دکھائیں کتب
  • 141 مفتاح الانشاء - حصہ اول (جمعہ 15 جون 2012ء)

    مشاہدات:17966

    اس وقت ’مفتاح الإنشاء‘ کا حصہ اول آپ کے سامنے ہے، اس کتا ب کا مقصد اعلیٰ جماعتوں کے طلبہ و طالبات کو عربی زبان میں تحریر و انشاء کی تعلیم و تربیت دینا ہے۔ مؤلف نے اس میں عربی کے آسان اور کثیر الاستعمال محاوروں اور مرکبات کا مفصل تعارف کراتے ہوئے ان کے استعمال کی متنوع اور متعدد مثالیں دی ہیں اس کے بعد عربی کے مشہور افعال کا تعارف کرایا ہے اور ان کے استعمالات کی مشقیں کرائی ہیں۔ اس حصے کی تمام مثالیں عربی کے ایسے جدید الفاظ، مرکبات اور محاوروں پر مشتمل ہیں جن کا آج کی روز مرہ زندگی کے مختلف شعبوں سے گہرا تعلق ہے۔ اس کے علاوہ کتاب میں متنوع مضامین، مقالات، مشہور کہانیاں، خطوط اور درخواستوں کے نمونے درج کیے ہیں۔(ع۔م)
     

  • 142 مقالات تربیت (پیر 27 اگست 2012ء)

    مشاہدات:17944

    مرکز التربیۃ الاسلامیہ نے 2004ء میں پختہ کار علما اور سلیم الفکر مصلحین سے علمی و فکری استفادے کے لیے ایک تربیتی اجتماع کا انعقاد کیا۔ جس میں بہت سے علمائے کرام نے اپنی گہری بصیرت اور علم و فہم کے ساتھ بہت قیمتی دروس ارشاد فرمائے۔ ان علما میں حافظ یحییٰ عزیز میر محمدی رحمۃ اللہ علیہ، ڈاکٹر عبدالرشید اظہر رحمۃ اللہ علیہ، مولانا ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ، پروفیسر عبدالجبار شاکر حفظہ اللہ، حافظ مسعود عالم حفظہ اللہ، حافظ محمد شریف حفظہ اللہ اور پروفیسر نجیب اللہ طارق حفظہ اللہ جیسے علمانے بھی شرکت کی اور اپنے قیمتی دروس سے عوام و خواص کو مستفید فرمایا۔ حافظ یحییٰ عزیز میر محمدی ؒ نے ’دعوت کی اہمیت اور داعی کی صفات‘ پر اپنے قیمتی خیالات کا اظہار فرمایا۔ ’عقیدہ، فقہ اور سیاست میں محدثین کا منہج‘ کے موضوع پر حافظ عبدالرشید اظہر ؒ نے تفصیلی اور علمی انداز میں، جو کہ ان کا طرہ امتیاز تھا، خطاب فرمایا۔ دیگر علمائے کرام نے بھی اس علمی اور اصلاحی مجلس میں اپنی بساط کے مطابق اپنا حصہ ڈالا۔ ان قیمتی دروس کو افادہ عام کے لیے کتابی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ان مقالات کے عناوین پر ایک نظر ڈالنے سے ان کی اہمیت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ ان مقالات میں فکر و نظر کی بہت سی بحثوں کو حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ تحریک اسلامی کے مخلص کارکنان اور علما و دعاۃ کے لیے کئی نئے ابواب اور میادین عمل کھلتے ہوئے نظر آتے ہیں جن میں کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں علما کے ان فرمودات میں طلبا و علما میں ایک نیا حوصلہ، ولولہ اور جذبہ عمل پیدا کرنے کی مخلصانہ کاوش کی گئی ہے۔&n...

  • 143 منصب نبوت اور اس کے عالی مقام حاملین (اتوار 02 فروری 2014ء)

    مشاہدات:15601

    اس کائنات میں خدا کے بھیجے ہوئے انبیاء انسانیت کے کامل نمونوں کی صورت میں موجود رہے ہیں۔جن کی زندگیاں محبت الہٰی میں گندھی ہوئی تھیں۔ دنیاوی جاہ و حشمت ان کے سامنے پرکاہ سے بڑھ کر نہیں تھی۔ اپنے رب کے حکم کی تعمیل ان کا مقصد زندگی تھا۔ پیش نظر کتاب میں مولانا سید ابوالحسن علی ندوی  نےانہیں عالی مقام کے حاملین کو موضوع بحث بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ انبیاء ہی کا کارنامہ ہے کہ معاشرہ میں خیر کی محبت اور شر سے نفرت کا جذبہ پیدا کر کے انہوں نے احسانات عظیم کیے۔ مصنف نے متعدد عناوین کے تحت انبیاء کی امتیازی خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے نبوت کے زیر اثر پروان چڑھنے والے مزاج اور طریقہ فکر کو قدرے تفصیل سے بیان کیا ہے۔تاکہ علمائے کرام، جو وارثین انبیاء کی صورت میں اصلاح معاشرہ کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں وہ اس سلسلہ میں نبوی طریقہ کار سے حظ اٹھائیں۔ مولانا نے اخیر میں ختم نبوت کی ضرورت و اہمیت کو موضوع سخن بناتے ہوئے موجودہ معاشرے پر اس کے اثرات سے متعلق بھی نہایت قیمتی آراء کا اظہار کیا گیا ہے۔
     

  • اسلامی نقطہ نظر سے تعلیم محض حصول معلومات کا نام نہیں ،بلکہ عملی تربیت بھی اس کا جزو لاینفک ہے۔اسلام ایسا نظام تعلیم وتربیت قائم کرنا چاہتا ہے جو نہ صرف طالب علم کو دین اور دنیا کے بارے میں صحیح علم دے بلکہ اس صحیح علم کے مطابق اس کے شخصیت کی تعمیر بھی کرے۔یہ بات اس وقت بھی نمایاں ہو سامنے آتی ہے جب ہم اسلامی نظام تعلیم کے  اہداف ومقاصد پر غور کرتے ہیں۔اسلامی نظام تعلیم کا بنیادی ہدف ہی یہ ہے کہ وہ ایک ایسا مسلمان تیار کرنا چاہتا ہے،جو اپنے مقصد حیات سے آگاہ ہو،زندگی اللہ کے احکام کے مطابق گزارے اور آخرت میں حصول رضائے الہی اس کا پہلا اور آخری مقصد ہو۔اس کے ساتھ ساتھ وہ دنیا میں ایک فعال ،متحرک اور با عزم زندگی گزارے ۔ایسی شخصیت کی تعمیر اسی وقت ممکن ہے جب تعلیم کے مفہوم میں حصول علم ہی نہیں ،بلکہ کردار سازی پر مبنی تربیت اور تخلیقی تحقیق بھی شامل ہو۔لیکن افسوس کہ ہمارے تعلیمی  اداروں میں معلومات تو دے دی جاتی ہیں ،مگر ایک مسلمان اور کارآمد بندہ تیار نہیں ہوپاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " منہج تربیت، کارکنان ومسؤلین کے لئے اصلاحی تحاریر " جماعۃ الدعوہ کے مرکزی رہنما محترم ابو احمد نوید قمر صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے  جماعت کے کارکنان اور مسؤلین کی اصلاح کے لئے ایک تربیتی نصاب تیار کیا ہے تاکہ وہ اس کے مطابق جماعتی نظم سے جڑ کر رہیں۔اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور قوم وملت کے تمام تعلیمی اداروں اور  اساتذہ کو اپنے طلباء کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک موثر تربیت کرنے کی بھی توفیق دے۔آمین(راسخ)

  • 145 مولانا عبد الماجد دریابادی حیات و خدمات (جمعہ 01 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:2928

    مولانا عبد الماجد دریابادی 16 مارچ 1892 کو دریاباد،ضلع بارہ بنکی، بھارت میں قدوائی خاندان میں پیدا ہوئے۔ اُن کے دادا مفتی مظہر کریم کو انگریز سرکار کے خلاف ایک فتویٰ پر دستخط کرنے کے جرم میں جزائر انڈومان میں بطور سزا کے بھیج دیا گیاتھا۔ آپ ہندوستانی مسلمان محقق اور مفسر قرآن تھے۔آپ بہت سی تنظیموں سے منسلک رہے۔ اور بہت سی اسلامی اور ادبی انجمنوں کے رکن تھے۔ عبدالماجد دریاآبادی نے انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی ایک جامع تفسیر قرآن لکھی ہے۔ اُن کی اردو اور انگریزی تفسیر کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ تفاسیر اسلام پر عیسائیت کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات کو سامنے رکھتے ہوئے لکھی ہے، مزید ان تفاسیر میں عیسائیت کے اعتراضات رد کرتے ہوئے بائبل اور دوسرے مغربی مستشرقین کی کتابوں سے دلائل دئیے ہیں۔آپ نے 6 جنوری 1977 کو وفات پائی۔ان کے حالات وخدمات پر متعدد رسالوں ماہ ناموں نےخصوصی شمارے شائع کیے گئے ہیں اور متعدد کتب بھی لکھی گئی ہیں مختلف یونیورسٹیوں میں ان پر تحقیقی مقالہ جات بھی لکھے گئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’مولانا عبدالماجد دریاآبدی حیات وخدمات ‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے یہ کتاب مولانا دریاآبادی کے برادرزادے اور محترم عبدلعلیم قدوائی کے قلم سے ہے ۔ موصوف نے اس کتاب میں مولاا عبد الماجد دریاآبادی کےحالات اورخدمات بڑی خوش اسلوبی سے بیان کیے ہیں۔(م۔ا)

  • 146 ناپسندیدہ اخلاق۔1(مطالعہ حدیث کورس) (پیر 04 فروری 2013ء)

    مشاہدات:49364

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کورس کا پندرہواں حصہ ہے۔ جس کا موضوع ناپسندیدہ اخلاق ہے۔ اس یونٹ میں تکبر و غرور، جھوٹ، بخل، تنگ دلی، خود پسندی، شہرت پسندی، خود غرضی و تصنع اور اسراف و تعیش جیسی خرابیوں اور خطرناک انفرادی اخلاقی امراض کا بیان ہے۔(ع۔م)
     

  • 147 ناپسندیدہ اخلاق۔2(مطالعہ حدیث کورس) (منگل 05 فروری 2013ء)

    مشاہدات:46233

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کورس کا سولہواں حصہ ہے۔ اس یونٹ میں بہت سے رزائل (ناپسندیدہ اخلاق) سے متعلق احادیث نبوی اور ان کا مفہوم پیش کیا گیا ہے، مثلاً جھوٹ، عہد شکنی، خیانت، حق تلفی، غیبت، چغلی، حسد، جھوٹی شہادت، رشوت اور خیانت وغیرہ۔(ع۔م)
     

  • 148 نظام تعلیم مغربی رجحانات اور اس میں تبدیلی کی ضرورت (جمعرات 16 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:4736

    تعلیم کا مسئلہ  ہر ملک کےلیے  ایک بنیادی حیثیت رکھتاہے ۔کسی بھی  ملک یا قوم کی ترقی کے لیے  یہ ایسی شاہ کلید ہے  ،جس  سے سارے  دروازے  کھلتے  چلے جاتے  ہیں ۔مسلمانوں نے  جب تک اس حقیقت  کو فراموش نہیں کیا وہ دنیا کے منظرنامہ پر چھائے رہے  اور انہوں نے دنیا کو علم کی روشنی سے بھر دیا ، لیکن جب  مسلمانوں کی  غفلت کے نتیجے  میں  پوری دنیا اخلاقی بحران کاشکار ہوگئ تو عالم اسلام خاص طور پر اس سے متاثر ہوا۔اس کی سب سےبڑی وجہ یہ ہے کہ  اس نے  اپنی بنیاد ہی فراموش کردی اور یورپ کے نظام تعلیم کو اختیار کرلیاجس نے  پورے عالم اسلام کو متاثر کیا۔  خود اسلامی ملکوں میں پڑھنے والوں کا حال یہ ہے وہ  جب اپنی اپنی یونیورسٹیوں سے پڑھ کرنکلتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے  وہ یورپ کے پروردہ ہیں  جس کے نتیجہ میں اسلامی ملکوں میں ایک کشمکش کی فضا پید ا ہوگئی ہے۔مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ﷫  نے  اپنی تقریروں او رتحریر وں  میں اسلامی ملکوں میں ذہنی کشمکش کا بنیادی سبب  مسلمانوں میں  رائج یورپی نظام تعلیم کو قرار دیا  اوراز سرنو پورا نظام تعلیم وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے  اس کوعالم اسلام کا سب سے  بڑا چیلنچ قرار دیا۔ زیر نظر کتاب بھی  مولانااابو الحسن  علی ندوی  کی اس موضوع پر اہم تقاریر ومضامین کا مجموعہ ہے  جس میں  مولانانے  اسلامی ملکوں میں نظام تعلیم کی اہمیت اور وہاں کی قیادت، نظام تعلیم وتربیت...

  • 149 نماز(مطالعہ حدیث کورس) (ہفتہ 26 جنوری 2013ء)

    مشاہدات:72060

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کا چھٹا یونٹ ہے جس میں نماز کی اہمیت و فضیلت، نماز کے اوقات،مساجد اور ان کی عظمت و اہمیت، نماز باجماعت کی اہمیت اور اس کا شرعی حکم، امامت، نماز کے فوائد اور عملی زندگی پر اس کے اثرات اور نماز کی حقیقی روح کی وضاحت احادیث کی روشنی میں کی گئی ہے۔ اس یونٹ کے مطالعہ سے آپ دین اسلام میں نماز کے مرتبہ و مقام سے آگاہ ہو سکیں گے اور آپ پر یہ حقیقت بھی واضح ہوگی کہ ایک مسلمان کی زندگی میں نماز کو کیا اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔(ع۔م...

  • 150 پاکستان میں تعلیم آغا خان کے حوالے (منگل 01 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:1703

    تعلیم صرف تدریسِ عام کا ہی نام نہیں ہے ۔تعلیم ایک ایسا عمل ہے جس کےذریعہ ایک فرد اور ایک قوم خود آگہی حاصل کرتی ہے اور یہ عمل اس قوم کو تشکیل دینے والے افراد کے احساس وشعور کونکھارنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔یہ نئی نسل کی وہ تعلیم وتربیت ہے جو اسے زندگی گزارنے کے طریقوں کاشعور دیتی ہے اور اس میں زندگی کے مقاصد وفرائض کا احساس پیداکرتی ہے ۔ تعلیم سے ہی ایک قوم اپنے ثقافتی وذہنی اور فکری ورثے کوآئندہ نسلوں تک پہنچاتی اور ان میں زندگی کے ان مقاصد سے لگاؤ پیدا کرتی ہے جنہیں اس نے اختیار کیا ہے۔ تعلیم ایک ذہنی وجسمانی اور اخلاقی تربیت ہے اور اس کامقصد اونچے درجے کےایسے تہذیب یافتہ مرد اور عورتیں پیدا کرنا ہے جواچھے انسانوں کی حیثیت سے اور کسی ریاست میں بطور ذمہ دارشہری اپنے فرائض انجام دینے کے اہل ہوں۔ لیکن وطن عزیز میں تعلیمی نظام کو غیروں کے ہاتھ دے کر تعلیم سے اسلامی روح کو نکال دیاگیا ہے ۔تہذیب واخلاق سےعاری طاقت کے نشے میں چور حکمرانوں نے تعلیم کے نام پر بربادی کاکھیل کھیلا۔حکومت پاکستان نے جنرل پرویز مشرف کے دور میں سیکڑوں ملین ڈالر پاکستان میں سیکولر نظام تعلیم رائج کرنے کےلیے آغاخاں بورڈ کو دئیے۔جن کےعقائدہندوانہ اور مشرکانہ ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’پاکستان میں تعلیم آغاخان کے حوالے ‘‘میں اسی بات کو اجاگر کیا گیا ہےکہ حکمرانوں کے تعلیمی نظام کو ہندو انہ اور مشرکانہ عقائد کے حامل لوگوں کے حوالے کرنے اور نصاب تعلیم میں اسلامیات کو نکالنے کا کیا پس منظر اور مقاصد تھے اور اس کے ہماری پاکستانی قوم پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔(م۔ا) تعلیم و تربیت 

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1000
  • اس ہفتے کے قارئین: 5385
  • اس ماہ کے قارئین: 19356
  • کل قارئین : 48355254

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں