ملت اسلامیہ دوراہے پر(4826#)

محمد اسد
دار السلام، لاہور
107
2675 (PKR)
2.5 MB

یہودیت چھوڑ کو اسلام قبول کرنے والے محمد اسد (سابق نام: لیوپولڈ ویز) جولائی 1900ء میں موجودہ یوکرین کے شہر لیویو میں پیدا ہوئے جو اس وقت آسٹرو۔ ہنگرین سلطنت کا حصہ تھا۔بیسویں صدی میں امت اسلامیہ کے علمی افق کو جن ستاروں نے تابناک کیا ان میں جرمن نو مسلم محمد اسد کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ اسد کی پیدائش ایک یہودی گھرانے میں ہوئی۔ 23 سال کی عمر میں ایک نو عمر صحافی کی حیثیت سے عرب دنیا میں تین سال گذارے اور اس تاریخی علاقے کے بدلتے ہوئے حالات کی عکاسی کے ذریعے بڑا نام پایا لیکن اس سے بڑا انعام ایمان کی دولت کی با‌زیافت کی شکل میں اس کی زندگی کا حاصل بن گیا۔ ستمبر 1926ء میں جرمنی کے مشہور خیری برادران میں سے بڑے بھائی عبدالجبار خیری کے دست شفقت پر قبول اسلام کی بیعت کی اور پھر آخری سانس تک اللہ سے وفا کا رشتہ نبھاتے ہوئے اسلامی فکر کی تشکیل اور دعوت میں 66 سال صرف کرکے خالق حقیقی سے جا ملے۔علامہ اسد نے مکہ میں قیام کے دوران شاہ فیصل سے ملاقات کی جو اس وقت ولی عہد تھے اور بعد ازاں سعودی مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز السعود سے ملاقات کی۔ انہوں نے مکہ و مدینہ میں 6 سال گذارے اور عربی، قرآن، حدیث اور اسلامی تاریخ کی تعلیم حاصل کی۔1932ء میں وہ ہندوستان آگئے اور شاعر مشرق علامہ محمد اقبال سے ملاقات کی۔ 1939ء میں وہ اس وقت شدید مسائل کا شکار ہوگئے جب برطانیہ نے انہیں دشمن کا کارندہ قرار دیتے ہوئے گرفتار کرلیا۔ محمد اسد کو 6 سال بعد، 1945ء میں رہائی ملی۔1947ء میں قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان آگئے اور نئی ریاست کی نظریاتی بنیادوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ انہیں پہلا پاکستانی پاسپورٹ جاری کیا گیا۔ بعد ازاں انہیں پاکستان کی وزارت خارجہ کے شعبہ مشرق وسطی میں منتقل کردیا گیا جہاں انہوں نے دیگر مسلم ممالک سے پاکستان کے تعلقات مضبوط کرنے کا کام بخوبی انجام دیا۔ انہوں نے 1952ء تک اقوام متحدہ میں پاکستان کے پہلے سفیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔محمد اسد نے اپنی اسلامی زندگی کے 66 سال عرب دنیا، ہندوستان، پاکستان اور تیونس میں گذارے اور آخری ایام میں ان کا قیام اسپین کے اس علاقے میں رہا جو اندلس اور عرب دنیا کا روحانی و ثقافتی حصہ تھا محمد اسد 1955ء میں نیویارک چھوڑ کر اسپین میں رہائش پذیر ہوئے۔ 17 سال کی کاوشوں کے بعد 80 برس کی عمر میں انہوں نے اپنی زندگی کے سب سے بڑے خواب "قرآن پاک کی انگریزی ترجمہ و تفسیر" کو تکمیل تک پہنچایا۔ وہ 23 فروری 1992ء کو اسپین میں ہی خالق حقیقی سے جا ملے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ ملت اسلامیہ دوراہے پر‘‘علامہ محمد اسد کی انگریزی تصنیف ISLAM AT THE CROSS ROADS کا اردوترجمہ ہے ۔اس کتاب میں نومسلم علامہ محمداسد نےمغربی تہذیب اورمسیحیت کےفکری تاروپوبکھیر ہیں اور ملت اسلامیہ کومغرب کی ندھی تقلید سے بچنے ، اسلامی معاشرت کےتحفظ، قرآن وسنت کی تعلیمات کو مکمل طور پر اپنانے اور مغرب کی فکری یلغار کےمقابلے میں معذرت خواہانہ رویہ ترک کرنے کی تلقین کی ہے ۔مفسر قرآن علامہ محمداسد کی اس تصنیف کامطالعہ اسلام سے روگردانی اور بے عملی کے اس دو ر میں اسلام سے سچی وابستگی اور فکری وعملی اصلاح کا ذریعہ ثابت ہوسکتاہے۔(م۔ا)

عناوین

 

صفحہ نمبر

عرض ناشر

 

7

ذکر کچھ مصنف کا

 

10

عرض مؤلف

 

12

پیش لفظ

 

15

اسلام کی کشادہ شاہراہ

 

21

مغرب کی روح

 

35

صلیبی جنگوں کا سایہ

 

52

اسلام کے متعلق مغربی رویہ

 

63

مسلم نوجوانوں کی تعلیم

 

67

مغرب کی نقالی کیوں؟

 

77

حدیث اور سنت

 

83

نتیجہ

 

98

اس مصنف کی دیگر تصانیف

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1048
  • اس ہفتے کے قارئین: 9731
  • اس ماہ کے قارئین: 43752
  • کل قارئین : 47905479

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں