دکھائیں کتب
  • 151 پاکستان میں دینی تعلیم (منظر، پس منظر و پیش منظر) (ہفتہ 11 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:1676

    کسی بھی سوسائٹی کو خاص طرز زندگی پر قائم رکھنے میں ایمانیات کے علاوہ جن قوتوں کا بڑا دخل ہوتا ہے وہ اخلاق،تعلیم اور قانون کی قوتیں ہیں۔اگر یہ تینوں ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور ان کی جڑیں ایمانیات میں پیوست ہیں تو پھر سوسائٹی میں بحیثیت مجموعی یک رنگی پائی جائے گی،اور جس طریقے کو اس سوسائٹی نے قبول کیا ہے وہ پوری زندگی میں بھلائی کو جاری وساری کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔بیرونی سامراج کے سیاسی غلبے کا ایک بڑا ہی تباہ کن نتیجہ یہ ہوا ہے کہ یہ تینوں قوتیں ایک دوسرے سے جدا ہو گئیں اور ان کا ایمانیات سے تعلق منقطع ہو گیا۔نتیجتا ان میں سے ہر ایک ،ملت کےافراد کو مختلف سمتوں میں لے جا رہی ہیں۔ہمارا قانون اور ہماری تعلیم ان اقدار پر مبنی نہیں ہے جو ہمارے ایمان اور ہمارے تصور اخلاق کی بنیاد ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " پاکستان میں دینی تعلیم،منظر،پس منظر وپیش منظر " محترم خالد رحمن صاحب اے ۔ڈی۔ میکن کی مرتب کردہ ہے،جو درحقیقت ان مقالات ومضامین پر مشتمل ہے جو انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے تحت دینی مدارس کی تعلیم کے حوالے سے خصوصی پالیسی سیمینار سیریز میں پیش کئے گئے۔ ان مضامین ومقالات میں متنوع اور متعدد اہم خیالات سامنے آئے جو ایک کتابی شکل میں آپ کے سامنے موجود ہیں۔ان سیمینارز میں چونکہ تمام مسالک اور زندگی کے تقریبا تمام اہم شعبوں اور طبقات کی نمائندگی ہوئی ہے ،اس لئے اس دستاویز سے ایک جامع اور اجتماعی سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک شاندار تصنیف ہے جس کا ہر اہل علم کو مطالعہ کرنا چاہئے۔ (راسخ)

  • 152 پسندیدہ اخلاق۔1(مطالعہ حدیث کورس) (ہفتہ 02 فروری 2013ء)

    مشاہدات:46351

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کورس کا تیرہواں یونٹ ہے۔ اس کا موضوع ’پسندیدہ اخلاق‘ ہے۔ جس میں اسلام کے بنیادی اخلاقیات، اسلام میں اخلاق کی اہمیت، اسوہ نبوی، ضبط نفس، سلیقہ و صفائی و مستقل مزاجی اور حسن سلوک کے عنوانات کے تحت احادیث جمع کی گئی ہیں اور اختصار کے ساتھ ان کی وضاحت بھی کی گئی ہے۔ (ع۔م)
     

  • 153 پسندیدہ اخلاق۔2(مطالعہ حدیث کورس) (اتوار 03 فروری 2013ء)

    مشاہدات:42313

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کورس کا چودھواں یونٹ ہے۔ جس کا موضوع پسندیدہ اخلاق ہے۔ اس میں احادیث کی روشنی میں وہ اجتماعی محاسن اور خوبیاں بیان کی گئی ہیں جو ایک مثالی اسلامی معاشرے کے قیام کے لیے ناگزیر ہیں۔ یہ تعلیمات مسلمانوں کی ایک عالمگیر برادری قائم کرتی ہیں۔ یہ اس کی برکت ہے کہ کسی بھی دوسرے دین یا نظریہ کے پیروں سے بڑھ کر اخوت و محبت اور اجتماعیت مسلمانوں کے درمیان پائی جاتی ہے۔(ع۔م)
     

  • 154 پیارے بچوں کے لیے 60 سنہری احادیث (اتوار 24 نومبر 2019ء)

    مشاہدات:570

    اولاد کی  تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح  والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے  ایسے  ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے  اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا  واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا  جائے  ۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے  اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔ اس بات میں  کوئی شک نہیں  کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت  کی جائے  تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی  ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے  اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے  تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔ والدین اپنے بچوں کے مستقبل کےبارے  میں بہت سہانے خواب دیکھتے ہیں اور اپنا مال ودولت  بھی کھلے  دل سے ان کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں مگردین  کے  لحاظ سے   ان کی تربیت کا پہلو بہت کمزور رہ جاتا ہے ۔نتیجتاً اولاد صدقہ جاریہ بننے کی بجائے نافرمان بن جاتی ہے۔والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے  بچوں  کوانکے پچپن میں ہی اخلاقیات کی تربیت کےساتھ ساتھ مسنون دعائیں،قرآنی آیات وسورتیں او را...

  • 155 پیارے بچوں کے لیے 60 سنہری احادیث (اتوار 24 نومبر 2019ء)

    مشاہدات:570

    اولاد کی  تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح  والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے  ایسے  ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے  اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا  واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا  جائے  ۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے  اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔ اس بات میں  کوئی شک نہیں  کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت  کی جائے  تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی  ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے  اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے  تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔ والدین اپنے بچوں کے مستقبل کےبارے  میں بہت سہانے خواب دیکھتے ہیں اور اپنا مال ودولت  بھی کھلے  دل سے ان کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں مگردین  کے  لحاظ سے   ان کی تربیت کا پہلو بہت کمزور رہ جاتا ہے ۔نتیجتاً اولاد صدقہ جاریہ بننے کی بجائے نافرمان بن جاتی ہے۔والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے  بچوں  کوانکے پچپن میں ہی اخلاقیات کی تربیت کےساتھ ساتھ مسنون دعائیں،قرآنی آیات وسورتیں او را...

  • 156 کامل ابواب الصرف (جمعہ 16 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:6382

    اللہ تعالی کاکلام اور  نبی کریم ﷺکی احادیث مبارکہ عربی زبان میں  ہیں اسی وجہ  سے اسلام اور مسلمانوں سے  عربی کا رشتہ مضبوط ومستحکم ہے  عربی اسلام کی سرکاری زبان ہے ۔شریعت اسلامی  کے بنیادی مآخد اسی زبان میں ہیں  لہذا قرآن وسنت اور  شریعت اسلامیہ پر عبور حاصل  کرنےکا واحد ذریعہ عربی زبان ہے  اس لحاظ سے عربی سیکھنا اور  سکھانا   امت مسلمہ  کا اولین فریضہ ہے ۔عربی زبان  سیکھنے کےلیے نحو  وصرف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔فن صرف علم نحو ہی کی  ایک شاخ ہے  شروع  میں اس کے مسائل  نحو کے تحت  ہی بیان کیےجاتے تھے معاذ بن مسلم ہرّاء  یاابو عثمان بکر بن محمدمزنی  نے  علم صرف کو علم النحو سے الگ کرکے مستقل فن کی حیثیت مرتب ومدون کیا۔ صرف ونحوصرف کی کتابوں کی تدوین وتصنیف میں علماء عرب کےساتھ ساتھ  عجمی علماء بھی   پیش پیش رہے  ۔جب یہ تسلیم کرلیا گیا کہ  تعلیم وتدریس میں  علم وفن کاپہلا تعارف طالب علم کی مادری زبان میں  ہی ہوناچاہیے تو مختلف علاقوں کے  اہل علم  نے  اپنی  اپنی مقامی زبان میں اس فن پر  کئی  کتب تصنیف کیں ۔تاریخ اسلام کا یہ باب  کس قدر عظیم ہے کہ  عربی زبان کی صحیح تدوین وترویج  کا اعزاز عجمی علماء اور بالخصوص کبار علمائے  ہندکے  حصے میں آیا  ہندوستان اور مغل حکمرانوں کی سرکاری زبان فارسی  ہونےکی وجہ سے  ہندی علماء   نے صرف ونحو کی کتب...

  • 157 کتاب العلم (اتوار 30 اگست 2009ء)

    مشاہدات:20718

    علم ایک ایسی شمع ہے جس کی بدولت حضرت انسان کو دیگر مخلوقات پر فوقیت اور برتری حاصل ہے- یہی وجہ ہے کہ دین اسلام میں ہر شخص پر علم کے حصول کو لازمی قرار دیاگیا-زیر نظر کتاب میں ڈاکٹر فرحت ہاشمی نے علم پر مبنی آیات واحادیث کو دوکتابوں مشکوۃ المصابیح اور ریاض الصالحین سے جمع کردیاہے ، نیز اردو کے ساتھ ساتھ آیات و احادیث کا انگلش ترجمہ بھی کر دیا گیا ہے تاکہ علم کی فضیلت کے پیش نظر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس جانب مائل کیا جاسکے-کتاب میں ان دعاؤں کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے جو ان شاء اللہ حصول علم میں  مددگار ثابت ہوں گی-

  • 158 کلید جدید برائے عربی کا معلم - حصہ اوّل (بدھ 18 جنوری 2012ء)

    مشاہدات:20139

    ’’کلید جدید‘‘اور ’’عربی کا معلم‘‘ ہر دو کتابچے مولوی عبدالستار خان کی تصنیفی مساعی میں سے ہیں اول الذکر کتابچہ چار مختصر  اجزاء پر مشتمل ہے جو ثانی الذکر کے چار اجزاء کی توضیح اور تحلیل ہے۔ جس طرح مقفل چیز کو کھولنے کے لیے کنجی کی ضرورت ہوتی ہے بعینہ جو شخص عربی کے معلم سے کماحقہ استفادے کا خواہش مند ہے اس کے پاس کلید جدید کا ہونا بہت ضروری ہے ۔خاص طور پر وہ شائقین جو بطور خود عربی سیکھنا چاہتے ہوں یا مدارس میں تعلیم پانے والے وہ ذہین اور شائق طلبہ جو اپنا مطالعہ مدرسہ کی محدود تعلیم سے آگے بڑھانا چاہتے ہوں ہر دو گروہوں کے پاس کلید جدید کا ہونا از بس لازمی ہے ۔عربی کے معلم (چار اجزاء)میں جو مشقیں عربی سے اردو اور اردو سے عربی بنانے کے لیے پیش کی گئی ہیں ان کو ’’کلید جدید‘‘کے چاروں اجزاء میں حل کردیا گیا ہے ۔نیز بعض مشکل سوالات کے جوابات اور مختلف مضامین ، خطوط اور مشکل اقتباسات کا ترجمہ بھی اس میں لکھ دیا گیا ہے ۔تاکہ طالبین اور شائقین اپنے کام کی صحت او رغلطی کو جانچ سکیں۔’’کلید جدید‘‘عربی زبان وادب کے شائقین میں تفہیم عربی کی استعداد پیدا کرنے کے لیے ایک مفید تر اور معاون کتابچہ ہے جس سے صرف نظر برتنا بہر حال مبتدی طلبہ کے لیے کسی طور پر ٹھیک نہیں ہے۔(آ۔ہ)
     

  • 159 ہمارا تعلیمی بحران اور اس کا حل چند نظریاتی مباحث (جمعہ 17 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:2598

