیں تو انہوں نے سب سے پہلے  صحابہ کرامؓ ہی کو ہدف تنقید بنانا  ضروری سمجھا۔ ان  کے کردار کوبد نما کرنے  کےلیے  ہر قسم کےاتہام تراشنے سے دریغ نہ کیا۔قرآن وسنت کے مقابلہ میں تاریخی وادبی کتابوں سے چھان بین کر کے تصویر کا دوسرا رخ پیش کرنے کی سعئ ناکام کی تو  محدثین اور علمائے امت نے   مستشرقین کے  اعتراضات کے  جوابات اور دفاع صحابہ کے سلسلے میں   گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ زیر تبصرہ رسالہ"ترجمان دھلی"مسلک اہلحدیث کا داعی اور مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کا نقیب ہے اور اس کی یہ خاص اشاعت عدالت صحابہ کے عنوان پر ہے۔اس میں متعدد اہل علم کے مقالات جمع ہیں جن میں عدالت صحابہ  سے متعلق  مباحث  سپرد قلم کیے  گئے  ہیں۔ان مباحث  سے عدالت صحابہ  سے متعلق اکثر شبہات کا ازالہ ہوجاتا ہے۔اللہ تعالیٰ  سے دعا ہے کہ وہ اس رسالے میں مقالات لکھنے والے تمام علماء کرام کی اس کا وشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور اہل اسلام کے دلوں میں صحابہ کی   عظمت ومحبت پیدا فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 28 #5034

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 1223

    ہفت روزہ اہلحدیث لاہور

    (ہفتہ 07 جنوری 2017ء) ناشر : نا معلوم

    شیخ الحدیث مولانا محمد عبد اللہ﷫ ۱۸؍ مارچ ۱۹۲۰ء بمطابق ۲۶/جمادی الثانی ۱۳۳۸ھ بروز جمعرات، سرگودھا کی تحصیل بھلوال کے نواحی گاؤں چک نمبر ۱۶ جنوبی میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد گرامی مولانا عبدالرحمن نے آپ کا نام محمد عبداللہ رکھا۔ بعدازاں آپ ’شیخ الحدیث‘ کے لقب کے ساتھ مشہور ہوئے۔ اکثر و بیشتر علماء و طلباء آپ کو شیخ الحدیث کے نام سے ہی یادکیا کرتے تھے۔مولانا موصوف نے ۱۹۳۳ء میں مقامی گورنمنٹ سکول سے مڈل کا امتحان پاس کیا، پھردینی تعلیم کی طرف رغبت کی وجہ سے ۱۹۳۴ء میں مدرسہ محمدیہ، چوک اہلحدیث، گوجرانوالہ میں داخلہ لیا۔ اسی مدرسہ سے دینی تعلیم عرصہ آٹھ سال میں مکمل کرکے ۱۹۴۱ء میں سند ِفراغت حاصل کی۔ مدرسہٴ محمدیہ کے جن اساتذہ سے آپ نے اکتسابِ فیض کیا، ان میں سرفہرست اُستاذ الاساتذہ حضرت مولانا حافظ محمد گوندلوی، شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی ﷭ کے اسماء گرامی شامل ہیں۔آپ دورانِ تعلیم سے ہی خطابت میں دلچسپی رکھتے تھے اور گاہے بگاہے منبر خطابت پر اپنے جوہر دکھاتے رہتے تھے۔لیکن ۱۹۴۲ء میں تعلیم سے فراغت کے بعد مستقلاً تدریس اور خطابت اور مدرسہ محمدیہ چوک اہلحدیث میں تدریس کا آغاز کیا۔ حضرت مولانا اسماعیل سلفی  کی وفات بعد کے گوجرانوالہ کی جماعت اہلحدیث نے انہیں مولانا اسماعیل سلفی کا جانشین مقرر کردیا ۔ آپ نے نے 1968 ء سے اپنی وفات تک جامعہ محمدیہ کے مہتمم کے منصب کی ذمہ داری نبھائی ۔ آپ تقریباً دس سال تک مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے امیر رہے۔حضرت مولانا محمد عبداللہ جماعت اہلحدیث کی صف ِاول کے ایک نامور رہنما، کہنہ مشق مدرّس، ممتاز اور قدآور علمی شخصیت تھے۔ اللہ نے آپ کو ذہن رسا اور کمال استحضارِ علمی سے نوازا تھا، علمی دسترس کی وجہ سے آپ علمی مکالمہ میں خصوصی ملکہ رکھتے تھے۔ مولاناموصوف کو تدریس وخطابت کا فن اپنے اساتذہ خصوصاً مولانا اسماعیل سلفی سے ملا تھا۔ آپ نے عرصہ ۳۱ سال تک اپنے استادِ گرامی کے جاری کردہ درسِ قرآن اور خطبہ جمعہ کو بالاہتمام نبھایا۔ منفرد اور اعلیٰ تدریسی مہارت کے ساتھ ساتھ آپ ایک بلند پایہ خطیب بھی تھے۔ بیان کرنے کا انداز عام فہم، پرمغز، مدلل، موٴثر اور دلنشین ہوتا تھا۔ مولانا عبداللہ مرحوم کو جب علامہ احسان الٰہی ظہیرشہید ﷫نے اپنی جمعیت اہلحدیث کا امیر بنایا جبکہ اس وقت مرکزی جمعیت اہلحدیث موجود تھی تو ان کا تعارف گوجرانوالہ ضلع سے باہر بھی پھیلنے لگا، لیکن مولانا ہمیشہ کی طرح اپنے دورِ امارت میں بھی مثبت اور تعمیری رویہ کے حامل رہے، اور باہم اتفاق و اتحاد کے لئے کوششیں جاری رکھیں۔ چنانچہ علامہ ظہیر کی وفات کے بعد جب دونوں جمعیتیں، مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان اور جمعیت اہلحدیث پاکستان باہم ضم ہوگئیں اور متفقہ نام "مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان" ہی قرار پایا تو متفقہ طورپر آخری لمحات تک اس کی سرپرستی فرماتے رہے۔ مولانا کی علمی اور جماعتی خدمات کی وجہ سے آپ کو انگلستان، سعودی عرب، کویت، عراق، متحدہ عرب امارات، اردن، شام اور دوسرے ممالک کے تبلیغی دورے بھی کروائے گئے چنانچہ ہر جگہ پر علم و فضل کے ساتھ فصیح و بلیغ خطابت کا لوہا بھی منوایا۔مولانا مرحوم زہد و تقویٰ، تہجد گزاری، دیانتدارانہ اور کریمانہ اخلا ق واوصاف کے حامل تھے۔ زیر تبصرہ مجلہ ’’ہفت روزہ اہل حدیث ‘‘ کی شیخ الحدیث مولانا عبد اللہ کی وفات پر ان کی حیات وخدمات کےمتعلق اشاعت خاص ہے ۔اس مجلہ میں مولانا موصوف کی پیدائش ، تعلیم ، خطابت ، اساتذہ ،تلامذہ ،جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ میں تدریسی و انتطامی خدمات ،جماعت اہل حدیث کی امارت وسرپرستی ، اور ان کی زند گی کےحالات واقعات کےمتعلق وطن عزیز کے معروف سوانح نگار وں اور قلماکاروں کے مضامین اس اشاعت خاص میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا کی مرقد پراپنی رحمت کی برکھا برسائے اور اسے جنت کا باغیچہ بنائے ۔(آمین)

  • 29 #5045

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 1611

    ہفت روزہ اہلحدیث لاہور خدمت اہلحدیث نمبر

    (بدھ 11 جنوری 2017ء) ناشر : نا معلوم

    مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت نہیں۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔ زیر تبصرہ رسالہ " ہفت روزہ اہلحدیث لاہور، خدمات اہل حدیث نمبر "  مرکزی جمعیت اہل حدیث کے زیر اہتمام شائع ہوا ہے، جس میں قیام پاکستان کے 50 سالوں کے حوالے سے پاک وہند میں اھلحدیث کی ہمہ جہت خدمات کا حسین ودلآویز تذکرہ اور ایک تاریخی دستاویز کو جمع کر دیا گیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مرکزی جمعیت اہل حدیث کی اس کاوشوں  کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے ۔آمین(راسخ)

  • 30 #5036

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 1910

    ’’ترجمان الحدیث اپریل تا جون 2016ء

    (اتوار 08 جنوری 2017ء) ناشر : ادارۃ البحوث الاسلامیہ جامعہ سلفیہ فیصل آباد

    مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫ کی شخصیت تعارف کی محتاج نہیں آپ برصغیر پا ک وہند کے اہل علم طبقہ میں او رخصوصا جماعت اہل میں ایک معروف شخصیت ہیں آپ صحافی ،مقرر، دانش ور وادیب اور وسیع المطالعہ شخصیت ہیں ۔ ان کا شمارعصر حاضر کے ان گنتی کےچند مصنفین میں کیا جاتا ہے جن کے قلم کی روانی کاتذکرہ زبان زدِعام وخاص رہتا ہے تاریخ وسیر و سوانح ان کا پسندیدہ موضوع تھا او ر ان کا یہ بڑا کارنامہ ہے کے انہوں نے برصغیر کے جلیل القدر علمائے اہل حدیث کے حالاتِ زندگی او ر ان کےعلمی وادبی کارناموں کو کتابوں میں محفوظ کردیا ہے مولانا محمداسحاق بھٹی ﷫ تاریخ وسیر کے ساتھ ساتھ مسائل فقہ میں بھی نظر رکھتے تھے مولانا صاحب نے تقریبا 30 سے زائدکتب تصنیف کیں ہیں جن میں سے 26 کتابیں سیر واسوانح سے تعلق رکھتی ہیں مولانا تصنیف وتالیف کےساتھ ساتھ 15 سال ہفت روزہ الاعصتام کے ایڈیٹر بھی رہے الاعتصام میں ان کےاداریے،شذرات،مضامین ومقالات ان کے انداز ِفکر او روسیع معلومات کے آئینہ دار ہیں الاعتصام نے علمی وادبی دنیا میں جو مقام حاصل کیا ہے اس کی ایک وجہ محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫ کی انتھک مساعی اور کوششیں تھیں ۔مولانا مرحوم نے تحریر وتصنیف کے میدان میں بھرپور زندگی بسر کی ۔آپ اپنی زندگی کی 91برس کی بہاریں دیکھ کر مختصر علالت میں مبتلا رہ کر 22 دسمبر 2015ء بروز منگل لاہور میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔(انا للہ وانا الیہ راجعون ) محترم جناب ڈاکٹر حماد لکھوی ﷾ نے ناصر باغ لاہور میں ان کانماز جنازہ کی امامت کی اور پھر انکے آبائی گاؤں ڈھیسیاں فیصل آباد میں میں بعد نماز عشاء شیخ الحدیث حافظ مسعود عالم ﷾ نے نماز جنازہ پڑہائی۔ہرجگہ ایک جم غفیر نماز جنازہ میں شریک ہوا اور ہر جگہ اہل علم اوردیندار طبقہ کی کثرت تھی۔ اللہ تعالیٰ مولانامرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی وارفع مقام عطافرمائے ۔(آمین) زیر تبصرہ مجلہ ’’ترجمان الحدیث اپریل تا جون 2016ء‘‘ مورخ اہل حدیث کی حیات وخدمات کے متعلق 356 صفحات پر مشتمل اشاعت خاص ہے۔اس مجلہ میں مولانا اسحاق بھٹی ﷫ کی حیات وخدمات کے متعلق ملک بھر کے نامور مضمون نگاروں کے قیمتی 45 مضامین شامل ہیں ۔ا ن مضامین میں مولانا کی پیدائش سے لے کر موت تک کے مکمل حالات و واقعات ، تعلیم، ملازمت،صحافتی وتصنیفی خدمات کا تفصیلی تذکرہ ہے۔جامعہ سلفیہ فیصل آباد کے ذمہ دران کی یہ کاوش انتہائی لائق تحسین ہے کہ انہوں نے مورخ اہل کی حیات وخدمات کو جمع کرکے اسے خوبصورت ضخیم کتابی صورت میں شائع کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ انہیں اجر عظیم سے نوازے ۔(م۔ا)

< 1 2 3 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 911
  • اس ہفتے کے قارئین 4788
  • اس ماہ کے قارئین 56821
  • کل قارئین49481511

موضوعاتی فہرست