کل کتب 7645

دکھائیں
کتب
  • 7576 #477

    مصنف : ڈاکٹر قیام الدین احمد

    مشاہدات : 22420

    ہندوستان میں وہابی تحریک

    (ہفتہ 28 مئی 2011ء) ناشر : نفیس اکیڈمی کراچی
    #477 Book صفحات: 397
    وہابی تحریک در اصل اس تحریک کا نام ہے جو شیخ محمد بن عبدالوہاب النجدی ؒ نے نجد میں چلائی ۔یہ ایک اصلاحی تحریک تھی جس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں میں جو غیر ضروری اوہام اور غیر شرعی اعمال و رسوم پیدا ہو گئے ہیں انہیں ختم کر کے دین کو اپنی قدیم سادگی پر واپس لایا جائے اور دین پر مر مٹنے کی جو تمنا صحابہ کرام میں موجود تھی اسے پھر سے زندہ کر دیا جائے۔ظاہر ہے کہ اس مقصد کے  حصول میں وہابیوں کو مختلف طاقتوں سے ٹکرانا پڑا اور وہ ٹکرائے۔ہندوستان کی وہابی تحریک کا اس سے حقیقتاً کوئی تعلق نہ تھا۔مگر چونکہ یہ لوگ بھی دینی جذبات سے لبریز تھے ،ان میں بھی روح جہاد کار فرماتھی اوریہ بھی دین کو عہد اول کی سادگی پر واپس لانا چاہتے تھے اس لیے یہ لوگ بھی وہابی مشہور ہو گئے یا دوسروں نے ان کی تحریک کو وہابی تحریک مشہور کر دیا۔زیر نظر کتاب میں اس تحریک کی مفصل تاریخ مستند حوالہ جات کی روشنی میں بیان کی گئی ہے ،جس سے اس کے تمام گوشے نکھر کر سامنے آ جاتے ہیں اور تمام شکو ک و شبہات کا ازالہ ہو جاتا ہے ۔  
  • 7577 #5570

    مصنف : مفتی شوکت علی فہمی

    مشاہدات : 12442

    ہندوستان پر اسلامی حکومت

    (جمعہ 17 اگست 2018ء) ناشر : سٹی بک پوائنٹ کراچی
    #5570 Book صفحات: 330
    ہندوستان دنیا کا قدیم ترین ملک ہے ۔ اس ملک  کوو ہی قدامت حاصل ہےجو دنیا کے کسی پرانے سے پرانے ملک  کو حاصل ہوسکتی ہے۔ ہندوستان کےبارے میں مؤرخوں کی رائے  ہے کہ  اس  ملک کی تہذیب او ر تمدن یونان سے بھی قدیم ہے۔ہندوستان ابتداء ہی ایک نہایت زرخیز ملک ہے ۔ لیکن اس کی زرخیزی اس ملک کے باشندوں کےلیے  ہمیشہ مصیبت بنی ر ہے ۔ چنانچہ ہندوستان کے گرد وپیش  جب بھی کسی قوم کو ذرا بھی اقتدار حاصل ہوا   وہ ہندوستان پر چڑھ دوڑی تاکہ ہندوستان کی زرخیزی سے مالا مال ہو سکے ۔ ہندوستان دنیا کا ایسا خطہ ہے جہاں آٹھویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک دو غیرملکی حکمران، عرب مسلمان اور انگریز(برطانوی) قابض رہے۔ 712 ء میں مسلمان حکمران محمد بن قاسم نے ہندوستان میں قدم رکھا اور 1857 کے غدر کے بعد باقاعدہ مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ ہوا ۔ برطانوی سامراج جس کی ابتداء 1757 ء کو ہوئی تھی کا خاتمہ 1947 ء کو ہوا۔ محمد بن قاسم نے دمشق میں موجود مسلمان خلیفہ الولید اور بغداد کے گورنر حجاج بن یوسف کی آشیر باد سے، 712 ء میں ہندوستان پر حکمرانی کا آغاز کیا ۔ 1590ء تک مسلمان حکمران شہ...
  • 7578 #5593

    مصنف : مفتی شوکت علی فہمی

    مشاہدات : 8630

    ہندوستان پر مغلیہ حکومت

    (ہفتہ 22 ستمبر 2018ء) ناشر : سٹی بک پوائنٹ کراچی
    #5593 Book صفحات: 291
    ہندوستان دنیا کا قدیم ترین ملک ہے ۔ اس ملک  کوو ہی قدامت حاصل ہےجو دنیا کے کسی پرانے سے پرانے ملک  کو حاصل ہوسکتی ہے۔ ہندوستان کےبارے میں مؤرخوں کی رائے  ہے کہ  اس  ملک کی تہذیب او ر تمدن یونان سے بھی قدیم ہے۔ہندوستان ابتداء ہی ایک نہایت زرخیز ملک ہے ۔ لیکن اس کی زرخیزی اس ملک کے باشندوں کےلیے  ہمیشہ مصیبت بنی ر ہے ۔ چنانچہ ہندوستان کے گرد وپیش  جب بھی کسی قوم کو ذرا بھی اقتدار حاصل ہوا   وہ ہندوستان پر چڑھ دوڑی تاکہ ہندوستان کی زرخیزی سے مالا مال ہو سکے ۔ ہندوستان دنیا کا ایسا خطہ ہے جہاں آٹھویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک دو غیرملکی حکمران، عرب مسلمان اور انگریز(برطانوی) قابض رہے۔ 712 ء میں مسلمان حکمران محمد بن قاسم نے ہندوستان میں قدم رکھا اور 1857 کے غدر کے بعد باقاعدہ مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ ہوا ۔ برطانوی سامراج جس کی ابتداء 1757 ء کو ہوئی تھی کا خاتمہ 1947 ء کو ہوا۔ محمد بن قاسم نے دمشق میں موجود مسلمان خلیفہ الولید اور بغداد کے گورنر حجاج بن یوسف کی آشیر باد سے، 712 ء میں ہندوستان پر حکمرانی کا آغاز کیا ۔ 1590ء تک مسلمان حکمران شہ...
  • 7579 #4375

    مصنف : ابو الحسنان ندوی

    مشاہدات : 7533

    ہندوستان کی قدیم اسلامی درسگاہیں

    (اتوار 02 اپریل 2017ء) ناشر : دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، انڈیا
    #4375 Book صفحات: 108
    مسلمانوں میں دینی تعلیم کے اہتمام کا سلسلہ عہد نبوی ہی میں شروع ہوچکا تھا۔ دارارقم ،درس گاہ مسجد قبا ، مسجد نبوی اور اصحاب صفہ کے چبوترہ میں تعلیم وتربیت کی مصروفیات اس کے واضح ثبوت ہیں۔ چوتھی وپانچویں صدی ہجری کی معروف دینی درس گاہوں میں مصر کا جامعہ ازہر ، اصفہان کا مدرسہ ابوبکر الاصفہانی ، نیشاپور کا مدرسہ ابو الاسحاق الاسفرائینی اور بغداد کا مدرسہ نظامیہ شامل ہیں۔غرضیکہ مدارس کی تاریخ وتاسیس کی کڑی عہد رسالت سے جاکر ملتی ہے اور مدارس میں پڑھائی جانے والی کتب حدیث کی سند کا سلسلہ حضور اکرم ﷺ تک پہنچتا ہے۔ برصغیر میں مدارس کا قیام دوسری صدی ہجری یعنی آٹھویں صدی عیسوی میں ہوا۔اور جب دہلی میں مسلم حکومت قائم ہوئی تو دہلی کے علاوہ دوسرے شہروں وقصبوں ودیہاتوں میں کثیر تعداد میں مکاتب ومدارس قائم ہوئے۔ مدارس کے قیام کا بنیادی مقصد کتاب وسنت اور ان سے ماخوذ علوم وفنون کی تعلیم وتعلم ، توضیح وتشریح ، تعمیل واتباع ، تبلیغ ودعوت کے ساتھ ایسے رجال کار پیدا کرنا ہے جو اس تسلسل کو قائم وجاری رکھ سکیں ، نیز انسانوں کی دنیاوی زندگی کی رہنمائی کے ساتھ ایسی کوشش کرنا ہے کہ ہر ہر انسان جہنم سے بچ کر...
  • 7580 #4375

    مصنف : ابو الحسنان ندوی

    مشاہدات : 7533

    ہندوستان کی قدیم اسلامی درسگاہیں

    (اتوار 02 اپریل 2017ء) ناشر : دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، انڈیا
    #4375 Book صفحات: 108
    مسلمانوں میں دینی تعلیم کے اہتمام کا سلسلہ عہد نبوی ہی میں شروع ہوچکا تھا۔ دارارقم ،درس گاہ مسجد قبا ، مسجد نبوی اور اصحاب صفہ کے چبوترہ میں تعلیم وتربیت کی مصروفیات اس کے واضح ثبوت ہیں۔ چوتھی وپانچویں صدی ہجری کی معروف دینی درس گاہوں میں مصر کا جامعہ ازہر ، اصفہان کا مدرسہ ابوبکر الاصفہانی ، نیشاپور کا مدرسہ ابو الاسحاق الاسفرائینی اور بغداد کا مدرسہ نظامیہ شامل ہیں۔غرضیکہ مدارس کی تاریخ وتاسیس کی کڑی عہد رسالت سے جاکر ملتی ہے اور مدارس میں پڑھائی جانے والی کتب حدیث کی سند کا سلسلہ حضور اکرم ﷺ تک پہنچتا ہے۔ برصغیر میں مدارس کا قیام دوسری صدی ہجری یعنی آٹھویں صدی عیسوی میں ہوا۔اور جب دہلی میں مسلم حکومت قائم ہوئی تو دہلی کے علاوہ دوسرے شہروں وقصبوں ودیہاتوں میں کثیر تعداد میں مکاتب ومدارس قائم ہوئے۔ مدارس کے قیام کا بنیادی مقصد کتاب وسنت اور ان سے ماخوذ علوم وفنون کی تعلیم وتعلم ، توضیح وتشریح ، تعمیل واتباع ، تبلیغ ودعوت کے ساتھ ایسے رجال کار پیدا کرنا ہے جو اس تسلسل کو قائم وجاری رکھ سکیں ، نیز انسانوں کی دنیاوی زندگی کی رہنمائی کے ساتھ ایسی کوشش کرنا ہے کہ ہر ہر انسان جہنم سے بچ کر...
  • 7581 #3382

    مصنف : مسعود عالم ندوی

    مشاہدات : 6844

    ہندوستان کی پہلی اسلامی تحریک

    (جمعرات 25 فروری 2016ء) ناشر : مکتبہ چراغ اسلام لاہور
    #3382 Book صفحات: 176
    ہندوستان کی فضا میں رشد وہدیٰ کی روشنیاں بکھیرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل خاص سے ایک ایسی شخصیت کو پید ا فرمایا جس نے اپنی قوت ایمان اور علم وتقریر کے زور سے کفر وضلالت کے بڑے بڑے بتکدوں میں زلزلہ بپا کردیا اور شرک وبدعات کے خود تراشیدہ بتوں کو پاش پاش کر کے توحیدِ خالص کی اساس قائم کی یہ شاہ ولی اللہ دہلوی کے پوتے شاہ اسماعیل شہید تھے ۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب کے بعد دعوت واصلاح میں امت کے لیے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں انہو ں نے نہ صرف قلم سےجہاد کیا بلکہ عملی طور پر حضرت سید احمد شہید کی امارت میں تحریک مجاہدین میں شامل ہوکر سکھوں کے خلاف جہاد کرتے ہوئے 6 مئی 1831ء بالاکوٹ کے مقام پر شہادت کا درجہ حاصل کیا اور ہندوستان کے ناتواں اور محکوم مسلمانوں کے لیے حریت کی ایک عظیم مثال قائم کی جن کے بارے شاعر مشرق علامہ اقبال نے کہا کہ ’’اگر مولانا محمد اسماعیل شہید کےبعد ان کے مرتبہ کاایک مولوی بھی پیدا ہوجاتا تو آج ہندوستان کے مسلمان ایسی ذلت کی زندگی نہ گزارتے۔ سید محمد اسماعیل شہید اور ان کےبےمثل پیرو ومرشد سید احمد شہید اور ان کےجانباز رفقاء کی شہ...
  • 7582 #6460

    مصنف : سید صباح الدین عبد الرحمن

    مشاہدات : 2982

    ہندوستان کے سلاطین علماء اور مشائخ کے تعلقات پر ایک نظر

    (پیر 23 اگست 2021ء) ناشر : نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد
    #6460 Book صفحات: 246
    ہندوستان  میں مسلم حکمرانی کا آغاز ، برصغیر پاک و ہند میں بتدریج مسلمان فتح کے دوران ہوا ، جس کا آغاز بنیادی طور پر فتح محمد بن قاسم کی زیرقیادت فتح سندھ اور ملتان کے بعد ہوا تھا۔ پنجاب میں غزنویوں کی حکمرانی کے بعد ، غور میں سلطان محمد کو عام طور پر ہندوستان میں مسلم حکمرانی کی بنیاد رکھنے کا سہرا دیا جاتا ہے زیرنظر کتاب’’ہندوستان کے سلاطین علماء اورمشائخ کےتعلقات پر ایک نظر‘‘ سیدصباح الدین عبد الرحمٰن ایم اے کی مرتب شدہ ہے۔فاضل مرتب نے اس کتاب میں  اسلامی ہند کی مذہبی،ذہنی اور فکری تاریخ  پر اجمالی تبصرہ کیا ہے۔(م۔ا)
  • 7583 #5601

    مصنف : سید صباح الدین عبد الرحمن

    مشاہدات : 8858

    ہندوستان کے عہد ماضی میں مسلمان حکمرانوں کی مذہبی رواداری جلد اول

    dsa (منگل 16 اکتوبر 2018ء) ناشر : دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، انڈیا
    #5601 Book صفحات: 149
    ہندوستان میں مسلمان آباد ہوئے تو شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جہاں ان کے  پڑوسی غیر مسلم نہ  ہوں۔ روز مرہ زندگی میں ان سے برابر سابقہ رہا اسلام میں پڑوسیوں کے حقوق کی بڑی اہمیت ہے۔ ہندوستان میں  مسلمان حکمرانوں کے عہد میں صرف لڑائیاں ہی نہیں ہوتی رہیں بلکہ ان کے  یہاں روادای ، فراخ دلی اور انسان دوستی بھی ر ہی ۔ او رمسلمانوں کا یہ عقیدہ رہا ہے  کہ  رہا ہے کہ  حکومت الحاد ، بے  دینی کفر اور شرک کے ساتھ تو عرصۂ دراز تک قائم رہ سکتی ہے مگر جبر،ظلم اور چیرہ دستی سے قرار نہیں رکھی جاسکتی ہے ۔ اسی لیے  ہندوستان کے مسلمان  فرمان رواؤں  نےاپنے دورِ  حکومت میں عدل وانصاف پر   ہرزمانہ میں زور دیا ۔ یہ عدل پسندی اور انصاف پروری رواداری اور فراخ دلی کے بغیر عمل میں نہیں آسکتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ ہندوستان  کےعہد  ماضی میں مسلمانوں حکمرانوں کی مذہبی رواداری ‘‘ سید صباح الدین عبد الرحمٰن(مصنف کتب کثیرہ کی دو جلدوں پر مشتمل تصنیف ہے۔بنیادی طور پر اس کتاب کو دلوں کوجوڑنے کے لیے مرتب کیا گیا ہے۔ جلد اول...
  • 7584 #2404

    مصنف : امت پانڈے

    مشاہدات : 4131

    ہندوستان کے مسلمان امتیازی سلوک کا شکار

    (اتوار 15 مارچ 2015ء) ناشر : مشعل بکس، لاہور
    #2404 Book صفحات: 92
    آج کل یوں تو پورا عالم اسلام استعمار اور دشمنوں کی سازشوں کےچنگل میں نظرآرہاہے لیکن دنیاکی سب سےبڑی جمہوریت کادعوی کرنےوالے ہندوستانی سیاستدان بھی آئے روزمسلمانوں کوہراساں کرنے اور انہیں طرح طرح سے خوف و وحشت میں مبتلا کرنےکی سازشیں رچاتےرہتےہيں۔اوریوں ہندوستان کےعوام اور اس کےاندر پائی جانےوالی سب سےبڑی اقلیت فی الحال بےشمارمسائل کاشکار ہے۔اوراس کاسب سےبڑا ثبوت ہندوستان میں ہرسطح پر مسلمانوں کوہراساں کئےجانےکےلئےکھیلاجانےوالا کھیل اور تمام اہم قومی وسرکاری اداروں سے ان کی بیدخلی ہے۔ہندوستان میں مسلمان دوسری سب سے بڑی قوم ہیں۔ یہاں ان کی تعداد تقریبا 30 کروڑ ہے۔پورے ہندوستان میں مسجدوں کی تعداد اگر مندروں سے زیادہ نہیں تو کسی طرح کم بھی نہیں ہے ۔ ایک سے ایک عالیشان مسجد جن میں دلی کی جامع مسجد بھی شامل ہے ، اس مسجد کو شاہی مسجد بھی کہا جاتا ہے ۔ان تمام مساجد میں پانچوں وقت اذان دی جاتی ہے ۔لیکن اس کے باوجودمسلمانوں کو ہر میدان سے باہر کیا جارہا ہے اور انہیں غربت،افلاس اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ وہ تعلیم میں، تجارت میں، ملازمت میں، صحت میں غرض زندگی کے ہر شعبے می...
  • ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں کے عہد کے تمدنی کارنامے

    (جمعہ 10 مارچ 2017ء) ناشر : دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، انڈیا
    #4497 Book صفحات: 319
    ہندوستان دنیا کا ایسا خطہ ہے جہاں آٹھویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک دو غیرملکی حکمران، عرب مسلمان اور انگریز(برطانوی) قابض رہے۔ 712 ء میں مسلمان حکمران محمد بن قاسم نے ہندوستان میں قدم رکھا اور 1857 کے غدر کے بعد باقاعدہ مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ ہوا۔ برطانوی سامراج جس کی ابتداء 1757 ء کو ہوئی تھی کا خاتمہ 1947 ء کو ہوا۔ محمد بن قاسم نے دمشق میں موجود مسلمان خلیفہ الولید اور بغداد کے گورنر حجاج بن یوسف کی آشیر باد سے، 712 ء میں ہندوستان پر حکمرانی کا آغاز کیا۔ 1590ء تک مسلمان حکمران شہنشاہ اکبر تقریباً پورے ہندوستان پر قابض ہو چکا تھا۔ اورنگ زیب کے دور (1657-1707) میں اس سلطنت میں کچھ اضافہ ہوا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں کے عہد کے تمدنی کارنامے‘‘ دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ کے رفقاء کی مرتب کردہ ہے۔ اس کتاب میں سلاطین دہلی اور شاہان مغلیہ کے عہد کے فن تعمیر، رفاہ عام کے کام، شہروں اور گاؤں کی آبادی، باغات، ترقی حیوانات، ترقی تعلیم، کاغذ سازی، کتب خانے او رخطاطی وغیرہ پر تفصیلیر و شنی ڈالی گئی ہے۔ (م۔ا)
  • ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں کے عہد کے تمدنی کارنامے

    (جمعہ 10 مارچ 2017ء) ناشر : دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، انڈیا
    #4497 Book صفحات: 319
    ہندوستان دنیا کا ایسا خطہ ہے جہاں آٹھویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک دو غیرملکی حکمران، عرب مسلمان اور انگریز(برطانوی) قابض رہے۔ 712 ء میں مسلمان حکمران محمد بن قاسم نے ہندوستان میں قدم رکھا اور 1857 کے غدر کے بعد باقاعدہ مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ ہوا۔ برطانوی سامراج جس کی ابتداء 1757 ء کو ہوئی تھی کا خاتمہ 1947 ء کو ہوا۔ محمد بن قاسم نے دمشق میں موجود مسلمان خلیفہ الولید اور بغداد کے گورنر حجاج بن یوسف کی آشیر باد سے، 712 ء میں ہندوستان پر حکمرانی کا آغاز کیا۔ 1590ء تک مسلمان حکمران شہنشاہ اکبر تقریباً پورے ہندوستان پر قابض ہو چکا تھا۔ اورنگ زیب کے دور (1657-1707) میں اس سلطنت میں کچھ اضافہ ہوا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں کے عہد کے تمدنی کارنامے‘‘ دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ کے رفقاء کی مرتب کردہ ہے۔ اس کتاب میں سلاطین دہلی اور شاہان مغلیہ کے عہد کے فن تعمیر، رفاہ عام کے کام، شہروں اور گاؤں کی آبادی، باغات، ترقی حیوانات، ترقی تعلیم، کاغذ سازی، کتب خانے او رخطاطی وغیرہ پر تفصیلیر و شنی ڈالی گئی ہے۔ (م۔ا)
  • ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں کے عہد کے تمدنی کارنامے

    (جمعہ 10 مارچ 2017ء) ناشر : دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، انڈیا
    #4497 Book صفحات: 319
    ہندوستان دنیا کا ایسا خطہ ہے جہاں آٹھویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک دو غیرملکی حکمران، عرب مسلمان اور انگریز(برطانوی) قابض رہے۔ 712 ء میں مسلمان حکمران محمد بن قاسم نے ہندوستان میں قدم رکھا اور 1857 کے غدر کے بعد باقاعدہ مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ ہوا۔ برطانوی سامراج جس کی ابتداء 1757 ء کو ہوئی تھی کا خاتمہ 1947 ء کو ہوا۔ محمد بن قاسم نے دمشق میں موجود مسلمان خلیفہ الولید اور بغداد کے گورنر حجاج بن یوسف کی آشیر باد سے، 712 ء میں ہندوستان پر حکمرانی کا آغاز کیا۔ 1590ء تک مسلمان حکمران شہنشاہ اکبر تقریباً پورے ہندوستان پر قابض ہو چکا تھا۔ اورنگ زیب کے دور (1657-1707) میں اس سلطنت میں کچھ اضافہ ہوا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں کے عہد کے تمدنی کارنامے‘‘ دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ کے رفقاء کی مرتب کردہ ہے۔ اس کتاب میں سلاطین دہلی اور شاہان مغلیہ کے عہد کے فن تعمیر، رفاہ عام کے کام، شہروں اور گاؤں کی آبادی، باغات، ترقی حیوانات، ترقی تعلیم، کاغذ سازی، کتب خانے او رخطاطی وغیرہ پر تفصیلیر و شنی ڈالی گئی ہے۔ (م۔ا)
  • 7588 #4447

    مصنف : ابو الحسن زید فاروقی

    مشاہدات : 7347

    ہندوستانی قدیم مذاہب

    (اتوار 12 فروری 2017ء) ناشر : شاہ ابو الخیر اکاڈمی، دہلی
    #4447 Book صفحات: 72
    انسانی تاریخ میں لاتعداد مذاہب گزر چکے ہیں اور ہر دور میں انسان کسی نہ کسی مذہب کا پیروکار رہا ہے۔ بے شمار مذاہب اب ناپید ہو چکے ہیں  مذاہب کون کون سے ہیں اور ان میں بنیادی طور پر کیا اختلاف پائے جاتے ہیں اور ان میں کیا باتیں مشترک ہیں۔ لیکن یہ بات سب مذاہب میں مشترک ہے کہ ایک اللہ ہی اس کائنات کا مالک ہے۔ ہندوستان میں بھی متعدد قدیم مذاہب پائے جاتے تھے۔ ہندو مذہب کا شمار دنیا کے قدیم ترین مذاہب میں ہوتا ہے۔ آریاؤں کے ہندوستان میں آنے سے ان کی تاریخ شروع ہوتی ہے۔ آج سے تقریبا ساڑھے تین ہزار سال قبل آریا قوم افغانستان وادی سوات کے راستے برصغیر پاک و ہند میں داخل ہوئی تھی۔ اس وقت اس خطہ میں ’’دراوڑی‘‘ قوم آباد تھی۔ جس کے اثرات آج بھی ’’موہنجودڑو‘‘ اور ’’ہڑپہ‘‘ کے وسیع و عریض کھنڈرات میں ملتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ"ہندوستانی قدیم مذاہب"محترم جناب سید اخلاق حسین صاحب کا مرتب کردہ ہے، جس میں انہوں نے ہندوستانی قدیم مذاہب کے بارے میں مولانا ابو الحسن زید فاروقی اور میرزاجان جاناں مظہر کا مکتوب شائع کیا ہے۔...
  • 7589 #5543

    مصنف : نا معلوم

    مشاہدات : 5249

    ہندوستانی مسلمان

    (ہفتہ 28 جولائی 2018ء) ناشر : اورینٹل پبلک لائبریری پٹنہ انڈیا
    #5543 Book صفحات: 441
    یہ حقیقت ہے کہ مسلمان ہندوستان میں ابھر نہیں سکے۔ وہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ آزادی کے بعد سے آج تک جس قدر مسائل سے ہندوستانی مسلمان دوچار رہے ہیں، کوئی اور قوم ان حالات سے گزرتی تو ممکن تھا کہ وہ اپنا وجود ہی خطرہ میں ڈال چکی ہوتی۔ اُس کی شناخت ختم ہو جاتی اور اس کے عقائد بگڑ جاتے۔ لیکن غالباً یہ مسلمانوں کی خود کی کوشش کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ خدا برحق کی مصلحت ہے کہ مسلمان ہندوستان میں نہ صرف باقی رہیں بلکہ اپنی مکمل شناخت اور عقائد و افکار میں بھی وہ نمایاں حیثیت برقرار رکھیں۔۱۸۵۷ء کے بعد کے ہندوستانی مسلمانوں کی، اس وقت کی کسی حد تک تصویر کشی ڈاکٹر سرولیم ہنٹر کی کتاب’ ’ہمارے ہندوستانی مسلمان‘‘ میں تلاش کی جاسکتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ ہمارے ہندوستانی مسلمان‘‘ڈاکٹر سرولیم ہنٹر کی انگریزی کتاب OUR INDIAN MUSLMANS کا اردو ترجمہ ہے۔ 1944ء میں جب مترجم کتاب جناب صادق حسین نے اس کتاب کاترجمہ کیا تو اس وقت ہندوستان میں تحریک آزادی پورے شباب پر تھی۔ڈاکٹر سرولیم ہنٹر نےکتاب کے چوتھے باب میں مسلمانوں کی اقتصادی حالت اور ان کی مشکلات پر بحث کی ہے۔ ج...
  • 7590 #3790

    مصنف : ڈاکٹر سالم قدوائی

    مشاہدات : 8167

    ہندوستانی مفسرین اور ان کی عربی تفسیریں

    (منگل 26 جولائی 2016ء) ناشر : ادارہ معارف اسلامی منصورہ لاہور
    #3790 Book صفحات: 411
    آخری نبی حضرت محمد ﷺ کو قیامت کے تک لیے زند ہ معجزہ قرآن مجید عطا فرمایا اور اللہ تعالی نے اس کی حفاظت کا بھی بندوبست فرمایا اور اس کے لیے ایسے رجال کار پید ا فرمائے جنہوں نے علوم قرآن سے متعلق تفاصیل اور تفاسیر مرتب کرتے ہوئے اپنی جانیں کھپادیں۔انہی میں سے ایک شعبہ علوم تفسیر،کتب تفسیر ،اور مفسرین کے حالات کا جاننا بھی ہے اپنے اپنے ادوار میں علماء کرام نے اس میدان میں خوب کام کیا او رخدمات انجام دیں۔ہندوستان صدیوں تک اسلامی تہذیب وثقافت کا مرکز رہ چکا ہے جس کے آثار ونقوش اس کے ذرہ ذرہ پر ثبت ہیں ، یہاں کے علماء اور اصحاب کمال کے علمی ،دینی او رتہذیبی کارنامے اسلامی ملکوں سے کم نہیں ہیں ۔ علم وفن کی ہر شاخ خصوصاً دینی علوم میں ہندوستان میں جو علماء پیدا ہوئے ان کی علمی عظمت اسلامی اور عرب ملکوں میں بھی مسلم تھی۔تفسیر کی جانب بھی ہندوستانی مفسرین کی عربی واردو زبان خدمات بڑی نمایاں ہیں۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ ہندوستانی مفسرین اور ان کی عربی تفسیریں‘‘ڈاکٹر محمد سالم قدوائی کے ڈاکٹریٹ کے تحقیقی مقالے کی کتابی صورت ہے ۔ اس مقالے پر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے انہیں پی...
  • 7591 #2278

    مصنف : قاری محمد کرامت علی جونپوری

    مشاہدات : 6930

    ہندی شرح جزری

    (بدھ 04 فروری 2015ء) ناشر : قرآءت اکیڈمی لاہور
    #2278 Book صفحات: 151
    اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے نازل فرمایاہے۔،یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایسا کلام ہے جس کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔اور قرآن مجید کی درست تلاوت اسی وقت ہی  ممکن ہو سکتی ہے، جب اسے علم تجویدکے قواعد وضوابط اوراصول وآداب کے ساتھ پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے ۔لہٰذا قرآن کریم کو اسی طرح پڑھا جائے جس طرح اسے پڑھنے کا حق ہے۔اور ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علمِ تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی حاصل کرے۔فن تجوید پر عربی زبان میں بے شمار کتب موجود ہیں۔جن میں سے مقدمہ جزریہ ایک معروف اور مصدر کی حیثیت رکھنے والی عظیم الشان منظوم کتاب ہے،جو علم تجوید وقراءات کے امام علامہ جزری ﷫کی تصنیف ہے۔اس کتاب کی اہمیت وفضیلت کے پیش نظر متعدد اہل علم نے اس کی شاندار شروحات لکھی ہیں۔زیر تبصرہ کتاب " ھندی شرح جزری "بھی مقدمہ جزریہ کی ایک مفصل شرح ہے جواستاذ القراء والمجودین مولانا قاری محمد کرامت علی جونپوری﷫ کی کاوش ہے۔جو ان کی سالہا سال کی محنت وکوشش اور عرصہ دراز کی تحقیق وجستجو کا نتیج...
  • 7592 #2254

    مصنف : حکیم غلام جیلانی خان

    مشاہدات : 10282

    ہیومن اناٹومی و فزیالوجی

    (جمعہ 30 جنوری 2015ء) ناشر : ادارہ تحقیقات طب یونانی فیصل آباد
    #2254 Book صفحات: 387
    انسا ن  کو بیماری  کا لاحق ہو نا  من  جانب  اللہ  ہے  اوراللہ تعالی نے  ہر بیماری کا علاج بھی   نازل فرمایا ہے  جیسے کہ  ارشاد نبویﷺ ہے ’’ اللہ تعالی نے ہر بیماری کی دواء نازل کی ہے  یہ الگ بات ہے کہ کسی نےمعلوم کر لی  اور کسی  نے نہ کی ‘‘بیماریوں کے علاج  کے لیے  معروف طریقوں(روحانی علاج،دواء اور غذا کے ساتھ  علاج،حجامہ سے  علاج) سے  علاج کرنا  سنت  سے  ثابت ہے ۔ روحانی  اور جسمانی  بیماریوں سےنجات کے لیے  ایمان او ر علاج کے درمیان ایک مضبوط تعلق ہے اگر ایمان کی کیفیت  میں  پختگی  ہو گی تو  بیماری سے  شفاء بھی اسی قدر تیزی  سے  ہوگی ۔نبی کریم ﷺ جسمانی  وروحانی بیماریوں کا علاج جن وظائف اور ادویات سے  کیا کرتے تھے یاجن  مختلف بیماریوں کےعلاج کےلیے  آپﷺنے جن چیزوں کی نشاندہی کی اور  ان کے  فوائد ونقصان کو  بیان کیا ان کا ذکر  بھی  حدیث وسیرت کی کتب میں موجو...
  • 7593 #2042

    مصنف : ڈاکٹر محمود الحسن عارف

    مشاہدات : 6459

    یأیہا الذین آمنوا، اے ایمان والو

    (منگل 28 اکتوبر 2014ء) ناشر : مکتبۃ الکتاب لاہور
    #2042 Book صفحات: 326
    اللہ تعالیٰ نے انبیاء﷩کودنیابھر کے انسانوں کی رشد وہدایت اور فلاح ونجات کےلیے مبعوث فرمایا اوران کے ذریعے دنیا میں علم وعمل اور جدو جہد کا ایک ایسا سلسلہ شروع فرمایا جو تا قیامت اسی طرح جاری وساری رہے گا۔سب سے آخری نبی حضرت محمدﷺ کواللہ تعالیٰ کاجو ازلی اور ابدی کلام عطاہوا ۔یہ کلام لائق اور قابل اتباع ہے اور اس میں جن باتوں کاحکم دیاگیا ہے ان تمام باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے تاہم اس کی وہ آیات خصوصاً قابل توجہ ہیں جن میں اہل ایمان کوخصوصی طور پر مخاطب کیا گیا ہے ۔ یہ آیات اپنے اندر بڑی گہرائی اور بصیرت رکھتی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’یایھالذین اٰمنوا‘‘ محترم ڈاکٹر محمود الحسن عارف صاحب کی تالیف ہے جس میں انہوں نے قرآن مجید کی ایسی آیات جن کی ابتدا یایہا الذین اٰمنوا کےدل کش جملے سے ہوتی ہے ان کو موضوعات کےلحاظ سے اس کتاب میں جمع کردیا ہے اور اس کے ساتھ   ساتھ آیات کااردو اور انگریزی ترجمہ ،تشریح وتفسیر بھی اس میں شامل کردی ہے اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے اہل ایمان کےلیے نفع بخش بنائے۔ آمین) م۔ا)
  • 7594 #2042

    مصنف : ڈاکٹر محمود الحسن عارف

    مشاہدات : 6459

    یأیہا الذین آمنوا، اے ایمان والو

    (منگل 28 اکتوبر 2014ء) ناشر : مکتبۃ الکتاب لاہور
    #2042 Book صفحات: 326
    اللہ تعالیٰ نے انبیاء﷩کودنیابھر کے انسانوں کی رشد وہدایت اور فلاح ونجات کےلیے مبعوث فرمایا اوران کے ذریعے دنیا میں علم وعمل اور جدو جہد کا ایک ایسا سلسلہ شروع فرمایا جو تا قیامت اسی طرح جاری وساری رہے گا۔سب سے آخری نبی حضرت محمدﷺ کواللہ تعالیٰ کاجو ازلی اور ابدی کلام عطاہوا ۔یہ کلام لائق اور قابل اتباع ہے اور اس میں جن باتوں کاحکم دیاگیا ہے ان تمام باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے تاہم اس کی وہ آیات خصوصاً قابل توجہ ہیں جن میں اہل ایمان کوخصوصی طور پر مخاطب کیا گیا ہے ۔ یہ آیات اپنے اندر بڑی گہرائی اور بصیرت رکھتی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’یایھالذین اٰمنوا‘‘ محترم ڈاکٹر محمود الحسن عارف صاحب کی تالیف ہے جس میں انہوں نے قرآن مجید کی ایسی آیات جن کی ابتدا یایہا الذین اٰمنوا کےدل کش جملے سے ہوتی ہے ان کو موضوعات کےلحاظ سے اس کتاب میں جمع کردیا ہے اور اس کے ساتھ   ساتھ آیات کااردو اور انگریزی ترجمہ ،تشریح وتفسیر بھی اس میں شامل کردی ہے اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے اہل ایمان کےلیے نفع بخش بنائے۔ آمین) م۔ا)
  • 7595 #4369

    مصنف : عبد الرحیم اشرف

    مشاہدات : 3117

    یا عبادی

    (جمعرات 30 مارچ 2017ء) ناشر : مکتبہ المنبر
    #4369 Book صفحات: 186
    قرآن مجید وہ عظیم الشان کتاب ہے ،جسے اللہ تعالی کا کلام ہونے کا شرف حاصل ہے۔اس کو پڑھنا باعث اجر وثواب اور اس پر عمل کرنا باعث نجات ہے۔جو قوم اسے تھام لیتی ہے وہ رفعت وبلندی کے اعلی ترین مقام پر فائز ہو جاتی ہے،اور جو اسے پس پشت ڈال دیتی ہے ،وہ ذلیل وخوار ہو کر رہ جاتی ہے۔یہ کتاب مبین انسانیت کے لئے دستور حیات اور ضابطہ زندگی کی حیثیت رکھتی ہے۔یہ انسانیت کو راہ راست پر لانے والی ،بھٹکے ہووں کو صراط مستقیم پر چلانے والی ،قعر مذلت میں گرے ہووں کو اوج ثریا پر لے جانے والے ،اور شیطان کی بندگی کرنے والوں کو رحمن کی بندگی سکھلانے والی ہے۔اہل علم نے  عامۃ الناس  کے لئے قرآن فہمی کے الگ الگ ،متنوع اور منفرد قسم کے اسالیب اختیار کئے ہیں ،تاکہ مخلوق خدا اپنے معبود حقیقی کے کلام سے آگاہ ہو کر اس کے مطابق  اپنی زندگیاں گزار سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب " یا عبادی " محترم مولانا عبد الرحیم اشرف صاحب کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے قرآن مجید  کے آخری دس پاروں کا خلاصہ اور ایک حدیث قدسی کی تشریح کو بیان فرمایا ہے۔ یہ خلاصہ دراصل انہوں نے  فیصل آباد ریڈیو پر 1984ء میں رمضان ال...
  • 7596 #3991

    مصنف : سید سلیمان ندوی

    مشاہدات : 9334

    یاد رفتگاں

    (جمعرات 20 اکتوبر 2016ء) ناشر : مجلس نشریات اسلامی کراچی
    #3991 Book صفحات: 455
    تاریخ نویسی ہو یا سیرت نگاری ایک مشکل ترین عمل ہے ۔ اس کےلیے امانت ودیانت او رصداقت کاہونا از بس ضروری ہے۔مؤرخ کے لیے یہ بھی ضروری ہےکہ وہ تعصب ،حسد بغض، سے کوسوں دور ہو ۔تمام حالات کو حقیقت کی نظر سے دیکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتاہو ۔ذہین وفطین ہو اپنے حافظےپر کامل اعتماد رکھتا ہو۔حالات وواقعات کوحوالہ قرطاس کرتے وقت تمام کرداروں کا صحیح تذکرہ کیا گیا ہو ۔اس لیے کہ تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے کہ جس کے ذریعے انسان اپنا ماضی دیکھ سکتاہے اور اسلام میں تاریخ ، رجال اور تذکرہ نگار ی کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور یہ اس کے امتیازات میں سے ہے ۔بے شمارمسلمان مصنفین نے اپنے اکابرین کے تذکرے لکھ کر ان کےعلمی عملی،تصنیفی،تبلیغی اورسائنسی کارناموں کوبڑی عمدگی سے اجاگر کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتا ب’’یادرفتگان‘‘ برصغیر پاک وہند کے معروف سیرت نگار اور مؤرخ مولانا سید سلیمان ندوی ﷫ کی ان تحریروں اور مضامین کا مجموعہ ہے جو انہوں نےاپنی زندگی میں 1914 ءسے 1953 تک مختلف شخصیات کی وفات پر ان تذکرہ وسوانح کے متعلق تحریر کیے ۔اس کتاب میں 135 شخصیات کی سیرت وسوانح کو جمع کیا گیا ہے یہ مضامین اولاً مختل...
  • 7597 #6668

    مصنف : عبد الرحیم اشرف

    مشاہدات : 1389

    یادداشت پارلیمانی معرکہ اسلام و قادیانیت

    (بدھ 30 مارچ 2022ء) ناشر : مکتبہ المنبر
    #6668 Book صفحات: 230
    حکیم مولانا عبد الرحیم اشرف رحمہ اللہ کی شخصیت  کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔مولانا موصوف 1922ء میں ضلع امرتسر کے ایک قصبے ویرووال میں پیدا ہوئے ۔1930ء میں سکول کی تعلیم چھوڑ کر  ’’ مدرسہ دار لعلوم شمسیہ عربیہ‘‘ میں  دخلہ لیا اور 1938ء میں سند فراغت حاصل کی۔حکیم عبد الرحیم اشرف رحمہ  اللہ نے  شروع سے لے کر آخر تک تمام مروجہ علوم دینیہ کی  تحصیل مولانا عبد اللہ ویرووالوی رحمہ اللہ  سے کی ۔مدرسے سے فراغت کے بعد اپنے استاد محترم کے حکم نما مشورے سے  اپنی مادر علمی  میں ہی تدریسی خدمات بھی انجام دیتے  رہے۔مولانا   تدریس کےساتھ ساتھ  مضمون نگاری بھی کرتے تھے  قیام پاکستان سے قبل  انکے مضامین مختلف معروف  مجلات(اخبار اہل حدیث  امرتسر، تنظیم اہل حدیث ،روپڑ، سہ روزہ  کوثر ،لاہور )میں شائع ہوتےرہے ۔قیامِ پاکستان کےبعد لائل پور (فیصل آباد) آئے اور پھر اسی شہر میں عمر گزار دی۔فیصل آباد میں مرحوم  نے جناح کالونی ،فیصل آباد میں  ایک کوٹھی کرایہ پر لے کر اس میں جامعہ تعلیمات اسل...
  • 7598 #6189

    مصنف : عبد العزیز بن صالح الجربوع

    مشاہدات : 2242

    یادگار مقامات کی زیارت کا شرعی حکم

    (منگل 29 ستمبر 2020ء) ناشر : مکتبہ دعوت توعیۃ الجالیات،ربوہ،ریاض
    #6189 Book صفحات: 59
    زندہ رہنےکی خواہش کاسب سے بڑا مظہر یادگاریں بنانا اور   یاد منانا ہے  یادگاریں بنانے کاسلسلہ   سیدنا نوح   سے قبل کے زمانے میں اس وقت شروع  ہوا جب یغوث ،یعوق ،ودّ، سواع اور نسر نامی  اللہ کےنیک بندے  وفات پاگئے۔جب ان کی وفات کے بعد لوگوں کو ان کی  یاد ستانے لگی تو شیطان نے ان دلوں میں یہ بات ڈال دی کہ کیوں نہ ان کی تصویر یا مجسمہ بنالیا جائے ۔ تاکہ ان  کی یاد کوباقی رکھا جاسکے۔تو ان مجسموں  کے ساتھ آہستہ آہستہ وہی سلوک کیا جانے لگا جودورِ حاضر میں مزاروں ،بتوں اور محترم شخصیات سے منسوب اشیاء وآثار کےساتھ کیا جارہا ہے اس طرح دنیا میں سب سے  پہلے شرک کی بنیاد رکھ دی گئی۔نبی کریم ﷺ نے   یادگار یں مٹانے کے لیے  باقاعدہ صحابہ  کرام  کوبھیجا اور صحابہ کرام  نے بھی اپنے اپنے دور ِخلافت میں وہ  یادگاریں  جو شرک کے گڑھ تھے ،قبریں جوباقاعد پوجی  جاتی تھیں اورتصوریں جو شرک کادروازہ کھولتی  ہیں ان سب کوختم کرنے کےلیے  باقاعدہ مہمات چلائیں تاکہ اسلامی رقبہ حکومت میں کہیں بھی...
  • 7599 #1968

    مصنف : ام عبد منیب

    مشاہدات : 3902

    یادگاریں بنانا اور یاد منانا

    (منگل 23 ستمبر 2014ء) ناشر : مشربہ علم وحکمت لاہور
    #1968 Book صفحات: 96
    زندہ رہنےکی خواہش کاسب سے بڑا مظہر یادگاریں بنانا اور   یاد منانا ہے یادگاریں بنانے کاسلسلہ   سیدنا نوح ﷤ سے قبل کے زمانے میں اس وقت شروع ہوا جب یغوث ،یعوق ،ود سواع اور نسر نامی اللہ کےنیک بندے وفات پاگئے۔جب ان کی وفات کے بعد لوگوں کو ان کی یاد ستانے لگی تو شیطان نے ان دلوں میں یہ بات ڈال دی کہ کیوں نہ ان کی تصویر یا مجسمہ بنالیا جائے ۔ تاکہ ان کی یاد کوباقی رکھا جاسکے۔تو ان مجسموں کے ساتھ آہستہ آہستہ وہی سلوک کیا جانے لگا جودورِ حاضر میں مزاروں ،بتوں اور محترم شخصیات سے منسوب اشیاء وآثار کےساتھ کیا جارہا ہے اس طرح دنیا میں سب سے پہلے شرک بنیاد رکھ دی گئی۔نبی کریم ﷺ نے   یادگار یں مٹانے کے لیے باقاعدہ صحابہ کرام کوبھیجا اور صحابہ کرام نے بھی اپنے اپنے دور خلافت میں یادگاریں جو شرک کے گڑھ تھے ،قبریں جوباقاعد پوجی جاتی تھیں اورتصوریں جو شرک کادروازہ کھولتی ہیں ان سب کوختم کرنے کےلیے باقاعدہ مہمات چلائیں تاکہ اسلامی رقبہ حکومت میں کہیں بھی ان کے آثار باقی نہ رہیں۔ زیرنظر کتاب ’’یادگاریں بنانا اور یاد منانا‘‘معروف مبلغہ ،مصلحہ،مصنفہ اور...
  • 7600 #2662

    مصنف : پروفیسر حافظ احمد یار

    مشاہدات : 8008

    یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ ایک علمی اور فقہی جائزہ

    (ہفتہ 20 جون 2015ء) ناشر : الفیصل ناشران وتاجران کتب، لاہور
    #2662 Book صفحات: 180
    علم الفرائض (اسلامی قانون وراثت) اسلام میں ایک نہایت اہم مقام رکھتا ہے ۔قرآن مجید نے فرائض کےجاری نہ کرنے پر سخت عذاب سے ڈرایا ہے ۔چونکہ احکام وراثت کاتعلق براہ راست روز مرہ کی عملی زندگی کے نہایت اہم پہلو سے ہے ۔ اس لیے نبی اکرمﷺ نےبھی صحابہ کواس علم کےطرف خصوصاً توجہ دلائی اور اسے دین کا نہایت ضروری جزء قرار دیا ۔صحابہ کرام میں سیدنا علی ابن ابی طالب، سیدنا عبد اللہ بن عباس،سیدنا عبد اللہ بن مسعود،سیدنا زیدبن ثابت کا علم الفراض کے ماہرین میں شمار ہوتا ہے ۔صحابہ کےبعد زمانےکی ضروریات نےدیگر علوم شرعیہ کی طرح اس علم کی تدوین پر بھی فقہاء کومتوجہ کیا۔ انہوں نے اسے فن کی حیثیت دی اس کے لیے خاص زبان اور اصلاحات وضع کیں اور اس کے ایک ایک شعبہ پر قرآن وسنت کی روشنی میں غوروفکر کر کے تفصیلی وجزئی قواعد مستخرج کیے۔اہل علم نے اس علم کے متعلق مستقل کتب تصنیف کیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ ‘‘ حافظ احمد یار ﷫ کی تصنیف ہے ۔دراصل یہ کتاب ان کا ایم اے کا مقالہ ہے جسے انہوں نے 1953ء میں پنجاب یونیورسٹی میں پیش کیا۔جسے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ علوم اسلامی...
< 1 2 ... 297 298 299 300 301 302 303 304 305 306 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 9323
  • اس ہفتے کے قارئین 170765
  • اس ماہ کے قارئین 887645
  • کل قارئین101049483
  • کل کتب8701

موضوعاتی فہرست