    اسلامی نقطہ نظر سے تعلیم محض حصول معلومات کا نام نہیں ،بلکہ عملی تربیت بھی اس کا جزو لاینفک ہے۔اسلام ایسا نظام تعلیم وتربیت قائم کرنا چاہتا ہے جو نہ صرف طالب علم کو دین اور دنیا  دونوں کے بارے میں صحیح علم دے بلکہ اس صحیح علم کے مطابق اس کے شخصیت کی تعمیر بھی کرے۔یہ بات اس وقت بھی نمایاں ہو سامنے آتی ہے جب ہم اسلامی نظام تعلیم کے  اہداف ومقاصد پر غور کرتے ہیں۔اسلامی نظام تعلیم کا بنیادی ہدف ہی یہ ہے کہ وہ ایک ایسا مسلمان تیار کرنا چاہتا ہے،جو اپنے مقصد حیات سے آگاہ ہو،زندگی اللہ کے احکام کے مطابق گزارے اور آخرت میں حصول رضائے الہی اس کا پہلا اور آخری مقصد ہو۔اس کے ساتھ ساتھ وہ دنیا میں ایک فعال ،متحرک اور با عزم زندگی گزارے ۔ایسی شخصیت کی تعمیر اسی وقت ممکن ہے جب تعلیم کے مفہوم میں حصول علم ہی نہیں ،بلکہ کردار سازی پر مبنی تربیت اور تخلیقی تحقیق بھی شامل ہو۔لیکن افسوس کہ  استعمار کی سازش سے ہمارے تعلیمی  اداروں میں دین ودنیا کو الگ الگ کر دیا گیا ہے۔دنیوی تعلیم حاصل کرنے والے دین کی بنیادی تعلیمات سے بھی عاری ہوتے ہیں ،جبکہ دین کے طالب علم  دنیوی تعلیم کے ماہر نہیں ہو پاتے ہیں۔ جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ  دونوں طرح کے اداروں میں ایک مسلمان اور کارآمد بندہ تیار نہیں ہوپاتا ہے۔اسی احساس کو لئے ہوئے  ڈاکٹر محمد امین  صاحب ﷾نے یہ کتاب " ہمارا تعلیمی بحران اور اس کا حل (چند نظریاتی مباحث)" تیار کی ہے ۔جس میں انہوں نے  دین ودنیا دونوں تعلیمات کو اکٹھے پڑھانے پر زور دیا ہے تاکہ یہ مشترکہ تعلیم حاصل کرن...

  • 160 ہمارا دینی نظام تعلیم (بدھ 10 اکتوبر 2012ء)

    مشاہدات:16738

    ہمارے معاشرے میں کم علمی کے سبب بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہو چکی ہیں۔ کوئی عصری علوم کے خلاف ہے تو کوئی خواتین کی تعلیم پر معترض ہے۔ جب تک مسلمان تعلیم کو شعوری طور پر حاصل کرتے تھے اس وقت ہماری درسگاہوں سے امام غزالی، امام رازی اور امام عبدالقادر جیلانی رحمہم اللہ پیدا ہوتے تھے جنہوں نے فقط اپنی ذات اور اہل ہی کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو اعلیٰ اقدار میں ڈھال دیا تھا۔ آج مسلم قوم اس سے غافل ہوتی جا رہی ہے۔ مسلم معاشرے میں جو کمیاں آ چکی ہیں زیر نظر کتاب میں ڈاکٹر محمد امین صاحب نے ان کو دور کرنے کے لیےنہایت قیمتی آرا دی ہیں۔ انھوں نے صرف تنقید ہی نہیں کی بلکہ قیمتی آرا بھی دی ہیں۔ یہ کتاب اس سلسلہ میں ان کے افکار و خیالات اور جذبات و احساسات کی آئینہ دار ہے۔ اور اس حوالہ سے ان کی اب تک کی جد و جہد کی روداد بھی ہے جو اپنے اندر بہت سے امور کو سمیٹے ہوئے ہے۔ ضروری نہیں کہ ان کی ہر بات سے اتفاق کیا جا سکے اور ہر تجویز کو قبول کیا جائے لیکن یہ بات بہر حال ضروری ہے کہ ان کے درد دل سے آگاہی حاصل کی جائے اور اس کے ثمرات سے استفادہ کیا جائے۔(ع۔م)
     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 992
  • اس ہفتے کے قارئین: 5377
  • اس ماہ کے قارئین: 19348
  • کل قارئین : 48355099

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں