• #3870
    ممتاز لیاقت

    1 تاریخ بیت المقدس

    بیت المقدس مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے ہجرت  کےبعد 16 سے 17 ماہ تک مسلمان بیت المقدس (مسجد اقصٰی) کی جانب رخ کرکے ہی نماز ادا کرتے تھے پھر تحویل قبلہ کا حکم آنے کے بعد مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہوگیا۔ مسجد اقصٰی خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا حرم قدسی شریف کہتے ہیں۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔نبی کریم ﷺسفر معراج کے دوران مسجد حرام سے یہاں پہنچے تھے اور بیت المقدس میں تمام انبیاء کی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے۔قرآن مجید کی سورہ الاسراء میں اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے: ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائيں یقینا اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے والا اوردیکھنے والا ہے‘‘ (سورہ الاسراء )۔ احادیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں کی جانب سفر کرنا باعث برکت ہے جن میں مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور مسجد نبوی شامل ہیں۔سیدنا عمر فاروق  کے دور میں مسلمانوں نے بیت المقدس کو  فتح کیا تو سیدنا عمر  نے شہر سے روانگی کے وقت صخرہ اور براق باندھنے کی جگہ کے قریب مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا جہاں انہوں نے اپنے ہمراہیوں سمیت نماز ادا کی تھی۔ یہی مسجد بعد میں مسجد اقصٰی کہلائی کیونکہ قرآن مجید کی سورہ بنی اسرائیل کے آغاز میں اس مقام کو مسجد اقصٰی کہا گیا ہے۔ اس دور میں بہت سے صحابہ نے تبلیغِ اسلام اور اشاعتِ دین کی خاطر بیت المقدس میں اقامت اختیار کی۔ خلیفہ عبد الملک بن مروان نے مسجد اقصٰی کی تعمیر شروع کرائی اور خلیفہ ولید بن عبد الملک نے اس کی تعمیر مکمل کی اور اس کی تزئین و آرائش کی۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے بھی اس مسجد کی مرمت کرائی۔ پہلی صلیبی جنگ کے بعد جب عیسائیوں کا بیت المقدس پر قبضہ ہو گیا تو انہوں نے مسجد اقصٰی میں بہت رد و بدل کیا۔ انہوں نے مسجد میں رہنے کے لیے کئی کمرے بنا لیے اور اس کا نام معبد سلیمان رکھا، نیز متعدد دیگر عمارتوں کا اضافہ کیا جو بطور جائے ضرورت اور اناج کی کوٹھیوں کے استعمال ہوتی تھیں۔ انہوں نے مسجد کے اندر اور مسجد کے ساتھ ساتھ گرجا بھی بنا لیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے 1187ء میں فتح بیت المقدس کے بعد مسجد اقصٰی کو عیسائیوں کے تمام نشانات سے پاک کیا اور محراب اور مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا۔صلاح الدین نے قبلہ اول کی آزادی کے لئے تقریبا 16 جنگیں لڑیں ۔اسلام اور ملتِ اسلامیہ  کے خلاف یہودیوں کی دشمنی تاریخ  کا ایک  مستقل باب ہے ۔یہودِ مدینہ  نے عہد رسالت مآب میں جو شورشیں اور سازشیں کیں ان سے  تاریخِ اسلام کا ہر طالب علم آگاہ ہے۔ گزشتہ  چودہ صدیوں سے یہود نے مسلمانوں کےخلاف بالخصوص اور دیگر انسانیت کے خلاف بالعموم معادانہ رویہ اپنا رکھا ہے ۔بیسویں صدی کےحادثات وسانحات میں سب سے بڑا سانحہ مسئلہ فلسطین ہے ۔ یہود ونصاریٰ  نےیہ مسئلہ پیدا کر کے  گویا اسلام  کےدل میں خنجر گھونپ رکھا ہے ۔1948ء میں  اسرائیل کے قیام کےبعد  یورپ سے آئے ہو غاصب یہودیوں نے ہزاروں سال سے  فلسطین میں آباد فلسطینیوں کو ان کی زمینوں اور جائدادوں سے بے  دخل کر کے انہیں  کمیپوں  میں نہایت ابتر حالت میں زندگی بسر کرنے  پر مجبور کردیا ہے۔21 اگست 1969ء کو ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان نے قبلۂ اول کو آگ لگادی جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرقی جانب عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا۔ محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہوگیا جسے صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد نصب کیا تھا۔ ۔  دراصل یہودی اس مسجد کو ہیکل سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ عبادت گاہ سمجھتے ہیں اور اسے گراکر دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ کبھی بھی بذریعہ دلیل اس کو ثابت نہیں کرسکے کہ ہیکل سلیمانی یہیں تعمیر تھا ۔گزشتہ  نصف صدی سے زائد عرصہ کے دوران اسرائیلی یہودیوں کی جارحانہ  کاروائیوں اور جنگوں میں ہزاروں لاکھوں فلسطینی  مسلمان شہید ، زخمی  یا بے گھر ہوچکے ہیں  اورلاکھوں افراد مقبوضہ فلسطین کے اندر یا آس پاس کےملکوں میں کیمپوں کے اندر  قابلِ رحمت حالت میں زندگی بسر کررہے ہیں۔اوراقوام متحدہ اوراس کے کرتا دھرتا امریکہ اور پورپ کےممالک یہودیوں کے سرپرست اور پشتیبان بنے ہوئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’تاریخ بیت المقدس‘‘ ممتاز لیاقت  صاحب کی  تصنیف ہےکتاب کا بیشتر حصہ اس کے نام کی مناسبت  سے بیت المقدس کی تاریخ  وروایات سے متعلق ہے لیکن ضمناً اسرائیل کا قیام اور منصوبوں کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔ یہ کتاب اس شہر کی تاریخ اور عظمت وفضیلت کی داستان ہے  اوراس ناموس کاقصہ ہے جس کےلیے  ہمارے اسلاف ایک پوری صدی تک اپنے خون کاخراج دیتے رہے ۔تقریباً  45 سال قبل بیت المقدس کی تاریخ پر اردو میں کوئی قابل ذکر کتاب موجود نہ تھی  مصنف  کتاب  ہذاممتازلیاقت صاحب نے اس  موضوع پر یہ کتاب لکھ کر اس کمی کوکسی حد تک پورا کیا۔اس کتاب کی اشاعتِ اول  پر مولانامودوی﷫ نے  اس کتاب کےمصنف  کے متعلق  لکھا :’’  آپ  کی محنت  قابل داد ہے کہ آپ نے بیت المقدس کے موضوع پر بہتسا مواد جمع کردیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور مسلمانوں کےقبلۂ اول  کو آزاد  اور دنیا بھر کےمظلوم مسلمانوں کی مددفرمائے (م۔ا)

  • #3702
    ڈاکٹر نور احمد شاہتاز

    2 کاغذی کرنسی کی تاریخ ، ارتقاء شرعی حیثیت

    کرنسی یا سکّہ یا زر سے مراد ایسی چیز ہوتی ہے جس کے بدلے دوسری چیزیں خریدی یا بیچی جا سکیں۔ اور اگر یہ چیز کاغذ کی بنی ہو تو یہ کاغذی کرنسی، کاغذی سکّہ یا زر کاغذ کہلاتی ہے۔ ماضی میں کرنسی مختلف دھاتوں کی بنی ہوتی تھی اور اب بھی چھوٹی مالیت کے سِکّے دھاتوں سے ہی بنائے جاتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ کاغذی کرنسی موجودہ دنیا کا سب سے بڑا دھوکہ ہے۔کہا جاتاہے کہ اہلِ چین نے 650ء سے 800ء کے درمیان کاغذ کے ڈرافٹ بنانے شروع کیے تھے ، انہی ڈرافٹ نے آگے چل کرکرنسی نوٹوں کی اشاعت کا تصور دیا۔ اسی لیے کاغذکی طرح کرنسی نوٹ بھی اہل چین کی ایجاد شمار ہوتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے کرنسی نوٹ910ء میں چین میں ایجاد ہوئے۔ابن بطوطہ جو 1324ء سے 1355ء کے درمیان چین کی سیاحت پرگئے، انہوں نے چین کے نوٹوں کا تذکرہ کیاہے : چین کے بعد جاپان دوسرا ملک ہے جہاں چودھویں صدی عیسوی میں کرنسی نوٹ جاری ہوئے۔ یورپ میں پہلا باقاعدہ نوٹ 1661ء کو “سٹاک ہام بینک ” آف سویڈن نے جاری کیا۔ انگلینڈ نے 1695ء میں کرنسی نوٹ جاری کئے۔ ہندوستان میں پہلا نوٹ 5؍جنوری1825ء کو ” بنک آف کلکتہ ” نے جاری کیا جس کی مالیت دس روپے تھی۔ آزادی کے بعد پاکستان میں کرنسی نوٹ یکم اکتوبر 1948ء کو جاری کیے گئے ۔ابتداء میں تو نوٹ کی پشت پر سو فیصد سونا ہوتا تھا ، لیکن بعد میں مختلف معاشی وجوہ کے باعث سونے کی مقدار سے زائد نوٹ جاری کیے جانے لگے اورمختلف اَدوار میں یہ تناسب بتدریج کم ہوتا رہا یہاں تک کہ1971ء سے نوٹ کا سونے سے تعلق بالکل ختم ہو چکا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" کاغذی کرنسی کی تاریخ ، ارتقاء، شرعی حیثیت "سعودی عرب کے معروف عالم دین محترم عبد اللہ بن سلیمان بن منیع قاضی محکمہ تمیز مکہ مکرمہ  کی عربی تصنیف "الورق النقدی ، حقیقتہ، تاریخہ، حکمتہ"کا اردو ترجمہ ہے۔ترجمہ محترم ڈاکٹر نور احمد شاہتاز نے کیا ہے۔یہ کتاب اسلامی معاشیات کے طلباء کے لئے ایک گرانقدر تحفہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #3502
    ڈاکٹر سید شفیق الرحمن

    3 نظریہ توحیدی وجودی اور ڈاکٹر اسرار احمد

    نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اسلام کی ابتداء غربت اور اجنبیت  کی حالت میں ہوئی ،اور  عنقریب اسلام اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹ جائے گا۔پس خوشخبری ہے غریب اور اجنبی لوگوں کے لئے۔توحید اسلام کا بنیادی اور اہم ترین عقیدہ ہے یعنی اللہ تعالی اپنی ذات وصفات اور احکامات میں ہر طرح کی شراکت سے مبرا ہے۔آج اسلام کے دعویداروں کی اکثریت توحید باری تعالی کو چھوڑ کر شرک وکفر میں مبتلاء ہو چکی ہے۔شرک وکفر کے پھیلنے کی متعدد وجوہات میں سے ایک اہم وجہ محی الدین ابن عربی کا فلسفہ وحدۃ الوجود بھی ہے۔اس کی وجہ سے اسلام میں الحاد کے دروازے کھلے ،کشف وکرامات کے بے سند واقعات نے اسلام کی بنیادوں پر حملہ کیا ۔قرآن وسنت کے علم کو "علم ظاہری" کہہ کر علم اور علماء کا مذاق اڑایا گیا۔طریقت کے نام پر شریعت کے مقابلے میں ایک نیا دین گھڑ لیا گیا۔شریعت کی  تحقیر اور طریقت سے کمتر سمجھنے کا رجحان عام ہوا اور من گھڑت وموضوع روایات نے نظریہ توحید میں شک پیدا کر دیا۔امام ابن تیمیہ﷫ اوران کے ہونہار شاگرد امام ابن قیم﷫ نےنہ صرف عقیدہ وحدۃ الوجود کا رد کیا بالکہ ابن عربی کو بھی گمراہ ثابت کیا۔عصر حاضر کے معروف عالم دین اور تنظیم اسلامی کے بانی محترم ڈاکٹر اسرار احمد صاحب﷫  ابن عربی کے علمی اور روحانی مقام کے زبر دست قائل ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے نظریات کے بھی حامی نظر آتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" نظریہ توحید وجودی اور ڈاکٹر اسرار احمد"محترم ڈاکٹر سید شفیق الرحمن صاحب کی مرتب کر دہ ہے۔مولف موصوف نے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی تحریریں مختلف اہل علم کو روانہ کیں اور ان سے ان پر فتاوی طلب کئے۔چنانچہ اہل علم نے وحدۃ الوجود سے متعلق ان کے نظریات کا دلائل کے ساتھ رد کیا۔جسے مولف نے یہاں اس کتاب میں جمع فرما دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #3493
    ابوبکر جابر الجزائری

    4 منہاج المسلم (تحقیق و تخریج شدہ جدید ایڈیشن )

    اسلامی آداب واخلاقیات حسنِ معاشرت کی بنیاد ہیں،ان کے نہ پائے جانے سے انسانی زندگی اپنا حسن کھو دیتی ہے ۔ حسنِ اخلاق کی اہمیت اسی سے دوچند ہوجاتی ہے کہ ہمیں احادیث مبارکہ سے متعدد ایسے واقعات ملتے ہیں کہ جن میں عبادت وریاضت میں کمال رکھنے والوں کےاعمال کوصرف ان کی اخلاقی استواری نہ ہونے کی بنا پر رائیگاں قرار دے دیاگیا۔حسن ِاخلاق سے مراد گفتگو اور رہن سہن سے متعلقہ امور کوبہتر بنانا ہی نہیں ہے بلکہ اسلامی تہذیب کے تمام تر پہلوؤں کواپنانا اخلاق کی کامل ترین صورت ہے ۔ اور دین اسلام اللہ کا پسندیدہ دین ہے ،جسے اللہ عزوجل نے انسانوں کے لیے زندگی گزارنے کا ایک ضابطہ کے طور پر مقرر فرمایا ہے ۔اس میں دنیا وآخرت کی بھلائی اور کامیابی کے تمام اصول بیان کر دیئے گئے ہیں ۔دین اسلام کی یہ خوبی اسے دوسرے ادیان ومذاہب سے ممتاز کرتی ہے کہ اس میں دنیا وآخرت ہر دو کی رعایت رکھی گئی ہے اور زندگی کے ہر پہلو سے متعلق کامل رہنمائی دی گئی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’منہاج المسلم ‘‘ سعودی عرب کے نامور عالم دین علامہ ابوبکر جابر الجزائری کی تصنیف ہے ۔اس عظیم الشان کتاب کا اردو ترجمہ مولانا سلطان محمد جلالپور ی﷫ کے تلمیذ خاص شیخ الحدیث مولانامحمد رفیق الاثری ﷾ نے کیا ۔اس کتاب میں کتاب وسنت کی روشنی میں تمام شعبہ ہائے زندگی کے بارے میں دلوں میں اترجانے والے بیش بہا اسباق چمک رہے ہیں ۔ زبان آسان ،عام فہم اور سادہ ہے ۔ عقائد ہوں یا عبادات کا بیان ، اخلاقیات کے مختلف پہلو ہوں یا اسلامی آداب وحقوق کا تذکرہ احکام ِتجارت ہوں یا معاشرتی معاملات، وراثت کے مسائل ہوں یا عائلی قوانین، قصاص ودیت کے اصول ہوں یا قضاء کےمسائل سبھی پر سیر جاصل بحث کی گئی ہے ۔ بلاشبہ یہ کتاب دین کی تعلیمات کا ایک عظیم الشان انسائیکلوپیڈیا ہے ۔ لہذا ہر گھر میں اس کتاب کا ہونا ضروری ہے تاکہ مسلمان اپنے شب وروز اسلامی تعلیمات کے مطابق بسر کر سکیں اور دنیا وآخرت کی بھلائیوں اور کامیابیوں سے بہرہ مند ہوسکیں ۔منہاج المسلم اگرچہ پہلے بھی ویب سائٹ پر موجود تھی لیکن موجود ہ ایڈیشن تحقیق وتخریج سے مزین ہے اس لیے اس ایڈیشن کوبھی پبلش کیا گیا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم اور ناشرین کی اس عظیم کاوش کو قبول فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • #3501
    محمد صادق سیالکوٹی

    5 نماز مقبول مع نورانی نماز

    مسلمانوں کا امتیازی وصف دن اور رات میں پانچ دفعہ اپنے پروردگار کےسامنے باوضوء ہوکر کھڑے ہونا اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنا اور اپنے رب سے اس کی رحمت طلب کرنا ہے ۔نماز انتہائی اہم ترین فریضہ اورا سلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ کلمۂ توحید کے اقرار کےبعد سب سے پہلے جو فریضہ انسان پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے ۔اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی ہے ۔ بے نماز کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے ۔ قیامت کےدن اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال ہوگا۔ نماز بے حیائی اور برائی کے کاموں سے روکتی ہے ۔بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سےنماز کا پابند بنایا جائے ۔نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قدر اہم ہے کہ سفر وحضر ، میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے۔اس لیے ہرمسلمان مرد اور عورت پر پابندی کے ساتھ وقت پر نماز ادا کرنا لازمی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’نمازمقبول مع نورانی نماز‘‘نماز کےموضوع پر معروف اورمقبول عام کتاب ’’ صلاۃ الرسول‘‘ کےمصنف مولانا محمد صادق سیالکوٹی ﷫ کے نماز کے متعلق دو چھوٹے چھوٹے کتابچے ہیں جنہیں یکجا کر کےشائع کیا گیا ہے۔نماز مقبول نامی کتابچہ مولانا موصوف نے صلاۃ الرسول کے بعد چھوٹے بچے اور بچیوں کے لیے لکھا اور اس میں آسان فہم انداز میں نبی ﷺ کی مسنون نما ز کو اختصار کے ساتھ پیش کیا ۔اور نورانی نماز میں نماز میں پڑھی جانے والی دعاؤں کا صرف لفظی ترجمہ تحریرکیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ مولاناکی تمام خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین)(م۔ا)

  • #3356
    محمد ادریس فاروقی

    6 مسئلہ تقلید

    کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی  نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ  ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل  بالحدیث کے مباحث صدیوں  پرانے  ہیں ۔زمانہ قدیم سے  اہل رائے اور اہل  الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘ رہی ہے  موجودہ دور میں بھی  عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چندد ہائیوں میں  تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ  اطاعت کو بھی قدرے فروغ حاصل ہوا  ہے ۔امت کا  درد رکھنے والے  مصلحین نے  اس موضوع پر  سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔اور کئی کتب  تصنیف کیں ہیں۔لیکن تقلیدی افکار ونظریات پر تعب وعناد کی چڑھتی ہوئی دبیز چادر کے سامنے جتنی بھی ہوں وہ کم ہی ہیں۔ تقلید جامد کے رسیا اور قرآن وحدیث کے علمبردار علماء ومصلحین اس موضوع پر سیر حاصل بحث کر کے خو ب خوب داد تحقیق  دے چکے ہیں۔خیر القرون کے سیدھے سادھے دور کے مدتوں بعد ایجاد ہونے والے مذاہب اربعہ کے جامد مقلد فقہاء نے اپنے اپنے مذہب کی ترجیح میں کیا کیا گل نہیں کھلائے ۔حتی کہ اپنے مذہب کے جنون میں اپنے مخالف امام تک کو نیچا دکھانے  سے بھی دریغ نہیں کیا گیا جیسا کہ اہل علم اس سے بخوبی واقف ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ مسئلہ تقلید ‘‘محترم مولانا محمد ادریس فاروقی صاحب﷫ کی تصنیف ہےجس میں مولف موصوف ﷫نے لوگوں کو تقلید شخصی کے بدترین  نتائج سے آگاہ  کرنے کے  ساتھ ساتھ  انہیں کتاب وسنت کی طرف  رجوع کرنے  کی  ترغیب دلائی ہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں کتاب وسنت پر زندہ  رہنے اوراللہ ا ور اس کے رسولﷺ کی اطاعت  کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #3327
    محمد نافع

    7 رحماء بینہم جلد اول

    صحابہ کرام   وہ نفوس قدسیہ ہیں جنہوں نے نبی کریمﷺ کا دیدار کیا اور دین اسلام کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام ہسیتوں کو جنت کا تحفہ عنایت کیا ہے۔ دس صحابہ تو ایسے ہیں جن کو دنیا ہی میں زبان نبوتﷺ سے جنت کی ضمانت مل گئی۔تمام صحابہ کرام    خواہ وہ اہل بیت سے ہوں یا غیر اہل بیت سے ہوں ان سے والہانہ وابستگی دین وایمان کا تقاضا ہے۔کیونکہ وہ آسمان ہدایت کے درخشندہ ستارے اور دین وایمان کی منزل تک پہنچنے کے لئے راہنما ہیں۔صحابہ کرام   کے باہمی طور پر آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی شاندار اور مضبوط تعلقات قائم تھے۔لیکن شیعہ حضرات باغ فدک کے مسئلے پر سیدنا ابو بکر صدیق  اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے درمیان لڑائی اور ناراضگیاں  ظاہر کرتے ہیں اور بھولے بھالے مسلمان ان کے پیچھے لگ کر سیدنا ابو بکر صدیق  کو ظالم  قرار دیتے اور ان پر طرح طرح کے اعتراضات وارد کرتے ہیں۔حالانکہ اگر حقائق کی نگاہ سے دیکھا جائے تو  معلوم ہوتا ہے کہ ان مقدس ہستیوں کے درمیان ایسا کوئی نزاع سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ زیر تبصرہ کتاب "رحماء بینہم"محترم مولانا محمد نافع صاحب کی تصنیف ہے۔مولف موصوف نے  اس کتاب میں صحابہ کرام  کے ایک دوسرے کے بارے  کہے گئے نیک جذبات اور اچھے خیالات کو جمع فرما کر مشاجرات صحابہ کی رٹ لگانے والے روافض کا منہ بند کر دیا ہے۔یہ کتاب چار جلدوں پر مشتمل ہے جن میں سے پہلی جلد میں  سیدنا ابو بکر صدیق   اور سیدنا علی  اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے درمیان عمدہ تعلقات اور بہترین مراسم کو جدید تحقیقی انداز میں پیش کیا گیا ہے،دوسری جلد میں سیدنا عمر فاروق   اور سیدنا علی  اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے درمیان عمدہ تعلقات اور بہترین مراسم کو جدید تحقیقی انداز میں پیش کیا گیا ہےاور تیسری اور چوتھی جلد وں میں سیدنا عثمان  اور ان کی اقرباء پروری کے اوپر گفتگو کی گئی ہے۔اللہ تعالی مولف اور مترجم کی ان محنتوں اور کوششوں کو قبول فرمائے اور تما م مسلمانوں کو صحابہ کرام سے محبت کرنے کی بھی توفیق دے۔آمین(راسخ)

  • #3315
    حافظ مجیب اللہ ندوی

    8 سیر الصحابہ رضی اللہ عنہم جلد۔8

    صحابہ نام ہے ان نفوس قدسیہ کا جنہوں نے محبوب ومصدوق رسول ﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا اور اس خیر القرون کی تجلیات ِایمانی کو اپنے ایمان وعمل میں پوری طرح سمونے کی کوشش کی ۔ صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی سے مراد رسول اکرم ﷺکا وہ ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص ہے لہذاب یہ لفظ کوئی دوسراا شخص اپنے ساتھیوں کےلیے استعمال نہیں کرسکتا۔ انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام ﷢ کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام﷢ کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے۔ صحابہ کرام ﷢ کے ایمان ووفا کا انداز اللہ کو اس قدر پسند آیا کہ اسے بعد میں آنے والے ہر ایمان لانے والے کے لیے کسوٹی قرار دے دیا۔یو ں تو حیطہ اسلام میں آنے کے بعد صحابہ کرام ﷢ کی زندگی کاہر گوشہ تاب ناک ہے لیکن بعض پہلو اس قدر درخشاں ،منفرد اور ایمان افروز ہیں کہ ان کو پڑہنے اور سننے والا دنیا کا کوئی بھی شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ صحابہ کرام ﷢ کےایمان افروز تذکرے سوانح حیا ت کے حوالے سے ائمہ محدثین او راہل علم کئی کتب تصنیف کی ہیں عربی زبان میں الاصابہ اور اسد الغابہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اور اسی طرح اردو زبان میں کئی مو جو د کتب موحود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سیر الصحابۃ‘‘ جو کئی مصنفین کی محنت وکاوش کانتیجہ ہے۔ یہ کتاب 15 حصوں میں نو مجلدات پر مشتمل انبیاء کرام ﷩ کےدنیا کےمقدس ترین انسانوں کی سرگزشت حیا ت ہے ۔تاریخ اسلام ،اسماء الرجال اور ذخیرۂ احادیث کی گرانقدر کتابوں سے ماخوذ مستند حوالہ جات پر مبنی صحابہ کرام ﷢ نیز مشہور تابعین وتبع تابعین او رائمۂ کرام ﷭ کے مفصل حالات زندگی پر اردومیں سب سے جامع کتاب ہے جوکہ طالبان ِعلوم نبوت کےلیے بیش قیمت خزانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنفین،ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ آمین( م۔ا)

  • #3169
    سید بدیع الدین شاہ راشدی

    9 القنوط و الیاس لاھل الارسال من نیل الامانی وحصول الآمال

    نماز دین کا ستون ہے۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔ نمازمومن  کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔نماز مومن اور کافر میں فرق ہے۔ہر انسان جب کلمہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے ایمان کی شہادت دیتا ہے اور جنت کے بدلے اپنی جان ومال کا سودا کرتا ہے، اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کا غلام ہے اور اس کی جان ومال اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اب اس پر زندگی کے آخری سانس تک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے۔ اس معاہدہ کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔اور نماز کی قبولیت کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی نماز کے موافق ہو۔نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کا ہے۔بعض اہل علم کے خیال ہے کہ رکوع سے پہلے والے قیام کی طرح رکوع کے بعد والے قیام میں بھی ہاتھ باندھے جائیں گے جبکہ بعض کا خیال ہےکہ رکوع کے بعد ہاتھ نہیں باندھے جائیں گے۔ زیر تبصرہ کتاب" القنوط والیأس لأھل الارسال من نیل الامانی وحصول الآمال " پاکستان کے معروف عالم دین علامہ سید ابو محمد بدیع الدین شاہ راشدی ﷫صدر جمعیت اہل حدیث سندھ کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کا موقف اختیار کیا ہے اور اس پر متعدد دلائل دئیے ہیں۔آپ کے اس موقف سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ،لیکن چونکہ یہ بھی ایک علمی وتحقیقی موقف ہے اس لئے قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے ،اس کے مخالف موقف پر بھی ایک دو کتب اپلوڈ کر دی ہیں تاکہ محققین دونوں کا موازنہ کرتے ہوئے کسی اجتہادی نتیجے پر پہنچ سکیں۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #3156
    ڈاکٹر حافظ شہباز حسن

    10 مساجد کی آبادکاری اور بربادی

    مساجد کی تعمیر  اور آبادکاری  ایمان  کی علامت  ہے ۔مساجد دین اسلام  میں ایک  عظیم دینی شعار اور درخشاں علامت کی  حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ روئے زمین کا سب سے بہتر ٹکڑا ہیں۔اسلام اور مسلمانوں کا مرکزی مقام اور ہیڈ کوارٹر یہی مساجد ہیں ۔ مسجد سے قلبی لگاؤ اور پابندی کے ساتھ اس کی حاضری ایمان کی نشانی  ہے۔ مساجد روزِ اوّل سے رشد وہدایت، اسلام کی تبلیغ واشاعت اور ملی جدوجہد کا مرکز رہی ہیں۔ یہیں سےپیغامِ اسلام ساری  ساری دنیا میں نشر ہوتاہے  ۔ ملت اسلامیہ کی علمی، ثقافتی اور روحانی  قوتوں کا  یہی  سرچشمہ ہیں۔ یہیں سے امت محمدیہ نے ماضی میں بھی اسلام کا سبق لیا اور آئندہ بھی سب سے بڑا علمی اور ثقافتی مرکز مساجد ہی رہیں گی۔ (ان شاء اللہ  ) مگر افسوس  مسلمانوں کےملی انحطاط سے مساجد بھی متاثر ہوئی ہیں۔ مسجد اپنے شرعی مقاصد اور روح سےخالی ہوتی جارہی ہیں۔ دین سے جاہل ،دنیوی جاہ جلال اور ٹھاٹھ باٹھ  کےپجاری متولیان کی اجارہ داری  کے سبب مساجد کا ماحول بے رو ،وحشت ناک اور خستہ ہوتا جارہا ہے۔ جس سے ملتِ اسلامیہ کی تربیت اور نشوو نما پر  بھی برا اثر پڑ رہا ہے  ضرورت اس امر کی  ہےکہ مساجد کا حقیقی مقام اور اصلی حیثیت بحال کی جائے ۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ مساجد کی آبادکاری اور بربادی‘‘ ڈاکٹر  حافظ  محمد شہباز حسن ﷾ کا تالیف شدہ ہے ۔ انہوں نے  اس کتابچہ   میں  مساجد کی عظمت،  مسجد کی تعمیر کا بنیادی مقصد ، مسجد کی اہمیت وفضیلت اور   مسجد کے احکام و آداب کو  آسان فہم  انداز میں  اختصار کے ساتھ    پیش کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور امت مسلمہ کو  مساجد کو کما حقہ آباد کرنےکی توفیق دے (آمین)  (م۔ا)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39825386

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں