دکھائیں کتب
  • 91 زکوٰۃ(مطالعہ حدیث کورس) (پیر 28 جنوری 2013ء)

    مشاہدات:57955

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کا آٹھواں یونٹ ہےجس میں اسلام کے تیسرےاہم رکن ’زکوٰۃ‘ کا بیان ہے۔ اس یونٹ میں زکوٰۃ کی اہمیت، فرضیت، نصاب زکوٰۃ، مستحقین زکوٰۃ، زکوٰۃ کےعلاوہ دیگر صدقات اور زکوٰۃ کے فوائد اور عملی زندگی پر اس کے اثرات پر احادیث کی روشنی میں بحث کی گئی ہے۔(ع۔م)

     

  • 92 شاگرد کو استاد کی چند نصیحتیں (اتوار 31 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:3990

    تعلیم ایک ذریعہ ہے،اس کا مقصد اچھی سیرت سازی اور تربیت ہے۔علم ایک روشن چراغ ہے جو انسان کو عمل کی منزل تک پہنچاتا ہے۔اس لحاظ سے تعلیم وتربیت شیوۂ پیغمبری ہے۔ اُستاد اورشاگرد تعلیمی نظام کے دو نہایت اہم عنصر ہیں۔ معلّم کی ذمہ داری صرف سکھانا ہی نہیں، سکھانے کے ساتھ ساتھ تربیت دینا بھی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے بارے میں فرمایا: ﴿يُعَلِّمُهُمُ الكِتـٰبَ وَالحِكمَةَ وَيُزَكّيهِمۚ…. ﴾ (سورة البقرة: ١٢٩)اور نبی ﷺ ان(لوگوں) کو کتاب وحکمت (سنت) کی تعلیم دیتے ہیں اور ان کا تزکیہ وتربیت کرتے ہیں‘‘۔اس بنا پر یہ نہایت اہم اور مقدس فریضہ ہے ،اسی اہمیت او ر تقدس کے پیش نظر اُستاد اور شاگرد دونوں کی اپنی اپنی جگہ جدا گانہ ذمہ داریاں ہیں۔ اُنہیں پورا کرنا ہر دو جانب کے فرائض میں شامل ہے۔ اگر ان ذمہ داریوں کو بطریق احسن پورا کیا جائے تو پھر تعلیم بلاشبہ ضامنِ ترقی ہوتی اور فوزوفلاح کے برگ و بار لاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ شاگرد کواستاد کی چند نصیحتیں‘‘ مصری عالم دین فضیلۃ الشیخ علامہ محمد شاکر مصری﷫ کی عربی تصنیف ’’وصیۃ الآباء للابناء ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔جس میں ایک مشفق استاذ نے شاگرد کو مختلف پند و نصائح سے نوازا ہے۔درحقیقت یہ کتاب اولاد اور طلبہ کی تربیت کےلیے گرانقدر تحفہ ہے ۔ کتا ب ہذا کا مطالعہ اساتذہ کرام اورطلبہ کےلیے نہایت ضروری ہے ۔ اس سےمعلوم ہوگا کہ طلبہ کے کیا فرائض ہیں اور کن کن امور کی انجام دہی ان کےلیے لازمی ہے ۔ مولانا عطاء اللہ حنیف ﷫ کی خصوصی ترغیب پرعربی کتاب کے ترجمہ کی...

  • 93 شرح عقیدہ واسطیہ سوالا جوابا (جمعہ 06 جون 2014ء)

    مشاہدات:3390

    عقیدے کی بنیاد توحید باری تعالیٰ ہے اور اسی دعوت توحید کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انبیاء کو مبعوث کیا حتی کہ ختم المرسلین محمدﷺ کی بعثت ہوئی ۔عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علماء اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔گزشتہ صدیوں میں عقیدۂ توحید کو واضح کرنے کے لیے بہت سی جید کتب ورسائل تحریر کیے گئے ہیں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ کی کتاب ''عقیدہ واسطیہ''بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے امام ابن تیمیہ کی اس کتاب کے مفہوم ومطلب کو واضح کرنے کے لیے الشیخ محمد خلیل ہراس،الشیخ صالح الفوزان، الشیخ صالح العثیمین کی شروح قابل ذکر ہیں ۔ وفاق المدارس السلفیہ میں الشیخ خلیل ہراس کی شرح شامل نصاب ہے۔زیرنظر کتاب''شرح عقیدہ واسطیہ سوالاً جواباً''شیخ عبد العریز السلمان کی عربی کتاب''الاسئلة والاجوبة الاصولية على العقيدة الواسطية''کا اردو ترجمہ ہے ترجمہ کی سعادت محترم مولانا محمد اختر صدیق ﷾ (فاضل جامعہ لاہوالاسلامیہ ،لاہو ر وفاضل مدینہ یونیورسٹی ) نے حاصل کی اور مکتبہ اسلامیہ نے اسے اعلی طباعتی معیار پر شائع کیا ہے ۔ فاضل مصنف نے عقیدے کے مسائل کو عمدہ اور آسان فہم انداز میں پیش کیاہےیہ کتاب دینی طلباء،اساتذہ کرام اور عوام الناس کے لیے انتہائی مفید ہے کیوں کہ مصنف نے اسے عام فہم اورسلیس انداز میں سوالاً جواباً مرتب کیا ہے ۔کتاب ہذا کے مترجم محترم محمداختر صدیق ﷾ ماشا ء اللہ ایک قا...

  • 94 طالب علم کے شب و روز (بدھ 13 اپریل 2016ء)

    مشاہدات:2006

    دینی مدارس میں قرآن وحدیث اوران سے متعلقہ علوم کی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہ مدارس صدیوں سے اپنے ایک مخصوص نظام ومقصد کے تحت آزادانہ دین کی خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔یہ مدارس اپنے مخصوص پس منظر اورخدمات کے لحاظ سے اسلامی معاشرے کا ایک ایسا اہم حصہ ہیں جن کی تاریخ اور خدمات سنہرے الفاظ سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ ان میں پڑھنے پڑھانے والے نفوسِ قدسیہ نے ہر دور میں باوجود بے سروسامانی کے دین اسلام کی حفاظت وصیانت کا قابل قدر فریضہ انجام دیا ہے۔ یہ انہی مدا رس کا فیض ہے کہ ملک میں اللہ اور اس کے رسول کا چرچا ہے، حق وباطل کا امتیاز قائم ہے، دینی اقدار وشعائر کا احترام وتصور عوام میں موجود ہے اور عوام اسلام کے نام پر مرمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔دینی مدارس کی ان بے شمار خوبیوں  کے ساتھ ساتھ اب لمحہ فکریہ یہ ہے کہ طلبہ اور اساتذہ میں جو خاص تعلق اور نسبت ہونی چائیے تھی وہ اب مفقود نظر آ رہی ہے۔اخلاق وکردار، اخلاص، للہیت دینی درد اور مذہبی حمیت جیسی صفات سے دوری بڑھتی جارہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ فراغت کے بعد ہمارے ی نو نہال جب زندگی کے میدان میں قدم رکھتے ہیں تو اپنے آپ کو ادھورا محسوس کرتے ہیں اور امت کو بھی ان سے پورا فائدہ نہیں  حاصل ہوتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"طالب علم کے شب وروز"محترم مولانا محمد روح اللہ نقشبندی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے دینی طالب علم کے شب وروز پر بڑی شاندار گفتگو کی ہے کہ ایک طالب علم کے لیل ونہار کیسے گزرنے چاہئیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول ومنظور فرمائے اوران کے میزان حسنات...

  • تعلیم وتربیت کاجو کام مدارسِ اسلامیہ  نے سر انجام دیا  ہے اس سے تاریخ  پر نگاہ رکھنے والا ہرانسان واقف ہے  ۔ان  ہی مدارس نے امت کو وہ افراد فراہم کیے ہیں  جنہوں نےمشکل سے مشکل ترین زمانہ میں بھی  امت کی رہنمائی کا کام کیا ہے ۔ان ہی  مدارس نے امت کومجددین ومصلحین بھی  فراہم کیے اور علمائے کبار بھی  بلکہ ان ہی مدارس سے بڑے بڑے  مسلمان فلسفی، سائنس دان  اور اطباء  پیدا  ہوئے ۔فکر اسلامی  کے ماہرین اورمعتدل  مزاج اور فکر رکھنے  والے  علماء بھی  ان ہی  مدارس  کے فیض یافتہ نظر آتے ہیں۔اس سلسلہ کی بنیاد زمانۂ نبوت میں پڑی تھی  اور دور نبوت سے ملے  ہوئے  اصولوں کی روشنی  میں علم کا  یہ سفر شروع ہوا اور نبی کریم ﷺ نے  زبانِ نبو ت  سے حاملین علم   کے فضائل و مناقب  اور  ان کی ذمہ داریوں کو  بیان فرمایا ۔زیر کتاب’’طالبانِ نبو ت کا مقام  اور ان  کی ذمہ داریاں ‘‘ مولانا  سیدابوالحسن  علی ندوی  کے  اس موضوع پر خطبات و تقاریر کا مجموعہ  ہے  جس میں  انہوں  نے  علماء  وطالبانِ علوم نبوت کے مقام ومرتبہ کو بیان کیاہے  اور انہیں معاشرے  میں  ان  کےکرنےکے  کا م اور ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ  مولانا  ندوی کی اشاعت  دین  حنیف کے سلسلے  میں تمام مساعی کو قبول  فرمائے  او...

  • تعلیم وتربیت کاجو کام مدارسِ اسلامیہ  نے سر انجام دیا  ہے اس سے تاریخ  پر نگاہ رکھنے والا ہرانسان واقف ہے  ۔ان  ہی مدارس نے امت کو وہ افراد فراہم کیے ہیں  جنہوں نےمشکل سے مشکل ترین زمانہ میں بھی  امت کی رہنمائی کا کام کیا ہے ۔ان ہی  مدارس نے امت کومجددین ومصلحین بھی  فراہم کیے اور علمائے کبار بھی  بلکہ ان ہی مدارس سے بڑے بڑے  مسلمان فلسفی، سائنس دان  اور اطباء  پیدا  ہوئے ۔فکر اسلامی  کے ماہرین اورمعتدل  مزاج اور فکر رکھنے  والے  علماء بھی  ان ہی  مدارس  کے فیض یافتہ نظر آتے ہیں۔اس سلسلہ کی بنیاد زمانۂ نبوت میں پڑی تھی  اور دور نبوت سے ملے  ہوئے  اصولوں کی روشنی  میں علم کا  یہ سفر شروع ہوا اور نبی کریم ﷺ نے  زبانِ نبو ت  سے حاملین علم   کے فضائل و مناقب  اور  ان کی ذمہ داریوں کو  بیان فرمایا ۔زیر کتاب’’طالبانِ نبو ت کا مقام  اور ان  کی ذمہ داریاں ‘‘ مولانا  سیدابوالحسن  علی ندوی  کے  اس موضوع پر خطبات و تقاریر کا مجموعہ  ہے  جس میں  انہوں  نے  علماء  وطالبانِ علوم نبوت کے مقام ومرتبہ کو بیان کیاہے  اور انہیں معاشرے  میں  ان  کےکرنےکے  کا م اور ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ  مولانا  ندوی کی اشاعت  دین  حنیف کے سلسلے  میں تمام مساعی کو قبول  فرمائے  او...

  • 97 طہارت وپاکیزگی (مطالعہ حدیث کورس) (جمعہ 25 جنوری 2013ء)

    مشاہدات:59255

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کا پانچواں یونٹ ہے جس میں احادیث رسولﷺ کی روشنی میں طہارت کی اہمیت و ضرورت اور معاشرتی زندگی میں پیش آنے والے طہارت و پاکیزگی کے مسائل کے علاہ اسلام کا فلسفہ طہارت بھی بیان کیا گیا ہے۔ اس کے یونٹ کے مطالعہ کے بعد قارئین طہارت و پاکیزگی کے اہم فقہی مسائل سے آگاہی کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی جان لیں گے کہ اسلام ایک ایسا مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہمیں زندگی کے ہر شعبہ میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔(ع۔م)
     

  • 98 عدل وانصاف(مطالعہ حدیث کورس) (منگل 12 فروری 2013ء)

    مشاہدات:47366

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کورس کا تیئسواں حصہ ہے، جس کا موضوع عدل و انصاف ہے۔ اس یونٹ میں آپ عدل و انصاف کے اسلامی اصول، قاضیوں کے لیے رہنما اصول اور ہدایت، عادل اور غیر عادل قاضی، منصب قضا کی خواہش و طلب، جھوٹے دعویدار اور جھوٹی قسم کھانے والوں کا ٹھکانا اور عدالتی آداب کا مطالعہ فرمائیں گے۔(ع۔م)
     

  • ہندوپاک اور بنگلہ دیش کے اکثر مدارس میں مروج نصاب تعلیم ’’درس نظامی‘‘ کے نام سے معروف ومشہور ہے۔ اس کو بارہویں صدی کے مشہور عالم اور مقدس بزرگ مولانا نظام الدین سہالویؒ نے اپنی فکراور دور اندیشی کے ذریعہ مرتب کیا تھا۔ مولانا کا مرتب کردہ نصاب تعلیم اتنا کامل ومکمل تھا کہ اس کی تکمیل کرنے والے فضلاء جس طرح علوم دینیہ کے ماہر ہوتے تھے اسی طرح دفتری ضروریات اور ملکی خدمات کے انجام دینے میں بھی ماہر سمجھے جاتے تھے۔ اس زمانے میں فارسی زبان ملکی اور سرکاری زبان تھی اور منطق وفلسفہ کو یہ اہمیت حاصل تھی کہ یہ فنون معیار فضیلت تھے اسی طرح علم ریاضی (علم حساب) کی بھی بڑی اہمیت تھی ،چنانچہ مولانا نے اپنی ترتیب میں حالات کے تقاضے کے مطابق قرآن حدیث فقہ اور ان کے متعلقات کے ساتھ ساتھ اس زمانے کے عصری علوم کو شامل کیا اور حالات سے ہم آہنگ اور میل کھانے والا نصاب مرتب کیا۔ یہی وجہ تھی کہ یہ نصاب اس وقت بہت ہی مقبول ہوا اور اس وقت کے تقریباً تمام مدارس میں رائج ہوگیا۔ اب حالات ماضی سے بالکل بدل چکے ہیں۔ منطق وفلسفہ کے اکثر نظریات کی دنیا میں مانگ باقی نہیں رہی ہے اور جدید سائنس نے ان کی جگہ لے لی ہے ، فارسی زبان کی وسعت اتنی محدود ہوگئی ہے کہ وہ صرف ایک مخصوص علاقہ کی زبان کی حیثیت سے متعارف ہے اور اس کی جگہ عربی اور انگریزی نے لے لی ہے ۔آج مدارس اسلامیہ کے فضلاء اور اس میں زیر تعلیم طلبہ کی حالت وصلاحیت ارباب حل وعقد کو یہ آواز دے رہی ہے کہ مدارس کے نصاب پر مولانا نظام الدینؒ کے اصول کی روشنی میں غور کیا جائے اور منطق وفلسفہ کے ’&rsq...

  • 100 عربی زبان و ادب (جمعہ 18 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:3933

    اللہ تعالی کاکلام اور  نبی کریم ﷺکی احادیث مبارکہ عربی زبان میں  ہیں اسی وجہ  سے اسلام اور مسلمانوں سے  عربی کا رشتہ مضبوط ومستحکم ہے  عربی اسلام کی سرکاری زبان ہے ۔شریعت اسلامی  کے بنیادی مآخد اسی زبان میں ہیں  لہذا قرآن وسنت اور  شریعتِ اسلامیہ پر عبور حاصل  کرنےکا واحد ذریعہ عربی زبان ہے۔  اس لحاظ سے عربی سیکھنا اور  سکھانا  امت مسلمہ  کا اولین فریضہ ہے ۔ لیکن مسلمانوں کی اکثریت  عربی زبان  سے  ناواقف ہے  جس کی  وجہ سے  وہ  فرمان الٰہی اور  فرمان نبوی ﷺ کو سمجھنے سے  قاصر ہے ۔ حتی کہ  تعلیم  حاصل کرنے  والے لوگوں کی  اکثریت سکول ،کالجز ،یونیورسٹیوں  کے  نصاب میں شامل  اسلامیات کے  اسباق کو  بھی  بذات خود  پڑھنے پڑھانے سے  قا صر ہے  ۔جس  کے لیے  مختلف اہل علم اورعربی زبان کے  ماہر اساتذہ  نے  نصابی کتب کی  تفہیم  وتشریح کے لیے  کتب  وگائیڈ تالیف کی ہیں۔زیر نظر  کتاب ’’ عربی  زبان وادب‘‘  محترم مولاناابو مسعود عبد الجبار سلفی  (فاضل جامعہ سلفیہ  ،فیصل آباد،ایم اے جامعہ پنجاب ) کے تصنیف ہے ۔جس میں انہو ں  نے پنجاب یوینورسٹی  ایم اے اسلامیات کے  نصاب کی مکمل  تفہیم  وتشریح کو  بڑے  عام فہم انداز میں  پیش کیا ہے ۔کتاب کے شروع  میں امتحان ...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1329
  • اس ہفتے کے قارئین: 3388
  • اس ماہ کے قارئین: 45250
  • کل قارئین : 46581325

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں