کل کتب 620

دکھائیں
کتب
  • 591 #2901

    مصنف : محمد بن ابی بکر بن عبد القادر الرازی

    مشاہدات : 2992

    نکات القرآن سوالا جوابا

    (پیر 16 فروری 2015ء) ناشر : ادارہ اسلامیات لاہور۔کراچی

    قرآن مجید وہ عظیم الشان کتاب ہے ،جسے اللہ تعالی کا کلام ہونے کا شرف حاصل ہے۔اس کو پڑھنا باعث اجر وثواب اور اس پر عمل کرنا باعث نجات ہے۔جو قوم اسے تھام لیتی ہے وہ رفعت وبلندی کے اعلی ترین مقام پر فائز ہو جاتی ہے،اور جو اسے پس پشت ڈال دیتی ہے ،وہ ذلیل وخوار ہو کر رہ جاتی ہے۔یہ کتاب مبین انسانیت کے لئے دستور حیات اور ضابطہ زندگی کی حیثیت رکھتی ہے۔یہ انسانیت کو راہ راست پر لانے والی ،بھٹکے ہووں کو صراط مستقیم پر چلانے والی ،قعر مذلت میں گرے ہووں کو اوج ثریا پر لے جانے والے ،اور شیطان کی بندگی کرنے والوں کو رحمن کی بندگی سکھلانے والی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " نکات القرآن " حنفی مکتب فکر کے شیخ زید الدین محمد بن ابو بکر بن عبد القادر الرازی(المتوفی 666ھ) کی عربی تصنیف"مسائل الرازی واجوبتھا من غرائب آی التنزیل"کا اردو ترجمہ ہے۔اردو ترجمہ ادارہ اسلامیات لاہور وکراچی کے زیر اہتمام مولانا خالد محمود صاحب،مولانا محمد انس صاحب اور مولانا سید عبد العظیم صاحب پر مشتمل کمیٹی نے کیا ہے۔اس کتاب  میں مولف موصوف نے قرآن مجید کے علمی وادبی نکات واسرار کو 1200 سوالات کی صورت میں پیش کیاہے۔یہ کتاب قرآن مجید کے علوم ومعارف اور اسرار ورموز کی تشریح وتفہیم میں ایک منفرد ،نایاب اور بے مثال کاوش ہے۔ اللہ تعالی مولف کو اس کاوش پر جزائے خیر عطا فرمائے،ہمیں قرآنی برکات سے استفادہ کرنے کی توفیق دے۔آمین(راسخ)

  • 592 #4630

    مصنف : نواب صدیق الحسن خاں

    مشاہدات : 4072

    نیل المرام من تفسیر آیات الاحکام (اردو)

    (منگل 19 اپریل 2016ء) ناشر : مکتبہ محمدیہ، لاہور

    لفظ تفسیر در اصل ’’فَسْرٌ‘‘ سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں: کھولنا،چونکہ اس علم میں قرآن کریم کے مفہوم کو کھول کر بیان کیا جاتا ہے ،اس لئے اس علم کو’’ علم تفسیر ‘‘کہا جاتا ہے، ابتداء لفظ تفسیر کا اطلاق صرف قرآن کریم کی تشریح پر ہی ہوتا تھا،چناں چہ علامہ زر کشی ﷫ لکھتے ہیں: علم یعرف به فهم کتاب الله المنزل علی نبیه محمدﷺ و بیان معانیه واستخراج احکامه وحکمه (البرہان:۱؍۱۳) یہ کتاب چونکہ خالق کائنات اللہ رب العزت کی کتاب ہے، اس لئے اس کےالفاظ کی تہہ میں معانی ومطالب کے ایسے سمندر موجود ہیں جن کی مکمل غواصی انسان کے بس میں نہیں، اور اس میں اتنے اعجازی پہلو موجود ہیں جن کا مکمل احاطہ بشری قوت وصلاحیت سے ماوراء ہے، کہ اس کتاب کے الفاظ بھی معجز ہیں، تو ترکیب واسلوب ونظم کے اعجاز بھی انسان کو یہ بتاتے ہیں کہ یہ کتاب کسی انسان کی لکھی ہوئی نہیں ہوسکتی، کیونکہ انسان ایسے معجزکلام پر قادر ہی نہیں ہے ۔اس کلام کی یہ بلندی اس بات کی متقاضی ہے کہ انسانی ہدایت کی ضامن اس کتاب سے انسانوں کو جوڑنے اور اس کے معانی ومطالب تک انسانی فکر وشعور کو پہون چانے کے لئے کوئی سہارا اور وسیلہ ہو جس کے ذریعہ انسان اس کتاب کو سمجھ کر اپنے خالق کے اوامر ونواہی سے واقف ہوسکے اور مقصد نزول کی تکمیل کرسکے، علم تفسیر درحقیقت وہی سہارا اور ذریعہ ہے، جوقرآن کے سمجھنے اور اس کے مطالب ومعانی کے صحیح ادراک میں معاون بنتاہے، اور اس کے ذریعہ انسانوں کو اپنے خالق کی مرضی معلوم ہوتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’نیل المرام من تفسیر آیات الاحکام‘‘ جوعربی زبان میں نواب صدیق حسن خان کی تصنیف کردا ہے، اور اس کا اردو ترجمہ   حافظ ابوبکر ظفر نے کیا ہے ۔فاضل مصنف کی یہ کتاب ان آیات کا مجموعہ ہے جن کی پہچان ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے جو قرآن کے احکام شرعیہ کی معرفت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اور تقریباً دوسو ایسی آیات کو جمع کیا ہے جو احکام پر مشتمل ہیں۔ اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ فاضل مصنف کو اس کار خیر پر اجرے عظیم سے نوازے۔ آمین (شعیب خان)

  • 593 #4630

    مصنف : نواب صدیق الحسن خاں

    مشاہدات : 4072

    نیل المرام من تفسیر آیات الاحکام (اردو)

    (منگل 19 اپریل 2016ء) ناشر : مکتبہ محمدیہ، لاہور

    لفظ تفسیر در اصل ’’فَسْرٌ‘‘ سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں: کھولنا،چونکہ اس علم میں قرآن کریم کے مفہوم کو کھول کر بیان کیا جاتا ہے ،اس لئے اس علم کو’’ علم تفسیر ‘‘کہا جاتا ہے، ابتداء لفظ تفسیر کا اطلاق صرف قرآن کریم کی تشریح پر ہی ہوتا تھا،چناں چہ علامہ زر کشی ﷫ لکھتے ہیں: علم یعرف به فهم کتاب الله المنزل علی نبیه محمدﷺ و بیان معانیه واستخراج احکامه وحکمه (البرہان:۱؍۱۳) یہ کتاب چونکہ خالق کائنات اللہ رب العزت کی کتاب ہے، اس لئے اس کےالفاظ کی تہہ میں معانی ومطالب کے ایسے سمندر موجود ہیں جن کی مکمل غواصی انسان کے بس میں نہیں، اور اس میں اتنے اعجازی پہلو موجود ہیں جن کا مکمل احاطہ بشری قوت وصلاحیت سے ماوراء ہے، کہ اس کتاب کے الفاظ بھی معجز ہیں، تو ترکیب واسلوب ونظم کے اعجاز بھی انسان کو یہ بتاتے ہیں کہ یہ کتاب کسی انسان کی لکھی ہوئی نہیں ہوسکتی، کیونکہ انسان ایسے معجزکلام پر قادر ہی نہیں ہے ۔اس کلام کی یہ بلندی اس بات کی متقاضی ہے کہ انسانی ہدایت کی ضامن اس کتاب سے انسانوں کو جوڑنے اور اس کے معانی ومطالب تک انسانی فکر وشعور کو پہون چانے کے لئے کوئی سہارا اور وسیلہ ہو جس کے ذریعہ انسان اس کتاب کو سمجھ کر اپنے خالق کے اوامر ونواہی سے واقف ہوسکے اور مقصد نزول کی تکمیل کرسکے، علم تفسیر درحقیقت وہی سہارا اور ذریعہ ہے، جوقرآن کے سمجھنے اور اس کے مطالب ومعانی کے صحیح ادراک میں معاون بنتاہے، اور اس کے ذریعہ انسانوں کو اپنے خالق کی مرضی معلوم ہوتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’نیل المرام من تفسیر آیات الاحکام‘‘ جوعربی زبان میں نواب صدیق حسن خان کی تصنیف کردا ہے، اور اس کا اردو ترجمہ   حافظ ابوبکر ظفر نے کیا ہے ۔فاضل مصنف کی یہ کتاب ان آیات کا مجموعہ ہے جن کی پہچان ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے جو قرآن کے احکام شرعیہ کی معرفت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اور تقریباً دوسو ایسی آیات کو جمع کیا ہے جو احکام پر مشتمل ہیں۔ اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ فاضل مصنف کو اس کار خیر پر اجرے عظیم سے نوازے۔ آمین (شعیب خان)

  • 594 #5764

    مصنف : محمد ابراہیم میر سیالکوٹی

    مشاہدات : 1517

    واضح البیان فی تفسیر ام القرآن

    (منگل 05 ستمبر 2017ء) ناشر : مرکزی جمعیت اہل حدیث، پاکستان

    قرآن مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِہدایت ہے، او ر اسے یہ اعزاز حاصل ہےکہ دنیا بھرمیں سب سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ اسے پڑھنے اور پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِصحابہ سے لے کر دورِ حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم وتشریح اور ترجمہ وتفسیرکرنے کی خدمات سر انجام دی ہیں ۔ اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض تربیت، قرآن مجید کی زبان اور زمانۂ نزول کے حالات سے واقفیت کی بنا پر، قرآن مجید کی تشریح، انتہائی فطری اصولوں پر کرتے تھے۔ چونکہ اس زمانے میں کوئی باقاعدہ تفسیر نہیں لکھی گئی، لہٰذا ان کے کام کا بڑا حصہ ہمارے سامنے نہیں آ سکا اور جو کچھ موجود ہے، وہ بھی آثار او رتفسیری اقوال کی صورت میں، حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں بکھرا ہوا ہے۔قرآن مجید کی خدمت کو ہر مسلمان اپنے لئے سعادت سمجھتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ واضح البیان فی تفسیر ام القرآن‘‘ مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی کی ہے۔ جس میں تفسیر کی تاریخ و تحریک، طرق، تفسیر بسم اللہ شریف اور سورۃ الفاتحہ کی مفصل تفسیر کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)

  • 595 #5243

    مصنف : قاری محمد اسماعیل صادق

    مشاہدات : 1215

    وقوف المبتدی

    (بدھ 29 مارچ 2017ء) ناشر : نا معلوم

    وقف کا لغوی معنی ٹھہرنا اور رُکنا ہے۔ جبکہ اہل فن قراء کرام کی اصطلاح میں وقف کے معنی ہیں کہ"کلمہ کے آخر پر اتنی دیر آواز کو منقطع کرنا جس میں بطور عادت سانس لیا جاسکے، اور قراء ت جاری رکھنے کا ارادہ بھی ہو، عام ہے کہ وقف کرنے کے بعد مابعد سے ابتداء کریں یا ماقبل سےاعادہ" (النشر:۱؍۲۴۰) معرفت وقف وابتداء کی اہمیت اور اس علم کی ضرورت کااحساس کرنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جس طرح دلائل شرعیہ یعنی قرآن وحدیث اور اجماع اُمت سےقرآن مجید کا تجوید کے ساتھ پڑھنا واجب اور ضروری ہے، اسی طرح معرفت الوقف، یعنی قرآنی وقوف کو پہچاننا اور دورانِ تلاوت حسنِ وقف وابتداء کی رعایت رکھنا اور اس کا اہتمام کرنا بھی ضروری ہے اوراس میں کسی کااختلاف نہیں ۔اوروجہ اس کی یہ ہے کہ جس طرح تجوید کے ذریعہ حروف قرآن کی تصحیح ہوتی ہے اسی طرح معرفت الوقوف کے ذریعے معانی قرآن کی تفہیم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے :’’اورقرآن مجید کوترتیل کے ساتھ پڑھو ۔‘‘(المزمل:4) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ترتیل کا معنی پوچھا گیا توآپ نے فرمایا:’’الترتیل ہو تجوید الحروف ومعرفۃ الوقوف‘‘(الإتقان فی علوم القرآ ن:۱؍۸۵) اس تفسیر میں ترتیل کے دوجز بیان کیے گئے ہیں 1۔تجوید الحروف 2۔معرفۃ الوقوف ۔پس تجوید الحروف کی طرح معرفۃ الوقوف بھی ترتیل کا ایک جزء اور اس کا ایک حصہ ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب" وقوف المبتدی" قاری محمد اسماعیل خورجوی صاحب ، مدرس تحفیظ القرآن مکہ معظمہ کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں  علم وقف کی علمی وفنی مباحث کو جمع فرمادیا ہے۔اللہ تعالی ان کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 596 #362

    مصنف : خالدہ تنویر

    مشاہدات : 13518

    يايهاالذين امنوا!

    (بدھ 15 جنوری 2014ء) ناشر : پین اسلامک پبلیشرز

    یوں تو قرآن پاک مکمل ہی ہدایت ہے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو خاص طور سے مخاطب کر کے کوئی بات کہتا ہے تو اس سے ایک طرح کی محبت کا اظہار ہوتا ہے اور دل خود بخود متوجہ ہوتا ہے کہ دیکھیں کیا بات کہی جا رہی ہے۔ عام زندگی میں بھی کسی کو نام لے کر پکارا جائے تو سننے والا پوری توجہ اور دھیان سے بات سننے کو تیار ہو جاتا ہے۔ اور خاص طور پر متوجہ کرنے کے لیے یہی انداز اختیار کیا جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن میں بار بار اللہ تعالیٰ  یا ایہا الذین اٰمنو (اے ایمان والو!) کہہ کر ہمیں بڑی محبت سے بلاتا ہے۔ اس کتاب میں قرآن کے وہ تمام مقامات یکجا کر دئے گئے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہمارا نام لے کر مخاطب کیا ہے اتنی کامیاب ہدایات خاص ہمارے ہی لیے رب دو جہاں نے نازل فرمائی ہیں۔  یوں تو ہم ان ہدایات کو قرآن میں پڑھتے ہی ہیں لیکن ایک ہی جگہ ان سب ہدایات کے مجموعے کو پڑھنا ان شاء اللہ ضرور مفید ہوگا۔ساتھ ہی کچھ تشریحی

  • 597 #362

    مصنف : خالدہ تنویر

    مشاہدات : 13518

    يايهاالذين امنوا!

    (بدھ 15 جنوری 2014ء) ناشر : پین اسلامک پبلیشرز

    یوں تو قرآن پاک مکمل ہی ہدایت ہے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو خاص طور سے مخاطب کر کے کوئی بات کہتا ہے تو اس سے ایک طرح کی محبت کا اظہار ہوتا ہے اور دل خود بخود متوجہ ہوتا ہے کہ دیکھیں کیا بات کہی جا رہی ہے۔ عام زندگی میں بھی کسی کو نام لے کر پکارا جائے تو سننے والا پوری توجہ اور دھیان سے بات سننے کو تیار ہو جاتا ہے۔ اور خاص طور پر متوجہ کرنے کے لیے یہی انداز اختیار کیا جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن میں بار بار اللہ تعالیٰ  یا ایہا الذین اٰمنو (اے ایمان والو!) کہہ کر ہمیں بڑی محبت سے بلاتا ہے۔ اس کتاب میں قرآن کے وہ تمام مقامات یکجا کر دئے گئے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہمارا نام لے کر مخاطب کیا ہے اتنی کامیاب ہدایات خاص ہمارے ہی لیے رب دو جہاں نے نازل فرمائی ہیں۔  یوں تو ہم ان ہدایات کو قرآن میں پڑھتے ہی ہیں لیکن ایک ہی جگہ ان سب ہدایات کے مجموعے کو پڑھنا ان شاء اللہ ضرور مفید ہوگا۔ساتھ ہی کچھ تشریحی

  • 598 #4767

    مصنف : پروفیسر ڈاکٹر محمد باقر خان خاکوانی

    مشاہدات : 3250

    پاکستان میں قرآن مجید کے تراجم و تفاسیر ( 1974 تا حال )

    (ہفتہ 01 اکتوبر 2016ء) ناشر : علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد

    قرآن کریم ہی وہ واحد کتاب ہے جو تاقیامت انسانیت کے لیے ذریعہ ہدایت ہے ۔ اسی پر عمل پیرا ہو کر دنیا میں سربلند ی او ر آخرت میں نجات کا حصول ممکن ہے لہذا ضروری ہے اس کے معانی ومفاہیم کوسمجھا جائے ،اس تفہیم کے لیے درس وتدریس کا اہتمام کیا جائے او راس کی تعلیم کے مراکز قائم کئے جائیں۔ قرٖآن فہمی کے لیے ترجمہ قرآن اساس کی حیثیت رکھتا ہے ۔آج دنیاکی کم وبیش 103 زبانوں میں قرآن کریم کے مکمل تراجم شائع ہوچکے ہیں۔جن میں سے ایک اہم زبان اردو بھی ہے ۔اردو زبان میں اولین ترجمہ کرنے والے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ کے دو فرزند شاہ رفیع الدین ﷫اور شاہ عبد القادر﷫ ہیں اور یہ سلسلہ تاحال جاری وساری ہے ۔تقسیم ہند سے قبل اور بعد میں قرآن مجید کے کئی تراجم ہوچکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’پاکستان میں قرآن مجید کےتراجم وتفاسیر1947ءتا حال‘‘علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شبعہ قرآن وتفسیر کے چیئر مین پروفیسر ڈاکٹر محمد باقر خان خاکوانی کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب انہوں نے اوپن یونیورسٹی کے ایم اے علوم اسلامیہ کے طلبہ کے لیے تصنیف کی ہے ۔اس میں انہوں نےعلم تفسیر کا مفہوم اور ارتقاء، ترجمہ کا مفہوم اور اقسام اور پاکستان میں ترجمہ نگاری کا ایک تاریخی جائزہ اور پاکستان میں تفسیر نگاری ، پنجابی ، پشتو، سندھی، انگریزی اور دیگر زبانوں میں قرآن مجید کی تفاسیر اور تراجم کے بارے میں معلومات مہیا سپرد قلم کی ہیں۔(م۔ا)

  • 599 #3968

    مصنف : اشتیاق احمد

    مشاہدات : 2684

    پتھروں کی بارش (قصہ سیدنا لوطؑ)

    (بدھ 13 جنوری 2016ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    سیدنا لوط ﷤ اللہ تعالیٰ کے جلیل القد ر نبی تھی انہوں نے زندگی بھر اپنی قوم کو اللہ کی واحدانیت کی دعوت دی۔ لیکن ان کے قوم نےان کی ایک نہ مانی اور سرکشی پراترآئی۔جب حضرت لوط ﷤کی قوم کی سرکشی جب حد سے بڑھ گئی اور اس میں دن بدن اضافہ ہوتا گیا تو انہوں نے اللہ پاک سے التجا کی کہ وہ فسادیوں کے خلاف انکی مدد فرمائے۔ انکی دعا قبول ہوئی اور آپ کی ناراضگی کی وجہ سے قوم پر اللہ کا عذاب نازل ہوا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے فرشتے اس قوم کے لئے عذاب الہٰی لیکر پہنچے اور انسانی شکل میں حضرت لوط ﷤کے پاس آئے۔ قرآن مجید نےاس واقعہ کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔"آپ اپنے گھر والوں کو لیکر رات کے آخری حصے میں یہاں سے تشریف لے جائیں اور جب قوم پر عذاب نازل ہو تو انکی آواز سن کر تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔ سوائے تمہاری عورت کے اسے بھی وہی پہنچنا ہے جو انہیں پہنچے کا۔ ان کے (عذاب کے) وعدے کا وقت صبح ہے اور کیا صبح کچھ دور ہے؟" (سورۂ ہود: ۸۱)حضرت حضرت لوط ﷤ جب شہر سے نکلے تو ان کے ساتھ انکی بیٹیاں اور بیوی بھی تھی اورجب وہ شہر سے نکل گئے اور سورج طلوع ہوا تو اللہ کا عذاب بھی آ گیا جسے ٹال دینا کسی کے بس میں نہیں تھا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:" تو جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس (بستی) کو (الٹ کر) نیچے اوپر کر دیا۔ اور ان پر پتھر کے تہ بہ تہ کنکر برسائے جن پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کئے ہوئے تھے اور وہ ظالموں سے کچھ دور نہیں۔"(سورۂ ہود: 82،83) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان بستیوں کو اسطرح الٹ دیا کہ انکا اوپر والا حصہ نیچے ہو گیا، پھر مسلسل پتھروں کی بارش سے انہیں نظروں سے اوجھل کر دیا۔ ہر پتھر پر اس شخص کا نام لکھا تھا جس پر اسے گرنا تھا، خواہ ان میں سے کوئی اپنے شہر میں تھا یا سفر کی وجہ سے شہر سے باہر تھا۔حضرت لوط ﷤ کی بیوی بھی اپنے خاوند اور بیٹیوں کے ہمراہ روانہ ہوئی تھی، لیکن جب شہر تباہ ہونے کی آواز اور ہلاک ہونے والوں کا شور سنا تو اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس نے مڑ کر دیکھا اور بولی "ہائے میری قوم" وہیں ایک پتھر اس پر آ پڑا، جس نے اسکا سر پھاڑ کر اسے اس کی قوم سے ملا دیا۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’پتھروں کی بارش قصہ سیدنا لوط ﷤‘‘جناب اشتیاق احمدکی تحریر ہے اور دار السلام کی سلسلہ قصص الانبیاء سیریز   کا نواں حصہ ہے۔ اس میں مرتب نے سیدنا لوط ﷤ کی قوم کی تباہی   کے واقعہ کو بڑے آسان اور دلچسپ اندا ز میں بیان کیا ہے۔ دار السلام نے اسے حسنِ طباعت سے آراستہ کیا ہے۔دار السلام کی بچوں کے لیے یہ منفرد کاوش ہے ۔والدین اپنے بچوں کو بازاری فضول کہانیاں ، اخلاق سے گرے ہوئے ڈائجسٹ او رناولوں کی بجائے قصص الانبیاء اور سچی کہانیوں کو پڑھنے کی ترغیب دیں ۔ (م۔ا)

  • 600 #2884

    مصنف : پروفیسر حافظ محمد فاروق

    مشاہدات : 1824

    چشمہ رحمت

    (ہفتہ 07 فروری 2015ء) ناشر : مدرسہ تجوید القرآن رحمانیہ جسٹرڈ لاہور

    لفظ ’’قرآن  ‘‘ قرآن مجیدمیں ستر مرتبہ آیا ہے جس کامفہوم باربار پڑھی جانےوالی کتاب ہے۔ یہ وہ عظیم ترین  بے مثال ،لازوال  اور لاریب کتاب ہے جسے خالق ومالکِ ارض سماء نے کائنات میں بسنےوالوں کی رشد وہدایت اور  رہنمائی کےلیے  سرور عالم ، رسول معظم  جناب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر تقریبا 23 سال کے عرصہ میں نازل فرمایا جو آج ہمارے سامنے 30پاروں کی شکل موجود ہے۔ہادی برحق امام کائنات حضرت محمد ًﷺکی  مشہور حدیث ہے کہ :۔ ’’جس نےکتاب اللہ کاایک حرف پڑھا اسے ایک  نیکی ملے  گی او ر ایک نیکی کا ثواب دس نیکیوں کے برابر ہے۔‘‘اس فرمان نبوی کی روشنی میں پورے قرآن کی تلاوت کرنے پر  لاکھوں نیکیاں ملتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نےاپنی زبانِ نبوت سے   قرآن کی بعض آیات  اور سورتوں کو تلاوت کرنےکی    مخصوص فضیلت بیان  کی ہے ۔جسے محدثین کرام نے  کتب ِحدیث میں فضائلِ قرآن کے ابواب میں بیان کیا ہے او ر کئی اہل علم  نے عمومی  فضائلِ قرآن اور مخصوص سورتوں کی فضیلت پر  مستقل کتب بھی تصنیف کی ہیں۔ زیر نظر کتاب’’چشمۂ رحمت ‘‘بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔یہ کتاب محترم  جناب  حافظ  محمد فاروق ﷾ کی کاوش ہے جس میں انہوں نے حدیث کی روشنی میں  قرآن  مجید کی سولہ(16)سورتوں کی فضیلت کو بیان کرنےکےبعد آخر  میں  صبح وشام کی دعائیں  بھی شامل کردی ہیں۔اللہ تعالیٰ  مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور  اسے  عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)
     

< 1 2 ... 54 55 56 57 58 59 60 61 62 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1281
  • اس ہفتے کے قارئین 14920
  • اس ماہ کے قارئین 53314
  • کل قارئین49437675

موضوعاتی فہرست