دکھائیں کتب
  • 41 حزب اللہ کیماڑی کا تعارف (ہفتہ 05 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:1381

    اس پر فتن دور میں ہر آئے دن بے شمار  نئے نئے فرقے اور گروہ مذہب کے نام پر سامنے آرہے ہیں۔اور ان میں سے ہر ایک نے اپنے چند مخصوص اور شاذ نظریات وعقائد سنبھال رکھے ہیں۔جو شخص ان کے نظریات سے متفق ہو،اور ان کے تعاون کرتا ہو، ان کے نزدیک وہ مومن اور اہل ایمان میں سے ہے ،اور جو ان  کے عقائد ونظریات کا مخالف ہو  اس پر وہ بلا سوچے سمجھے شرائط وموانع کا خیال رکھے بغیر کفر کا فتوی لگا دیتے ہیں اور اس فتوی بازی یا کسی مسلمان کی تکفیر میں ذرا خیال نہیں رکھتے کہ وہ کوئی محترم شخصیت اور مخلص مسلمان کی ذات بھی ہو سکتی ہے۔اسی طرز عمل کے گروہوں میں سے ایک کراچی کا معروف حزب اللہ گروہ  ہے ،جو اپنے آپ کوپروفیسر کمال عثمانی کی طرف منسوب کرتاہے۔اس گروہ نے بھی بعض ایسے منفر د اور شاذ عقائد ونظریات اختیار کر رکھے ہیں ،جو امت کے اجماعی اور اتفاقی مسائل کے مخالف ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"حزب اللہ کیماڑی کا تعارف، پروفیسر کمال عثمانی کے عقائد واعمال کا ایک جائزہ"محترم جناب ابو جابر عبد اللہ دامانوی صاحب کی تالیف ہے ،جس میں انہوں عثمانی گروہ کے انہی غلط اور بے بنیاد عقائد ونظریات کا رد کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ  مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

  • 42 خیر خواہی بجواب ہدایت یا گمراہی (منگل 10 جنوری 2012ء)

    مشاہدات:16300

    روزِ اوّل سے ہی حق و باطل کا معرکہ چلا آرہا ہے۔ دین اسلام کی دعوت و تبلیغ، درحقیقت حق کی طرف دعوت ہے اور دین غیر اسلام کی دعوت، در حقیقت شیطان لعین کے مذموم مقاصد کی تکمیل اور باطل کا ایک مظہر ہے۔ دینِ اسلام کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے والے ہمیشہ ناکام و نامراد ہوئے ہیں۔ اگر دین اسلام کی دعوت و تبلیغ دیتے ہوئے کسی کے طریقہ کار یا طرزِ عمل پر کسی کو تحفظات ہیں تو دین اسلام نے ہی خیر خواہی کے جذبے تحت یہ رہنمائی کی ہے کہ دلائل کی بنیاد پر اس کی اصلاح کی جائے۔ فقط ’’تنقید برائے تنقید‘‘ نہ صرف تضییع اوقات ہے بلکہ ’’ادع إلی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ وجادلھم بالتی ھی احسن‘‘ کے بھی منافی ہے۔ الھدی انٹرنیشنل، تبلیغ دین کے حوالے سے شب و روز مصروفِ عمل ہے۔ زیر نظر کتاب میں مذکورہ تنظیم پر لگائے گئے الزامات کا مسکت جواب ہے۔ (م۔ آ۔ ہ)

     

  • 43 دار المصنفین کی ادبی خدمات کا تعارف (جمعرات 14 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:1401

    دار المصنفین اعظم گڑھ کا شمار ہندوستان کے انتہائی اہم علمی اداروں میں ہوتا ہے، یہ ادارہ صرف علامہ شبلی مرحوم کے خوابوں کی تعبیر ہی نہیں بلکہ مولانا سید سلیمان ندوی اور مولانا عبد السلام ندوی کی علمی کاوشوں اور مولانا مسعود علی ندوی کی عملی جدوجہد کی زندہ تصویر بھی ہے۔1915ء میں  جب اس کی تاسیس ہوئی تو مسلمانوں کا ایسا کوئی دوسرا ادارہ پورے ہندوستان میں موجود نہیں تھا ، اپنی تاسیس کے بعد اس ادارے نے جس طرح مصنفین کی متعدد نسلوں کی تربیت کی اس کو بھی اس کی انفرادیت اور اولیت میں شمار کرنا چاہئے۔دار المصنفین کے مصنفین کے متعدد اور متنوع موضوعات پر تصنیفات لکھی ہیں۔ ان میں سے ایک موضوع ادبی بھی ہے جس پر انہوں نے اپنی قلم آزمائی کی ہے۔ زیر تبصرہ کتا ب" دار المصنفین کی ادبی خدمات کا تعارف "محترم ڈاکٹر شباب الدین صدر شعبہ اردو شبلی نیشل پوسٹ گریجویٹ کالج، اعظم گڑھ انڈیا کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے 1980ء تک دار المصنفین سے شائع ہونے والی ادبی تصنیفات کا تعارف کروایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس عظیم خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 44 دار المصنفین کی تاریخی خدمات (پیر 26 ستمبر 2016ء)

    مشاہدات:1643

    دار المصنفین اعظم گڑھ کا شمار ہندوستان کے انتہائی اہم علمی اداروں میں ہوتا ہے، یہ ادارہ صرف علامہ شبلی مرحوم کے خوابوں کی تعبیر ہی نہیں بلکہ مولانا سید سلیمان ندوی اور مولانا عبد السلام ندوی کی علمی کاوشوں اور مولانا مسعود علی ندوی کی عملی جدوجہد کی زندہ تصویر بھی ہے۔1915ء میں  جب اس کی تاسیس ہوئی تو مسلمانوں کا ایسا کوئی دوسرا ادارہ پورے ہندوستان میں موجود نہیں تھا ، اپنی تاسیس کے بعد اس ادارے نے جس طرح مصنفین کی متعدد نسلوں کی تربیت کی اس کو بھی اس کی انفرادیت اور اولیت میں شمار کرنا چاہئے۔دار المصنفین کے مصنفین کے متعدد اور متنوع موضوعات پر تصنیفات لکھی ہیں۔ ان میں سے ایک موضوع ادبی بھی ہے جس پر انہوں نے اپنی قلم آزمائی کی ہے۔ زیر تبصرہ کتا ب" دار المصنفین کی تاریخی خدمات"محترم ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری پٹنہ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے دار المصنفین کی خدمات کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس عظیم خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 45 دینی مدارس روایت اور تجدید علماء کی نظر میں (منگل 01 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:1766

    مسلمانوں میں دینی تعلیم کے اہتمام کا سلسلہ عہد نبوی ہی میں شروع ہوچکا تھا۔ دارارقم ،درس گاہ مسجد قبا ، مسجد نبوی اور اصحاب صفہ کے چبوترہ میں تعلیم وتربیت کی مصروفیات اس کے واضح ثبوت ہیں۔ چوتھی وپانچویں صدی ہجری کی معروف دینی درس گاہوں میں مصر کا جامعہ ازہر ، اصفہان کا مدرسہ ابوبکر الاصفہانی ، نیشاپور کا مدرسہ ابو الاسحاق الاسفرائینی اور بغداد کا مدرسہ نظامیہ شامل ہیں۔غرضیکہ مدارس کی تاریخ وتاسیس کی کڑی عہد رسالت سے جاکر ملتی ہے اور مدارس میں پڑھائی جانے والی کتب حدیث کی سند کا سلسلہ حضور اکرم ﷺ تک پہنچتا ہے۔ برصغیر میں مدارس کا قیام دوسری صدی ہجری یعنی آٹھویں صدی عیسوی میں ہوا۔اور جب دہلی میں مسلم حکومت قائم ہوئی تو دہلی کے علاوہ دوسرے شہروں وقصبوں ودیہاتوں میں کثیر تعداد میں مکاتب ومدارس قائم ہوئے۔ مدارس کے قیام کا بنیادی مقصد کتاب وسنت اور ان سے ماخوذ علوم وفنون کی تعلیم وتعلم ، توضیح وتشریح ، تعمیل واتباع ، تبلیغ ودعوت کے ساتھ ایسے رجال کار پیدا کرنا ہے جو اس تسلسل کو قائم وجاری رکھ سکیں ، نیز انسانوں کی دنیاوی زندگی کی رہنمائی کے ساتھ ایسی کوشش کرنا ہے کہ ہر ہر انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جانے والا بن جائے۔لیکن افسوس کہ اس وقت دینی مدارس اپنوں نے بے وفائیوں اور غیروں کی سازشوں کا نشانہ ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"دینی مدارس، روایت اور تجدید، علماء کی نظر میں" محترم ممتاز احمد صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے روایت پسند اور تجدد پسند علماء کرام کی نظر میں  دینی مدارس کی اہمیت کو بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو...

  • اس کتاب میں دیوبندیوں اورتبلیغی جماعت کے صوفی ازم سے مرعوب زدہ ان باطل عقائد کا بیان ہے جنہیں دیوبندی علماء صرف بریلوی حضرات سے منسوب کر کے ان پر نشتر چلاتے ہیں۔ اس کتاب میں دیوبندی و تبلیغی علماء کی کتب سے باحوالہ ثبوت پیش کئے گئے ہیں کہ وہ باطل عقائد جو کہ بریلوی احباب ڈنکے کی چوٹ پر اختیار کئے ہوئے ہیں، کم و بیش سب کے سب کسی نہ کسی طرز پر دیوبندی و تبلیغی علماء بھی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اس کتاب سے دیوبندی و تبلیغی جماعت کا دین و مذہب قارئین کے سامنے انشاء اللہ واضح ہو جائے گا۔ بصمیم قلب ہم اللہ تعالٰی سے دعا گو ہیں کہ یہ کتاب ان لوگوں کیلئے راہ ہدایت بن جائے جو صدیوں سے پھیلائی گئی صوفیت کے اندھیروں میں گم ہیں اور ابلیس لعین اور اس کے حواریوں کی چالوں سے کتاب و سنت سے اعراض ہی کو دین سمجھے بیٹھے ہیں۔
     

  • اسلام خود بھی امن و سلامتی کا دین ہے اور دوسروں کو بھی امن و عافیت کےساتھ رہنے کی تلقین کرتاہے۔اسلام کے دین امن ہونے کی سب سےبڑی یہ دلیل ہےکہ اللہ تعالیٰ نے اپنےبھیجے ہوئے دین کا نام ہی "اسلام "پسند کیاہے۔لفظ اسلام سَلِمَ یا سَلَمَ سے ماخوذ ہے ،جس کےمعنی امن وسلامتی اور خیرو عافیت کےہیں۔اسلام اپنے لغوی معنی کے اعتبار سے سراسر امن سلامتی ہے،لہذا اسلام اپنے معنی کے اعتبار سے ہی اسلام ایک ایسامذہب ہے جو خود بھی سراپا سلامتی ہےاور دوسروں کو بھی امن،محبت،رواداری،اعتدال اور صبرو تحمل کا درس دیتاہے۔ زیر تبصرہ کتاب"واقفیت اسلام" مولانا ابو عمار عبدالقہار کی تصنیف ہے۔جس میں بچوں کے لیےمختصر اسلام کے بنیادی احکام، ارکان ایمان، روز مرہ کی مسنون دعائیں وغیرہ کو قلمبند کیاہے۔ اللہ ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین ( عمیر)

  • 48 سید احمد شہید اور تحریک مجاہدین (جمعہ 29 مارچ 2019ء)

    مشاہدات:659

    ہندوستان کی  فضا میں  رشد وہدیٰ کی روشنیاں بکھیرنے کے لیے  اللہ تعالیٰ نے   اپنے  فضل  خاص سے ایک ایسی شخصیت کو پید ا فرمایا جس نے  اپنی  قوت ایمان اور علم وتقریر کے زور سے کفر وضلالت کے بڑے بڑے بتکدوں میں زلزلہ بپا کردیا اور شرک وبدعات کے  خود تراشیدہ بتوں کو  پاش پاش کر کے  توحیدِ خالص  کی اساس قائم کی   یہ شاہ  ولی اللہ  دہلوی  کے پوتے  شاہ اسماعیل  شہید  تھے ۔ شیخ  الاسلام ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب کے بعد  دعوت واصلاح میں امت کے لیے  ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں انہو ں نے نہ صرف قلم سےجہاد کیا بلکہ عملی طور پر حضرت سید احمد شہید کی  امارت میں تحریک مجاہدین میں شامل  ہوکر سکھوں  کے خلاف جہاد کرتے ہوئے 6 مئی 1831ء بالاکوٹ کے  مقام پر  شہادت کا درجہ حاصل کیا   اور ہندوستان کے ناتواں اور محکوم مسلمانوں کے لیے  حریت کی ایک  عظیم مثال قائم کی جن کے بارے   شاعر مشرق علامہ  اقبال نے  کہا  کہ ’’اگر مولانا محمد اسماعیل شہید کےبعد ان کے  مرتبہ کاایک مولوی بھی پیدا ہوجاتا تو آج ہندوستان کے مسلمان ایسی ذلت کی زندگی  نہ گزارتے۔ سید محمد اسماعیل شہید اور  ان کےبےمثل پیرو ومرشد سید احمد شہید اور ان کےجانباز رفقاء کی شہادت کےبعد  ،بقیۃ السیف مجاہدین نے دعوت واصلاح وجہاد کاعلم سرنگوں نے نہ ہونے دیا بلکہ اس بے سروسامانی  کی کیفیت میں...

  • 49 سید احمد شہید اور تحریک مجاہدین (جمعہ 29 مارچ 2019ء)

    مشاہدات:659

    ہندوستان کی  فضا میں  رشد وہدیٰ کی روشنیاں بکھیرنے کے لیے  اللہ تعالیٰ نے   اپنے  فضل  خاص سے ایک ایسی شخصیت کو پید ا فرمایا جس نے  اپنی  قوت ایمان اور علم وتقریر کے زور سے کفر وضلالت کے بڑے بڑے بتکدوں میں زلزلہ بپا کردیا اور شرک وبدعات کے  خود تراشیدہ بتوں کو  پاش پاش کر کے  توحیدِ خالص  کی اساس قائم کی   یہ شاہ  ولی اللہ  دہلوی  کے پوتے  شاہ اسماعیل  شہید  تھے ۔ شیخ  الاسلام ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب کے بعد  دعوت واصلاح میں امت کے لیے  ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں انہو ں نے نہ صرف قلم سےجہاد کیا بلکہ عملی طور پر حضرت سید احمد شہید کی  امارت میں تحریک مجاہدین میں شامل  ہوکر سکھوں  کے خلاف جہاد کرتے ہوئے 6 مئی 1831ء بالاکوٹ کے  مقام پر  شہادت کا درجہ حاصل کیا   اور ہندوستان کے ناتواں اور محکوم مسلمانوں کے لیے  حریت کی ایک  عظیم مثال قائم کی جن کے بارے   شاعر مشرق علامہ  اقبال نے  کہا  کہ ’’اگر مولانا محمد اسماعیل شہید کےبعد ان کے  مرتبہ کاایک مولوی بھی پیدا ہوجاتا تو آج ہندوستان کے مسلمان ایسی ذلت کی زندگی  نہ گزارتے۔ سید محمد اسماعیل شہید اور  ان کےبےمثل پیرو ومرشد سید احمد شہید اور ان کےجانباز رفقاء کی شہادت کےبعد  ،بقیۃ السیف مجاہدین نے دعوت واصلاح وجہاد کاعلم سرنگوں نے نہ ہونے دیا بلکہ اس بے سروسامانی  کی کیفیت میں...

  • 50 سید بادشاہ کا قافلہ (پیر 11 اپریل 2016ء)

    مشاہدات:1561

    انسانی تاریخ عبرت کا بہت وسیع و عریض مرقع ہے۔ انسان نے ظلم و ستم کی داستانیں بھی رقم کیں ہیں لیکن یہی انسان ہمت و عزیمت کے باب بھی جریدہ عالم پر ثبت کرتا رہا ہے۔ وقت کے مستبد حکمران ہمیشہ یہی سمجھتے رہے ہیں کہ ان کا حق حکمرانی غیر محدود ہے اپنے اقتدار کے نشے میں بد مست حکمرانوں کو گھنٹی بجنے سے قبل تک کبھی وہم و گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ دنیا ایک مکافاتی عمل کی حیثیت رکھتی ہے۔ جس طرح ظالم حکمران ہر دور میں ظلم کے فسانے میں ایک نیا ٹکڑا شامل کر دیتے ہیں، اسی طرح راہ وفا کے دیوانے بھی تاریخ کا قرض چکانے کی جسارت میں لگے رہتے ہیں۔ جہاں ایک جانب فرعون، نمرود، شداد اور ابو جہل نظر آتے ہیں تو وہاں دوسری جانب حضرت موسیٰؑ، حضرت ابراہیمؑ، صدیق اکبر رضی اللہ عنہ، امام احمد بن حنبلؒ اور شاہ شہیدؒ تک ایک سلسلہ الذہب نظر آتا ہے۔ زیر نظر کتاب"سید بادشاہ کا قافلہ" آباد شاہ پوری کی تاریخی تصنیف ہے۔ مصنف علمی دنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔ موصوف دل بیدار، اندھیروں میں راہ دکھانے والا دماغ روشن اور رہوار وقت کے ساتھ چلنے والا قلم رکھتے ہیں۔ موصوف نے اپنی کتاب ہذا میں ایک عظیم تحریک کے قافلہ شوق کی داستانِ جلیل و جمیل کو قلمبند کیا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کی پہلی اسلامی تحریک کے قافلے کی داستان لازوال کو اوراق کی زینت بنایا ہے۔ یہ ان جفاکش مجاہدین کی داستان ہے جو فرنگیوں کے خلاف علمِ جہاد لے کر برسرِ میدان نکلے تھے۔ اللہ تعالیٰ موصوف کی کاوش کو قبول و منظور فرمائے۔ آمین(عمیر)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1148
  • اس ہفتے کے قارئین: 4187
  • اس ماہ کے قارئین: 36151
  • کل مشاہدات: 45370975

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں