#3634

مصنف : اشتیاق احمد

مشاہدات : 2093

پرانی کتاب

  • صفحات: 26
  • یونیکوڈ کنورژن کا خرچہ: 520 (PKR)
(جمعرات 01 اکتوبر 2015ء) ناشر : دار السلام، لاہور

سیدنا یعقوب   کی اولاد بنی اسرائیل کو مصر میں رہتے ہوئے کافی مدت گزر چکی تھی، چوں کہ باہر سے آئے ہوئے تھے، اس لیے مصری انہیں اچھی نظر سے نہیں دیکھتے تھے۔اس زمانے میں مصر کا ہر بادشاہ فرعون کہلاتا تھا، حضرت یوسف  سولہویں فرعون کے زمانے میں مصر تشریف لائے۔سیدنا  موسیٰ  کے زمانے کا انیسواں فرعون تھا۔ اس کا نام منفتاح بن ریمسس دوم تھا۔ سیدنا موسیٰ  خدا کےبرگزیدہ پیغمبروں میں سے ایک تھے. آپ کے بھائی حضرت ہارون  بھی اللہ کے برگزیدہ نبیوں میں سے ایک ہیں۔تمام پیغمبر کی نسبت قرآن میں حضرت موسیٰ   کا واقعہ زیادہ آیا ہے۔ تیس سے زیادہ سورتوں میں موسیٰ   و فرعون اور بنی اسرائیل کے واقعہ کی طرف سومرتبہ سے زیادہ اشارہ ہوا ہے۔فرعون نے ایک خواب دیکھا جس کی تعبیر یہ بتائی گئی کہ بنی اسرائیل کا ایک لڑکا تیری حکومت کے زوال کا باعث ہوگا اس پر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہو اس قتل کردیا جائے۔اسی زمانے میں حضرت موسی  عمران کے گھرمیں پیدا ہوائے۔ ماں باپ کو سخت پریشانی تھی اور وہ سمجھتے تھے اگر کسی کو پتا چل گیا تو اس بچے کی خیر نہیں۔ کچھ مدت تک تو ماں باپ نے اس خبر کو چھپایا، لیکن مارے پریشان کے ان کا حال برا ہورہا تھا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے آپ کی والدہ کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ اس معصوم بچے کو صندوق میں ڈال کر دریائے نیل میں بہادو۔حضرت موسیٰ  کی والدہ نے ایسا ہی کیا اور اپنی بڑی لڑکی کو بھیجا کہ وہ صندوق کے ساتھ ساتھ کنارے پر جائے اور دیکھے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اس کی حفاظت کرتا ہے۔جب یہ صندوق تیرتا ہوا شاہی محل کے قریب پہنچا تو فرعون کے گھرانے کی عورتوں میں سے ایک نے اس کو دیکھ کر باہر نکلوالیا اور جب اس میں ایک خوب صورت بچے کو دیکھا تو خوش ہوئیں اور اس بچے کو محل میں لے گئیں۔ حضرت موسیٰ  کی بہن بھی فرعون کی خادماؤں میں شامل ہوگئیں۔فرعون کے کوئی اولاد نہ تھی۔ جب اس کی بیوی آسیہ نے ایک حسین و جمیل بچے کو دیکھا تو بہت خوش ہوئیں۔ اتنے میں فرعون بھی آگیا۔ اور اس کے قتل کا حکم دے دیا۔ فرعون کی بیوی نے منت سے کہا کہ اس معصوم کو قتل نہ کرو، کوئی بڑی بات نہیں اگر یہی بچہ میری اور تیری آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بن جائے اور ہم اس کو اپنا بیٹا بنالیں اور اگر حقیقت میں یہی وہ بچہ ہے جو تیرے خواب کی تعبیر بننے والا ہے تو ہم اس کی ایسی تربیت کریں گے کہ ہمارے لیے نقصان رسان بننے کی بجائے مفید ہی ثابت ہو۔ اس طرح فرعون حضرت موسی   کے قتل کرنے سے باز رہا۔حضرت موسیٰ  فرعون کے گھر میں پل کر جوان ہوئے۔ آپ بڑے خوب صورت اور طاقتور تھے۔ایک دن آپ شہر سے باہر جارہے تھے کہ آپ نے دیکھا کہ ایک مصری ایک اسرائیلی کو بیگار میں لے کر تنگ کررہا ہے۔ جب حضرت موسیٰ   اس کے قریب سے گزرے تو اسرائیلی نے حضرت موسیٰ   سے فریاد کی، آپ نے مصری کو سختی اور جبر سے روکنے کی کوشش کی، لیکن مصری نہ مانا۔ اس پر حضرت موسیٰ   نے غصے میں آکر مصری کو ایک ایسا طمانچہ مارا کہ وہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔  فرعون نے ان کی گرفتاری کے احکام جاری کردئیے۔ اس وقت ایک آدمی فرعون کے دربار میں موجود تھا، جس کو حضرت موسیٰ    سے انس تھا۔ اس نے فوراً حضرت موسیٰ   کو جا کر سارے واقعہ کی اطلاع دی اور مشورہ دیا کہ آپ فوراً یہاں سے نکل جائیں۔ چنانچہ حضرت موسیٰ   بے سرو سامان نکل کھڑے ہوئے اور منزلیں طے کرتے ہوئے مدین کے شہر جاپہنچے۔ وہاں  دو لڑکیوں کی بکریوں کوپانی پلانے کے عوض ان کی مہمان نوازی کی گئی اور ان میں سے ایک لڑکی  کےساتھ  ان  کی شادی  بھی کردی گئی   وہاں کافی عرصہ بکریاں چراتے رہے ۔طویٰ کی مقدس وادی میں آپ کو نبوت سےسرفرازکیاگیا  اور کچھ معجزے اور نشانیاں بھی  عطا کیں اوراللہ تعالیٰ نے  حکم دیا کہ ہماری ان نشانیوں کو لے کر فرعون کے پاس جاؤ اور اس کو او اس کی قوم کو سیدھا راستہ دکھاؤ۔ اس نے بہت سرکشی اور نافرمانی اختیار کررکھی ہے اور وہ بنی اسرائیل پر انتہائی ظلم کررہا ہے، ان کو اس غلامی اور ذلت سے نجات دلاؤ۔حضرت موسیٰ   اپنے بھائی کو ساتھ لے کر فرعون کے دربار گئے اور فرعون سے کہا کہ خدا نے مجھے اپنا پیغمبر اور رسول بنا کر تیرے پاس بھیجا ہے۔ ہم تم سے دو باتیں کہتے ہیں ایک تو خدا واحد پر ایمان لے آؤ۔ دوسرے بنی اسرائیل پر ظلم و ستم سے باز آؤ اور ان کو غلامی سے نجات دو۔فرعون سے کافی باتیں ہوئیں۔ حضرت موسیٰ   نے پیار و محبت سے فرعون کو سمجھانے کی بہت کوشش کی اور جب اس سے کوئی جواب نہ بن آیا تو درباریوں سے کہنے لگا کہ یہ کوئی پاگل معلوم ہوتا ہے اور کج بحثی کرنے لگا اور اپنے وزیر بامان سے کہنے لگا کہ ایک اونچی عمارت بناؤ جس پر چڑھ کر میں موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں اور میں تو اس کو جھوٹا سمجھتا ہوں۔ حضرت موسیٰ   نے کہا کہ میں اپنی صداقت میں تیرے پاس ظاہر نشانیاں لایا ہوں۔ فرعون نے کہا اگر تیرے پاس کوئی نشانی ہے تو ہمیں بھی دکھا۔ حضرت موسیٰ   نے اپنی لاٹھی کو زمین پر پھینک دیا اور وہ ایک خوفناک اژدھا بن گیا۔ پھر اپنا ہاتھ گریبان کے اندر لے گئے۔ جب نکالا تو وہ ایک روشن ستارے کی طرح چمک رہا تھا۔یہ دیکھ کر فرعون کے درباری چلا اٹھے کہ یہ تو کوئی بہت بڑا جادو گر ہے۔ چنانچہ یہ فیصلہ ہوا کہ اب تو موسیٰ اور ہارون کو جانے دیا جائے اور کچھ دن بعد اپنی سلطنت کے تمام بڑے بڑے جادوگروں کو اکٹھا کرکے حضرت موسیٰ   سے مقابلہ کرایا جائے۔مقابلے سے پہلے حضرت موسیٰ  نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا، اللہ پر جھوٹی تہمت نہ لگاؤ، ایسا نہ ہو کہ اللہ  کا عذاب تم کو دنیا سے نیست و نابود کردے۔ جادوگروں نے آگے بڑھ کر کہا کہ ان باتوں کو جانے دو۔ اب ذرا دو دو ہاتھ ہوجائیں۔ اب یہ بتاؤکہ پہل تم کرو گے، یا ہم کریں آپ نے فرمایا کہ پہل تمہاری طرف سے ہونی چاہیے۔اب ان جادوگروں نے اپنی رسیاں بان اور لاٹھیاں زمین پر ڈال دیں جو سانپ بن کر زمین پر دوڑنے لگے۔ یہ دیکھ کر حضرت  موسیٰ  کچھ گھبراگئے ۔ مگر اسی وقت خدا کا حکم ہوا، موسیٰ خوف نہ کھاؤ، ہمارا وعدہ ہے تم غالب رہو گے، اپنی لاٹھی کو زمین پر ڈال دو۔حضرت موسیٰ نے فوراً اپنا عصا زمین پر پھینک دیا اور وہ ایک خوفناک اژدھا بن گیا۔ جس نے تمام جادو کے زور سے بنے ہوئے نمائشی سانپوں کو نگل لیا۔ جادوگر یہ دیکھ کر سخت حیران ہوئے اور پکار اٹھے کہ موسیٰ   کا یہ عمل جادو نہیں بلکہ خدا کا معجزہ ہے اور فوراً سجدہ میں گر پڑے اور اعلان کیا کہ ہم موسیٰ   اور ہارون کے خدا پر ایمان لے آئے ہیں۔جادوگروں نے کہا کہ اب سچائی ہمارے سامنے آگئی ہے تو جو کچھ کرنا چاہتا ہے کر گزر، ہم ایک الہ پر ایمان لاچکے ہیں۔ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔یہ دیکھ کر اسرائیلی نوجوانوں کی ایک جماعت بھی حضرت موسیٰ   پر ایمان لے آئی۔ لیکن وہ بھی فرعون کے قہر و غضب سے ڈرتے تھے اس لیے کھل کر اعلان نہ کرسکے۔حضرت موسیٰ   نے کہا کہ اگر تم واقعی اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے ہو اور اس کے فرمانبردار بننا چاہتے ہو تو فرعون سے ہرگز نہ ڈرو اور اللہ پر ہی اپنا بھروسہ رکھو۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم اللہ پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔جب حضرت موسیٰ  کو فرعون اور اس کے درباریوں کے منصوبوں کا علم ہوا تو آپ نے بنی اسرائیل کے لوگوں نے کہا۔ موسیٰ، ہم تو پہلے ہی مصیبتوں میں پھنسے ہوئے تھے، تیرے آنے سے کچھ امید بندھی تھی، مگر تیرے آنے کے بعد تو اور بھی مصیبت آگئی ہے۔ حضرت موسیٰ   نے اس کو تسلی دی اور کہا کہ گھبراؤ نہیں۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے تم ضرور کامیاب رہو گے اور تمہارا دشمن ہلاک ہوگا۔اللہ نے حضرت موسیٰ   کو حکم دیا کہ اپنی قوم بنی اسرائیلی کو مصر سے نکال کر باپ دادا کی سرزمین پر لے جاؤ، چنانچہ آپ رات کے وقت نبی اسرائیل کو لے کر نکل گئے۔ ادہر فرعون کو بھی اطلاع مل گئی، اس نے ایک زبردست فوج کے ساتھ ان کا تعاقب کیا۔ وہ پانی کے کنارے پر پہنچے تھے کہ مصری فوجیں آگئیں۔ جنہیں دیکھ کر بنی اسرائیل بہت گھبرائے۔ مگر حضرت موسیٰ   نے ان کو تسلی دی کہ گھبراؤ نہیں اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ   کو حکم دیا کہ اپنی لاٹھی پانی پر مارو، چنانچہ جب حضرت موسیٰ   نے بحیرہ قلزم کے پانی پر اپنی لاٹھی ماری تو اس میں سے راستہ بن گیا اور حضرت موسیٰ   بڑے آرام سے بحیرہ قلزم سے پار ہوگئے۔ یہ دیکھ کر فرعون نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ تم بھی اس راستے سے بحیرہ قلزم کو پار کرجاؤ۔ لیکن جب فرعون اور اس کی ساری فوج درمیان میں آگئی تو اللہ کے حکم سے پانی پھر اپنی اصلی حالت پر آگیا اور فرعون اپنی فوج سمیت غرق ہوگیا۔ جب فرعون غرق ہونے لگا تو اس نے پکارا کہ میں موسیٰ کے رب کے اوپر ایمان لاتا ہوں، لیکن یہ بعد از وقت تھا ۔ فرعون کی پکار پر اللہ نے فرمایا کہ "آج کے دن ہم تیرے جسم کو ان لوگوں کے لیے جو تیرے پیچھے آنے والے ہیں نجات دیں گے کہ وہ عبرت کا نشان بنے"۔ چنانچہ ہزارو سالوں کے بعد اس پرانی  لاش دستیاب ہوئی ہے اور اب مصر کے عجائب خانہ میں موجود ہے۔زیر تبصرہ کتاب’’پرانی لاش‘‘ میں  محترم جنا ب اشتیاق احمد صاحب نے    کہانی او رمکالمے کے  انداز میں اس فرعون کا تذکرہ کیا ہے۔ایک اچھی کہانی کی طرح اس  کہانی میں بھی یہ خوبی نمایاں ہے یہ عبرت ونصیحت کےتمام پہلو اپنے اندرکھتی ہے۔ (م۔ا)

عناوین

 

صفحہ نمبر

پیش لفظ

 

4

پرانی لاش

 

6

آپ کے براؤزر میں پی ڈی ایف کا کوئی پلگن مجود نہیں. اس کے بجاے آپ یہاں کلک کر کے پی ڈی ایف ڈونلوڈ کر سکتے ہیں.

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1231
  • اس ہفتے کے قارئین 10916
  • اس ماہ کے قارئین 49310
  • کل قارئین49382176

موضوعاتی فہرست